10/08/2026
❓ کیا ڈاکٹر یا ہیلتھ کیئر انسٹیٹیوشن کی طبی غفلت (Medical Negligence) کے معاملے میں براہِ راست پولیس ایف آئی آر (FIR) درج کروائی جا سکتی ہے، یا خصوصی قانون (Special Law) جنرل قانون پر فوقیت رکھتا ہے؟
❓ کیا ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ کے تحت فراہم کردہ دائرہ اختیار کی موجودگی میں پولیس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی اور ایف آئی آر کو آئینی دائرہ اختیار (Constitutional Jurisdiction) کے تحت منسوخ (Quash) کیا جا سکتا ہے؟
📌 One-Line Citation Description
طبی غفلت کے معاملے میں خصوصی قانون (Khyber Pakhtunkhwa Health Care Commission Act, 2015) کو جنرل قانون (PPC/Cr.P.C) پر فوقیت حاصل ہے؛ ہیلتھ کیئر کمیشن کا فورم استعمال کیے بغیر پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر غیر قانونی ہے اور ہائی کورٹ اسے منسوخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
⚖️ PLD 2026 Peshawar 23
[Peshawar High Court]
📘 Definitions of Legal Concepts
⛔️ Special Law Prevails Over General Law (خصوصی قانون کا عموم قانون پر غلبہ): قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ جب کسی مخصوص معاملے کے لیے کوئی خاص قانون (Special Law) موجود ہو، تو وہ عام فوجداری قانون (General Law) پر فوقیت رکھتا ہے۔ طبی غفلت کے معاملات میں ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے۔
⛔️ Quashing of FIR in Constitutional Jurisdiction (آئینی دائرہ اختیار میں ایف آئی آر کی منسوخی): جب پولیس کسی ایسے معاملے میں ایف آئی آر درج کرے جو قانون کے بنیادی ضوابط کے خلاف ہو یا جہاں قانونی بار (Legal Bar) موجود ہو، تو ہائی کورٹ آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت اس ایف آئی آر کو منسوخ (Quash) کر سکتی ہے۔
⛔️ Bar on Direct Criminal Prosecution (براہِ راست فوجداری کارروائی پر قدغن): ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ کی دفعہ 19 کے تحت پرائیویٹ ہیلتھ کیئر سروس کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی یا مقدمہ صرف اور صرف ایکٹ کے بتائے ہوئے طریقہ کار کے تحت ہی چلایا جا سکتا ہے، براہِ راست پولیس کارروائی قانونی طور پر ممنوع ہے۔
⚖️ Definitions of Sections & Laws
⛔️ Khyber Pakhtunkhwa Health Care Commission Act, 2015 (Sections 13(1) & 19): ہیلتھ کیئر میں غفلت کے خلاف شکایت کے طریقہ کار اور دیگر قوانین کے تحت براہِ راست کارروائی پر قدغن۔
⛔️ Khyber Pakhtunkhwa Health Care Commission Conduct of Business Regulations, 2016 (Regulation 5(a)): طبی غفلت (Medical Negligence) اور بدانتظامی کی درجہ بندی اور تحریری شکایت کے ضوابط۔
⛔️ Article 199, Constitution of Pakistan, 1973: ہائی کورٹ کا آئینی دائرہ اختیار برائے منسوخیِ مقدمہ (Quashing of FIR)۔
Posted by Legal Luminaries
📖 Background of the Case
مستغیث (Complainant) کی wife کا دورانِ زچگی (Delivery Process) سائلہ (خاتون ڈاکٹر) کے ہسپتال میں انتقال ہو گیا اور نومولود بچہ بھی جان بحق ہو گیا۔ مستغیث نے سائلہ پر شدید غفلت اور لاپرواہی کا الزام عائد کرتے ہوئے مقامی پولیس کو اطلاع دی، جس نے ابتدائی انکوائری کے بعد سائلہ کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کے تحت ایف آئی آر (FIR) درج کر لی۔ سائلہ نے پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست (Constitutional Petition) دائر کی اور موقف اپنایا کہ خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2015ء اور 2016ء کے قوانین کی موجودگی میں مستغیث نے متعلقہ فورم (Health Care Commission) سے رجوع کرنے کے بجائے براہِ راست پولیس کے ذریعے پرچہ کروایا جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔
⚖️ Core Legal Questions
❓ کیا ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2015ء کی دفعہ 19 کی موجودگی میں پولیس طبی غفلت کا مقدمہ درج کرنے کا مجاز اختیار رکھتی ہے؟
❓ کیا متاثرہ فریق کی جانب سے ہیلتھ کیئر کمیشن کو تحریری شکایت درج کروائے بغیر کی جانے والی تمام پولس کارروائی کالعدم تصور ہوگی؟
🏛️ Court's Observations & Legal Principles
✅ خصوصی اور عام قانون کا ٹکراؤ: پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2015ء ایک خصوصی قانون (Special Law) ہے۔ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ "Special law overrides the general law"، لہٰذا تعزیراتِ پاکستان یا ضابطہ فوجداری کے عام قوانین اس خصوصی ایکٹ کی موجودگی میں لاگو نہیں ہوں گے۔
✅ دفعہ 19 کا قانونی قدغن (Statutory Bar): ایکٹ کی دفعہ 19 کی روشنی میں پرائیویٹ ہیلتھ کیئر کے خلاف کوئی بھی کارروائی صرف اس ایکٹ کے تحت ہی ہو سکتی ہے۔ مستغیث نے دفعہ 13(1) اور 2016ء کے قوانین کے تحت کمیشن میں شکایت درج کروانے کی قانونی ریمیڈی استعمال نہیں کی، لہٰذا پولیس کا کارروائی کرنا غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔
✅ پولیس کارروائی اور ایف آئی آر کی منسوخی: چونکہ پولیس نے قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی، اس لیے ہائی کورٹ نے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس ایف آئی آر اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تمام کارروائیوں کو کالعدم قرار دے دیا۔
⚖️ Final Order
پشاور ہائی کورٹ نے:
سائلہ (ڈاکٹر) کی آئینی درخواست منظور (Allowed) کر لی۔
سائلہ کے خلاف درج شدہ ایف آئی آر اور تمام متعلقہ پولیس کارروائی کو منسوخ (Quashed) کر دیا۔
قرار دیا کہ مستغیث اگر چاہے تو ہیلتھ کیئر کمیشن کے سامنے قانونی طریقہ کار کے مطابق رجوع کر سکتا ہے۔
📑 Ratio Decidendi
طبی غفلت کے الزامات پر عام فوجداری قانون (PPC) کے تحت براہِ راست پولیس ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی۔ ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ کے خصوصی فورم کو بائی پاس کر کے کی جانے والی تمام کارروائی قانونی طور پر باطل (Coram non judice) ہے اور آئینی اختیار کے تحت منسوخی کے قابل ہے۔
💼 Practical Utility for Advocates
وکلاءِ صفائی / میڈیکل پریکٹیشنرز کے وکلاء (Defense Counsel for Medical Professionals):
اگر کسی ڈاکٹر، سرجن یا ہسپتال انتظامیہ کے خلاف طبی غفلت (Medical Negligence) پر براہِ راست پولیس ایف آئی آر درج کروا دی جائے، تو اس نظیر کے ذریعے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ سے ایف آئی آر منسوخ (Quashment of FIR) کروائیں۔
عدالت کے سامنے یہ موقف اپنائیں کہ Special Law (ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ) کی موجودگی میں General Law (PPC/Cr.P.C) کا اطلاق ممنوع ہے۔
مستغیث کے وکلاء (Prosecution / Complainant Counsel):
طبی غفلت کے کیسز میں مستغیث کو مشورہ دیں کہ وہ پولیس کے پاس جانے کے بجائے پہلے متعلقہ صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشن کے پاس ضوابط کے مطابق تحریری شکایت درج کروائے تاکہ قانونی خامی کی بنیاد پر کیس خارج نہ ہو۔
🎯 Quotable Legal Principle
"When there is a conflict between a special law and a general law, the former would prevail over the latter. Registration of an FIR by the police in total disregard of the special provisions of the Health Care Commission Act is illegal and amenable to quashment in the constitutional jurisdiction of the High Court."
Posted by Legal Luminaries
PLD 2026 Peshawar 23
Medical negligence by a medical practitioner---Immunity---Overriding effect---Quashing of FIR---Constitutional jurisdiction of High Court---Scope---Petitioner/accused sought quashing of FIR by invoking constitutional jurisdiction of the High Court---Validity---Allegations against the petitioner/accused was that she, being a medical practitioner, negligently and carelessly attended to wife of complainant during her delivery process, as result whereof she died and consequently the baby she had conceived was also lost---In the present case, the complainant had leveled the allegations of negligence against the petitioner and a special law i.e. Khyber Pakhtunkhwa Health Care Commission Act, 2015,was available to deal with the matter but he, without exhausting the remedy under the Act, resorted to criminal proceedings which could not be sustained in view of the bar contained in S. 19 of the Act, according to which no suit, prosecution or other legal proceedings related to provision of private health care service shall lie against a health care establishment except under the Act---When there is a conflict between a special law and a general law, the former would prevail over the latter---Thus, mode of the proceedings conducted on the report of complainant were illegal being contrary to the provision of the Act, 2015---Complainant in the present case, being an aggrieved person because of death of his wife due to alleged negligence of the petitioner in her hospital, had not made any complaint to Commission in the mode and manner as prescribed under S. 13(1) of the Act---Complainant reported the matter to local police on which an inquiry was conducted and thereafter the FIR in question was registered against her in total disregard of the Act which was in the field at the relevant time followed by Khyber Pakhtunkhwa Health Care Commission Conduct of Business Regulations, 2016 (the Regulations)---In said Regulations the entire procedure for filing of complaints had been given---Matter in hand, pertaining to death of a lady at delivery stage, fell in clause (a) of S. 5 of the Regulations categorizing the act of medical negligence, mal-administration malpractice or any other act or omission resulting in compromised healthcare service on the basis of severity---Thus, complainant had not agitated the matter before the proper forum and the proceedings so conducted by police culminating into registration of the FIR were against the relevant law---