04/07/2023
والدین کے زندگی میں جائیداد میں حصہ مانگنےکا غیر اسلامی و غیر قانونی اقدام۔ ۔
ہمارے معاشرے میں عورت کی شادی کے بعد اکثر صورتوں میں خاوند اسکو مجبور کرتا ہے کہ جاکر اپنے زندہ والدین سے انکے گھر زمین یا دوسری جائیداد میں حصہ لے آو، اور والدین اکثر ناسمجھی یا بیٹی کا گھر بچانے کیلیے حصہ دے بھی دیتے ہیں۔ ہزاروں مثالیں ایسی گزری ہیں سامنے بلکہ روز گزر رہی ہیں۔
اسی طرح اکثر والدین بیٹوں کی شادی کردیتے ہیں اور گھریلو ناچاقی کی صورت میں بیٹے والدین سے جائیداد میں اپنا حصہ مانگنے لگتے ہیں اور اکثر زبردستی بدمعاشی مار پیٹ یا جرگوں سے حصہ حاصل بھی کرلیتے ہیں اور والدین شرم سے بچنے جھگڑوں سے بچنے یا ناسمجھی کی وجہ سے حصہ دےدیتے ہیں۔
یہ سب کیوں ہوتا ہے؟ یہ اسلام اور قانون سے ناسمجھی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اولاد کی عام سوچ ہے کہ ہم پیدا ہوتے ہی والدین کی جائیداد کے وارث اور حصہ دار بن گئے ہیں اور اسی ناسمجھی اور غلط فہمی کی بنیاد پر اکثر لڑائی جھگڑے اور بعض اوقات دشمنیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور اکثر اخبار میں خبر آتی ہے جائیداد کے معاملے پر باپ کے ہاتھوں بیٹا قتل یا بیٹے کے ہاتھوں باپ قتل۔ اور اس لاعلمی کا انجام افسوس ناک ہوجاتا ہے۔
اب آتے ہیں قانون اور اسلام کی طرف۔ قانوناً جب تک والدین زندہ ہیں انکی اولاد کا کسی منقولہ غیر منقولہ جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہوتا اور نہ اولاد کے پاس مانگنے کا حق ہوتا ہے۔ والدین کی مرضی ہوتی ہے اپنی پسند سے کچھ دے یا نہ دے اولاد کے پاس قانوناً مانگنے کا کوئی حق نہیں۔ والدین کے پاس یہ حق بھی ہے کہ چاہے جن بچوں کو دے اور جن کو محروم رکھے۔ اور جب نہ دے تو والدین کے مرنے کے بعد وراثت کے مقرر شدہ اصول کے تحت وہ جائیداد بچوں میں تقسیم ہوگا۔
وراثت کا مطلب والدین کے وفات کے بعد انکی جائیداد کا مالک و وارث ہونا ہے نہ کہ اولاد کے پیدا ہوتے ہی یا والدین کی زندگی میں۔
والدین اپنی زندگی میں جس کو جتنا جائیداد دینا چاہے وہ انکی مرضی ہوتی ہے۔ باقی بچ جانے والی جائیداد وفات کے بعد اولاد اور وارثوں میں تقسیم ہوگی۔
لہذا والدین کی زندگی میں جائیداد اور حق مانگنا چھوڑ دیں اور نہ اپنی بیویوں کو مجبور کریں کہ زندہ والدین سے جائیداد کا حصہ لیکر آئیں۔ یہ انتہائی نیچ اور کمینہ پن والی حرکت ہوتی ہے۔
مفاد عامہ کیلیے شیئر کریں۔ کاپی کرنے کی اجازت نہیں۔ الفاظ کی کم و بیشی کیلیے معافی کا حواستگار۔ صہیب اختر ایڈوکیٹ مردان۔ 🙏