Talha Khan advocate

Talha Khan advocate future corporate lawyer

07/11/2024

Here are the 15 restrictions non-filers in Pakistan will soon face:

- *Travel Restrictions*: Non-filers will be prohibited from undertaking non-religious travel.

- *Cash Withdrawal Limits*: Non-filers will have an annual cash withdrawal limit of Rs. 30 million.

- *Asset Purchase Ban*: Non-filers will be barred from purchasing properties or vehicles .

- *Investment Restrictions*: Non-filers won't be allowed to invest in the stock market or mutual funds.

- *Current Account Limitations*: Non-filers will face restrictions on opening current bank accounts.

- *Higher Withholding Tax*: Non-filers will pay higher withholding tax rates on various transactions.

- *Income Proof for Property*: High-income filers must provide income source justification for property acquisition.

- *Explanation for Other Purchases*: Low-income filers must provide explanations for significant purchases.

- *Data Sharing with Banks*: Information about non-filers will be shared with banks to limit check withdrawals.

- *Undervalued Property Purchase*: The government will purchase properties at market value, not undervalued.

- *Check Usage Restrictions*: Certain transactions will have check usage restrictions .

- *Transaction Bans*: Gradual bans will be applied to 15 types of transactions for non-filers.

- *No Tax Exemptions*: Non-filers won't be eligible for tax deductions or exemptions.

- *Business Opportunity Limits*: Non-filers will face restrictions on conducting business activities.

- *Increased Scrutiny*: Non-filers will face enhanced audits and scrutiny.

These restrictions aim to boost tax compliance and revenue in Pakistan, with the government planning to end the non-filer category from tax laws .

04/11/2024

*_آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد قانون کے مطابق آرمی چیف کی دس سال تک تقرری کی جاسکے گی_*

*_آرمی ایکٹ کی دفعہ 8A کے تحت پہلی تقرری پانچ سال کے لیے جبکہ دفعہ 8B کے تحت مزید پانچ سال کے لیے reappointment یا extension کی جاسکے گی۔_*

ایسی کوششیں رکنی نہیں چاہئے
10/08/2024

ایسی کوششیں رکنی نہیں چاہئے

حکومت نے ایف آئی اے کی طرح نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نامی نیا ادارہ قائم کر دیا۔ سربراہ ڈائریکٹر جنرل کم از ک...
04/05/2024

حکومت نے ایف آئی اے کی طرح نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نامی نیا ادارہ قائم کر دیا۔ سربراہ ڈائریکٹر جنرل کم از کم گریڈ 21 کا ہو گا جس کےاختیارات آئی جی کے برابر ہوں گے اور یہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں، سکیموں اور بے بنیاد پروپیگنڈے کی تحقیقات کر سکے گا...

Press release of the Islamabad high court
29/04/2024

Press release of the Islamabad high court


پاکستان میں امبانی جیسے پیدا کیوں نہیں ہوتے محمد لطیف 1907ء کو مشرقی پنجاب کے شہر بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام...
08/04/2024

پاکستان میں امبانی جیسے پیدا کیوں نہیں ہوتے

محمد لطیف 1907ء کو مشرقی پنجاب کے شہر بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مہر میران بخش تھا۔ محمد لطیف نے اعلی ٰ تعلیم حاصل کی اور 1930ء میں مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ 1932ء میں انہوں نے اپنے آبائی شہر کے نام پر ”بٹالہ انجینئرنگ کمپنی (بیکو BECO )“ کی بنیاد رکھی۔

جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا سی ایم لطیف چاہتے تو بھارت میں رہ کر اپنا کاروبار بچا سکتے تھے مگر انہوں نے اپنی فیکٹریاں اور اپنا سب کچھ بھارت میں ہی چھوڑا اور پاکستان کی محبت میں ہجرت کر کے لاہور آ گئے۔

سی ایم لطیف نے لاہور میں بیکو کمپنی کے نام سے صنعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ دسمبر 1947ء کو انہوں نے لاہور کے علاقے بادامی باغ میں پھر سے کمپنی کو زیرو سے آغاز کیا اور تین سال کی انتھک محنت کے بعد کمپنی کے قیام کو مضبوط بنیاد پر کھڑا کر دیا۔ کمپنی میں سٹیل ورکس، سٹیل فاؤنڈری، سٹیل رولنگ ملز، آئرن فاؤنڈری، مشین ٹول شاپ، ڈیزل انجن شاپ، سٹرکچرل شاپ اور جنرل انجینئرنگ شاپ سمیت 8 شعبے قائم تھے۔ بیکو میں اس وقت مشینوں کے پرزہ جات، واٹر پمپس، پاور لومز، کرینیں، الیکٹرک موٹرز اور سائیکل تیار کیے جاتے تھے۔

بیکو 60ء اور 70ء کی دہائی میں ایک بین الاقوامی اور پاکستان کا قابل فخر ادارہ بن چکا تھا۔ مختلف ممالک کے سربراہان بیکو کا دورہ کرنے کے لئے بادامی باغ آیا کرتے تھے اور اپنے انجینئرز کو بھی بیکو میں ٹریننگ کے لئے بھیجا کرتے تھے۔ چین کے اس وقت کے وزیراعظم چو این لائی نے بیکو کا دورہ کیا اور اپنے انجینئرز بیکو میں ٹریننگ کے لئے بھیجا، چو این لائی نے بیکو کے سٹرکچر اور انتظامی امور کی طرز پر چین میں باقاعدہ ادارے اور فیکٹریاں قائم کی۔

چو این لائی کے علاوہ شام کے سربراہ مملکت حافظ الاسد اور تھائی لینڈ کے بادشاہ بھی بیکو کا دورہ کر چکے ہیں۔ چین کے ساتھ ساتھ جاپان اور جرمنی کے انجینئرز بھی بیکو میں ٹریننگ کے لئے بھیجے جاتے تھے۔ آج ان تینوں ممالک کے انجینئرنگ نے اپنا لوہا منوایا۔ اپنے عروج کے زمانے میں بیکو میں 6000 لوگ ملازمت کیا کرتے تھے۔ سی ایم لطیف دوراندیش انسان تھے۔ انہوں نے ایک ایسا مثالی ادارہ قائم کر دیا تھا جو اپنے وقت کا شاہکار اور پاکستان کا قیمتی اثاثہ تھا۔ مگر کیا کیجئے کہ بدقسمتی چپکے سے ان کے ادارے کا پیچھا کر رہی تھی۔

یکم جنوری 1972ء کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں اقتصادی اصلاحات نافذ کرتے ہوئے 31 اہم صنعتی اداروں کو nationalize کرنے یعنی قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کر لیا جس میں بیکو بھی شامل تھا۔ ایک ہی رات میں سی ایم لطیف سے سب کچھ چھین لیا گیا، ان کے سالوں کی محنت ضائع کردی گئی اور ان کو ان کے اپنے ہی ادارے سے نکال کر ادارے کو حکومت پاکستان نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ ایک ہی رات میں وہ پھر سے 1947ء والی پوزیشن پر آچکے تھے۔

جس ملک کی محبت میں انہوں نے سب کچھ چھوڑا 1972ء میں اسی ملک نے ان سے سب کچھ چھین لیا تھا۔ حکومت وقت نے بیکو کا نام تبدیل کر کے پاکستان انجینئرنگ کمپنی (پیکوPECO ) کر دیا۔ حکومت نے اپنے وقت کے اس صنعتی شاہکار ادارے کو بعد میں ان لوگوں کے سپرد کر دیا گیا جنہیں مکینیکل انجینئرنگ کی الف تک نہیں آتی تھی اور پھر اس عالیشان ادارے کا وہی حال ہوا جو ہر سرکاری ادارے کا ہوتا ہے۔

بیکو نے پھر کبھی منافع نہیں کمایا اور پاکستان کا قومی اثاثہ کہلایا جانے والا ادارہ آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔ بیکو نے 1972ء سے لے کر 1998ء تک 760 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان کیا۔ بعد میں جنرل ضیاءالحق نے سی ایم لطیف کو بیکو واپس لینے کی آفر کی جن کو انہوں نے ٹھکرا دیا۔

سی ایم لطیف پاکستان سے مایوس ہو کر جرمنی چلے گئے اور انہوں نے اپنی باقی تمام عمر جرمنی میں گزار دی۔ سی ایم لطیف نے بعد میں ساری زندگی کوئی کاروبار کیا اور نہ ہی کوئی فیکٹری بنائی۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت باغبانی اور پھولوں کو اگانے میں لگاتے تھے۔

سی ایم لطیف 2004ء میں 97 سال کی عمر میں جرمنی میں فوت ہوئے اور وہیں دفن ہوئے۔
#منقول

30/03/2024

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کا آئی ایس آئی کی طرف سے عدلیہ میں کھلی مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو آنکھیں کھول ...
26/03/2024

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کا آئی ایس آئی کی طرف سے عدلیہ میں کھلی مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو آنکھیں کھول دینے والا خط:

خط کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے ذاتی گھروں کے کمروں میں خفیہ کمرے پاۓ گیے ہیں۔ جو کہ بلب کے پیچھے فٹ کیے گیے تھے اور ان میں آواز کی ریکارڈنگ تک کا بندوست کیا گیا تھا۔

ججز کے قریبی عزیزوں کو مذکورہ ادارے نے متعدد بار اٹھایا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو سیاسی کیسز میں اس کے زریعے دھمکانے کی کوشش کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز نے ایک سیاسی کیس سنا۔ بنچ میں عامر فاروق موجودہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ بھی تھے۔ جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ لکھا اور دیگر دو ججز کو دستخط کے لیے بھیجا۔ دونوں ججز نے عامر فاروق سے اختلاف کیا اور اپنا نوٹ لکھا۔ جس پہ آئی ایس آئی نے دونوں ججز پہ حد درجے پریشر ڈالا اور ان کے قریبی رشتی داروں کو دھمکانے کی کوشش کی۔ ( یہ مشہور ٹیریان کیس کی بات ہورہی ہے)

اسلام آباد ہائی کورٹ کے انسپکشن جج نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری پہ آئی ایس ائی کی طرف سے بہت پریشر ڈالا جا رہا ہے۔ یہ بات ٹی روم میں سبھی ججز کے سامنے ڈسکس ہوا۔ ایک ڈسٹرک جج کے گھر میں باقاعدہ کریکر پھیکنے گیے تاکہ اس سے مخصوص کیسز میں فایدہ لیا جاسکے۔ اس جج نے جب مذکورہ ادارے کی شکایت اسلام آباد ہائی کورٹ کو کی تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اسے ہٹا کر اسلام آباد میں بطور سزا تعینات کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دیگر ججز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا اور مذکورہ ادارے کی مداخلت کو اس کے علم میں لانا چاہا مگر اس خط پہ آج تک کچھ نہیں ہوا۔

چند دن قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے ایک بار پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک اور خط لکھا اور پھر سے مذکورہ ادارے کی مداخلت کی شکایت کی مگر اب تک اس پہ بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔

لہذا چھ ججز سپریم جوڈیشل کونسل سے درخواست کرتی ہے کہ اس حوالے سے پورے ملک کی عدلیہ کی ایک اجلاس بلایا جائے اور اس میں بیٹھ کر سب سے پوچھا جائے کہ کیا ان کے ساتھ بھی مذکورہ ادارے نے یہی رویہ اپنایا ہے اور وہاں بھی مداخلت ہورہی ہے۔ اگر ہاں تو اس حوالے سے ایک جامع پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے ورنہ عدلیہ کی آزادی ختم ہو رہی ہے۔

ان چھ ججز کے نام ذیل میں ہیں:

جسٹس محسن اختر کیانی
جسٹس طارق محمود جھانگیری
جسٹس بابر ستار
جسٹس سردار اعجاز اسحاق
جسٹس ارباب طاہر
جسٹس ثمن رفعت

22/12/2023



Address

Mardan
Mardan
23200

Telephone

+923169919443

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Talha Khan advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Talha Khan advocate:

Share

Category