20/07/2024
سپریم کورٹ کامخصوص نشستوں کے حوالے سے فیصلہ اور ملکی سیاسی صورتحال میں ہلچل۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشنز میں قانونی پیچیدگیوں کو بنیاد بنا کر سال 2023 میں پارٹی کے خلاف فیصلہ دے دیا جس کو مذکورہ سیاسی جماعت نے پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے مختصراً فیصلے کو ریوردس دیا اور جماعت کی ساگھ برقرار رکھی جس کو الیکشن کمیشن نے ملک کی آئینی ادارہ ہوکر من و عن تسلیم کرنے کے بجائے فریق بن کر سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ۔ سپریم کورٹ نے 13 جنوری کو پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر مدعی کے حق میں فیصلہ دے دیا جس کے بعد عین اسی وقت جب ملک میں 9 فروری کو عام انتخابات ہونے تھے الیکشن کمیشن نے ایک ملکی جماعت اور اس کے کروڑوں ووٹرز سے انتخابی نشان چھین لیا۔ یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ دنیا میں جو ترقی پزیر یا کم خواندہ ممالک ہے وہاں لوگ نشان کو ووٹ دیتے ہیں کیونکہ ان میں لکھت پڑھت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے پسندیدہ جماعت کے ممبر کو ووٹ دے۔ اس لئے ہر جماعت کے پاس ایک نشان ہوتا ہے جس کو یاد رکھ ناخواندہ لوگ اپنےحق رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے نہ صرف ایک جماعت کو ختم کیا بلکہ وہ کروڑوں لوگ جو نشان کے حساب سے اپنی جماعت کے نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہتے تھے ان کو ان کے بنیادی حق رائے دہی سے مکمل محروم کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے وہ امیدوار جنکو بلے کے نشان پر الیکشن لڑنا تھا ان کو آذاد قرار دیا گیا یہاں تک کہ پارٹی سرٹیفیکیٹ بھی لینے سے انکاری کی گئی حالانکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کھبی نہیں کہا تھا کہ پی ٹی آئی بحثییت جماعت ختم ہو چکی ہے ۔ مطلب کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود اس جماعت کے امیدوار اپنی جماعت کی طرف سے الیکشنز لڑنے کے اہل تھے اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے تمام امیدواروں کو آذاد قرار دیکر سب سے بڑی آئینی،قانونی اور اخلاقی غلطی کی۔ مختصراً پی ٹی آئی کے تمام امیدوار آذاد حثییت سے الیکشن لڑنے پر مجبور ہوگئے۔ 9 فروری 2024 کو ملک میں عام انتخابات ہوئے جس کے نتائج بڑے حیران کن تھے۔ ملک پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 106(3) بی اور سی ، آرٹیکل 51 (6) ڈی اور ای میں قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے مخصوص نشستوں کا ذکر ہے جن کے لئے جو بھی پارلیمانی جماعت جتنے عام نشستیں جیتے گی اس تناسب سے اس جماعت کو مخصوص نشستیں دی جائے گی۔ آئین پاکستان میں لفظ "پارلیمانی جماعت" استعمال ہوا ہے یعنی وہ جماعت جس کی پارلیمنٹ (مجلس شوری) میں نمائندگی ہو مخصوص نشستیں اسی جماعت کو الاٹ ہونگی۔ اب چونکہ پی ٹی آئی کے نشان نہ ملنے کی وجہ سے تمام امیدوار بادی النظر میں پی ٹی آئی کے ہی امیدوار تھے لیکن چونکہ الیکشن کمیشن انکو ماننے کے لئے کسی صورت تیار نہیں تھی جسکی وجہ سے ان تمام امیداروں کے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے کیونکہ 80 ارکان کے اس جماعت میں شامل ہونے سے وہ ایک پارلیمانی جماعت تو بن گئی لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دینے سے انکاری ہوگئی اور پورے ملک سے بشمول قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں سنی اتحاد کونسل کو ملنے والے 77 مخصوص نشستیں دوسرے جماعتوں میں تقسیم کرنے لگی جسکی آئین میں کوئی ذکر نہیں ۔ اس معاملے کو لیکر سنی اتحاد کونسل بظاہر اور دراصل پی ٹی آئی پہلے پشاور ہائ کورٹ گئی جہاں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا جس کو لیکر سنی اتحاد کونسل سپریم کورٹ پہنچ گئی ۔ پاکستان کے مشہور قانونی اور آئینی ماہر جناب اعتزاز احسن صاحب نے لفظ پارلیمانی جماعت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اگر 80 آزاد ارکان جیتنے کے بعد پاکستان سوشلسٹ پارٹی میں بھی شامل ہونگے تو وہ جماعت پارلیمانی جماعت تصور ہوگی اور وہ مخصوص نشستوں کی حقدار ہوگی۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کیلئے 13 رکنی بنچ تشکیل دی جسکی سربراہی چیف جسٹس جناب قاضی فائز عیسی صاحب کر رہے تھے۔ تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے8/5 سے مختصر فیصلہ 9 صفحات پر سنی اتحاد کونسل کی اپیل منظور کرتے ہوے پاکستان تحریک انصاف کو ایک سیاسی جماعت تسلیم کیا اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ جماعت مذکورہ کو مخصوص نشستیں دی جائے۔ البتہ 13 میں سے گیارہ جج صاحبان بشمول چیف جسٹس نے یہ بات تسلیم کیا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت تھی اور ہے اور الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 13جنوری کے فیصلے کی غلط تشریح کرتے ہوئے ایک مخصوص جماعت کو الیکشن پراسس سے ہی اوٹ کر دیا جس کی وجہ سے ہی سارا معاملہ کھائی میں گر گئی اسلئے جہاں سے معاملہ بگھڑا ہے وہاں سے درست کرنا ہی عدالت انصاف کی زمہ داری ہے۔ یہاں پر لفظ "عدالت انصاف" بہت غور طلب ہے۔عدالت انصاف میں ملک کے 5 ہائی کورٹس اور ایک سپریم کورٹ آتا ہے جو لکھے ہوئے آئین اور قانون سے باہر نکل کر بھی مکمل انصاف کے تقاضے پوری کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔آئین کے ارٹیکل 187 میں لفظ "Complete Justice" استعمال ہوا ہے جو سپریم کورٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ مکمل انصاف کی فراہمی کے لئے آئین کی کتاب سے باہر نکل کر بھی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
پاکستان کی موجودہ حکومت اس فیصلے کو من و عن تسلیم کرنے کے بجائے رکاوٹیں پیدا کرنے پر تلی ہوئی ہے جسکا نقصان ملک میں رہی سہی نظام انصاف پر ہوگا۔ دوران سماعت جسٹس عایشہ ملک نے بارہا مدعلیم کے وکیل سے وضاحت مانگی کہ بتایا جائے آئین میں کہا لکھا ہے کہ مخصوص نشستیں ان کو ملنی چاہیئے جس کا جواب موصوف کے پاس نہیں تھا۔ دوسرا جو اعتراض حکومتی اراکینِ اس فیصلے پر کچھ اس طرح لگا رہے چونکہ پی ٹی آئی اس کیس میں فریق نہیں تھی تو نشستیں انکو کیوں دی گئی؟ اس سے صاف ظاہر ہے انکو عدالتی فیصلے پر نہیں بلکہ پی ٹی آئی سے مسئلہ ہے۔ عدالت نے بنیادی طور پر دو پہلوں کو بنیاد بنا کر 8/5 سے فیصلہ دیا ہے۔ اول چونکہ معاملہ سپریم کورٹ کے 13 جنوری کے فیصلے کی غلط تشریح سے شروع ہوا ہے اور 13 جنوری کو پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت تھی تو وہی سے ٹھیک کرنا ہے۔ دوسری اور بہت اہم نکتہ جو کہ سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کے اصول کو مکمل دفن کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کی جس کیلئے معزز ججز نے آئین کے آرٹیکل 187 کا استعمال کیا جو مکمل انصاف کی بات کرتی ہے۔ گو کہ پی ٹی آئی اس کیس میں فریق نہیں تھی لیکن اس کے باوجود چونکہ 13 جنوری کے فیصلے کی غلط تشریح وجہ سے ایک سیاسی جماعت اور اس کے کروڈوں ووٹرز کے ساتھ ناانصافی تو ہوئی لیکن پھر بھی سپریم کورٹ نے دیر آئی درست ائی کی طرح فیصلہ دیکر انصاف کے تقاضے کسی حد تک درست کر دی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پی ٹی آئی بطور پارٹی اس فیصلے کے بعد " Justice delayed is justice denied " کے اصول کی بنیاد پر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف رٹ پر جاتی لیکن یہ مہذب معاشروں میں ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی کسی کو امید نہیں تھی کیونکہ ماضی میں جب بھی ایسے معاملے عدالت میں آئی ہیں وہ ایک الگ تاریخ ہے۔ حکومت اور باقی جماعتوں نے اس جماعت کے نشستوں کو مال غنیمت سمجھ کر حاصل تو کیا کیونکہ خیال کیا جارہا تھا کہ معزز عدالت ماضی کی طرح اس دفعہ بھی گھٹنے ٹیک دیگی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ حکومت اور اتہادی اس فیصلے سے اس لئے بھی ناخوش ہے کیونکہ ان سیٹوں کے ساتھ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت بنتی تھی جو کہ کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے لازمی ہے اور ایسے بھی خبریں گردش میں تھی کہ حکومت دو تہائی اکثریت کے استعمال سے کئی ایسے ترامیم کرنے جارہی تھی جس سے ملک اور حسب اختلاف کو کچلا جا سکتا تھا۔ ان میں سے ایک ترمیم سپریم کورٹ کے ججز کی مدت ملازمت میں توسیع بھی شامل تھی۔ تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ملک کے اعلیٰ عدالت کسی دوسرے ادارے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے آئین اور قانون کے تحفظ کے لیے کھڑی ہو گئی جو کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کیلئے لازمی تھی اور عوام میں جو مایوسی پھیلی ہوئی تھی کہ ملک میں جنگل کا قانون ہے کو کافی حد تک کم ہوتا ہوادیکھ سکتے ہیں
ایڈوکیٹ شیر شاہ
19/7/2024