31/01/2026
فیملی کیسز کی اہم معلومات بمع دلائل
**********************
طلاق کی اقسام (Divorce in Islam :
اسلام میں طلاق کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
پہلی طلاق (طلاقِ اولیٰ)
**********************
اسے طلاقِ رجعی کہتے ہیں۔ شوہر ایک طلاق دیتا ہے۔ عدّت (۳ حیض) کے اندر شوہر بغیر نئے نکاح کے رجوع کر سکتا ہے۔ اگر عدّت ختم ہو جائے: تو نیا نکاح اور نیا مہر لازم ہوگا۔
قرآن حوالہ:
> "الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان" (سورۃ البقرہ: 229)
دوسری طلاق (طلاقِ ثانیہ)
**********************
* یہ بھی طلاقِ رجعی ہوتی ہے۔
* عدّت کے اندر رجوع ممکن ہے۔
* عدّت گزرنے کے بعد دوبارہ نکاح نئے مہر کے ساتھ ممکن ہے۔
تیسری طلاق (طلاقِ مغلظہ / بائنہ کبریٰ)
****************************
یہ حتمی طلاق ہے۔اس کے بعد شوہر اسی عورت سے دوبارہ نکاح نہیں کر سکتا۔
قرآن حوالہ:
> "فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره"(سورۃ البقرہ: 230)
خلع کیا ہے؟ (Khula)
تعریف:
خلع وہ طلاق ہے جو عورت کی درخواست پر عدالت یا شوہر رضامندی سے ہوتی ہے۔
عام طور پر عورت مہر واپس کرتی ہے۔
قرآن حوالہ:
> "فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به"(سورۃ البقرہ: 229)
خلع کی شرعی حیثیت:
**********************
خلع طلاقِ بائن ہے۔ خلع کے بعد:
* عدّت کے اندر رجوع ممکن نہیں۔
* مگر نیا نکاح نئے مہر کے ساتھ ہو سکتا ہے۔
خلع کے بعد دوبارہ صورت نکاح ممکن؟ حلالہ ضروری؟
1 یا 2 طلاق کے بعد ✅ ہاں ❌ نہیں
خلع کے بعد ✅ ہاں (نیا نکاح) ❌ نہیں
3 طلاق کے بعد ❌ نہیں ✅ ہاں
حلالہ کیا ہے؟ (Halala) تعریف:
**********************
جب شوہر تین طلاقیں دے دے تو عورت:
* کسی دوسرے مرد سے حقیقی نکاح کرے
* ازدواجی تعلق قائم ہو
* پھر وہ دوسرا شوہر وفات پا جائے یا طلاق دے
تب پہلے شوہر سے نکاح ممکن ہوگا۔
قرآن حوالہ:
> "حتى تنكح زوجاً غيره" (سورۃ البقرہ: 230)
ناجائز حلالہ (حرام طریقہ)
**********************
پہلے سے طے شدہ نکاح کہ “ایک رات کا نکاح ہوگا پھر طلاق دے دی جائے یہ سخت گناہ ہے۔
حدیث:
> "لعن الله المحلل والمحلل له"
(ترمذی، ابو داؤد)
ترجمہ: اللہ کی لعنت ہو حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے کیا جائے دونوں پر
تاریخِ اسلام میں مثال
حضرت عائشہؓ کی روایت: ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ:
> "میں نے دوسرے شوہر سے نکاح کیا لیکن تعلق قائم نہیں ہوا، کیا پہلے شوہر سے نکاح ہو سکتا ہے؟"
**********************
آپ ﷺ نے فرمایا:
> "نہیں، جب تک دوسرے شوہر کا ذوق نہ چکھ لے" (بخاری، مسلم)
دوبارہ نکاح کن شرائط میں جائز ہے؟
جائز حالات: پہلی یا دوسری طلاق کے بعد
* خلع کے بعد
* عدّت مکمل ہو
* نیا مہر و نکاح ہو
ناجائز حالات: تین طلاق کے بعد بغیر حلالہ
* منصوبہ بند حلالہ
* عدّت کے بغیر نکاح
خلاصہ جدول حالت رجوع نیا نکاح حلالہ
پہلی طلاق عدّت میں عدّت کے بعد ❌
دوسری طلاق عدّت میں عدّت کے بعد ❌
خلع ❌ ✅ ❌
تیسری طلاق ❌ ❌ ✅
شرعی اصول (Golden Rule)
> طلاق آخری حل ہے، اسلام میں نکاح کو بچانا پسندیدہ ہے۔
قرآن:
> "وعاشروهن بالمعروف"
(سورۃ النساء: 19)
سوال : کیا عدالت سے خلع ہونے کے بعد شوہر تین ماہ (عدّت) کے اندر رجوع کر سکتا ہے؟
مختصر اور قطعی جواب نہیں۔
عدالتی خلع کے بعد شوہر کو عدّت کے اندر یا بعد میں رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔
خلع کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
**********************
خلع = طلاقِ بائن
خلع طلاقِ رجعی نہیں بلکہ طلاقِ بائن ہے۔
* شوہر رجوع نہیں کر سکتا
* عدّت کے اندر بھی نہیں
قرآن مجید کی واضح دلیل سورۃ البقرہ، آیت 229
> فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ
اردو ترجمہ:
> "پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت جو کچھ (مال) دے کر اپنی جان چھڑا لے، اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔"
وضاحت: یہاں عورت کے فدیہ دے کر علیحدگی اختیار کرنے کو بیان کیا گیا ہے، اور فقہاء کے نزدیک یہ خلع ہے جو طلاقِ بائن ہے۔
حدیثِ نبوی ﷺ کی دلیل
**********************
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے:
> "اختلعت امرأةٌ على عهد رسولِ الله ﷺ فأمرها النبي ﷺ أن تعتدَّ بحيضةٍ واحدة"
(سنن ابوداؤد: 2228، ترمذی)
اردو ترجمہ:
> "رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت نے خلع لیا تو نبی ﷺ نے اسے ایک حیض عدّت گزارنے کا حکم دیا۔"
اہم نکتہ: اگر خلع کے بعد رجوع ممکن ہوتا تو عدّت کا مقصد مختلف ہوتا، جبکہ خلع میں رجوع کا دروازہ بند ہوتا ہے۔
ائمہ کرام کا متفقہ موقف
امام ابو حنیفہؒ
> خلع طلاقِ بائن ہے، اس میں رجوع جائز نہیں۔
امام شافعیؒ
> خلع کے بعد رجوع نہیں، البتہ نیا نکاح جائز ہے۔
امام احمد بن حنبلؒ
> خلع میں شوہر کا رجوع باطل ہے۔
(فقہ حنفی: ہدایہ، فتح القدیر)
عدّت کیوں ہوتی ہے جب رجوع نہیں؟
**********************
عدّت کا مقصد: حمل کا پتہ چلانا، نسب کی حفاظت ، شرعی نظم
عدّت رجوع کے لیے نہیں بلکہ نکاح کے خاتمے کی تکمیل کے لیے ہوتی ہے۔
خلع کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کاجائز طریقہ:
**********************
1. عدّت مکمل ہو
2. دونوں کی رضامندی ہو
3. نیا نکاح
4. نیا مہر
5. دو گواہ
ناجائز:
* عدّت میں زبردستی رجوع
* بغیر نکاح اکٹھا رہنا
> عدالتی خلع کے بعد شوہر کو 3 ماہ کے اندر یا بعد میں رجوع کا کوئی حق نہیں، البتہ نئے نکاح سے دوبارہ رشتہ قائم ہو سکتا ہے۔
عدّت کے دوران عبادات
**********************
نماز (فرض و نفل) حکم: عدّت میں تمام فرض نمازیں لازم ہیں۔
نفل، تہجد، اشراق، چاشت ادا کرنا جائز بلکہ باعثِ اجر ہے۔
اگر حیض آئے تو:
* نماز معاف ہے (قضا نہیں)
* پاک ہونے پر غسل کے بعد نماز لازم ہوگی۔
حدیث:
> "إذا أقبلت الحيضة فدعي الصلاة"
(بخاری، مسلم)
ترجمہ: "جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو۔"
روزہ حکم: فرض روزے (رمضان) رکھے جائیں گے اگر حیض نہ ہو۔
حیض میں روزہ بھی چھوڑ دیا جائے گا اور بعد میں قضا لازم ہے۔
حدیث:
> "كنا نؤمر بقضاء الصوم ولا نؤمر بقضاء الصلاة" (بخاری، مسلم)
ترجمہ:"ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا، نماز کی قضا کا نہیں۔"
تلاوتِ قرآن حکم: عدّت میں قرآن پڑھنا جائز ہے۔
اگر حیض نہ ہو: براہِ راست تلاوت جائز
حیض میں:
* اکثر فقہاء کے نزدیک زبانی تلاوت مکروہ
* دیکھ کر، دل میں پڑھنا یا تفسیر پڑھنا جائز
قرآن:
> "الذين يذكرون الله قياماً وقعوداً"
(آل عمران: 191)
ذکر و دعا حکم: عدّت میں ذکر، درود شریف، استغفار، دعا بغیر کسی پابندی کے جائز ہیں۔
قرآن:
> "اذكروا الله ذكراً كثيراً"
(الاحزاب: 41)
صدقہ و خیرات
حکم: صدقہ دینا، محتاجوں کی مدد کرنا جائز بلکہ مستحب ہے۔
شوہر کے ایصالِ ثواب کے لیے صدقہ کرنا بھی جائز ہے (وفات کی عدّت میں)۔
حدیث:
> "إذا مات الإنسان انقطع عمله إلا من ثلاث..." (مسلم)
حج و عمرہ اختلافی مسئلہ:
**********************
عدّت کے دوران حج: بعض فقہاء کے نزدیک فرض حج ہو تو اجازت
مگر اکثر فقہاء احتیاطاً اجازت نہیں دیتے
عمرہ: عدّت میں نہ کرنا بہتر
عملی طور پر:
> عدّت مکمل ہونے کے بعد جانا افضل و محفوظ ہے۔
عدّت بذاتِ خود حکمِ الٰہی کی اطاعت ہے
نیت کے ساتھ عدّت گزارنا عبادت بن جاتا ہے
قرآن:
> "ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزاً عظيماً"
(الاحزاب: 71)
کن چیزوں سے پرہیز لازم ہے؟ (مختصر)
عمل حکم
* نکاح / منگنی ❌ منع
* /زیب و زینت (وفات کی عدّت میں) ❌ منع
* خوشبو ❌ منع
* غیر ضروری گھر سے نکلنا ❌ منع
* مردوں سے اختلاط ❌ منع
حدیث:
> "لا تلبس المعصفر ولا الممشَّق" (ابوداؤد)
خلاصہ
> عدّت میں عورت دنیا سے کٹ نہیں جاتی بلکہ اللہ سے تعلق مضبوط کرتی ہے؛ نماز، ذکر، دعا اور صبر سب عبادت ہیں۔
مسئلہ:
**********************
اگر عدالت خلع کی ڈگری جاری کرے اور حکم میں لکھ دے کہ 3 ماہ کی عدّت میں فریقین دوبارہ rejoin (رجوع) کر سکتے ہیں تو اس حکم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
کیا یہ شرعاً درست ہے یا غلط؟
**********************
مختصر اور قطعی شرعی فیصلہ
> عدالتی خلع کے بعد 3 ماہ کی عدّت میں شوہر کا رجوع یا بغیر نئے نکاح کے rejoin کرنا شرعاً باطل، غلط اور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔
خلع کی شرعی نوعیت کیا ہے
خلع = طلاقِ بائن
خلع طلاقِ رجعی نہیں ہے
خلع میں: شوہر کو رجوع کا کوئی حق نہیں نہ عدّت میں، نہ بعد میں
ائمہ اربعہ (ابو حنیفہ، شافعی، مالک، احمد) کا اتفاقی موقف ہے کہ:
> خلع طلاقِ بائن ہے
قرآن مجید سے واضح دلیل سورۃ البقرہ، آیت 229
> فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ
اردو ترجمہ:
> "اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت جو کچھ دے کر اپنی جان چھڑا لے، اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔"
شرعی نکتہ:
"افتدت" (فدیہ دے کر چھٹکارا) نکاح کے خاتمے کی صریح دلیل ہے، نہ کہ معلق علیحدگی۔
حدیثِ رسول ﷺ فیصلہ کن دلیل
**********************
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں:
> "اختلعت امرأةٌ على عهد رسولِ الله ﷺ فأمرها النبي ﷺ أن تعتدَّ بحيضةٍ واحدة"
(سنن ابوداؤد: 2228، ترمذی)
اردو ترجمہ:
> "نبی ﷺ کے زمانے میں ایک عورت نے خلع لیا، تو آپ ﷺ نے اسے ایک حیض عدّت گزارنے کا حکم دیا۔"
اہم استدلال:
اگر خلع میں رجوع ممکن ہوتا تو: نبی ﷺ رجوع کا ذکر فرماتےجبکہ صرف عدّت کا حکم دیا گیا
قرآن کی صریح نص: رجوع کہاں جائز ہے؟
سورۃ البقرہ، آیت 228
> وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا
اردو ترجمہ:
> "اور ان کے شوہر عدّت کے اندر انہیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں، اگر اصلاح کا ارادہ ہو۔"
اہم فرق:
یہ آیت صرف طلاقِ رجعی کے لیے ہے
خلع کے لیے نہیں
عدالتی حکم جو رجوع کی اجازت دے شرعی حیثیت ایسا حکم:
* قرآن کے خلاف
* سنت کے خلاف
* اجماعِ امت کے خلاف
قرآن کا اصول:
> فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ
(النساء: 59)
اردو ترجمہ:
> "اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔"
اگر عدّت میں اکٹھے رہیں تو شرعی نتیجہ
❌ بغیر نئے نکاح:
ساتھ رہنا = زنا کے مترادف
نکاح ختم ہو چکا ہوتا ہے
قرآن:
> وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا
(الاسراء: 32)
درست شرعی طریقہ کیا ہے؟
**********************
خلع کے بعد:
1. عدّت مکمل ہو 2. دونوں رضامند ہوں 3. نیا نکاح 4. نیا مہر
5. دو گواہ تب rejoin جائز ہوگا
خلاصہ (Final Verdict)
> عدالت اگر خلع کے بعد عدّت میں رجوع یا rejoin کی اجازت دے تو وہ حکم شرعاً غلط، ناقابلِ عمل اور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔
شرعاً rejoin صرف نئے نکاح سے ممکن ہے، رجوع سے نہیں۔
سوال “خلع کی صورت میں عدّت ایک ماہ ہے یا تین ماہ؟” کا واضح، مدلل اور مستند شرعی جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں درج ذیل ہے:
**********************
خلع کی صورت میں عدّت ایک ماہ یا تین ماہ؟
> خلع کی عدّت شرعاً “ایک حیض” ہے، تین ماہ نہیں۔
البتہ اگر عورت کو حیض نہ آتا ہو تو تین قمری ماہ عدّت ہوگی۔
خلع کی شرعی نوعیت
**********************
خلع = طلاقِ بائن
طلاقِ بائن میں: رجوع کا حق نہیں
عدّت صرف رحم کی براءت (حمل کے عدم وجود) کے لیے ہوتی ہے
حدیثِ نبوی ﷺ (فیصلہ کن دلیل)
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں:
> "اختلعت امرأةٌ على عهد رسولِ الله ﷺ فأمرها النبي ﷺ أن تعتدَّ بحيضةٍ واحدة"
(سنن ابوداؤد: 2228، ترمذی: 1185
اردو ترجمہ:
> "رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت نے خلع لیا، تو نبی ﷺ نے اسے ایک حیض عدّت گزارنے کا حکم دیا۔"
یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ خلع کی عدّت ایک حیض ہے۔
قرآن مجید سے اصولی دلیل سورۃ البقرہ، آیت 229
> فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ
اردو ترجمہ:
> "اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت جو کچھ دے کر خود کو آزاد کر لے، اس میں کوئی گناہ نہیں۔"
اس آیت میں خلع کو طلاقِ رجعی سے الگ ذکر کیا گیا ہے، اس لیے اس کی عدّت بھی مختلف ہے۔
فقہاء کا اختلاف (مگر راجح قول):
* امام احمد، ابن تیمیہ، ابن القیم ایک حیض
* امام ابو حنیفہ، امام شافعی تین حیض (احتیاطاً)
* راجح (دلائل کی بنیاد پر) ایک حیض
تین ماہ کب ہوں گے؟
**********************
تین ماہ صرف اس صورت میں:
عورت کو حیض نہ آتا ہو (کم عمر یا زیادہ عمر کی وجہ سے)
سورۃ الطلاق، آیت 4
> وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ... فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ
اردو ترجمہ:
> "اور وہ عورتیں جنہیں حیض نہیں آتا، ان کی عدّت تین ماہ ہے۔"
عدالتی غلط فہمی (3 ماہ لکھ دینا)
اکثر عدالتیں:
**********************
طلاق والی عدّت (۳ ماہ) کو
خلع پر بھی عرفاً لکھ دیتی ہیں
مگر شرعاً:
> یہ درست نہیں، جب تک عورت حیض والی ہو۔
حالت عدّت
* خلع + حیض آتا ہے ایک حیض
* خلع + حیض نہیں آتا تین ماہ
* خلع + حاملہ ولادت تک
حتمی شرعی قاعدہ
**********************
> خلع کی عدّت تین ماہ نہیں بلکہ ایک حیض ہے، الا یہ کہ حیض نہ آتا ہو۔
سوال : نکاح کے بعد رخصتی/ہم بستری نہ ہو اور طلاق دی جائےکیا دوبارہ اسی عورت سے نکاح کے لیے حلالہ لازم ہوگا؟
مختصر اور دو ٹوک جواب
> نہیں، حلالہ بالکل بھی لازم نہیں ہوگا
* چاہے ایک طلاق ہو، دو ہوں یا تین بھی دے دی جائیں
* جب تک ہم بستری (دخول) نہیں ہوئی۔
قرآن مجید کی صریح نص (فیصلہ کن دلیل)
سورۃ الاحزاب، آیت 49
> يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا
اردو ترجمہ:
> "اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں ہاتھ لگانے (ہم بستری) سے پہلے طلاق دے دو تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدّت نہیں۔"
اہم نتیجہ:
دخول نہ ہونے کی صورت میں:
**********************
۱) نہ عدّت ہے ۲) نہ تین طلاق کا وہ اثر جو حلالہ لازم کرے
تین طلاق اور حلالہ کا تعلق کب بنتا ہے؟
سورۃ البقرہ، آیت 230
> فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ
اردو ترجمہ:
> "پھر اگر وہ (شوہر) اسے (تیسری بار) طلاق دے دے تو وہ اس کے لیے حلال نہیں رہتی جب تک کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے۔"
فقہی اصول:
**********************
یہ حکم صرف اس صورت میں لاگو ہوتا ہے جب نکاح کے بعد دخول ہو چکا ہو۔
فقہاء کا متفقہ اصول
تمام ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے:
> اگر نکاح ہوا مگر دخول نہیں ہوا اور شوہر نے طلاق دے دی، تو عورت پر عدّت نہیں اور دوبارہ اسی شوہر سے نکاح حلال ہے، حلالہ لازم نہیں۔
(حوالہ: ہدایہ، بدائع الصنائع، مغنی ابن قدامہ)
دوبارہ نکاح کا درست شرعی طریقہ
**********************
1. فوراً (بغیر عدّت کے) نیا نکاح
2. نیا مہر
3. گواہوں کی موجودگی
4. دونوں کی رضامندی
فون پر طلاق کی شرعی حیثیت
اگر واضح الفاظ میں ہواور شوہر کی نیت طلاق کی ہو تو شرعاً واقع ہو جاتی ہے
خلاصہ (One-Page Answer) حالت حکم
نکاح + دخول نہیں ہوا ❌ عدّت نہیں
نکاح + دخول نہیں ہوا + طلاق ❌ حلالہ نہیں
دوبارہ اسی عورت سے نکاح ✅ جائز
نیا مہر و نکاح ✔ لازم
حتمی شرعی قاعدہ
**********************
> حلالہ صرف اسی صورت میں لازم ہوتا ہے جب نکاح کے بعد ہم بستری ہو چکی ہو اور تین طلاقیں دی گئی ہوں۔
سوال : اگر خلع کے کیس میں شوہر کو باقاعدہ نوٹس ہو جائے لیکن وہ عدالت میں پیش نہ ہو، تو کیا عدالت یکطرفہ / خوف ساختہ (Ex-parte) خلع کی ڈگری دے سکتی ہے؟
کیا یہ شرعاً درست ہے؟
**********************
مختصر جواب (Bottom Line)
> ✅ جی ہاں، عدالت شوہر کی غیر حاضری میں خلع کی ڈگری دے سکتی ہے۔
✅ یہ شرعاً بھی درست ہے اور پاکستانی قانون کے مطابق بھی۔
❌ شوہر کی عدم حاضری خلع کو غیر شرعی نہیں بناتی۔
شرعی حیثیت (قرآن و حدیث)
خلع کی بنیاد عورت کا حق
سورۃ البقرہ، آیت 229
> فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ
اردو ترجمہ:
> "پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت جو کچھ دے کر اپنی جان چھڑا لے، اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔"
اہم نکتہ:
آیت میں شوہر کی رضا کو شرط نہیں بنایا گیا
اصل بنیاد: ازدواجی زندگی کا قائم نہ رہ سکنا
حدیثِ نبوی ﷺ خلع شوہر کی مرضی کے بغیر
**********************
حضرت ثابت بن قیسؓ کی بیوی کا واقعہ
> نبی ﷺ نے شوہر سے فرمایا:
"اقبل الحديقة وطلقها تطليقة"(بخاری: 5273)
اردو ترجمہ:
> "باغ (مہر) لے لو اور اسے ایک طلاق دے دو۔"
استدلال:
اگر شوہر انکار کرتا، تب بھی نبی ﷺ نے خلع کا فیصلہ کروایا
اس سے ثابت ہوا کہ حاکمِ وقت (قاضی) خلع نافذ کر سکتا ہے
فقہ اسلامی کا اصول:
**********************
> اگر شوہر ظلم کرے، نفرت پیدا ہو جائے یا ازدواجی زندگی ناممکن ہو جائے، تو قاضی شوہر کی غیر موجودگی یا نافرمانی میں بھی خلع نافذ کر سکتا ہے۔
(حوالہ: بدائع الصنائع، فتح القدیر، المغنی)
شوہر کا نوٹس کے باوجود نہ آنا
**********************
شرعی اثر:
* نوٹس ملنے کے بعد بھی حاضر نہ ہونا:
* اپنا حقِ سماعت ضائع کرنا ہے
* قاضی کو فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے
قرآن کا اصولِ عدل:
**********************
> إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ (النحل: 90)
قانونی حیثیت (پاکستانی قانون)
خلع Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 سیکشن2(ix):
> اگر بیوی شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے سے قاصر ہو اور عدالت مطمئن ہو جائے تو عدالت نکاح تحلیل کر سکتی ہے۔
فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 سیکشن 10(4):
اگر فریق نوٹس کے باوجود پیش نہ ہو:
**********************
عدالت یکطرفہ کارروائی (Ex-parte) کر سکتی ہے
سپریم کورٹ کا فیصلہ (Leading Case)
PLD 1959 SC 566 (Balqis Fatima case)
> سپریم کورٹ نے قرار دیا: عورت کی ناپسندیدگی بذاتِ خود خلع کے لیے کافی ہے، چاہے شوہر راضی نہ ہو۔
شوہر کو نوٹس ملا ✔ حقِ سماعت دیا گیا
شوہر حاضر نہ ہوا ✔ حق خود چھوڑ دیا
عدالت نے خلع دی ✔ شرعاً جائز
یکطرفہ خلع ✔ قانونی و شرعی دونوں
> نوٹس کے باوجود شوہر کی غیر حاضری میں عدالت کا خلع کی ڈگری دینا نہ خوف ساختہ ہے، نہ غیر شرعی؛ بلکہ قرآن، سنت اور پاکستانی قانون کے عین مطابق ہے۔