30/05/2026
*منشیات کے مقدمات کے ٹرائل پر مکمل فیصلہ ۔۔۔۔*
*Must read ....*
*"محفوظ تحویل (Safe Custody) اور Chain of Custody ثابت نہ ہونے پر منشیات مقدمہ ناکام — سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ"*
2025 SCMR 923
تفصیلی فیصلہ ۔۔۔
استغاثہ (پراسیکیوشن) کی جانب سے ایسا کوئی دستاویزی ثبوت ریکارڈ پر پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ برآمد شدہ مالِ مقدمہ (Case Property) محفوظ تحویل میں رکھا گیا اور بعد ازاں محفوظ طریقے سے متعلقہ لیبارٹری تک پہنچایا گیا۔
نہ تو رجسٹر نمبر XIX کی اندراجی نقل بطور ثبوت پیش کی گئی اور نہ ہی روڈ سرٹیفکیٹ، جیسا کہ پولیس رولز 1934 کے قواعد 22.70، فارم 22.70 اور قاعدہ 22.72، فارم 10.17 میں لازم قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ مقدمے کا یہی ایک پہلو استغاثہ کے پورے مقدمے میں سنگین شگاف پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔
پولیس رولز کے مطابق مالِ مقدمہ کو لازماً مال خانہ میں رکھا جانا چاہیے اور اس کی وصولی و تحویل کی اندراج رجسٹر نمبر XIX میں کی جانی چاہیے۔ پولیس اور استغاثہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثابت کریں کہ مالِ مقدمہ محفوظ تحویل میں رکھا گیا تھا اور اگر اسے تجزیہ (Analysis) کے لیے کسی لیبارٹری بھیجا گیا تو اس کی محفوظ ترسیل بھی ثابت کریں اور یہ بھی دکھائیں کہ اس سلسلے میں تمام ضروری اندراجات، بشمول روڈ سرٹیفکیٹ، متعلقہ رجسٹروں میں درج کیے گئے تھے۔
پولیس رولز میں مالِ مقدمہ کی محفوظ تحویل اور محفوظ ترسیل کا مکمل طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے تاکہ جب مالِ مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے تو یہ اطمینان ہو کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی۔ متعلقہ لیبارٹری اور بعد ازاں ٹرائل کورٹ تک مالِ مقدمہ کی حفاظت کے لیے ایک مکمل قانونی نظام موجود ہے۔
آرٹیکل 129(g) قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے تحت یہ قرینہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ استغاثہ نے رجسٹر نمبر XIX اس لیے پیش نہیں کیا کیونکہ مال خانہ کے انچارج نے پارسلوں کی وصولی اس رجسٹر میں درج ہی نہیں کی تھی۔
مزید برآں آرٹیکل 102 قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے مطابق جب کوئی معاملہ قانوناً کسی دستاویز کی صورت میں درج کیا جانا ضروری ہو تو اس امر کو ثابت کرنے کے لیے دستاویز خود پیش کرنا لازم ہے، سوائے ان صورتوں کے جہاں آرٹیکل 76 کے تحت ثانوی شہادت قابلِ قبول ہو۔ لہٰذا PW-3 کی زبانی گواہی، جس کے ذریعے پارسلوں کی محفوظ تحویل ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، آرٹیکل 102 کی رو سے قابلِ قبول نہیں تھی۔ نتیجتاً استغاثہ مالِ مقدمہ کی محفوظ تحویل کو شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
یہ مقدمہ پیشگی اطلاع (Prior Information) کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، اور وہ بھی عدالتی اوقات کار کے دوران، مگر ضبطی کرنے والے افسر نے انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کی دفعہ 20 کے مطابق تلاشی وارنٹ حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی، نہ ہی اس قانونی تقاضے پر عمل نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ بیان کی۔ اسی طرح موصول شدہ پیشگی اطلاع کو پولیس رولز کے قاعدہ 22.49 کے مطابق رجسٹر نمبر II میں بھی درج نہیں کیا گیا۔
عدالت کے اہم مشاہدات
اس فیصلے کو اختتام تک پہنچانے سے قبل ہم نے افسوس کے ساتھ متعدد مقدمات میں یہ مشاہدہ کیا ہے کہ اگرچہ مقننہ نے انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 منشیات کے استعمال کی لعنت کو ختم کرنے، منشیات کی غیر قانونی ملکیت کو روکنے اور متاثرین کی بحالی کے لیے نافذ کیا تھا، مگر انسدادِ منشیات فورس (ANF) اور دیگر پولیس ادارے اس قانون کی دفعات پر عمل درآمد میں ناکام رہے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے عموماً صرف چھوٹے درجے کے منشیات فروشوں کو گرفتار کرتے ہیں۔ اگر قانون کے مطابق مکمل تحقیقات کی جائیں تو منشیات کی پوری زنجیر، یعنی:
کاشت کار (Cultivator)
تیار کنندہ (Manufacturer)
سپلائر/فروخت کنندہ (Peddler/Seller)
اور منشیات استعمال کرنے والے افراد
سب کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے، جو معاشرے کے لیے ایک مؤثر روک تھام کا ذریعہ بنے گا۔
بدقسمتی سے موجودہ طرزِ تفتیش اصل مجرموں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔ بڑے منشیات فروشوں اور ان غیر قانونی کاروبار سے فائدہ اٹھانے والوں کی نہ تو مؤثر تحقیقات کی جاتی ہیں اور نہ ہی ان کے اثاثوں کی چھان بین کی جاتی ہے۔ نتیجتاً منشیات کے کاروبار کے اصل ذمہ دار عناصر قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔
یہ ہرگز مقننہ کا مقصد نہیں تھا جب اس نے 1997 کا قانون نافذ کیا۔ خصوصاً ANF اس قانون، اس کے تحت بنائے گئے قواعد اور اپنے ہی منظور شدہ SOPs پر مکمل عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے، حالانکہ ان SOPs میں منشیات کے مقدمات کی تفتیش کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اکثر مقدمات میں منشیات کے ذرائع، مالی فوائد حاصل کرنے والوں اور مکمل مجرمانہ نیٹ ورک کی نشاندہی سے متعلق قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے۔ ایسی نامکمل تفتیش کے نتیجے میں معاشرہ ہمیشہ منشیات کی لعنت کا شکار رہے گا۔
اگر ریاست صرف ان افراد کو سزا دینے پر اکتفا کرے جو ممنوعہ درخت کا پھل رکھتے ہیں لیکن اس درخت کو جڑ سے کاٹنے اور اس کے اصل فائدہ اٹھانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے سے گریز کرے تو نتیجہ انتہائی غیر منطقی اور بے معنی ہوگا۔
اسی طرح منشیات کے اصل ذرائع اور مرکزی کرداروں کی تفتیش نہ کرنا انہیں قانون شکنی کا عملی لائسنس دینے کے مترادف ہے، جو معاشرے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔
منشیات کے مقدمات میں مطلوبہ تفتیش
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جب کسی شخص کے خلاف منشیات برآمد ہونے کا مقدمہ درج ہو اور اسے موقع پر گرفتار کر لیا جائے تو تفتیش کا رخ درج ذیل امور کی جانب ہونا چاہیے:
برآمد شدہ منشیات ملزم نے کس شخص سے حاصل یا خرید کی؟
یہ منشیات کس شخص یا گروہ تک پہنچائی جانی تھیں؟
ان منشیات کا مقصد اور آخری استعمال کیا تھا؟
منشیات استعمال کرنے والے افراد کی نشاندہی اور ان کی بحالی کے اقدامات۔
اس کاروبار سے مالی فائدہ حاصل کرنے والے افراد کون ہیں اور ان رقوم یا اثاثوں کا استعمال کس مقصد کے لیے ہو رہا ہے؟
منشیات کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی، کاشت کار سے لے کر آخری صارف تک۔
اس غیر قانونی کاروبار سے حاصل کیے گئے اثاثوں اور جائیدادوں کا سراغ لگانا۔
عدالت کا حتمی اصول
انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قانونی نظام فراہم کرتا ہے۔ یہ تفتیشی اداروں پر لازم ہے کہ وہ اس قانون کی روح اور مقاصد کے مطابق مکمل، مؤثر اور جامع تحقیقات کریں۔ منشیات کے مقدمات میں محض برآمدگی ثابت کرنا کافی نہیں بلکہ پورے مجرمانہ نیٹ ورک، مالی فوائد اور ذرائع رسد کا سراغ لگانا بھی قانوناً ناگزیر ہے۔
اہم قانونی نکتہ:
اس فیصلے کے مطابق رجسٹر نمبر XIX، روڈ سرٹیفکیٹ، محفوظ تحویل (Safe Custody)، محفوظ ترسیل (Safe Transmission)، رجسٹر نمبر II میں پیشگی اطلاع کا اندراج، اور دفعہ 20 CNSA کے تحت سرچ وارنٹ جیسے تقاضوں کی عدم تکمیل استغاثہ کے مقدمے کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور ملزم کو فائدۂ شک مل سکتا ہے۔
قانونی و تجزیاتی جائزہ
یہ فیصلہ محض ایک بریت (Acquittal) کا فیصلہ نہیں بلکہ انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 (Control of Narcotic Substances Act, 1997) کے تحت تفتیش، تحویلِ مالِ مقدمہ، فرانزک تجزیہ اور قانونی تقاضوں کے بارے میں ایک اہم نظیر (Precedent) ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ منشیات کی برآمدگی کے مقدمات میں صرف برآمدگی کا دعویٰ کافی نہیں بلکہ استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ پورے قانونی طریقہ کار کی سختی سے پابندی ثابت کرے۔
1۔ مالِ مقدمہ کی محفوظ تحویل (Safe Custody)
عدالت نے قرار دیا کہ:
"The Police Rules mandate that case property be kept in the Malkhana and that the entry of the same be recorded in Register No. XIX."
یعنی پولیس رولز کے مطابق مالِ مقدمہ مال خانہ میں جمع کرانا اور اس کی اندراج رجسٹر نمبر XIX میں کرنا لازمی ہے۔
متعلقہ قوانین
پولیس رولز 1934
Rule 22.70 مالِ مقدمہ کی وصولی، حفاظت اور اندراج کا طریقہ کار بیان کرتا ہے۔
Rule 22.72 مالِ مقدمہ کی ترسیل اور اس کے ریکارڈ کی نگہداشت سے متعلق ہے۔
Register No. XIX مال خانہ رجسٹر ہے جس میں ہر وصول شدہ مالِ مقدمہ کا اندراج ضروری ہے۔
2۔ روڈ سرٹیفکیٹ (Road Certificate) کی قانونی حیثیت
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ:
"Neither entry of Register No. XIX was tendered in evidence nor Road Certificate."
روڈ سرٹیفکیٹ اس امر کا ثبوت ہوتا ہے کہ مالِ مقدمہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک محفوظ طریقہ سے منتقل کیا گیا۔
اگر روڈ سرٹیفکیٹ پیش نہ کیا جائے تو عدالت کے سامنے Chain of Custody ٹوٹ جاتی ہے۔
3۔ Chain of Custody کا اصول
یہ اصول تقاضا کرتا ہے کہ:
برآمدگی سے لے کر
مال خانہ میں جمع ہونے تک
لیبارٹری بھیجے جانے تک
لیبارٹری سے واپسی تک
عدالت میں پیشی تک
ہر مرحلہ دستاویزی طور پر ثابت ہو۔
اگر کسی مرحلہ پر خلا پیدا ہو جائے تو:
"Possibility of tampering cannot be ruled out."
یعنی مالِ مقدمہ میں ردوبدل کا امکان خارج نہیں کیا جا سکتا۔
4۔ آرٹیکل 102 قانونِ شہادت آرڈر 1984
عدالت نے فرمایا:
"No evidence shall be given in proof of such matter except the document itself."
Article 102, Qanun-e-Shahadat Order, 1984
جہاں قانون کسی امر کو تحریری شکل میں لانے کا تقاضا کرتا ہو وہاں اس امر کو ثابت کرنے کے لئے اصل دستاویز پیش کرنا ضروری ہے۔
لہٰذا:
رجسٹر XIX
روڈ سرٹیفکیٹ
مال خانہ ریکارڈ
کی عدم موجودگی میں صرف زبانی بیان ناقابلِ قبول ہوگا۔
5۔ آرٹیکل 129(g) قانونِ شہادت
عدالت نے منفی قرینہ (Adverse Presumption) لگایا۔
Article 129(g)
عدالت یہ مفروضہ قائم کر سکتی ہے کہ:
"Evidence withheld would have gone against the party withholding it."
یعنی اگر رجسٹر XIX پیش نہیں کیا گیا تو فرض کیا جا سکتا ہے کہ اس میں استغاثہ کے حق میں اندراج موجود نہیں تھا۔
6۔ دفعہ 20 CNSA 1997 کی خلاف ورزی
عدالت نے نشاندہی کی:
"It is a case of prior information."
یعنی پولیس کے پاس پہلے سے اطلاع موجود تھی۔
Section 20 CNSA, 1997
جہاں ممکن ہو تلاشی سے پہلے مجاز عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کیا جانا چاہیے۔
اس مقدمہ میں:
عدالت کھلی ہوئی تھی۔
پیشگی اطلاع موجود تھی۔
سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا گیا۔
لہٰذا عدالت نے اسے سنگین قانونی خامی قرار دیا۔
7۔ رجسٹر نمبر II میں اطلاع درج نہ کرنا
Rule 22.49 Police Rules
ہر خفیہ اطلاع اور اہم معلومات کو روزنامچہ (Register No. II) میں درج کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ:
Prior information was never recorded in Register No. II.
یہ امر استغاثہ کے مؤقف کو مزید کمزور کرتا ہے۔
8۔ CNSA 1997 کی روح (Spirit of the Act)
عدالت نے غیر معمولی اہم مشاہدات کیے۔
متعلقہ دفعات
Section 21 CNSA
تحقیقات اور گرفتاری۔
Section 22 CNSA
تلاشی اور ضبطی۔
Section 40 CNSA
اثاثوں کی ضبطگی اور مالی فوائد کی تحقیقات۔
Section 45 CNSA
جرائم کی تفتیش اور قانونی کارروائی۔
عدالت نے واضح کیا:
قانون کا مقصد صرف منشیات برآمد کرنا نہیں بلکہ پورے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے۔
9۔ سپریم کورٹ کی تفتیشی ہدایات
عدالت نے پہلی مرتبہ تفصیل سے بتایا کہ تفتیش کن نکات پر ہونی چاہیے:
(i)
منشیات کہاں سے حاصل ہوئی؟
(ii)
کس کو پہنچائی جانی تھی؟
(iii)
مقصد کیا تھا؟
(iv)
منشیات استعمال کرنے والے کون ہیں؟
(v)
مالی فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟
(vi)
پوری سپلائی چین کون سی ہے؟
(vii)
حاصل شدہ اثاثے کہاں ہیں؟
10۔ Benefit of Doubt کا اصول
سپریم کورٹ کے مستقل اصول کے مطابق:
"A single circumstance creating reasonable doubt is sufficient to extend benefit of doubt."
مستند نظیر:
Tariq Pervez v. The State
1995 SCMR 1345
جس میں قرار دیا گیا:
"It is not necessary that there should be many circumstances creating doubt. A single circumstance is enough."
دفاع کے لیے اس فیصلے سے حاصل ہونے والے اہم نکات
اگر منشیات مقدمہ میں:
رجسٹر XIX پیش نہ ہو
روڈ سرٹیفکیٹ پیش نہ ہو
مال خانہ محرر گواہ نہ بنے
Chain of کسٹودے
ثابت نہ ہو
سرچ وارنٹ حاصل نہ کیا گیا ہو
پیشگی اطلاع روزنامچہ میں درج نہ ہو
فرانزک نمونہ کی محفوظ ترسیل ثابت نہ ہو
تو 2025 SCMR 923 کی روشنی میں استغاثہ کا مقدمہ شدید قانونی نقص کا شکار ہوگا اور ملزم فائدۂ شک کا مستحق قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس فیصلے کا اصولی Ratio Decidendi
"منشیات مقدمات میں صرف برآمدگی کافی نہیں؛ استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ رجسٹر XIX، روڈ سرٹیفکیٹ، محفوظ تحویل، محفوظ ترسیل، روزنامچہ اندراج، سرچ وارنٹ اور مکمل Chain of Custody کو دستاویزی شہادت کے ذریعے شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرے، بصورت دیگر استغاثہ کا مقدمہ ناکام ہو جائے گا۔"
Muhammad Akram Khan Baloch Advocate 03003344226