Khan Law Firm

Khan Law Firm Legal Firm Deals all kind of
Criminal, Family, Civil, Property matter, Tax matter, Banking Court,

30/05/2026

*منشیات کے مقدمات کے ٹرائل پر مکمل فیصلہ ۔۔۔۔*
*Must read ....*
*"محفوظ تحویل (Safe Custody) اور Chain of Custody ثابت نہ ہونے پر منشیات مقدمہ ناکام — سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ"*

2025 SCMR 923
تفصیلی فیصلہ ۔۔۔
استغاثہ (پراسیکیوشن) کی جانب سے ایسا کوئی دستاویزی ثبوت ریکارڈ پر پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ برآمد شدہ مالِ مقدمہ (Case Property) محفوظ تحویل میں رکھا گیا اور بعد ازاں محفوظ طریقے سے متعلقہ لیبارٹری تک پہنچایا گیا۔
نہ تو رجسٹر نمبر XIX کی اندراجی نقل بطور ثبوت پیش کی گئی اور نہ ہی روڈ سرٹیفکیٹ، جیسا کہ پولیس رولز 1934 کے قواعد 22.70، فارم 22.70 اور قاعدہ 22.72، فارم 10.17 میں لازم قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ مقدمے کا یہی ایک پہلو استغاثہ کے پورے مقدمے میں سنگین شگاف پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔
پولیس رولز کے مطابق مالِ مقدمہ کو لازماً مال خانہ میں رکھا جانا چاہیے اور اس کی وصولی و تحویل کی اندراج رجسٹر نمبر XIX میں کی جانی چاہیے۔ پولیس اور استغاثہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثابت کریں کہ مالِ مقدمہ محفوظ تحویل میں رکھا گیا تھا اور اگر اسے تجزیہ (Analysis) کے لیے کسی لیبارٹری بھیجا گیا تو اس کی محفوظ ترسیل بھی ثابت کریں اور یہ بھی دکھائیں کہ اس سلسلے میں تمام ضروری اندراجات، بشمول روڈ سرٹیفکیٹ، متعلقہ رجسٹروں میں درج کیے گئے تھے۔
پولیس رولز میں مالِ مقدمہ کی محفوظ تحویل اور محفوظ ترسیل کا مکمل طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے تاکہ جب مالِ مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے تو یہ اطمینان ہو کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی۔ متعلقہ لیبارٹری اور بعد ازاں ٹرائل کورٹ تک مالِ مقدمہ کی حفاظت کے لیے ایک مکمل قانونی نظام موجود ہے۔
آرٹیکل 129(g) قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے تحت یہ قرینہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ استغاثہ نے رجسٹر نمبر XIX اس لیے پیش نہیں کیا کیونکہ مال خانہ کے انچارج نے پارسلوں کی وصولی اس رجسٹر میں درج ہی نہیں کی تھی۔
مزید برآں آرٹیکل 102 قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے مطابق جب کوئی معاملہ قانوناً کسی دستاویز کی صورت میں درج کیا جانا ضروری ہو تو اس امر کو ثابت کرنے کے لیے دستاویز خود پیش کرنا لازم ہے، سوائے ان صورتوں کے جہاں آرٹیکل 76 کے تحت ثانوی شہادت قابلِ قبول ہو۔ لہٰذا PW-3 کی زبانی گواہی، جس کے ذریعے پارسلوں کی محفوظ تحویل ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، آرٹیکل 102 کی رو سے قابلِ قبول نہیں تھی۔ نتیجتاً استغاثہ مالِ مقدمہ کی محفوظ تحویل کو شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
یہ مقدمہ پیشگی اطلاع (Prior Information) کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، اور وہ بھی عدالتی اوقات کار کے دوران، مگر ضبطی کرنے والے افسر نے انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کی دفعہ 20 کے مطابق تلاشی وارنٹ حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی، نہ ہی اس قانونی تقاضے پر عمل نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ بیان کی۔ اسی طرح موصول شدہ پیشگی اطلاع کو پولیس رولز کے قاعدہ 22.49 کے مطابق رجسٹر نمبر II میں بھی درج نہیں کیا گیا۔
عدالت کے اہم مشاہدات
اس فیصلے کو اختتام تک پہنچانے سے قبل ہم نے افسوس کے ساتھ متعدد مقدمات میں یہ مشاہدہ کیا ہے کہ اگرچہ مقننہ نے انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 منشیات کے استعمال کی لعنت کو ختم کرنے، منشیات کی غیر قانونی ملکیت کو روکنے اور متاثرین کی بحالی کے لیے نافذ کیا تھا، مگر انسدادِ منشیات فورس (ANF) اور دیگر پولیس ادارے اس قانون کی دفعات پر عمل درآمد میں ناکام رہے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے عموماً صرف چھوٹے درجے کے منشیات فروشوں کو گرفتار کرتے ہیں۔ اگر قانون کے مطابق مکمل تحقیقات کی جائیں تو منشیات کی پوری زنجیر، یعنی:
کاشت کار (Cultivator)
تیار کنندہ (Manufacturer)
سپلائر/فروخت کنندہ (Peddler/Seller)
اور منشیات استعمال کرنے والے افراد
سب کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے، جو معاشرے کے لیے ایک مؤثر روک تھام کا ذریعہ بنے گا۔
بدقسمتی سے موجودہ طرزِ تفتیش اصل مجرموں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔ بڑے منشیات فروشوں اور ان غیر قانونی کاروبار سے فائدہ اٹھانے والوں کی نہ تو مؤثر تحقیقات کی جاتی ہیں اور نہ ہی ان کے اثاثوں کی چھان بین کی جاتی ہے۔ نتیجتاً منشیات کے کاروبار کے اصل ذمہ دار عناصر قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔
یہ ہرگز مقننہ کا مقصد نہیں تھا جب اس نے 1997 کا قانون نافذ کیا۔ خصوصاً ANF اس قانون، اس کے تحت بنائے گئے قواعد اور اپنے ہی منظور شدہ SOPs پر مکمل عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے، حالانکہ ان SOPs میں منشیات کے مقدمات کی تفتیش کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اکثر مقدمات میں منشیات کے ذرائع، مالی فوائد حاصل کرنے والوں اور مکمل مجرمانہ نیٹ ورک کی نشاندہی سے متعلق قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے۔ ایسی نامکمل تفتیش کے نتیجے میں معاشرہ ہمیشہ منشیات کی لعنت کا شکار رہے گا۔
اگر ریاست صرف ان افراد کو سزا دینے پر اکتفا کرے جو ممنوعہ درخت کا پھل رکھتے ہیں لیکن اس درخت کو جڑ سے کاٹنے اور اس کے اصل فائدہ اٹھانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے سے گریز کرے تو نتیجہ انتہائی غیر منطقی اور بے معنی ہوگا۔
اسی طرح منشیات کے اصل ذرائع اور مرکزی کرداروں کی تفتیش نہ کرنا انہیں قانون شکنی کا عملی لائسنس دینے کے مترادف ہے، جو معاشرے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔
منشیات کے مقدمات میں مطلوبہ تفتیش
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جب کسی شخص کے خلاف منشیات برآمد ہونے کا مقدمہ درج ہو اور اسے موقع پر گرفتار کر لیا جائے تو تفتیش کا رخ درج ذیل امور کی جانب ہونا چاہیے:
برآمد شدہ منشیات ملزم نے کس شخص سے حاصل یا خرید کی؟
یہ منشیات کس شخص یا گروہ تک پہنچائی جانی تھیں؟
ان منشیات کا مقصد اور آخری استعمال کیا تھا؟
منشیات استعمال کرنے والے افراد کی نشاندہی اور ان کی بحالی کے اقدامات۔
اس کاروبار سے مالی فائدہ حاصل کرنے والے افراد کون ہیں اور ان رقوم یا اثاثوں کا استعمال کس مقصد کے لیے ہو رہا ہے؟
منشیات کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی، کاشت کار سے لے کر آخری صارف تک۔
اس غیر قانونی کاروبار سے حاصل کیے گئے اثاثوں اور جائیدادوں کا سراغ لگانا۔
عدالت کا حتمی اصول
انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قانونی نظام فراہم کرتا ہے۔ یہ تفتیشی اداروں پر لازم ہے کہ وہ اس قانون کی روح اور مقاصد کے مطابق مکمل، مؤثر اور جامع تحقیقات کریں۔ منشیات کے مقدمات میں محض برآمدگی ثابت کرنا کافی نہیں بلکہ پورے مجرمانہ نیٹ ورک، مالی فوائد اور ذرائع رسد کا سراغ لگانا بھی قانوناً ناگزیر ہے۔
اہم قانونی نکتہ:
اس فیصلے کے مطابق رجسٹر نمبر XIX، روڈ سرٹیفکیٹ، محفوظ تحویل (Safe Custody)، محفوظ ترسیل (Safe Transmission)، رجسٹر نمبر II میں پیشگی اطلاع کا اندراج، اور دفعہ 20 CNSA کے تحت سرچ وارنٹ جیسے تقاضوں کی عدم تکمیل استغاثہ کے مقدمے کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور ملزم کو فائدۂ شک مل سکتا ہے۔
قانونی و تجزیاتی جائزہ
یہ فیصلہ محض ایک بریت (Acquittal) کا فیصلہ نہیں بلکہ انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 (Control of Narcotic Substances Act, 1997) کے تحت تفتیش، تحویلِ مالِ مقدمہ، فرانزک تجزیہ اور قانونی تقاضوں کے بارے میں ایک اہم نظیر (Precedent) ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ منشیات کی برآمدگی کے مقدمات میں صرف برآمدگی کا دعویٰ کافی نہیں بلکہ استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ پورے قانونی طریقہ کار کی سختی سے پابندی ثابت کرے۔

1۔ مالِ مقدمہ کی محفوظ تحویل (Safe Custody)
عدالت نے قرار دیا کہ:
"The Police Rules mandate that case property be kept in the Malkhana and that the entry of the same be recorded in Register No. XIX."
یعنی پولیس رولز کے مطابق مالِ مقدمہ مال خانہ میں جمع کرانا اور اس کی اندراج رجسٹر نمبر XIX میں کرنا لازمی ہے۔
متعلقہ قوانین
پولیس رولز 1934
Rule 22.70 مالِ مقدمہ کی وصولی، حفاظت اور اندراج کا طریقہ کار بیان کرتا ہے۔
Rule 22.72 مالِ مقدمہ کی ترسیل اور اس کے ریکارڈ کی نگہداشت سے متعلق ہے۔
Register No. XIX مال خانہ رجسٹر ہے جس میں ہر وصول شدہ مالِ مقدمہ کا اندراج ضروری ہے۔
2۔ روڈ سرٹیفکیٹ (Road Certificate) کی قانونی حیثیت
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ:
"Neither entry of Register No. XIX was tendered in evidence nor Road Certificate."
روڈ سرٹیفکیٹ اس امر کا ثبوت ہوتا ہے کہ مالِ مقدمہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک محفوظ طریقہ سے منتقل کیا گیا۔
اگر روڈ سرٹیفکیٹ پیش نہ کیا جائے تو عدالت کے سامنے Chain of Custody ٹوٹ جاتی ہے۔
3۔ Chain of Custody کا اصول
یہ اصول تقاضا کرتا ہے کہ:
برآمدگی سے لے کر
مال خانہ میں جمع ہونے تک
لیبارٹری بھیجے جانے تک
لیبارٹری سے واپسی تک
عدالت میں پیشی تک
ہر مرحلہ دستاویزی طور پر ثابت ہو۔
اگر کسی مرحلہ پر خلا پیدا ہو جائے تو:
"Possibility of tampering cannot be ruled out."
یعنی مالِ مقدمہ میں ردوبدل کا امکان خارج نہیں کیا جا سکتا۔
4۔ آرٹیکل 102 قانونِ شہادت آرڈر 1984
عدالت نے فرمایا:
"No evidence shall be given in proof of such matter except the document itself."
Article 102, Qanun-e-Shahadat Order, 1984
جہاں قانون کسی امر کو تحریری شکل میں لانے کا تقاضا کرتا ہو وہاں اس امر کو ثابت کرنے کے لئے اصل دستاویز پیش کرنا ضروری ہے۔
لہٰذا:
رجسٹر XIX
روڈ سرٹیفکیٹ
مال خانہ ریکارڈ
کی عدم موجودگی میں صرف زبانی بیان ناقابلِ قبول ہوگا۔
5۔ آرٹیکل 129(g) قانونِ شہادت
عدالت نے منفی قرینہ (Adverse Presumption) لگایا۔
Article 129(g)
عدالت یہ مفروضہ قائم کر سکتی ہے کہ:
"Evidence withheld would have gone against the party withholding it."
یعنی اگر رجسٹر XIX پیش نہیں کیا گیا تو فرض کیا جا سکتا ہے کہ اس میں استغاثہ کے حق میں اندراج موجود نہیں تھا۔
6۔ دفعہ 20 CNSA 1997 کی خلاف ورزی
عدالت نے نشاندہی کی:
"It is a case of prior information."
یعنی پولیس کے پاس پہلے سے اطلاع موجود تھی۔
Section 20 CNSA, 1997
جہاں ممکن ہو تلاشی سے پہلے مجاز عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کیا جانا چاہیے۔
اس مقدمہ میں:
عدالت کھلی ہوئی تھی۔
پیشگی اطلاع موجود تھی۔
سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا گیا۔
لہٰذا عدالت نے اسے سنگین قانونی خامی قرار دیا۔
7۔ رجسٹر نمبر II میں اطلاع درج نہ کرنا
Rule 22.49 Police Rules
ہر خفیہ اطلاع اور اہم معلومات کو روزنامچہ (Register No. II) میں درج کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ:
Prior information was never recorded in Register No. II.
یہ امر استغاثہ کے مؤقف کو مزید کمزور کرتا ہے۔
8۔ CNSA 1997 کی روح (Spirit of the Act)
عدالت نے غیر معمولی اہم مشاہدات کیے۔
متعلقہ دفعات
Section 21 CNSA
تحقیقات اور گرفتاری۔
Section 22 CNSA
تلاشی اور ضبطی۔
Section 40 CNSA
اثاثوں کی ضبطگی اور مالی فوائد کی تحقیقات۔
Section 45 CNSA
جرائم کی تفتیش اور قانونی کارروائی۔
عدالت نے واضح کیا:
قانون کا مقصد صرف منشیات برآمد کرنا نہیں بلکہ پورے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے۔
9۔ سپریم کورٹ کی تفتیشی ہدایات
عدالت نے پہلی مرتبہ تفصیل سے بتایا کہ تفتیش کن نکات پر ہونی چاہیے:
(i)
منشیات کہاں سے حاصل ہوئی؟
(ii)
کس کو پہنچائی جانی تھی؟
(iii)
مقصد کیا تھا؟
(iv)
منشیات استعمال کرنے والے کون ہیں؟
(v)
مالی فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟
(vi)
پوری سپلائی چین کون سی ہے؟
(vii)
حاصل شدہ اثاثے کہاں ہیں؟
10۔ Benefit of Doubt کا اصول
سپریم کورٹ کے مستقل اصول کے مطابق:
"A single circumstance creating reasonable doubt is sufficient to extend benefit of doubt."
مستند نظیر:
Tariq Pervez v. The State
1995 SCMR 1345
جس میں قرار دیا گیا:
"It is not necessary that there should be many circumstances creating doubt. A single circumstance is enough."
دفاع کے لیے اس فیصلے سے حاصل ہونے والے اہم نکات
اگر منشیات مقدمہ میں:
رجسٹر XIX پیش نہ ہو
روڈ سرٹیفکیٹ پیش نہ ہو
مال خانہ محرر گواہ نہ بنے
Chain of کسٹودے
ثابت نہ ہو
سرچ وارنٹ حاصل نہ کیا گیا ہو
پیشگی اطلاع روزنامچہ میں درج نہ ہو
فرانزک نمونہ کی محفوظ ترسیل ثابت نہ ہو
تو 2025 SCMR 923 کی روشنی میں استغاثہ کا مقدمہ شدید قانونی نقص کا شکار ہوگا اور ملزم فائدۂ شک کا مستحق قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس فیصلے کا اصولی Ratio Decidendi
"منشیات مقدمات میں صرف برآمدگی کافی نہیں؛ استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ رجسٹر XIX، روڈ سرٹیفکیٹ، محفوظ تحویل، محفوظ ترسیل، روزنامچہ اندراج، سرچ وارنٹ اور مکمل Chain of Custody کو دستاویزی شہادت کے ذریعے شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرے، بصورت دیگر استغاثہ کا مقدمہ ناکام ہو جائے گا۔"
Muhammad Akram Khan Baloch Advocate 03003344226

21/05/2026

2026SCMR 947
VVVVVI. MUST READ JUDGEMENT.
سپریم کورٹ کا تازہ ترین فیصلہ جس میں مندرجہ ذیل موضوعات کا بھرپور احاطہ کیا گیا ہے
(1) Doctrine of mens rea (guilty mind)

(2) Double presumption of innocence is structured on the philosophy “innocent until proven guilty”

(3) Why the accused is the favourite child of law

(4) Guilt should be proved without any reasonable doubt.

Crl.P.L.A.213/2020
Shaista Qaiser v. Altaf Ahmad Khan & another

14/05/2026

*Benefit of doubt ---Principle---If there is a single circumstance, which creates doubt in the prosecution case then the same will be sufficient to acquit the accused.*

2026 SCMR 798
2026 SCMR 783
2026 SCMR 686
2026 SCMR 674
2025 SCMR 1876
2026 SCMR 257
2026 SCMR 47
2025 SCMR 2052
2025 SCMR 1876
2025 SCMR 1730
2025 SCMR 1633
2025 SCMR 1616
2025 SCMR 1599
2025 SCMR 1580
2025 SCMR 1558
2025 SCMR 1388
2025 SCMR 1344
2025 SCMR 880
2025 SCMR 810
2024 SCMR 1839
2024 SCMR 1731
2024 SCMR 1507
2024 SCMR 1490
2024 SCMR 1427
2024 SCMR 1191
2024 SCMR 1146
2024 SCMR 1116
PLD 2024 SC 1119
2024 SCMR 156
2024 SCMR 51
2023 SCMR 1791
2023 SCMR 1698
2023 SCMR 870
2023 SCMR 781
2023 SCMR 670
2023 SCMR 566
2023 SCMR 241
2022 SCMR 1567
2022 SCMR 1540
2022 SCMR 1527
2022 SCMR 1515
2022 SCMR 1328
2022 SCMR 1148
2022 SCMR 986
2021 SCMR 873
2021 SCMR 736
2021 SCMR 736
PLD 2021 SC 600

13/05/2026

Contraband narcotics allegedly recovered from the petitioner were seized on 19.11.2022; however, the samples were dispatched for chemical analysis to the PFSA on 23.11.2022, after a delay of 4 days for which no explanation, much less plausible, has been furnished by the prosecution. In cases involving recovery of narcotic contraband, the chemical analysis report constitutes the cornerstone of the prosecution’s evidence. Such an inordinate delay in forwarding the seized items to PFSA inevitably casts a shadow of doubt on the integrity and authenticity of the samples. In such view of the matter the possibility of tampering, substitution, or contamination of the seized narcotics cannot be excluded.
Crl.P.L.A.379/2025
Mst. Sabran Bibi v. The State thr. Prosecutor General Punjab
PLJ 2026 SC CrC 125

02/05/2026

*بوقت ریمانڈ، مجسٹریٹ، تفتیشی کو صفحہ مثل پر موجود مواد کے مطابق، کوئی جرم لگانے یا حذف کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔* . *(2021 PCrLJ 293).*

*کوئی شخص قانون سے بالاتر نہ ہے جرم کرنے کی صورت ميں کسی قاضی، مجسٹریٹ جج یا جوڈیشل آفیسر کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔* *(PLD 2020 QUE 26).*

*مدعی، مجسٹریٹ کی، پولیس کی استدعا ریمانڈ جسمانی، مسترد کر کے، ملزم کو حوالات جوڈیشل بھجوانے کے آرڈر کو، چیلنچ نہ کر سکتا ہے۔ یہ اختیار تفتیشی کا ہے۔* . *(2017 PCrLJ 691).*

*اگر دوران تفتیش، ریمانڈ جسمانی کوئی پراگرس نہ ہو، تو چوری کیس میں 7/8 یوم سے زائد ریمانڈ جسمانی نہ ہو گا۔* . *(2005 PCrLJ 1709).*

*اگر پولیس 6/7 روز کے ریمانڈ جسمانی میں کوئی پراگرس نہ کر سکے تو ملزم کا مزید ریمانڈ جسمانی دینا قرین انصاف نہ ہے.* . . *(2005 YLR 854).*.

30/04/2026

VVVVVVI. MUST READ JUDGEMENT.
منشیات برآمدگی کیس میں کال ڈیٹا ریکارڈ کے مطابق مدعی اور گواہان برآمدگی کی موجودگی مبینہ جائے برآمدگی پر ثابت نہ ہوئی۔
ملزم بری
There is another aspect which also makes the case of the prosecution doubtful. The petitioner has brought on record the Call Data Records (CDRs) of the seizing officer Ghulam Abbas, SI, and Lady Constable Aqsa Saddique (PW-1), which were not effectively rebutted by the prosecution. The CDRs reveal that at the time of occurrence, the mobile device attributed to PW-1 was located in Chak No. 1, Tehsil Burewala, District Vehari, far away from the place of occurrence. Similarly, the mobile data pertaining to SI Ghulam Abbas indicates his mobile cell number was connected to a cell tower situated in the area of Yosefwala other than the place of occurrence. The mere denial by the said prosecution witnesses that their mobile phones were not in their possession at the material time, unsupported by any corroborative evidence such as the production of a second SIM, mobile swap record, or any (naeem)logical explanation, does not suffice to rebut the documentary evidence produced by the petitioner. It is trite law that where circumstances create reasonable doubt in a prudent mind regarding the truth of the prosecution's case, the accused is entitled to the benefit of such doubt as a matter of right, not of concession.
Crl.P.L.A.379/2025
Mst. Sabran Bibi v. The State thr. Prosecutor General Punjab
PLJ 2026 SC CrC 125

25/04/2026

Facing illegal occupation of your property?
Now you can file your case from the comfort of your home!
📌 Just send us your documents via WhatsApp
📌 We will handle complete legal proceedings
📌 Online case filing & professional legal support
📌 Get your rightful possession back without hassle
Your property, your right — let us help you reclaim it!
کیا آپ کی جائیداد پر ناجائز قبضہ ہو چکا ہے؟
اب گھر بیٹھے اپنا کیس فائل کروائیں!
📌 صرف اپنے ڈاکومنٹس ہمیں واٹس ایپ کریں
📌 مکمل قانونی کاروائی ہم سنبھالیں گے
📌 آن لائن کیس فائلنگ کی سہولت
📌 بغیر کسی پریشانی کے اپنا حق واپس حاصل کریں
آپ کی جائیداد، آپ کا حق — ہم آپ کو انصاف دلائیں گے!
محمد اکرم خان بلوچ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
03003344226
03336254001

24/04/2026

اگر کسی ملزم پر پولیس کی جانب سے جھوٹی ریکوری (پلانٹڈ ریکوری) ڈال دی گئی ہو، تو اسے فوری طور پر قانونی محاذ پر چیلنج کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات انتہائی اہم ہیں:
1. جائے وقوعہ کی فوٹیج اور تصاویر (CCTV Evidence)
آج کل تقریباً ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہوتے ہیں۔ اگر ریکوری کے وقت یا ملزم کی گرفتاری کے وقت کی فوٹیج مل جائے جس میں پولیس کا بیان کردہ وقت یا مقام غلط ثابت ہو رہا ہو، تو یہ سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اسے محفوظ کریں اور عدالت میں پیش کرنے کے لیے فوری درخواست دیں۔
2. سی ڈی آر (CDR - Call Detail Record)
پولیس اکثر دکھاتی ہے کہ ریکوری فلاں جگہ سے ہوئی، جبکہ اس وقت تفتیشی افسر یا ملزم کی لوکیشن کہیں اور ہوتی ہے۔ ملزم اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے موبائل نمبرز کا CDR اور Geo-Fencing نکلوانے کے لیے عدالت میں درخواست دیں تاکہ ان کی اصل لوکیشن سامنے آ سکے۔
3. ریکوری میمو (Recovery Memo) کی خامیاں
قانون کے مطابق ریکوری کے وقت دو معزز گواہان کا ہونا ضروری ہے (دفعہ 103 ضابطہ فوجداری)۔ اگر:
• گواہان پولیس ملازم ہی ہیں۔
• گواہان اس علاقے کے رہائشی نہیں ہیں۔
• ریکوری میمو پر دستخط یا انگوٹھے کے نشانات میں تضاد ہے۔
تو ان بنیادوں پر جرح (Cross-examination) کے دوران ریکوری کو مشکوک بنایا جا سکتا ہے۔
4. فوری قانونی کارروائی (حالیہ رجحان)
• درخواست برائے حبسِ بے جا: اگر ملزم کو پہلے اٹھایا گیا اور ریکوری بعد میں ڈالی گئی، تو گرفتاری سے پہلے ہی سیشن جج کے پاس Habeas Corpus (دفعہ 491) کی درخواست دینا بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔
• اعلیٰ حکام کو اطلاع: ریکوری ڈالنے کے فوراً بعد بذریعہ ڈاک یا آن لائن پورٹل ڈی پی او (DPO) یا آئی جی پنجاب کو تحریری شکایت بھیجیں تاکہ ریکارڈ پر رہے کہ آپ نے شروع دن سے ہی اسے جھوٹا قرار دیا تھا۔
5. میڈیکل رپورٹ
اگر ریکوری کے دوران ملزم پر تشدد کیا گیا تاکہ وہ زبردستی اعتراف کرے، تو فوری طور پر میڈیکل چیک اپ کی استدعا کریں تاکہ تشدد ثابت ہو سکے، جو ریکوری کی قانونی حیثیت کو ختم کر دیتا ہے۔
6. جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان
جب ملزم کو پہلی بار ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے، تو وہاں خاموش رہنے کے بجائے جج کو صاف بتائیں کہ یہ ریکوری جھوٹی ہے اور پولیس نے اسے "پلانٹ" کیا ہے۔ یہ بیان ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے جو بعد میں ضمانت میں کام آتا ہے۔

یکن اگر ریکوری "پلانٹڈ" (جھوٹی) ہے، تو اس کے خلاف قانونی دفاع اور کارروائی کے چند اہم پہلو یہ ہیں:
1. ریکوری کا مقام اور "مال خانہ"
قانون کے مطابق، برآمد کی گئی ہر چیز فوری طور پر متعلقہ تھانے کے مال خانہ میں درج ہونی چاہیے اور اس کا اندراج رجسٹر نمبر 19 میں کیا جاتا ہے۔
• اگر ریکوری پلانٹڈ ہے: تو اکثر وہ چیز پہلے سے ہی پولیس کے پاس غیر قانونی طور پر پڑی ہوتی ہے یا کسی اور مقدمے کا بچا ہوا مال ہوتا ہے۔
• تکنیکی نکتہ: اگر پولیس دعویٰ کرتی ہے کہ ریکوری ملزم کے گھر سے ہوئی لیکن ملزم اس وقت تھانے میں بند تھا اور پولیس اسے باہر لے کر ہی نہیں گئی، تو یہ سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ پولیس کو ہر نقل و حرکت کا اندراج روزنامچے میں کرنا ہوتا ہے۔
2. ریمانڈ اور ریکوری کا تضاد
اگر پولیس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ (Physical Remand) اس بنیاد پر لیا کہ "ہمیں اس سے ریکوری کروانی ہے" لیکن وہ ملزم کو تھانے سے باہر کسی مقام پر لے کر ہی نہیں گئے (جس کی گواہی سی سی ٹی وی کیمرے یا تھانے کا گیٹ رجسٹر دے سکتا ہے)، تو یہ ایک سنگین قانونی سقم ہے۔
3. قانونی کارروائی اور دفاع (Legal Remedies)
اگر ریکوری کے وقت ملزم کو جائے وقوعہ پر لے ہی نہیں جایا گیا، تو آپ درج ذیل قانونی راستے اختیار کر سکتے ہیں:
• سیکشن 156(3) ضابطہ فوجداری (CrPC): آپ پولیس افسر کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر کارروائی کے لیے سیشن جج یا مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتے ہیں۔
• پنجاب پولیس آرڈر 2002 (آرٹیکل 155): اس قانون کے تحت اگر کوئی پولیس افسر بدنیتی پر مبنی تفتیش کرے یا جھوٹی ریکوری ڈالے، تو اسے 5 سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
• جرح (Cross-Examination): ٹرائل کے دوران وکیل صفائی پولیس گواہان سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ ملزم کو تھانے سے باہر لے جانے کے لیے کون سی گاڑی استعمال ہوئی، اس کا لاگ بک نمبر کیا تھا، اور تھانے سے روانگی کی "رپٹ" (Entry) کہاں ہے۔ اگر ان سوالات کے جواب نہ ملے تو ریکوری جھوٹی ثابت ہو جاتی ہے۔
4. فوری ایکشن: ریکارڈ کی حفاظت
اگر آپ کو شک ہے کہ ریکوری پلانٹڈ ہے، تو فوراً "Preservation of CCTV Footage" کی درخواست عدالت میں دیں تاکہ تھانے کے گیٹ اور کیمروں کی ریکارڈنگ ضائع نہ ہو۔ اگر ریکارڈنگ میں ملزم تھانے کے اندر ہی پایا گیا اور پولیس ریکوری کا دعویٰ باہر کا کر رہی ہے، تو پورا کیس ختم ہو سکتا ہے۔
5. اعلیٰ عدالتوں کا موقف
سپریم کورٹ آف پاکستان کے کئی فیصلوں (مثلاً 2019 SCMR 1029) میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر ریکوری کا طریقہ کار مشکوک ہو یا گواہان پولیس کے اپنے بندے ہوں، تو ایسی ریکوری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہتی۔
کیا آپ کے پاس اس وقت تھانے یا اس مقام کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ موجود ہے جہاں سے ریکوری دکھائی گئی ہے؟


1. مال کی شناخت (Identification)
عدالت میں یہ چیک کرنا ضروری ہے کہ کیا یہ وہی مال ہے جس کا ذکر ایف آئی آر (FIR) یا ریکوری میمو میں ہے؟ اگر ریکوری میمو میں لکھے گئے حلیے، نمبر یا رنگ اور عدالت میں موجود مال میں فرق ہو، تو یہ ریکوری کو "مشکوک" بنا دیتا ہے اور ملزم کو شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) ملتا ہے۔
2. مہر یا سیل (Seal) کی جانچ
برآمدگی کے بعد پولیس مال کو ایک پارسل میں بند کر کے اس پر مہر لگاتی ہے۔ عدالت میں یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ:
• کیا پارسل کی مہریں برقرار ہیں یا ٹوٹی ہوئی ہیں؟
• کیا مہر پر وہی نشان ہے جو برآمدگی کے وقت ریکوری میمو پر درج کیا گیا تھا؟
اگر مہر ٹوٹی ہوئی ہو یا مشکوک ہو، تو دفاعی وکیل یہ اعتراض اٹھا سکتا ہے کہ مال میں تبدیلی (Tampering) کی گئی ہے۔
3. نمونہ جات (Samples) کا تضاد
اگر ریکوری منشیات یا کسی ایسی چیز کی ہے جس کا لیبارٹری ٹیسٹ ہونا تھا، تو عدالت میں اصل مال کی مقدار کو دوبارہ چیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر وزن یا مقدار میں واضح کمی بیشی ہو، تو تفتیش پر سوال اٹھتے ہیں۔
4. گواہان کی موجودگی میں معائنہ
جب ریکوری کے گواہان (Recovery Witnesses) عدالت میں بیان دینے آئیں، تو ان کے سامنے مال دکھا کر پوچھا جاتا ہے کہ "کیا یہ وہی چیز ہے جو آپ کی موجودگی میں برآمد ہوئی تھی؟" اگر گواہ اسے پہچاننے سے انکار کر دے یا غلط پہچانے، تو استغاثہ کا کیس کمزور ہو جاتا ہے۔
اگر ریکوری "پلانٹڈ" ہے تو کیا ہوگا؟
اگر ریکوری جھوٹی ہے، تو اکثر پولیس عدالت میں مال پیش کرتے وقت ہچکچاہٹ کا شکار ہوتی ہے یا متبادل چیز پیش کر دیتی ہے۔ بطور وکیل یا ملزم، آپ کا حق ہے کہ آپ اپنے وکیل کے ذریعے درج ذیل کام کریں:
• درخواست برائے معائنہ: جج صاحب سے استدعا کریں کہ مال خانہ سے منگوایا گیا مال کمرہ عدالت میں کھول کر دکھایا جائے۔
• نمائشی گواہ: اگر گواہ یہ نہ بتا سکے کہ مال کس جگہ سے نکلا تھا یا اس پر کیا مہر لگی تھی، تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ریکوری صرف کاغذوں کی حد تک تھی۔
خلاصہ: عدالت میں مالِ مسروقہ کا معائنہ کرنا ملزم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب پولیس کی بدنیتی یا تفتیش کی خامیاں سب کے سامنے آتی ہیں۔.
محمد اکرم خان بلوچ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
03003344226

23/04/2026

Address

Seat No. 50 Sub Divisional Courts Mailsi, Vehari Law Chamber Multan
Mailsi
61200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khan Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category