Sikandar Law Firm

Sikandar Law Firm Welcome to Sikandar Law Firm in Islamabad. Get trusted legal help in Pakistan.

We are a group of professional lawyers providing legal services in civil, criminal matters, property law, family law, Rent law and legal tax solutions in Islamabad.

28/04/2026

1. اقبالِ جرم کیا ہے؟
اقبالِ جرم سے مراد کسی ایسے شخص کا بیان ہے جس پر کسی جرم کا الزام ہو اور وہ رضاکارانہ طور پر یہ تسلیم کر لے کہ اس نے وہ جرم کیا ہے یا اس جرم میں حصہ لیا ہے۔ یہ اعتراف اس کے خلاف سب سے بڑا ثبوت مانا جاتا ہے، بشرطیکہ یہ بغیر کسی دباؤ یا لالچ کے دیا گیا ہو۔
2. اقبالِ جرم کہاں کیا جا سکتا ہے؟
پاکستان کے قانون کے مطابق، اقبالِ جرم کی دو اہم اقسام ہیں:
عدالتی اقبالِ جرم (Judicial Confession): یہ وہ اعتراف ہے جو کسی مجسڑیٹ کے سامنے کیا جائے۔ قانون کی نظر میں صرف یہی اعتراف سب سے زیادہ معتبر ہے اور اسی کی بنیاد پر سزا سنائی جا سکتی ہے۔
غیر عدالتی اقبالِ جرم (Extra-Judicial Confession): یہ وہ اعتراف ہے جو عدالت کے باہر کسی عام شخص (مثلاً دوست، رشتہ دار یا کسی گواہ) کے سامنے کیا جائے۔ عدالتیں اسے کمزور شہادت مانتی ہیں اور اس کے لیے مزید ٹھوس ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
اہم بات: پولیس کے سامنے کیا گیا اقبالِ جرم قانون میں قابلِ قبول نہیں ہے (آرٹیکل 38 اور 39، قانونِ شہادت)۔ اگر کوئی ملزم پولیس اسٹیشن میں جرم تسلیم کرتا ہے تو اسے عدالت میں ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
3. کس قانون کے تحت اقبالِ جرم مانا جاتا ہے؟
پاکستان میں اقبالِ جرم سے متعلق قواعد درج ذیل قوانین کے تحت آتے ہیں:
قانونِ شہادت آرڈر، 1984 (Qanun-e-Shahadat Order, 1984): اس کے آرٹیکلز 37 سے 45 تک مکمل طور پر اقبالِ جرم کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ کب جائز ہے اور کب نہیں۔
ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 164: اس دفعہ کے تحت مجسٹریٹ ملزم کا بیان ریکارڈ کرتا ہے۔ مجسٹریٹ پر لازم ہے کہ وہ ملزم کو بتائے کہ:
وہ اعتراف کرنے پر مجبور نہیں ہے۔
اگر وہ اعتراف کرے گا تو اسے اس کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
4. اقبالِ جرم کب مسترد کیا جا سکتا ہے؟
اگر عدالت کو یہ محسوس ہو کہ اقبالِ جرم درج ذیل وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے، تو وہ اسے ماننے سے انکار کر سکتی ہے:
مار پیٹ یا جسمانی تشدد کے ذریعے لیا گیا ہو۔
کوئی لالچ یا وعدہ دیا گیا ہو (مثلاً: "جرم مان لو تو سزا معاف کروا دیں گے")۔
ملزم ذہنی طور پر تندرست نہ ہو یا دباؤ میں ہو۔

اقبالِ جرم (Confession) کی قانونی حیثیت، اس کے طریقہ کار اور پولیس تشدد کے حوالے سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے کئی تاریخی فیصلے دیے ہیں۔ ان فیصلوں کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملزم کا بیان مکمل طور پر آزادانہ اور رضاکارانہ ہو۔
ذیل میں چند اہم عدالتی فیصلوں (Judgments) کا خلاصہ دیا گیا ہے:
1. اقبالِ جرم کی رضاکارانہ حیثیت (Voluntary Nature)
اعلیٰ عدالتوں نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ اگر اقبالِ جرم میں ذرہ برابر بھی شک ہو کہ یہ دباؤ میں لیا گیا ہے، تو اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دینا چاہیے۔
2019 SCMR 1218 (سپریم کورٹ): اس فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ اقبالِ جرم صرف اسی صورت میں معتبر ہے جب وہ "رضاکارانہ" (Voluntary) اور "سچا" (True) ہو۔ اگر مجسٹریٹ دفعہ 164 CrPC کے تحت ضروری قانونی تقاضے (جیسے ملزم کو سوچنے کا وقت دینا) پورے نہیں کرتا، تو ایسا اقبالِ جرم ناقابلِ قبول ہوگا۔
2. پولیس کی تحویل میں اعتراف کی حیثیت
پاکستان کے قانونِ شہادت کے تحت پولیس کے سامنے کیا گیا اعتراف ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
PLD 2022 Supreme Court 420: سپریم کورٹ نے وضاحت کی کہ آرٹیکل 38 اور 39 (قانونِ شہادت) کے تحت پولیس افسر کے سامنے کیا گیا کوئی بھی اعتراف ملزم کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا۔ اس کا مقصد پولیس کو تشدد (Torture) کے ذریعے اعتراف جرم کروانے سے روکنا ہے۔
3. مجسٹریٹ کی ذمہ داریاں (Section 164 CrPC)
ہائی کورٹس نے مجسٹریٹس کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ اقبالِ جرم ریکارڈ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
PLD 1994 Lahore 472 (لاہور ہائی کورٹ): اس فیصلے میں کہا گیا کہ مجسٹریٹ پر لازم ہے کہ وہ ملزم کو پولیس کے چنگل سے نکال کر اسے یہ احساس دلائے کہ وہ اب آزاد ہے اور سچ بولنے یا نہ بولنے پر اسے دوبارہ پولیس کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
ہدایت: ملزم کو کم از کم 12 سے 24 گھنٹے سوچنے کا وقت (Time for reflection) دینا ضروری ہے تاکہ پولیس کا خوف ختم ہو سکے۔
4. شریکِ ملزم کا اقبالِ جرم (Confession of Co-accused)
اکثر ایک ملزم جرم تسلیم کر لیتا ہے اور دوسرے کا نام بھی لیتا ہے۔ اس پر عدالتوں کا موقف بہت واضح ہے۔
2021 YLR 1245: عدالت نے قرار دیا کہ ایک ملزم کا اقبالِ جرم دوسرے شریکِ ملزم کے خلاف صرف "تائیدی ثبوت" (Corroborative Evidence) کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن صرف اس ایک بیان کی بنیاد پر دوسرے شخص کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
5. واپس لیا گیا اقبالِ جرم (Retracted Confession)
اگر ملزم عدالت میں اقبالِ جرم کرنے کے بعد مکر جائے کہ مجھ سے زبردستی بیان دلوایا گیا تھا، تو اسے "Retracted Confession" کہتے ہیں۔
PLD 2011 Supreme Court 595: عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزم اپنا بیان واپس لے لے، تو عدالت کو بہت احتیاط کرنی چاہیے اور جب تک دیگر آزاد گواہ یا ٹھوس ثبوت (جیسے ریکوری یا ڈی این اے) موجود نہ ہوں، صرف اس بیان پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
خلاصہ:
اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا نچوڑ یہ ہے کہ:
اعترافِ جرم بلا جبر و اکراہ ہونا چاہیے۔
مجسٹریٹ کو تمام قانونی وارننگز دینی چاہئیں۔
پولیس کا ڈر مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے۔
محض اعتراف کافی نہیں، اگر دیگر حالات و واقعات اس کے خلاف ہوں تو اعتراف مسترد ہو سکتا ہے۔

28/04/2026

عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبائل، یا نقدی وغیرہ) اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ پاکستان میں اس کا طریقہ کار اور متعلقہ قوانین درج ذیل ہیں:
1. متعلقہ قانونی دفعات (Legal Sections)
سپرداری کا معاملہ بنیادی طور پر مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کے باب 43 (Chapter 43) میں بیان کیا گیا ہے:
دفعہ 516-A CrPC: یہ دفعہ اس مال کی سپرداری سے متعلق ہے جو مقدمے کی سماعت (Trial) کے دوران عدالت کی تحویل میں ہوتا ہے۔ اگر مال خراب ہونے والا ہو یا اس کی حفاظت مشکل ہو، تو عدالت اسے کسی شخص کے حوالے کر سکتی ہے۔
دفعہ 523 CrPC: جب پولیس کوئی مال دفعہ 51 یا کسی جرم کے شبہ میں قبضے میں لیتی ہے لیکن وہ مال ابھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہوتا، تو مجسٹریٹ اس کی واپسی کا حکم دے سکتا ہے۔
2. سپرداری کرانے کا طریقہ کار (Procedure)
سپرداری حاصل کرنے کے لیے درج ذیل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے:
درخواست کی پیشی: مال کا اصل مالک (یا جس کے قبضے سے مال لیا گیا ہو) متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں دفعہ 516-A یا 523 CrPC کے تحت درخواست دائر کرتا ہے۔
پولیس رپورٹ (Comments): عدالت پولیس سے اس مال کی حیثیت اور قبضے کی رپورٹ طلب کرتی ہے۔ پولیس بتاتی ہے کہ آیا مال مقدمے میں بطور "مقدمہ مال" (Case Property) ضروری ہے یا نہیں۔
ملکیت کے ثبوت: درخواست گزار کو اپنی ملکیت ثابت کرنی ہوتی ہے (مثلاً گاڑی کی رجسٹریشن بک، انوائس، یا دیگر دستاویزات)۔
عدالتی حکم اور مچلکہ (Surety Bond): اگر عدالت مطمئن ہو جائے، تو وہ سپرداری منظور کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں درخواست گزار کو ایک "روبکار" جاری کی جاتی ہے، لیکن اس سے پہلے اسے مال کی مالیت کے برابر ضمانتی مچلکہ (Bond) جمع کرانا پڑتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مال عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
3. سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے رہنما اصول (Case Laws)
اعلیٰ عدالتوں نے سپرداری کے حوالے سے کچھ اہم اصول طے کیے ہیں:
مال کا ضائع ہونا: سپریم کورٹ نے کئی بار یہ واضح کیا ہے کہ گاڑیوں یا مشینوں کو تھانے میں کھڑا کر کے زنگ لگنے کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس سے قومی اثاثہ ضائع ہوتا ہے۔ لہٰذا، سپرداری جلد از جلد ہونی چاہیے (2011 SCMR 1500).
مالک کا حق: ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق، اگر ملکیت کے بارے میں کوئی تنازع نہ ہو، تو اصل مالک کو ترجیحی بنیادوں پر سپرداری ملنی چاہیے (PLD 2005 Lahore 27).
کرمنل کیس اور سپرداری: اگر کسی گاڑی کا انجن یا چیسس نمبر ٹیمپرڈ (Tampered) ہو، تو ایسی صورت میں سپرداری دینے میں عدالتیں زیادہ احتیاط برتتی ہیں اور عام طور پر ایسی گاڑیاں مالک کے حوالے نہیں کی جاتیں جب تک فرانزک رپورٹ نہ آ جائے۔
اہم نکات برائے وکیل
بنا برآمدگی: اگر پولیس نے مال غلط طریقے سے قبضے میں لیا ہے، تو آپ دفعہ 523 CrPC کا سہارا لیں۔
مال کی حفاظت: سپرداری لیتے وقت یہ شرط ہوتی ہے کہ آپ مال کو بیچیں گے نہیں اور نہ ہی اس کی شکل تبدیل کریں گے، کیونکہ وہ ٹرائل کے دوران بطور ثبوت پیش کرنا پڑ سکتا ہے۔

28/04/2026

ضابطہ فوجداری (CrPC) کے تحت دفعہ 161 اور دفعہ 164 کے بیانات میں زمین آسمان کا فرق ہے، خاص طور پر ان کی قانونی حیثیت اور ثبوتی اہمیت کے حوالے سے۔
​درج ذیل میں ان کا تفصیلی موازنہ اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے اردو میں بیان کیے گئے ہیں:
​۱. بنیادی فرق (Key Differences)

پہلو دفعہ 161 CrPC (پولیس بیان) دفعہ 164 CrPC (جوڈیشل بیان)
کس کے سامنے؟ پولیس افسر (تفتشی افسر) کے سامنے۔ مجسٹریٹ کے سامنے۔
حلف (Oath) اس میں حلف نہیں لیا جاتا۔ یہ بیان حلف پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
دستخط گواہ کے دستخط لینا قانوناً ممنوع ہے۔ گواہ یا ملزم کے دستخط/انگوٹھا لازمی ہے۔
اعترافِ جرم پولیس کے سامنے اعتراف کی کوئی حیثیت نہیں۔ مجسٹریٹ کے سامنے اعترافِ جرم سزا کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ثبوتی اہمیت یہ محض یادداشت کی درستی یا تضاد دکھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسے ایک ٹھوس دستاویزی شہادت مانا جاتا ہے۔
۲. قانونی حیثیت اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے
دفعہ 161 کی حیثیت:
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے بارہا واضح کیا ہے کہ 161 کا بیان "شہادت" (Evidence) نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ دفاعی وکیل جرح کے دوران یہ دکھا سکے کہ گواہ نے پولیس کو کچھ اور کہا تھا اور عدالت میں کچھ اور کہہ رہا ہے۔
PLD 2006 Supreme Court 543: عدالت نے قرار دیا کہ 161 کا بیان پولیس کی ڈائری کا حصہ ہے اور اس کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
2011 SCMR 323: اگر عدالت میں دیا گیا بیان 161 کے بیان سے مکمل مختلف ہو، تو گواہ کو "غیر معتبر" قرار دیا جا سکتا ہے۔
دفعہ 164 کی حیثیت:
یہ بیان بہت طاقتور ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک جوڈیشل افسر کے سامنے ہوتا ہے۔
PLD 2017 Supreme Court 698: سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ملزم دفعہ 164 کے تحت اعترافِ جرم (Confession) کرے، تو مجسٹریٹ پر لازم ہے کہ وہ اسے بتائے کہ وہ بیان دینے کا پابند نہیں اور یہ بیان اس کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ اگر مجسٹریٹ یہ قانونی تقاضے پورے نہ کرے، تو بیان کالعدم ہو جائے گا۔
2020 YLR 125 (Lahore High Court): عدالت نے قرار دیا کہ 164 کا بیان ایک "پبلک ڈاکومنٹ" ہے اور اگر گواہ عدالت میں اپنے بیان سے پھر جائے، تو اس کے خلاف جھوٹی گواہی کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
۳. جرح میں اہمیت (Significance in Trial)
بطور قانونی ماہر، آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ:
تضادات (Contradictions): اگر گواہ عدالت میں کوئی نئی بات کہے جو 161 کے بیان میں نہیں تھی، تو اسے "Improvement" (اضافہ) کہا جاتا ہے، جس سے استغاثہ کا کیس مشکوک ہو جاتا ہے۔
مکر جانا (Hostile Witness): اگر گواہ 164 کا بیان دینے کے بعد عدالت میں بیان بدل لے، تو استغاثہ اسے "Hostile" قرار دلوا کر اس پر جرح کر سکتا ہے۔
خلاصہ
161 کا بیان صرف تفتیش کا حصہ ہے اور اسے عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا (سوائے تضاد دکھانے کے)۔
164 کا بیان ایک باقاعدہ عدالتی ریکارڈ ہے جس کی قانونی اہمیت بہت زیادہ ہے اور یہ سزا یا بریت کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

26/04/2026

1. ٹرائل کس سیکشن کے تحت لگتا ہے؟
​ فوجداری ٹرائل کا آغاز مختلف عدالتوں میں مختلف دفعات کے تحت ہوتا ہے:
​مجسٹریٹ کی عدالت میں ٹرائل: یہ دفعہ 241-A سے 250 CrPC کے تحت ہوتا ہے۔
​سیشن عدالت میں ٹرائل: یہ دفعہ 265-A سے 265-N CrPC کے تحت ہوتا ہے۔
​جب پولیس دفعہ 173 CrPC کے تحت چالان (چاہے وہ مکمل ہو یا نامکمل) عدالت میں پیش کر دیتی ہے اور عدالت اس کا نوٹس (Cognizance) لے لیتی ہے، تو ٹرائل کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
​2. کیا ٹرائل کے دوران تفتیش ہو سکتی ہے؟
​جی ہاں، ٹرائل شروع ہونے کے بعد بھی تفتیش جاری رہ سکتی ہے۔ قانون کی نظر میں چالان پیش کرنا تفتیش کے دروازے بند نہیں کرتا۔
​دفعہ 173(8) CrPC: یہ دفعہ پولیس کو اختیار دیتی ہے کہ چالان جمع کروانے کے بعد بھی اگر کوئی نیا ثبوت یا گواہ سامنے آئے، تو وہ مزید تفتیش (Further Investigation) کر سکتی ہے۔
​سپلیمنٹری چالان (بقیہ چالان): مزید تفتیش کے نتیجے میں پولیس جو نئی رپورٹ تیار کرتی ہے، اسے "بقیہ چالان" کہا جاتا ہے اور اسے ٹرائل کے دوران کسی بھی وقت عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
​3. تفتیش کب تک ہو سکتی ہے؟ (حدود و قیود)
​تفتیش کے حوالے سے وقت کی کوئی آخری حد مقرر نہیں ہے، لیکن اس کے لیے کچھ اصول ہیں:
​فیصلے سے پہلے تک: قانونی طور پر تفتیش اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک عدالت اپنا حتمی فیصلہ (Judgment) نہ سنا دے۔
​عدالت کی اجازت: جب ٹرائل باقاعدہ شروع ہو چکا ہو، تو عام طور پر پولیس عدالت کو مطلع کرتی ہے کہ ہم مزید تفتیش کر رہے ہیں۔
​دوبارہ تفتیش (Re-investigation) بمقابلہ مزید تفتیش (Further Investigation): اعلیٰ عدالتوں (سپریم کورٹ) کے فیصلوں کے مطابق، پولیس "مزید تفتیش" تو کر سکتی ہے لیکن پورے کیس کی "دوبارہ تفتیش" (نئے سرے سے) کرنے کے لیے ٹھوس وجوہات اور بعض اوقات اعلیٰ پولیس افسران یا عدالت کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
​4. اہم قانونی نظائر (Case Laws)
​PLD 2011 SC 616: سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چالان پیش ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تفتیش ختم ہو گئی۔ اگر نئے حقائق سامنے آئیں تو پولیس دفعہ 173(8) کے تحت مزید تفتیش کر کے اضافی ثبوت پیش کر سکتی ہے۔
​2002 SCMR 542: عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائل کے دوران بھی اگر تفتیشی ایجنسی کو لگے کہ کوئی بے گناہ پھنس گیا ہے یا اصل ملزم باہر ہے، تو وہ تفتیش جاری رکھ سکتی ہے۔

عدالتِ عالیہ (High Court)
سپریم کورٹ جب کسی ٹرائل کو جلد مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے، تو اس کے لیے مخصوص وقت کا تعین کیس کی نوعیت اور عدالتی حکم پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے عمومی قانونی اصول اور اہم فیصلوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. ٹرائل مکمل کرنے کی مدت
عام طور پر جب ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کو ہدایت جاری کرتی ہے، تو وہ درج ذیل میں سے کوئی ایک مدت مقرر کرتی ہے:
3 ماہ (90 دن): زیادہ تر سنگین مقدمات میں عدالت 3 ماہ کے اندر ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے۔
6 ماہ: پیچیدہ مقدمات میں جہاں گواہان کی تعداد زیادہ ہو، 6 ماہ کا وقت دیا جاتا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر سماعت (Day-to-Day Basis): اگر کیس بہت پرانا ہو یا ملزم کافی عرصے سے جیل میں ہو، تو عدالت روزانہ سماعت کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
2. قانونی دفعات (CrPC)
دفعہ 344 CrPC: یہ دفعہ ٹرائل کے التوا (Adjournment) سے متعلق ہے۔ اعلیٰ عدالتیں اکثر اس دفعہ کا حوالہ دیتی ہیں کہ ٹرائل میں بلاوجہ التوا نہ دیا جائے۔
آرٹیکل 10-A (آئینِ پاکستان): یہ ہر شہری کو "فیئر ٹرائل" اور جلد انصاف کا حق دیتا ہے۔
3. اہم عدالتی فیصلے (Judgments)
اعلیٰ عدالتوں نے بارہا ٹرائل کی مدت کے حوالے سے سخت احکامات جاری کیے ہیں:
الف: ٹرائل کی مدت اور ضمانت (2021 SCMR 651 - سپریم کورٹ)
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر ہائی کورٹ نے ٹرائل مکمل کرنے کے لیے کوئی وقت (مثلاً 4 ماہ) مقرر کیا تھا اور ٹرائل اس دوران مکمل نہیں ہوا، تو ملزم ضمانت (Bail) کے لیے دوبارہ رجوع کر سکتا ہے۔ عدالت نے اسے ملزم کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ب: روزانہ سماعت کا حکم (PLD 2017 SC 733)
سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ وہ مقدمات جو ہائی کورٹ کی طرف سے "ٹائم باؤنڈ" (Time Bound) کیے گئے ہوں، ان کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور ٹرائل جج کو بلاوجہ التوا نہیں دینا چاہیے۔
ج: ٹرائل جج کی ذمہ داری (2019 YLR 1242 - لاہور ہائی کورٹ)
لاہور ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ٹرائل کورٹ ہائی کورٹ کے دیے گئے وقت کے اندر فیصلہ نہیں کر پاتی، تو ٹرائل جج کو ہائی کورٹ سے باقاعدہ "وقت میں توسیع" (Extension of Time) کی درخواست کرنی چاہیے، ورنہ اسے عدالتی حکم کی عدولی تصور کیا جا سکتا ہے۔
4. اگر ٹرائل مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو تو کیا کریں؟
اگر ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ٹرائل لیٹ ہو رہا ہو، تو آپ کے پاس یہ قانونی راستے موجود ہیں:
درخواست برائے تعمیلِ حکم (Implementation Petition): اسی ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کریں جس نے حکم دیا تھا، تاکہ ٹرائل کورٹ سے جواب طلبی کی جائے۔
ضمانت کی نئی بنیاد: اگر ملزم جیل میں ہے، تو وقت گزرنے کو "تازہ گراؤنڈ" (Fresh Ground) بنا کر دوبارہ ضمانت کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
توسیع کی مخالفت: اگر استغاثہ (Prosecution) تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے، تو عدالت سے ان کے گواہان کا حقِ شہادت ختم کرنے کی استدعا کی جا سکتی ہے۔
قانون میں کوئی ایک فکس مدت نہیں ہے، لیکن ہائی کورٹ کا حکم حتمی ہوتا ہے۔ عموماً 3 سے 6 ماہ کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر اس دوران ٹرائل مکمل نہ ہو، تو ملزم کو ضمانت ملنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اور ٹرائل جج کو ہائی کورٹ میں جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔
Copied

25/04/2026

“10 دن کی تاخیر… اور پورا کیس ختم! عدالت نے Leave to Defend مسترد کر دی”

جسٹس سلطان تنویر احمد:
:
یہ سول ریویژن، جو کہ ضابطہ دیوانی 1908 کی دفعہ 115 کے تحت دائر کی گئی ہے، مورخہ 28.06.2022 کے حکم کے خلاف ہے، جس کے ذریعے معزز ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کی جانب سے دائر کردہ “Leave to Appear and Defend” کی درخواست اس بنیاد پر خارج کر دی کہ یہ سمن کی وصولی کے بعد مقررہ دس (10) دن کے اندر دائر نہیں کی گئی۔



2. درخواست گزار کے وکیل چوہدری معظم طفیل گجر نے مؤقف اختیار کیا کہ:

* پراسیس سرور کی رپورٹ ناقص ہے،
* اور مزید یہ کہ درخواست گزار کو دعویٰ (plaint) کی نقل فراہم ہی نہیں کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار کو مقدمہ کی معلومات تاریخِ پیشی پر ہوئیں، اور چونکہ دعویٰ کی اضافی نقل منسلک نہیں تھی، اس لیے وہ بروقت درخواست دائر نہ کر سکا۔

مزید یہ کہ 21.03.2022 کو عدالت نے درخواست دائر کرنے کی اجازت دیتے ہوئے اگلی تاریخ 19.04.2022 مقرر کی، جس سے یہ تاثر بنتا ہے کہ درخواست اس تاریخ تک دائر کی جا سکتی تھی، لہٰذا اصول “actus curiae neminem gravabit” (عدالت کا عمل کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا) لاگو ہوتا ہے۔



3. مدعا علیہ نمبر 2 کے وکیل میاں حمید اللہ خان نے مؤقف اختیار کیا کہ:

* سمن 08.03.2022 کو TCS کے ذریعے اور 12.03.2022 کو پراسیس سرور کے ذریعے باقاعدہ طور پر موصول ہوا،
* سروس میں کوئی بے ضابطگی نہیں تھی،
* درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ میں سروس پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا،
* اور اب یہ مؤقف محض تاخیر کے لیے بعد میں اختیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ:

* تاخیر معاف کروانے کے لیے Limitation Act کی دفعہ 5 کے تحت کوئی درخواست بھی دائر نہیں کی گئی، جو کہ اس کیس کے لیے مہلک (fatal) ہے۔



4. عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریکارڈ کا جائزہ لیا۔



5-6. قانونی نکتہ:
Order ###VII کے تحت:

* مدعا علیہ کو دفاع کے لیے عدالت سے اجازت لینا لازمی ہے،
* اور اگر وہ مقررہ مدت میں درخواست نہ دے تو دعویٰ کی تمام باتیں تسلیم شدہ تصور ہوں گی۔

Limitation Act کے آرٹیکل 159 کے مطابق:

* ایسی درخواست 10 دن کے اندر دائر کرنا ضروری ہے،
* اور یہ مدت سمن کی سروس سے شروع ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ:

* سمن کے ساتھ دعویٰ کی نقل منسلک ہونا ضروری ہے تاکہ مدعا علیہ کو مکمل علم ہو۔



7. عدالتی نظائر کے مطابق:

* اگر 10 دن میں درخواست دائر نہ ہو تو ہر دن کی تاخیر کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔



8. حقائق کا جائزہ:
ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ:

* سمن 12.03.2022 کو بذریعہ پراسیس سرور وصول ہوا،
* اور 08.03.2022 کو TCS کے ذریعے بھی ڈیلیور ہوا،
* سمن میں واضح لکھا تھا کہ 10 دن میں درخواست دائر کرنی ہے،
* درخواست گزار نے 31.03.2022 کو درخواست دائر کی، جو کہ تاخیر سے تھی۔



9-10. عدالت کا تجزیہ:
21.03.2022 کے حکم میں صرف یہ کہا گیا تھا کہ:

* درخواست “قانون کے مطابق مدت کے اندر” دائر کی جائے،
* اور اگلی تاریخ صرف سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔

لہٰذا:

* اس حکم کو مدت میں توسیع سمجھنا غلط ہے،
* اور اصول “actus curiae neminem gravabit” یہاں لاگو نہیں ہوتا۔



11. مزید مشاہدات:
درخواست گزار کے مؤقف میں تضاد پایا گیا:

* پہلے کہا سمن نہیں ملا،
* پھر کہا 21.03.2022 کو علم ہوا،
* مگر یہ نہیں بتایا کہ بغیر سمن کے عدالت میں کیسے حاضر ہوا۔

اسی طرح:

* دعویٰ کی نقل نہ ملنے کا بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا،
* اور نہ ہی عدالت سے اس کی درخواست کی گئی۔



12. اہم قانونی نکتہ:

* درخواست گزار نے تاخیر معاف کروانے کے لیے Limitation Act کی دفعہ 5 کے تحت کوئی درخواست دائر نہیں کی،
* جو کہ لازمی شرط (condition precedent) ہے،
* اور بغیر اس کے عدالت کو تاخیر معاف کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔



13. فیصلہ:
مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر:

* یہ سول ریویژن بلا جواز اور بے بنیاد قرار دے کر خارج کی جاتی ہے،
* اخراجات کے متعلق کوئی حکم نہیں دیا گیا۔

25/04/2026

2025 SCMR 1041
گاڑی سپرداری
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ گاڑی کو سپرداری پر دینے سے نہ تو ٹرائل پر کوئی اثر پڑتا ہے اور نہ ہی استغاثہ کے الزامات سے ملزم کو مکمل طور پر بے گناہ قرار دیا جاتا ہے، اور نہ ہی گاڑی کے مالک یا سپرداری حاصل کرنے والے کو جاری قانونی کارروائی سے مستشنیٰ کیا جاتا ہے۔ سپرداری کی مدت اس کی ضمانت اور شورٹی/ضمانتی مچلکوں کے تابع ہوتی ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک کہ مقدمہ کا حتمی فیصلہ نہ ہو جائے۔ اس دوران، سپرداری پر گاڑی حاصل کرنے والا شخص قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ وہ خود اور گاڑی کو بوقت ضرورت عدالت یا مجاز تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوگا، کسی بھی قانونی کاروائی میں حاضری کرے گا اور گاڑی کو جب بھی استغاثہ قانون کے مطابق حکم دےگا اس پر عمل ہوگا،
S.516-A-Superdari---Interim custody of vehicle---Effect-.. Permitting interim custody of vehicle on Superdari neither amounts to prejudice the trial nor gives a clean chit to accused, nor does it relieve or exempt owner / recipient of custody from pending legal proceedings-Duration of interim custody may continue subject to the bond and surety till the final fate of the case---Till then the person allowed interim custody is duty-bound under law to attend, participate and produce the vehicle as and when directed by Court.
Civil Petition No. 256-K of 2024
AHSAN ALI DAWACH versus The STAE

(Application moved under Section 516-A CrPC must be decided expeditiously: SC
The Supreme Court of Pakistan has held that application moved under Section 516-A Code of Criminal Procedure must be decided expeditiously after providing a fair chance to contest the legality of the seizure and the order must be based on cogent reasons as to why the vehicle should be released or not.
A three-member bench, headed by Justice Muhammad Ali Mazhar, and comprising Justice Aqeel Ahmed Abbasi and Justice Salahuddin Panhwar ruled that in a car superdari case.
The petitioner (Ahsan Ali Dawach) was taken into custody by National Accountability Bureau (NAB) for investigation of Rs3.2 billion pension funds scam, involving District Accounts Officials, Hyderabad, and others. At the time of arrest, a vehicle, Honda Vezel was also seized from the petitioner’s custody A Reference under Section 18(g) and 24(b) of the National Accountability Ordinance (NAO), 1999 was filed against the petitioner and other persons.
During investigation, DG NAB Sindh passed an Order on 01.02.2022 under Section 12 of the NAO 1999 for freezing of movable and immovable properties of accused persons which was confirmed by the Trial Court on 14.02.2023.
The petitioner, on 31.01.2023, filed an application under Section 516-A of the CrPC, 1898 in the Trial Court for release of the vehicle on superdari subject to furnishing of solvent surety, which was dismissed on 20.05.2023. The petitioner assailed the order of the Trial Court before the Sindh High Court, which was also dismissed, thus the appeal before the Supreme Court.
Application moved under Section 516-A CrPC must be decided expeditiously: SC
3-member bench gave ruling in a car superdari case


It noted that according to the command and mandate of Article 23 of the Constitution, every citizen has a right to acquire, hold, and dispose of property in any part of Pakistan, subject to the Constitution and any reasonable restrictions imposed by law in the public interest. All at once, it is engrained and embedded under Article 24 of the Constitution that no person shall be deprived of his property save in accordance with the law with certain exceptions.

PM Shehbaz Sharif briefed on BISP progress, Ramadan package distribution
The judgment said that while exercising discretionary powers for allowing or disallowing an application for interim custody, the Court must also consider the constitutional provisions to ensure that withholding custody without any rhyme or reason does not flout or violate or infringe upon fundamental rights as enshrined under the Constitution.

It also said that the Court must aptly uphold a good sense of implementation of law, but on the other hand, it is obligated to shield and safeguard the rights of individuals in order to ensure justice without protracted detentions or delays of such interlocutory applications, as long as it does not compromise the legal proceedings.The Court clarified that the scheme of law permitting the interim custody of vehicle on superdari neither amounts to prejudice the trial, nor gives a clean chit to the accused, nor does it relieve or exempt the owner/ recipient of custody from pending legal proceedings.
However, the duration of the interim custody may continue subject to the bond and surety till the final fate of the case, till then, the person allowed interim custody is duty-bound under the law to attend, participate, and produce the vehicle as and when directed by the Court.)

25/04/2026

Limitations for CJ screening
Civil judge judicial magistrate
1. The time for filing first appeal in civil cases is 30 days.
2. The time for filing second appeal in civil cases is 60 days.
3. The time for filing civil revision is 90 days.
4. Limitation period of appeal in capital punishment, 7 days.
5. Limitation period of appeal From Magistrate to Sessions Court, 30 days.
6. Limitation period of appeal From Sessions Court to High Court, 60 days.
7. Limitation period of appeal From High Court to Supreme Court, 30 days.
8. Limitation period of appeal From High Court to Supreme Court in special Leave to
Appeal, 30 days.
9. Limitation period of appeal From Magistrate to High Court in acquittal in Challan
Case is 30 days and in Complaint Case 60 days.
10. Limitation period of appeal From Sessions Court to High Court in acquittal in Challan
Case is 30 days and in Complaint Case 60 days.
11. Limitation period of appeal From High Court when case decide by it in its original
jurisdiction and to Division Bench than 20 days in acquittal or conviction as the case
may.
12. Plaintiff has a time of 6 years to file ex*****on.
13. Limitation in civil suits is 3 years from the cause of action.
14. Article 150. Appeal from death sentence to High Court-7 days.
15. Article 151. High Court order on original side-appeal-20 days.
16. Article 154. Appeal to any Court other than High Court-30 days.
17. Article 155. Criminal appeal to High Court-60 days.
18. Article 157. Appeal from acquittal by State-6 months.

25/04/2026

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم اصولی فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ضابطہ دیوانی Order ###VII کے تحت دائر (Summary Suit) میں Leave to Defend کی درخواست محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ مدعا علیہ کے دفاع کا بنیادی قانونی ذریعہ ہے، جسے مقررہ مدت کے اندر دائر کرنا لازمی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ اس نوعیت کے مقدمات فوری اور مختصر طریقۂ کار کے تحت نمٹائے جاتے ہیں، اس لیے اس میں مقررہ مدت کی پابندی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، اور تاخیر کو معمولی غلطی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہائیکورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ Limitation Act, 1908 کی دفعہ 5 کے تحت تاخیر کی معافی ہر مقدمہ میں خود بخود نہیں ملتی، خصوصاً ایسے مقدمات میں جہاں قانون نے خود ایک خاص طریقۂ کار اور محدود مدت مقرر کر رکھی ہو۔ یعنی اگر کوئی فریق مقررہ وقت گزرنے کے بعد دفاع کی اجازت طلب کرتا ہے، تو وہ محض یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتا کہ تاخیر ہونے کے باوجود عدالت لازماً اسے معاف کرے۔ ایسے معاملات میں قانون کی اسکیم اور مقررہ طریقۂ کار کو فوقیت حاصل ہوگی۔

ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ اگر Leave Application مقررہ مدت کے اندر دائر نہ کی جائے، تو اس کے سنگین قانونی نتائج ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ مدعا علیہ اپنے دفاع کے حق سے بھی محروم ہو سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اگر بروقت leave to defend داخل نہ کیا جائے تو عدالت دعویٰ مدعی کے حق میں آگے بڑھا سکتی ہے، اور صرف تاخیر کی بنیاد پر مدعا علیہ کے دفاع کو رد کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اس نوعیت کے مقدمات میں وقت کی پابندی انتہائی اہم ہے۔

فیصلہ میں ہائیکورٹ نے ایک اہم قانونی اصول allegans contraria non est audiendus کی بھی توثیق کی، جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ جو شخص خود متضاد یا بدلتا ہوا مؤقف اختیار کرے، وہ قانون کی نظر میں قابلِ سماعت نہیں رہتا۔ یعنی اگر کوئی فریق پہلے ایک بات کہے اور بعد میں اسی کے برعکس مؤقف اختیار کرے، تو عدالت ایسے متضاد مؤقف کو قبول نہیں کرتی۔ قانون ایسے رویے کو دیانت اور انصاف کے اصولوں کے خلاف سمجھتا ہے۔

یہ فیصلہ عام فہم انداز میں یہ اصول واضح کرتا ہے کہ summary suits میں صرف دعویٰ کے میرٹ ہی نہیں بلکہ وقت کی پابندی، درست طریقۂ کار، اور مستقل مؤقف اختیار کرنا بھی نہایت اہم ہے۔ اگر فریق مقررہ مدت پوری نہ کرے یا متضاد مؤقف اپنائے، تو صرف اسی بنیاد پر بھی وہ قانونی حق یا دفاع سے محروم ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ہے جو Order ###VII کے تحت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ یہ واضح کرتا ہے کہ procedural law کو معمولی رسمی کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔

Civil Revision No. 46605/22
Haq Nawaz Vs. Additional District & Sessions Judge etc.
(Per Mr. Justice Sultan Tanvir Ahmad)
06-04-2026 | 2026 LHC 2563

25/04/2026

PLD 2026 Lahore 303

Workplace harassment is not limited to office premises; it includes abuse of authority wherever linked to employment. The Ombudsperson may proceed independently of criminal trials. concerns about honor, family dignity and social pressure often silence victims, but delayed reporting cannot be treated as consent or used to defeat a woman's right to justice.
WP. 25636/25
Umar Shahzad Vs Ombudsperson Punjab etc

Address

Liaquatpur

Telephone

+923008773909

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sikandar Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share