28/04/2026
1. اقبالِ جرم کیا ہے؟
اقبالِ جرم سے مراد کسی ایسے شخص کا بیان ہے جس پر کسی جرم کا الزام ہو اور وہ رضاکارانہ طور پر یہ تسلیم کر لے کہ اس نے وہ جرم کیا ہے یا اس جرم میں حصہ لیا ہے۔ یہ اعتراف اس کے خلاف سب سے بڑا ثبوت مانا جاتا ہے، بشرطیکہ یہ بغیر کسی دباؤ یا لالچ کے دیا گیا ہو۔
2. اقبالِ جرم کہاں کیا جا سکتا ہے؟
پاکستان کے قانون کے مطابق، اقبالِ جرم کی دو اہم اقسام ہیں:
عدالتی اقبالِ جرم (Judicial Confession): یہ وہ اعتراف ہے جو کسی مجسڑیٹ کے سامنے کیا جائے۔ قانون کی نظر میں صرف یہی اعتراف سب سے زیادہ معتبر ہے اور اسی کی بنیاد پر سزا سنائی جا سکتی ہے۔
غیر عدالتی اقبالِ جرم (Extra-Judicial Confession): یہ وہ اعتراف ہے جو عدالت کے باہر کسی عام شخص (مثلاً دوست، رشتہ دار یا کسی گواہ) کے سامنے کیا جائے۔ عدالتیں اسے کمزور شہادت مانتی ہیں اور اس کے لیے مزید ٹھوس ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
اہم بات: پولیس کے سامنے کیا گیا اقبالِ جرم قانون میں قابلِ قبول نہیں ہے (آرٹیکل 38 اور 39، قانونِ شہادت)۔ اگر کوئی ملزم پولیس اسٹیشن میں جرم تسلیم کرتا ہے تو اسے عدالت میں ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
3. کس قانون کے تحت اقبالِ جرم مانا جاتا ہے؟
پاکستان میں اقبالِ جرم سے متعلق قواعد درج ذیل قوانین کے تحت آتے ہیں:
قانونِ شہادت آرڈر، 1984 (Qanun-e-Shahadat Order, 1984): اس کے آرٹیکلز 37 سے 45 تک مکمل طور پر اقبالِ جرم کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ کب جائز ہے اور کب نہیں۔
ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 164: اس دفعہ کے تحت مجسٹریٹ ملزم کا بیان ریکارڈ کرتا ہے۔ مجسٹریٹ پر لازم ہے کہ وہ ملزم کو بتائے کہ:
وہ اعتراف کرنے پر مجبور نہیں ہے۔
اگر وہ اعتراف کرے گا تو اسے اس کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
4. اقبالِ جرم کب مسترد کیا جا سکتا ہے؟
اگر عدالت کو یہ محسوس ہو کہ اقبالِ جرم درج ذیل وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے، تو وہ اسے ماننے سے انکار کر سکتی ہے:
مار پیٹ یا جسمانی تشدد کے ذریعے لیا گیا ہو۔
کوئی لالچ یا وعدہ دیا گیا ہو (مثلاً: "جرم مان لو تو سزا معاف کروا دیں گے")۔
ملزم ذہنی طور پر تندرست نہ ہو یا دباؤ میں ہو۔
اقبالِ جرم (Confession) کی قانونی حیثیت، اس کے طریقہ کار اور پولیس تشدد کے حوالے سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے کئی تاریخی فیصلے دیے ہیں۔ ان فیصلوں کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملزم کا بیان مکمل طور پر آزادانہ اور رضاکارانہ ہو۔
ذیل میں چند اہم عدالتی فیصلوں (Judgments) کا خلاصہ دیا گیا ہے:
1. اقبالِ جرم کی رضاکارانہ حیثیت (Voluntary Nature)
اعلیٰ عدالتوں نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ اگر اقبالِ جرم میں ذرہ برابر بھی شک ہو کہ یہ دباؤ میں لیا گیا ہے، تو اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دینا چاہیے۔
2019 SCMR 1218 (سپریم کورٹ): اس فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ اقبالِ جرم صرف اسی صورت میں معتبر ہے جب وہ "رضاکارانہ" (Voluntary) اور "سچا" (True) ہو۔ اگر مجسٹریٹ دفعہ 164 CrPC کے تحت ضروری قانونی تقاضے (جیسے ملزم کو سوچنے کا وقت دینا) پورے نہیں کرتا، تو ایسا اقبالِ جرم ناقابلِ قبول ہوگا۔
2. پولیس کی تحویل میں اعتراف کی حیثیت
پاکستان کے قانونِ شہادت کے تحت پولیس کے سامنے کیا گیا اعتراف ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
PLD 2022 Supreme Court 420: سپریم کورٹ نے وضاحت کی کہ آرٹیکل 38 اور 39 (قانونِ شہادت) کے تحت پولیس افسر کے سامنے کیا گیا کوئی بھی اعتراف ملزم کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا۔ اس کا مقصد پولیس کو تشدد (Torture) کے ذریعے اعتراف جرم کروانے سے روکنا ہے۔
3. مجسٹریٹ کی ذمہ داریاں (Section 164 CrPC)
ہائی کورٹس نے مجسٹریٹس کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ اقبالِ جرم ریکارڈ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
PLD 1994 Lahore 472 (لاہور ہائی کورٹ): اس فیصلے میں کہا گیا کہ مجسٹریٹ پر لازم ہے کہ وہ ملزم کو پولیس کے چنگل سے نکال کر اسے یہ احساس دلائے کہ وہ اب آزاد ہے اور سچ بولنے یا نہ بولنے پر اسے دوبارہ پولیس کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
ہدایت: ملزم کو کم از کم 12 سے 24 گھنٹے سوچنے کا وقت (Time for reflection) دینا ضروری ہے تاکہ پولیس کا خوف ختم ہو سکے۔
4. شریکِ ملزم کا اقبالِ جرم (Confession of Co-accused)
اکثر ایک ملزم جرم تسلیم کر لیتا ہے اور دوسرے کا نام بھی لیتا ہے۔ اس پر عدالتوں کا موقف بہت واضح ہے۔
2021 YLR 1245: عدالت نے قرار دیا کہ ایک ملزم کا اقبالِ جرم دوسرے شریکِ ملزم کے خلاف صرف "تائیدی ثبوت" (Corroborative Evidence) کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن صرف اس ایک بیان کی بنیاد پر دوسرے شخص کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
5. واپس لیا گیا اقبالِ جرم (Retracted Confession)
اگر ملزم عدالت میں اقبالِ جرم کرنے کے بعد مکر جائے کہ مجھ سے زبردستی بیان دلوایا گیا تھا، تو اسے "Retracted Confession" کہتے ہیں۔
PLD 2011 Supreme Court 595: عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزم اپنا بیان واپس لے لے، تو عدالت کو بہت احتیاط کرنی چاہیے اور جب تک دیگر آزاد گواہ یا ٹھوس ثبوت (جیسے ریکوری یا ڈی این اے) موجود نہ ہوں، صرف اس بیان پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
خلاصہ:
اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا نچوڑ یہ ہے کہ:
اعترافِ جرم بلا جبر و اکراہ ہونا چاہیے۔
مجسٹریٹ کو تمام قانونی وارننگز دینی چاہئیں۔
پولیس کا ڈر مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے۔
محض اعتراف کافی نہیں، اگر دیگر حالات و واقعات اس کے خلاف ہوں تو اعتراف مسترد ہو سکتا ہے۔