Shaherbano Awan Advocate

Shaherbano Awan Advocate Experienced lawyer providing Expert legal services

مزید قانونی معلومات اور مشورے کیلئے ہمارے قانونی صفحے کو فالو کریں۔
21/04/2026

مزید قانونی معلومات اور مشورے کیلئے ہمارے قانونی صفحے کو فالو کریں۔

17/04/2026

Wife's maintenance is responsibility of husband

17/04/2026

Visit our page and follow for more informative videos

Can a police demand Marriage certificate from any couple in public place ?

16/04/2026

Kidnapping of a minor child

15/04/2026

Section 365 Pakistan Penal Code

14/04/2026
12/04/2026

For more informative videos Visit & follow our page

11/04/2026

Law of inheritance
Can a son or daughter demand share from father's property?

نادرہ شناختی کارڈ کے حوالے سے ایک قانونی مشورہ پیش کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے والد کا نام معلوم نہ...
10/04/2026

نادرہ شناختی کارڈ کے حوالے سے ایک قانونی مشورہ پیش کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے والد کا نام معلوم نہ ہو، تو نادرہ کو شناختی کارڈ جاری کرنے سے انکار کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
قانونی موقف: والد کا نام معلوم نہ ہونے کی صورت میں، نادرہ شناختی کارڈ جاری کرنے کی پابند ہے۔
عمل درآمد: نادرہ متعلقہ شخص کے والد کا فرضی نام لکھ کر کارڈ جاری کر سکتا ہے۔2024 YLR1073
NADRA cannot refuse to issue an identity card if the father's name is not known; rather, it is obliged to issue the identity card by writing a fictitious name for the father.
Reference: 2024 YLR1073.

09/04/2026

شادی کے خاتمے کے بعد بھی والدین کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔ بیٹے کے لیے یہ ذمہ داری بلوغت تک اور بیٹی کے لیے شادی تک ہوتی ہے، جبکہ معذور یا کمانے سے قاصر بیٹے کی کفالت عمر بھر بھی ہو سکتی ہے۔
PLD 2026 SC 170

27/03/2026

اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ: بیویاں ازدواجی اثاثوں میں 50 فیصد حصے کی حقدار، نکاح نامہ میں اصلاحات کی سفارش
اسلام آباد: ایک تاریخی فیصلے میں، جو پاکستان میں ازدواجی جائیداد سے متعلق عدالتی رویوں کو بدل سکتا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے قرار دیا ہے کہ بیوی—خواہ وہ گھریلو خاتون ہو یا ملازمت پیشہ—شادی کے دوران بنائے گئے گھریلو اثاثوں میں کم از کم 50 فیصد حصے کی حقدار ہے۔
اس کے علاوہ، عدالت نے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت رائج نکاح نامہ میں ترمیم کی سفارش کی ہے تاکہ اس میں ایک مخصوص کالم شامل کیا جائے جس کے ذریعے بیوی شادی کے وقت یہ شرط طے کر سکے کہ اس کے بعد شوہر جو بھی جائیداد بنائے گا، طلاق یا موت کی صورت میں وہ برابر تقسیم ہوگی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک فیملی کیس میں 28 صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا اور کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے فیملی کورٹ بھیج دیا تاکہ 60 دنوں کے اندر نیا فیصلہ کیا جائے۔
کیس کا پس منظر:
یہ فیصلہ مسماۃ عمارہ وقاص بنام محمد وقاص رشید کیس میں سامنے آیا۔ درخواست گزار خاتون نے جنوری 2021 میں گھر سے نکالے جانے کے بعد خرچہ، خلع اور جہیز کے سامان کی واپسی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 16 لاکھ 91 ہزار روپے مالیت کے گھریلو اثاثے ان کی اپنی آمدنی سے خریدے گئے تھے جو شوہر کے قبضے میں ہیں۔
نچلی عدالتوں نے خاتون کے دعوے کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا تھا، لیکن جسٹس کیانی نے پایا کہ شوہر نے خود تسلیم کیا تھا کہ گھر میں اے سی، فریج اور دیگر قیمتی اشیاء موجود ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ خاتون کی تنخواہ کے گوشوارے ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی آمدنی گھریلو اخراجات میں استعمال ہوتی رہی، لہٰذا ان اشیاء میں ان کا حق بنتا ہے۔ عدالت نے ایک گاڑی (سوزوکی کلٹس) کو بھی ازدواجی اثاثہ قرار دیا جو شوہر کے نام تھی لیکن اس میں بیوی کا پیسہ لگا تھا۔
فیصلے کے اہم نکات:

1. اقتصادی شراکت داری: عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان میں شادی کو ایک "اقتصادی شراکت داری" کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔
2. گھریلو کام کی اہمیت: عدالت نے واضح کیا کہ ایک بیوی کی گھریلو خدمات اور مالی تعاون دونوں کو اثاثوں کی تقسیم میں تسلیم کیا جانا چاہیے۔
3. نکاح نامہ میں ترمیم: عدالت نے سفارش کی کہ نکاح نامہ میں ایک نیا کالم شامل کیا جائے تاکہ خواتین شادی کے وقت ہی اپنے مستقبل کے اثاثوں میں حصے کا تحفظ کر سکیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ موجودہ نکاح نامہ کے "کالم نمبر 18" (جس میں شرائط لکھی جا سکتی ہیں) کے بارے میں تعلیمی اداروں میں آگاہی دی جانی چاہیے۔
4. عالمی و اسلامی قوانین کا حوالہ: فیصلے میں ملائیشیا، انڈونیشیا، ترکی، مصر، برطانیہ اور کینیڈا کے قوانین کے ساتھ ساتھ اسلامی فقہ اور قرآنی احکامات کا حوالہ دیا گیا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اسلام خواتین کے حقوق کے تحفظ میں رکاوٹ نہیں ہے۔
5. اثاثوں کی قیمت کا تعین: عدالت نے پرانے گھریلو سامان اور جہیز کی قیمت کا تعین کرنے کے لیے ایک 10 نکاتی فریم ورک بھی وضع کیا، جس میں مہنگائی اور مارکیٹ کی قیمت (جیسے OLX وغیرہ) کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

قانونی ماہرین اس فیصلے کو پاکستان میں فیملی لا کی تاریخ کا اہم ترین فیصلہ قرار دے رہے ہیں، جو خواتین کے مالی حقوق اور ازدواجی زندگی میں ان کی محنت کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

Address

13_G Annexy Aiwan E Auqaf The Mall
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shaherbano Awan Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share