01/03/2026
*سرکاری زمین بالخصوص قبرستان کی زمین پر ناجائز قبضہ کی صورت میں متعلقہ ریونیو ریکارڈ (فردِ ملکیت، جمعبندی، انتقالات اور مسوی) حاصل کر کے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ زمین شامِلات دیہ یا سرکار کی ملکیت ہے، اور اگر ایسا ہو تو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 24 اور 25، پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967، پنجاب پبلک پریمائسز (ایویکشن آف ان آتھرائزڈ آکیوپنٹس) آرڈیننس 1965، ضابطہ فوجداری کی دفعات 133 اور 145، نیز آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن کے ذریعے زمین واگزار کروانے اور ذمہ دار افسران و قابضین کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہے؟*
سرکاری املاک بالخصوص قبرستان کی زمین پر قبضہ نہ صرف اخلاقی اور سماجی اعتبار سے قابلِ مذمت ہے بلکہ آئینی اور قانونی طور پر بھی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسے معاملات میں سب سے پہلے متعلقہ زمین کا مکمل ریونیو ریکارڈ بمطابق قانون پنجاب انفارمیشن اینڈ ٹرانسپرنسی ایکٹ مجریہ 2013 حاصل کرنا ضروری ہے، جس کے لیے متعلقہ پٹواری حلقہ، تحصیل آفس یا اراضی ریکارڈ سنٹر سے فردِ ملکیت، جمعبندی، انتقالات، مسوی (نقشہ جات) اور ریکارڈ آف رائٹس کی مصدقہ نقول حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اگر زمین "شامِلات دیہ"، "قبرستان"، "سرکار"، یا کسی عوامی مقصد کے لیے مختص ظاہر ہو تو یہ واضح ثبوت ہوگا کہ زمین ریاست یا عوامی ملکیت ہے اور اس پر نجی قبضہ غیر قانونی ہے۔
پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 اور اس کے تحت مرتب قواعد کے مطابق ریونیو افسران پر لازم ہے کہ وہ سرکاری ریکارڈ کی حفاظت کریں اور ناجائز اندراجات یا قبضہ کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔
آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973 کا آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کے مطابق سلوک اور قانونی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 24 جائیداد کے تحفظ کا ذکر کرتا ہے، تاہم یہ تحفظ غیر قانونی قبضہ یا سرکاری زمین پر غاصبانہ تصرف کو تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ مزید برآں آرٹیکل 25 قانون کے سامنے مساوات کی ضمانت دیتا ہے، لہٰذا کوئی فرد یا گروہ سرکاری قبرستان کی زمین پر خصوصی استحقاق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
اگر قبرستان کی زمین بلدیاتی حدود میں واقع ہو تو پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت متعلقہ میونسپل کارپوریشن یا یونین کونسل اس کی متولی سمجھی جائے گی اور اسے زمین واگزار کرانے کا اختیار حاصل ہوگا۔
قبضہ کے خاتمہ کے لیے سب سے مؤثر قانونی راستہ پنجاب پبلک پریمائسز (ایویکشن آف ان آتھرائزڈ آکیوپنٹس) آرڈیننس 1965 کے تحت کارروائی ہے، جس کے تحت مجاز اتھارٹی نوٹس جاری کر کے غیر قانونی قابض کو بے دخل کر سکتی ہے۔ مزید برآں ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 145 اور 133 کے تحت امن عامہ یا عوامی راستہ و مفاد میں رکاوٹ کی صورت میں مجسٹریٹ کارروائی کر سکتا ہے۔ اگر ریونیو افسران دانستہ طور پر چشم پوشی کریں تو ان کے خلاف محکمانہ کارروائی اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو درخواست دی جا سکتی ہے، کیونکہ سرکاری زمین کی حفاظت ریاستی ذمہ داری ہے۔
عدالتی چارہ جوئی کے طور پر متعلقہ کلکٹر یا صوبائی محتسب پنجاب ، سیشن یا سول کورٹ میں دعویٰ برائے تخلیہ و واگزاری اراضی دائر کیا جا سکتا ہے، جبکہ آئینی نوعیت کے معاملہ میں ہائی کورٹ کے روبرو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے تاکہ سرکاری اداروں کو قانونی فرائض کی انجام دہی کا پابند بنایا جائے۔ عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹس متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہیں کہ سرکاری اور فلاحی مقاصد کے لیے مختص زمین، بالخصوص قبرستان، پارک اور کھیل کے میدان، عوامی امانت (Public Trust) کے زمرے میں آتے ہیں اور ان پر کسی بھی قسم کا قبضہ یا تبدیلی قانوناً ناقابلِ قبول ہے۔
لہٰذا قانونی و عملی حل یہ ہے کہ پہلے مستند ریونیو ریکارڈ حاصل کیا جائے، متعلقہ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا بلدیاتی ادارہ کو تحریری درخواست دے کر واگزاری کی کارروائی شروع کروائی جائے، اور عدم عملدرآمد کی صورت میں کمیشن/صوبائی محتسب پنجاب یا عدالت عالیہ سے رجوع کیا جائے
Irfan Ahmed Spall
Advocate High court.