30/04/2026
⚖️ برائیڈل گفٹس بیوی کی ملکیت شوہر واپسی کا دعویٰ نہیں کر سکتا
پاکستانی معاشرے میں نکاح اور منگنی کے موقع پر دیے جانے والے تحائف، خصوصاً سونے کے زیورات اور قیمتی اشیاء، اکثر بعد از طلاق تنازعات کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایک اہم عدالتی فیصلے نے اس معاملے پر واضح قانونی اصول متعین کر دیا ہے کہ برائیڈل گفٹس مکمل طور پر بیوی کی ملکیت ہوتے ہیں اور شوہر ان کی واپسی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
📌 مقدمے کا پس منظر
درخواست گزار مسماۃ سمرہ عارف اور جواب دہندہ کے درمیان نکاح 09 ستمبر 2016 کو ہوا، جبکہ 03 اکتوبر 2018 کو طلاق واقع ہوئی۔ ازدواجی زندگی کے دوران ایک بیٹا بھی پیدا ہوا۔ علیحدگی کے بعد فریقین کے درمیان مالی اور ذاتی معاملات پر تنازع پیدا ہو گیا۔
شوہر نے 20 جون 2019 کو فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا کہ اس نے منگنی اور نکاح کے موقع پر بیوی کو سونے کے زیورات اور ڈائمنڈ رنگ بطور تحائف دیے تھے، لہٰذا وہ یا تو یہ اشیاء واپس کرے یا ان کی مالیت تقریباً 18 لاکھ روپے ادا کرے۔
دوسری جانب، بیوی نے بھی اپنے ذاتی سامان کی واپسی کے لیے علیحدہ دعویٰ دائر کیا۔
⚖️ فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کا مؤقف
فیملی کورٹ نے دونوں مقدمات کو یکجا کرتے ہوئے قرار دیا کہ برائیڈل گفٹس سے متعلق دعویٰ اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اپیلٹ کورٹ نے بھی اسی مؤقف کی توثیق کی۔
تاہم، بیوی نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
🏛️ ہائیکورٹ کا فیصلہ اور قانونی نکتہ
ہائیکورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ:
کیا شوہر فیملی کورٹ میں برائیڈل گفٹس کی واپسی کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے؟
عدالت نے فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے سیکشن 5 اور اس کے شیڈول کا جائزہ لیا اور واضح کیا کہ:
فیملی کورٹ کا دائرہ اختیار محدود ہے
ذاتی سامان کی واپسی کا حق صرف بیوی یا اس کے ساتھ رہنے والے بچے کو حاصل ہے
شوہر کو ایسا کوئی قانونی حق حاصل نہیں
📖 سپریم کورٹ کی رہنمائی
ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے ایک اہم فیصلے (PLD 2025 SC 461) پر انحصار کرتے ہوئے قرار دیا کہ:
> نکاح یا منگنی کے موقع پر دیے گئے برائیڈل گفٹس بیوی کی مطلق ملکیت بن جاتے ہیں اور ان کی واپسی کا کوئی دعویٰ قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
❌ دعویٰ ناقابلِ سماعت کیوں قرار پایا؟
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ:
چونکہ شوہر نے خود تسلیم کیا کہ اشیاء بطور تحفہ دی گئی تھیں
لہٰذا وہ قانونی طور پر بیوی کی ملکیت بن چکی ہیں
ایسے دعوے قانوناً ناقابلِ سماعت ہوتے ہیں
Order VII Rule 11 کے اصول کے تحت بھی ایسا دعویٰ مسترد کیا جا سکتا ہے جو قانون کے مطابق قابلِ قبول نہ ہو۔
حتمی فیصلہ
ہائیکورٹ نے:
✔️ ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے
✔️ شوہر کا دعویٰ مسترد کر دیا
✔️ فیملی کورٹ کو ہدایت دی کہ بیوی کے دعویٰ پر قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے
📢 نتیجہ اور قانونی رہنمائی
یہ فیصلہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ:
برائیڈل گفٹس بیوی کی مکمل ملکیت ہوتے ہیں
شوہر یا اس کے ورثاء ان پر کوئی دعویٰ نہیں کر سکتے
طلاق کے بعد بھی یہ حق برقرار رہتا ہے
📌 قانونی آگاہی ہر شہری کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
📢 علم پھیلانا صدقہ جاریہ ہے۔
اپنے حقوق کو جانیے، سمجھئے اور دوسروں تک پہنچائیے تاکہ معاشرے میں انصاف اور شعور کو فروغ دیا جا سکے۔
---
عاصمی گروپ آف لائرز ⚖️