Asmad Khan

Asmad Khan Legal And Political Affairs Only.

پانچ دن سے جاری افغان۔پاکستان سرحدوں پر کشیدگی نے یقیناً حالات کو نئی سمت کی طرف موڑ دیا ہے۔ کسی حلقے نے ان جھڑپوں کے با...
15/10/2025

پانچ دن سے جاری افغان۔پاکستان سرحدوں پر کشیدگی نے یقیناً حالات کو نئی سمت کی طرف موڑ دیا ہے۔ کسی حلقے نے ان جھڑپوں کے باعث افغانوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی بات کی اور ایک دھڑے نے "برادر اسلامی ملک" کی چھتری تلے مذاکرات و مکالمے کو سراہا، لیکن ان دونوں انتہاؤں کے بیچ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بارہا یہ کہتا ہے کہ افغان، افغانی معاشرے کی تباہی کے پیچھے پاکستان واحد ذمہ دار ہے۔ آج اسی بیانیے پر بات کی جائے گی۔

یہ بات بھی کسی فسانے سے کم نہیں کہ افغان سوشلسٹ انقلاب — جسے انقلابِ ثور (Saur Revolution) کہا جاتا ہے — کو چھیننے کے پیچھے پاکستان کا بنیادی ہاتھ تھا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سوویت یونین کے خلاف امریکہ کے ہاتھوں دانستہ طور پر استعمال ہوا اور نتیجے میں سوویت یونین کا انہدام ہوا۔ لیکن یہ سب کچھ تو 80 کی دہائی میں ہوا، اور ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت 1992ء میں گری۔ جس کے بعد پہلی بار طالبان نے افغانستان پر حکومت قائم کی، اور اس کے بعد کے تمام واقعات ہمارے سامنے ہیں۔

میں قارئین کی توجہ افغان جہاد سے پہلے کی طرف لے جانا چاہتا ہوں۔ یعنی ستر کی دہائی کی طرف، جب افغان جہاد کا کوئی وجود نہیں تھا۔ اس دہائی میں نور محمد ترہ‌کی (Nur Mohammad Taraki)، حفیظ اللہ امین (Hafizullah Amin)، اور ان کے ساتھیوں نے پہلی بار انقلابِ ثور کے نام سے افغانستان میں ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کیا۔

ترہ‌کی اور ان کے کئی رفقاء ایامِ نوجوانی میں ماسکو اور لیننگراڈ کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے، چنانچہ ان کے ذہنوں پر کمیونسٹ نظریات کا گہرا اثر تھا۔ افغانستان واپسی پر انہوں نے اسی طرز کا انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ کیا — اور 27 اپریل 1978ء کو انہوں نے صدر محمد داؤد خان کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

کامیابی کے بعد نئی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (PDPA) کی حکومت نے اپنا سوشلسٹ منشور نافذ کیا جو بظاہر ترقی یافتہ مگر عملی طور پر افغان معاشرت کے لیے ناپختہ اور غیر فطری تھا۔ ان اصلاحات میں زمین کی تقسیم، خواتین کی تعلیم، جہیز اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف قوانین، اور جاگیردارانہ ڈھانچے کی توڑ پھوڑ شامل تھی۔

تاہم یہ تمام فیصلے اتنی تیزی اور شدت سے نافذ کیے گئے کہ دیہی اور مذہبی افغان سماج انہیں سمجھنے اور قبول کرنے سے قاصر رہا۔ نتیجتاً ملک بھر میں بغاوتوں نے جنم لیا، جن میں ہرات کی بغاوت (مارچ 1979ء) سب سے بڑی تھی۔

جب حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو ترہ کئی حکومت نے سوویت یونین سے مدد کی درخواست کی۔ اس موقع پر وہ 5 سمبر 1978ء کو ہونے والا معاہدہ — "Treaty of Friendship, Good-Neighborliness, and Cooperation" یاد آیا جس میں یہ شق شامل تھی کہ اگر کسی فریق کو بیرونی یا اندرونی خطرہ لاحق ہو تو دوسرا فریق مشاورت اور ضرورت پڑنے پر فوجی امداد فراہم کرے گا۔

ابتدائی طور پر سوویت یونین نے براہِ راست فوج بھیجنے سے گریز کیا اور صرف عسکری مشیر، پائلٹ، اور اسلحہ فراہم کیا۔ مگر جب ترہ‌کی کو حفیظ اللہ امین نے ستمبر 1979ء میں ہٹا کر قتل کر دیا، اور پھر امین خود اقتدار میں آیا تو ماسکو کو خدشہ ہوا کہ وہ مغرب نواز ہے۔ آخرکار 24 دسمبر 1979ء کو سوویت توپوں اور دستوں نے اسی معاہدے کی بنیاد پر افغانستان میں داخل ہو کر امین کو ہٹا دیا اور ببرک کارمل (Babrak Karmal) کو اقتدار میں بٹھا دیا۔

یوں ایک داخلی اصلاحاتی انقلاب عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ امریکہ نے باغی قوتوں یعنی مجاہدین کی سرپرستی شروع کی، جبکہ سوویت یونین کمیونسٹ حکومت کے ساتھ کھڑا رہا۔ پاکستان اس پراکسی کا جغرافیائی و عسکری مرکز بنا، جس نے آگے چل کر خود اپنی سیاسی و معاشرتی سمتوں کو بھی بدل دیا۔

تاہم یہاں ایک نکتہ واضح ہونا چاہیے اور بار بار زور دیا جانا چاہیے کہ افغان سوشلسٹ انقلاب کے انجام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی کے بنیادی ذمہ دار افغان ریاست اور اس کی حکومتیں خود تھیں ۔ ان کے ذریعے اپنائی گئی پالیسیوں، اصلاحات کے ناپختہ نفاذ، اندرونی تقسیم اور طاقت کے استعمال نے ملکی مزاج اور سماجی ڈھانچے کو تباہی کے عمل کی طرف دھکیلا
۔ بیرونی مداخلتیں اور دیگر ممالک کے کردار اہمیت رکھتے ہیں، مگر مکمل ذمہ داری اندرونی سیاسی فیصلوں اور حکومتی عملداری پر ہی عائد ہوتی ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ افغانستان کی مکمل تباہی کا ذمہ دار صرف پاکستان ہے، سراسر تاریخی بددیانتی اور یک رخا تجزیہ ہے۔

بقلم: خود اسمد خان۔

ہندی نظم/کویتا میں ڈاکٹر شو منگل کا اپنا ایک الگ مقام سمجھا جاتا ہے، ان کے آرٹ میں اقبال کی خودی اور جوش ملیح آبادی کی ج...
10/10/2025

ہندی نظم/کویتا میں ڈاکٹر شو منگل کا اپنا ایک الگ مقام سمجھا جاتا ہے، ان کے آرٹ میں اقبال کی خودی اور جوش ملیح آبادی کی جرت ہمہ وقت دکھنے کو ملتی ہے۔
ان کی ایک نظم قارئین کی نظر کرتا ہوں۔ اگر آپ تھوڑی سی بھی ہندی سمجھتے ہیں تو مکمل نہ سہی لیکن مفہوم سمجھ لیں گے۔

یہ ہار ایک وِرام ہے،
جیون مہا سنگرام ہے،
تِل تِل مِٹوں گا پر دَیا کی بھیِک میں لوں گا نہیں،
وردان مانگوں گا نہیں۔

کیا ہار میں، کیا جیت میں،
کِنچِت نہیں بھَیبھیت میں،
سَنگھرش پَتھ پر جو ملے، یہ بھی صحیح، وہ بھی صحیح
وردان مانگوں گا نہیں۔

لَگتا نہ اب میری چھو،
تم ہو مہان بنے رہو،
اپنے ہِردے کی ویدنا میں وِرتھ تیاگوں گا نہیں،
وردان مانگوں گا نہیں۔

چاہے ہِردے کو تاپ دو،
چاہے مجھے ابھیشاپ دو،
کچھ بھی کرو کرتوِیہ پَتھ سے کِنتُ بھاگوں گا نہیں،
وردان مانگوں گا نہیں۔

–ڈاکٹر شِو منگل سنگھ سمن

13/09/2025

شائد تمہیں نصیب ہو اے کشتگانِ شب
روئے افق سے صبح کے آثار دیکھنا.

سندھ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے وزیر سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں ایسے 10 ہزار اسکول جو سرے سے ’’موجود‘‘ ہی نہی...
13/09/2025

سندھ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے وزیر سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں ایسے 10 ہزار اسکول جو سرے سے ’’موجود‘‘ ہی نہیں ہیں یا پھر بند پڑے ہیں، انہیں مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

ان اسکولوں کی یہ دائمی بندش مرحلہ وار ہوگی جس میں پہلے 7 ہزار اسکول بند کیے جائیں گے اور پھر باقی کے 3 ہزار اسکول مزید چھان بین کے بعد بند کیے جائیں گے۔

معزز قارئین، ایسی خبر اکثر اُس وقت دلچسپ بن جاتی ہے جب ریاستیں یہ سمجھتی ہیں کہ ان کے ملک میں تعلیم کے لیے ادارے تو زیادہ ہیں لیکن پڑھنے والے طلبہ و طالبات کم۔

سہیل وڑائچ صاحب کے لفظ کی روشنی میں ’’تَضادستان‘‘ جو کہ تضادات کی سرزمین ہے، ایسے تضادات کا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
آئیے لمحہ بھر کے لیے پورے ملک کو نظرانداز کرتے ہیں اور اپنی توجہ صرف سندھ تک محدود رکھتے ہیں۔

سندھ کی سرکاری مردم شماری کے مطابق شرحِ خواندگی 60 فیصد ہے، جبکہ آزاد اداروں کے کیے گئے سروے میں یہ 56 فیصد بتائی گئی ہے۔ سندھ میں آج بھی 5 سے 16 سال کی عمر کے 44 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے، یوں یہ تعداد صوبے کے کل بچوں میں سے تقریباً 78 لاکھ بنتی ہے۔
اور اقتصادی سروے کے مطابق سندھ میں 16 لاکھ بچے چائلڈ لیبر سے جُڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 50 فیصد بچے غیر محفوظ اور خطرناک آلات جن میں سیفٹی کی شدید کمی ہے سے لیس کام کر کے روزی روٹی کما رہے ہیں۔

ایسی سنگین صورتِ حال میں حکومت کا تعلیمی ادارے بند کرنا کسی عام فہم شخص کی سمجھ سے بالاتر ہے۔
لیکن بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔

ان 10 ہزار اسکولوں میں سے

1,459 اسکول ایسے ہیں جو کاغذوں میں تو موجود ہیں لیکن زمین پر ان کا کوئی نام و نشان نہیں۔

4,901 اسکول ایسے ہیں جو خالی پڑے ہیں، تعجب ہے کہ تقریباً 80 لاکھ غیر تعلیم یافتہ بچوں کی موجودگی کے باوجود چار ہزار سے زائد اسکول ویران پڑے ہیں۔

اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ان اسکولوں میں تقریباً 5 ہزار اساتذہ تنخواہیں بھی وصول کر رہے ہیں لیکن ان کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں، یعنی وہ اساتذہ بھی اسکولوں کی طرح کہیں وجود نہیں رکھتے۔ ان ’’گھوسٹ ٹیچرز‘‘ کو سب سے زیادہ عمرکوٹ، بینظیر آباد اور میرپور خاص کے علاقوں میں ٹریک کیا گیا ہے۔

یہ فیصلے اور اعداد و شمار سندھ حکومت کی نااہلی، نالائقی اور عوامی مسائل سے عدم توجہ کو ظاہر کرتے ہیں۔ بغیر کسی شک و شبہ کے یہ ایک ایسی حکومت ہے جس کی باگ ڈور جاگیرداروں اور وڈیروں کے ہاتھ میں ہے، جن کے اپنے بچے ایم آئی ٹی، کیمبرج، ہارورڈ اور آکسفورڈ جیسے اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں، مگر غریب کے 80 لاکھ بچوں کی تعلیم ان کی کسی بھی طرح پہلی ترجیح نہیں ہے۔ لہذا جب تک محکمہ تعلیم محض ووٹ پکے کرنے اور الیکشن جیتنے کا ہتھیار بنا رہے گا، اور ادارے میں سیاسی بھرتیوں کا بول بالا رہے گا تو پھر اس طرح کی کامیڈی بارہا دوہرائی جاتی رہے گی۔

دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت کا توازن کبھی مستقل نہیں رہتا۔ پیس آف ویسٹفالیا (1648) سے لے کر آج تک، تقریباً ہر چالی...
11/09/2025

دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت کا توازن کبھی مستقل نہیں رہتا۔ پیس آف ویسٹفالیا (1648) سے لے کر آج تک، تقریباً ہر چالیس پچاس سال بعد عالمی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی نظر آتی ہے۔ کہیں عارضی، کہیں مستقل، لیکن ہر بار عالمی طاقتوں کی صف بندی بدلتی ہے اور بیلنس آف پاور ایک نئی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

تاریخ کی جھلک دیکھیں تو نپولین کی شکست کے بعد 1815 میں "کونسرٹ آف یورپ" ابھرا، پہلی جنگ عظیم کے بعد ورسائی معاہدہ اور لیگ آف نیشنز سامنے آئے، دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ اور سرد جنگ کی بائی پولر دنیا تشکیل پائی۔ پھر 1991 میں سوویت یونین کے انہدام نے دنیا کو ایک یک قطبی (unipolar) نظام میں دھکیل دیا، جسے امریکہ اور یورپ کی بالادستی نے طویل عرصے تک برقرار رکھا۔

تاہم اس انہدام کو اب چھتیس برس گزر چکے ہیں۔ ان برسوں میں مغربی بالادست عالمی نظام کو روایتی مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ یہ مزاحمت اس بار کسی یورپی طاقت یا امریکہ کے حریف سے نہیں، بلکہ ایشیا، لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ابھرتے ہوئے ممالک سے ہے۔ چین، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ جیسے ملک پہلی بار تاریخ میں بیلنس آف پاور کی ری شیپنگ کے مرکز بن کر سامنے آ رہے ہیں۔
اس سے پہلے کے تمام بیلنس آف پاور کو حتمی شکل دینے والے بین لاقوامی کھلاڑی یا تو یورپی رہے یا پھر امریکی لیکن یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ اس میں اہم کردار ایشیائی ممالک کا ہے۔
بلاشبہ یہ صدی یقیناً ایشیا کی صدی ہے۔ جیسا کہ سرد جنگ کی پالیسی مرتب کرنے والے بریزنسکی نے کہا تھا: "دنیا کا ہرٹ لینڈ اب دنیا کے بیلنس آف پاور کا فیصلہ کرے گا۔"

اس سب میں افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جغرافیائی اعتبار سے مالامال ہونے کے باوجود پاکستان ابھی بھی ایک "مڈل رینک" ملک کے طور پر کھڑا ہے۔ وہ کردار جو اسے اپنی صلاحیتوں اور مقام کے مطابق ادا کرنا چاہیے تھا، نظر نہیں آ رہا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ جب دنیا وسائل اور اختیار کی نئی تقسیم کرے گی تو پاکستان ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے رحم و کرم پر ہوگا۔

یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اگر ہم نے اپنی سمت درست نہ کی تو ایک بار پھر اگلے پچاس سال تک تاریخ کے اہم پنوں میں ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

09/09/2025

پچھلی بات چیت میں میں نے نیپال کی بدلتی صورتِ حال کا ذکر کیا تھا، جہاں حکومت نے اچانک ملک بھر میں 14 سے زائد انٹرنیٹ ایپلیکیشنز پر پابندی لگائی اور اس فیصلے نے عوامی ردِعمل کو جنم دیا۔ اُس وقت یہ تحریک محض سوشل میڈیا اور ڈیٹا پرائیویسی کے گرد گھومتی دکھائی دیتی تھی، مگر اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔

حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد 19 سے تجاوز کر گئی ہے، متاثرین میں حکومتی وزرا کے ساتھ بھی تشدد کیا گیا ہے اور بعض مقامات پر تو وزیرِاعظم کی اہلیہ کو زندہ جلانے کی بات تک کی گئی۔ جو تحریک کل تک سوشل میڈیا کی آزادی کے لیے تھی، آج اُس کا بیانیہ عالمی میڈیا نے anticorruption movement کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

یہ بیانیہ دلچسپ اس لیے بھی ہے کہ "ڈیپ اسٹیٹ" کا سب سے آزمودہ ہتھیار کسی بھی حکومت کو ختم کرنے کے لیے یہی کرپشن مخالف تحریکیں ہی تو ہیں۔

اگر پیچھے دیکھیں تو یہ کہانی نئی نہیں۔
2011/12 میں ہندوستان میں انا ہزارے کی تحریک نے کانگریس اور من موہن سنگھ کی حکومت کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا۔
2021 میں بالکل اسی بیانیے پر میانمار میں آنگ سان سوچی کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
پھر سری لنکا میں یہی کچھ ہوا۔
شیخ حسینہ واجد کے بنگلہ دیش میں بھی کچھ ایسا ہی منظرنامہ رہا۔
اور اب نیپال۔

یہ تو محض جنوبی ایشیا کی مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دنیا بھری پڑی ہے: جنوبی کوریا میں مارشل لا، جاپان اور فرانس کے وزرائےاعظم کے استعفے، یوکرین میں مارشل لا، اور افریقی ممالک میں ایک کے بعد ایک ریجیم چینج۔

یعنی کہانی وہی پرانی ہے, چہرے اور ممالک بدل جاتے ہیں سامراجی مفاد اور اس کو تحفظ فراہم کرنے والے قائم رہتے ہیں ۔

نیپال: احتجاج یا تخریب؟کل نیپال کی حکومت نے اچانک ایک بڑا فیصلہ کیا۔ ملک بھر میں تقریباً 14 سے زائد بڑی internet applica...
08/09/2025

نیپال: احتجاج یا تخریب؟

کل نیپال کی حکومت نے اچانک ایک بڑا فیصلہ کیا۔ ملک بھر میں تقریباً 14 سے زائد بڑی internet applications پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ ان میں اکثریت امریکی کمپنیز کی تھی۔
حکومت کے مطابق اس قدم کا مقصد "data protection" اور "local apps" کو فروغ دینا تھا، تاکہ عوام کا ڈیٹا محفوظ رہے۔

بظاہر یہ فیصلہ اقدار اعلی کے نام پر کیا گیا، لیکن اگلے ہی دن حالات بلکل بدل گئے۔ چند نوجوان، Gen Z کا بینر اٹھائے، نیپالی پارلیمنٹ کے سامنے پہنچے۔ ابتدا میں یہ احتجاج چند درجن لوگوں پر مشتمل تھا، مگر چند ہی گھنٹوں میں یہ ایک بڑے اجتماع میں تبدیل ہوگیا۔

صورتحال اس وقت سنگین ہوئی جب مشتعل نوجوانوں نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا، شاید یہ سوچتے ہوئے کہ دباؤ ڈالنے سے حکومت اپنا فیصلہ واپس لے گی۔ مگر نتیجہ مختلف نکلا۔
پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی، آنسو گیس، ڈنڈے اور ربڑ کی گولیاں استعمال ہوئیں۔ 14 افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔

اس منظر کو دیکھ کر یقینا اہلیان وطن کو 9 مئی کی یاد تازہ ہوئی ہوگی۔ یقینا یہ نیپال کا "9 مئی" تھا۔

پھر چند گھنٹوں کے اندر جو احتجاج چند نوجوانوں نے شروع کیا تھا، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک عوامی تحریک کا نقشہ پیش کرنے لگا۔ اتنا دباؤ بڑھا کہ بالآخر وزیرِ داخلہ کو استعفیٰ دینا پڑا۔

لیکن دوستو، اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب محض ایک احتجاج تھا یا کسی بڑی آفت کا آغاز؟

احباب اس موقع پر ایک اور پہلو بھی سامنے رکھیں۔ آج ہی کے دن چین کے بھارت میں سفیر نے اعلان کیا کہ SCO SUMMIT کے دوران مودی اور شی کی ملاقات میں دونوں ممالک نے سرحدی تنازعے پر consensus حاصل کر لیا ہے۔

چونکہ دہائیوں تک چین اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار نیپال نے ادا کیا۔ ایسے میں جب دونوں بڑی طاقتیں قریب آرہی ہیں، نیپال میں اس وقت عدم استحکام کا پھوٹ پڑنا، کیا محض اتفاق ہے؟

کیا یہ نئی تحریک صرف انٹرنیٹ آزادی کے لیے ہے، یا پھر اس کے پیچھے بڑے علاقائی شطرنج کے مہرے حرکت میں ہیں؟
سچ کیا، فیصلہ آپ کا۔

تحریر کردہ: اسمد خان

Address

Lahore
33480

Telephone

+923150505264

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asmad Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Asmad Khan:

Shortcuts

Share