15/10/2025
پانچ دن سے جاری افغان۔پاکستان سرحدوں پر کشیدگی نے یقیناً حالات کو نئی سمت کی طرف موڑ دیا ہے۔ کسی حلقے نے ان جھڑپوں کے باعث افغانوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی بات کی اور ایک دھڑے نے "برادر اسلامی ملک" کی چھتری تلے مذاکرات و مکالمے کو سراہا، لیکن ان دونوں انتہاؤں کے بیچ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بارہا یہ کہتا ہے کہ افغان، افغانی معاشرے کی تباہی کے پیچھے پاکستان واحد ذمہ دار ہے۔ آج اسی بیانیے پر بات کی جائے گی۔
یہ بات بھی کسی فسانے سے کم نہیں کہ افغان سوشلسٹ انقلاب — جسے انقلابِ ثور (Saur Revolution) کہا جاتا ہے — کو چھیننے کے پیچھے پاکستان کا بنیادی ہاتھ تھا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سوویت یونین کے خلاف امریکہ کے ہاتھوں دانستہ طور پر استعمال ہوا اور نتیجے میں سوویت یونین کا انہدام ہوا۔ لیکن یہ سب کچھ تو 80 کی دہائی میں ہوا، اور ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت 1992ء میں گری۔ جس کے بعد پہلی بار طالبان نے افغانستان پر حکومت قائم کی، اور اس کے بعد کے تمام واقعات ہمارے سامنے ہیں۔
میں قارئین کی توجہ افغان جہاد سے پہلے کی طرف لے جانا چاہتا ہوں۔ یعنی ستر کی دہائی کی طرف، جب افغان جہاد کا کوئی وجود نہیں تھا۔ اس دہائی میں نور محمد ترہکی (Nur Mohammad Taraki)، حفیظ اللہ امین (Hafizullah Amin)، اور ان کے ساتھیوں نے پہلی بار انقلابِ ثور کے نام سے افغانستان میں ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کیا۔
ترہکی اور ان کے کئی رفقاء ایامِ نوجوانی میں ماسکو اور لیننگراڈ کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے، چنانچہ ان کے ذہنوں پر کمیونسٹ نظریات کا گہرا اثر تھا۔ افغانستان واپسی پر انہوں نے اسی طرز کا انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ کیا — اور 27 اپریل 1978ء کو انہوں نے صدر محمد داؤد خان کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
کامیابی کے بعد نئی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (PDPA) کی حکومت نے اپنا سوشلسٹ منشور نافذ کیا جو بظاہر ترقی یافتہ مگر عملی طور پر افغان معاشرت کے لیے ناپختہ اور غیر فطری تھا۔ ان اصلاحات میں زمین کی تقسیم، خواتین کی تعلیم، جہیز اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف قوانین، اور جاگیردارانہ ڈھانچے کی توڑ پھوڑ شامل تھی۔
تاہم یہ تمام فیصلے اتنی تیزی اور شدت سے نافذ کیے گئے کہ دیہی اور مذہبی افغان سماج انہیں سمجھنے اور قبول کرنے سے قاصر رہا۔ نتیجتاً ملک بھر میں بغاوتوں نے جنم لیا، جن میں ہرات کی بغاوت (مارچ 1979ء) سب سے بڑی تھی۔
جب حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو ترہ کئی حکومت نے سوویت یونین سے مدد کی درخواست کی۔ اس موقع پر وہ 5 سمبر 1978ء کو ہونے والا معاہدہ — "Treaty of Friendship, Good-Neighborliness, and Cooperation" یاد آیا جس میں یہ شق شامل تھی کہ اگر کسی فریق کو بیرونی یا اندرونی خطرہ لاحق ہو تو دوسرا فریق مشاورت اور ضرورت پڑنے پر فوجی امداد فراہم کرے گا۔
ابتدائی طور پر سوویت یونین نے براہِ راست فوج بھیجنے سے گریز کیا اور صرف عسکری مشیر، پائلٹ، اور اسلحہ فراہم کیا۔ مگر جب ترہکی کو حفیظ اللہ امین نے ستمبر 1979ء میں ہٹا کر قتل کر دیا، اور پھر امین خود اقتدار میں آیا تو ماسکو کو خدشہ ہوا کہ وہ مغرب نواز ہے۔ آخرکار 24 دسمبر 1979ء کو سوویت توپوں اور دستوں نے اسی معاہدے کی بنیاد پر افغانستان میں داخل ہو کر امین کو ہٹا دیا اور ببرک کارمل (Babrak Karmal) کو اقتدار میں بٹھا دیا۔
یوں ایک داخلی اصلاحاتی انقلاب عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ امریکہ نے باغی قوتوں یعنی مجاہدین کی سرپرستی شروع کی، جبکہ سوویت یونین کمیونسٹ حکومت کے ساتھ کھڑا رہا۔ پاکستان اس پراکسی کا جغرافیائی و عسکری مرکز بنا، جس نے آگے چل کر خود اپنی سیاسی و معاشرتی سمتوں کو بھی بدل دیا۔
تاہم یہاں ایک نکتہ واضح ہونا چاہیے اور بار بار زور دیا جانا چاہیے کہ افغان سوشلسٹ انقلاب کے انجام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی کے بنیادی ذمہ دار افغان ریاست اور اس کی حکومتیں خود تھیں ۔ ان کے ذریعے اپنائی گئی پالیسیوں، اصلاحات کے ناپختہ نفاذ، اندرونی تقسیم اور طاقت کے استعمال نے ملکی مزاج اور سماجی ڈھانچے کو تباہی کے عمل کی طرف دھکیلا
۔ بیرونی مداخلتیں اور دیگر ممالک کے کردار اہمیت رکھتے ہیں، مگر مکمل ذمہ داری اندرونی سیاسی فیصلوں اور حکومتی عملداری پر ہی عائد ہوتی ہے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ افغانستان کی مکمل تباہی کا ذمہ دار صرف پاکستان ہے، سراسر تاریخی بددیانتی اور یک رخا تجزیہ ہے۔
بقلم: خود اسمد خان۔