Meet Wakeel

Meet Wakeel Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Meet Wakeel, Lawyer & Law Firm, Mazang Road, Lahore.

Civil Laws, Criminal laws, Tax & Corporate Laws, Company (Sole Proprietor/Partnership Firm/ Pvt LTD
Trademark (Logo, Domain, Copyright, Patent, Design)
NTN/Business NTN
Filer
Income Tax Returns
PST/PRA Returns
GST/Sales Tax Returns

Contact # 0313-6784453

14/03/2026

اپنے گھر یا آفس میں بیٹھ کر پنجاب گورنمنٹ کا ای اسٹامپ پیپر خود پرنٹ کرنے کا طریقہ (بیانِ حلفی 300 روپے والا):
سب سے پہلے PLRA کی ویب سائٹ اوپن کریں۔
وہاں موجود Get an e-Stamp کے آپشن پر کلک کریں۔
اس کے بعد Challan Form (Low Denomination) کو اوپن کریں۔
فارم میں مطلوبہ تمام تفصیلات درست طریقے سے درج کریں۔
فارم مکمل کرنے کے بعد اسے Save کر لیں، اس سے آپ کا چالان تیار ہو جائے گا۔
اب اس چالان کو Easypaisa / JazzCash یا کسی بینک کے ذریعے جمع کروا دیں۔
چالان جمع ہونے کے بعد دوبارہ ویب سائٹ پر جا کر Download Stamp Paper کے آپشن پر کلک کریں۔
وہاں Challan Number / PSID درج کریں۔
جو موبائل نمبر آپ نے فارم میں دیا تھا، اس پر Stamp Number آئے گا، اسے بھی درج کریں۔
اس کے بعد اپنا شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر لکھیں۔
پھر Download Stamp پر کلک کریں۔
آخر میں ایک Password / OTP مانگا جائے گا، جو آپ کے موبائل پر آئے گا۔ اسے درج کرنے کے بعد e-Stamp Paper ڈاؤن لوڈ ہو جائے گا اور آپ اسے پرنٹ کر سکتے ہیں۔

02/03/2026

نو منتخب کابینہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سال 2026-27

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سال 2026-27 کے لیے نو منتخب عہدیداران میں

مسٹر بابر مرتضیٰ خاں بطور صدر منتخب ہوئے ہیں۔
اسی طرح مسٹر سہیل قیصر تارڑ صاحب نائب صدر،
اور مسٹر قاسم اعجاز سمراء صاحب سیکرٹری لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن منتخب ہوئے ہیں۔
مسٹر ملک علی رضا کھوکھر صاحب، فنانس سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن منتخب ہوئے ہیں ـ

وکلاء برادری کی جانب سے نو منتخب قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا سلسلہ جاری ہے اور اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ نئی کابینہ بار اور بنچ کے درمیان مثالی ہم آہنگی کو مزید فروغ دے گی۔

Important Note
28/02/2026

Important Note

27/02/2026

پنجاب بھر کے محنت کشوں کے لیے اہم قانونی نوٹیفکیشن جاری!
حکومتِ پنجاب نے لیبر قوانین کے حوالے سے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے سوشل سیکیورٹی (PESSI) کے لیے کم از کم اجرت کی حد (Wage Ceiling) کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے اہم نکات:
📌 اجرت کی نئی حد: سوشل سیکیورٹی کنٹری بیوشن کے لیے ماہانہ اجرت کی حد اب 40,000 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
🗓️ تاریخِ اجراء: یہ نوٹیفکیشن 11 فروری 2026 کو "دی پنجاب گزٹ" میں شائع کیا گیا۔
⚖️ قانونی حیثیت: یہ فیصلہ "پراونشل ایمپلائز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس 1965" کے سیکشن 71(2) کے تحت کیا گیا ہے۔
عام آدمی اور ورکر کے لیے اس کا کیا فائدہ ہے؟
اب وہ تمام ملازمین جن کی تنخواہ 40,000 روپے تک ہے، سوشل سیکیورٹی کے مکمل حقدار ہوں گے۔ اس میں علاج معالجہ، ڈسپنسری کی سہولت اور دیگر مراعات شامل ہیں۔

پنجاب میں ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد ۔۔۔محکمہ داخلہ نے دفعہ 144 نافذ کر دی۔محکمہ داخلہ پنجاب نے ڈرون کے استعمال پر پ...
25/02/2026

پنجاب میں ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد ۔۔۔
محکمہ داخلہ نے دفعہ 144 نافذ کر دی۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔۔۔
کسی بھی قسم کے ڈرون کیمرے کے استعمال پر پابندی ہوگی۔۔ ۔
شادی بیاہ تقریبات میں گھر کے اندر ڈرون کیمرہ چلانے کی اجازت ہوگی۔۔
گھر سے باہر ڈرون یا ڈرون کیمرہ چلانے پر دفعہ 144 لاگو ہوگی۔ ۔
خلاف ورزی پر پولیس کو مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

فی ایکڑ کی رجسٹری کروانے کے فیس+ ٹیکس تفصیلات یہ صرف (گاؤں) دیہاتی علاقہ کے معلومات ہیں
25/02/2026

فی ایکڑ کی رجسٹری کروانے کے فیس+ ٹیکس تفصیلات یہ صرف (گاؤں) دیہاتی علاقہ کے معلومات ہیں

اب پیمنٹ کیش نہیں ڈیجیٹل ہوگی، پنجاب حکومت نے واضح حکم جاری کردیاپنجاب بھر کے تمام کاروباری، تاجر، پرچون پر کیو آر کوڈ آ...
24/02/2026

اب پیمنٹ کیش نہیں ڈیجیٹل ہوگی، پنجاب حکومت نے واضح حکم جاری کردیا

پنجاب بھر کے تمام کاروباری، تاجر، پرچون پر کیو آر کوڈ آویزاں کیے جائیں، مراسلہ

کاروباری لین دین کیو آر کوڈ اور براہ راست کے ذریعے کیا جائے، مراسلہ

پنجاب بھر کے پیٹرول پمپس پر فوری طور ڈیجیٹل پیمنٹس کو یقینی بنانے کا حکم

پنجاب حکومت نے صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو ڈیجیٹل پیمنٹ پر عملدرآمد کی ہدایت جاری کردی

سرکاری ملازمین کے لیے اہم اپڈیٹ ۔۔۔محکمانہ انکوائری میں جرح کا حق لازمی — سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہسپریم کورٹ نے سروس م...
24/02/2026

سرکاری ملازمین کے لیے اہم اپڈیٹ ۔۔۔
محکمانہ انکوائری میں جرح کا حق لازمی — سپریم کورٹ
کا تاریخی فیصلہ

سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں
ایک نہایت اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ محکمانہ انکوائری میں گواہوں پر جرح (Cross-Examination) کا حق دینا لازمی ہے، بصورتِ دیگر پوری کارروائی قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہوگی۔

📌 کیس کا پس منظر
یہ فیصلہ CPLA No.706/2021 میں جسٹس Muhammad Ali Mazhar اور جسٹس Musarrat Hilali پر مشتمل بینچ نے سنایا۔

درخواست گزار محمد عابد، جو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خیبر پختونخوا میں نائب قاصد تعینات تھے، کو مبینہ غیر حاضری کی بنیاد پر محکمانہ انکوائری کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ:
انکوائری خیبر پختونخوا سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2011 کے مطابق نہیں کی گئی
گواہوں کے بیانات ان کی موجودگی میں ریکارڈ نہیں کیے گئے
انہیں گواہوں پر جرح کا موقع نہیں دیا گیا

⚖️ سپریم کورٹ کا قانونی مؤقف
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ:
شو کاز نوٹس کا مقصد ملازم کو مؤثر دفاع کا موقع دینا ہے۔

اگر انکوائری میں گواہ پیش کیے جائیں تو ملزم کو لازمی طور پر ان پر جرح کا حق دیا جائے۔
جرح کا حق "قدرتی انصاف" (Natural Justice) اور آرٹیکل 10-A (حقِ منصفانہ ٹرائل) کے تحت بنیادی حق ہے۔

اگر یہ حق نہ دیا جائے تو پوری کارروائی مشکوک اور کالعدم ہو سکتی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ محکمانہ انکوائری میں سقم یا جان بوجھ کر قانونی تقاضے پورے نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ ایک سرکاری ملازم کا پورا کیریئر اور روزگار داؤ پر لگا ہوتا ہے۔

📖 سابقہ نظائر کا حوالہ
عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں:
Federation of Pakistan v. Zahid Malik
Ghulam Murtaza Sheikh v. Chief Minister Sindh
کا حوالہ دیتے ہوئے اعادہ کیا کہ:
بغیر جرح کے کوئی بھی الزام ثابت تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جرح ہی وہ قانونی ذریعہ ہے جس سے سچ اور جھوٹ کا تعین ہوتا ہے۔
🏛️ حتمی حکم
سپریم کورٹ نے:
سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا

📢 اہم قانونی نکتہ
یہ فیصلہ تمام سرکاری ملازمین اور محکمانہ اتھارٹیز کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ:
✔️ محکمانہ کارروائی میں شفافیت
✔️ جرح کا مکمل حق
✔️ منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کی پابندی
لازمی ہے، ورنہ کارروائی عدالت میں برقرار نہیں رہ سکتی۔

24/02/2026

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس وصولیوں میں تیزی لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں 30 افسران پر مشتمل ایک "لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل" قائم کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کے ذریعے غیر اعلان شدہ دولت کا پتہ لگائے گا۔ اسلام آباد سے ستمبر 2025 سے کام کرنے والی یہ یونٹ عوامی پوسٹس کا جائزہ لے کر ان کیسز کی نشاندہی کرتی ہے جہاں دکھائی دینے والے اثاثے اور اخراجات ظاہر کردہ آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایک مثال میں، افسران نے ایک شادی کی لاگت کا تخمینہ لگایا جو مبینہ طور پر منظر عام پر لائی گئی آمدنی سے کہیں زیادہ تھی۔

یہ اقدام جاری مالی دباؤ کے پیش نظر محصولات میں اضافے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ راشد لنگڑیال کے مطابق، افراد اکثر آن لائن اپنی دولت کے آثار ظاہر کرتے ہیں جبکہ سرکاری دستاویزات میں اپنی آمدنی کم ظاہر کرتے ہیں، جس سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تضادات کی نشاندہی کے لیے ایک حوالہ نکتہ بن جاتے ہیں۔ حکام کا اندازہ ہے کہ زیرِ جائزہ مقدمات کے پہلے بیچ سے 2.5 ارب روپے تک کی وصولی متوقع ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسی طرح کی نگرانی کے طریقے ملائیشیا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک میں ٹیکس کی تعمیل کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ اس پیش رفت نے نفاذ کے دائرہ کار، رازداری کے خدشات، اور انفلوئنسرز اور نمایاں شخصیات پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔

26/12/2025

زمین کے ریکارڈ میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصطلاحات — آسان الفاظ میں
ذیل میں زمین کے ریکارڈ میں استعمال ہونے والی اہم اصطلاحات کو قدرے مختلف انداز میں بیان کیا جا رہا ہے تاکہ تحریر نقل شدہ نہ لگے، مگر مفہوم برقرار رہے:
1- موضع:
موضع زمین کے ریکارڈ کا بنیادی اور بڑا یونٹ ہوتا ہے۔ عام طور پر ایک بڑے گاؤں یا چند چھوٹے دیہات کو ملا کر ایک موضع تشکیل دیا جاتا ہے۔ موضع کا نام عموماً اسی گاؤں یا علاقے کے نام پر رکھا جاتا ہے۔
2- کھیوٹ نمبر:
جب کسی موضع میں مختلف خاندانوں اور افراد کی زمین شامل ہوتی ہے تو اس زمین کو منظم کرنے کے لیے کھیوٹ نمبر الاٹ کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی خاندان کے پاس ایک ہی موضع میں سو ایکڑ زمین ہو تو اسے ایک مخصوص کھیوٹ نمبر دے دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات مختلف افراد یا خاندانوں کی مشترکہ زمین بھی ایک ہی کھیوٹ میں شامل ہوتی ہے۔ زمین کی خرید و فروخت یا دیگر تبدیلیوں کی صورت میں کھیوٹ نمبر تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔
3- کھتونی نمبر:
ایک ہی کھیوٹ میں کئی مالکان ہو سکتے ہیں، کسی کے پاس کم رقبہ اور کسی کے پاس زیادہ۔ ہر مالک کے حصے کی پہچان کے لیے کھتونی نمبر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک کھیوٹ میں دس ایکڑ زمین ہو اور دو مالکان کے پاس پانچ پانچ ایکڑ ہوں تو دونوں کو الگ الگ کھتونی نمبر ملیں گے۔ یہ نمبر بھی لین دین یا تقسیم کی صورت میں بدل سکتا ہے۔
4- خسرہ نمبر:
کھتونی میں شامل زمین کو مزید چھوٹے حصوں یعنی کھیتوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور ہر کھیت کو خسرہ نمبر دیا جاتا ہے۔ خسرہ نمبر عموماً مستقل ہوتا ہے اور فروخت کے باوجود تبدیل نہیں ہوتا۔ اسی نمبر کے ساتھ کھیت کی حدود، لمبائی اور چوڑائی بھی درج ہوتی ہے۔
5- مساوی (شجرہ):
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے جس میں کھیتوں کی جگہ، راستے، نہریں اور دیگر تفصیلات دکھائی جاتی ہیں۔ یہ نقشہ عام طور پر پٹواری کے پاس کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا کہا جاتا ہے۔
6- جمعبندی:
جمعبندی وہ رجسٹر ہے جس میں موضع، کھیوٹ، کھتونی اور خسرہ نمبر کے مطابق زمین کی مکمل تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ زمین کا مالک کون ہے اور کاشت کون کر رہا ہے، خود یا مزارع کے ذریعے۔ زمین کی فرد اسی ریکارڈ کی بنیاد پر جاری کی جاتی ہے۔
7- گردآوری:
گردآوری میں اس بات کا اندراج ہوتا ہے کہ کسی زمین پر اس وقت کون سی فصل کاشت کی گئی ہے یا کی جا رہی ہے۔ یہ اندراج بھی پٹواری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
اہم ہدایت:
زمین خریدتے وقت ہمیشہ مخصوص خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر خریداری کریں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص دو ایکڑ زمین کا مالک ہو اور وہ زمین مختلف خسرہ نمبرز میں تقسیم ہو، تو صرف کھیوٹ کی بنیاد پر خریدنے سے بعد میں تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اپنی پسند کے خسرہ نمبر کی فرد لیں گے تو وہی مکمل رقبہ قانونی طور پر آپ کے نام منتقل ہوگا۔ بصورت دیگر مستقبل میں وراثتی یا قبضے کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
اس لیے زمین خریدنے سے پہلے ریکارڈ اچھی طرح جانچ لینا ہمیشہ فائدے میں رہتا ہے۔

*اسلام آباد : انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا فارم اردو زبان میں آن لائن دستیاب کر دیا گیا ، جس سے تقریبا 84 ٪ فائلرز مست...
15/08/2025

*اسلام آباد : انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا فارم اردو زبان میں آن لائن دستیاب کر دیا گیا ، جس سے تقریبا 84 ٪ فائلرز مستفید ہوں گے۔*
*تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا فارم اردو زبان میں آن لائن دستیاب کر دیا ہے، آن لائن فارم کو آسان فہم کرنے اور اردو زبان میں لاگو کرنے سے تقریبا 84 ٪ فائلرز مستفید ہوں گی*
*انکم ٹیکس ایک ایسا براہ راست ٹیکس ہے جو افراد، کاروباروں یا دیگر اداروں کی سالانہ آمدن پر عائد ہوتا ہے۔ پاکستان میں ہر شہری، جس کی آمدن مقررہ حد سے تجاوز کرے، پر انکم ٹیکس ادا کرنا قانونی طور پر لازم ہے۔ یہ ٹیکس قومی خزانے کے لیے ایک بنیادی آمدنی کا ذریعہ ہوتا ہے.

خوشخبری برائے تمام ٹیکس گزاران!!ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرن 2025 جمع کروانے کا آغاز کر دیا ہے۔جو لوگ Late Filer کیٹیگری...
01/08/2025

خوشخبری برائے تمام ٹیکس گزاران!!
ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرن 2025 جمع کروانے کا آغاز کر دیا ہے۔
جو لوگ Late Filer کیٹیگری میں شامل ہیں، وہ انکم ٹیکس ریٹرن 2025 جمع کروانے کے فوری بعد Active Filer کیٹیگری میں شامل ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے پراپرٹی کی خریداری پر 1.5% اور پراپرٹی کی فروخت پر 4.5% ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔۔

📣 یہ ایک سنہری موقع ہے..اضافی ٹیکس ادائیگی سے بچیں۔۔
📅 آخری تاریخ: 30 ستمبر 2025

✅ ہمیشہ قابل اعتماد اور سند یافتہ ٹیکس کنسلٹنٹ یا وکیل سے رابطہ کریں .ہماری خدمت کے لیے ابھی رابطہ کریں 03136784453

Address

Mazang Road
Lahore

Telephone

+923136784453

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Meet Wakeel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Meet Wakeel:

Share