06/05/2025
SRO 709(I)/2025
پس منظر:
پاکستان میں ٹیکس چوری کی روک تھام اور ڈیجیٹل ٹریکنگ کے لیے FBR نے "الیکٹرانک انوائسنگ" کو لازمی قرار دیا ہے۔ یہ قدم بتدریج 2020 سے شروع کیا گیا تھا، اور اب SRO 709(I)/2025 کے ذریعے اسے تمام سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد پر لاگو کیا جا رہا ہے۔
اہم دفعات کی وضاحت:
1. دائرہ کار (Scope):
یہ حکم ان تمام کاروباروں پر لاگو ہوتا ہے جو:
سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں
کسی بھی شعبہ میں کام کر رہے ہیں:
مینوفیکچررز، امپورٹرز، ہول سیلرز، ڈسٹری بیوٹرز، ریٹیلرز، سپلائرز وغیرہ
2. الیکٹرانک انوائسنگ کا نظام:
ہر ٹرانزیکشن کی انوائس FBR کے سسٹم سے ریئل ٹائم میں منسلک ہوگی۔
ہر انوائس پر:
Unique Identification Number (UID)
QR کوڈ
ٹائم اسٹیمپ شامل ہوگا۔
3. سافٹویئر انضمام (Software Integration):
کاروبار اپنی POS یا ERP سسٹمز کو FBR کے ساتھ API کے ذریعے منسلک کریں گے۔
یہ انضمام:
یا تو FBR کے لائسنس یافتہ انٹیگریٹر کے ذریعے
یا PRAL (Pakistan Revenue Automation Ltd.) کے ذریعے ہوگا۔
4. ڈیڈ لائنز:
کارپوریٹ ادارے:
1 مئی 2025 سے ای انوائسنگ کا آغاز کریں۔
نان-کارپوریٹ ادارے:
1 جون 2025 سے لاگو ہوگا۔
5. قانونی بنیاد:
یہ حکم Sales Tax Rules, 2006 کے Rule 150Q(2) کے تحت جاری کیا گیا ہے۔
6. عدم تعمیل کی سزا:
اگر کوئی کاروبار اس نظام میں شامل نہ ہو:
تو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 33 کے تحت
جرمانے، انوائسز کی نامنظوری، آڈٹ یا رجسٹریشن معطل ہونے جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
فائدے:
ٹرانزیکشنز کی شفافیت
ٹیکس نیٹ میں اضافہ
جعلی انوائسز کا خاتمہ
بزنس ڈیٹا کی خودکار رپورٹنگ