15/07/2019
38,32,467روپے کے واحد مُلزم کی فوری ضمانت
ہیونز لاء کمپنی کی شاندار کامیابی
کیس کا پس منظر
مدعی مقدمہ جو کہ لاہور کا رہائشی ہے اُس کا ہمارے موکل کے خلاف الزام تھا کہ ہمارے موکل نے مُختلف موبائل نمبروں سے کال کر ایک کمپنی ع غ ف کی طرف سے کروڑوں کے فرضی انعامات کا جھانسا د ے کراور باتوں باتوں میں اُسے پھنسا کر اُس سے تقریبا چالیس لاکھ روپے ہتھیا لیے۔
مدعی مقدمہ جو کہ پڑھا لکھا اور اعلی ٰافسران سے تعلقات والا ٓادمی تھا ۔ اُس نے انسپکٹر جنر ل پنجاب لاہور سے درخواست مقدمہ منظور کروا کر تھانہ ساندہ ضلع لاہور میں
درج کرو ا دی ۔ ہمارا موکل جو کہ سرگودھا کا رہائشی تھا اُس کے گھر پولیس FIR 486/16
مُسلسل ریڈز کر کے اُس کی زندگی کو اجیرن کروا دیا۔ لاہور پولیس نے بنائے ایف ٓائی ٓار ، گرفتاری کے لیے ، سرگودھا پولیس سے روابط کیے۔ سرگودھا پولیس کے افسران نے لوکل لوگگوں کے ساتھ مل کر ہمارے موکل کو بلیک میل کر کے اُس سے بہت سی رقم ہتھیاتے رہے۔
بالآخر اُس کو پولیس نے گھر سے اغوا کر کے، قانونی کارروائی عمل میں لائے بغیر ، گُمنام جگہ پر رکھ کر بے حد تشددکیا۔ ظلم کی حد یہ کہ مُلزم کی بے ٓاسرا بیوی کو تمام جائیداد بیچ کر اپنے خاوند کو حبس ِ بے جا سے بازیاب کروانے کی دھمکیاں پولیس کُھلے عام دیتی رہی۔ مجبوری کے عالم میں ، لاچار بیوی نے اپنے خاوند کو تمام جائیداد فروخت کر کے بازیاب کروا لیا اور پولیس اس اقدام کو اپنی قطعی کامیابی گردانتی رہی جبکہ یہ ظُلم کی انتہا تھی۔ کُچھ ہی دن گُزرے تھے کہ پولیس نے بلیک میلنگ دوبارہ شُروع کر دی۔ ہمارا موکل اس قدر بے سروپا و سامان ہو گیا، کہ پولیس کی دھمکیوں سے تنگ ٓا کر اُس نے اپنا علاقہ چھوڑ دیا۔
دل دہلا دینے والی بات تو یہ ہے کہ موکل اپنی بیوی اور دو ننھی بچیوں سمیت ایک جنگل نما ویرانہ میں ، خو ف سے بدحال ہو کر ،زندگی گزار نے لگا، نوبت یہاں تک ٓا گئی کہ اُس نے اپنے سمیت تمام خاندان کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
ابھی اس مقدمہ سے اُس کو نجات نصیب نہ ہوئی تھی کہ ٓاخر کار لاہور پولیس نے بذریعہ مُخبر اُس کے وہاں بھی سُکھ کا سانس نا لینے دیا اور چھاپہ مار کر اُس کو وہاں سے گگرفتا ر کر کے ایک اور قیامت برپا کر دی اور اُس کو لاہور کے متعلقہ تھانہ میں حوالہ ِ پولیس کر دیا ۔
ضابطہ کی کارروائی
پولیس نے مُلزم کو علاقہ مجسٹریت کے سامنے پیش کر کے ، چار روزہ جسمانی ریمانڈ لے لیا ۔
اُس پر انتہا کا تشدد شروع کر دیا گیا، اُس کو سخت رسیوں کی مدد سے اُلٹا لٹکا کر، ڈنڈوں کی بارش کرتے رہے ۔ پولیس کے خصوصی ٓالہ تشدد سے اُس کی چمڑی اُدھیڑتی رہی ۔ اُس کے پاوں کی تلیوں کو بے رحمی سے ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔
ہیونز لاء کی قانونی معاونت
ہمارے موکل کی بیوی زندگی کا کُل سرمایہ لُٹا کر در بدر پھرتی رہی۔ اس اثنا میں وہ پاکستان کی سب سے بڑی لاء کمپنی ، ہیونز لاء کمپنی کے پاس فریاد لے کر ٓا ئی ۔ ابھی جسمانی ریمانڈ کے چار میں سےصر ف دو ہی دن گُزرے تھے کہ ہیونز لاء کمپنی کی ٹیم تھانہ ساندہ ، لاہور پُہنچ گئی اور پولیس کو خبردار کر دیا کہ اگر ہمارے موکل پر مزید تشدد کیا تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
جس کی بنا پر ہمارے موکل کے ٓائیند ہ دو دن بہتر گُزرے۔ ہیونز لاء کمپنی نے یہ کیس ایک انتہائی تجربہ کار ، ماہر ِ فوجداری ایڈووکیٹ ، جناب وقاص احمد گوندل کو برائے قانونی کارروائی سونپ دیا۔
ہیونز لاء کی طرف سے قانونی کارروائی
ہیونز لاء کمپنی کی ریسرچ ٹیم نے کیس کی تیاری میں جناب وقاص احمد گوند ل ، ایڈووکیٹ لاہور ہائی کورٹ ، کافی محنت کر تے ہوئے، لگن کے ساتھ قانونی قواعدو ضوابط کو ملحوظ ِ خاطر رکھتے ہوئے، کیس کی بھرپور تیاری کی۔ جیسے ہی ہمارے موکل کو چار دن کے جسمانی ریمانڈ کے اختتام پر عدالت میں پیش کیا گیا تو ہیونز لاء کمپنی کے سینئر ایڈووکیٹ ، جناب وقاص احمد گوندل نے قانونی مہارتوں کی مدد سے ، عدالتی نظائر
PLD 1970 LHR 369, PLD 2002 AJ 20, PLD 2012 LAH 260, PLD 1992 KAR358, 2016 YLR 2212
پیش کیے۔
High Court Rules Vol III Part B, Ch:11-B, Police Rules 1934 Ch. 25, CrPc Sec-167,344
کی روشنی میں مُلزم کو جوڈیشل کروانے کے لیے ، عدالت میں خوب بحث کی۔
اور ٓا خر عدالت نے چالیس لاکھ روپے کے مُلزم کو مزید پولیس حوالگی سے انکار کر کے، ایک ریکارڈ قائم کرتے ہوئے، ہمارے موکل کو پہلی ہی تاریخ میں جوڈیشل کر دیا۔ جس پر ہمارا موکل مزید پولیس تشدد سے محفوظ ہوگیا۔
مُلزم کی ضمانت مُنظور
کیس کو مزید طوالت میں ڈالنے کی بجائے ، ساتھ ہی موکل کی ضمانت بعد از گرفتاری دائر کر دی گئی ۔ کیس ضمانت کے ریسرچ ورک کے دوران ، پروسیکیوشن کی بُہت سی غلطیوں کو واضح کیا گیا ، مقدمہ میں موجود پولیس کی غلط درج شُدہ دفعات اور کوتاہیوں کو بھی منظر ِ عام پر لا یا گیا۔ مددگار عدالتی نظائر
2012 PCRLJ 708, 2008 MLD 1554, 2004 YLR 2288
کی معاونت سے بحث کی گئی ، جس کے نتیجے میں روزانہ کی کارروائی کے بعد ایک ہفتہ کے اندر مُلزم کی ضمانت منظور ہو گئی اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ اپنے گھر روانہ ہو گیا۔ کیس جاری ہے۔۔۔۔۔۔