Lawyers & Consultants

Lawyers & Consultants Dedicated Lawyers committed to safeguard your legal world. Advocates, Solicitors & Corporate Lawyers

13/08/2026

*فوجداری مقدمہ کے مراحل*
*(ایف آئی آر سے فیصلہ مقدمہ تک)*

ایف آئی آر 𝐅𝐈𝐑:
جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے تو سب سے پہلے پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے اگر وہ جرم قابلِ دست اندازی ہو تو پولیس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟓𝟒 کے تحت 𝐅𝐈𝐑 درج کرتی ہے(قابل دست اندازی جرم وہ ہوتے ہیں ہیں جن میں پولیس کسی بھی ملزم کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے) ایف آئی آر کا مقصد فوجداری قانون کو حرکت میں لانا ہوتا ہے اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو پولیس کے اس عمل کے خلاف آپ 𝐃𝐒𝐏 یا 𝐒𝐏 کو درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر پھر بھی ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی تو جسٹس آف پیس (𝐣𝐮𝐬𝐭𝐢𝐜𝐞 𝐨𝐟 𝐩𝐞𝐚𝐜𝐞) کے پاس پٹیشن (𝐩𝐞𝐭𝐢𝐭𝐢𝐨𝐧) دائر کی جاتی ہے۔ یہ پٹیشن ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟐𝟐𝐀 اور 𝟐𝟐𝐁 کے تحت دائر کی جاتی ہے۔ جسٹس آف پیس کے اختیارات سیشن ججز کے پاس ہی ہوتے ہیں۔ مطلب کہ یہ درخواست سیشن جج (𝐬𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐣𝐮𝐝𝐠𝐞) کے پاس درج کی جائے گی اور وہ پولیس کو 𝐝𝐢𝐫𝐞𝐜𝐭 کرے گا کہ اس وقوعہ کی ایف آئی آر درج کرے۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس استغاثہ (𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐞 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐥𝐚𝐢𝐧𝐭) کا راستہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ کسی بھی جرم (چاہے وہ قابل دست اندازی پولیس ہو یا نہ ہو) کے متعلق علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دی جا سکتی ہے۔

ضمانت قبل از گرفتاری:
ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد اگر شخص سمجھتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور وہ بے گناہ ہے تو وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟒𝟗𝟖 کے تحت سیشن کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے درخواست دائر کر سکتا اور گرفتار ہونے سے بچ سکتا ہے۔

تفتیش:
ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد پولیس دفعہ 𝟏𝟓𝟔 کے تحت اس کے متعلق تفتیش شروع کرتی ہے۔ جائے وقوعہ پر جا کر کر ثبوت اکٹھے کرتی ہے۔ دفعہ 𝟏𝟔𝟏 کے تحت گواہوں کے بیان ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔

ملزمان کی گرفتاری:
پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ دوران تفتیش قابلِ ضمانت یا ناقابلِ ضمانت کیس میں ملزمان کو گرفتار کرے۔ اس کے علاوہ دفعہ 𝟏𝟔𝟗 کے تحت پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کو بے گناہ پا کر چھوڑ بھی سکتی ہے۔
مجسٹریٹ کے سامنے پیشی:
تفتیش کے دوران پولیس 𝟐𝟒 گھنٹوں کے اندر اندر گرفتار شدہ ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کی پابند ہے۔
جب پولیس گرفتار ملزمان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتی ہے تو اس وقت تک کی گئی تفتیش بھی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنی ہوتی ہے اور اگر 𝟐𝟒 گھنٹوں میں تفتیش مکمل نہ کی گئی ہو تو ملزم کے جسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ کی درخواست دی جاتی ہے اور دوسری جانب مجسٹریٹ کے سامنے پیشی پر ملزم ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے درخواست دیتا ہے۔

ریمانڈ:
ریمانڈ دو طرح کا ہوتا ہے۔ جب پولیس نے ملزم سے کوئی برآمدگی کرنی ہو تو وہ دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتی ہے کہ ملزم کو واپس پولیس کے حوالے کیا جائے۔ اگر پولیس کو ملزم کی حراست کی ضرورت نہ ہو تو وہ دفعہ دفعہ 𝟑𝟒𝟒 کے تحت ریمانڈ جوڈیشل کی درخواست کرتی ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی زیادہ سے زیادہ میعاد 𝟏𝟓 دن ہے لیکن مجسٹریٹ کبھی بھی 𝟏𝟓 دن کا ریمانڈ ایک ساتھ نہیں دیتا بلکہ دو دو یا چار چار دن کا ریمانڈ جسمانی دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اب اگر دو دن کا ریمانڈ دیا گیا ہو تو پولیس اس شخص کو دو دن کے بعد دوبارہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گی۔ اس دوران جو بھی تفتیش کی ہوتی ہے وہ مجسٹریٹ کے سامنے رکھے گی اور دوبارہ سے ریمانڈ کے لیے درخواست دے گی۔ اس طرح وقفے وقفے سے مجسٹریٹ ٹوٹل 𝟏𝟓 دن کا جسمانی ریمانڈ پر ملزم کو پولیس کے حوالے کر سکتا ہے لیکن اگر ریمانڈ کی درخواست دیتے وقت مجسٹریٹ کو لگے کہ کہ پولیس نے کوئی خاص تفتیش نہیں کی تو مجسٹریٹ جسمانی ریمانڈ نہیں دیتا بلکہ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیتا ہے۔

ضمانت بعد از گرفتاری:
اب ہم دیکھتے ہیں کہ کہ ایف آئی آر درج ہوگئی ملزم گرفتار ہوا اور ہم نے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔ ملزم اب بعد از گرفتاری ضمانت کیلئے درخواست دائر کرسکتا ہے اور اگر عائد کردہ جرم قابل ضمانت ہو تو ضمانت ملزم کا حق ہے۔ ناقابلِ ضمانت جرم میں اگر ملزم بے گناہ ہو اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو اور مزید تفتیش کی ضرورت ہو تو بھی ملزم کو ضمانت مل سکتی ہے۔

چالان (𝐏𝐨𝐥𝐢𝐜𝐞 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭):
اب اگلا مرحلہ چالان جمع کروانے کا ہوتا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟕𝟑 ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 𝟏𝟒 دن کے اندر اندر مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع کروانا ہوتا ہے اگر 𝟏𝟒 دنوں میں پولیس نے چالان جمع نہیں کرایا تو تین دن کے اندر عبوری چالان جمع کرائے گی۔ مطلب کہ پولیس کے پاس چالان جمع کرانے کے لیے 𝟏𝟒+𝟑 دن کا وقت ہوتا ہے اس دورانیہ میں پولیس نے ہر حال میں مکمل یا نامکمل چالان جمع کرانا ہوتا ہے ( نامکمل چالان اس صورت میں جمع ہوتا ہے جب 𝐟𝐨𝐫𝐞𝐧𝐬𝐢𝐜 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭 تیار نہیں ہوتی اور اس کے آنے میں ابھی وقت ہوتا ہے) تاکہ جتنے بھی ثبوت اکٹھے ہوئے ہیں جتنی بھی تفتیش ہوئی ہے اس کی بنیاد پر عدالت ٹرائل چلا سکے لیکن عدالت کا اختیار ہے کہ وہ مکمل چالان کے بعد بھی ٹرائل شروع کر سکتی ہے۔
Follow the Legal Thought for more updates
چالان کے کالم:
چالان کے 𝟕 کالمز ہوتے ہیں۔ پولیس نے ابھی تک جتنی بھی کارروائی کی ہوتی ہے اس چالان فارم پر لکھتی ہے۔
پہلے کالم میں نام و پتہ مستغیث درج ہوتا ہے
دوسرا کالم اشتہاری ملزمان کا ہوتا ہے
تیسرے کالم میں زیر حراست ملزمان کے کوائف درج ہوتے ہیں چوتھا کالم ان ملزمان کے متعلق ہوتا ہے جو ضمانت پر رہا ہوتے ہیں
پانچویں کالم میں مال مقدمہ کی تفصیل درج ہوتی ہے مثلاً ملزمان سے کوئی ہتھیار یا چرس برآمد ہوئی ہو تو اس کا ذکر ہوتا ہے
چھٹے کالم میں استغاثہ کے گواہان کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ ساتویں کالم میں پوری تفتیش کا خلاصہ لکھا ہوتا ہے۔
چالان کے ساتھ مختلف ڈاکومنٹ بھی لف ہوتے ہیں جن میں ایف آئی آر کی کاپی، میڈیکل رپورٹ، فرد مقبوضگی اور نقشہ موقع شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مستغیث اور گواہان کے بیانات جو کہ پولیس نے 𝟏𝟔𝟏 کے تحت ریکارڈ کیے ہوں شامل ہوتے ہیں۔

مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع ہونے پر اگر مجسٹریٹ کو لگے کہ وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟗𝟎 کے مطابق اس کیس کے ٹرائل کا اختیار رکھتا ہے تو ٹرائل شروع کرتا ہے اور اگر اسے لگے اس کیس میں ٹرائل شروع کرنے کا اختیار سیشن کورٹ کے پاس ہے تو وہ اس کیس کو سیشن جج کے پاس بھیج دیتا ہے۔ ضابطہ فوجداری میں دونوں عدالتوں کے ٹرائل کی الگ الگ وضاحت کی گئی ہے۔ لیکن یہاں ہم ٹرائل کو عام نقظہ نظر سے دیکھیں گے۔

ملزم کو دستاویزات کی فراہمی:
اگر تو ملزمان ضمانت پر رہا ہیں تو پولیس کے ذریعے انہیں بلایا جائے گا اگر تو وہ جیل میں ہیں تو بذریعہ جیل سپرانٹنڈنٹ انہیں بلایا جائے گا۔ جب ملزمان حاضر ہو جاتے ہیں تو چالان، گواہوں کے بیان اور جو بھی متعلقہ ڈاکومنٹ چالان کے ساتھ لف ہوتا ہے ان سب کی کاپیاں بغیر معاوضہ کے انھیں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ڈاکومنٹس فرد جرم عائد ہونے سے کم از کم 𝟕 دن پہلے دینا لازم ہے تاکہ ملزم کو پتہ چل سکے کہ اس کے خلاف کیا کیس ہے اور کیا کیا ثبوت اکٹھے ہو چکے ہیں۔

ٹرائل کا آغاز:
اب ٹرائل کا مرحلہ آتا ہے۔ ٹرائل کا آغاز ملزم پر فرد جرم عائد کرنے سے ہوتا ہے۔ عدالت ملزم کو بتاتی ہے تمہارے اوپر یہ الزام ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ اقبال جرم کرتا ہے یا جوابدہی کرے گا۔ ٹرائل کے دوران اگر تو ملزم اقبال جرم کر لے تو عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس کو سزا سنا دے۔ لیکن اگر عدالت کو لگے کہ وہ جھوٹا اعترافی بیان دے رہا ہے تو عدالت اس کے بیان کو رد بھی کر سکتی ہے۔
اگر ملزم اعترافی بیان نہیں دیتا تو پھر باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوتا ہے اس کے بعد پرازیکیوشن(𝐩𝐫𝐨𝐬𝐞𝐜𝐮𝐭𝐢𝐨𝐧) کے گواہوں کے بیان ریکارڈ ہوتے ہیں اور ملزم کا وکیل ان پر جرح کرتا ہے۔ پرازیکیوشن کے پاس دو طرح کے گواہ ہوتے ہیں ایک تو پرائیویٹ گواہ ہوتے ہیں جو کہ مستغیث کے گواہ ہوتے ہیں مثلاً کہ چشم دید گواہ وغیرہ۔ دوسرے پولیس کے گواہ ہوتے ہیں جیسا کہ ایف آئی آر درج کرنے والا پولیس افسر۔
جب پرازیکیوشن کے گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو جاتے ہیں اس کے بعد ملزم کا 𝟑𝟒𝟐 کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
Follow for more updates
جو کہ ہر حال میں لازم ہے۔ ملزم سے مختلف سوال پوچھے جاتے ہیں مثلاً اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے خلاف یہ کیس کیوں بنایا گیا ہے یہ گواہ آپ کے خلاف گواہی کیوں دے رہے ہیں۔ ملزم ان سوالوں کا عموماً یہ ہی جواب دیتا ہے کہ میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا اور میں بے گناہ ہوں۔ اس کے علاوہ ملزم سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ اپنی صفائی میں کوئی ڈاکومنٹ یا کوئی گواہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ان سوالوں میں ایک سوال یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ کیا وہ اپنے حق میں گواہی دینا چاہتا ہے اگر وہ کہے کہ میں اپنا گواہ بنتا ہوں تو 𝟑𝟒𝟎 کے تحت وہ حلف اٹھا کر اپنے ہی گواہ کے طور پر پیش ہوتا ہے اور بیان دیتا ہے اور پرازیکیوشن اس پر جرح کرتی ہے۔ لیکن عام طور پر ملزمان 𝟑𝟒𝟎 کے تحت اپنا ہی گواہ نہیں بنتے اور نہ ہی اپنے حق میں کوئی گواہ پیش کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ اپنا ہی گواہ خود بنے یا اپنے حق میں کوئی اور گواہ پیش کرے تو مخالف وکیل کو اس پر اور اس کے گواہ پر جرح کا حق ہوگا اور اس جرح میں ملزم پھنس سکتا ہے۔

بحث:
اب اگلا مرحلہ آرگومنٹ کا آتا ہے دونوں اطراف سے دونوں پارٹیز کے وکیل بحث کرتے ہیں۔

فیصلہ:
عدالت کیس کے متعلق فیصلہ سناتی ہے۔ فیصلہ کے لیے ضروری ہے کہ جج پہلے اسے لکھے اور پھر اس فیصلے کو عدالت میں سنائے۔ فیصلہ میں مجرم کو بری کر دیا جاتا ہے یا سزا سنائی جاتی ہے۔ اگر تو فیصلہ اس کی سزا کا ہے تو ملزم کو اپیل دائر کرنے کے لیے اس فیصلہ کی ایک نقل بلا اجرت دی جاتی ہے۔

.Yahya Khan Handlana Sial AHC 03007681455

13/08/2026

‏معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ کے خلاف مقدمہ درج،ملزم گرفتار
‏ایف آئی اے لاہور میں درج مقدمہ کے مطابق ملزم بلال عبداللہ نے اپنے ساتھی نعیم ارشد کے ہمراہ شہری علی رضا نامی شہری کو نوکری کے لیے امریکہ بھجوانے کے عوض 70 لاکھ روپے مانگے جس کا معاہدہ طے ہوا،دونوں ملزمان نے شہری سے کیش اور آن لائن ٹرانسفر کی صورت میں 50 لاکھ سے زائد رقم وصول کی مگر شہری کو امریکہ نہ بھجوا سکے،موبائل فون سمیت دیگر ریکارڈ سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزم وکیل کو گرفتار کرلیا.

13/08/2026

🚨 **بیان زیر دفعہ 164 ض ف — کیا ایک سے زائد بار قلمبند ہو سکتا ہے؟**

ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے کہ مقدمہ میں متاثرہ (victim) کا بیان زیر دفعہ 164 ض ف ایک بار سے زیادہ بھی قلمبند کرایا جا سکتا ہے۔

⚖️ یہ بات قانون کے خلاف ہے۔

🔹 اینٹی ریپ (انویسٹیگیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ 2021 کی دفعہ 14 کے مطابق متاثرہ کا بیان زیر دفعہ 164 ض ف صرف ایک بار ہی قلمبند کیا جا سکتا ہے۔
🔹 یہ بیان ویڈیو ریکارڈ اور تحریری صورت میں محفوظ کیا جائے گا۔
🔹 ملزم کے وکیل کو جرح کا موقع دیا جائے گا، عدالت خود بھی سوالات پوچھ سکتی ہے یا ملزم کے سوالات پریزائیڈنگ افسر کے ذریعے پوچھے جائیں گے۔

📌 اس ایکٹ سے قبل اعلیٰ عدالتوں کے کچھ فیصلے موجود تھے جن میں ایک سے زائد بار بیان قلمبند کرانے کی گنجائش تھی، لیکن 2021 کے اس قانون کے نفاذ کے بعد وہ نظائر اب غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔

📌 قانونی رائے کے لیے ہمیشہ اپنے وکیل سے رجوع کریں۔

کیا آپ کے علم میں بھی ایسی غلط قانونی معلومات پھیلائی جا رہی ہیں؟ کمنٹ میں بتائیں۔
M.Yahya Khan Handlana Sial AHC 03007681455

13/08/2026

📜 **بیوی کا سابقہ بوائے فرینڈ سے رابطہ — قانونی حیثیت اور اثرات**

🔹 اگر بیوی کا شادی کے بعد کسی سابقہ تعلق (ex-boyfriend) سے رابطہ ثابت ہو جائے تو یہ شوہر کے لیے خلع/طلاق یا جوڈیشل ڈیکری کی بنیاد بن سکتا ہے، بشرطیکہ عدالت میں ٹھوس شواہد پیش کیے جائیں۔

🔹 عدالتیں عموماً "irreconcilable differences" کی بنیاد پر رشتہ ازدواج ختم کرنے کی اجازت دیتی ہیں — PLD 2006 SC 613 میں سپریم کورٹ نے ازدواجی رشتے میں ناقابلِ حل اختلافات کی بنیاد پر خلع کو برقرار رکھا۔

🔹 ذہنی اذیت (mental cruelty) بھی خلع کی بنیاد تسلیم کی جاتی ہے — 2016 YLR 1448 میں عدالت نے ذہنی و جسمانی زیادتی کو خلع کے لیے کافی قرار دیا۔

🔹 تاہم بچوں کی کسٹڈی کے معاملے میں صرف "ماں کا کردار" یا "ماضی کا تعلق" خودبخود ماں کو نااہل قرار نہیں دیتا — عدالتوں نے واضح کیا ہے کہ بچے کی فلاح و بہبود (welfare of minor) ہی بنیادی اصول ہے:
• Mst. Hameed Mai v. Irshad Hussain (PLD 2002 SC 267)
• Muhammad Siddique v. Lahore High Court (PLD 2003 SC 887)
• Mst. Shahista Naz v. Muhammad Naeem Ahmed (2004 SCMR 990)
• Shabana Naz v. Muhammad Saleem (2014 کیس)

🔹 ان تمام فیصلوں میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ماں کی دوسری شادی یا اس پر کردار کے الزامات، خودبخود کسٹڈی سے محرومی کی بنیاد نہیں بن سکتے جب تک بچے کی فلاح متاثر ہونے کے ٹھوس شواہد نہ ہوں۔

📌 نوٹ: ہر کیس کے حقائق مختلف ہوتے ہیں، لہٰذا اپنے مخصوص معاملے پر کسی وکیل سے مشورہ لازمی کریں۔

❓آپ کی رائے میں کیا "ماضی کا تعلق" واقعی کسٹڈی یا خلع کے فیصلے پر اثر انداز ہونا چاہیے؟ کمنٹس میں بتائیں۔
M.Yahya khan Handlana Sial AHC 03007681455

13/08/2026

یوم آزادی مبارک ہو — لیکن پرچم کا احترام لازم ہے! 🇵🇰⚖️

🔹 پاکستان پینل کوڈ 1860 کی دفعہ 123-B کے تحت قومی پرچم کی توہین/بے حرمتی ایک قابلِ سزا جرم ہے
🔹 مجرم کو 3 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے
🔹 پرچم کو جلانا، پھاڑنا، پاؤں تلے روندنا، یا اسے بے ہنگم انداز میں زمین پر پھینک دینا اسی زمرے میں آتا ہے
🔹 پرچم کی شکل، رنگ یا ڈیزائن میں تبدیلی کرنا (جیسے پرچم پر تصاویر، نعرے یا نمبر چھاپنا) بھی توہین تصور ہو سکتا ہے
🔹 عدالتی فیصلوں کے مطابق پلاسٹک یا غلط میٹریل سے بنے پرچم بھی احترام سے تلف کیے جانے چاہئیں

اس لیے یومِ آزادی مناتے وقت پرچم کا وقار برقرار رکھیں — تقریب کے بعد پرچم کو زمین پر نہ پھینکیں بلکہ باعزت طریقے سے محفوظ کریں۔

📌 نوٹ: یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں، اپنے مخصوص کیس میں کسی وکیل سے مشورہ ضرور کریں۔

❓ کیا آپ کو معلوم تھا کہ پرچم کی بے حرمتی پر قانونی سزا مقرر ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!
M.Yahya Khan Handlana Sial AHC 03007681455

10/08/2026
10/08/2026

سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے ٹیکس قوانین پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ماضی کے ٹیکس معاملات پر نئے جرمانے نہیں لگ سکتے، پرانے ٹیکس تخمینوں پر نیا مالی بوجھ ڈالنا غیرقانونی ہے، ٹیکس جرمانہ محض کارروائی نہیں، اضافی مالی ذمے داری ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ واضح قانونی اختیار کے بغیر پرانے کیسز پر نیا جرمانہ نہیں لگ سکتا، پرانے مکمل شدہ ٹیکس معاملات دوبارہ نئی ذمے داری کا شکار نہیں ہوسکتے۔

سپریم کورٹ نے سابق عدالتی فیصلوں کا قانونی تضاد دور کر دیا، ٹیکس محکمہ کی اپیل مسترد کر دی، ٹیکس جرمانوں کے ماضی سے نفاذ پر سپریم کورٹ نے واضح ممانعت کی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ برابر حیثیت کا بینچ اختلاف کرے تو معاملہ بڑے بینچ کو جائے گا، پرانے ٹیکس معاملات پر بعد کی قانون سازی کا بوجھ نہیں ڈالا جاسکتا، قانون ماضی میں نئی مالی ذمے داری پیدا نہیں کرسکتا، پرانے ٹیکس تخمینوں پر نئے قانون کی تلوار نہیں چل سکتی۔

It is now well-established principle of practice and procedure of this Court that the earlier judgments of a Bench of coequal strength is not only binding upon the Benches of smaller numeric strength but also upon the Benches of co-equal strength and in case a subsequent Bench intends to take a contrary view then the proper course is to refer the matter to Hon’ble chief Justice for constitution of a larger Bench to reconsider the earlier view.
Civil Appeal No.2480 of 2016
Commissioner Inland Revenue (Legal) RTO, Rawalpindi VersusKhadim Hussain & others
*M.Yahya Khan Handlana Sial AHC 03007681455

07/08/2026

Legal services

Address

Edwar Road, Near Lahore High Court
Lahore
45000

Telephone

+923024559671

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyers & Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lawyers & Consultants:

Shortcuts

Share