19/03/2026
ڈی این اے ہوتا کیا ہے در اصل جو ہمارے ماں باپ سے ہمارے اندر انفارمیشن آتی ہیں اس کو کنٹرول کرنے والے مالیکیول کو ڈی این اے کہتے ہیں ڈی این اے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جو خفیہ انفارمیشن ہمارے ہر ایک سیل میں آتی ہیں وہ کئی سالوں اور ایون کے صدیوں تک وہ محفوظ رہتی ہیں آپ کسی بھی ڈی این اے کو جب مرضی نکال کے جس بھی سیل سے استعمال کریں وہ آپ کو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کا اوریجن کیا ہے آپ انسان ہیں آپ کچھ بھی اگر کوئی دوسرا جانور ہے وہ سب کا ڈی این اے ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے جبکہ تمام انسانوں کا ڈی این اے وہ معلوماتی لحاظ سے سیم ہے لیکن اس میں جو تبدیلیاں ہیں اس کی وجہ سے ہماری شکل و صورت مختلف ہوتی ہیں تو اس لیے ڈی این اے ٹیس سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ کیا ہمارے ماں باپ کون ہیں ہم اپنے ماں باپ سے کتنے مختلف ہیں اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو فنگر پرنٹنگ ایک تصوراتی چیز ہے جو اس میں اس کو استعمال کرتے ہوئے ہم ڈی این اے کا استعمال کر سکتے ہیں۔۔ DNA ٹیسٹ ایک جینیاتی ٹیسٹ ہے جو آپ کے جسم میں موجود DNA یعنی جینیاتی مواد کا تجزیہ کرتا ہے۔ یہ اصل میں والد یا خاندان کی شناخت، جینیاتی بیماریوں، یا نسل معلوم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سائنسی طور پر قابل اعتماد ہے اور نتائج عموماً درست ہوتے ہیں، بشرطیکہ ٹیسٹ معتبر لیبارٹری میں کرایا جائے۔ پاکستانی قوانین اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کی حیثیت درج ذیل ہے:
1۔ متعلقہ قوانین
پاکستان میں ڈی این اے کے لیے کوئی علیحدہ یا مخصوص قانون نہیں ہے، بلکہ اسے موجودہ قوانین کے تحت بطور ثبوت قبول کیا جاتا ہے:
* قانونِ شہادت آرڈر 1984 (آرٹیکل 59 اور 164): آرٹیکل 59 ماہر کی رائے (Expert Opinion) کو بطور ثبوت قبول کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 164 جدید آلات اور ٹیکنالوجی سے حاصل کردہ شواہد کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
* ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 164-B: 2016 کی ترمیم کے بعد جنسی زیادتی کے کیسز میں ڈی این اے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ ملزم اور متاثرہ فریق کی شناخت ہو سکے۔
2۔ سپریم کورٹ کے اہم فیصلے
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مختلف مقدمات میں ڈی این اے کی اہمیت اور اس کی حدود کا تعین کیا ہے:
* گولڈ اسٹینڈرڈ (اعلیٰ معیار): عدالتِ عظمیٰ نے "علی حیدر عرف پپو بنام جمیل حسین (2021)" اور "عاطف ظریف بنام ریاست (2021)" میں ڈی این اے ٹیسٹ کو ملزم کی شناخت کے لیے "گولڈ اسٹینڈرڈ" (سب سے معتبر ذریعہ) قرار دیا ہے۔
* بغیر رضامندی ٹیسٹ پر پابندی: دسمبر 2025 کے ایک حالیہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ پر مجبور کرنا آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 (ذاتی آزادی اور وقار) کی خلاف ورزی ہے۔
* دیوانی (Civil) مقدمات اور وراثت: وراثت یا جائیداد کے تنازعات میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ کسی کی ولدیت پر شک کر کے اسے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے خاندانی وقار اور سماجی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
3۔ ولدیت (Paternity) اور قانونِ شہادت کا آرٹیکل 128
پاکستان میں ولدیت کے معاملے میں قانون بہت سخت ہے:
* نکاح کے دوران پیدائش: آرٹیکل 128 کے تحت اگر بچہ نکاح کے دوران پیدا ہوا ہے، تو وہ اس شوہر کا ہی قانونی بچہ تصور ہوگا (Conclusive Proof)۔ عدالتیں عام طور پر اس قانونی مفروضے کو توڑنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی اجازت نہیں دیتیں جب تک کہ بہت ہی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہوں۔
خلاصہ:
پاکستان میں ڈی این اے ٹیسٹ فوجداری مقدمات (جیسے قتل یا زیادتی) میں تو ایک مضبوط ثبوت مانا جاتا ہے، لیکن دیوانی مقدمات (جیسے جائیداد یا ولدیت کا دعویٰ) میں اسے فرد کی رضامندی اور قانونی تقاضوں کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔