Legal Aid , Rights & Laws in Pakistan.

Legal Aid , Rights & Laws in Pakistan. This page aims to raise public understanding of legal rights in Pakistan, as well as internationally.

19/03/2026

ڈی این اے ہوتا کیا ہے در اصل جو ہمارے ماں باپ سے ہمارے اندر انفارمیشن آتی ہیں اس کو کنٹرول کرنے والے مالیکیول کو ڈی این اے کہتے ہیں ڈی این اے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جو خفیہ انفارمیشن ہمارے ہر ایک سیل میں آتی ہیں وہ کئی سالوں اور ایون کے صدیوں تک وہ محفوظ رہتی ہیں آپ کسی بھی ڈی این اے کو جب مرضی نکال کے جس بھی سیل سے استعمال کریں وہ آپ کو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کا اوریجن کیا ہے آپ انسان ہیں آپ کچھ بھی اگر کوئی دوسرا جانور ہے وہ سب کا ڈی این اے ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے جبکہ تمام انسانوں کا ڈی این اے وہ معلوماتی لحاظ سے سیم ہے لیکن اس میں جو تبدیلیاں ہیں اس کی وجہ سے ہماری شکل و صورت مختلف ہوتی ہیں تو اس لیے ڈی این اے ٹیس سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ کیا ہمارے ماں باپ کون ہیں ہم اپنے ماں باپ سے کتنے مختلف ہیں اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو فنگر پرنٹنگ ایک تصوراتی چیز ہے جو اس میں اس کو استعمال کرتے ہوئے ہم ڈی این اے کا استعمال کر سکتے ہیں۔۔ DNA ٹیسٹ ایک جینیاتی ٹیسٹ ہے جو آپ کے جسم میں موجود DNA یعنی جینیاتی مواد کا تجزیہ کرتا ہے۔ یہ اصل میں والد یا خاندان کی شناخت، جینیاتی بیماریوں، یا نسل معلوم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سائنسی طور پر قابل اعتماد ہے اور نتائج عموماً درست ہوتے ہیں، بشرطیکہ ٹیسٹ معتبر لیبارٹری میں کرایا جائے۔ پاکستانی قوانین اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کی حیثیت درج ذیل ہے:
1۔ متعلقہ قوانین
پاکستان میں ڈی این اے کے لیے کوئی علیحدہ یا مخصوص قانون نہیں ہے، بلکہ اسے موجودہ قوانین کے تحت بطور ثبوت قبول کیا جاتا ہے:

* قانونِ شہادت آرڈر 1984 (آرٹیکل 59 اور 164): آرٹیکل 59 ماہر کی رائے (Expert Opinion) کو بطور ثبوت قبول کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 164 جدید آلات اور ٹیکنالوجی سے حاصل کردہ شواہد کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
* ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 164-B: 2016 کی ترمیم کے بعد جنسی زیادتی کے کیسز میں ڈی این اے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ ملزم اور متاثرہ فریق کی شناخت ہو سکے۔

2۔ سپریم کورٹ کے اہم فیصلے
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مختلف مقدمات میں ڈی این اے کی اہمیت اور اس کی حدود کا تعین کیا ہے:

* گولڈ اسٹینڈرڈ (اعلیٰ معیار): عدالتِ عظمیٰ نے "علی حیدر عرف پپو بنام جمیل حسین (2021)" اور "عاطف ظریف بنام ریاست (2021)" میں ڈی این اے ٹیسٹ کو ملزم کی شناخت کے لیے "گولڈ اسٹینڈرڈ" (سب سے معتبر ذریعہ) قرار دیا ہے۔
* بغیر رضامندی ٹیسٹ پر پابندی: دسمبر 2025 کے ایک حالیہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ پر مجبور کرنا آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 (ذاتی آزادی اور وقار) کی خلاف ورزی ہے۔
* دیوانی (Civil) مقدمات اور وراثت: وراثت یا جائیداد کے تنازعات میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ کسی کی ولدیت پر شک کر کے اسے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے خاندانی وقار اور سماجی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

3۔ ولدیت (Paternity) اور قانونِ شہادت کا آرٹیکل 128
پاکستان میں ولدیت کے معاملے میں قانون بہت سخت ہے:

* نکاح کے دوران پیدائش: آرٹیکل 128 کے تحت اگر بچہ نکاح کے دوران پیدا ہوا ہے، تو وہ اس شوہر کا ہی قانونی بچہ تصور ہوگا (Conclusive Proof)۔ عدالتیں عام طور پر اس قانونی مفروضے کو توڑنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی اجازت نہیں دیتیں جب تک کہ بہت ہی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہوں۔

خلاصہ:
پاکستان میں ڈی این اے ٹیسٹ فوجداری مقدمات (جیسے قتل یا زیادتی) میں تو ایک مضبوط ثبوت مانا جاتا ہے، لیکن دیوانی مقدمات (جیسے جائیداد یا ولدیت کا دعویٰ) میں اسے فرد کی رضامندی اور قانونی تقاضوں کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

26/02/2026

*سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی کرایہ دار مکان مالک کی ملکیت سے انکار کرے یا خود مالک ہونے کا دعویٰ کرے، تو قانوناً اس پر لازم ہے کہ وہ پہلے قبضہ چھوڑے (خالی کرے)۔ قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایک شخص کرایہ دار کی حیثیت سے قبضہ بھی رکھے اور ساتھ ہی مالک کے خلاف اپنی ملکیت کا دعویٰ بھی کرے۔*
استقرارِ حق اور خاموشی (Estoppel):
قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 115 کے تحت، جب کوئی شخص بطور کرایہ دار کسی جگہ پر قابض ہوتا ہے، تو وہ اس وقت تک مالک کی ملکیت کو چیلنج نہیں کر سکتا جب تک وہ اس جگہ کا قبضہ نہیں چھوڑ دیتا۔ یہ اصول عوامی مفاد اور معاہدوں کی پاسداری کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی شخص ایک ہی وقت میں دو متضاد باتیں نہ کر سکے (یعنی ایک طرف کرایہ دار بن کر رہے اور دوسری طرف ملکیت کا دعویٰ کرے)۔
ملکیت کا دعویٰ اور بے دخلی:
اگر کرایہ دار یہ دعویٰ کرے کہ اس نے جائیداد میں حصہ خرید لیا ہے یا وہ اب شریکِ مالک بن گیا ہے، تب بھی کرایہ داری کا معاہدہ خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ وہ کرایہ دار ہی رہے گا اور اسے رینٹ کنٹرولر (Rent Controller) کے سامنے بے دخلی کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
درست قانونی راستہ:
ایسے کرایہ دار کے لیے درست راستہ یہ ہے کہ وہ رینٹ کنٹرولر کے پاس ملکیت کے جھگڑے کھڑے کرنے کے بجائے سول کورٹ (سول عدالت) میں تقسیمِ جائیداد (Partition) کا مقدمہ دائر کرے تاکہ اپنا حصہ الگ کروا سکے۔ لیکن جب تک وہ وہاں قابض ہے، وہ رینٹ کیس میں مالک کی حیثیت کو چیلنج نہیں کر سکتا۔
عدالت کا حتمی فیصلہ (C.P.L.A. 806-P/2018):
سپریم کورٹ (یا متعلقہ عدالت) نے یہ قرار دیا ہے کہ:
کرایہ دار پر آرٹیکل 115 کے تحت قدغن ہے کہ وہ قبضہ برقرار رکھتے ہوئے مالک کی ملکیت سے انکار کرے۔
اگر وہ ملکیت کا دعویٰ کرنا چاہتا ہے، تو پہلے قبضہ واپس کرے (Surrender possession)۔
رینٹ کنٹرولر کے پاس اس کے خلاف بے دخلی کی درخواست قابلِ سماعت رہے گی اور ملکیت کا محض دعویٰ کرنے سے رینٹ کنٹرولر کا اختیارِ سماعت ختم نہیں ہوگا۔
کیس کا حوالہ:
نواب خان بنام محمد یوسف، جناب جسٹس شاہد بلال حسن، مورخہ 29 جنوری 2026۔
A tenant who disputes the landlord’s title or claims ownership is obliged to first surrender possession, as the law does not permit a tenant to retain possession under tenancy while simultaneously setting up hostile title against the landlord.

It is by now a settled proposition of law that where a person enters into possession as a tenant, he is estopped from disputing the title of the landlord so long as he continues to retain possession under the tenancy. The principle of estoppel is embodied in Article 1151 of the Qanun-eShahadat Order, 1984, which debars a tenant from denying the title of the landlord during the continuance of tenancy. The doctrine is founded upon public policy and is intended to preserve sanctity of contractual relationships and to prevent a tenant from approbating and reprobating simultaneously.

Even where a tenant claims to have acquired a share in ownership, the tenancy does not automatically dissolve so as to defeat ejectment proceedings, rather, the proper course available to such tenant is to seek his proprietary remedy through a civil suit for partition, and not to resist ejectment proceedings by raising disputed questions of title within the limited jurisdiction of the Rent Controller.

i. A tenant who subsequently asserts acquisition of ownership rights is bound by estoppel under Article 115 of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984, and cannot deny the landlord’s title while continuing in possession as tenant. If he intends to contest proprietary title, he must first surrender possession and thereafter seek adjudication of his claim.
ii. An ejectment petition against such tenant remains maintainable, since the mere assertion or alleged acquisition of ownership rights does not terminate the tenancy nor does it oust the jurisdiction of the Rent Controller.
iii. Where the tenant claims to have purchased a share or acquired co-ownership, the proper remedy is not to resist ejectment proceedings but to seek recourse through a civil suit for partition.
Pursuant to the above, we hold that a tenant, notwithstanding any subsequent claim of ownership, cannot retain possession as tenant and simultaneously deny the landlord’s title, as such conduct is barred by Article 115 of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984, referred to above. The tenant must first surrender possession before contesting title. Consequently, ejectment proceedings against such tenant remain maintainable. In case the tenant claims co-ownership by purchase of a share, his proper recourse lies in seeking partition through a competent civil forum and not in resisting ejectment proceedings within the limited jurisdiction of the Rent Controller.
C.P.L.A.806-P/2018
Nawab Khan & another v. Muhammad Yousaf & others
Mr. Justice Shahid Bilal Hassan
29-01-2026

25/02/2026

Dated: February 24, 2026
VIA REGISTERED POST A.D. / COURIER

LEGAL NOTICE
1. The Federal Secretary, Ministry of Information Technology and Telecommunication, 7th Floor, Kohsar Block, Pak Secretariat, Islamabad.
2. The Federal Secretary, Ministry of Information and Broadcasting, Cabinet Block, Pak Secretariat, Islamabad.
3. The Chairman, Pakistan Telecommunication Authority (PTA), PTA Headquarters, F-5/1, Islamabad.
4. The Chairman, Pakistan Electronic Media Regulatory Authority (PEMRA), Mauve Area, G-8/1, Islamabad.
5. Chief Executive Officer, Pakistan Mobile Communications Limited (JAZZ), 1-A, IBC Building, F-8 Markaz, Islamabad.
6. Chief Executive Officer, Telenor Pakistan (Pvt) Ltd, Telenor 345, Plot No. 55, River View Avenue, Block B, Gulberg Greens, Islamabad.
7. Chief Executive Officer, CMPak Limited (ZONG), Zong HQ, 70-West, Jinnah Avenue, Blue Area, Islamabad.
8. Chief Executive Officer, Pakistan Telecom Mobile Limited (UFONE), Ufone Tower, Plot No. 55-C, Jinnah Avenue, Blue Area, Islamabad.
SUBJECT: LEGAL NOTICE FOR THE IMMEDIATE REFUND OF BILLIONS OF RUPEES USURPED THROUGH FRAUDULENT DEDUCTIONS, UNAUTHORIZED VALUE-ADDED SERVICES (VAS), AND GROSS REGULATORY NEGLIGENCE.
I, Muhammad Yunus Khan Naul, Advocate Supreme Court of Pakistan, acting on my own behalf as an aggrieved consumer and under instructions from my clients (the general public/consumers), hereby serve you with this formal Legal Notice:
That the Pakistan Telecommunication Authority (PTA), via its official clarification dated February 22, 2026, has explicitly admitted that cellular companies (CMOs) have been involved in "unauthorized deductions" from mobile balances and providing "substandard service levels." This admission constitutes a prima facie case of corporate fraud and a breach of the Mobile Tariff Regulations 2025.
That the cellular companies have willfully designed digital systems to auto-activate "Value-Added Services" (VAS) such as third-party apps, daily news alerts, and entertainment packages without the explicit, documented consent of the subscribers. This "silent" activation has resulted in the illegal siphoning of billions of rupees from the citizens of Pakistan.
That I, as an Advocate of the Supreme Court and a regular consumer, have personally been victimized by these predatory charging practices. The cumulative amount usurped from the public remains in the illegal possession of the CMOs, which constitutes Unjust Enrichment and Criminal Breach of Trust.
The failure of the Federal Secretaries and the regulators (PTA/PEMRA) to compel a refund is a direct violation of Article 24 (Protection of Property Rights) and Article 18 (Conduct of Trade/Business subject to Law) of the Constitution of Pakistan.
Your collective actions fall under the penal provisions of:
• The Prevention of Electronic Crimes Act (PECA), 2016 (Sections 10, 13 & 20).
• The Pakistan Penal Code (PPC) (Section 420/406 regarding Cheating and Breach of Trust).
• The Defamation Act, 2004 (where consumers are falsely blamed for "subscribing" to services they never requested).
You are hereby called upon to:
1. REFUND WITHIN 7 DAYS: Establish an automated system to refund all unauthorised deducted amounts back to the consumers' mobile balances.
2. AUDIT & DISCLOSURE: The Federal Ministry must appoint an independent commission to determine the exact magnitude of the billions usurped since 2024.
3. CEASE AND DESIST: Immediately disable all auto-renewal features for VAS across all networks.
NOTICE OF PROCEEDINGS:
Failure to comply within seven (7) days will result in the filing of a Writ Petition in the Honorable Islamabad High Court under Article 199 for the recovery of public money and a Class Action Suit for Damages of Rs. 30 Crore on my own behalf and on behalf of the public, at your collective risk, cost, and consequence.
Issued under my hand and seal this 24th day of February 2026.
A Copy of this Legal Notice is being retained by my office for further necessary legal action in this regard.
Yours Sincerely,
(
MUHAMMAD YUNUS KHAN NAUL
Advocate Supreme Court of Pakistan

Supreme Court of Pakistan (SCP) has laid down a final principle on tenancy, ruling that after the death of a property ow...
26/01/2026

Supreme Court of Pakistan (SCP) has laid down a final principle on tenancy, ruling that after the death of a property owner, legal heirs automatically become landlords and no fresh rent agreement is required.

In a written verdict, the court held that depositing rent in the name of a deceased owner does not constitute a lawful payment.

The judgment upheld a Sindh High Court decision ordering the eviction of tenants.

A two-member bench comprising Chief Justice of Pakistan Yahya Afridi and Justice Shakil Ahmed heard the case. Justice Ahmed issued a four-page written ruling.

According to the verdict, after the original owner’s death, his son served a legal notice demanding rent and outstanding dues. The tenants admitted they were aware of the owner’s death and had attended his funeral but failed to pay rent to the legal heirs.

Despite receiving notice, the tenants continued depositing rent in court in the name of the deceased owner instead of paying the lawful heirs. The legal heir then filed an eviction petition over nonpayment of rent.

The tenants argued that depositing rent in court protected them from eviction.

The SC rejected this stance, ruling that after receipt of notice, depositing rent in the name of a deceased owner cannot be treated as a valid payment.

The apex court said failure to pay rent to legal heirs while continuing to deposit it in the name of the deceased amounted to willful default. Such tenants, the court ruled, are liable to eviction.

Supreme Court also upheld the Sindh High Court order directing tenants to vacate the shops and hand them over to the owner within 60 days.

سوات کے شاہ بخت راون نے مورخہ 27 اگست کو اپنی بیوی مُسرت کو طلاقِ بدعت (اکٹھی تین طلاقیں) لکھ کر بھیج دی۔ ابھی تین ماہ ک...
26/01/2026

سوات کے شاہ بخت راون نے مورخہ 27 اگست کو اپنی بیوی مُسرت کو طلاقِ بدعت (اکٹھی تین طلاقیں) لکھ کر بھیج دی۔ ابھی تین ماہ کی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی کہ 3 اکتوبر کو راون صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے۔ انتقال کے بعد راون کی والدہ نے اسکے بچوں سمیت سول عدالت میں مقدمہ دائر کردیا کہ مرحوم کا ساری وراثت مسرت کو چھوڑ کر ہمارے نام کی جائے کیونکہ راون نے اپنی زندگی میں ہی تین طلاقیں دیکر اسے اپنی زوجیت سے نکال دیا تھا لہذا اسکا کوئی حصہ وراثت میں نہ ہے۔

مسرت کو جب اس کیس کا پتہ چلا تو وہ بھی اس کیس میں اس موقف کے ساتھ فریق بن گئی کہ اگرچہ مجھے طلاق دیدی گئی تھی لیکن ابھی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی تو میں بھی اسکی بیوہ ہوں لہذا مجھے بھی میرا شرعی حصہ دیا جائے۔ سول عدالت نے مسرت کے موقف کو رَد کردیا۔ مسرت نے اس حکم کیخلاف ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی وہ خارج ہوگئی، اس فیصلے کیخلاف وہ پشاور ہائیکورٹ چلی گئی۔

ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ وراثت، مرنے والے کی وفات کے ساتھ کھلتی ہے۔ طلاق کو ابھی 90 دن مکمل نہیں ہوئے تھے جبکہ مسلم فیملی لا آرڈیننس 1961ء کی دفعہ 7 کے تحت طلاق کو موثر ہونے کیلئے 90 دن گزرنا ضروری ہیں۔ ہائیکورٹ نے مسرت کا مؤقف درست مانا اور حکم دیا کہ راون کے ترکہ میں سے مسرت کو بطور بیوہ، شرعی حصہ دیا جائے۔

راون کے دیگر ورثاء نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ سپریم کورٹ میں گذشتہ سال چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس اپیل کو سنا اور جسٹس شکیل احمد نے فیصلہ تحریر کیا۔ سپریم کورٹ میں ان لوگوں نے موقف اپنایا کہ چونکہ طلاقیں تین تھیں، لہذا طلاق نامہ 27 اگست کو ہی مؤثر ہوگیا تھا اور عدت مکمل ہونے سے قبل راون کی موت سے صلح و رجوع کے امکانات بھی ختم ہوگئے، لہذا مسرت بی بی راون کی بیوی نہ رہی اور یوں وراثت میں بھی حصہ دار نہ ہے۔

سپریم کورٹ کے سامنے تصفیہ طلب امر یہ تھا: "کیا طلاق بدعت (تین طلاقوں) کی عدت کے دوران اگر خاوند کی وفات ہوجائے تو بیوی/ بیوہ متوفی کے ترکہ میں حقدار ہے؟"

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اسلام میں نکاح ایک سول معاہدہ ہے، عیسائیت کی طرح فقط ایک روحانی رسم نہیں ہے۔ نکاح سے متعلق قرآنی آیات اشارہ کرتی ہیں کہ نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جو آپس میں محبت، ہمدردی اور ساتھ دینے کیلئے ہے۔ طلاق کی تین اقسام ہیں، حسن، احسن اور بدعت (تین طلاقیں ایک ساتھ دینا)۔ طلاقِ بدعت کا تصور قرآن و حدیث میں نہیں ملتا اسے تو حضرت عمر رض نے اپنی خلافت میں طلاق کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے اسے تین طلاق تسلیم کیا تھا۔

عدالت نے طلاق کے حوالے سے قرآنی آیات نقل کرکے کہا کہ یہ آیات تقاضا کرتی ہیں کہ طلاق دینے کے بعد فریقین میں صلح و صفائی کروانے کا وقت اور موقع دیا جائے جبکہ طلاق بدعت (بیک وقت تین طلاق) واپسی کا راستہ ہی ختم کر دیتی ہے لہذا طلاق بدعت قرآنی منشاء کے خلاف ہے، اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

فیصلے کے مطابق فقہ جعفریہ، شافعیہ اور مالکیہ طلاق بدعت کو بالکل تسلیم نہیں کرتیں، فقہ حنبلی بعض صورتوں میں اسے ایک طلاق شمار کرتی ہے۔ فقہاء کے اس اختلاف نے قانون سازوں کو وجہ دی کہ وہ اس پر ایک متفقہ قانون بنا دیں، چنانچہ فیملی لا آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت طلاق (ایک ہو یا زائد) 90 دن سے قبل مؤثر ہی نہیں ہوسکتی، اس تین ماہ کے عرصہ میں نکاح بالکل باقی رہے گا اور صلح صفائی کی کوشش کی جائے گی۔ یہی قرآن کا منشاء ہے لہذا یہ دفعہ قرآنی احکامات کے عین مطابق ہے۔

طلاق کے بعد عدت کا ایک اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر فریقین صلح کرنا چاہیں تو کرسکیں جو طلاق بدعت کی صورت میں ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ 'رحمت بی بی کیس 1988ء' میں بھی یہ قرار دے چکی ہے کہ دوران عدت شوہر کی وفات سے بیوی وراثت سے محروم نہیں ہوگی۔

لہذا اس کیس میں بھی شوہر (راون) کی دی ہوئی تین طلاقیں، قرآنی احکامات اور مسلم فیملی لا آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت 90 دن کی مدت پوری نہ ہونے کی وجہ سے مؤثر نہیں ہوئیں، اس لیے خاتون مُسرت اب بھی قانونا بیوہ اور وراثت کی حقدار ہے۔ سپریم کورٹ نے راون کے دیگر ورثاء کی اپیل خارج کردی۔

03/01/2026

⚖️ وراثتی جائیداد تقسیم کرنے کا آسان قانونی فارمولا
مرحلہ 1: تمام ورثاء کی نشاندہی

سب سے پہلے یہ طے کریں کہ مرحوم کے کون کون سے قانونی وارث موجود ہیں:

بیوہ / بیویاں

بیٹے

بیٹیاں

والد / والدہ

(بغیر اس کے تقسیم ممکن نہیں)

مرحلہ 2: شرعی حصے مقرر کریں

پاکستان میں وراثت کی تقسیم مسلم پرسنل لا (Shariat) کے مطابق ہوتی ہے:

اگر مرحوم کے:

بیٹے اور بیٹیاں موجود ہوں:

بیٹا = 2 حصے

بیٹی = 1 حصہ

بیوہ:

اولاد ہو → 1/8 حصہ

اولاد نہ ہو → 1/4 حصہ

والدہ:

اولاد ہو → 1/6 حصہ

والد:

اولاد ہو → 1/6 حصہ

مرحلہ 3: کل حصے (Units) بنائیں

تمام حصوں کو یونٹس میں بدل دیں:

مثال:
مرحوم کے ورثاء:

1 بیوہ

2 بیٹے

1 بیٹی

تقسیم:

بیوہ = 1/8

باقی 7/8 اولاد میں تقسیم

2 بیٹے = 4 یونٹس

1 بیٹی = 1 یونٹ
کل یونٹس = 5

مرحلہ 4: جائیداد کو یونٹس میں تقسیم کریں

اگر جائیداد کی مالیت = 80 لاکھ

بیوہ = 10 لاکھ

باقی 70 لاکھ / 5 یونٹس = 14 لاکھ فی یونٹ

بیٹا = 28 لاکھ
بیٹا = 28 لاکھ
بیٹی = 14 لاکھ

مرحلہ 5: قانونی دستاویزات

تقسیم کے لیے ضروری:
✅ وراثت سرٹیفکیٹ
✅ انتقالِ وراثت
✅ رجسٹری / عدالتی تقسیم (اگر تنازع ہو)

📌 اہم قانونی نکات

زبانی تقسیم قانوناً کمزور ہوتی ہے

خواتین کا حصہ لازمی اور ناقابلِ انکار ہے

دباؤ میں کی گئی دستبرداری عدالت میں چیلنج ہو سکتی ہے

02/01/2026
01/01/2026

زمینی معاملات میں کھیوٹ مالک کو، کھتونی قابض کو، اور خسرہ نمبر زمین کے مخصوص ٹکڑے کو ظاہر کرتا ہے۔
ان اصطلاحات کی درست سمجھ بوجھ کے بغیر زمین کی خرید و فروخت یا قانونی معاملہ کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
1۔ کھیوٹ (Khewat)
کھیوٹ زمین کے مالک یا مالکان کی فہرست کو کہتے ہیں۔
اس میں یہ درج ہوتا ہے کہ کسی خاص زمین کے اصل مالکان کون ہیں اور ان کا ملکیتی حصہ کتنا ہے۔
سادہ الفاظ میں، کھیوٹ یہ بتاتا ہے کہ زمین کس کی ہے۔
2۔ کھتونی (Khatauni)
کھتونی زمین کے کاشتکار یا قابض کی تفصیل ہوتی ہے۔
یعنی اس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ زمین کو کون کاشت کر رہا ہے یا استعمال کر رہا ہے، چاہے وہ مالک ہو یا مزارع۔
مختصر یہ کہ کھتونی زمین کے استعمال کرنے والے کی شناخت ہے۔
3۔ خسرہ نمبر (Khasra Number)
خسرہ نمبر زمین کے ہر چھوٹے ٹکڑے کو دیا جانے والا شناختی نمبر ہوتا ہے۔
یہ نمبر نقشے میں زمین کی مقام، حدبندی اور رقبہ معلوم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یوں سمجھیں کہ خسرہ نمبر زمین کا شناختی کارڈ ہے۔
4۔ رقبہ
رقبہ زمین کے کل سائز یا پیمائش کو کہتے ہیں، جو کنال، مرلہ یا ایکڑ میں ہوتا ہے۔
یہ بتاتا ہے کہ زمین کتنی بڑی یا چھوٹی ہے۔
5۔ جمع بندی (Jamabandi)
جمع بندی زمین کا مکمل ریکارڈ ہوتا ہے جس میں
کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر، رقبہ اور ملکیت کی تمام تفصیلات درج ہوتی ہیں۔
یہ زمین کی سب سے اہم قانونی دستاویز سمجھی جاتی

21/12/2025

ہائی کورٹ ملتان بنچ نے پروٹیکشن آف لینڈ آنر شب آرڈیننس پنجاب کے خلاف دائر درخواست فیصلہ دے دیا
⚖️ اہم عدالتی فیصلہ | لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ ⚖️

لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے
‏Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance, 2025
کی نہایت واضح، جامع اور دوٹوک تشریح کرتے ہوئے ایک اہم اور رہنما فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ کہ صرف اس قانون کے تحت ٹریبونل بے داخلی کے احکامات دے سکتا اور پھر عمل درآمد ریونیو ڈیپارٹمنٹ کرنے کا مجاز ہے

عدالتِ عالیہ نے واضح طور پر قرار دیا کہ:

‏🔹 Dispute Resolution Committee (DRC) محض ایک ابتدائی، تفتیشی اور مفاہمتی فورم ہے،
اور اسے کسی بھی مرحلے پر
❌ بے دخلی
❌ زبردستی قبضہ چھڑوانے
❌ قبضہ بحال کرنے
کا کوئی اختیار حاصل نہیں — نہ عبوری طور پر اور نہ ہی حتمی طور پر۔

🔹 عدالت نے واضح کیا کہ Section 9 کے تحت DRC کے اختیارات صرف:
✔️ احتیاطی (Preventive)
✔️ عارضی (Temporary)
✔️ ریگولیٹری نوعیت
کے ہیں، مثلاً مناسب ضمانت لینا یا جائیداد کو سیل کرنا،
اور یہ اقدامات بھی صرف تحریری، وجوہات پر مبنی (Speaking Order) اور
نوٹس و مکمل سماعت کے بعد ہی کیے جا سکتے ہیں۔

🔹 عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ DRC کو:
❌ زبانی یا غیر رسمی ہدایات دینے
❌ کسی قسم کے جابرانہ اقدامات اپنانے
❌ پولیس یا انتظامیہ کے ذریعے قبضہ دلوانے
کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔

🔹 مزید یہ کہ اگر کسی مجاز عدالت کی جانب سے
‏Status-quo یا کوئی اور عدالتی حکم موجود ہو تو
‏DRC اس کی سختی سے پابند ہوگی، اور اس کے برعکس کوئی بھی اقدام
عدالتی اختیار میں مداخلت تصور ہوگا۔

🔹 عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ:
✔️ قبضہ بحال کرنا
✔️ بے دخلی
✔️ زبردستی عمل درآمد
کے تمام اختیارات صرف اور صرف Tribunal کو حاصل ہیں،
جیسا کہ Sections 16 اور 17 میں صراحت کے ساتھ درج ہے۔

🔹 آخر میں عدالت نے واضح ہدایت جاری کی کہ:
‏Tribunal کے باقاعدہ اور قانونی حکم کے بغیر
کسی بھی شہری کے خلاف
‏❌ Eviction
‏❌ Forcible dispossession
جیسے اقدامات ہرگز نہیں کیے جا سکتے۔

یہ فیصلہ:
✅ شہریوں کے آئینی حقوق کے مؤثر تحفظ
‏✅ Due Process of Law کے عملی نفاذ
✅ انتظامیہ کی قانونی حدود کی واضح نشاندہی
اور
✅ جائیداد کے تنازعات میں قانون کی بالادستی
کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔

📌 یہ فیصلہ جائیداد کے مقدمات میں وکلاء، انتظامیہ اور عام شہریوں کے لیے ایک مستند اور قابلِ اعتماد رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔

‏📖 (Approved for Reporting)
👨‍⚖️ جسٹس احمد ندیم ارشد
لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ

08/12/2025

منشیات مقدمات کے ٹرائلز میں پراسیکیوٹرز کے لیے لاہور ہائیکورٹ کی سخت قانونی ہدایات

اگر پراسیکیوٹر اس وقت خاموش اور غیر فعال رہا جب پراسیکوشن کے گواہان نے کراس ایگزامینیشن کے دوران ملزم/درخواست گزار کے حق میں اعترافی بیانات دیے، اور پراسیکیوٹر نے نہ تو ان گواہان کو (hostile) قرار دینے کی کوشش کی اور نہ ہی ان کے بیانات کو قانون شہادت آرڈیننس 1984 کے آرٹیکل 151 کے تحت چیلنج کیا، تو اس عمل کو روکنے کے لیے اس عدالت نے درج ذیل قانونی ہدایات جاری کی ہیں:

✍️1. تمام قانونی افسران لازمی طور پر اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ پراسیکوشن کے گواہان کے بیانات، ملزم کے بیانات سیکشن 342 Cr.P.C کے تحت، اور دفاعی شہادت کے دوران مکمل طور پر چوکنا، فعال اور متحرک رہیں، بالخصوص منشیات کے مقدمات میں جہاں معمولی غفلت بھی منشیات اسمگلرز کی بریت کا سبب بن سکتی ہے۔

✍️2. اگر کوئی پراسیکوشن کا گواہ، بشمول پولیس اہلکار، حقائق سے انحراف کرے یا جان بوجھ کر ملزم کے حق میں بیان دے، تو قانونی افسر فوراً آرٹیکل 150 اور 151 قانون شہادت آرڈیننس 1984 کے تحت اپنے قانونی اختیارات استعمال کرے تاکہ گواہ کی صداقت، قابلیت اعتبار اور رویے کا جائزہ لیا جا سکے۔

✍️3. قانونی افسران کو پولیس گواہان کی جانب سے دی جانے والی کسی بھی جان بوجھ یا غیر جان بوجھ کی رعایت کو غیر چیلنج شدہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ انہیں پراسیکوشن کے کیس کے تحفظ کے لیے مناسب قانونی اقدامات کرنا لازمی ہیں۔ وہ پولیس اہلکاروں/گواہان کے خلاف محکمانہ قانونی کارروائی کی سفارش بھی کریں جو ملزم کے حق میں اعترافی بیانات دیتے ہیں۔

✍️4. پراسیکیوٹر جنرل پنجاب، لاہور کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کی جانچ کریں، کمزور پراسیکوشن کی وجوہات معلوم کریں، اور کارکردگی میں بہتری اور جوابدہی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ وہ پنجاب بھر کے تمام قانونی افسران کو جامع ہدایات جاری کریں تاکہ مقدمات کے دوران قانونی ضابطہ کار کی سختی سے پابندی کی جائے اور آرٹیکل 150 اور 151 قانون شہادت آرڈیننس 1984 کے تحت اختیارات استعمال کیے جائیں۔

✍️5. ان ہدایات کی خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی لازمی ہوگی، کیونکہ ریاست کے قانونی نمائندگان کی غفلت جہاں انصاف کے نظام کو متاثر کرے، برداشت نہیں کی جائے گی۔

مزید برآں، پولیس اسٹیشن کے رجسٹر نمبر XIX میں ضبط شدہ منشیات کا اندراج نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ پولیس رولز 1934 کے تحت لازمی تھا۔ اس اندراج کی غیر موجودگی منشیات کی محفوظ حوالگی کے ثبوت کو متاثر کرتی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان بھی اس کو سنگین نقائص مانتی ہے، جس کے نتیجے میں ملزم/درخواست گزار بری ہو سکتا ہے۔ اگر ضبط شدہ منشیات کی محفوظ حوالگی اور منتقلی (Chain of Custody) پروسیکوشن کی جانب سے ثابت نہ کی گئی ہو، تو اس طرح پراسیکوشن کا کیس مشکوک اور ناقابل اعتماد بن جاتا ہے۔

Crl. Appeal.56371/23
Shameer Khan Vs The State etc.
👨‍⚖️ Justice Muhammad Tariq Nadeem
📍2025 LHC 6970
Dated: 19-11-2025
Signed 01-12-2025

18/04/2025

Address

10-A Turner Road
Lahore
54770

Telephone

923004000192

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Aid , Rights & Laws in Pakistan. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Aid , Rights & Laws in Pakistan.:

Share