BEAS Law Associates

BEAS Law Associates CONSULTANTS - ADVISORS - ATTORNEYS - ADVOCATES

05/07/2025

[زمین کی رجسٹری اور انتقال کا مکمل اور آسان طریقہ کار]
رجسٹری کیسے کروائی جائے؟ رجسٹری اور انتقال میں کیا فرق ہے؟

1.رجسٹریشن ایکٹ 1908کے دفعہ 17 کے تحت یہ ضروری ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کو رجسٹرڈ کروایا جائے جس کو رجسٹری بولتے ہیں ۔
2۔غیر منقولہ جائیداد مثلاً پلاٹ، مکان، دوکان یا زرعی رقبہ خریدنے سے پہلے اس جائیداد کا فرد نکلوا کر تسلی کر لیں کہ آیا یہ جائیداد متنازعہ تو نہیں یا جائیداد کی بابت کوئی کیس تو نہیں چل رہا۔
3۔ جائیداد کی تسلی کے بعد دوسرا مرحلہ جائیداد رجسٹری کی بابت ٹیکس بینک میں ادا کرنے ہوتے ہیں جس کے لئے آپ کو اس جائیداد کی بازاری قیمت یعنی DCکی طرف سے مقرر کردہ ریٹ معلوم کرنا ہوتا ہے جو کہ تحصیل آفس سے معلوم کیے جاسکتے ہیں ۔
4۔ڈی سی ریٹ کے مطابق %6 ٹیکس (فائلر%5) بینک میں جمع کروائے گا۔اور اشٹام پیپر منگوائے گا۔
5۔اس کے بعد معاہدہ بیع نامہ تحریر کروا کر تحصیل آفس میں اصل شناختی کارڈز اور دو عدد اسی علاقہ کے گواہان کے ساتھ روبرو تحصیل دار پیش ہو کر دستخط اور انگوٹھا نشان ثبت کرنے ہوتے ہیں۔جس کے بعد رجسٹری کا عمل مکمل ہوجاتا ہے ۔
6۔اگلا مرحلہ پٹواری کے پاس جاکر رجسٹری کی فوٹوکاپی جمع کروا کر انتقال اپنے نام ٹرانسفر کروانا ہوتا ہے۔

رجسٹری کیسے کروائی جائے؟ رجسٹری اور انتقال میں کیا فرق ہے؟
رجسٹری لفظ رجسٹرڈ سے نکلا ہے مطلب کوئی چیز رجسٹرڈ کروانا. مثال کے طور پر ہم موٹر سائیکل لیتے ہیں یا کار تو متعلقہ ایکسائز کے محکمے سے گاڑی کی رجسٹریشن کرواتے ہیں جہاں گاڑی کی نمبر پلیٹ انجن نمبر، رنگ، ماڈل، کمپنی کا نام اگر پرانی گاڑی ہے تو پرانے مالک کا نام غرض کےہر چیز تفصیل سے درج ہوتی ہے

اور ایکسائز کی خاص قیمت ادا کرنے کے بعد گاڑی ہمارے نام ہو جاتی ہے. بلکل اسی طرح زمین اور مکان کی رجسٹری کروانے کا معاملہ ہے. زمین کی رجسٹری میں بھی ہر چیز لکھی جاتی ہے جو زمین یا مکان سے متعلق ہو. رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی دفعہ 17 کے مطابق غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی کے لئے رجسٹریشن لازمی ہے۔

َزمین، مکان کی رجسٹری کا طریقہ؟

پہلا مرحلہ میں سب سے پہلے جس شخص سے آپ مکان یا زمین خرید رہے ہیں وہ فرد بیع نکلوائے گا اس زمین کی کیونکہ زمین کی رجسٹری کے لیے فرد بیع کا ہونا لازمی ہے.

فرد بیع سے پتہ چلے گا کے زمین بیچنے والا شخص ہی اصل زمین کا مالک ہے اور زمین پر کسی قسم کا سٹے یا مقدمہ نہیں ہے. یاد رہے کہ ایک وقت میں ایک ہی فرد بیع نکل سکتی ہے. فرد بیع نکلوانے کے بعد اگر بیچنے والی زمین کی رجسٹری نہ کروائی جائے تو وہ فرد بیع 14 دن بعد منسوخ ہو جاتی ہے. اس کے بعد زمین کی مالیت کے حساب سے E Stamp paper نکلوائیں. فائلر 5 فیصد ٹیکس زمین کی مالیت کے حساب سے ادا کر کے E stamp paper نکلوائے گا اور نان فائلر 6 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرے گا۔
زرعی زمین پر 4 فیصد ٹیکس ادا کیا جائے گا. ای سٹیمپ پیپر پر بیچنے والے اور خریدنے والے کا نام تحریر ہوگا. اس اسٹام پیپر پر زمین کا ڈی سی ریٹ لکھا ہوگا کہ کتنے روپے کی زمین فروخت کی جارہی ہے وہ قیمت لکھی ہوگی. اس کے علاوہ اسی E stamp paper پر مکمل تحریر ہوگی کہ کون شخص کس کو زمین بیچ رہا ہے
اور کتنے روپے میں بیچ رہا ہے اور اسی طرح گواہان کے نام پتہ ہوگا۔ سب سے اہم اس E stamp paper یا اسٹام پیپر پر نقشہ بنایا جاتا ہے فروخت ہونے والے پلاٹ یا مکان کا جس کے چاروں طرف نشاندہی کی جاتی ہے کہ کیا چیز ہے مطلب آس پاس کے مکان یا زمین کس کی ملکیت ہے.۔ اس سب کا مقصد زمین کو محفوظ بنانا ہے کہ کل کو کوئی اور شخص اس زمین پر قبضہ نہ کرلے اور رجسٹری سے پتہ چل جائے کون کس زمین کا مالک ہے.
دوسرا مرحلہ میں اسٹام پیپر زمین کی مالیت کے حساب سے نکلوانے اور تحریر کروانے کے بعد مندرجہ ذیل ڈاکومنٹس لگا کر متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں۔ فرد بیع، بیچنے خریدنے والوں کے شناختی کارڈ کی کاپی، ایف بی آر، ٹی ایم اے ٹیکس اور دیگر ٹیکس کی پیمنٹ رسید۔ یہ فائل تیار کرنے کے بعد متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں
وہاں رجسٹرار کے سامنے بیچنے والا آپکے حق میں بیان دے گا اور گواہان کی فوٹو بننے اور سائن ہونے کے بعد آپکی رجسٹری ہو جائے گی اور پھر رجسٹری آپکے ایڈریس پر چند دنوں کے اندر بھیج دی جائے گی.

انتقال اور رجسٹری میں کیا فرق ہے؟

رجسٹری اور انتقال زمین میں کوئی فرق نہیں. رجسٹری بھی ملکیت کا ثبوت ہے جبکہ انتقال زمین بھی ملکیت کا ثبوت ہے. رجسٹری کے بعد اگلا مرحلہ انتقال کا ہوتا ہے. رجسٹری حاصل کرنے کے بعد مالک زمین متعلقہ پٹواری کے پاس جائے گا

جو رجسٹری کی مصدقہ کاپی دیکھنے کے بعد آپکے نام زمین انتقال کر دے گا. سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قانون وضع کر دیا ہے کہ شہری علاقوں میں زمین کی منتقلی رجسٹری کے ذریعے ہی ہوگی نہ کے انتقال کے ذریعے.
PLD 2019 Sc 297.

13/02/2025

نان ونفقہ میں سالانہ اضافہ ابتدائی ڈگری(basic)کی رقم بجائے موجودہ(current) رقم پر ہوگا.مثلا اگر فیملی کورٹ 5000 روپے ماہوار خرچہ ناں و نفقہ ڈگری کرتی ہے تو پہلے سال سالانہ اضافہ 5000 روپے کی رقم پر ہوگا اگلے سال سالانہ اضافہ 5500 روپے اور اگلے سال سالانہ اضافہ 6050 روپے کی رقم پر ہوگا.

نوٹ۔ اس اصول کا اطلاق سابقہ فیصلہ شدہ مقدمات پر نہیں ہوگا۔۔
(2024 LHC 4177)

Section 17-A(3) of the Family Courts Act, 1964 interpreted to hold that it postulates compound calculation of annual 10% increase in the maintenance allowance.

It is abundantly clear that Section 17-A(3) of the Act is a beneficial, remedial or curative provision which calls for liberal interpretation. It is triggered when the Court omits to prescribe annual increase in maintenance or does not expressly specify if annual increase so prescribed will take effect on compound or non-compound basis while passing a decree under Section 17-A(2) read with Section 12(2) of the Act. If the legislature has not specifically provided for compound calculation in Section 17-A(3) of the Act, it is equally true that the legislature(naeem) has also not provided otherwise. The expression „the maintenance fixed by the Court shall automatically stand increased at the rate of ten percent each year” ordinarily imply that quantum of maintenance fixed under a decree does not remain static or constant but is a variable figure which is meant to increase after each year. After increase of 10% at the end of first year, a new quantum of maintenance comes in field and the amount gets merged or amalgamated in the quantum of maintenance(naeem) fixed by Court. The process is repeated after each year till the legal entitlement of wife or children under the decree. Therefore, annual increase of each year is required to be calculated on the merged amount of last preceding year for the reason that 10% increase is intrinsically linked with the principal amount and is an inseparable part of the decree. If the rent is traditionally increased with reference to the last prevailing rent, there is no reason why maintenance should not be increased based on the same principle. The compound calculation of maintenance not only caters for inflation and rising cost of living but also allows to account for growing needs and requirements of wife and children, thus, reducing the occasions to resort to Court seeking enhancement in maintenance allowance. Hence(naeem), it is concluded that when a decree of maintenance does not prescribe an annual increase or is silent qua calculation of prescribed annual enhancement on principal or aggregate amount of maintenance, Section 17A(3) of the Act will come into operation and the Executing Court shall calculate the due decreed amount on compound basis.

7340/24 Saba Gull Shahd & 2 Others Vs Additional District Judge Faisalabad etc
Mr. Justice Abid Hussain Chattha
09-10-2024
2024 LHC 4177

سول کورٹ کا کونسا آڈر اپیل ایبل ہے اور کس آڈر کے خلاف Revision ہو گی کا مکمل شیڈول۔
27/01/2025

سول کورٹ کا کونسا آڈر اپیل ایبل ہے اور کس آڈر کے خلاف Revision ہو گی کا مکمل شیڈول۔

اگر کوئی غیر منقولہ جائیداد جس کی قیمت 50 لاکھ سے زیادہ ہو بینکنگ ٹرانزیکشن کے بغیر خریدی جائے گی تو اس پر ٹوٹل ویلیو کا...
27/01/2025

اگر کوئی غیر منقولہ جائیداد جس کی قیمت 50 لاکھ سے زیادہ ہو بینکنگ ٹرانزیکشن کے بغیر خریدی جائے گی تو اس پر ٹوٹل ویلیو کا پانچ پرسنٹ پینلٹی ادا کرنی ہوگی-

25/01/2025

2025 SCMR 60

Rule 4 of Order ###VII, Code of Civil Procedure, 1908 confers power on the court to set aside the decree under ‘special circumstances’ and give leave to the defendant to appear and defend the suit. Rule 4 of referred Order deals where the defendant fails to appear and files application for leave to defend; however, in the instant case, no application for leave to appear and defend was filed by the petitioner and only application seeking setting aside of ex-parte judgment and decree, not the order for initiating ex parte proceedings, was filed.

Under Rule 4 of Order ###VII, Code of Civil Procedure, 1908, "under special circumstances" the court can set aside the decree. Rule 4 of the referred Order is subject to the condition there must be ‘special circumstances’ to support any application for setting aside decree. The plain reading of the above said Rule makes it diaphanous that it excludes ‘ordinary circumstance’ or ‘circumstances which may happen every day’. Meaning thereby, heavy burden lies on the defendant to show the circumstances due to which he was unable to appear during proceedings of the suit. The ‘special circumstances’ are different from ‘ordinary circumstance’ and ‘circumstance which may happen every day’, rather the same are rare, exceptional and beyond the control of the human being. The same can be categorized as:
1). Serious illness or accident preventing defendant's appearance;
2). Death or sudden incapacitation of defendant's counsel;
3). Natural calamity or unforeseen events;
4). Mistake or error apparent on the face of the record.
5). Failure of justice due to nonservice or inadequate service.

However, in the instant case, as noted above, every possible and provided mode of service was adopted by the learned trial Court and thereafter substituted mode of service was resorted to but even then the petitioner did not bother to join the proceedings and even application seeking setting aside ex parte judgment and decree, no ‘special circumstance’ was given rather only the following ground was taken up

Such ground cannot be considered especially when the address of the petitioner, given in the suit, and mentioned by him in his application are same.
Civil Petition Nos.1970-L of 2024.

25/01/2025

پنجاب میں پراپرٹی ٹیکس کے نظام میں انقلابی اصلاحات!

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن (E&T) ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے پراپرٹی ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ E&T کے مطابق، یہ اصلاحات صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ کی گئی ہیں۔

اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں.

1. پراپرٹی ٹیکس ڈی سی ٹیبل میں درج قیمت کی بنیاد پر طے ہوگا، جس سے شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔
2. ملین روپے تک مالیت کے رہائشی گھروں اور پلاٹوں کو پراپرٹی ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے۔
3.رواں مالی سال میں موجودہ ٹیکس دہندگان کو کوئی اضافی ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا۔
4. نئے ٹیکس دہندگان کو اس سال صرف اپنی کل ٹیکس واجبات کا 25 فیصد ادا کرنا ہوگا۔

خود تشخیصی نظام:
ٹیکس دہندگان کے لیے ایک خود تشخیصی نظام متعارف کروایا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے ٹیکس دہندگان اپنی پراپرٹی کی مالیت کے مطابق باآسانی اپنے ٹیکس واجبات کا حساب لگا سکتے ہیں، جو پہلے ممکن نہیں تھا۔

پرانا نظام:
اس سے پہلے پراپرٹی ٹیکس کے تعین میں کوئی واضح فارمولا یا طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ E&T ڈیپارٹمنٹ اپنی مرضی سے پراپرٹی ٹیکس لگاتا تھا، جس سے ٹیکس دہندگان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

نئے نظام کا مقصد:
اس نئے نظام کے تحت نہ صرف شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے بلکہ پراپرٹی ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو انہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جائے گا، جہاں سے یہ ٹیکس جمع کیا گیا ہے۔
BEAS Law Associates

Starting of New Era BEAS LAW ASSOCIATES CONSULTANS-ADVISORS-ATTORNEYS-ADVOCATES۔With Sheik Irfan Akram Advocate Superm C...
19/11/2024

Starting of New Era
BEAS LAW ASSOCIATES
CONSULTANS-ADVISORS-ATTORNEYS-ADVOCATES۔

With Sheik Irfan Akram Advocate Superm Court of Pakistan
Malik Muhammad Riaz Khan Advocate High Court Lahore
Kashif Riaz Advocate High Court Lahore

Address

Almajeed Center Link Fareedkot Road Mazang
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BEAS Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share