Anwar Khan and Associates

Anwar Khan and Associates Anwar khan Law Chamber
contact us for criminal, civil, Tax,custom, Narcotic
+923244771451
1 Fane road Lahore

14/08/2025

مشکوک آدمی کیا ہوتا ہے ۔ گوجرانولہ میں بطور میجسٹریٹ کورٹ کر رہا تھا ۔ ایک سب انسپکٹر چار نوجوان خوبصورت دبلے پتلے لڑکوں کو گرفتار کرکے ڈکیتی کے مقدمہ میں جسمانی ریمانڈ کیلئے میرے سامنے پیش ہوا ۔ میں نے اس سے شک کی وجہ پوچھی کہ کیوں انہیں حراست میں لیا کیا گیا ہے۔
کہنے لگا کہ ایف آئی آر ہیں مندرج حلیہ سے ملتے جلتے ہیں۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ میں مکمل ایف آئی آر پڑھ چکا ہوں ۔ ایف آئی آر میں ملزمان کا رنگ سانولا ۔ قد چھوٹا ۔ جسم بھاری لکھا ہوا تھا اور کوئی ملزم اس طرح کا نہیں تھا ۔ چاروں دبلے پتلے ۔ خوبصورت
گورے چٹے نوجوان کم عمر لڑکے تھے ۔ جبکہ تفتیشی سب انسپکٹر خود اس حلیہ پر پورا اترتا تھا ۔ میں نے چاروں ملزموں کو رہا کرنے اور تفتیشی افسر کو مشکوک قرار دے کر گرفتار کرکے نیا تفتیشی افسر مقرر کرنے کیلئے مسل ڈی پی او گوجرانولہ کو بھجوانے کا حکم جاری کردیا تھا
نئے قانون کے مطابق مشکوک افراد کو بغیر وجہ بتائے 90 دن حراست میں رکھا جا سکتا ہے ۔ مگر خدا کرے کہ میجسٹریٹ مشکوک دکھائی دینے کی وجوہات پر ضرور سوال جواب کرلیا کرے ۔
عدالت کو روبوٹ نہیں ہونا چاہئے ۔
Copy sharaft Rana

18/07/2025

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے آج یعنی 17 جولائی 2025 کو The Legal Practitioners and Bar Councils (Amendment) Bill, 2025 پر چند اہم ترامیم منظور کی ہیں۔ تفصیلی خلاصہ درج ذیل ہے:

---

🔹 اہم ترامیم اور تجاویز

شق تفصیل

الیکشن شیڈول بندی تمام صوبائی و وفاقی بار کونسلوں کے انتخابات لازماً نومبر کے پہلے ہفتے (سب سے پہلے ہفتہ) میں منعقد کیے جائیں گے، اور کسی صورت دوسری ہفتہ نومبر سے آگے نہیں بڑھایا جائے گا ۔
اہلیت کے معیار میں اضافہ امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں دس سال سے بطور وکیل رجسٹرڈ ہو اور کم از کم 30 مقدمات خود سنبھالے ہوں—تاکہ تجربہ اور مہارت کو یقینی بنایا جا سکے ۔
دیانتداری سے متعلق نا اہل قرار دینا جن افراد پر اخلاقی بے ضابطگی کے مرتکب ہونے کا جرم ثابت ہوا ہو، یا جو دو سال یا زیادہ سزا یافتہ ہوں (جب تک کہ انہیں پانچ سال کی سزا پوری ہونے کے بعد رہا نہ کیا گیا ہو)، ایسی صورت میں وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے ۔
خیبر پختونخواہ میں نئے اضلاع کی نمائندگی نئے ضم شدہ اضلاع کو مناسب نمائندگی فراہم کرنے کے لیے بار کونسلز میں مخصوص نشستیں مختص کی جائیں گی ۔

---

🔹 چرا ان ترامیم کو منظور کیا گیا؟

کمیٹی نے زور دیا ہے کہ ان ترامیم سے:

انتخابات میں شفافیت بڑھے گی،

تجربہ کار قانونی پیشہ ور افراد کو ہی نمائندگی ملے گی،

دیانتداری اور پیشہ و اخلاقی معیار برقرار رہیں گے،

نئے اضلاع کی نمائندگی کی ضمانت دی گئی ہے،

اور سہ ماہی انتخابات کے شیڈول میں یکسانیت آئے گی ۔

---

🔹 آئندہ کا لائحہ عمل

یہ ترامیم اب سینیٹ کی مکمل منظوری (فل سیشن) کے لیے پیش کی جائیں گی،

پھر قومی اسمبلی میں بحث و رائے کے بعد قانون بننے کا مرحلہ طے کیا جائے گا۔

---

🔹 پس منظر

کمیٹی نے آج فقرہ بہ فقرہ جائزہ لینے کے بعد ان ترامیم کو مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔ انتظامی سربراہانہ کردار ادا کرنے والے سینیٹر فاروق حمید نائیک کی زیرصدارت یہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، مختلف سینیٹرز، بار کونسلز کے عہدے داران اور قانونی اسٹیک ہولڈرز شریک تھے ۔

18/07/2025

دنیا کی مختصر ترین فلم جو کہ صرف سینتیس 37 سیکنڈز کی ہے اور ڈائریکٹر کو اسے بنانے میں آدھا گھنٹہ ہی لگا ہو گا۔۔۔
پر جو پیغام ہے وہ لازوال ہے ۔۔۔

کوئ ایسا ہی قانون پاکستان میں آۓ گا تو لوگوں کی اے آئ سے  لائ جانے والی بربادی سے جان چھوٹے گی
12/07/2025

کوئ ایسا ہی قانون پاکستان میں آۓ گا تو لوگوں کی اے آئ سے لائ جانے والی بربادی سے جان چھوٹے گی

09/07/2025

پشاور ہائی کورٹ نے آ ئس 1200گرام ڈائریکٹ برآمدگی میں ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ آئس کو بمعہ شاپنگ بیگ وزن کیا ہے یا بغیر شاپنگ بیگ وزن کیا ہے کیونکہ قانون میں سزا کے کیٹگریزیش کے بعد 11(5) یا (6) میں بارڈر لائن کا مقدمہ بنتا ہے یہ ٹرائل کورٹ بعد از گواہان کے بیانات فیصلہ کرئے گا ضمانت کے سٹیج پر مزید انکوائری کا کیس بنتا ہے
Judgment Sheet

PESHAWAR HIGH COURT, PESHAWAR

(Judicial Department)

Cr.Misc. (BA) No.1899-P/2025

"Shakir Ullah Versus

The State"

Present:

Mr. Israr Hussain, Advocate, for the petitioner(s).

Mr. Khan Zeb, AAG, for the State.

Date of hearing:

04.07.2025

ORDER

MUHAMMAD IJAZ KHAN, J.- This order is directed to dispose of an application filed by petitioner namely Shakir Ullah slo Akhtar Ameen for grant of post arrest bail in case FIR No. 72 dated 10.04.2025 registered under section 11-C CNSA at Police Station Excise, Peshawar. Same relief was, however, declined to him by the learned trial Court vide order dated 19.05.2025.

2. As per contents of the FIR, the complainant, namely Waheed Akbar Khan, SHO, along with other police 'Nafri' during routine patrolling of the area, apprehended the accused, namely Shakir Ullah (the petitioner herein). During personal search of the accused/petitioner, the police recovered ICE weighing 1172 grams. Accused was arrested on the spot. 'Murasila' was drafted, which culminated into ibid FIR registered against the present accused/petitioner at police station concerned.

3. Arguments heard and record perused.

4. The very contents of the crime report would show that allegedly the quantity weighing 1172 grams "ICE" has been shown recovered from the possession of the accused/petitioner which "ICE" was allegedly wrapped in a black colour bag, however, it is spelling out from the record that the same was weighed with the shopper, therefore, it become a border line case between Clause 5 and 6 of section 11 of the K.P CNS Act, 2019 and recently through Act No. XII of 2025, an amendment has been made in section 11 of The Khyber Pakhtunkhwa Control of Narcotic Substances Act, 2019, where the former is punishable upto seven years and the latter one is punishable upto ten years, therefore, in the given facts and circumstances whether the prosecution would be able to bring home the maximum punishment provided under the relevant provision of law or not is a question which is to be determined by the learned trial court after recording of pro and contra evidence, as by now it is settled that while considering the plea of bail, the punishment which is likely to be granted to the accused is to be taken in consideration.

5. The record further shows that the present petitioner is a first offender and he has never been involved in such nature cases in the past, and since challan in the case has already been put in Court therefore, the custody of the petitioner is neither required to the prosecution nor the same would serve any useful purpose. In the case¹ the Hon'ble Apex Court has observed that the basic idea is to enable the accused to answer criminal prosecution against him rather than to rot him behind the bar. Every accused is innocent until his guilt is proved and benefit of doubt can be extended to the accused even at bail stage if the facts of the case so warrant. The basic philosophy of criminal jurisprudence is that the prosecution has to prove its case beyond reasonable doubt and this principle applies at all stages including pre-trial and even at the time of deciding whether accused is entitled to bail or not.

6. In the given facts and circumstances the accused/petitioner has made out a case for the grant of bail. Accordingly, this bail application is allowed and accused/petitioner is directed to be released on bail provided he furnishes bail bonds in the sum of Rs. 100,000/- (one hundred thousand) with two sureties each in the like amount to the satisfaction of learned Illaqa/Judicial Magistrate/MOD, who shall ensure that the sureties are local, reliable and men of means. Observations recorded here in above are purely tentative in nature and should in no way prejudice an independent mind of learned trial Court during the course of trial.

Announced:

04.07.2025

09/07/2025

انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 21 میں حالیہ ترمیم ناقص قانون سازی اور حکمتِ عملی کے فقدان کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ترمیم کے مطابق، اگر کوئی فروخت کنندہ ایک ہی انوائس پر دو لاکھ روپے سے زائد رقم نقد وصول کرتا ہے، تو متعلقہ کاروباری اخراجات کا 50 فیصد نا منظور کر دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں فروخت کنندہ کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد کیش اکانومی کی حوصلہ شکنی اور ڈیجیٹل فُٹ پرنٹ اکانومی کی طرف پیش قدمی کرنا ہے، جو کہ اصولاً درست سمت ہے۔ لیکن صرف ایک قانونی ترمیم کافی نہیں ہے۔ پاکستان میں آج بھی لاکھوں چھوٹے کاروباری افراد اور دیہی علاقوں کے تاجر بینکاری سہولیات سے محروم ہیں۔ ایسے میں بغیر کسی متبادل نظام یا سہولیات کے، سخت قانونی پابندیاں عائد کرنا ease of doing business کے اصولوں کے خلاف اور اُن کاروباروں کے لیے سزا جیسا ہے جو نظام کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کا سیکشن 73 پہلے ہی پچاس ہزار روپے سے زائد کی نقد ادائیگی پر ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی اجازت نہیں دیتا۔ اب جب کہ انکم ٹیکس میں بھی نقد رقم پر پابندی لگا دی گئی ہے، تو ایک ہی ٹرانزیکشن پر دوہری سزا عائد ہو رہی ہے جو کہ انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ اگر سیکشن 21 میں ترمیم متعارف کروائی گئی تھی، تو سیکشن 73 کو بھی اس کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ترمیم کیا جانا چاہیے تھا تاکہ دونوں قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ اس ضمن میں mutatis mutandis کا اصول یعنی متعلقہ قوانین کو مناسب تبدیلیوں کے ساتھ یکساں انداز میں لاگو کرنا نظر انداز کر دیا گیا، جس سے ٹیکس دہندگان کے لیے مزید پیچیدگیاں اور قانونی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ مزید یہ کہ، اگر واقعی حکومت کی نیت ڈیجیٹل معیشت کی طرف پیش قدمی ہے، تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایف بی آر کو باہمی اشتراک سے ڈیجیٹل والٹ سسٹمز، موبائل ادائیگی کے آسان ذرائع متعارف کروانے چاہیے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کے پاس نہ اسمارٹ فون ہیں اور نہ ہی بینک اکاؤنٹس۔ جب تک بنیادی انفراسٹرکچر، تربیت، اور آگاہی فراہم نہیں کی جاتی، اس طرح کی قانونی ترامیم صرف رکاوٹیں اور بے یقینی پیدا کریں گی اور
معیشت کی دستاویزی شکل کا اصل مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔
Copy

بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ!اس کیس میں ایف بی آر نے صرف بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر انکم...
07/07/2025

بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ!

اس کیس میں ایف بی آر نے صرف بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 122(5A) کے تحت ازسرنو اسیسمنٹ کی کارروائی شروع کی۔ ایف بی آر کا مؤقف تھا کہ ٹیکس دہندہ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود کریڈٹ انٹریز "Undisclosed Income" ہیں، لہٰذا انہیں نوٹس جاری کیا گیا۔
لیکن ٹیکس دہندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بینک اسٹیٹمنٹس بذات خود "Definite Information" نہیں ہوتیں کیونکہ یہ صرف لین دین کا ریکارڈ ہیں، ان سے براہ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ آمدن ہے، یا یہ کسی مخصوص ٹیکس ایئر کی آمدن سے متعلق ہے۔
ماتحت عدالت نے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ دیا جسے ہائی کورٹ اور بالآخر سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔
عدالتی فیصلہ:
بینک اسٹیٹمنٹس صرف ایک لین دین کا ریکارڈ ہیں، یہ خود بخود "Definite Information" نہیں بنتیں جب تک یہ مخصوص اور قابل تصدیق شواہد کے ساتھ کسی آمدنی سے واضح تعلق ظاہر نہ کریں۔
عدالت نے مزید کہا کہ "سیکشن 122(5A) کے تحت کوئی بھی کارروائی صرف اسی وقت ہو سکتی ہے جب معلومات واضح، مخصوص اور قابلِ تصدیق ہوں، محض قیاس یا شبہ کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہو سکتی۔
اہم نکات: بینک اسٹیٹمنٹ بذاتِ خود "Definite Information" نہیں ہے۔
معلومات کا ٹیکس ایبل آمدنی سے براہِ راست تعلق ہونا ضروری ہے۔
صرف قیاسی یا عمومی معلومات کی بنیاد پر سیکشن 122(5A) کے تحت نوٹس غیرقانونی ہوگا۔
عدالت نے ایف بی آر کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کو ریلیف دیا۔.
Civil petition No 862 of 2024

05/07/2025

[زمین کی رجسٹری اور انتقال کا مکمل اور آسان طریقہ کار]
رجسٹری کیسے کروائی جائے؟ رجسٹری اور انتقال میں کیا فرق ہے؟

1.رجسٹریشن ایکٹ 1908کے دفعہ 17 کے تحت یہ ضروری ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کو رجسٹرڈ کروایا جائے جس کو رجسٹری بولتے ہیں ۔
2۔غیر منقولہ جائیداد مثلاً پلاٹ، مکان، دوکان یا زرعی رقبہ خریدنے سے پہلے اس جائیداد کا فرد نکلوا کر تسلی کر لیں کہ آیا یہ جائیداد متنازعہ تو نہیں یا جائیداد کی بابت کوئی کیس تو نہیں چل رہا۔
3۔ جائیداد کی تسلی کے بعد دوسرا مرحلہ جائیداد رجسٹری کی بابت ٹیکس بینک میں ادا کرنے ہوتے ہیں جس کے لئے آپ کو اس جائیداد کی بازاری قیمت یعنی DCکی طرف سے مقرر کردہ ریٹ معلوم کرنا ہوتا ہے جو کہ تحصیل آفس سے معلوم کیے جاسکتے ہیں ۔
4۔ڈی سی ریٹ کے مطابق %6 ٹیکس (فائلر%5) بینک میں جمع کروائے گا۔اور اشٹام پیپر منگوائے گا۔
5۔اس کے بعد معاہدہ بیع نامہ تحریر کروا کر تحصیل آفس میں اصل شناختی کارڈز اور دو عدد اسی علاقہ کے گواہان کے ساتھ روبرو تحصیل دار پیش ہو کر دستخط اور انگوٹھا نشان ثبت کرنے ہوتے ہیں۔جس کے بعد رجسٹری کا عمل مکمل ہوجاتا ہے ۔
6۔اگلا مرحلہ پٹواری کے پاس جاکر رجسٹری کی فوٹوکاپی جمع کروا کر انتقال اپنے نام ٹرانسفر کروانا ہوتا ہے۔

رجسٹری کیسے کروائی جائے؟ رجسٹری اور انتقال میں کیا فرق ہے؟
رجسٹری لفظ رجسٹرڈ سے نکلا ہے مطلب کوئی چیز رجسٹرڈ کروانا. مثال کے طور پر ہم موٹر سائیکل لیتے ہیں یا کار تو متعلقہ ایکسائز کے محکمے سے گاڑی کی رجسٹریشن کرواتے ہیں جہاں گاڑی کی نمبر پلیٹ انجن نمبر، رنگ، ماڈل، کمپنی کا نام اگر پرانی گاڑی ہے تو پرانے مالک کا نام غرض کےہر چیز تفصیل سے درج ہوتی ہے

اور ایکسائز کی خاص قیمت ادا کرنے کے بعد گاڑی ہمارے نام ہو جاتی ہے. بلکل اسی طرح زمین اور مکان کی رجسٹری کروانے کا معاملہ ہے. زمین کی رجسٹری میں بھی ہر چیز لکھی جاتی ہے جو زمین یا مکان سے متعلق ہو. رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی دفعہ 17 کے مطابق غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی کے لئے رجسٹریشن لازمی ہے۔

َزمین، مکان کی رجسٹری کا طریقہ؟

پہلا مرحلہ میں سب سے پہلے جس شخص سے آپ مکان یا زمین خرید رہے ہیں وہ فرد بیع نکلوائے گا اس زمین کی کیونکہ زمین کی رجسٹری کے لیے فرد بیع کا ہونا لازمی ہے.

فرد بیع سے پتہ چلے گا کے زمین بیچنے والا شخص ہی اصل زمین کا مالک ہے اور زمین پر کسی قسم کا سٹے یا مقدمہ نہیں ہے. یاد رہے کہ ایک وقت میں ایک ہی فرد بیع نکل سکتی ہے. فرد بیع نکلوانے کے بعد اگر بیچنے والی زمین کی رجسٹری نہ کروائی جائے تو وہ فرد بیع 14 دن بعد منسوخ ہو جاتی ہے. اس کے بعد زمین کی مالیت کے حساب سے E Stamp paper نکلوائیں. فائلر 5 فیصد ٹیکس زمین کی مالیت کے حساب سے ادا کر کے E stamp paper نکلوائے گا اور نان فائلر 6 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرے گا۔
زرعی زمین پر 4 فیصد ٹیکس ادا کیا جائے گا. ای سٹیمپ پیپر پر بیچنے والے اور خریدنے والے کا نام تحریر ہوگا. اس اسٹام پیپر پر زمین کا ڈی سی ریٹ لکھا ہوگا کہ کتنے روپے کی زمین فروخت کی جارہی ہے وہ قیمت لکھی ہوگی. اس کے علاوہ اسی E stamp paper پر مکمل تحریر ہوگی کہ کون شخص کس کو زمین بیچ رہا ہے
اور کتنے روپے میں بیچ رہا ہے اور اسی طرح گواہان کے نام پتہ ہوگا۔ سب سے اہم اس E stamp paper یا اسٹام پیپر پر نقشہ بنایا جاتا ہے فروخت ہونے والے پلاٹ یا مکان کا جس کے چاروں طرف نشاندہی کی جاتی ہے کہ کیا چیز ہے مطلب آس پاس کے مکان یا زمین کس کی ملکیت ہے.۔ اس سب کا مقصد زمین کو محفوظ بنانا ہے کہ کل کو کوئی اور شخص اس زمین پر قبضہ نہ کرلے اور رجسٹری سے پتہ چل جائے کون کس زمین کا مالک ہے.
دوسرا مرحلہ میں اسٹام پیپر زمین کی مالیت کے حساب سے نکلوانے اور تحریر کروانے کے بعد مندرجہ ذیل ڈاکومنٹس لگا کر متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں۔ فرد بیع، بیچنے خریدنے والوں کے شناختی کارڈ کی کاپی، ایف بی آر، ٹی ایم اے ٹیکس اور دیگر ٹیکس کی پیمنٹ رسید۔ یہ فائل تیار کرنے کے بعد متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں
وہاں رجسٹرار کے سامنے بیچنے والا آپکے حق میں بیان دے گا اور گواہان کی فوٹو بننے اور سائن ہونے کے بعد آپکی رجسٹری ہو جائے گی اور پھر رجسٹری آپکے ایڈریس پر چند دنوں کے اندر بھیج دی جائے گی.

انتقال اور رجسٹری میں کیا فرق ہے؟

رجسٹری اور انتقال زمین میں کوئی فرق نہیں. رجسٹری بھی ملکیت کا ثبوت ہے جبکہ انتقال زمین بھی ملکیت کا ثبوت ہے. رجسٹری کے بعد اگلا مرحلہ انتقال کا ہوتا ہے. رجسٹری حاصل کرنے کے بعد مالک زمین متعلقہ پٹواری کے پاس جائے گا

جو رجسٹری کی مصدقہ کاپی دیکھنے کے بعد آپکے نام زمین انتقال کر دے گا. سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قانون وضع کر دیا ہے کہ شہری علاقوں میں زمین کی منتقلی رجسٹری کے ذریعے ہی ہوگی نہ کے انتقال کے ذریعے.
PLD 2019 Sc 297.
Copied.

30/06/2025

آئینی کورٹ کا فیصلہ: جمہوریت اور آئین پر ایک کاری ضرب

محفوظ نشستوں سے متعلق حالیہ فیصلے میں آئینی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک کی آئینی اور سیاسی تاریخ میں ایک نہایت افسوسناک اور شرمناک موڑ کی نمائندگی کرتا ہے۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 10 رکنی بینچ نے 7 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں یہ نشستیں اب مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی (ف)، اور دیگر اتحادی جماعتوں میں تقسیم ہوں گی۔

کیا ہوا ہے؟

اس کیس کو سمجھنے کے لیے اس کی قانونی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

مارچ 2024 میں پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل (جو پی ٹی آئی سے منسلک تھی) کی وہ درخواست مسترد کر دی تھی جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا کہ پارٹی کو مخصوص نشستیں نہیں دی جائیں گی۔

13 جولائی 2024 کو سپریم کورٹ نے ایک غیر معمولی اکثریتی فیصلے میں پی ٹی آئی کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں دینے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے سیاسی طور پر ایک نئی زندگی کی مانند تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پارٹی شدید ریاستی دباؤ میں تھی۔

تاہم یہ فیصلہ کبھی نافذ العمل نہیں ہوا۔ قومی اسمبلی نے اس پر عملدرآمد سے انکار کیا اور الیکشن کمیشن نے کئی اعتراضات اٹھا دیے۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور خود الیکشن کمیشن نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستیں دائر کیں۔ اب، نئی تشکیل شدہ آئینی عدالت نے نہ صرف سپریم کورٹ کے جولائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے، بلکہ پشاور ہائی کورٹ کے پرانے فیصلے کو بحال کر دیا ہے۔ یہ ایک بڑی قانونی یوٹرن ہے جو عدالتی آزادی اور اصولوں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟

یہ معاملہ صرف نشستوں کی تقسیم کا نہیں، بلکہ پاکستان کے جمہوری ڈھانچے اور آئینی نظام کے مستقبل کا ہے۔ مخصوص نشستوں کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ عوامی نمائندگی کے دائرے کو وسیع کریں اور محروم طبقات کو پارلیمان میں آواز ملے۔ پی ٹی آئی، جس کو لاکھوں ووٹرز نے ووٹ دیا، کو اس کے جمہوری حق سے محروم کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اسمبلی کی مجموعی نمائندگی پر بھی سوال کھڑے کرتا ہے۔

اس فیصلے سے ایک اور سنگین رجحان بھی سامنے آیا ہے: عدلیہ کی طاقتور غیر منتخب اداروں کے سامنے جھکنے کی عادت۔ کچھ ہی عرصہ پہلے یہی عدالت سویلین افراد کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت دے چکی ہے، جو کہ آئین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی تھی۔ اب، پی ٹی آئی کو نمائندگی سے محروم کر کے اور حکومت کو مزید طاقت دے کر، عدلیہ نے اقتدار کا توازن مکمل طور پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے حق میں جھکا دیا ہے۔

عدلیہ کا بحران

آئینی عدالت کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ وہ آئین کی تشریح اور نفاذ کے معاملات پر ایک واضح، مستقل اور غیر جانبدار فورم فراہم کرے۔ لیکن اس کے قیام کو ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا کہ اس کی ساکھ پہلے ہی متنازع ہو چکی ہے۔ یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ عدالت آئین کی محافظ نہیں بلکہ طاقتور حلقوں کا آلہ بن چکی ہے۔

پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو “آئینی، عدالتی روایات اور انصاف کا جنازہ” قرار دیا ہے۔ اگرچہ میں نے ماضی میں پی ٹی آئی کی پالیسیوں سے اختلاف کیا ہے، لیکن اس معاملے میں ان کا اعتراض بالکل درست اور بجا ہے۔

جولائی 2024 کے سپریم کورٹ فیصلے پر میری سابقہ تجزیاتی رائے یہی تھی کہ اگرچہ وہ فیصلہ سیاسی طور پر
مثبت تھا، اس میں آئینی حدود کو عبور کیا گیا تھا اور اس سے آئندہ کے لیے ایک خطرناک نظیر قائم ہو سکتی تھی۔ تاہم، جسٹس جمال خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اقلیتی رائے آئینی لحاظ سے زیادہ معقول، متوازن اور قابل عمل تھی۔

یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ آئینی عدالت نے نہ صرف سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کو رد کر دیا، بلکہ ایک آئینی اور اعتدال پسند راستہ تجویز کرنے والی اقلیتی رائے کو بھی یکسر نظر انداز کر دیا۔

طاقت کا غیر متوازن جھکاؤ

اگرچہ جولائی کے فیصلے میں کچھ حد تک جذباتی سیاسی رجحانات نظر آتے تھے، پھر بھی اس میں جمہوری اور سیاسی توازن کو بحال کرنے کی ایک کوشش موجود تھی۔ آج کا فیصلہ اس کے برعکس ایک انتہائی قدم ہے، جس نے طاقت کے تمام اختیارات حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کر دیے ہیں۔ اب ایک ایسی حکومت، جس کی جمہوری حیثیت پہلے ہی مشکوک ہے، دو تہائی اکثریت حاصل کر لے گی—ایک مصنوعی، انجینئرڈ اکثریت۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب حکومت بغیر کسی بڑی مزاحمت کے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف بنیادی حقوق کو خطرہ لاحق ہے بلکہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مستقبل کا راستہ

فوری طور پر اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو اسمبلیوں سے باہر رکھا جائے گا، جبکہ دیگر جماعتیں ایسی نشستیں حاصل کریں گی جن کا ان کو جمہوری طور پر کوئی حق نہیں۔ انہیں ایک ایسی اکثریت ملے گی جو ووٹرز نے نہیں دی، بلکہ اداروں نے تشکیل دی ہے۔

طویل المدتی طور پر، یہ فیصلہ اپنی آئینی اور سیاسی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ جیسے ماضی میں عدالتی فیصلوں سے اپوزیشن کو دبانے کی کوششیں ناکام ہوئیں، ویسے ہی یہ فیصلہ بھی عوامی اعتماد اور عدالتی وقار کو مزید نقصان پہنچائے گا۔

یہ فیصلہ صرف پی ٹی آئی کے لیے نہیں، بلکہ پاکستان کی کمزور جمہوریت کے لیے ایک دھچکا ہے۔ اگر عدلیہ نے خود کو آئین کی غیر جانبدار محافظ کے طور پر بحال نہ کیا، تو جمہوریت کا مستقبل اور زیادہ غیر یقینی ہو جائے گا۔

Copy Rafiullah Kakar

27/06/2025

حامد خان صاحب نے ہر محنت کش وکیل کے دل کی بات کہہ دی ہے، حقیقت یہی ہے کہ بس ہمیں اب زندہ رہ کر کچھ کرنا ہے ۔۔!

25/06/2025

Great News for all LLB aspirants. The Supreme Court of Pakistan has allowed the reduction of LLB from 5 to 4 years as requested by the Pakistan Bar Council/Directorate of Legal Education (DLE) and HEC. Moreover the discriminatory equivalence exam SEE-Law for foreign law graduates has also been suspended by the Apex Court!!

Address

1, Fane Road
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anwar Khan and Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share