NPC Law Associates

NPC Law Associates HELLO �

ARE YOU WORRIED IN A CASE AND FIND A LAWYER & ADVOCATE OF HIGH COURT �

SO CONTACT NOW �

"یہ بڑھاپا عمر کا نہیں... PLD، SCMR، YLR، CLC، MLD اور PCRLJ کا دیا ہوا ہے۔ 😂⚖️"
01/08/2026

"یہ بڑھاپا عمر کا نہیں... PLD، SCMR، YLR، CLC، MLD اور PCRLJ کا دیا ہوا ہے۔ 😂⚖️"

01/08/2026

الحمدللہ، فیملی کورٹ لاہور نے ہمارے دلائل، ریکارڈ پر موجود شواہد اور سپریم کورٹ و لاہور ہائیکورٹ کے طے شدہ قانونی اصولوں کی روشنی میں نان و نفقہ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے ماہانہ نان و نفقہ Rs.18,000 سے بڑھا کر Rs.30,000 مقرر کر دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ یہ اضافہ درخواست دائر ہونے کی تاریخ 16.03.2026 سے نافذ العمل ہوگا، بقایا (Outstanding Decretal Amount) بھی ادا کیا جائے گا، جبکہ 10% سالانہ اضافہ قانون کے مطابق آئندہ بھی جاری رہے گا۔
عدالت نے قرار دیا کہ وقت گزرنے، شدید مہنگائی، بچے کی بڑھتی ہوئی عمر، کالج کی تعلیم، ٹیوشن فیس، کتابوں، ٹرانسپورٹ، خوراک، لباس، علاج اور دیگر ضروری اخراجات کے باعث اگر پہلے مقرر کردہ نان و نفقہ ناکافی ہو جائے تو Section 151 C.P.C. کے تحت نئی فیملی سوٹ دائر کیے بغیر بھی نان و نفقہ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ Ex*****on Petition کے دوران بھی ایسی درخواست قابلِ سماعت ہے۔ مزید یہ کہ شوہر پر اپنی اصل آمدنی، اثاثوں اور مالی وسائل ظاہر کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور اگر وہ اپنی مالی حیثیت چھپائے یا درست معلومات فراہم نہ کرے تو عدالت اس کے خلاف Adverse Inference لے سکتی ہے۔
یہ فیصلہ معزز عدالت نے Lt. Col. Nasir Malik v. Additional District Judge, Lahore (2016 SCMR 1821)، Sohail Farooq v. Farzana Rafique (2017 YLR 1300)، Tanveer Salamat v. Additional District Judge (2019 YLR 1862 Lahore) اور Amir Sohail v. Judge Family Court (2023 CLC 161 Lahore) میں بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں صادر فرمایا۔پنجاب کے کسی بھی ضلع سے تعلق رکھتے ہیں اور نان و نفقہ، نان و نفقہ میں اضافہ، بقایا نان و نفقہ کی وصولی، خلع، بچوں کی حوالگی (Custody)، ملاقات کے حقوق یا دیگر فیملی مقدمات کے حوالے سے قانونی معاونت چاہتے ہیں تو رابطہ کریں۔ انصاف کے حصول کے لیے مؤثر قانونی رہنمائی آپ کا حق ہے۔ 03099637010 what's app

31/07/2026

نکاح مورخہ 1/12/2017 کو ہوا اور نکاح نامہ کالم نمبر 13/14 میں 15 تولہ زیور تحریر کیا گیا اور دیگر تحفہ جات پیش ہوئے رخصتی نا ہوئی مدعیہ نے اپنے دعوی خلع میں یہ ذکر نا کیا کے زیور مجھے ملا ہے یا نہیں
مدعاعلیہ نے جواب دعوی داخل کیا اور کچھ تحفہ جات کی واپسی کا مطالبہ کیا جب کے مصالحت کے وقت عدالت میں پیش نہیں ہوا تو کورٹ نے مدعیہ کا دعوی ڈگری کرتے ہوئے مدعیہ کو 25 فصید زیور واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور مدعاعلیہ کا مطالبہ خارج کر دیا کے بیوی کو bridal gift دے کر واپسی کلیم نہیں کیا جا سکتا وہ اشیاء جو شوہر یا اس کے خاندان کی طرف سے شادی کے موقع پر یا اس کے سلسلے میں دی جائیں، دلہن کے تحائف/تحفے شمار ہوتی ہیں اور اس طرح مکمل طور پر بیوی کی ملکیت بن جاتی ہیں—ایسی اشیاء شوہر واپس نہیں لے سکتا کیونکہ نہ تو وہ مہر میں شامل ہیں اور نہ ہی شوہر کی قابلِ واپسی ذاتی ملکیت تصور کی جا سکتی ہیں۔
مدعیہ نے حق مہر واپسی کی نسبت ہائیکورٹ میں رٹ پیٹیشن دائر کی لیکن ہائیکورٹ نے 15 تولہ ہی واپس کرنے کا حکم دیا کے جب رخصتی ہی نہیں ہوئی تو تمام زیور واپس کرے رٹ پیٹیشن کے خلاف مدعیہ نے سول پیٹیشن سپریم کورٹ دائر کی سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا حکم منسوخ کرتے ہوئے 25 فصید زیور واپس کرنے کا حکم دیا
2026 SCMR 561
Najma Parveen Gujjar adv

14/11/2025

"Expert Legal Solutions in Lahore! 🏛️💼

N.P.C Law Associates provides top-notch legal services in Lahore, catering to individuals, businesses, and organizations. Our team of seasoned lawyers offers expert guidance and representation in:

📝 Corporate Law
🏠 Property Law
👮 Family Law
💼 Labor Law
🚔 Criminal Law
🤝 Contract Law
Civil law
Rent law
Guardian certificate (permanent or temporary custody of minors)
Naan nafka
Maintenance
Khula/divorce/
Recovery
Dowry article
Dower amount
Tax law (NTN/ tax returns/GST and all
Ejectment

Trust our expertise to navigate complex legal issues. Contact us today! 📞 03099637010 [email protected]










"

14/11/2025

Framing of Charge under Section 242 CrPC
تعارف
سیکشن 242 کے تحت عدالت مجسٹریٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مقدمے میں ملزم کے خلاف چارج (charge) فریم کرے، اگر وہ یہ محسوس کرے کہ مقدمے میں ثبوت اتنے کافی ہیں کہ ملزم کو سزا دی جا سکتی ہے۔ چارج فریم کرنا مقدمے کا ایک اہم مرحلہ ہے کیونکہ اس کے بعد مقدمہ ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔
1. Charge کی تعریف
چارج ایک تحریری بیان ہوتا ہے جس میں ملزم پر لگائے گئے الزامات کو عدالت کے سامنے واضح اور مخصوص انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔
اہم نکات:
چارج میں مجرمانہ فعل کی وضاحت کی جاتی ہے۔
یہ ملزم کو مقدمے کا دفاع تیار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
چارج کے بغیر ٹرائل شروع نہیں ہو سکتا۔
> "If, upon consideration of the record of the case and the report of the police officer, if any, and after giving the accused an opportunity of being heard, the Magistrate considers that there is sufficient ground for proceeding against the accused, he shall frame a charge against him."
اگر عدالت ریکارڈ اور پولیس رپورٹ (اگر موجود ہو) کے جائزے کے بعد یہ سمجھے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کافی بنیاد موجود ہے، تو عدالت ملزم کے خلاف چارج فریم کرے گی۔
3. Charge فریم کرنے کا مقصد
1. ملزم کو اپنے خلاف الزامات جاننے کا موقع دینا۔
2. مقدمے کو مناسب طریقے سے منظم کرنا۔
3. عدالت کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دینا کہ آیا ثبوت کے مطابق مقدمہ چلانے کے لیے بنیاد موجود ہے یا نہیں۔
4. Charge فریم کرنے کا طریقہ کار
Step 1: ریکارڈ اور ثبوت کا جائزہ
عدالت مقدمہ کے تمام دستاویزات، شکایت، اور پولیس رپورٹ کا مطالعہ کرتی ہے۔
Step 2: ملزم کو سنا جائے
ملزم کو اپنے دفاع کا موقع دیا جاتا ہے، تاکہ وہ کوئی وضاحت پیش کرے۔
Step 3: چارج تیار کرنا
چارج صاف، واضح اور مخصوص ہونا چاہیے۔
اس میں مجرمانہ فعل کی تفصیل، متعلقہ دفعہ، اور تاریخ/وقت شامل ہونا ضروری ہے۔
Step 4: چارج پڑھ کر سنانا
عدالت چارج کو ملزم کے سامنے پڑھتی ہے اور اس سے پوچھتی ہے کہ وہ اسے قبول کرتا ہے یا انکار۔
5. ملزم کا ردعمل
اگر ملزم چارج قبول کرے: مقدمہ ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔
اگر ملزم چارج سے انکار کرے: عدالت ٹرائل کے لیے شروعات کرتی ہے، اور ثبوت کے مطابق مقدمہ چلتا ہے
6. Charge میں کمزوری یا خامی
اگر چارج غیر واضح یا مبہم ہو تو عدالت Charge کو دوبارہ فریم کر سکتی ہے۔
یہ ملزم کے قانونی حقوق کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔
7. قانونی اہمیت
1. Due process: یہ ملزم کے قانونی حقوق کی ضمانت ہے۔

2. Foundation of trial: بغیر چارج کے ٹرائل نہیں ہو سکتا۔

3. Clarity for prosecution: یہ عدالت اور پراسیکیوٹر کے لیے الزامات کی وضاحت کرتا ہے۔

نتیجہ

سیکشن 242 CrPC کے تحت framing of charge مقدمہ چلانے کے عمل کا اہم سنگ میل ہے۔ یہ نہ صرف ملزم کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے بلکہ عدالتی عمل کو بھی شفاف اور منظم بناتا ہے۔ چارج کی درست تیاری اور پڑھ کر سنانا عدالت کے انصاف کے اصول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
Najma Parveen Gujjar
Adv High court

12/11/2025

Order 1 Rule 10 CPC – تفصیلی آرٹیکل (اردو)

Order 1 Rule 10 سول پروسیجر کوڈ کا وہ قانون ہے جو فریقین کی درست نشاندہی اور شاملِ مقدمہ کرنے کے متعلق عدالت کو اہم اختیارات دیتا ہے۔ بعض اوقات مقدمہ ایسے لوگوں کے خلاف یا ایسے لوگوں کے بغیر دائر کر دیا جاتا ہے جن کا اصل تنازعے سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا یا جن کا تعلق ہونا چاہیے لیکن انہیں شامل نہیں کیا جاتا۔ اس قانون کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہر وہ شخص جو مقدمے کے فیصلے سے متاثر ہو سکتا ہے اسے مقدمے کا فریق بنایا جائے تاکہ فیصلہ مکمل اور مؤثر ہو۔

ضرورت کیوں پیش آتی ہے

بہت سے مقدمات میں مدعی لاعلمی، غلطی یا کسی حکمت عملی کے تحت اصل ضروری فریق کو شامل نہیں کرتا۔ اگر کوئی ایسا حکم جاری ہوجائے جو عدم موجودگی میں کسی شخص کے حقوق کو متاثر کرے تو وہ فیصلہ غیر مؤثر ہو جاتا ہے اور نیا تنازعہ جنم لے لیتا ہے۔ اس لیے Rule 10 یہ یقینی بناتا ہے کہ ایسا نہ ہو۔

عدالت کے اختیارات

عدالت کسی بھی مرحلے پر یہ حکم جاری کر سکتی ہے کہ مقدمے میں:

کسی غیر ضروری فریق کو نکال دیا جائے

کسی ضروری فریق کو شامل کر لیا جائے

یہ کام عدالت خود بھی کر سکتی ہے اور کسی بھی فریق کی درخواست پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ عدالت یہ دیکھتی ہے کہ آیا اس شخص کی موجودگی فیصلہ کرنے کے لیے ضروری ہے یا اس کا حق مقدمے سے وابستہ ہے۔

Necessary Party اور Proper Party
اس رول کے ذریعے عدالت ان دو قسم کے فریقین کو شامل کرتی ہے۔
Necessary Party وہ ہوتا ہے جس کے بغیر مقدمے پر کوئی درست فیصلہ ہی نہیں دیا جا سکتا۔
Proper Party وہ ہوتا ہے جس کی موجودگی فیصلہ کو مکمل اور مؤثر بنانے کے لیے فائدہ مند ہو۔

اگر Necessary Party شامل نہ کیا جائے تو مقدمہ ناقابلِ سماعت بھی ہو سکتا ہے۔
مدعا علیہ بدلنے یا شامل کرنے کی درخواست

یہ درخواست Order 1 Rule 10(2) کے تحت دی جاتی ہے جس میں یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ:

کوئی فریق ضروری ہے اور مقدمہ اس کے بغیر نامکمل ہے
یا
موجودہ فریق کسی تنازعے سے متعلق نہیں لہٰذا اسے نکالا جائے
عدالت درخواست اور ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔
عملی مثال
اگر کوئی شخص وراثتی جائیداد کی تقسیم کا دعویٰ صرف چند وارثوں کے خلاف دائر کرے اور باقی وارثوں کو شامل نہ کرے تو عدالت دیگر وارثوں کو شامل کرنے کا حکم دے گی کیونکہ وہ Necessary Parties ہیں۔ اگر انہیں شامل نہ کیا جائے تو تقسیم کا فیصلہ ناقص ہو گا۔
اہمیت
اس رول کے نتیجے میں:

فیصلہ جامع اور مؤثر ہوتا ہے

مستقبل کے مقدمات سے بچاؤ ہوتا ہے

کسی فریق کے حقوق متاثر نہیں ہوتے

عدالت کا وقت اور وسائل ضائع نہیں ہوتے

خلاصہ

Order 1 Rule 10 CPC عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ مقدمے میں موجود فریقین کی درستگی کو یقینی بنائے۔ ہر وہ شخص جو مقدمے کے نتیجے سے متاثر ہونے والا ہو اسے مقدمے کا فریق بنا کر انصاف کو محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ فیصلہ مکمل، مؤثر اور قابلِ عمل رہے۔
Najma Parveen Gujjar
Adv High court

16/09/2025

"Expert Legal Solutions in Lahore! 🏛️💼

N.P.C Law Associates provides top-notch legal services in Lahore, catering to individuals, businesses, and organizations. Our team of seasoned lawyers offers expert guidance and representation in:

📝 Corporate Law
🏠 Property Law
👮 Family Law
💼 Labor Law
🚔 Criminal Law
🤝 Contract Law
Civil law
Rent law
Guardian certificate (permanent or temporary custody of minors)
Naan nafka
Maintenance
Khula/divorce/
Recovery
Dowry article
Dower amount
Tax law (NTN/ tax returns/GST and all
Ejectment

Trust our expertise to navigate complex legal issues. Contact us today! 📞 03099637010 [email protected]










"

Gmail is email that’s intuitive, efficient, and useful. 15 GB of storage, less spam, and mobile access.

30/10/2024

Address

Lahore
Lahore
05450

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NPC Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share