Ayaz Law Associates

Ayaz Law Associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ayaz Law Associates, Lawyer & Law Firm, 1 Turner Road, Lahore.

The aim of Ayaz Law Associates is to ensure that comprehensive legal services are provided across all major areas, including Civil and Criminal litigation, Corporate law, Family law, Property disputes, Tax law, Intellectual property & Contract management Ayaz Law Associates is first Pakistani reputed law firm that provides all legal services under one roof and we operate in all cities within Pakis

tan and outside the Pakistan. Civil & Family Laws
Criminal Laws
Income Tax Returns
Sales Tax Returns
Company Registration
Trademark & Copyrights
Partnership and Sole Proprietor Ship
Financial Statement
Excise, Taxation And Cantonment Laws
Service Matters
Consumer Courts
FIA And Cyber Crime
Chamber of Commerce Membership
Import & Export License
Department Correspondence
Department Compliance
Financial Management
Business Securing Techniques
Society, Trust, Ngo, Npo Registration
Company Bank Accounts
We Are Also Dealing With Matters Of Foreigner Citizens
Immigration and Visas of all kinds

Feel Free To Contact Us

Regards ⚖
AYAZ LAW ASSOCIATES

مہوش نامی ایک خاتون کا جھنگ کے ایک گورنمنٹ گرلز ووکیشنل انسٹیٹیوٹ میں بطور عارضی ٹیچر تقرر ہوگیا۔ اسی ادارے میں عمر شہزا...
27/12/2025

مہوش نامی ایک خاتون کا جھنگ کے ایک گورنمنٹ گرلز ووکیشنل انسٹیٹیوٹ میں بطور عارضی ٹیچر تقرر ہوگیا۔ اسی ادارے میں عمر شہزاد نامی ایک افسر بھی بطور ڈی ایم تعینات تھا۔ خاتون کے بقول عمر شہزاد اس پر بری نظریں ڈالتا، نازیبا وٹس ایپ پیغامات بھیجتا اور اس سے ناجائز تعلقات قائم کرنے کا تقاضا کرتا تھا۔ عمر کہتا کہ میں نے تمہاری ملازمت میں بہت سے رعایتیں دلوائی ہیں، اب بدلے میں اگر میرے مطالبات پورے نہ کیے تو میں تمہاری نوکری، جو پہلے ہی کچی ہے، ختم کروا دوں گا۔
اسی چکر میں عمر شہزاد 14 ستمبر 2022ء کی رات خاتون کے گھر آیا، دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھنے پر بتایا کہ تمہیں کچھ ضروری کاغذات دینے آیا ہوں۔ دروازہ کھولنے پر عمر زبردستی گھر میں داخل ہوگیا، خاتون کو ایک کمرے میں بند کرکے اس کا ریپ کرنے کی کوشش کی، مزاحمت پر خاتون کے کپڑے بھی بری طرح پھٹ گئے، اس نے فوراََ
پولیس کو 15 پر کال کی، جس پر عمر شہزاد وہاں سے بھاگ گیا۔
خاتون کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے اسکا خاوند جو پہلے ہی معذور تھا، اسکی حالت مزید بگڑ گئی، خود وہ بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی اور عمر شہزاد مزید اسے دھمکیاں دیتا رہا جس سے وہ اور اسکی فیملی شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوگئی۔
خاتون نے پولیس FIR کے علاوہ "خواتین کو ملازمت کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کا قانون، 2010ء" کے تحت صوبائی خاتون محتسب پنجاب کے پاس وٹس ایپ میسجز کے سکرین شاٹس و دیگر ثبوتوں کے ساتھ مرد افسر کیخلاف شکایت بھی درج کروادی۔ محتسب نے عمر شہزاد کو طلب کر لیا۔
عمر نے جوابی موقف اپنایا کہ خاتون نے شکایت ذاتی رنجش میں درج کروائی ہے کیونکہ میں نے خاتون کے بھائی(جو خود اسی ادارے میں ملازم تھا) کی سرکاری رہائش میں جس میں یہ خود بھی رہتی رہی ہے، مشکوک قسم کے لوگوں کی آمد ورفت کی شکایات پر ختم کردی تھی۔ مزید یہ کہ خاتون کی تقرری ڈیلی ویجز پر تھی جو بعد میں ختم ہوگئی تو اس سے طیش میں آکر اس نے یہ شکایت دائر کی ہے، مزید یہ کہ معاملے پر چونکہ پہلے ہی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، لہذا محتسب کے ہاں اس کیخلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔
خاتون محتسب پنجاب نے فریقین کے ثبوتوں، خاص طور پر وٹس ایپ میسجز کا جائزہ لینے کے بعد مرد افسر عمر شہزاد کو خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنے کا مرتکب قرار دیا اور اسے ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنائی۔ افسر نے اس سزا کیخلاف گورنر پنجاب کے پاس اپیل کی جسے رواں سال مارچ میں خارج کردیا گیا۔ اس کے بعد عمر شہزاد نے ان دونوں فیصلوں کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کی سماعت فاضل جسٹس راحیل کامران شیخ نے کی اور فریقین کے وکلاء کو تفصیلاََ سنا۔
ہائیکورٹ میں مرد افسر کے وکیل نے ایک قانونی نکتہ یہ اٹھایا کہ مذکورہ قانون 'ملازمت کی جگہ' پر ہراسمنٹ کیلئے بنایا گیا جبکہ اس کیس میں خاتون کے ساتھ مبینہ آبرو ریزی کا واقعہ اس کے گھر میں پیش آیا ہے، وہ یقیناََ 'ملازمت کی جگہ' نہیں ہے، لہذا اس قانون کے تحت محتسب کے پاس شکایت دائر نہیں کی جاسکتی۔ عدالت نے اس دلیل کی تردید میں قانون میں دی گئی 'ملازمت کی جگہ' کی تعریف کی وضاحت کی اور قرار دیا کہ 'ملازمت کی جگہ' کی تعریف میں ہر وہ صورتحال شامل ہے جس میں ہراسمنٹ براہ راست ملازمت کے تعلق سے جڑی ہوئی ہو۔
ہائیکورٹ نے مرد افسر کی رِٹ پٹیشن خارج کردی اور ملازمت سے برطرفی کی سزا کو برقرار رکھا۔ یوں خاتون ٹیچر جسکی خود کی ملازمت پکی نہ ہوسکی لیکن اس نے قانونی جدوجہد سے اس آفیسر کی پکی ملازمت بھی برقرار نہیں رہنے دی۔

وُکلا کے لیے ❌ممنوعات و ✅ گذارشاتنوجوان وکلاء ایک بار ضرور پڑھ لیں1. وکیل کو کسی صورت پولس اسٹیشن یا کسی بھی سرکاری دفتر...
16/11/2025

وُکلا کے لیے ❌ممنوعات و ✅ گذارشات

نوجوان وکلاء ایک بار ضرور پڑھ لیں

1. وکیل کو کسی صورت پولس اسٹیشن یا کسی بھی سرکاری دفتر یونیفارم میں نہیں جانا چاہیے۔ ہم عام لوگوں کے ان محکمہ جات سے متعلق تمام مسائل عدالتوں کے ذریعہ حل کرواتے ہیں اور خُود اپنا مسئلہ حل کرنے کے لئے ذاتی طور پر اُن لوگوں کے پاس جا کر پچھتاوے کا شکار ہوتے ہیں اور بلآخر بعد از خرابی بسیار انہیں عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔

2- عدالت کی جانب سے اپنے خلاف فیصلہ آنے کی صُورت میں دُوبارہ سے اُسی جج کے ساتھ بحث و مباحثہ بے فائدہ امر اور عدالت کے ذہن میں اپنا منفی تاثر پیدا کرنے والی بات ہے ۔خُوش دِلی سے اگلے فورم پر جا کر طبع آزمائی زیادہ موثر اور پیشہ ورانہ عمل ہے.

3۔ پیچیدہ اور مُشکل کیسز اپنے جاننے والے ججز کی عدالتوں میں لگوا کر خُود اور اُنہیں آزمائش میں ڈالنے سے پرہیز کریں کسی دوست کی عدالت میں داخل ہوتے ہی جج کے چھ کی بجائے بارہ سینسرز الرٹ ہو جاتے ہیں مبادا کہ میرا سودا ہی نہ کر آیا ہو۔

4- خواتین ججز کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے یا ذومعنی جملے اُچھالتے ہوئے ایک لمحے کے لیے اپنے دِل و دماغ میں اپنی عفت مآب بہنوں یا بیٹیوں کا تصور ضرور لے آیا جائے۔

5- عدالتی و حفاظتی عملے کی دانستہ و غیر دانستہ کوتاہیوں سے صرفِ نظر اور محبت و احترام کا برتاؤ نیکی اور بھلائی کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت و وکالت کی بہترین مارکیٹنگ بھی ہے۔

6- اپنے ذاتی معاملات میں خُود ہرگز ہرگز عدالت میں پیش نہ ہوں اپنی منتخب کابینہ کو ہر جمہوری ہتھکنڈا استعمال کرتے ہوئے اپنا مسئلہ حل کروائیں جذباتی ہونے کی صُورت میں ایک مسئلہ دیگر بے شمار مسائل کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے۔

7- فیس وصول کرکے کسی مسئلے کو وکیل کا ذاتی مسئلہ بتلا کر ریلیف حاصل کرنے کی کوشش درحقیقت اصل حقداروں اور مسائل زدہ وکلاء کے ساتھ نا انصافی ہے جس سے ہر صورت احتراز کیا جانا چاہیے۔

8- ایڈووکیٹ کی رنگارنگ نمبر پلیٹس ذاتی کاروں سے ہوتی ہوئی بسوں ،ٹرکوں،رکشوں ، مال بردار گاڑیوں، مُرغیاں لانے والے ڈالوں حتٰی کہ ٹریکٹر ٹرالیوں تک پہ نصب کی جا چکی ہیں جو کہ معاشرے میں ہمارے مقام و مرتبے پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہی ہیں۔

9- لڑائی جھگڑے ، گالم گلوچ اور ٹریفک اشاروں کی خلاف ورزی ویسے تو کسی صورت بھی نہیں کی جانی چاہیے لیکن یونیفارم میں ان مکروہات سے بدرجہ اتم بچنا چاہیے۔

10- پارکس سینما ہالز اور تھیٹرز میں یونیفارم پہن کر جانا خاصا معیوب لگتا ہے البتہ ریسٹورنٹس کے لئے تھوڑی آزادی لی جا سکتی ہے۔

11۔ مُختلف سیاسی پارٹیوں سے نظریاتی وابستگی کے باوجود احاطہ ھائے عدالت میں اُن سیاستدانوں کو غیرضرُوری پروٹوکول اور آگے پیچھے بھاگ کر ہم نہ ذاتی طور پر اور نہ برادری کے لیے کوئی نیک نامی کماتے ہیں اس سے بھی حتی الامکان گریز کیا جانا چاہئے ۔پیشہ وارانہ انداز میں اُن کی صرف وکالت کی جائے۔
پرائیویٹ لباس میں بیشک ہم اُنہیں اپنے کندھوں پر اُٹھا کر نعرے لگائیں یا بھنگڑے ڈالیں۔

12- دورانِ دلائل ایک دُوسرے کے اُوپر ذاتی حملے اور بد کلامی سے ہر صورت بچنا چاہیے باہمی احترام اور حفظ مراتب کا خیال ہمارے رزق اور عِزت میں کمی کبھی نہیں کرے گا۔

13- سیاسی رہنما مُلکی سطح کے ہوں یا بار کی سطح کے ان کی وجہ سے اپنی ذاتی دوستیاں تعلق اور احترام و محبت کے رشتے ہرگز خراب نہ کریں۔ ہمارے تو ویسے بھی سال میں چار الیکشنز ہوتے ہیں اگر کسی ایک الیکشن میں مدِمُقابل بھی آ جائیں تو بُرا نہیں ماننا چاہیے۔

14- ذاتی معاملات میں جب کوئی پرائیویٹ فریق معاملہ ہماری برتری تسلیم کرتے ہوئے جُھک جائے تو مارنے سے ڈرایا بہتر کے مقُولے پر عمل کرتے ہوئے معاملہ نمٹانا چاہیے نہ کہ طاقت،اختیار اور غلبے کے زعم میں مخالف کو اِس قدر زچ کیا جائے کہ وہ اپنی اور ہماری زندگیوں یا سُکون ہی کے درپے ہو جائے۔

15- یونیفارم میں سوٹڈ بُوٹڈ ہوکر اور ٹائی لگائے ہوئے سڑک کنارے لگی ہوئی ریڑھیوں سے کھڑے ہو کر کھانے سے بچنا چاہیے۔

16- کلائنٹ سے یک مُشت مناسب فیس لی جائے اور ہر پیشی پر بِلا وجہ بُلوا کر، ایشوز فریم، یا پر کلومیٹر سمن فیس، جیسے حیلوں سے مزید پیسے نکلوانے اور رہی سہی کسر مُنشی کے ذریعے نکالنے سے اِجتناب مزید ثمر آور کیسز کی آمد کا باعث بنتا ہے۔

گاڑیوں کے دھوئیں کے ٹیسٹ کی فیس مقرر کر دی گئی ہے:موٹر سائیکل: 100 روپےرکشہ: 300 روپےکاریں : 500 سے 2000 روپے تک
04/10/2025

گاڑیوں کے دھوئیں کے ٹیسٹ کی فیس مقرر کر دی گئی ہے:

موٹر سائیکل: 100 روپے
رکشہ: 300 روپے
کاریں : 500 سے 2000 روپے تک

پنجاب حکومت نے گاڑی کی ٹرانسفر میں دیر کرنے پر بھاری جرمانے عائد کر دیے! ⚠️جرمانے کی تفصیلات:• موٹر سائیکل اور سکوٹر:31–...
04/10/2025

پنجاب حکومت نے گاڑی کی ٹرانسفر میں دیر کرنے پر بھاری جرمانے عائد کر دیے! ⚠️

جرمانے کی تفصیلات:

• موٹر سائیکل اور سکوٹر:

31–60 دن: 1,000 روپے
61–90 دن: 2,000 روپے
91–120 دن: 4,000 روپے

• دیگر گاڑیاں (کار، جیپ وغیرہ):

31–60 دن: 10,000 روپے
61–90 دن: 20,000 روپے
91–120 دن: 30,000 روپے

120 دن سے زیادہ تاخیر قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے.

💡 ٹرانسفر بروقت کریں، جرمانے سے بچیں!

پنجاب حکومت نے پیدائش اور وفات کے اندراج پہ فیس ختم کر دی ہے اگر اس کے باوجود یونین کونسل کا عملہ آپ سے پیسے مانگے تو اس...
23/09/2025

پنجاب حکومت نے پیدائش اور وفات کے اندراج پہ فیس ختم کر دی ہے
اگر اس کے باوجود یونین کونسل کا عملہ آپ سے پیسے مانگے تو اس کی شکایت کریں

چوتھا شیڈول (Fourth Schedule) کیا ہے اور نام کیسے نکالا جا سکتا ہے؟انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 (Anti-Terrorism Act, 1997...
23/09/2025

چوتھا شیڈول (Fourth Schedule) کیا ہے اور نام کیسے نکالا جا سکتا ہے؟
انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 (Anti-Terrorism Act, 1997) کے تحت چوتھا شیڈول ایک فہرست ہے جس میں اُن افراد کے نام شامل کیے جاتے ہیں جنہیں ریاست سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مزید نگرانی (monitoring) کے لئے ضروری سمجھتی ہے۔
چوتھے شیڈول کے تحت پابندیاں (Section 11EE of ATA, 1997):
نیک چلنی کے لئے ضمانتی مچلکے دینا۔ (سیکشن 11EE(2)(a))
پاسپورٹ تھانے میں جمع کرانا۔ (سیکشن 11EE(2)(b))
رہائش گاہ تبدیل کرنے یا سفر پر جانے سے پہلے پولیس کو اطلاع دینا۔ (سیکشن 11EE(2)(b))
ہر مہینے تھانے میں حاضری دینا۔ (سیکشن 11EE(2)(c))
بغیر اجازت کسی مخصوص جگہ پر نہ جانا۔ (سیکشن 11EE(2)(d))
جائیداد اور مالی وسائل کی نگرانی یا منجمدی ممکن۔ (سیکشن 11O(1)(a)&(b))
یہ اقدامات صرف احتیاطی نوعیت کے ہوتے ہیں تاکہ امن و امان برقرار رہے۔
نام نکالنے کا طریقہ
1. انتظامی درخواست
صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دی جا سکتی ہے کہ نام غلطی سے شامل ہوا ہے یا اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔
2. پروسکرپشن ریویو کمیٹی (Section 11EE(3))
متاثرہ شخص کمیٹی کے سامنے نظرِ ثانی کی درخواست دے سکتا ہے۔ کمیٹی شواہد دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے کہ نام برقرار رہے یا ہٹا دیا جائے۔
3. عدالتی راستہ
اگر درخواست یا کمیٹی کا فیصلہ غیر اطمینان بخش ہو تو متاثرہ شخص ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر سکتا ہے۔
مددگار دستاویزات
کردار کا سرٹیفکیٹ
پولیس کلیئرنس رپورٹ
کوئی عدالتی فیصلہ یا بیان
معتبر گواہوں کی ضمانت
چوتھے شیڈول میں نام شامل ہونا ایک انتظامی و احتیاطی اقدام ہے۔ تاہم قانون یہ حق دیتا ہے کہ اگر کوئی شہری سمجھتا ہے کہ اس کا نام غلطی سے شامل ہوا ہے تو وہ سیکشن 11EE(3) ATA, 1997 کے تحت نظرِ ثانی کی درخواست دے کر اپنا نام نکلوا سکتا ہے۔

آپ نے ان جرائم میں اب پولیس کے پاس نہیں جانا بلکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے رابطہ کرنا  ہے ۔سیدھا...
23/09/2025

آپ نے ان جرائم میں اب پولیس کے پاس نہیں جانا بلکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے رابطہ کرنا ہے ۔
سیدھا دفتر جا کر:
ہر بڑے شہر میں NCCIA کے ریجنل دفاتر قائم کیے گئے ہیں، وہاں جا کر تحریری درخواست دیں ،
کون سے جرائم جن میں پولیس کے پاس نہیں جانا بلکہ NCCIA کے دفتر جانا :
1. آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ
• خواتین یا مردوں کو سوشل میڈیا، واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام وغیرہ پر ہراساں کرنا یا بلیک میل کرنا۔
2. جعلی آئی ڈیز اور پروفائلز
• کسی کے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنا کر عزت کو نقصان پہنچانا۔
3. سائبر فراڈ اور آن لائن دھوکہ دہی
• ای کامرس، آن لائن خرید و فروخت، جعلی ویب سائٹس یا ای میلز کے ذریعے پیسے لوٹنا۔
4. ڈیٹا چوری اور ہیکنگ
• کسی کا کمپیوٹر، موبائل یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کرنا۔
• ذاتی معلومات، تصاویر یا ویڈیوز چوری کرنا۔
5. غیر اخلاقی / ممنوعہ مواد پھیلانا
• فحش، غیر اخلاقی یا مذہبی منافرت پر مبنی مواد سوشل میڈیا یا ویب سائٹس پر شیئر کرنا۔
6. ریاست یا حساس اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ
• ملک دشمن یا دہشتگردی کو فروغ دینے والا مواد آن لائن پھیلانا۔
7. الیکٹرانک جعلسازی (Electronic Forgery & Fraud)
• جعلی دستاویزات، الیکٹرانک سائن یا ڈیجیٹل فراڈ۔
پنجاب پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ فوری طور پر سائبر کرائمز کے مقدمات درج کرنا بند کریں۔کیونکہ اب پولیس کہ پاس یہ شکایت غیر قانونی اور غیر مجاز ہے
• یہ اختیار صرف NCCIA کے پاس ہے۔
سادہ لفظوں میں: اب سائبر کرائم کے تمام مقدمات صرف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) دیکھے گی۔ پنجاب پولیس کو ان مقدمات کا اندراج یا تفتیش کرنے کا کوئی اختیار نہیں رہا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، عالیہ نیلم نے عدالتی تاخیر کو کم کرنے اور عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے ٹائم فریم پالی...
16/09/2025

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، عالیہ نیلم نے عدالتی تاخیر کو کم کرنے اور عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے ٹائم فریم پالیسی متعارف کرائی ہے۔ اس پالیسی کے تحت مختلف قسم کے مقدمات کے لیے مقرر کردہ وقت کی حد 2 ماہ سے لے کر 24 ماہ تک ہے۔ اس پالیسی کا مقصد عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عوام کو بروقت انصاف فراہم
کرنا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ، ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر ہے جس میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی (NJPMC) کی 54ویں میٹنگ مورخہ 18 اگست 2025 کے فیصلے کے مطابق مختلف نوعیت کے مقدمات کے لیے مقررہ ٹائم لائنز دی گئی ہیں۔
اہم نکات درج ذیل ہیں:
مختلف مقدمات کے لیے مقررہ مدت (Timelines)
1. ڈیکلیریٹری سوٹ (زمین سے متعلق تنازعات) → 24 ماہ
2. ڈیکلیریٹری سوٹ (وراثتی تنازعات) → 12 ماہ
3. انجکشن سوٹ (زمین سے متعلق تنازعات) → 6 ماہ
4. ریکوری سوٹ (محصولات/مالی معاملات) → 12 ماہ
5. اسپیسفک پرفارمنس (کنٹریکٹ انفورسمنٹ) → 18 ماہ
6. کرایہ داری مقدمات → 6 ماہ
7. فیملی مقدمات (خلع، حق مہر، نان و نفقہ، سرپرستی وغیرہ) → 6 ماہ
8. وراثتی سرٹیفکیٹ (بلا اعتراض کیسز) → 2 ماہ
9. فیملی ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 12 ماہ
10. بینکنگ کورٹ کی ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 12 ماہ
11. سول کورٹ کی ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 3 ماہ
12. کرایہ داری ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 6 ماہ
13. فوجداری مقدمات (کم عمر ملزمان، JJSA 2018 کے تحت) → 12 ماہ
14. فوجداری مقدمات (سات سال تک کی سزا والے) → 12 ماہ
15. فوجداری مقدمات (سات سال سے زائد سزا والے) → 18 ماہ
16. فوجداری مقدمات (قتل) → 24 ماہ
17. مزدور مقدمات → 6 ماہ
ہدایات
تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور اسپیشل ٹریبونلز کے ججز کو یہ ٹائم لائنز فراہم کر دی گئی ہیں۔
سختی سے ان پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماتحت عدالتی افسران میں اس سرکلر کو گردش کرائیں۔

16/09/2025

آرڈر 26 سی پی سی (CPC) دیوانی مقدمات میں کمیشن کے تقرر سے متعلق ہے۔

اس کا مقصد عدالت کی مدد کے لیے کسی شخص (کمشنر) کو مقرر کرنا ہے تاکہ وہ حقائق معلوم کرے معائنہ کرے یا کوئی رپورٹ تیار کرے۔

آرڈر 26 کے اہم قواعد
کمشنر کی تقرری (Rule 1-2)
جب عدالت کو کسی معاملے کی وضاحت یا حقائق معلوم کرنے کے لیے مدد درکار ہو تو وہ کمشنر مقرر کر سکتی ہے۔

کسی جگہ کا معائنہ، گواہ کا بیان لینا، یا حساب کتاب کی جانچ پڑتال۔

گواہوں کے بیانات کے لیے کمیشن (Rule 4)
اگر گواہ عدالت میں پیش نہ ہو سکے تو عدالت کمیشن جاری کر سکتی ہے تاکہ اس کا بیان وہاں جا کر ریکارڈ کیا جا سکے۔

مقامی معائنہ (Local Investigation) (Rule 9)
کسی جائیداد یا جگہ کے بارے میں بہتر فیصلہ کرنے کے لیے عدالت مقامی معائنہ کے لیے کمشنر مقرر کر سکتی ہے۔

حساب کتاب یا تقسیم جائیداد کے لیے کمیشن
(Rule 11-13)
عدالت حساب کتاب (Accounts) یا جائیداد کی تقسیم

(Partition)
کے لیے بھی کمیشن مقرر کر سکتی ہے۔
دستاویزات یا گواہان کا بیرون ملک کمیشن (Rule 19-20)
اگر گواہ یا دستاویز بیرون ملک ہیں تو عدالت وہاں کے لیے کمیشن جاری کر سکتی ہے۔

کمشنر کی رپورٹ پر اعتراضات (Rule 10 & 14)
فریقین کمشنر کی رپورٹ پر اعتراض دائر کر سکتے ہیں۔ عدالت رپورٹ کو منظور یا مسترد کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

آرڈر 26 کا مقصد عدالت کی سہولت کے لیے ایسے معاملات میں مدد فراہم کرنا ہے جو براہِ راست عدالت میں حل نہ ہو سکیں جیسے گواہوں کے بیانات لینا جائیداد کا معائنہ کرنا یا حساب کتاب کی پڑتال کرنا

پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا آغاز پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی زمین کے پارسل کی سالمیت کو بڑھانے کے لیے پراپرٹی سرٹیفکیٹ متعارف کرو...
16/09/2025

پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا آغاز

پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی زمین کے پارسل کی سالمیت کو بڑھانے کے لیے پراپرٹی سرٹیفکیٹ متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اقدام کے لیے ضلع سیالکوٹ کو افتتاحی ضلع کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ پارسل پر مبنی نظام آہستہ آہستہ پنجاب بھر میں کھیوٹ پر مبنی نظام کی جگہ لے لے گا۔ پراپرٹی سرٹیفکیٹ کی اہم خصوصیات میں پراپرٹی کے لیے منفرد کوڈ، مقام کا نقشہ اور پراپرٹی کا پتہ، پراپرٹی سرٹیفکیٹ میں دو لسانی فیلڈز، زمین کی تشخیص اور دیگر شامل ہیں۔

2. درج ذیل زمروں کے تحت آنے والے زمین کے پارسلز کو پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لیے اہل سمجھا جائے گا، جو CLRMIS میں دستیاب نئی خصوصیت کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا:

i کھیوت کا واحد مالک ہے۔

ii کھیوٹ کے ایک سے زائد مالکان ہیں جنہوں نے اپنی رضامندی پیش کی ہے کہ وہ مشترکہ کھیوٹ کی تقسیم کے لیے آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے تمام اراضی مالکان کو جائیداد کے سرٹیفکیٹ کے لیے کارروائی کے آغاز کے لیے، اے آر سی کے سروس سینٹر آفیشیل کے سامنے پیش ہونا ضروری ہے۔

کھیوٹ کے ایک سے زیادہ مالک ہیں، جہاں شیئر ہولڈرز مشترکہ ہولڈنگ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی رضامندی جمع نہیں کراتے ہیں، وہ جائیداد کے سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لیے کارروائی کے لیے اہل نہیں ہیں، جب تک کہ تقسیم کی کارروائی مکمل نہ ہو جائے/تقسیم کی تبدیلی کی تصدیق اور ہر مالک کی شناخت/تصدیق ہو جائے۔

3. یہ مجاز اتھارٹی کی منظوری سے جاری کیا جاتا ہے۔

ڈائریکٹر آپریشنز

Subject:

LAUNCH OF PROPERTY CERTIFICATE

Punjab Land Records Authority intends to introduce the Property Certificate, to supplement the integrity of land parcels. District Sialkot has been selected as inaugural district for this initiative. The Parcel based system will gradually replace the Khewat based system across Punjab. The key features of Property Certificate include unique code for property, location map and address of property, bilingual fields in the Property Certificate, valuation of land and others.

2. The land parcels falling under the following categories shall be deemed qualified for issuance of Property Certificate, processed through the new feature made available in CLRMIS:

i. Khewat having single owner.

ii. Khewat having more than one owner who submit their consent to the effect that they are not willing to proceed for partition of the joint Khewat. All such land owners are required to appear before the Service Centre Official at the ARC, for the initiation of process for Property Certificate.

Khewat having more than one owner, where the share-holders do not submit their consent for retention of joint holding, are not qualified to be processed for the issuance of Property Certificate, till the completion of partition proceedings/attestation of partition mutation and identification/confirmation of possession of each owner.

3. This is issued with the approval of the Competent Authority.

DIRECTOR OPERATIONS

Important clarification:Punjab Board of revenue has clarified that old rates of   income tax shall be applicable for tax...
13/09/2025

Important clarification:

Punjab Board of revenue has clarified that old rates of income tax shall be applicable for tax year 2025, new rates according to AIT Rules shall be applicable from Tax Year 2026.

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے ریونیو ریکارڈ کی مد میں  سروس چارجز کا نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
27/08/2025

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے ریونیو ریکارڈ کی مد میں سروس چارجز کا نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

Address

1 Turner Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ayaz Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ayaz Law Associates:

Share

Our Story

Ayaz Law Associates is first Pakistani reputed law firm that provides all legal services under one roof and we operate in all cities within Pakistan and outside the Pakistan. We provide services for

Civil & Family Laws, Criminal Laws, Income Tax Returns, Sales Tax Returns, Company Registration, Trademark & Copyrights, Partnership and Sole Proprietor Ship, Financial Statement, Excise, Taxation & Cantonment Laws, Service Matters, Consumer Courts, FIA And Cyber Crime, Chamber of Commerce Membership, Import & Export License, Department Correspondence, Department Compliance, Financial Management, Business Securing Techniques, Society, Trust, NGO, NPO Registration, Company Bank Accounts, Immigration and Visas of all kinds.

Feel Free To Contact Us

Regards ⚖