27/12/2025
مہوش نامی ایک خاتون کا جھنگ کے ایک گورنمنٹ گرلز ووکیشنل انسٹیٹیوٹ میں بطور عارضی ٹیچر تقرر ہوگیا۔ اسی ادارے میں عمر شہزاد نامی ایک افسر بھی بطور ڈی ایم تعینات تھا۔ خاتون کے بقول عمر شہزاد اس پر بری نظریں ڈالتا، نازیبا وٹس ایپ پیغامات بھیجتا اور اس سے ناجائز تعلقات قائم کرنے کا تقاضا کرتا تھا۔ عمر کہتا کہ میں نے تمہاری ملازمت میں بہت سے رعایتیں دلوائی ہیں، اب بدلے میں اگر میرے مطالبات پورے نہ کیے تو میں تمہاری نوکری، جو پہلے ہی کچی ہے، ختم کروا دوں گا۔
اسی چکر میں عمر شہزاد 14 ستمبر 2022ء کی رات خاتون کے گھر آیا، دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھنے پر بتایا کہ تمہیں کچھ ضروری کاغذات دینے آیا ہوں۔ دروازہ کھولنے پر عمر زبردستی گھر میں داخل ہوگیا، خاتون کو ایک کمرے میں بند کرکے اس کا ریپ کرنے کی کوشش کی، مزاحمت پر خاتون کے کپڑے بھی بری طرح پھٹ گئے، اس نے فوراََ
پولیس کو 15 پر کال کی، جس پر عمر شہزاد وہاں سے بھاگ گیا۔
خاتون کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے اسکا خاوند جو پہلے ہی معذور تھا، اسکی حالت مزید بگڑ گئی، خود وہ بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی اور عمر شہزاد مزید اسے دھمکیاں دیتا رہا جس سے وہ اور اسکی فیملی شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوگئی۔
خاتون نے پولیس FIR کے علاوہ "خواتین کو ملازمت کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کا قانون، 2010ء" کے تحت صوبائی خاتون محتسب پنجاب کے پاس وٹس ایپ میسجز کے سکرین شاٹس و دیگر ثبوتوں کے ساتھ مرد افسر کیخلاف شکایت بھی درج کروادی۔ محتسب نے عمر شہزاد کو طلب کر لیا۔
عمر نے جوابی موقف اپنایا کہ خاتون نے شکایت ذاتی رنجش میں درج کروائی ہے کیونکہ میں نے خاتون کے بھائی(جو خود اسی ادارے میں ملازم تھا) کی سرکاری رہائش میں جس میں یہ خود بھی رہتی رہی ہے، مشکوک قسم کے لوگوں کی آمد ورفت کی شکایات پر ختم کردی تھی۔ مزید یہ کہ خاتون کی تقرری ڈیلی ویجز پر تھی جو بعد میں ختم ہوگئی تو اس سے طیش میں آکر اس نے یہ شکایت دائر کی ہے، مزید یہ کہ معاملے پر چونکہ پہلے ہی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، لہذا محتسب کے ہاں اس کیخلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔
خاتون محتسب پنجاب نے فریقین کے ثبوتوں، خاص طور پر وٹس ایپ میسجز کا جائزہ لینے کے بعد مرد افسر عمر شہزاد کو خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنے کا مرتکب قرار دیا اور اسے ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنائی۔ افسر نے اس سزا کیخلاف گورنر پنجاب کے پاس اپیل کی جسے رواں سال مارچ میں خارج کردیا گیا۔ اس کے بعد عمر شہزاد نے ان دونوں فیصلوں کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کی سماعت فاضل جسٹس راحیل کامران شیخ نے کی اور فریقین کے وکلاء کو تفصیلاََ سنا۔
ہائیکورٹ میں مرد افسر کے وکیل نے ایک قانونی نکتہ یہ اٹھایا کہ مذکورہ قانون 'ملازمت کی جگہ' پر ہراسمنٹ کیلئے بنایا گیا جبکہ اس کیس میں خاتون کے ساتھ مبینہ آبرو ریزی کا واقعہ اس کے گھر میں پیش آیا ہے، وہ یقیناََ 'ملازمت کی جگہ' نہیں ہے، لہذا اس قانون کے تحت محتسب کے پاس شکایت دائر نہیں کی جاسکتی۔ عدالت نے اس دلیل کی تردید میں قانون میں دی گئی 'ملازمت کی جگہ' کی تعریف کی وضاحت کی اور قرار دیا کہ 'ملازمت کی جگہ' کی تعریف میں ہر وہ صورتحال شامل ہے جس میں ہراسمنٹ براہ راست ملازمت کے تعلق سے جڑی ہوئی ہو۔
ہائیکورٹ نے مرد افسر کی رِٹ پٹیشن خارج کردی اور ملازمت سے برطرفی کی سزا کو برقرار رکھا۔ یوں خاتون ٹیچر جسکی خود کی ملازمت پکی نہ ہوسکی لیکن اس نے قانونی جدوجہد سے اس آفیسر کی پکی ملازمت بھی برقرار نہیں رہنے دی۔