SN&RG Law Associates

SN&RG Law Associates This is a business based on services of legal advocacy.

پنجاب بھر کی تمام ضلعی عدالتوں میں گواہان کی شہادت براے ویڈیو لنک سہولت کا اغاز
03/08/2025

پنجاب بھر کی تمام ضلعی عدالتوں میں گواہان کی شہادت براے ویڈیو لنک سہولت کا اغاز

پنجاب کے تمام سیشن و ایڈیشنل سیشن ججز کو کنزیومر کورٹ کا  چارج سونپ دیا گیالاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر میں سیشن ججز اور...
02/08/2025

پنجاب کے تمام سیشن و ایڈیشنل سیشن ججز کو کنزیومر کورٹ کا چارج سونپ دیا گیا
لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر میں سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کو کنزیومر کوٹ کے اختیارات دے دیے
عنوان:
تمام ضلعی و سیشن ججز کو صارف عدالتیں مقرر کرنے کا حکم
تاریخ:
یکم اگست 2025
جاری کنندہ:
ملک علی ذوالقرنین اعوان، ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری، لاہور ہائی کورٹ

پس منظر:
پنجاب اسمبلی کی جانب سے "Punjab Consumer Protection (Amendment) Act, 2025" کی منظوری اور 25 جون 2025 کو اس کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے فوری عمل درآمد کے لیے درج ذیل احکامات صادر کیے:

---

اہم نکات:

1. تمام ضلعی و سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کو ان کے متعلقہ اضلاع میں صارف عدالتیں (Consumer Courts) مقرر کر دیا گیا ہے۔

2. ہر ضلع کے ضلعی و سیشن جج کو صارف عدالتوں کا انتظامی جج (Administrative Judge) نامزد کیا گیا ہے، اور وہ نئے کیسز ان عدالتوں کو سونپنے کے مجاز ہوں گے۔

3. جو کیسز پرانے (defunct) صارف عدالتوں میں زیر التواء تھے، ان کا اختیار بھی ضلعی و سیشن جج کو دے دیا گیا ہے کہ وہ بوجھ کے مطابق ایک یا ایک سے زیادہ ججوں کو یہ مقدمات تفویض کریں۔

---

قانونی اور عملی اہمیت:

یہ نوٹیفکیشن پرانی صارف عدالتوں کے خاتمے کے بعد نئے نظام کے نفاذ کا اعلان ہے۔

اب صارفین اپنے مسائل کے حل کے لیے براہِ راست ضلعی و سیشن جج یا ان کے مقرر کردہ ایڈیشنل جج کے پاس جا سکتے ہیں۔

یہ عمل عدالتی نظام کو مزید موثر بنانے اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

01/08/2025

لاهور میں زلزلہ۔۔۔ شدت 5.1۔ مرکز باجوڑ۔

*اطلاع عام 📢**اب بچوں کے فارم ب میں تین(3️⃣) سال سے دس(🔟) سال تک کے لیے تصاویر اور10 سال سے18سال تک کے بچوں کےلئے تصاویر...
01/08/2025

*اطلاع عام 📢*

*اب بچوں کے فارم ب میں تین(3️⃣) سال سے دس(🔟) سال تک کے لیے تصاویر اور10 سال سے18سال تک کے بچوں کےلئے تصاویر📸 اور فنگر پرنٹس 🫳دونوں لازمی قرار دے دیں گئے ہیں.*
*لہذا اپنے بچوں🧑‍💼کو نادرا دفاتر لانا نہ بھولیں.*
*پہلے سے بنے فارم ب قابل قبول ہے البتہ پاسپورٹ وغیرہ کے لئے فارم ب کی تجدید ضروری ہے۔.*

13/01/2023

حکومت پنجاب نے سخت سردی کی وجہ سے تمام پرایوٹ اور سرکاری سکولوں کے سربراہوں کو بچوں کو یونیفارم کے بغیر گرم کپڑے پہننے کی اجازت دینے کا نوٹیفکیشن جاری.

11/01/2023
07/02/2022

SN&RG Law Associates
(مسل میعادی)کا قانونی جائزہ
ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں حکومت کو ملک کی تمام اراضیات کا اعلیٰ مالک تصور کیا جاتا رہا ہے۔ ایسی صورت میں حکومت خود کو اراضی سے حاصل ہونے والے مفادات سے حصہ وصول کرنے کا حقدار سمجھتی تھی۔ یہ حصہ کن سے وصول کیا جائے اور کس شرح سے اسکے لئے ریکارڈیعنی مسل کی ضرورت تھی اور شرح طے کرنے کے لئے مالکان و قا بضین اراضی سے بندوبست اراضی کیا گیا۔ دوسرے الفاظ میں قابضین اراضی کو زمین کے مفاد سے حصہ سرکار ادا کرنے کی تحریک کی گئی۔ قابضین اراضی کے حقوق کے تحفظ کے لئے امسل مرتب کی گئیں تاکہ حقوق اراضی کی نسبت تنازعات طے کئے جا سکیں۔ یہ مسل ہر محال (Estate) کے لئے یا مجموعہ محال کے لئے تیار کی گئی۔
قانون معاملہ زمین کی دفعات 41,40,39قابل مطالعہ ہیں جس میں ہر محال (Estate) کے لئے ایک مسل حقیت کی تیاری کا ذکر موجود ہے۔ مسل حقیت (رجسٹر حقداران زمین) میں اراضی کی تفصیل، ملکیت، قبضہ،کاشت اور دیگر امور متعلقہ اراضی کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ہر چار سال کے بعد ایک مسل حقیت تیار کی جاتی ہے۔ اس ریکارڈ میں جتنی بھی تبدیلیاں بذریعہ بیع، ھبہ، تبادلہ، رہن آئی ہوتی ہیں اور جن کے مطابق انتقالات ہو چکے ہوتے ہیں درج کی جاتی ہیں، گویا مسل حقیت اراضی سے متعلق ایک تسلسل ہے جو تبدیلیوں کے ساتھ جاری رہتا ہے۔

میں بہت سی اہم دستاویزات شامل ہوتی ہیں دفعہ 39 (ب), قانون معاملہ زمین1967 میں ان دستاویزات کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو اس طرح سے ہے۔
1 نقشہ جات جہاں تک قابل عمل ہوں ظاہر کئے جاتے ہیں۔2 ایسے تمام اشخاص کا ذکر ہوتا ہے جو محال میں اراضی سے لگان یا منافع حاصل کرتے ہیں ان میں مالکان اراضی، مزارعین اور پیداوار کو حاصل کرنے والے شامل ہوتے ہیں۔3 مختلف اشخاص کی جانب سے مختلف اشخاص یا حکومت کو لگان، معاملہ، ریٹ، حبوب یا دیگر ادائیگیوں کی تفصیل موجود ہوتی ہے۔4 حقوق اور ذمہ داریوں سے متعلق نقشہ جات بھی مسل حقیت میں شامل ہوتے ہیں۔5 شجرہ کشتوار مسل حقیت کا حصہ ہوتا ہے۔6 دیگر اس قسم کی دستاویزات بھی شامل ہوتی ہیں جنہیں بورڈ آف ریونیو حکومت کی پیشگی منظوری سے مقرر کرتا ہے۔

اسکے علاوہ مندرجہ ذیل تفصیلات بھی موجود ہوتی ہیں۔1 مالکان کے مکمل کوائف۔2 مزارعین یا کاشتکاران کے مکمل کوائف۔3 نقشہ حقوق چاھات اور حقوق آبپاشی کا نقشہ اگر ایسے حقوق آبپاشی دیگر زرائع سے حاصل ہوں۔4 واجب العرض یا نقشہ رواجات متعلقہ حقوق و ذمہ داری ہائے محال۔5 کھیتوں کا نقشہ اور محال میں واقع حکومت کی ملکیتی کسی جائیداد کا تفصیلی نقشہ۔6 شجرہ نسب۔


شجرہ کشتوار وہ نقشہ ہوتا ہے جس کا تعلق ان کھیتوں سے ہوتا ہے جو کسی میونسپلٹی، کارپوریشن یا چھاؤنی کی حدود سے باہر ہوتی ہیں۔ان میں وہ تمام تبدیلیاں اور ترامیم عمل میں لائی جاتی ہیں جو پہلے والی مسل حقیت کے بعد ظہور پذیر ہوتی ہیں۔
مسل حقیت میں شجرہ نسب بھی دکھایا جاتا ہے۔ یہ مالکان اراضی کی کم از کم تین پشتوں تک اور زیادہ سے زیادہ چھ پشتوں تک ہوتا ہے۔ وراثتی انتقالات شجرہ نسب کے مطابق ہوتے ہیں۔ مسل حقیت تیار کرتے وقت سب سے پہلے شجرہ نسب زیر کا رسنا کر اس کی درستگی اور پڑتال کی جاتی ہے۔

کی تیاری اور ترمیم
دفعہ 40 قانون معاملہ زمین 1967 مسل حقیت کی تیاری اور اسمیں خاص ترمیم سے متعلق ہے دفعہ ھذا کے مطابق اگر بورڈ آف ریونیو کو معلوم ہو کہ:1 کسی محال کی مسل حقیت موجود نہیں ہے۔2 کسی محال کی مسل حقیت میں ترمیم کی ضرورت ہے تو بورڈ آف ریونیو مجاز ہے کہ بذریعہ اشتہارہدایت کرے کہ فلاں محال کی مسل حقیت تیار کی جائے یا پہلے سے موجود مسل حقیت میں ترمیم کی جائے۔


مسل میعادی کو مسل سالانہ بھی کہا جاتا ہے یہ سابقہ مسل میعادی کا ترمیم شدہ ایڈیشن ہوتا ہے۔ دفعہ 41 قانون معاملہ زمین 1967 ؁ کے تحت کلیکٹر کے لئے لازم ہے کہ وہ ان معیادوں کے لئے جن کی بورڈ آف ریونیو وضاحت کرے ہر محال کیلئے ایک جدید اور ترمیم شدہ مسل حقیقت تیار کرائے۔ مسل حقیت کی ایسی جلد کو مسل میعادی یا مسل سالانہ کہا جاتا ہے۔ مسل میعادی میں وہ تمام دستاویزات شامل ہوتی ہیں جن کی تفصیل دفعہ 39 (ب)قانون معاملہ زمین 1967 میں موجود ہے۔

مسل میعادی یا مسل سالانہ کو مسل حقیت (چہارسالہ) کا ترمیم شدہ ایڈیشن کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اسمیں حقوق کی ترمیم شدہ جدید صورتحال اور تفصیل درج ہوتی ہے۔ مسل میعادی میں درج ذیل لوازمات شامل ہوتے ہیں۔
1 شجرہ کشتوار یا فیلڈ میپ2 شجرہ نسب یا Geneolagical Table3 جمع بندی4 انتقال ریونیو اور پنشن کی فہرست5 خسرہ گرداوری

(خسرہ گرداوری ایک ایسا مقرر کردہ رجسٹر ہے جس میں پٹواری وہ قانونی تبدیلیاں کرتا ہے جو کھیوٹ یا ریکارڈ حقوق میں درج کرتا ہے۔ گرداوری، ہر فصل کی اجناس کو انکے کاٹے جانے سے پیشتر کھیت بہ کھیت گشت کرکے ملاحظہ کرنا پٹواری کے فرائض میں شامل ہے اس کام کو گرداوری کہتے ہیں۔

ترمیم :۔ دفعہ 41 (اے)
کمپیوٹر کے ذریعے امسئلہ کی تیاری

نوٹ: دفعہ 41 کے بعد نئی دفعات41,A,B کا بذریعہ پنجاب قانون معاملہ زمین (ترمیمی)ایکٹ نمبر11 بابت2007 اضافہ کیا گیا۔

41 اے

(۱) بورڈ آف ریونیو ہر محال کے ایک تازہ ترین نسخہ (ایڈیشن)کی کمپیوٹر کے ذریعہ تیار کردہ اور اسمیں ذخیرہ کردہ امسئلہ میعادی تیار کروائے گااور اگر کوئی ایسا ریکارڈ موجود نہ ہو تو محال کی مسل حقیت کا ایک تازہ ترین نسخہ تیار کروائے گا۔
(۲) بورڈ آف ریونیو بذریعہ اشتہار ایسی تاریخ کی صراحت کرے گا جس سے کسی محال یا محالات کے مجموعہ کے لئے امسئلہ حقیت کے کمپیوٹر کے تیار کردہ نسخہ کے زیر عمل آنے کا آغاز ہوگا۔
(۳) بورڈ آف ریونیو بذریعہ اشتہار کسی مختص تاریخ سے دفعہ 41 کے تحت کسی محال کے امسئلہ میعادی کی تیاری ممنوع قرار دے گا۔

41(بی) کمپیوٹرائزڈ امسئلہ میعادی

(۱) کلکٹر مقررہ وقفوں پر جیسا کہ بورڈ آف ریونیو ہدایت کرے، کمپیوٹر کے ذریعہ تیار کردہ امسئلہ حقیت کا ایسا تازہ ترین ایڈیشن تیار کروائے گا جسکی باب ہذا کے احکامات کے مطابقت میں ترمیم کی گئی ہو۔
(۲) امسئلہ حقیت کے کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن کو کسی محال کیلئے امسئلہ میعادی کہا جائے گا اور وہ ان دستاویزات پر مشتمل ہوگا جو دفعہ(2)39 کی شق الف میں مرکوز ہیں۔
(۳) کلکٹر ہر محال کیلئے کمپیوٹرائزڈ شکل میں انتقالات کا اور دیگر دستاویزات کا ریکارڈ رکھے گا۔

مسل میعادی یا مسل سالانہ کو مسل حقیت (چہارسالہ) کا ترمیم شدہ ایڈیشن کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اسمیں حقوق کی ترمیم شدہ جدید صورتحال اور تفصیل درج ہوتی ہے۔ 30 جون تک فیصلہ شدہ انتقا لات اسمیں درج ہوتے ہیں۔ مسل میعادی کا ایک حصہ مالکان اراضی سے متعلق ہوتا ہے جبکہ دوسرا حصہ مالکان اراضی سے علاوہ دیگر اشخاص متعلقہ اراضی سے متعلق ہوتا ہے۔ ریونیو افسران کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس محال میں زیادہ سے زیادہ دورے کرکے اسکے انتقالات اور دیگر متعلقہ تنازعات کا فیصلہ جلد کریں جن کا جدید رجسٹر حقداران زمین اس چہار سالہ میں تیار ہونا ہو۔ جدید رجسٹر حقداران زمین کی دو جلدیں تیار کی جاتی ہیں۔
اس جدید رجسٹر حقداران زمین کی قانونگوسرکل سابقہ ریکارڈ سے اور متعلقہ انتقالات سے پڑتال کرتا ہے۔ دونوں جلدوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ اہل دیہہ کے سامنے اندراجات پڑھ کر سناتا ہے اور جو بدرات(غلطیاں)برآمد ہوں وہ رجسٹرحقداران زمین کے آخری خالی اوراق میں لکھ دیتا ہے تاکہ پٹواری اسکی درستی کرے۔ رجسٹر حقداران زمین کی دونوں جلدیں تیار کرکے دسمبر تک دفتر تحصیل میں داخل کردی جاتی ہیں اور پھر ستمبر کے مہینے میں گرداور حلقہ اپنی نگرانی میں ہیڈکوارٹر تحصیل پر اسکی درستی پٹواری سے کراتا ہے۔ جب ہر لحاظ سے دونوں جلدیں رجسٹر حقداران زمین جدید درست طور پر تیار ہو جاتی ہیں تو ریو نیوافسر اس امر کے لئے تصدیق کے سرٹیفکیٹ پر دستخط کرتا ہے۔
ان دونوں جلدوں سے نقل والی جلد پٹواری کے پاس برائے استعمال زیر کار رکھی جاتی ہے جبکہ دوسری جلد جو اصل پرت کہلاتی ہے ربیعہ کی گرد اوری کے بعد صدر کے ریکارڈ روم میں داخل کردی جاتی ہے۔ پھر چار سال گزرنے کے بعد یہ عمل اسی طرح دہرایا جاتاہے۔


فرد بدر: جب رجسٹر حقداران زمین میں نقل کرتے ہوئے کوئی کتابی غلطی ہوجائے جیسے سابقہ رجسٹر حقداران زمین میں الف کا حصہ 115 درج ہوا ہو اور موجودہ رجسٹر میں نقل کرتے وقت حصہ 15 درج ہوجائے تو اسے کتابی غلطی کہا جائے گا۔ ایسی غلطی کو فرد بدر میں اندراج کرکے افسر حال کا حکم صحت یا حکم درستی حاصل کیا جاتا ہے۔پٹواری بذریعہ فرد بدر درستی عمل میں لاتا ہے۔ نئے حقداران زمین میں آخر میں خالی اوراق فردبدر لگا دیئے جاتے ہیں۔
مسل حقیت کے ایسے اندراج جو لگاتار کئی رجسٹر حقداران میں غلط تحریر ہوتے آرہے ہوں اور انکی درستی فردبدر سے نہ ہو سکی ہو تو متاثرہ فریق بذریعہ دیوانی عدالت دادرسی حاصل کر سکتا ہے۔


عدالتی نظائر: جمعبندی ایک اہم شہادت ہوتی ہے تاہم جمعبندی میں قیاس سچائی کا شامل ہونا قابل تردید ہے۔ یعنی اگر ایسے اندراجات کے برعکس کوئی زبانی یا دستاویزی شہادت موجود ہو تو قیاس سچائی تردید شدہ تصور ہوگا۔ (1992 CLC 15 Sc, AJandK)

جب رسپانڈنس جمعبندی کی زیادہ جگہوں پر غیر دخول کار کا ذکر کیا ہو، یہ قرار پایا کہ وہ کرایہ دار بالوصیت ہونگے لہذا انہیں غلط قابض نہیں کہا جاسکتا۔ (PLD 1986 Sc 113)


جمعبندی اور کھیوٹ کو ایک جیسا تصور نہیں کہا جا سکتا۔ کھیوٹ کو بڑی تحقیقات کے بعد تیار کیا جاتا ہے اور اسکو صحیح و سچ تصور کیا جاتا ہے۔ اسکے برعکس جمعبندی کو خسرہ گرداوری میں چار سالہ اندراجات کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے۔ لہذا ان دونوں دستاویزات کو ایک جیسا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ (1991 MLD 25)

جمعبندی کے اندراج کو قیاس صحت حاصل ہے مگر ایسا قیاس قابل تردید ہے۔ اندراج جمعبندی جو متنازعہ انتقال کی بنیاد اور بیع کی بنیاد پر قائم ہوکو اگر چہ قیاس صحت حاصل ہے، تاہم ایسا قیاس حتمی نہیں ہے کیونکہ قابل تردید ہے۔ ایسے قیاس کی ثبوت اور ایسی شہادت سے تردید کی جاسکتی ہے جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ (1992 ALD 668)

اندراج جمعبندی اور اندراج خسرہ گرداوری کے متعلق قیاس یہ ہے کہ اندراج جمعبندی کو قیاس صحت حاصل ہے، جبکہ انداج خسرہ گرداوری قیمتی شہادت ہے تاہم جمعبندی کا اندراج قابل تردید ہے یعنی اگر ایسے اندراج کے خلاف زبانی یا دستاویزی شہادت ہو تو قیاس صحت کی تردید ہو جائے گی۔ (1992 CLC 15)

جمعبندی میں بیع کی نسبت اندراج ہو تو اسکی شہادتی قدروقیمت کے متعلق یہ قرار دیا گیا کہ جب کوئی معقول شہادت اس بات کو ثابت کرنے کے لئے نہ دی گئی کہ رقم واقعی ادا کی گئی اور بیع واقعی ہوئی تو جمعبندی میں بیع کے اندراج کی کوئی علیحدہ شہادتی قدروقیمت نہیں ہے۔

جمعبندی کی دوپرت تیار کی جاتی ہیں۔ ایک پرت جو پٹواری اپنے استعمال کے لئے رکھتا ہے اسے پرت پٹوار کہتے ہیں جبکہ دوسری پرت جو صدر قانونگوکے دفتر میں (اب نائب تحصیلدار صدر کے دفتر یعنی صدر ریکارڈ روم)میں رکھی جاتی ہے اسے پرت سرکار کہتے ہیں، ایسی تدبیر کا مقصد پٹواری کے اس ریکارڈ میں کسی ردوبدل کے امکان کو روکتا ہے۔ (1992 CLC 498)

جمعبندی میں غلط اندراج کی صحت کے لئے معیاد کے متعلق قرار دیا گیا کہ جمعبندی میں غلطی اندراج سے نئی بنائے دعویٰ پیدا ہوگی۔ جمعبندی میں غلط اندراج کی صحت کے لئے دعویٰ استقرارحق و صحت اندراج جمعبندی کے لئے دعویٰ جب بنائے دعویٰ پیدا ہو اس کو 6 سال کے اندر دائر کیا جاسکتا ہے۔ (PLD 1993 Pesh 127)

جب اراضی کی بیع ثابت نہ ہو سکی تو ایسی بیع کی بنیاد پر جمعبندی میں اندراج قانونی طور پر غیر مؤ ثر ہوگا اور اسکو قائم نہیں رہنا چاہئے۔ فریق متعلقہ کا یہ دعویٰ کہ چونکہ بیع کا جمعبندی میں عملدرآمد ہو چکا ہے اس کو قیاس صحت حاصل ہو گیا ہے۔ اس بناء پر مسترد کر دیا گیا کہ ایسا قیاس قابل تردید تھا اور اس قیاس کی مسؤل علیہ نے معقول شہادت سے تردید کر دی تھی۔ (1993 MLD 326)

کاغذات حال کی صحت کے متعلق قرار دیا گیا کہ کاغذات حال میں اندراج کو اس وقت تک قیاس حاصل ہے جب تک کہ اسکی تردید نہ کردی گئی ہو اور یہ ثابت نہ کردیا گیا ہو کہ ایسا اندراج غلطی سے ہوگیا تھا۔ اسکی بنیاد نہ قانونی تھی اور نہ ہی ٹھوس بنیادوں پر استوار تھی۔ (PLD 1993 Pesh 90)

خسرہ گرداوری میں اندراج کی قدروقیمت کے متعلق یہ قرار دیا گیا کہ خسرہ گرداوری میں اندراج کو قیاس صحت حاصل نہ ہے۔
(1994 SCMR 523+1977 SCMR 433)

پنجاب کا قانو ن شفع مجریہ1913ء کی دفعہ6 کے تحت راضی کی تقسیم کا فیصلہ کرنے کے لئے متعلقہ دستاویزات امثلہ حال ہیں۔ کاغذات حال میں زیر بحث اراضی کو غیر ممکن آبادی بیان کیا گیا اور متعلقہ مدت میں امثلہ حال میں اس پر حالیہ کی تشخیص بھی نہ تھی۔ ہبہ کے انتقال پر پٹواری کے نوٹ میں تحریر تھا کہ زیر بحث اراضی حدود کمیٹی کے اندر واقع تھی اورہبہ رہائشی مقصد کے لئے کیا گیا تھا۔ ہائیکورٹ نے اراضی کی قسم کا تعین کرنے کیلئے درست طور پر یہ تسلیم کیا تھا۔ زیر بحث اراضی زرعی اراضی کی خصوصیات کی حامل نہ تھی۔ (1992 SCMR 2300)

مسل حقیت میں اندراج کے مطابق مدعا علیم قبضہ کے خانہ میں بطورمزارعہ غیر مستقل تحریر کئے گئے تھے اور خانہ لگان میں انکو بلا لگان درج کیا گیا تھا۔ اس بیعہ کے متعلق ذرہ برابر بھی شہادت صفحہ مثل پر نہ لائی گئی تھی۔ جب خانہ لگان کا اندراج قبضہ کے خانہ سے مختلف ہو تو قبضہ کے خانہ میں اندراج کو فوقیت دی جائے گی۔ (PLD 1994 Pesh 209)

پہلے بندوبستی ریکارڈ(مثل حقیت) کے اندراج پر اعتماد اور قیاس صحت کے متعلق قرار دیا گیا کہ ایسی مثل میں واجب العرض جمعبندی شجرہ نسب شامل ہیں تاہم مسل حقیت کو بالخصوص اولین مسل بندوبست کو قیاس صحت حاصل ہے۔ کسی علاقے کے پہلے بندوبستی ریکارڈ کے متعلق قیاس صحت کی تردید کے لئے بہت مضبوط شہادت کی ضرورت ہے، جب ایسے ریکارڈ کی تردید میں کوئی قابل اعتماد شہادت نہ پیش کی گئی ہو تو سپریم کورٹ نے ایسے ریکارڈ کی صحت میں مداخلت سے انکار کردیا ہے۔ (1997 SCMR 1840)

جب خسرہ گرداوری اوررجسٹرحقداران زمین سے مسؤل علیم کی مختلف شناخت ظاہر ہوتی ہو تو اس کا اثر یہ ہوگا کہ خسرہ گرداوری اور رجسٹر حقداران زمین کے اندراج کو یکجا کیا جائے گا۔ لفظ جو خسرہ گرداوری سے ظاہر ہوتا ہے مدعا علیم سے متعلقہ نہ تھا بلکہ دیگر اشخاص سے متعلق تھا۔ مدعا علیم کے نام جو دعویٰ میں تحریر کئے گئے ہیں وہ ان ناموں سے مختلف تھے جو کہ رجسٹر حقداران زمین میں تحریر کئے گئے لہذا مدعا علیم کو زیر تنازعہ اراضی کے اس وقت کے مزارعان تصور نہ کیا جاسکتا تھا۔ انکو اس شخص سے بہتر حق شفع حاصل نہ تھا جو کہ مدعی کے حق شفع بطور پسر بایعہ کو شکست دے سکے۔ (1994 SCMR 579)

تقسیم اراضی کی کاروائی کے دوران حقیت (Title) کے تنازعات کو طے کرنے کا طریق کار

ریونیو افسر کے سامنے جب تقسیم اراضی کی کوئی درخواست گزاری جاتی ہے تو دوران کاروائی حقیت(Title) سے متعلق تنازعات کا پیدا ہونا عین ممکن ہے۔ ان تنازعات کو نمٹانے کا طریق کار دفعہ 141 قانون معاملہ زمین میں موجود ہے۔دفعہ ھذا ایک ایسا طریق کار مہیا کرتی ہے جس پر ریونیو افسر کو عمل کرتے ہوئے حقیت کے بارے میں تنازعات طے کرنا ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ریونیو افسر دوہرے اختیار کا مالک ہوتا ہے۔ وہ خود ہی بحیثیت عدالت دیوانی تصفیہ کر سکتا ہے یا کسی فریق کو عدالت دیوانی سے رجوع کرنے کا حکم دے سکتا ہے اور فیصلہ تک تقسیم اراضی پر کاروائی روک سکتا ہے۔
یہ عام مشاہدہ ہے کہ تقسیم اراضی کی کاروائی کے دوران اکثر ملکیت کے بارے میں تنازعات پیدا ہو جاتے ہیں جن کے تصفیہ کے بغیر تقسیم اراضی کی کاروائی نہیں ہو سکتی۔ دفعہ 141 قانون معاملہ زمین کے احکام کے مطابق اگر ریونیو افسر از خود بطور عدالت دیوانی ایسے تنازعات کا فیصلہ کرنا نہ چاہے تو وہ کسی فریق کو حکم دے سکتا ہے کہ وہ اتنے عرصے کے اندر جو 90 دن سے زیادہ نہ ہو حقیت کے تنازعہ کے فیصلہ کے لئے دیوانی عدالت سے رجوع کرے۔عدالت دیوانی سے رجوع کرنے کی صورت میں ریونیو افسر تا فیصلہ عدالت دیوانی تقسیم اراضی کی درخواست پر کاروائی روک دے گا۔
اگر ریونیو افسر ازخود تنازعہ کا فیصلہ کرتا ہے اور اگر ایسا تنازعہ عدالت حال کے دائرہ اختیار میں آتا ہے تو وہ قانون رائج الوقت کے تحت طریق کار پر عمل کرے گا۔اگر تنازعہ عدالت دیوانی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے تو ریونیو افسر ایسے طریق کار پر عمل کرے گا جو عدالت دیوانی کسی ابتدائی دعویٰ میں اختیار کرتی ہے۔ ریونیو افسر کے حکم کے خلاف بالکل اسی طرح اپیل کی جاسکتی ہے جیسا کہ عدالت دیوانی کی ابتدائی ڈگری ہو۔ عدالت اپیل ریونیو افسر کے ایسے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کر سکتی ہے۔ ریونیو افسر اگر عدالت دیوانی سے رجوع کرنے کا حکم دے تو فیصلہ کے لئے کوئی مدت مقرر نہیں کر سکتا۔ ریونیو افسر کے ایسے عمل کو بہتر قرار دیا گیا ہے کہ وہ خود تنازعہ کو حل کرنے کا اختیار رکھنے کے باوجود معاملہ کو عدالت دیوانی میں لے جانے کا حکم دے اور تا فیصلہ عدالت دیوانی تقسیم اراضی کی درخواست پر کار وائی روک دے۔
اگر افسر حال دیوانی عدالت کا طریق کار اختیار کرتے ہوئے تنازعہ حقیت کا فیصلہ کرتا ہے تو اسکے خلاف بالکل اسی طرح اپیل کی جاسکے گی گویا کہ فیصلہ کسی سول جج کی ابتدائی ڈگری تھا۔ افسر حال کے اختیار پر ایک قدغن بھی لگائی گئی ہے کہ وہ تنازعہ کو عدالت دیوانی سے فیصلہ کرنے کے لئے کوئی مدت مقرر نہیں کر سکتا اور اگر وہ کسی قسم کی مدت کا تعین کرے گا تو غیر قانونی ہوگی۔
اگر ریونیو افسر دوران کاروائی تقسیم اراضی تنازعہ حقیت پیدا ہونے پر نہ تو خود بطور عدالت دیوانی اس کا فیصلہ کرے اور نہ کسی فریق کو عدالت دیوانی سے رجوع کرنے کا حکم دے اور تقسیم اراضی کی کاروائی جاری رکھے اور کوئی حکم جاری کردے تو ایسے عمل کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ اسے دفعہ ھذا کی منشاء کے برعکس قرار دیا گیا ہے۔
اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں بٹوارے کی نالش سے متعلق کئی اہم امور وضع ہوئے ہیں جن سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
اگر ایک مرتبہ فریقین بٹوارہ کسی کاروائی بٹوارہ میں حقیت(Title) کے عذر کو اختیار کر لیں تو ایسے مسئلے کا تعین عدالت مجاز ہی کرتی ہے اور یہ افسر حال کے دائرہ اختیار سماعت میں نہیں رہتا کہ وہ اسکو جھوٹا یا بے معا نی کہے۔

(PLD 1956 W.P (Rev) 13) + (PLD 1963 W.P (Rev) 75) + (PLD 1956 W.P (Rev) 27)

جب کوئی شخص کسی مشترکہ جائیداد میں حصہ دار ہونے کا دعویٰ کرے اور اس جائیداد کی تقسیم چاہے اور یہ بھی جانتا ہو کہ دوسرے حصہ داران اس سے تعاون نہ کریں گے تو ایسی صورت میں پہلے ذکر کردہ حصہ دار کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ دیوانی عدالت سے رجوع کرے اور اس بارے میں ڈگری حاصل کرے کہ وہ بٹوارہ طلب کرنے کا حقدار ہے۔ (PLD 1957 W.P (Rev) 5)


ایک افسر حال کو کسی ایسی درخواست برائے بٹوارہ وصول کرنے یا اسکی سماعت کا اختیار نہ ہے جو کہ لینڈ ریونیو کی جانب سے تشخیص کے باوجود زمین نہ رہی ہو۔ ایسی جائیداد کے بٹوارے کے تنازعات کو مناسب طریقہ سے دیوانی عدالت میں ہی سماعت کیا جاسکتا ہے۔ (PLD 1965 Lahore 429)


دفعہ 141 قانون معاملہ زمین واضح طور پرقصد کرتی ہے کہ امر حقیت کا کوئی ایسا سوال نہ ہے کہ آیا زمین کا بٹوارہ کیا جائے گا یا نہیں بلکہ یہ امر حق ملکیت اور قبضے کے دوسرے حقوق سے متعلق ہے۔ (PLD 1950 Punjab (Rev) 1971)

/ ملکیت
جب بھی تقسیم میں تنازعہ حقیت کا سوال اٹھایا جائے ریونیو افسر کے پاس کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے۔
اول: یہ کہ وہ خود بطور عدالت دیوانی اس تنازعہ کا فیصلہ کرے۔
دوم: یہ کہ وہ متعلقہ فریق کو عدالت دیوانی میں رجوع کرکے فیصلہ کرانے کی ہدایت کرے اور عدالت کے فیصلہ کا انتظار کرے۔
(PLD 1963 W.P (Rev) 75)

جب بھی کوئی تنازعہ حقیت پیدا ہو جائے تو ریونیو افسر دو راستوں میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کرے گا۔ وہ یہ کہنے کا مجاز نہیں ہے کہ ایسا عذر فضول یا جھوٹا ہے۔ایسے تنازعہ کے متعلق عدالت مجاز کا فیصلہ ہو نا لازمی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا ریونیو افسر کا کام ہے کہ وہ ایسے تنازعہ کا خود فیصلہ کرے گا یا فریقین کو ہدایت کرے گا کہ وہ عدالت مجاز سے اس امر تنازعہ کا فیصلہ کرائیں۔ دستور العمل کاغذات زمین کے پیرا 18.9 میں ریونیو افسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ معاملہ کو جلد نمٹانے کے لئے ریونیو افسر کو چاہئے کہ وہ متنازعہ امر کا بطور دیوانی عدالت خود فیصلہ کرے۔ یہ ہدایت محض انتظامی نوعیت کی ہے اور اس کے پیچھے کوئی قانونی پابندی نہ ہے۔ (PLD 1956 W.P (Rev) 13)

اگر تنازعہ حقیت بظاہر غیر معقول بھی ہو توبھی ریونیو افسر اسکا فیصلہ صرف بطور عدالت دیوانی ہی کرنے کا مجاز ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقسیم کی کاروائی سرسری نوعیت کی حامل ہوتی ہے اور ایسی کاروائی کرنے کے کوئی قواعد یا قانون وضع نہیں کئے گئے۔ تنازعہ حقیت کیونکہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسلئے ضروری ہے کہ اسکا فیصلہ ضابطہ دیوانی کے احکام کے مطابق کیا جائے تاکہ فریقین اپنی اپنی شہادت پیش کر سکیں، گواہان پر جرح ہو سکے۔ خود فریقین کے مفاد میں ہے کہ ایسے متنازعہ امور کا فیصلہ ضابطہ دیوانی کے تحت کیا جائے۔ (PLD 1962 W.P (Rev) 27)


قبضہ مخالفانہ کا عذر تنازعہ حقیت ہے اور اسکا فیصلہ یا تو ریونیو افسر خود بطور عدالت دیوانی کرے یا عدالت مجاز سے اسکا فیصلہ کرایا جائے۔ (PLD 1963 W.P (Rev) 75)


جب واجب العرض میں کوئی شرط درج ہو تو یہ اس بندوبست کی میعاد تک حاوی ہوگی جب بندوبست کی میعاد ختم ہو جائے تو ایسے اندراج کا اطلاق نہیں ہوتا اور یہ ختم ہو جاتا ہے۔ (PLD 1955 W.P (Rev) 56)

جبکہ کسی موضع کی واجب العرض اس وقت کے حالات کے مطابق تیار کی گئی تھی جبکہ اراضی کی قدروقیمت محض اسکے چراگاہ ہونے پر منحصر تھی، لیکن بعد میں گاؤں کے مویشیوں میں بھی بہت کمی ہو گئی تو یہ قرار دیا گیا کہ چونکہ حالات بدل چکے تھے اور اہل دیہہ کی اکثریت واجب العرض کے اندراج پر مقرض ہے لہذا ریونیو افسر تقسیم کرنے میں حق بجانب تھا۔ (PLD 1950 Pb. (Rev) 887)


قانون معاملہ زمین کی دفعہ172(2) کے تحت تقسیم کی کاروائی سے متعلق کسی معاملہ میں عدالت دیوانی کوئی اختیارات زیر کار نہیں لا سکتی البتہ تنازعہ حقیت کو طے کرنے کے لئے عدالت دیوانی کاروائی کر سکتی ہے۔ (PLD 1950 Pb. (Rev) 338)

افسر حال تنازعہ طے کرانے کے لئے کوئی مدت مقرر کرنے کا مجاز نہیں

اگرچہ ریونیو افسر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تقسیم کے کسی تنازعہ حقیت کو طے کرانے کے لئے کسی فریق کو عدالت دیوانی سے رجوع کرنے کا حکم دے مگر اسے یہ اختیار حاصل نہیں کہ رجوع کرنے کے لئے کوئی مدت مقرر کرے۔ ایسا حکم بلا اختیار ہوگا۔ ایسی صورت میں حکم اس طرح ہونا چاہئے۔

”میں اس درخواست تقسیم کو اس وقت تک منظور کرنے سے انکار کرتا ہوں جب تک کہ تنازعہ کا فیصلہ مجاز عدالت سے نہ کرا لیا جائے۔“ (PLD 1955 W.P (Rev) 31)


دفعہ 141(1) کے احکام تاکیدی نوعیت کے نہ ہیں کہ ریونیو افسر تقسیم کی درخواست پر اس وقت تک تقسیم کرنے سے انکار کردے جب تک کہ تنازعہ حقیت کا فیصلہ نہ کرالیا جائے۔ ایسے احکام اجازتی نوعیت کے ہیں لہذا ان احکام کے اطلاق کے متعلق ہر مخصوص مقدمہ کے استحقاق کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ (PLD 1950 Pb. (Rev) 1138)


جب اسسٹنٹ کلکٹر دفعہ 141 قانون معاملہ زمین اور پیرا 18.9,18.81 دستور العمل کاغذات زمین کے مطابق تنازعہ حقیت کے متعلق قانون کے مطابق ضروری کاروائی کرنے سے قاصر رہے تو یہ قرار دیا گیا کہ یہ ایک اہم بے ضابطگی تھی اور اس میں مداخلت کرنا منصفانہ تھا۔ (PLD 1950 Pb. (Rev) 586) + (PLD 1950 Pb. (Rev) 1101) + (PLD) 1950 Pb. (Rev) 23)

شرط واجب العرض کی تاویل ایک مقدمہ میں اس طرح کی گئی

مقدمہ استقرار حق و حکم امتناعی دائمی کا کیاگیا کہ مشرعویہ اراضی شاملات دیہہ کا حصہ تھی اور مدعیان اس اراضی کے مشترکہ مالک تھے۔مدعیان نے مزید مطالبہ کیا کہ کاغذات حال میں اراضی مدعا علیم کی واحد ملکیت کا اندراج غیر قانونی اور ناجائز تھا۔ جسکی درستی کی ضرورت تھی۔ دعویٰ سول جج اور عدالت اپیل نے ڈگری کردیا۔ مدعا علیم نے یہ عذر لیا کہ یہ امر فیصلہ نہ تھا، مدعا علیم کو اس اراضی کا مالک قرار دیا گیا تھا جو انہوں نے کاشت کی تھی۔اس کی بابت شرط واجب العرض میں تحریر تھی۔ کسی دستاویز کی تاویل قانونی امر ہے جس کی وضاحت فریقین کی پیش کردہ شہادت سے ہی ہو سکتی ہے۔ شرط واجب العرض سے فریقین کے موقف کی تائید ہوتی تھی۔ شاملات کی ابھی تقسیم نہ ہوئی تھی۔ مدعا علیم کو صرف قبضہ اور اراضی سے مفاد کا حق حاصل تھا۔ ان کو مالک صرف انکی ذمہ داریوں کی نسبت اور حالیہ کے معاملات کے لئے سمجھا گیا۔کامل ملکیت کے لئے قانون کے مطابق تقسیم لازمی تھی لہذا ہائیکورٹ نے اپیل ثانی خارج کردی۔ (2005 CLC 68)


جب ریونیو افسر بطور عدالت دیوانی تنازعہ حقیت کا فیصلہ کرے تو اسکے حکم اور ڈگری کے خلاف اپیل ڈسٹرکٹ جج صاحب کے پاس کی جائے گی۔ اسی طرح نگرانی بھی عدالت دیوانی کے پاس ہی رجوع ہوگی اور ریونیو افسران کو انکی سماعت کا کوئی حق حاصل نہ ہوگا۔ مدعی نے دعویٰ کیا کہ وہ متوفی مالک اراضی کا وارث ہونے کی حیثیت سے تقسیم اراضی کرانے کا حقدار ہے۔ عدالت ابتدائی نے مدعی کا دعویٰ خارج کردیا۔ عدالت اپیل نے مقدمہ ریمانڈکردیاکہ استحقاق پر فیصلہ کیا جائے۔ مدعا علیہ نے حکم ریمانڈ پر اعتراض کیا۔ ہائیکورٹ نے نگرانی کے اختیارات زیر کارلانے سے انکار کردیا۔(1991 CLC الغزن ہاؤسنگ سوسائٹی اکبر آباد

07/02/2022

SN&RG Law Associates
سزائے موت اور دنیا بھر میں رائج سزائے موت کے مختلف طریقے

نوٹ:۔ کمزور دل حضرات و خواتین اور15 سال سے کم عمر کے بچے اس پوسٹ کو ہرگز نہ پڑھیں۔

موت کی سزا بیشتر ممالک میں سنگین جرائم کرنے والوں کے لیے سب سے بڑی سزا ہے جس کا اختتام سزا پر عمل درآمد کی صورت میں ہوتا ہے۔ سزائے موت کو (Capital Punishment) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح لاطینی زبان کے لفظ capitalis سے نکلی ہے، جس کا مفہوم ’’سر قلم کرنا ‘‘ ہے۔

سزائے موت کے تناظر میں اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو زمانہ قدیم سے لے کر تاحال مختلف معاشروں میں ، مختلف ادوار حکومت میں ، حکم رانوں نے سزائے موت کے قانون کو رائج رکھا ہے۔ صاحبان اقتدار دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ملک دشمنوں، سیاسی مخالفین اور جرائم پیشہ عناصر کو موت کے گھاٹ اتارتے رہے ہیں۔ مختلف ممالک میں سزائے موت کا طریقہ مختلف بھی ہوتا ہے یعنی پھانسی کے علاوہ بھی مجرموں کو دوسری دنیا میں پہنچانے کے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ بہت سارے ملکوں میں تو مجرموں کو سر قلم کرکے موت کی نیند سلانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔

اِس وقت دنیا کے 58 ملکوں میں سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد ہورہا ہے۔98 ملکوں نے مجرموں کو سزائے موت نہ دینے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے اور وہاں سنگین جرائم میں ملوث افراد کو دیگر سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں سزائے موت صرف انتہائی سنگین جرم کے ارتکاب پر ہی دی جاتی ہے۔ دنیا کے 35 ملک ایسے ہیں جنھوں نے سزائے موت پر عمل درآمد10 سال یا اس سے زائد عرصے کے لیے روک دیا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں سزائے موت دینے اور اس پر عمل درآمد کے حوالے سے قوانین اور پالیسیاں مختلف ہیں۔ یورپی یونین کے رکن ممالک میں یونین کے بنیادی انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت سزائے موت دینے پر پابندی ہے۔47 رکن ممالک پر مشتمل کونسل آف یورپ نے بھی اپنے ارکان ممالک میں سزائے موت دینے پر پابندی عاید کی ہوئی ہے۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں بھی سزائے موت پر پابندی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی 2007 ، 2008 اور 2010 میں اپنی قراردادوں کے ذریعے سزائے موت کی مخالفت کی اور اس پر پابندی لگائی۔ عالمی سطح پر سزائے موت کی مخالفت کے باوجود دنیا کی بہت بڑی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں اب بھی سزائے موت پر عمل درآمد تسلسل سے جاری ہے۔ ان ملکوں میں چین، انڈیا، امریکا اور انڈونیشیا سرفہرست ہیں، ان چاروں ملکوں نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی مخالفت کی ہے۔

دنیا میں سزائے موت دینے کے طریقے
بادشاہوں کے دور سے لے کر اس جدید دنیا کے مختلف ادوار تک دیکھیں تو سزائے موت کے مختلف طریقے دکھائی دیں گے۔ پھانسی کی سزا تو ہمارے ملک پاکستان میں بھی دی جاتی ہے جس کی تفصیلات سے آپ باخوبی آگاہ ہوں گے۔، اس کے علاوہ بھی ایسے طریقے ہیں جنھیں اختیار کرکے مجرموں، دشمنوں اور باغیوں کو سزائے موت دی جاتی رہی ہے۔ مجرموں کو سزائے موت دینے کے کچھ طریقوں کے حوالے سے معلومات نذر قارئین ہیں:

٭گولی مارنا
مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے گولی مارنے کا طریقہ بھی رائج ہے، اگر مجرم ایک سے زاید ہوں تو انھیں فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا جاتا ہے۔ پھر اشارہ ملتے ہی گولیاں برسنا شروع ہوجاتی ہیں۔

٭ کھال اتارنا۔۔۔Flaying
اس طریقے سے مجرم کو موت تو ملتی ہے لیکن سے اس سے قبل بے پناہ اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جلاد یا سرکاری اہل کار، بادشاہ، حکم راں یا مسند اقتدار پر بیٹھے شخص کے حکم سے سزا یافتہ شخص کے جسم کی کھال تیز دھار چھری یا چاقو سے اتارتے تھے۔ یہ اذیت ناک مرحلہ مجرم کو موت سے پہلے کئی بار مارتا تھا اور آخرکار اس کی موت واقع ہوجاتی تھی۔ اس کیفیت میں اس خوف ناک سزا کے مراحل سے گزرنے والا فوری موت کی التجائیں کرتا تھا، لیکن اسے موت سے پہلے اس اذیت ناک مرحلے سے گزرنا پڑتا تھا۔

٭اعضا کو کاٹنا
Disembowelment
مجرم کے جسم کے کچھ اعضا کو کاٹ لیا جاتا تھا، جس سے رفتہ رفتہ وہ ہلاک ہوجاتا تھا۔ عام طور پر اس طریقۂ کار کو اختیار کرتے وقت مجرم کے معدے کے قریب زخم لگائے جاتے تھے۔ یہ طریقہ صرف تشدد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا اور اس کے نتیجے میں قیدیوں کی اموات بھی ہوئیں۔

٭سنگساری۔۔۔۔۔stonning
زانی شدہ مرد و عورت کی سزا قرآن کریم میں یہ ہی بیان ہوئی ہے۔ اور اللہ فرماتا ہےکہ سنگ باری کرتے ہوئے تمہیں ان پر رحم نہ آئے۔
سزائے موت کا یہ انداز تو آج بھی مختلف ملکوں میں جاری ہے۔ کچھ ممالک کی تاریخ کے حوالے سے تمثیلی دستاویزی پروگراموں میں دیکھا ہے کہ مجرم کو ایک میدان میں آدھے جسم تک گاڑدیا جاتا تھا۔ اس کے بعد چاروں طرف کھڑے لوگ اس پر سنگ باری کرتے تھے۔ چند پتھر لگنے کے بعد مجرم کی موت واقع ہوجاتی تھی۔ اگر زمین میں گاڑا نہ جائے تو ملزم کو کھلے میدان میں بٹھادیا جاتا تھا اور پھر اس پر پتھر برسائے جاتے تھے۔

٭گرم پانی میں پھینکنا۔۔۔
boiling to death
گرم کھولتے ہوئے پانی میں کسی کو بھی پھینکنے کا مطلب یہ ہے کہ سیکنڈوں میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ مختلف ادوار میں حاکم وقت اپنے دشمنوں، مجرموں اور مخالفین کو مارنے کے لیے یہی طریقہ استعمال کرتے تھے۔ اس کے لیے پانی کو ایک بڑے برتن میں کھولایا جاتا تھا اور مجرم کو اس میں ڈال دیا جاتا تھا۔

٭بھاری پہیے کے ذریعے موت۔۔۔۔
breaking wheel
قدیم یونان میں یہ طریقہ رائج تھا، جس نے آہستہ آہستہ جرمنی، فرانس، روس، برطانیہ اور سوئیڈن میں بھی مقبولیت حاصل کی۔ اس طریقے میں قیدی کو ایک بڑے پہیے سے باندھ دیا جاتا تھا۔ جب پہیا چلتا تھا تو آہستہ آہستہ اس شخص کی ہڈیاں ٹوٹنا شروع ہوجاتی تھیں اور پھر وہ مرجاتا تھا۔ اس کے علاوہ کبھی کبھی ملزم کو سرپر چوٹ لگاکر نیم بے ہوشی کی حالت میں پہیے سے باندھ کر کہیں لٹکادیا جاتا تھا۔ اس طرح پرندے بالخصوص چیل، کوے اور گدھ زندہ انسان کی بوٹیاں نوچنا شروع کردیتے تھے جس سے اس کی موت واقع ہوجاتی تھی۔

٭ زندہ جلادینا
مجرموں کو زندہ جلانا بھی سزائے موت کا ایک انداز رہا ہے۔ جن حاکموں نے یہ طریقہ اختیار کیا ، اُن کی منطق یہ تھی کہ اس طرح دوسرے لوگوں پر بھی خوف طاری ہوگا اور وہ عبرت حاصل کریں گے۔

٭نیک لیسنگ ۔۔۔Necklacing
اس طریقے میں ملزم یا مجرم کی گردن اور بازوؤں پر ایک ربڑ کا ٹائر چڑھادیا جاتا تھا، جو گیس سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔ پھر اسے آگ لگادی جاتی تھی۔ یہ طریقہ جنوبی افریقہ میں 1980تا1990 کے دوران کافی استعمال کیا گیا۔ ڈاکوؤں، چوروں یا جرائم پیشہ عناصر کو عام شہریوں نے بھی اپنی عوامی عدالتوں کے ذریعے متعدد بار Necklacing کے ذریعے سزائے موت دی۔

٭کیڑوں کے ذریعے موت۔۔۔
scaphism
اس خوف ناک طریقے کو بھی سزائے موت دینے کے لیے حکمرانوں نے استعمال کیا۔ مجرم کو برہنہ کرکے چھوٹی کشتی یا درخت کے تنے میں باندھ دیا جاتا تھا۔ پھر اسے زبردستی شہد اور دودھ پلایا جاتا تھا، اس کے بعد کھانے پینے کی اشیا بھی اس کے بدن پر ڈالی جاتی تھیں، تاکہ کیڑے ان کی بو سے آئیں۔ پھر اسے باندھ کر کسی حوض یا ندی کے کنارے لٹکادیا جاتا تھا۔ تاریخ میں موجود ہے کہ اس طریقے کو اختیار کرنے والے اپنے مجرم کی آنکھوں، کانوں، منہ اور دیگر اعضا کو خاص توجہ کا نشانہ بناتے تھے۔ کچھ ہی وقت گزرنے کے بعد حشرات الارض دودھ، شہد اور کھانے پینے کی دیگر اشیا کے ساتھ انسانی جسم بھی چٹ کرجاتے تھے۔

٭ آری کے ذریعے جسم چیر دینا۔۔۔
sawing
اس دہشت ناک طریقے کے ذریعے تیز دھار آری سے مجرم کے جسم کو دو حصوں میں کاٹ دیا جاتا تھا۔ یہ طریقہ رومن دور میں کافی رائج تھا۔ اسپین میں بھی اس کے شواہد ملتے ہیں، جب کہ ایشیا کے بھی کچھ حصوں میں اس کے ذریعے سزائیں دی جاتی رہی ہیں۔ اس طریقے میں انسانی جسم کو افقی یا عمودی کاٹا جاتا تھا ، دیکھنے والے تو دہشت زدہ ہوتے ہی تھے، لیکن یہ دردناک موت سہنے والا موت سے پہلے ہی مرجاتا تھا۔

٭ہاتھی کے پیروں تلے روندنا
ہاتھی کے پیروں تلے روند کر مجرموں کو سزائے موت دینا بھی بادشاہوں کا شوق رہا ہے، مجرموں کو میدان میں باندھ کر لٹادیا جاتا تھا اور پھر ہاتھی اپنا بھاری بھرکم پیر جیسے ہی اس کے اوپر رکھتا تھا توسزا پانے والا منٹوں میں ہلاک ہوجا تا تھا۔ اس کے علاوہ سزایافتہ افراد کو بھوکے شیروں کے سامنے ڈال دینا بھی ایک ایسا عمل ہے جسے حکم رانوں نے تفریح طبع کے لیے بھی استعمال کیا اور اس سے اپنے مخالفین کو سزائیں بھی دیں۔ بھوکے جانوروں کے پنجرے میں جانے والوں میں سے قسمت والے ہی زندہ سلامت بچنے میں کام یاب ہوتے تھے، لیکن ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔

٭زہریلا انجکشن اور کرنٹ
قیدیوں کوزہریلا انجکشن لگاکر یا کرنٹ دے کر بھی مجرموں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔کچھ ممالک میں بجلی کی کرسیاں استعمال کی جاتی ہیں، جن پر مجرموں کو بٹھایا جاتا ہے اور کرنٹ چھوڑدیا جاتا ہے۔

سزائے موت کے درج بالا طریقوں کے علاوہ بھی حکومتوں نے مجرموں کے موت کے گھاٹ اتارنے کے بہت سے طریقے اختیار کیے ہیں۔ صدیوں پہلے استعمال کیے گئے طریقے اب اگر متروک ہوچکے ہیں تو ان سے زیادہ خوف ناک، دہشت ناک اور اذیت ناک طریقے متعارف کرائے جاچکے ہیں۔

ہر دور اپنے ساتھ جہاں زندگی کی ہر نئی چیز لے کر آتا ہے تو وہاں سزائے موت کے قوانین اور طریقہ کار بھی نئے سے نیا انداز اختیار کرکے سامنے آتے ہیں۔ پرانے زمانے کے مقابلے میں دیکھا جائے تو جدید دور میں سزائے موت کے طریقے ایسے ہیں جن میں سزا پانے والے کو کم سے کم اذیت ہوتی ہے اور وہ کم وقت میں ہلاک ہوجاتا ہے، جب کہ کچھ صدیوں قبل کے طریقوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مارے جانے والے کو موت سے بے پناہ اذیت دی جاتی تھی۔

بہرحال سزائے موت ایک ایسا ہتھیار ہے جس کو اگر صحیح انداز میں استعمال کیا جائے اور سیاسی مخالفین کو کچلنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے تو اس سے معاشرے میں کافی سدھار آسکتا ہے۔ قوانین کا ہونا اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل بات ان قوانین پر عمل درآمد ہے۔ دہشت گردوں اور مجرموں کو سزائے موت دے کر نشان عبرت بنانا انصاف کا تقاضا، مظلوم کی تسلی اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے لیے سبق ہے۔
اگر لوگوں میں سزا کا خوف ہوگا تو وہ جرائم کی طرف بڑھتے ہوئے کئی بار سوچیں گے، لیکن اگر پہلے ہی پتا ہو کہ سنگین سے سنگین ترین جرم کرنے کے باوجود انھیں بڑی سزائیں نہیں ملیں گی تو ہر کوئی کھل کر جرم کرے گا اور عام شہری کے لیے جینا محال ہوجائے گا۔ یہ بات ہر شعور رکھنے والا انسان کہتا ہے کہ جرم کرنے والے کو اس کے کیے کی سزا ضرور دینی چاہیے تاکہ اسے یا اس کے لواحقین و اہلخانہ کو احساس ہو کہ تکلیف کیا ہوتی ہے۔ انسان کسی دوسرے کی تکلیف کا صحیح معنوں میں احساس اسی وقت کرسکتا ہے جب وہ خود اسی تکلیف سے گزرا ہو۔ دوسروں کو مارنے والے جب خود تختہ دار تک پہنچتے ہیں تو انھیں اندازہ ہوتا ہے کہ موت کیا ہوتی ہے۔
ہمارے ملک میں بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ حقیقی مجرموں کو ان کے کیے کی سزا ضرور دی جائے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی ومذہبی جماعت سے ہو یا وہ معاشرے کے کسی بھی طبقے کی نمائندگی کرتا ہو۔ سزائے موت دینے کا طریقہ کار کوئی بھی اختیار کیا جائے، کسی بھی ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے سزائے موت کے قانون پر جامع اور موثر انداز میں عمل درآمد بہت ضروری ہے، تبھی امن پروان چڑھ سکتا ہے۔(بشکریہ ایکسپریکس نیوز)

اگر اللہ کی حدود کو جو قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں ان کو نافذ کردیا جائے۔ تو یقینا اس سے اسلامی ممالک کو فائدہ ہو۔ میں نے ایک حدیث شریف ایک عالم صاحب سے سنی تھی ۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔(مفہوم) کہ اگر چالیس روز تک بارش برستی رہے تو زمین اور زمین والوں کو اتنا فائدہ اس بارش کے برسنے سے نہیں ہوتا ۔ جتنا کہ اللہ کی ایک حد نافذ کرنے سے ہوتا ہے۔واللہ تعالی اعلم

Address

13 Fan Road
Lahore

Telephone

+923244548100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SN&RG Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share