22/02/2022
گرل فرینڈ کے ساتھ گزارے تنہائی کے جزباتی اور رومینٹک لمحات کی وڈیوز لیک ہونے کے واقعات آئے روز سامنے آتے ہیں. جیسے کہ گزشتہ دنوں ٹشو پیپر والی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور یار لوگ فرمائش اور تقاضا کر کے ان احباب سے مانگتے بھی رہے جنھوں نے اشاروں کنایوں میں ویڈیو دیکھنے کی نوید سنائی.
ویڈیو وائرل کرنے والی گھٹیا حرکت اخلاقی جرم تو ہے ہی قانون میں بھی یہ عمل سنگین جرائم میں شامل ہے. جس کی کارروائی FIA (فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی) سائیبر کرائم کے قوانین کے تحت کرتا ہے
مشرقی لڑکیاں شادی کے پکے ٹھکے وعدے یا لارے کے بغیر مرد کو اپنے قریب نہیں آنی دیتیں. اور جب مرد شادی کا پکا وعدہ یا لارا لگا کر لڑکی کا اعتماد جیت لیتا ہے اور یہ یقین بھی دلاتا ہے کہ آخر ہماری شادی ایک دن ہونی ہی ہے تو جو شادی کے بعد ہونا ہے وہ اب ہونے میں کیا ہرج ہے.. اور لڑکی پھر بھی راضی نہ ہو تو لڑکا بریک اپ کی دھمکی دیتا ہے یا اعتماد اعتبار نہ کرنے کے شکوے شکایات کا انبار لگا دیتا ہے اور ناراضگی شو کرتا ہے کہ مجھ پر اعتماد نہ کر کے مجھے شدید ہرٹ کیا ہے
عموماً لڑکیاں یہ سوچ کر کے کہ کہیں لڑکا شادی کے وعدے سے مُکر ہی نہ جائے جسمانی تعلقات بنانے پر راضی ہو ہی جاتی ہیں. کیونکہ ہمارے سماج میں 90 فیصد لڑکیوں کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد شادی کرنا ہی ہوتا ہے. طبقاتی سماج میں لوئر یا لوئر مڈل کلاس کی لڑکی والدین کے لیے ایک بوجھ سمجھی جاتی ہے. اگر لڑکی سرکاری جاب ہولڈر ہے تو رشتوں کی کوئی کمی نہیں بصورت دیگر لڑکیوں کے سر میں چاندی اتر آتی ہے پر رشتے نہیں آتے کیونکہ قیمتی سامان جہیز اور جاب کا نہ ہونا یا کم خوبصورت ہونا شادی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں. اس صورت حال میں اگر خوش قسمتی سے کوئی لڑکا شادی کا وعدہ کر لے تو امید لگ جاتی ہے . اور مشرقی لڑکیاں صرف وعدے پر ہی لڑکے کو دل و جان سے اپنا سرتاج مان لیتی ہیں.
مرد تنہائی کے لمحات کی ویڈیوز لڑکی کو یہ اعتماد دلا کر بناتے ہیں کہ وہ ان رومانٹک لمحات کو یادگار کے طور پر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور وہ ان وڈیوز کو ہمیشہ سیکرٹ رکھیں گے اور کبھی کسی دیگر شخص کو نہیں دکھائیں گے جبکہ رومینٹک لمحات کی ویڈیو بنانے والوں کی 💯 فیصد بدنیتی ہوتی ہے اور یہ عموماً اس خوف سے بنائی جاتی ہیں کہ اگر کل کلاں لڑکی ہاتھ سے نکلنے لگے یا شادی کے لیے زیادہ اصرار کرنے لگے تو اسے ان وڈیوز کے ذریعے بلیک میل کر کے مستقبل میں زبردستی تعلقات رکھنے پر مجبور کیا جا سکے.
اکثر لڑکیاں گھریلو مجبوری یا کہیں اور شادی ہونے یا کسی اور مرد کے ساتھ تعلقات ہونے پر اپنے بوائے فرینڈ سے بریک اپ کر لیتی ہیں. اور سابقہ بوائے فرینڈ حسد کی آگ میں جل کر آگ بگولا ہو جاتا ہے اور وڈیوز لیک کرنے کی دھمکیاں دینے لگتا ہے. جو بیچاری لڑکیاں اپنی، اپنے والدین اور اہلِ خانہ کے رسوا ہونے اور عزت مٹی میں مل جانے کے خیال سے ڈر جاتی ہیں وہ مجبوراً نا چاہتے ہوئے بھی تعلقات قائم رکھتی ہیں
اور اگر لڑکی بریک اپ کے بعد وڈیوز لیک ہونے کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہ ہو اور مرد کی بلیک میلنگ میں نہ آئے تو بدفطرت مرد گھٹیا ترین حرکت وڈیوز وائرل کرنے کی شکل میں کرتے ہیں .
بطور وکیل میرا مشورہ ہے کہ ایسی متاثرہ لڑکیاں جن کی وڈیوز لیک ہو جاتی ہیں وہ خودکشی کرنے یا خوفزدہ اور شرمندہ ہونے کے بجائے بھرپور قانونی کارروائی کریں تاکہ باقی مجرموں کو عبرت ہو
میرے پاس اس نوعیت کے جو کیسز آئے ان میں 99 فیصد لڑکیاں اور انکے گھر والے قانونی کارروائی کرنے سے گریز کرتے ہیں. اور اگر کوئی قانونی کارروائی شروع کر بھی دے تو راستے میں انکی ہمت جواب دے جاتی ہے کیونکہ وہ قانونی کارروائی کر کے مذید تماشا بننے سے ڈرتے ہیں
زندگی بہت قیمتی شے ہے اسے کسی سانحہ کی صورت میں میں ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہیے اور ایسی متاثرہ لڑکیوں کے والدین کو بھی درگزر کرتے ہوئے لڑکی کو قتل کرنے یا تشدد کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ جو ہو گیا وہ واپس نہیں ہو سکتا البتہ جو غلط ہوا اسے سدھارا ضرور جا سکتا ہے
کسی ناقابلِ فراموش تلخ سانحے کے بعد بھی زندگی رک نہیں جاتی. ہمت حوصلہ قائم رہے تو ایک بھرپور نئی زندگی ہمیشہ باہیں کھول کر ہماری منتظر ہوتی ہے.
ڈر کے بعد جیت ہے