Imran Ayaz

Imran Ayaz Civil & Family Laws
Criminal Laws
Tax Matters and all kinds of legal matters.

Ayaz Law Associates is first Pakistani reputed law firm that provides all legal services under one roof and we operate in all cities within Pakistan and outside the Pakistan.

اپنی پارٹنرشپ فرم کو رجسٹر کروایئں اب ایاز لاء ایسوسی ایٹس آپ کے لیے بہترین ریٹ پر اپکی پارٹنرشپ فرم کو رجسٹر کرنے کے لی...
07/07/2024

اپنی پارٹنرشپ فرم کو رجسٹر کروایئں اب ایاز لاء ایسوسی ایٹس آپ کے لیے بہترین ریٹ پر اپکی پارٹنرشپ فرم کو رجسٹر کرنے کے لیے موجود ہے۔

Contact our Corporate Consultant Now
0333-5498321
0300-0110143

Registered your Partnership Firm Now Top Corporate Consultant of Ayaz Law Associates are there for you to register your partnership firm at the best rate.

Contact Us today to avail best legal and corporate services

IMRAN AYAZ
Advocate High Court
Member Tax Bar Association

Ayaz Law Associates & Tax Consultant
0333-5498321 / 0300-0110173
[email protected]
www.ayazlawassociates.com

07/07/2024

فیملی مقدمہ دائر کرنے سے پہلے ضروری ہدایات: ۔

-1 اگر آپ خاتون ہیں اور آپ اپنے خاوند کے خلاف مقدمہ دائر کر رہی ہیں تو وہ درج ذیل صورت کا ہو سکتا ہے۔
» دعویٰ دلاپانے خرچہ (ذاتی) ۔
» دعویٰ دلاپانے خرچہ نابالغ (اگر ہو تو) ۔
» دعویٰ تنسیخ نکاح ۔
» دعویٰ دلاپانے اخراجات ز چگی ۔
» دعویٰ دلاپانے سامان جہیز ۔
» دعویٰ دلاپانے خرچہ عدت ۔
» دعویٰ دلاپانے حق مہر ۔
۔

✓ ذاتی اخراجات کی بابت دعویٰ:
سب سے پہلے اگر آپ نے اپنے ذاتی اخراجات کی بابت دعویٰ دلاپانے خرچہ نان نفقہ دائر کرنا ہے اس کے لئے آپ کو کو اپنا اصل شناختی کارڈ ساتھ لے کر جانا ہوگا۔
آپ کے پاس شناختی کارڈ موجود نہ ہو تو آپ پاسپورٹ سائز تصویر بھی عرضی دعویٰ پر لگا سکتے ہیں۔
آپ کا خاوند سرکاری یا نیم سرکاری ادارے میں ملازم ہے تو اس کی ملازمت اور اس کی تنخواہ کا ثبوت بھی آپ ساتھ لے جا سکتی ہیں۔

✓ نابالغان کا خرچہ:
اگر آپ نے اپنے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے خرچہ نان و نفقہ کا دعوی دائر کرنا ہے تو اس صورت میں اپنے بچوں کی نقل پیدائش/فارم ب، اور اگر آپ کے بچے سکول جاتے ہیں تو ان بچوں کا سکول جانے کا سرٹیفکیٹ بھی ساتھ لے کر جائیں ۔

اس سرٹیفکیٹ پر سکول والوں کی طرف سے ماہانہ فیس وصولی کی بابت تفصیل فراہم کی گئی ہو،

اس کے علاوہ اگر آپ کے بچے ٹیوشن جاتے ہو تو اس کی تفصیل بھی آپ ضرور اپنے وکیل صاحب کو بتائیں۔

اگر آپ کا بچہ خدانخواستہ کسی خاص بیماری میں مبتلا ہو تو اس پر آنے والے اخراجات کی بابت بھی اپنے وکیل صاحب کو ضرور آگاہ کریں۔ تاکہ آپ کے وکیل صاحب ان تمام امور کو کو مقدمے کا حصہ بنا سکیں۔

✓ دعویٰ دلاپانے سامان جہیز:
اگر آپ سامان جہیز کے دلاپانے کی بابت دعویٰ دائر کر رہے ہیں ہیں تو کوشش کریں کہ اصل فہرست جو بوقت شادی تیار کی گئی ہو سامان کی وہ فہرست وکیل صاحب کو فراہم کریں اور اگر ایسی کوئی فہرست بوقت شادی تیار نہ کی گئی ہو تو آپ تمام سامان جہیز کی فہرست خود تیار کرکے اپنے وکیل صاحب کے حوالے کریں ، جس میں ان تمام اشیاء کی کی قیمت بھی لگائی گئی ہو ہو جو کہ سامان جہیز کا حصہ ہیں ۔

اگر سامان جہیز کی بابت رسیدات آپ کے پاس موجود ہیں ہیں تو وہ بھی اپنے وکیل صاحب کو ضرور فراہم کریں اور اگر رسیدات موجود نہ ہو تو اس سے مقدمہ پر کوئی حرج نہ ہوگا۔

کم از کم ایسے دو افراد کا نام اپنے وکیل صاحب کو بتائیں جن کی موجودگی میں سامان جہیز جیز بوقت رخصتی آپ کو دیا گیا تاکہ ان دو افراد کو کو بطور گواہان عدالت میں طلب کیا جا سکے۔

سامان جہیز کی قیمتیں بڑھا چڑھا کر لکھنے سے گریز کریں کریں جو اصل حقائق پر مبنی قیمت ہو و ہی قیمت لگائیں۔

✓ دعوی دلاپانے خرچہ زچگی:
اسی طرح اگر آپ آپ اخراجات زچگی کی بابت دعویٰ دائر کر رہی ہیں ہیں تو آپ کے پاس ہسپتال میں علاج معالجہ کی بابت تمام رسیدات اور ریکارڈ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہ ہو تو آپ بذریعہ عدالت متعلقہ ہسپتال سے ریکارڈ منگوا سکتی ہیں اور اس ریکارڈ کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

✓ دعویٰ دلاپانے حق مہر:
اگر آپ کا دعوی دلاپانے حق مہر کی نسبت ہے تو جس دستاویز پر پر حق مہر تحریر شدہ ہے وہ دستاویز آپ اپنے ہمراہ لے کر جائیں۔

✓ دعوی تنسیخ نکاح و خرچہ عدت:
جب تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی آپ نے اپنا عدت کا خرچہ بھی مانگنا ہوتا ہے جو کہ تنسیخ نکاح ڈگری ہونے کی صورت میں عدالت ایک خاص تناسب کے ساتھ خرچہ عدت بھی ڈگری فرماتی ہے۔

07/07/2024

یکم جولائی 2024 سے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کا وقت شروع ہو چکا ہے۔

بجٹ 2024-25 میں دیے گئے وقت کے بعد گوشوارے جمع کروانے پر اگلے تین سالوں تک آپ لیٹ یا ڈیلیڈ فائلر کہلوائیں گے اور ساتھ ہی آپکو ڈبل ٹیکس بھی جمع کروانا پڑے گا۔ اور اس بجٹ میں بے تحاشہ ٹیکس بھی بڑھائے گئے ہیں جو کہ گوشوارے لیٹ یا جمع نہ کروانے کی صورت میں نہ صرف بھرنے پڑییں گے بلک آپکی موبائل سم بینک اکاؤنٹ، الیکٹریسٹی اور گیس کے میٹر بھی کٹ جائیں گے اور ری اکٹیویٹ کرواتے ہوئے مہینوں لگ سکتے ہیں۔

لہذا ابھی اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروائیں، آڈٹ ہیوی ٹیکس جرمانے نوٹسز، سم، بینک اکاؤنٹ اور یوٹیلیٹی میٹرز کے بند ہونے کی ٹینشن بچائیں۔

گوشوارے جمع کروانے کے لیے درکار انفارمیشن/دستاویزات

+ سیلری سلپ / پنشن سلپ + ٹیکس ڈیڈکشن سرٹیفیکیٹ
( یکم جولائی 2023 سے جون 2024)

+ تمام بنک اکاؤنٹ، قومی بچت اکاؤنٹ، جاز کیش، ایزی پیسہ، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز وغیرہ کی سٹیٹمنٹ
(1-7-2023 سے 2024-6-30)

+ بیرون ملک بھیجے اور آنے والی رقم کا سرٹیفیکیٹ

+ ہبہ(تحفہ) نامہ، لیے گئے قرض، انشورنس (بیمہ) پالیسی وغیرہ کی سٹیٹمنٹ

+ نوکری کے علاوہ کوئی کاروبار (سرمایہ کاری، نفع و نقصان، اخراجات وغیرہ) کی تفصیل

+ تمام موبائل سمز انٹرنیٹ ،گاڑی، فنکشن ، کیش نکلوانے، یا زمین کی خریدوفروخت پر ادا کیے گئے ٹیکس سرٹیفیکیٹ

+ تمام جائیداد (تحفہ میں ملنے والی، وراثتی، رہائشی، تجارتی، زرعی، پلاٹ وغیرہ) کی تفصیل مثلاً کب کہاں، کتنی زمین اور کتنے کی خریدوفروخت ہوئی

+ موٹر سائیکل، کار، زیورات (سونا)، پرائز بانڈز، گائیں، بھینسیں، گھوڑے، پالتو پرندے و جانور وغیرہ کی تفصیل

+ (تقریباً) سالانہ بچت .Rs اور
سالانہ اخراجات .Rs

عمران ایاز ایڈووکیٹ اینڈ ٹیکس کنسلٹنٹ

0333-5498321
0300-0110173

22/06/2024
26/10/2023

𝐏𝐋𝐉 𝟐𝟎𝟐𝟑 𝐂𝐫. 𝐂 𝟑𝟕𝟏.

𝐀𝐥𝐭𝐡𝐨𝐮𝐠𝐡 𝐚𝐧𝐲 𝐚𝐜𝐜𝐮𝐬𝐞𝐝 𝐨𝐫 𝐰𝐢𝐭𝐧𝐞𝐬𝐬 𝐜𝐚𝐧 𝐜𝐥𝐚𝐢𝐦 𝐨𝐫 𝐚𝐝𝐦𝐢𝐭 𝐩𝐨𝐬𝐬𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧 𝐚𝐧𝐝 𝐮𝐬𝐞 𝐨𝐟 𝐚𝐧𝐲 𝐒𝐈𝐌 "𝐒𝐮𝐛𝐬𝐜𝐫𝐢𝐛𝐞𝐫 𝐈𝐝𝐞𝐧𝐭𝐢𝐭𝐲 𝐌𝐨𝐝𝐮𝐥𝐞 𝐛𝐲 𝐡𝐢𝐦 𝐨𝐫 𝐚𝐧𝐲𝐛𝐨𝐝𝐲 𝐞𝐥𝐬𝐞 𝐚𝐭 𝐭𝐡𝐞 𝐭𝐢𝐦𝐞 𝐨𝐟 𝐨𝐜𝐜𝐮𝐫𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞 𝐨𝐫 𝐚𝐧𝐲 𝐨𝐭𝐡𝐞𝐫 𝐫𝐞𝐥𝐞𝐯𝐚𝐧𝐭 𝐭𝐢𝐦𝐞 𝐲𝐞𝐭 𝐦𝐞𝐫𝐞 𝐬𝐮𝐜𝐡 𝐜𝐥𝐚𝐢𝐦 𝐨𝐫 𝐚𝐝𝐦𝐢𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧 𝐢𝐬 𝐧𝐨𝐭 𝐬𝐮𝐟𝐟𝐢𝐜𝐢𝐞𝐧𝐭 𝐟𝐨𝐫 𝐫𝐞𝐥𝐲𝐢𝐧𝐠 𝐨𝐧 𝐂𝐃𝐑 "𝐂𝐚𝐥𝐥 𝐃𝐚𝐭𝐚 𝐑𝐞𝐜𝐨𝐫𝐝" 𝐨𝐟 𝐬𝐚𝐢𝐝 𝐒𝐈𝐌 𝐛𝐞𝐜𝐚𝐮𝐬𝐞 𝐂𝐃𝐑 𝐨𝐧𝐥𝐲 𝐬𝐡𝐨𝐰𝐬 𝐮𝐬𝐞 𝐨𝐟 𝐒𝐈𝐌 𝐢𝐧 𝐭𝐞𝐫𝐫𝐢𝐭𝐨𝐫𝐢𝐚𝐥/𝐠𝐞𝐨𝐠𝐫𝐚𝐩𝐡𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐣𝐮𝐫𝐢𝐬𝐝𝐢𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 "𝐂𝐞𝐥𝐥 𝐏𝐡𝐨𝐧𝐞 𝐓𝐨𝐰𝐞𝐫" 𝐢𝐧𝐬𝐭𝐚𝐥𝐥𝐞𝐝 𝐛𝐲 𝐭𝐞𝐥𝐞𝐜𝐨𝐦 𝐨𝐩𝐞𝐫𝐚𝐭𝐨𝐫 𝐚𝐧𝐝 𝐝𝐨𝐞𝐬 𝐧𝐨𝐭 𝐝𝐢𝐬𝐜𝐥𝐨𝐬𝐞 𝐭𝐡𝐚𝐭 𝐰𝐡𝐨 𝐢𝐬 𝐚𝐜𝐭𝐮𝐚𝐥𝐥𝐲 𝐞𝐱𝐚𝐜𝐭𝐥𝐲 𝐜𝐚𝐫𝐫𝐲𝐢𝐧𝐠 𝐚𝐧𝐝 𝐮𝐬𝐢𝐧𝐠 𝐬𝐚𝐢𝐝 𝐒𝐈𝐌; 𝐡𝐨𝐰𝐞𝐯𝐞𝐫, "𝐕𝐨𝐢𝐜𝐞 𝐑𝐞𝐜𝐨𝐫𝐝 𝐓𝐫𝐚𝐧𝐬𝐜𝐫𝐢𝐩𝐭" 𝐨𝐫 "𝐄𝐧𝐝 𝐭𝐨 𝐄𝐧𝐝 𝐀𝐮𝐝𝐢𝐨 𝐑𝐞𝐜𝐨𝐫𝐝𝐢𝐧𝐠" 𝐜𝐚𝐧 𝐫𝐞𝐟𝐥𝐞𝐜𝐭 𝐭𝐡𝐞 𝐝𝐞𝐭𝐚𝐢𝐥/𝐢𝐝𝐞𝐧𝐭𝐢𝐟𝐢𝐜𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐮𝐬𝐞𝐫. 𝐓𝐡𝐞𝐫𝐞𝐟𝐨𝐫𝐞, 𝐰𝐢𝐭𝐡𝐨𝐮𝐭 "𝐕𝐨𝐢𝐜𝐞 𝐑𝐞𝐜𝐨𝐫𝐝𝐢𝐧𝐠 𝐓𝐫𝐚𝐧𝐬𝐜𝐫𝐢𝐩𝐭", 𝐦𝐞𝐫𝐞 "𝐂𝐚𝐥𝐥 𝐃𝐚𝐭𝐚 𝐑𝐞𝐜𝐨𝐫𝐝" (𝐂𝐃𝐑) 𝐚𝐥𝐨𝐧𝐞 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐒𝐈𝐌 𝐢𝐬 𝐢𝐧𝐜𝐨𝐧𝐜𝐥𝐮𝐬𝐢𝐯𝐞 𝐩𝐢𝐞𝐜𝐞 𝐨𝐟 𝐞𝐯𝐢𝐝𝐞𝐧𝐜𝐞 𝐫𝐞𝐠𝐚𝐫𝐝𝐢𝐧𝐠 𝐢𝐝𝐞𝐧𝐭𝐢𝐭𝐲 𝐨𝐟 𝐢𝐭𝐬 𝐮𝐬𝐞𝐫/𝐜𝐚𝐫𝐫𝐢𝐞𝐫.

29/07/2023

‏اگر آپ ابھی تک نان فائلر ہیں تو مسلسل اپنا مالی نقصان کررہے ہیں فائلر بننے کے بیشمار مالی فوائد ہیں آج میں آپ کو این ٹی این اور ٹیکس فائل کرنے کے حوالے سے تفصیلی گائیڈ کروں گا۔

ٹیکس ریٹرن سے متعلق لوگوں میں غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اگر ہم فائلر بن گئے تو پتا نہیں کیا ہوجائے گا جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے.

ٹیکس فائل کرنے کیلئے این ٹی این بنیادی عنصر ہے نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) آپ کو کئی سہولتوں کا حقدار بناتا ہے، آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ این ٹی این کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

آپ تنخواہ دار ہیں یا آپ کوئی کاروبار کرتے ہیں آپ ہمارے ذریعے باآسانی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پورٹل پر خود کو رجسٹرڈ کروا سکتے ہیں۔

آپ کا قومی شناختی کارڈ کا نمبر ہی آپ کے این ٹی این کے طور پر ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہوجاتا ہے جس کے بعد آپ باآسانی اپنا انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرسکتے ہیں۔

فائلر بننے کے فوائد

1-پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کی بچت.
2-بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس کی بچت.
3-گاڑیوں کی خریدوفروخت پر ٹیکس کی بچت.
4-ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے انٹرنیشنل پیمنٹ پر ٹیکس کی بچت.
5-قومی سیونگ سرٹیفیکٹ اور پرائز بانڈ پر ٹیکس کی بچت.
6-سیلری انکم پر ٹیکس کی بچت.
7-کاروبار کو رجسٹرڈ کرواکر قانونی دائرے کار لانے پر فوائد حاصل کیجئیے.
8-بینک میں کاروباری اکاونٹ کھلوانے میں آسانی.
9-کمرشل ptcl بجلی ،گیس ، میٹر لگوانے میں آسانی.
10-گورنمنٹ ٹھیکے لینے پر فائلر ہونا شرط.
11-چیمبر اف کامرس کے ممبر کے لئیے فائلر ہونا ضروری.
12-کرائے داری انکم پر مالک کو ٹیکس کی بچت.
13-رئیل اسٹیٹ ،جیولرز ،وکلاء کیلئے DNFBP سرٹیفیکٹ کا اجراء.
14-فری لانسرز'اور آی ٹی سے وابستہ افراد کے لئیے ٹیکس کی چھوٹ.
15-اوورسیز پاکستانیوں کے لئیے فائلر کی صورت میں تیکس میں بھی رعایت ۔۔
16-پراپرٹی کی خریداری پر نان فائلر کے لئے لمٹ کی شرط۔

لیکن اگر آپ اس فیلڈ کے نہیں ہیں تو خود کبھی بھی ٹیکس ریٹرن فائل نہ کریں بلکہ اس کے لئے مستند فرم کی سروس لیں ، اس سلسلے میں آپ ہماری خدمات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔۔ کیونکہ زرا سی غلطی بھی مالی نقصان
کا باعث بھی بن سکتی ہے.

ہماری سروسز اور رابطہ نمبر موجود ہے آپ بھی ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں.

NTN Registration
Filer / Active Status
Property Tax
E-Filing Of Sales Tax Returns
E-Filing Of Annual Income Tax Return
Income Tax Return
Business Registration
Sales Tax Number / GST
Company Registration

Advocate Imran Ayaz
0333-5498321 / 0300-0110173
[email protected]

06/03/2023

فوجداری_مقدمہ_کے_مراحل

(ایف آئی آر سے فیصلہ مقدمہ تک)

ایف آئی آر 𝐅𝐈𝐑:

جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے تو سب سے پہلے پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے اگر وہ جرم قابلِ دست اندازی ہو تو پولیس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟓𝟒 کے تحت 𝐅𝐈𝐑 درج کرتی ہے(قابل دست اندازی جرم وہ ہوتے ہیں ہیں جن میں پولیس کسی بھی ملزم کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے) ایف آئی آر کا مقصد فوجداری قانون کو حرکت میں لانا ہوتا ہے اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو پولیس کے اس عمل کے خلاف آپ 𝐃𝐒𝐏 یا 𝐒𝐏 کو درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر پھر بھی ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی تو جسٹس آف پیس (𝐣𝐮𝐬𝐭𝐢𝐜𝐞 𝐨𝐟 𝐩𝐞𝐚𝐜𝐞) کے پاس پٹیشن (𝐩𝐞𝐭𝐢𝐭𝐢𝐨𝐧) دائر کی جاتی ہے۔ یہ پٹیشن ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟐𝟐𝐀 اور 𝟐𝟐𝐁 کے تحت دائر کی جاتی ہے۔ جسٹس آف پیس کے اختیارات سیشن ججز کے پاس ہی ہوتے ہیں۔ مطلب کہ یہ درخواست سیشن جج (𝐬𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐣𝐮𝐝𝐠𝐞) کے پاس درج کی جائے گی اور وہ پولیس کو 𝐝𝐢𝐫𝐞𝐜𝐭 کرے گا کہ اس وقوعہ کی ایف آئی آر درج کرے۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس استغاثہ (𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐞 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐥𝐚𝐢𝐧𝐭) کا راستہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ کسی بھی جرم (چاہے وہ قابل دست اندازی پولیس ہو یا نہ ہو) کے متعلق علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دی جا سکتی ہے۔

ضمانت قبل از گرفتاری:

ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد اگر شخص سمجھتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور وہ بے گناہ ہے تو وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟒𝟗𝟖 کے تحت سیشن کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے درخواست دائر کر سکتا اور گرفتار ہونے سے بچ سکتا ہے۔

تفتیش:

ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد پولیس دفعہ 𝟏𝟓𝟔 کے تحت اس کے متعلق تفتیش شروع کرتی ہے۔ جائے وقوعہ پر جا کر کر ثبوت اکٹھے کرتی ہے۔ دفعہ 𝟏𝟔𝟏 کے تحت گواہوں کے بیان ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔

ملزمان کی گرفتاری:

پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ دوران تفتیش قابلِ ضمانت یا ناقابلِ ضمانت کیس میں ملزمان کو گرفتار کرے۔ اس کے علاوہ دفعہ 𝟏𝟔𝟗 کے تحت پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کو بے گناہ پا کر چھوڑ بھی سکتی ہے۔
مجسٹریٹ کے سامنے پیشی:
تفتیش کے دوران پولیس 𝟐𝟒 گھنٹوں کے اندر اندر گرفتار شدہ ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کی پابند ہے۔
جب پولیس گرفتار ملزمان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتی ہے تو اس وقت تک کی گئی تفتیش بھی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنی ہوتی ہے اور اگر 𝟐𝟒 گھنٹوں میں تفتیش مکمل نہ کی گئی ہو تو ملزم کے جسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ کی درخواست دی جاتی ہے اور دوسری جانب مجسٹریٹ کے سامنے پیشی پر ملزم ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے درخواست دیتا ہے۔

ریمانڈ:

ریمانڈ دو طرح کا ہوتا ہے۔ جب پولیس نے ملزم سے کوئی برآمدگی کرنی ہو تو وہ دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتی ہے کہ ملزم کو واپس پولیس کے حوالے کیا جائے۔ اگر پولیس کو ملزم کی حراست کی ضرورت نہ ہو تو وہ دفعہ دفعہ 𝟑𝟒𝟒 کے تحت ریمانڈ جوڈیشل کی درخواست کرتی ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی زیادہ سے زیادہ میعاد 𝟏𝟓 دن ہے لیکن مجسٹریٹ کبھی بھی 𝟏𝟓 دن کا ریمانڈ ایک ساتھ نہیں دیتا بلکہ دو دو یا چار چار دن کا ریمانڈ جسمانی دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اب اگر دو دن کا ریمانڈ دیا گیا ہو تو پولیس اس شخص کو دو دن کے بعد دوبارہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گی۔ اس دوران جو بھی تفتیش کی ہوتی ہے وہ مجسٹریٹ کے سامنے رکھے گی اور دوبارہ سے ریمانڈ کے لیے درخواست دے گی۔ اس طرح وقفے وقفے سے مجسٹریٹ ٹوٹل 𝟏𝟓 دن کا جسمانی ریمانڈ پر ملزم کو پولیس کے حوالے کر سکتا ہے لیکن اگر ریمانڈ کی درخواست دیتے وقت مجسٹریٹ کو لگے کہ کہ پولیس نے کوئی خاص تفتیش نہیں کی تو مجسٹریٹ جسمانی ریمانڈ نہیں دیتا بلکہ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیتا ہے۔

ضمانت بعد از گرفتاری:

اب ہم دیکھتے ہیں کہ کہ ایف آئی آر درج ہوگئی ملزم گرفتار ہوا اور ہم نے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔ ملزم اب بعد از گرفتاری ضمانت کیلئے درخواست دائر کرسکتا ہے اور اگر عائد کردہ جرم قابل ضمانت ہو تو ضمانت ملزم کا حق ہے۔ ناقابلِ ضمانت جرم میں اگر ملزم بے گناہ ہو اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو اور مزید تفتیش کی ضرورت ہو تو بھی ملزم کو ضمانت مل سکتی ہے۔

چالان (𝐏𝐨𝐥𝐢𝐜𝐞 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭):

اب اگلا مرحلہ چالان جمع کروانے کا ہوتا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟕𝟑 ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 𝟏𝟒 دن کے اندر اندر مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع کروانا ہوتا ہے اگر 𝟏𝟒 دنوں میں پولیس نے چالان جمع نہیں کرایا تو تین دن کے اندر عبوری چالان جمع کرائے گی۔ مطلب کہ پولیس کے پاس چالان جمع کرانے کے لیے 𝟏𝟒+𝟑 دن کا وقت ہوتا ہے اس دورانیہ میں پولیس نے ہر حال میں مکمل یا نامکمل چالان جمع کرانا ہوتا ہے ( نامکمل چالان اس صورت میں جمع ہوتا ہے جب 𝐟𝐨𝐫𝐞𝐧𝐬𝐢𝐜 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭 تیار نہیں ہوتی اور اس کے آنے میں ابھی وقت ہوتا ہے) تاکہ جتنے بھی ثبوت اکٹھے ہوئے ہیں جتنی بھی تفتیش ہوئی ہے اس کی بنیاد پر عدالت ٹرائل چلا سکے لیکن عدالت کا اختیار ہے کہ وہ مکمل چالان کے بعد بھی ٹرائل شروع کر سکتی ہے۔

چالان کے کالم:

چالان کے 𝟕 کالمز ہوتے ہیں۔ پولیس نے ابھی تک جتنی بھی کارروائی کی ہوتی ہے اس چالان فارم پر لکھتی ہے۔
پہلے کالم میں نام و پتہ مستغیث درج ہوتا ہے
دوسرا کالم اشتہاری ملزمان کا ہوتا ہے
تیسرے کالم میں زیر حراست ملزمان کے کوائف درج ہوتے ہیں چوتھا کالم ان ملزمان کے متعلق ہوتا ہے جو ضمانت پر رہا ہوتے ہیں
پانچویں کالم میں مال مقدمہ کی تفصیل درج ہوتی ہے مثلاً ملزمان سے کوئی ہتھیار یا چرس برآمد ہوئی ہو تو اس کا ذکر ہوتا ہے
چھٹے کالم میں استغاثہ کے گواہان کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ ساتویں کالم میں پوری تفتیش کا خلاصہ لکھا ہوتا ہے۔
چالان کے ساتھ مختلف ڈاکومنٹ بھی لف ہوتے ہیں جن میں ایف آئی آر کی کاپی، میڈیکل رپورٹ، فرد مقبوضگی اور نقشہ موقع شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مستغیث اور گواہان کے بیانات جو کہ پولیس نے 𝟏𝟔𝟏 کے تحت ریکارڈ کیے ہوں شامل ہوتے ہیں۔

مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع ہونے پر اگر مجسٹریٹ کو لگے کہ وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟗𝟎 کے مطابق اس کیس کے ٹرائل کا اختیار رکھتا ہے تو ٹرائل شروع کرتا ہے اور اگر اسے لگے اس کیس میں ٹرائل شروع کرنے کا اختیار سیشن کورٹ کے پاس ہے تو وہ اس کیس کو سیشن جج کے پاس بھیج دیتا ہے۔ ضابطہ فوجداری میں دونوں عدالتوں کے ٹرائل کی الگ الگ وضاحت کی گئی ہے۔ لیکن یہاں ہم ٹرائل کو عام نقظہ نظر سے دیکھیں گے۔

ملزم کو دستاویزات کی فراہمی:

اگر تو ملزمان ضمانت پر رہا ہیں تو پولیس کے ذریعے انہیں بلایا جائے گا اگر تو وہ جیل میں ہیں تو بذریعہ جیل سپرانٹنڈنٹ انہیں بلایا جائے گا۔ جب ملزمان حاضر ہو جاتے ہیں تو چالان، گواہوں کے بیان اور جو بھی متعلقہ ڈاکومنٹ چالان کے ساتھ لف ہوتا ہے ان سب کی کاپیاں بغیر معاوضہ کے انھیں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ڈاکومنٹس فرد جرم عائد ہونے سے کم از کم 𝟕 دن پہلے دینا لازم ہے تاکہ ملزم کو پتہ چل سکے کہ اس کے خلاف کیا کیس ہے اور کیا کیا ثبوت اکٹھے ہو چکے ہیں۔

ٹرائل کا آغاز:

اب ٹرائل کا مرحلہ آتا ہے۔ ٹرائل کا آغاز ملزم پر فرد جرم عائد کرنے سے ہوتا ہے۔ عدالت ملزم کو بتاتی ہے تمہارے اوپر یہ الزام ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ اقبال جرم کرتا ہے یا جوابدہی کرے گا۔ ٹرائل کے دوران اگر تو ملزم اقبال جرم کر لے تو عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس کو سزا سنا دے۔ لیکن اگر عدالت کو لگے کہ وہ جھوٹا اعترافی بیان دے رہا ہے تو عدالت اس کے بیان کو رد بھی کر سکتی ہے۔
اگر ملزم اعترافی بیان نہیں دیتا تو پھر باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوتا ہے اس کے بعد پرازیکیوشن(𝐩𝐫𝐨𝐬𝐞𝐜𝐮𝐭𝐢𝐨𝐧) کے گواہوں کے بیان ریکارڈ ہوتے ہیں اور ملزم کا وکیل ان پر جرح کرتا ہے۔ پرازیکیوشن کے پاس دو طرح کے گواہ ہوتے ہیں ایک تو پرائیویٹ گواہ ہوتے ہیں جو کہ مستغیث کے گواہ ہوتے ہیں مثلاً کہ چشم دید گواہ وغیرہ۔ دوسرے پولیس کے گواہ ہوتے ہیں جیسا کہ ایف آئی آر درج کرنے والا پولیس افسر۔
جب پرازیکیوشن کے گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو جاتے ہیں اس کے بعد ملزم کا 𝟑𝟒𝟐 کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ جو کہ ہر حال میں لازم ہے۔ ملزم سے مختلف سوال پوچھے جاتے ہیں مثلاً اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے خلاف یہ کیس کیوں بنایا گیا ہے یہ گواہ آپ کے خلاف گواہی کیوں دے رہے ہیں۔ ملزم ان سوالوں کا عموماً یہ ہی جواب دیتا ہے کہ میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا اور میں بے گناہ ہوں۔ اس کے علاوہ ملزم سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ اپنی صفائی میں کوئی ڈاکومنٹ یا کوئی گواہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ان سوالوں میں ایک سوال یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ کیا وہ اپنے حق میں گواہی دینا چاہتا ہے اگر وہ کہے کہ میں اپنا گواہ بنتا ہوں تو 𝟑𝟒𝟎 کے تحت وہ حلف اٹھا کر اپنے ہی گواہ کے طور پر پیش ہوتا ہے اور بیان دیتا ہے اور پرازیکیوشن اس پر جرح کرتی ہے۔ لیکن عام طور پر ملزمان 𝟑𝟒𝟎 کے تحت اپنا ہی گواہ نہیں بنتے اور نہ ہی اپنے حق میں کوئی گواہ پیش کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ اپنا ہی گواہ خود بنے یا اپنے حق میں کوئی اور گواہ پیش کرے تو مخالف وکیل کو اس پر اور اس کے گواہ پر جرح کا حق ہوگا اور اس جرح میں ملزم پھنس سکتا ہے۔

بحث:

اب اگلا مرحلہ آرگومنٹ کا آتا ہے دونوں اطراف سے دونوں پارٹیز کے وکیل بحث کرتے ہیں۔

فیصلہ:

عدالت کیس کے متعلق فیصلہ سناتی ہے۔ فیصلہ کے لیے ضروری ہے کہ جج پہلے اسے لکھے اور پھر اس فیصلے کو عدالت میں سنائے۔ فیصلہ میں مجرم کو بری کر دیا جاتا ہے یا سزا سنائی جاتی ہے۔ اگر تو فیصلہ اس کی سزا کا ہے تو ملزم کو اپیل دائر کرنے کے لیے اس فیصلہ کی ایک نقل بلا اجرت دی جاتی ہے۔

14/02/2023

QSO, 1984, Articles in Alphabetics Research By Muhammad Khurram
-------------------------------------
Acceptance or denial of claim on oath. 163.
Accomplice:- 16.
Accused persons to be liable to cross-examination:- 44.
Admission by party to proceeding or his agent, etc:- 31.
Admission by persons expressly referred to by party to suit:- 33.
Admission by persons whose position must be proved as against party to suit:- 32.
Admission defined:- 30.
Admission not conclusive proof but may estopp:- 45.
Admission of ex*****on by party to attested document:- 81.
Admissions in civil cases when relevant:- 36.
Article 9 to apply to interpreters, etc:- 10.
Birth during marriage conclusive proof of legitimacy:- 128.
Burden of proof as to ownership:- 126.
Burden of proof as to particular fact:- 119.
Burden of proof as to relationship in the cases of partners, landlord and tenant, principal and agent:- 125.
Burden of proof. 117.
Burden of proving death of person known to have been alive within thirty years:- 123.
Burden of proving fact especially within knowledge:- 122.
Burden of proving fact to be proved to make evidence admissible:- 120.
Burden of proving that case of accused comes within exceptions:- 121.
Burden of proving that person is alive who has not been heard of for seven years:- 124.
Cases in which secondary evidence relating to document may be given. 76.
Cases in which statement of relevant fact by person who is dead or cannot be found, etc., is relevant:- 46.
Certified copies of public documents:- 87.
Certified copy of documents thirty years old. 101.
Character as affecting damages:- 69.
Communications during marriage:- 5.
Comparison of signature, writing or seal with others admitted or proved. 84.
Competence and number of witnesses:- 17.
Confession by accused while in custody of police not to be proved against him:- 39.
Confession caused by inducement, threat or promise, when irrelevant in criminal proceedings:- 37.
Confession made after removal of impression caused by inducement, threat or promise, relevant:- 41.
Confession otherwise relevant not to become irrelevant because of promise of secrecy, etc:- 42.
Confession to police officer not to be proved:- 38.
Confidential communications with legal advisors:- 12.
Consideration of proved confession affecting person making it and others jointly under trial for same offence:- 43.
Court may presume existence of certain facts:- 129.
Court to decide when question shall be asked and when witness compelled to answer:- 143.
Cross-examination as to previous statements in writing:- 140.
Cross-examination of person called to produce a document:- 134.
Entries in books of account when relevant:- 48.
Estoppel of acceptor of bill of exchange, bailee or licensee:- 116.
Estoppel of tenant and of licensee of person in possession:- 115.
Estoppel:- 114.
Evidence as to affairs of State:- 6.
Evidence as to application of language to one of two sets of facts to neither of which the whole correctly applies:- 107.
Evidence as to application of language which can apply to one only, of several persons:- 106.
Evidence as to document unmeaning in reference to existing facts:- 105.
Evidence as to matters in writing:- 139.
Evidence as to meaning of illegible characters, etc:- 108.
Evidence may be given of facts-in-issue and relevant facts:- 18.
Evidence of terms of contracts, grants and other disposition of property reduced to form of documents:- 102.
Examination-in-chief, etc:- 132.
Exclusion of evidence against application of document to existing facts:- 104.
Exclusion of evidence of oral agreement:- 103.
Exclusion of evidence to contradict answers to questions testing veracity. 149.
Existence of course of business when relevant:- 29.
Fact judicially noticeable need not be proved:- 111.
Facts admitted need not be proved. 113.
Facts bearing on question whether act was accidental or intentional:- 28.
Facts bearing upon opinions of experts:- 60.
Facts necessary to explain or introduce relevant facts:- 22.
Facts of which Court must take judicial notice:- 112.
Facts relevant when right or custom is in question:- 26.
Facts showing existence of state of mind, or of body, or bodily feeling. 27.
Facts which are the occasion, cause or effect of facts-in-issue:- 20.
Former statements of witness may be proved to corroborate later testimony as to same fact:- 153.
Fraud or collusion in obtaining judgment, or incompetency of Court, may be proved:- 58.
Giving, as evidence, of document called for and produced on notice:- 159.
Grounds of opinion when relevant:- 65.
How much of information received from accused may be proved:- 40.
Impeaching credit of witness:- 151.
In civil cases character to prove conduct imputed irrelevant:- 66.
In criminal cases previous good character relevant:- 67.
In suits for damages facts tending to enable Court to determine amount are relevant:- 25.
Indecent and scandalous question:- 146.
Information as to commission of offences:- 8.
Interpretation:- 2.
Judge to decide as to admissibility of evidence:- 131.
Judge’s power to put question or order production:- 161.
Judges and Magistrates:- 4.
Judgments, etc., other than those mentioned in Articles 54 to 56, when relevant:- 57.
Leading questions:- 136.
Motive, preparation and previous or subsequent conduct:- 21.
No new trial for improper admission or rejection of evidence:- 162.
Official communications: 7.
On whom burden of proof lies:- 118.
Opinion as to existence of right or custom, when relevant:- 62.
Opinion as to hand-writing when relevant:- 61.
Opinion as to usages, tenets, etc., when relevant:- 63.
Opinion on relationship when relevant:- 64.
Opinions of experts:- 59.
Oral evidence must be direct:- 71.
Order of examinations:- 133.
Order of production and examination of witnesses:- 130.
Order to override other laws:- 165.
Presumption as to books, maps and charts:- 97.
Presumption as to certified copies of foreign judicial records:- 96.
Presumption as to collections of laws and reports of decision:- 94.
Presumption as to documents produced as record of evidence:- 91.
Presumption as to documents thirty years old:- 100.
Presumption as to due ex*****on, etc., of documents not produced:- 99.
Presumption as to genuineness of certified copies:- 90.
Presumption as to genuineness of documents kept under any law:- 92.
Presumption as to maps or plans made by authority of Government:- 93.
Presumption as to powers-of-attorney:- 95.
Presumption as to telegraphic messages:- 98.
Previous bad character not relevant, except in reply:- 68.
Previous judgments relevant to bar a second suit or trial:- 54.
Primary evidence:- 73.
Private documents:- 86.
Privilege not waived by volunteering evidence:- 11.
Procedure of Court in case of question being asked without reasonable grounds:- 145.
Procedure of Court in cases of defamation, libel and slanders:- 147.
Production of document:- 158.
Production of documents which another person, having possession, could refuse to produce:- 14.
Production of evidence that has become available because of modern devices, etc:- 164.
Production of title-deed of witness, not a party:- 13.
Professional communications:- 9.
Proof good faith in transactions where one party is in relation of active confidence:- 127.
Proof of admissions against persons making them, and by or on their behalf:- 34.
Proof of contents of documents:- 72.
Proof of document not required by law to be attested:- 83.
Proof of documents by primary evidence:- 75.
Proof of documents by production of certified copies:- 88.
Proof of electronic signature and electronic document.— 78-A
Proof of ex*****on of document required by law to be attested:- 79.
Proof of facts by oral evidence:- 70.
Proof of other public documents:- 89.
Proof of signature and handwriting of person alleged to have signed or written document produced:- 78.
Proof when attesting witness denies the ex*****on:- 82.
Proof where no attesting witness found:- 80.
Public documents:- 85.
Question by party to his own witness:- 150.
Question not to be asked without reasonable grounds:- 144.
Questions intended to insult or annoy:- 148.
Questions lawful in cross-examination:- 141.
Questions tending to corroborate evidence of relevant fact admissible:- 152.
Refreshing memory:- 155.
Relevance of information generated received or recorded by automated information system:- 46A.
Relevancy and effect of judgments, orders or decrees, other than those mentioned in Article 55:- 56.
Relevancy of certain evidence for proving, in subsequent proceedings, the truth of facts therein stated:- 47.
Relevancy of certain judgments in probate, etc., jurisdiction:- 55.
Relevancy of entry in public record made in performance of duty:- 49.
Relevancy of facts forming part of same transaction:- 19.
Relevancy of statements as to any law contained in law-books:- 52.
Relevancy of statements as to facts of public nature, contained in certain Acts or notifications:- 51.
Relevancy of statements, in maps, charts and plans:- 50.
Repeal:- 166.
Right of adverse party as to writing used to refresh memory:- 157.
Rules as to notice to produce. 77.
Saving of provisions of Succession Act relating to wills:- 110.
Secondary evidence:- --- 74.
Short title, extent and commencement:- 1.
Testimony to facts stated in document mentioned in Article 155:- 156.
Things said or done by conspirator in reference to common design.— 23.
Using, as evidence, of document production of which was refused on notice:- 160.
What evidence to be given when statement forms part of a conversation, document, book or series of letters of papers:- 53.
What matters may be proved in connection with proved statement relevant under Article 46 or 47:- 154.
When facts not otherwise relevant become relevant:- 24.
When leading questions may be asked:- 138.
When leading questions must not be asked:- 137.
When oral admissions as to contents of documents are relevant:- 35.
When witness to be compelled to answer:- 142.
Who may give evidence of agreement varying terms of document. 109.
Who may testify:- 3.
Witness not excused from answering on ground that answer will criminate. 15.
Witnesses to character:- 135.

02/02/2023

تفتیش مقدمہ، اخراج رپورٹ، پولیس اور علاقہ مجسٹریٹ کے اختیارات اور ذمہ داریوں کے بارے لاہور ہائیکورٹ کا انتہائی معلوماتی فیصلہ۔

Chapter XIV (sections 154 to 176) of the Code of Criminal Procedure (hereinafter referred to as the “Code” or “Cr.P.C.”) sets out the law for dealing with information relating to the commission of offences. Section 154 Cr.P.C. addresses cognizable and section 155 non-cognizable offences. Section 155(2) prohibits a police officer from investigating a noncognizable case without a Magistrate’s order while Section 156 confers extensive powers on him concerning cognizable offences. A police officer in-charge of a police station can investigate such offences even without a Magistrate’s order. Section 156(3) allows any Magistrate authorized under section 190 to order an investigation. When a cognizable offence is suspected, the officer in-charge of a police station, after sending a report to the Magistrate, has the authority under section 157 to investigate the facts and circumstances of the case and take action to track and apprehend the offender. Proviso (b) to section 157(1) gives the police officer the discretion not to investigate the matter if he considers that the evidence is insufficient to warrant an investigation. Section 158 lays down the procedure for submitting reports under section 157. Section 159 empowers a Magistrate to hold an investigation or preliminary inquiry after such report or otherwise dispose of the case in accordance with the Code. Sections 160 to 163 deal with the police’s authority to summon witnesses and examine and record their statements. Sections 165 and 166 deal with the power of police officers to conduct searches during an investigation in specified circumstances. Section 167 stipulates the procedure the police must follow if they cannot complete the investigation within 24 hours. Section 168 states that if a subordinate police officer investigates a matter, he must communicate the result to the officer in-charge of a police station. Section 169 allows a police officer investigating a crime to release an accused from custody when there is insufficient evidence against him, provided that he executes a bond to appear before a Magistrate, if and when required. Section 170 ordains the officer in-charge of a police station to send up the accused person in custody to the competent Magistrate for trial if sufficient incriminating evidence is gathered against him during the investigation under Chapter XIV. If the offence is bailable and the accused can furnish security, he should accept it for his appearance before the Magistrate. Section 172 obligates the police officer investigating a case to maintain a diary recording certain details in a specified manner. Section 173 mandates the investigation be completed without undue delay and directs the officer in-charge of the police station to submit a report to the Magistrate concerned (through the public prosecutor) within the time frame and the format prescribed by the Provincial Government.

The Code does not contain any specific provision for cancelling criminal cases.Rules 24.7 and 25.7 of the Police Rules lay down the procedure for cancelling criminal cases.
Chapter 11, Part-D of Volume III of the Lahore High Court Rules & Orders supplements the above provisions. 10. Rule 25.57 deals with closing the investigation and the final report.
It is important to note that the expression “cancellation report” does not occur in either the Code or Police Rules. Section 173 Cr.P.C. refers to “a report,” whereas Rules 24.7 and 25.57 of the Police Rules use the phrase “final report.” The High Court Rules & Orders, supra, use the same terminology. However, sections 9, 12 & 13 of the Punjab Criminal Prosecution Service (Constitution, Functions and Powers) Act, 2006, employ the wording “a report for cancellation of the first information report.” The Rule 10 of the Punjab Anti-Corruption Establishme

Address

1 Turner Road
Lahore
54000

Telephone

+923335498321

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imran Ayaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Imran Ayaz:

Share

Services

Ayaz Law Associates is first Pakistani reputed law firm that provides all legal services under one roof and we operate in all cities within Pakistan and outside the Pakistan.

Civil & Family Laws

Criminal Laws

Income Tax Returns