11/08/2026
اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی شق نمبر ایک پاکستان کے لیے نئے صوبے اور نیا انتظامی ڈھانچہ
(تجویز کردہ آئینی مسودہ)
باب اول: ریاست کا انتظامی ڈھانچہ
پاکستان ایک وفاقی، جمہوری اور آئینی ریاست ہوگا، جس میں مضبوط وفاق، بااختیار صوبے اور مکمل خودمختار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے گا۔ تمام ریاستی ادارے آئین کے تابع ہوں گے۔
باب دوم: نئے صوبے
بہتر انتظام، متوازن ترقی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ملک کو انتظامی بنیادوں پر درج ذیل صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
پنجاب
1. شمالی پنجاب
2. سنٹرل پنجاب
3. جنوبی پنجاب
4. پوٹھوہار
5. بہاولپور
سندھ
6. کراچی
7. حیدرآباد
8. میرپورخاص
9. سکھر
10. لاڑکانہ
خیبر پختونخوا
11. پشاور
12. ہزارہ
13. ملاکنڈ
14. ڈیرہ اسماعیل خان
بلوچستان
15. کوئٹہ
16. مکران
17. ژوب
18. قلات
دیگر وفاقی اکائیاں
19. گلگت بلتستان
20. آزاد جموں و کشمیر (آئینی و سیاسی اتفاقِ رائے کے مطابق)
باب سوم: صدرِ مملکت
* صدر ریاست، وفاق اور آئین کی علامت ہوگا۔
* صدر کا انتخاب براہِ راست عوام کریں گے۔
* صدر وفاقی حکومت کا سربراہ ہوگا۔
* وفاقی کابینہ صدر کے ماتحت کام کرے گی۔
* صدر قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور وفاقی اداروں کا نگران ہوگا۔
باب چہارم: وفاقی کابینہ
* تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ وفاقی کابینہ کے رکن ہوں گے۔
* ہر وزیراعلیٰ اپنے صوبے کے معاملات میں بااختیار ہوگا لیکن قومی و وفاقی معاملات میں صدر کو جواب دہ ہوگا۔
* قومی پالیسی سازی میں تمام وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم رہے۔
باب پنجم: گورنر
* ہر صوبے میں ایک گورنر ہوگا جو وفاق اور صدرِ مملکت کا نمائندہ ہوگا۔
* گورنر آئین کے نفاذ اور وفاقی پالیسی پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔
* اگر کوئی وزیراعلیٰ آئین کی خلاف ورزی کرے یا اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا نہ کرے تو گورنر، صدر کی منظوری سے، آئینی طریقۂ کار کے مطابق وزیراعلیٰ کو معزول کرنے کی سفارش یا اقدام کر سکے گا، جس کا عدالتی جائزہ وفاقی آئینی عدالت میں لیا جا سکے گا۔
⸻
باب ششم: وفاقی مقننہ
* قومی اسمبلی ختم کر دی جائے۔
* سینیٹ واحد وفاقی قانون ساز ایوان ہوگا۔
* تمام وفاقی قوانین، بجٹ اور آئینی ترامیم سینیٹ سے منظور ہوں گی۔
* سینیٹرز کا انتخاب صوبائی اسمبلیاں اوپن بیلٹ کے ذریعے کریں گی۔
⸻
باب ہفتم: صوبائی حکومت
* ہر صوبے میں منتخب صوبائی اسمبلی ہوگی۔
* وزیراعلیٰ کا انتخاب صوبائی اسمبلی کے اراکین کریں گے۔
* صوبائی کابینہ صوبے کے انتظامی امور چلائے گی۔
⸻
باب ہشتم: وفاقی آئینی عدالت
* وفاقی آئینی عدالت ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت ہوگی۔
* یہی ادارہ سپریم کورٹ کا آئینی کردار ادا کرے گا۔
* آئین کی تشریح، بنیادی حقوق کے تحفظ اور وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات کا حتمی فیصلہ اسی عدالت کے پاس ہوگا۔
باب نہم: بلدیاتی نظام
* ہر ضلع میں ضلع ناظم براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوگا۔
* ڈپٹی کمشنر (DC) ضلع ناظم کے ماتحت انتظامی افسر ہوگا۔
* ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) ضلع ناظم کے ماتحت ضلعی امن و امان کے انتظام میں کام کرے گا، جبکہ پولیس کے پیشہ ورانہ اور قانونی اختیارات آئین اور قانون کے مطابق محفوظ رہیں گے۔
* تحصیل ناظم اور یونین کونسل کا نظام آئینی تحفظ کے ساتھ قائم ہوگا۔
* ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ براہِ راست بلدیاتی اداروں کو منتقل کیا جائے گا۔
باب دہم: بنیادی اصول
1. مضبوط وفاق، بااختیار صوبے۔
2. طاقتور اور آئینی بلدیاتی نظام۔
3. تیز، شفاف اور غیر سیاسی احتساب۔
4. آزاد وفاقی آئینی عدالت۔
5. اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی۔
6. تمام ریاستی ادارے آئین اور قانون کے تابع ہوں گے۔