AB Law Associate

AB Law Associate COOPERATE TAX CONSULTANT

23/08/2026

لائف سرٹیفکیٹ گھر بیٹھے حاصل کریں۔

22/08/2026
سسٹم مینٹیننس کی وجہ سے ایف بی ار کی سائیڈ بند رہے گی08-Aug-26 TO 10-Aug-26
08/08/2026

سسٹم مینٹیننس کی وجہ سے ایف بی ار کی سائیڈ بند رہے گی
08-Aug-26 TO 10-Aug-26

07/08/2026

*"پچھلے سال تو 2 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس سال اتنی فیس کیوں؟*

*یہ سوال صرف ایک کلائنٹ کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں ٹیکس ریٹرن کے بارے میں موجود ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے*

*لوگ اکثر ریٹرن فائل کرواتے وقت صرف فیس دیکھتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی ریٹرن میں کیا ڈکلیئر کیا جا رہا ہے، کیا چھوڑا جا رہا ہے اور مستقبل میں اس کے قانونی نتائج کیا ہو سکتے ہیں*

*میرے پاس اب تک جتنی ریٹرنز ریویو اور درستگی کے لیے آئیں، ان میں اکثر میں بنیادی غلطیاں موجود تھیں*

*کسی کے Assets درست ڈکلیئر نہیں تھے، کسی کے مکمل Assets ظاہر نہیں کیے گئے، کسی کی Wealth Statement میں مطابقت نہیں تھی، کسی کی آمدن اور اخراجات کا حساب درست نہیں تھا، جبکہ بعض کیسز میں گزشتہ سالوں کا ریکارڈ بھی صحیح طریقے سے carry forward نہیں کیا گیا تھا*

*افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی افراد کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنا ٹیکس ریکارڈ خراب کر رہے ہیں*

*صرف اس لیے کہ کسی نے پچھلے سال 2 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریٹرن درست، مکمل یا قانونی طور پر محفوظ بھی تھی*

*Income Tax Return in not only a form*
*یہ آپ کی آمدن، اثاثہ جات، سرمایہ کاری، اخراجات اور مالی حیثیت کا سرکاری ریکارڈ ہے۔*

*آج چند ہزار روپے کی فیس بچانے کے لیے اگر آپ غلط یا نامکمل ریٹرن فائل کروا لیتے ہیں، تو کل یہی غلطی Tax Notice، Audit، Wealth Reconciliation یا Assets کے ذرائع کی وضاحت کی صورت میں آپ کے لیے کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہو سکتی ہے*

*سستی ریٹرن اور درست ریٹرن میں فرق سمجھیں۔*

*ایک ذمہ دار Tax Professional کا کام صرف ریٹرن submit کرنا نہیں، بلکہ کلائنٹ کے مکمل ٹیکس پروفائل، Assets، Wealth Statement اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے درست اور ذمہ دارانہ طریقے سے ریٹرن تیار کرنا ہے۔*

*اپنے ٹیکس ریکارڈ کو چند ہزار روپے کے لیے خطرے میں نہ ڈالیں۔*

*کم فیس نہیں، درست اور محفوظ ٹیکس کمپلائنس کو ترجیح
دیں۔*

27/07/2026

*اہم اطلاع برائے معزز ٹیکس دہندگان*
تمام معزز کلائنٹس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ *انکم ٹیکس ریٹرن 2026* جمع کروانے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔
📝 آپ سے گزارش ہے کہ اپنی متعلقہ معلومات اور ضروری دستاویزات *جلد از جلد واٹس ایپ* کر دیں تاکہ آپ کی ریٹرن بروقت، درست اور بغیر کسی دشواری کے تیار کی جا سکے۔
ایف بی آر نے اس سال ٹیکس ریٹرن کا طریقہ کار پہلے کی نسبت زیادہ تفصیلی اور پیچیدہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ریٹرن کی تیاری میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
✅ بروقت ریٹرن جمع کروائیں اور غیر ضروری جرمانوں، نوٹسز اور دیگر قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رہیں۔
آپ کے اعتماد اور تعاون کا تہہِ دل سے شکریہ۔ 🤝
*ٹیکس ریٹرن 2026 جمع کروانے اور فائلر بننے کے لیے درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں۔*

25/07/2026

ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق ٹیکس سال 2026 کا انکم ٹیکس ریٹرن پیر، 27 جولائی 2026 سے آن لائن پورٹل پر جمع کروانے کے لیے دستیاب ہوگا۔

اگر آپ ٹیکس ریٹرن جمع کروانا چاہتے ہیں تو بروقت تیاری مکمل رکھیں اور آخری تاریخ کا انتظار نہ کریں۔

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: فیکٹری تعمیرات میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر Input Tax ایڈجسٹمنٹ نہیں ملے گی۔۔۔اسلام...
18/07/2026

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ:
فیکٹری تعمیرات میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر Input Tax ایڈجسٹمنٹ نہیں ملے گی۔۔۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ فیکٹری، گودام یا دیگر غیر منقولہ عمارت (Immovable Property) کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر تعمیراتی سامان پر ادا کیا گیا Input Tax قابلِ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے
Commissioner Inland Revenue, LTU Karachi
v.
M/s Bawany Sugar Mills Ltd.

۔(Civil Appeal No. 939 of 2018) میں فیصلہ سناتے ہوئے محکمۂ ان لینڈ ریونیو کا مؤقف درست قرار دیا اور ATIR و ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم کرتے ہوئے Order-in-Original بحال کر دیا۔

مقدمے کے مطابق ٹیکس دہندہ نے جولائی تا دسمبر 2013 کے دوران فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر Input Tax ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا تھا۔

محکمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سامان غیر منقولہ جائیداد کا حصہ بن جاتا ہے، اس لیے اس پر Input Tax Adjustment کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Sales Tax Act, 1990 کے تحت سیلز ٹیکس قابلِ ٹیکس اشیاء (Taxable Goods) کی سپلائی پر لاگو ہوتا ہے، جبکہ فیکٹری کی عمارت اور دیگر غیر منقولہ جائیداد ایسی ٹیکس ایبل سپلائی نہیں جس سے Output Tax پیدا ہو۔

لہٰذا ایسی تعمیرات میں استعمال ہونے والا سامان Input Tax ایڈجسٹمنٹ کے لیے اہل نہیں۔ عدالت نے Section 8(1)(h) اور S.R.O. 450(I)/2013 کا حوالہ دیتے ہوئے اس قانونی پوزیشن کی توثیق کی۔

عدالت نے Section 73 کے حوالے سے بھی واضح کیا کہ مقررہ بینکنگ چینل کے ذریعے ادائیگی Input Tax کے دعوے کے لیے لازمی شرط ہے۔ اگر ادائیگی قانون کے مطابق بینکنگ ذرائع سے ثابت نہ ہو تو Input Tax کا دعویٰ مسترد کیا جا سکتا ہے، چاہے لین دین حقیقی ہی کیوں نہ ہو۔

سپریم کورٹ نے ایک اہم قانونی اصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ "قانون کے خلاف کوئی Estoppel نہیں ہوتا"۔ اگر کسی مقدمے میں محکمہ یا فریق کا وکیل کسی قانونی نکتے پر رعایت دے بھی دے تو عدالت اس کی پابند نہیں ہوتی، کیونکہ قانون کی درست تشریح کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے۔

اہم نکات:
غیر منقولہ جائیداد کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر تعمیراتی سامان پر Input Tax ایڈجسٹمنٹ دستیاب نہیں۔

۔Section 73 کے تحت Banking Channel کے ذریعے ادائیگی لازمی شرط ہے۔

قانون کے خلاف کسی قسم کا Estoppel قابلِ قبول نہیں۔

حوالہ: Commissioner Inland Revenue, LTU Karachi v. M/s Bawany Sugar Mills Ltd.، Civil Appeal No. 939 of 2018، سپریم کورٹ آف پاکستان، فیصلہ مورخہ 17 جولائی 2026۔

Address

Lahore
54000

Telephone

+923244111125

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AB Law Associate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to AB Law Associate:

Shortcuts

Share