Humane Law Consultants

Humane Law Consultants Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Humane Law Consultants, Legal, First floor, Jalal Centre, opposite OPD Ganga Ram hospital, Mozang Road, Lahore.

کافی دن ہو گئے سن پنجابی نئیں سی بولی تے فیر اچانک ایڈنبرگ سکاٹ لینڈ وچ اک سردار جی نظر آئے جیڑے نیویارک توں آئے ہوئے سن...
26/10/2024

کافی دن ہو گئے سن پنجابی نئیں سی بولی تے فیر اچانک ایڈنبرگ سکاٹ لینڈ وچ اک سردار جی نظر آئے جیڑے نیویارک توں آئے ہوئے سن اودے نال مل کے رج کے پنجابی یعنی اپنی ماں بولی بولن دا سواد آ گیا۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Ameen Haraj, Rana Ayaz Rajput, Akhtar Padda Asc, Adv Safd...
29/07/2024

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Ameen Haraj, Rana Ayaz Rajput, Akhtar Padda Asc, Adv Safdar Ali, Umer Farooq, Teklu Getachew, Muhammad Tahir Rasheed, Altamash Khan, Sadheer Sadheer, Malik Fida Hussein Lang, Abid Anjum, Zafar Ali Mari, Kifayat Ali, Nazr Nazr, Abdul Qadeer Q S, Haider Ali, M. Ismail Narejo, Umesh Sahani

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Muhammad Akram, Asim Ghani, G Moheuddin Jatoi, دلاور خاں ...
22/05/2024

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Muhammad Akram, Asim Ghani, G Moheuddin Jatoi, دلاور خاں بلوچ ایڈوکیٹ, Attaullah Atif Khanzada, Adv Nasir Ahmad Khan, Ahmed Hussain Rush, Mir Asshiq, Javed Ali, Sirzafy Khany, Waqas Paracha, Shubii Khattak

06/06/2020
09/02/2020
27/08/2019

😍آخری قسط 😍
جب ہم جیپ کی طرف چل رہے تھے تو بار بار مڑ مڑ کے پیچھے دیکھ رہے تھے کہ اتنی خوبصورت اور پر فضا جگہ کہ جس کو الفاظ میں بیان کرنا نہایت مشکل ہے خیر شہداء کی یادگار کے قریب آ کر رک گئے اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے اور کشمیر کی آزادی کے لئے اور اپنی افواج کے لئے بھی دعا کی اور نیم دلی سے ڈرائیور اکبر حسین کو آواز دی جیپ میں سوار ہو لر روانہ ہوئے اور ڈومیل کیمپ میں اکبر حسین نے گاڑی روک دی اور کہنے لگا صاحب آپ کو اچھی سی جلیبیاں کھلاتا ہوں میں اور میرا بیٹا جیپ سے اترے اور ہم بھی کینٹین پر چلے گئے وہاں پر فوجی جوانوں سے ملاقات بھی ہوئی اور انہوں نے وہاں سے دور ایک پہاڑ کی طرف جانب مشرق اشارہ کیا کہ وہ انڈیا کا علاقہ ہے اور ان کی چوکی بھی وہاں پر ہے اور اس کے بالکل سامنے اونچے پہاڑ پر ہماری پوسٹ ہے اور ایک جوان نے بتایا کہ وہ 8 ماہ اوپر ڈیوٹی کر کے آیا ہے وہاں کھانے پینے کی اشیاء کے ڈھیر لگے ہوئے تھے جو کہ اب بذریعہ خچر سردیوں کے لئے اگلی پوسٹوں پر بھیج دیئے جائیں گے کیونکہ کچھ ایام کے بعد راستے بوجہ برفباری بند ہو جائیں گے اسی اثناء میں اکبر حسین جلیبیاں اور سموسے لیکر آگیا اور ہم ان جوانوں کو مل کر چل پڑے گرمآ گرم جلیبیاں اورسموسے کھانے سے اپنی پرانی انارکلی یاد آگئی ۔ بیگم صاحبہ نے ڈرائیور سے کہا کہ دریا کے کنارے صبح جہاں رکے تھے وہیں گاڑی لے چلو وہاں جا کر دریا کے کنارے دوبارہ آگ جلا کر بیگم صاحبہ نے انتہائی لذیذ بریانی کم از کم دو گھنٹوں میں تیار کی اور سب نے ملکر ان کی معاونت کی ۔ اس طرح کرتے کراتے شام کے وقت منی مرگ بریگیڈز ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے اور ڈرائیور سے کہا کہ صبح 6 بجے واپسی کے لئے روانہ ہوں گے بعد از عشاء سو گئے اور علی الصبح سب اٹھ کر سامان کی پیکنگ کرنے لگ گئے اور طے یہ ہوا کہ ناشتہ چلم جا کے نبی احمد کے ہاتھ کا کیا جائے پورے 6 بجے دروازے پر اٹینڈنٹ مدثر موجود تھا اور کہنے لگا کہ گاڑی باھر لگا دی گئی ہے اور سامان لے جا کر اس نے جیپ میں رکھنا شروع کر دیا میں نے اس سے کیپٹن طاہر کے بارے میں پوچھا کہ میں نے ان سے الوداعی ملاقات کرنی ہے تو اس نے بتایا کہ وہ رات دیر تک ڈیوٹی پر تھے اور اب سو رہے ہیں ۔ لہذا ان سے ملاقات کئے بغیر ہی روانہ ہو گئے لیکن وہاں موجود عملے نے ہمیں پرتپاک طریقے سے رخصت کیا ہم جیپ میں ہچکولے کھاتے کھاتے بروزل ٹاپ پر پہنچے جہاں پر برفباری ہو رہی تھی اور فوجی جوان snow suit میں ملبوس مستعدعی سے اپنے فرائض ادا کر رہا تھا 15 منٹ ہم وہاں پر رک کر برفباری سے لطف اندوز ہونے کے بعد چل پڑے اور 9 بجے چلم پہنچ گئے وہاں نبی احمد نے بتایا کے انڈے پورے چلم میں نہ ہیں لہذا ناشتے میں چنے پراٹھے ملیں گے جس پر بیگم صاحبہ نے اپنے پاس سے نبی احمد کو انڈے دیے جس نے فوری طور پر ناشتہ تیار کیا اور ناشتے کے بعد ہم واپسی کے لئے روانہ اپنی BRV میں سوار ہو کر چل پڑے استور سے پہلے ایک گاوں جس کا نام پکورا ہے میں ایک خاتون خوبانیاں باغ سے توڑ کر سڑک کی طرف آ رہی تھی جس نے میری بیگم کو رکنے کا اشارہ کیا جو ہم رک گئے تو اس خاتون نے ساری خوبانیاں ہمیں دے دیئں جو کم از کم 8 یا 19 کلو تھیں اور ان کے عوض پیسے بھی نہ بتائے محض یہ کہے کہ مہمان مہمان جس سے اندازہ ہوا کہ اس کو اردو نہیں آتی اس پر بیگم صاحبہ نے نہایت دانشمندی سےاس خاتون سے 1 کلو کے قریب خوبانیاں لیں اور اس کے بچوں کو کچھ چیزیں اور پیسے دیے جس پر وہ بچے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے ۔ ہم نے اپنا سفر جاری رکھا اور شنگریلا ریسٹورنٹ رائے کوٹ برج سے لنچ کیا اور ناران قریب 8 بجے پہنچنے پر میں نے یہاں رات گزارنے کا عزم ظاہر کیا لیکن بچوں نے کہا کہ اب ہم یہاں رک کر ساری سیر کا مزہ کرکرا نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ناران اور مری کو لوگوں نے گندہ کر دیا ہوا ہے اور بچے BRV کی پچھلی سیٹوں کو فولڈ کر کے جو بیڈ بنایا گیا تھا پر سو گئے اور ہم دونوں میاں بیوی ہلکی پھلکی رومانوی گفتگو 😜 کرتے پہاڑوں میں بل کھاتے بالا کوٹ پہنچ گئے وہاں ایک پٹرول پمپ پر رک کر فریش ہوئے پھر حسیب خان نے سٹیرنگ سنبھالا اور مانسہرہ پہنچ کر ڈنر کیا اور میں نے خود ڈرائیونگ شروع کی کیونکہ ہری پور تک سنگل روڈ ہے اور بے ہنگم ہیوی ٹریفک ہے اس طرح M1پر اسلام آباد سے پہلے ریسٹ ایریا رات 2 بجے پہنچ کر کوئی آدھا گھنٹہ آرام کیا اور پھر میں سو گیا اور دونوں بچے ہمیں بھیرہ تک لے آئے اور اس کے بعد میں نے بچوں سے گاڑی خود پکڑی اور خراماں خراماں گھر بفضل تعالی بخیریت صبح 7 بجے 20-8-2019 کو پہنچے اور ناشتہ کے بعد بے سدھ سو گئے۔
میں شکر گزار ہوں ان تمام لوگوں کا بشمول پاکستان آرمی کے کہ جنہوں نے ہمارے اس کارگل سیکٹر کے سفر کو یادگاربنایا۔
والسلام
خیر اندیش رانا ذوالفقار علی خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

27/08/2019

پانچویں قسط
اس کے بعد ہماری جیپ آگے روانہ ھو چکی تھی لیکن ھم نے آگ بہت تسلی کے ساتھ بجھای تھی کیونکہ یہ بہت ہی خوبصورت جنگل تھا اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہماری ذرا سی کوتاہی یا لا پرواہی کی وجہ سے کوئی سانحہ رونما ہو.اور ہواچلے تو آگ بھڑک جائے ہماری جیپ کے ڈرائیور اکبر حسین نے بتایا کہ اسی لیے وہاں کھانا پکانا منع کیا گیا ہے.
بس اب اس جگہ سے جھیل نزدیک تھی جس کو دیکھنے کے لیے تین دن اور تین راتوں کی ہم نے مصافت طے کی تھی. بے شک ھم نے سارا سفر اس انداز سے کیا کہ سفر کی تھکان سے کہیں نکاہت نہ آ جائے اور ہر جگہ کی خوبصورتی کو سراہتے چلتے گئے تھے کیونکہ وادیوں کا پہاڑوں کا درختوں کا غرضیکہ پانیوں کا حسن اپنی مثال آپ تھا. اور اسی اثناء میں ڈومیل چیک پوسٹ آ گئ وہاں موجود فوجی جوان نے نہایت اخلاق اور عزت و احترام سے ہم سے معلومات لیں اور ہمیں rainbow lake کی جانب جانے دیا جو کہ کچھ ہی فاصلہ پر تھی اور ڈرائیور نے ہمیں سٹار پارکنگ میں اتارا اور خود گاڑی لیکر دوسری پارکنگ میں چلا گیا ۔
تو جیپ سے اترتے ہی دور سے ہی چلتے ہوئے ہم نے ایک آہ بھر لی,جب پہلی نظر جھیل پر پڑی واہ کتی خوبصورت ہے. سلام ودعا شہیدان اسلام جو وہاں پر قطبہ لگا تھا, کے بعد ہم نے پوری جھیل کا چکر لگانا شروع کیا. آہستہ آہستہ چلے ہر جگہ رکے ہر زاویہ سے تصویریں لی اپنی بھی اور جھیل کی بھی. وہاں کے ہر پھول کو چھوا ٰ بار بار ٹھنڈی ہوا کو محسوس کیا. اور گھومتے ہوے Rainbow Lake کے نظارے کئے اتنا شفاف پانی کہ تہہ میں موجود ہر پتھر کا رنگ نظر آ رہا تھا اسی اثناء میں میری نظر وہاں پر کچھ نا عاقبت اندیشوں کی طرف سے پھینکے گئے کوڑا کرکٹ پر پڑی جو کہ کچھ خالی بوتلیں چپس وغیرہ کے ریپرز تھے تو میں نے اور بیٹے عبدالحسیب خاں نے ان کو اٹھانا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ اپنی قوم کو کوستے رہے کہ صفائی نصف ایمان کو شاید ہم صرف اپنی بدنی صفائی سمجھتے ہیں ۔ کوڑا کرکٹ اٹھانے کے بعد اس کو قریبی نصب شدہ Dust Bin میں پھینکا یہاں بتاتا چلوں کہ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر پاک فوج نے کوڑے کے لیے انتہائی خوبصورتی سے ڈرم نصب کئے ہوئے ہیں پیدل چلتے چلتے جھیل کی دوسری طرف لگا ہوا تیر کا نشان نظر آیا کہ Seven stream crystal lake اس طرف ہے جبکہ وہاں سے وہ نظر نہیں آ رہی تھی ایک چھوٹی سی پہاڑی کو عبور کیا تو ایک اور جھیل کے پاس پہنچ گئےجو ذرا آگے چل کر نیچائی کی طرف تھی, جسکا نام seven stream crystal lake ہے.اور اس کے صاف شفاف پانی کو دیکھ کر دنگ رہ گئے اتنا صاف کہ جیسے شیشہ لگا ہوا ہے بچوں نے اپنا موبائل جھیل کے اندر ڈبو کر اندر سے بھی ویڈیو بنائی جو کہ ابھی پوسٹ بھی کروں گا اور خدا کی کبریائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کی حمد و ثناء کی ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ جھرنوں کی آواز بھی حمدوثنا کر رہی ہے۔
وہاں بھیڑ بکریوں کو بھی دیکھا جو کہ چر رہی تھیں اور کچھ استراحت فرما رہی تھیں ۔
اسی دوران وہاں پر ایک جنرل صاحب اپنے اہل و عیال کے ہمراہ آگئے اور اس طرح دو فیملیز وہاں پر ہو گئیں جبکہ وہاں اور کوئی سیاح موجود نہ تھا ۔ قریب ہی ایک ندی کے اوپر ایک انتہائی خوبصورت پل بنا ہوا تھا جس کی دوسری طرف ایک خوبصورت کاٹیج تھا جو بعد میں علم میں آیا کہ یہ جنرل پرویز مشرف کی پسندیدہ جگہ ہے اور اس کو ڈویلپ کرنے میں آن کا بہت کردار ہے جنرل پرویز مشرف کا میں مداح ہو گیا باوجود اس کے کہ 2007 کی وکلاء تحریک میں میں نے گرفتار ہو کر بہاولپور جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھے جنرل پرویز مشرف کی اس ملک کے لئے خدمات کا بھی اعتراف کرنا پڑا چاہے وہ خانہ کعبہ کو 1979 میں آزاد کروانا ہو یا کارگل کی جنگ جو میدان میں جیت کر سیاسی حکمرانوں کی وجہ سے ہار گئے ۔ اس طرح گھومتے ہوئے ہم Rainbow lake کے کنارے پر بنائی گئی بارہ دری ٹائپ hut پر پہنچ گئے تصاویر بنائیں کچھ دیر آرام کیا وہاں ایک کیپٹن ڈاکڑ اور ایک صوبیدار سے ملاقات ہوئی کچھ منٹ گپ شپ لگانے کے بعد ہم واپسی کے لئے جیپ کی طرف چل پڑے ۔
باقی آئندہ 😍😍😍

27/08/2019

سیر کی چوتھی قسط
ہمارے گیسٹ رومز سے بالکل متصل بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کی مسجد تھی اور بعد از مغرب ہم سو گئے اور 9 بجے کے قریب ڈنر کیفے میں جا کر کیا اور گھومتے گھامتے ہم 11 بجے سو گئے اگلے روز حسب معمول نماز اور واک کے بعد قریبا 8 بجے ہم ڈومیل کی جانب روانہ ہو گئے ہمارے دائیں جانب دریا تھا جس کا نام دریائے نیلم جب کے گوگل میپ پر اس کا نام کرشن گنگا دریا لکھا آرہا تھا تب علم میں آیا کہ یہ دریا متعدد بار مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوتا ہے اور اسی پر انڈیا کرشن گنگا ڈیم بنا رہا ہے۔ ہم جنگل میں گھومتے ہوئے ایک گاوں نگئی میں رک گئے وہاں کے بچوں میں گولیاں ٹافیاں تقسیم کیں اس گاوں کے لکڑی سے بنے گھر دیکھے تصاویر میں آپ دیکھ سکیں گے کی ثابت لکڑی یعنی درختوں کے تنے ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر گھر بنائے ہوئے ہیں وہاں کے بچوں سے ان کی تعلیم کے بارے پوچھا انہوں نے بتایا کہ ان کا سکول لوئر نگئی میں واقع ہے اور روزانہ وہ پیدل 3/4 کلومیٹر جاتے اور آتے ہیں صحت کے معاملات آرمی کے ہسپتال منی مرگ میں دیکھے جاتے ہیں اور اگر خدانخواستہ کسی کی طبیعت زیادہ خراب ہو تو پاک آرمی بذریعہ ہیلی کاپٹر CMH راولپنڈی لے جاتی ہے یہ جان کر از حد خوشی ہوئی اور پاک فوج کے لئے دل سے دعائیں نکلیں ۔
وہاں کافی وقت گزارنے کے بعد آگے روانہ ہوئے اور ڈومیل جنگل میں رک کر لکڑیاں اکٹھی کیں اور ہم نے دریا کے کنارے آگ جلا کر ناشتہ تیار کیا اور اس کے بعد Rainbow lake, کی طرف چل پڑے ۔

27/08/2019

تیسرے روز کا سفر
جب ہم چلم پہنچے ہوٹل میں سامان وغیرہ رکھنے اور چائے پینے کے بعد میں معہ پسرم اور ہوٹل مالک جیپ سٹینڈ پر گئے اور دو ایام کے لئے جیپ لی جس کے ساتھ طے ہوا کہ کل صبح 11 بجے وہ ہمیں لیکر منی مرگ کے لئے روانہ ہو گا۔
اگلے روز یعنی 17-8-19 کو فجر کی نماز کے بعد ہمیں ہوٹل والوں نے انڈے پراٹھا کا ناشتہ کروایا اور اس وقت ہلکی بارش ہو رہی تھی ناشتہ سے قبل میں نے حسب معمول واک کی دریائے چلم کے کنارے
صبح 7بجے ہم اپنی گاڑی میں سوار ہو کر دیو سائی پلین کی جانب چل پڑے اور سب سے پہلے اپنا شناختی کارڈ چلم چیک پوسٹ سے واپس لیا اور 8 بجے ہم شوشر جھیل دیو سائی پہنچ گئے یہ دنیا کا بلند ترین میدان بھی کہلاتا ہے یہاں پر مار خور، مارموٹ اور ہمالیہ کا برفانی ریچھ پایا جاتا ہے اس کے علاوہ انواع و اقسام کے پھول اور جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں جو کہ متعدد ادویات میں استعمال ہوتی ہیں اس کی بلندی قریبا 14000 فٹ ہے اور جب ہم پہنچے تو ہلکی برف باری ہو رہی تھی راستے میں کیمپنگ سائیٹس بھی تھیں جہاں لوگ خیمہ زن تھے اور حکومت نے ہر کیمپنگ سائیٹ کے ساتھ عارضی واشروم بنا رکھے ہیں ۔ خیر ہم صرف شوشر جھیل تک ہی رہے بوجوہ شدید سردی اور برفباری اس طرح ہم آگے کالا پانی اور بڑا پانی کے مقامات پر نہ گئے بچوں نے خوب انجوائے کیا تصاویر بنائیں پھول اکٹھے کئے اور بھالو کو آوازیں دیں لیکن ندارد محض مارموٹ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ ایک بات وہاں ہم نے ریڈیو لگایا تو انڈیا کا ایک چینل آیا جس پر 80 کی دہائی کے گانے چل رہے تھے جبکہ کوئی پاکستانی چینل نہ آرہا تھا اس کے بعد ہم واپس چلم آگئے اور چائے پی اتنی دیر میں جیپ آگئی سامان اس میں رکھا اور اپنی گاڑی اسی ہوٹل پر چھڑی چلم چیک پوسٹ پر آئے وہاں ضروری اندراج کروایا سب کے شناختی کارڈ نمبر نوٹ ہوئے اور جیپ ڈرائیور کی معلومات لی گئی اسطرح 12 بجے کے بعد ہم منی مرگ اور ڈومیل کی جانب چل پڑے ابھی کچھ راستہ ہی طے کیا تھا کہ پاک فوج کی ایک چیک پوسٹ آ گئی وہاں انہوں نے نام وغیرہ پوچھا چلم چیک پوسٹ اور منی مرگ ہیڈ کوارٹر سے معلومات حاصل کیں اور ہمیں جانے دیا اس کے 45 منٹ بعد ہم بروزل ٹاپ پر پہنچ گئے جو کہ 13808 فٹ بلند ہے اور وہاں دوبارہ چیکنگ کے مرحلے سے گزرے اور وہاں پر پاک فوج نے ایک کینٹین بھی بنا رکھی ہے وہاں پر بھی شدید سردی تھی کچھ وقت وہاں گزارا تصاویر بنائیں اور پھر عازم سفر ہوئے اور ایک دیگر چیک پوسٹ سے ہوتے ہوئے منی مرگ بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز پہنچے جہاں ضروری اندراج کے بعد ہمیں گیسٹ رومز میں ایک اردلی کے ہمراہ بھیج دیا گیا جس نے سامان وغیرہ جیپ سے کمروں میں منتقل کیا اسی اثنا میں ایک نوجوان کیپٹن صاحب آ گئے ہمیں خوش آمدید کہا اور ضروری معلومات دیں جس کے بعد ہم فریق ہو کر کیفے میں چلے گئے چائے اور سنیکس لیں اور ان کو رات کے کھانے کا بتا کر واپس اپنے کمرہ جات میں آ گئے ہمیں اتنے دنوں بعد ایسے لگا کہ ہم گھر میں یا کسی 5 سٹار ہوٹل میں آگے ہیں۔
باقی آئندہ 😍

27/08/2019

سیر کی دوسری قسط
دوسرے دن علی الصبح 5 بجے جاگ کر نماز ادا کرنے کے بعد ہم 6 بجے عازم سفر ہوئے اور بداوی سے نکل کر جل کھڈ کے مقام پر انداز ریسٹورنٹ سے ناشتہ کیا اور میں وہاں سے پیدل واک کرتے ہوئے بابو سر ٹاپ کی طرف چل پڑا ابھی بمشکل ایک کلومیٹر ہی گیا تھا کہ ایک پیاری سی آواز آئی کہ آپ کو لفٹ چاہیے جو میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ پاپا کی جان عائزہ خان تھی خیر گاڑی میں سوار ہو کر لولوسر جھیل کے دلکش نظارے دیکھے ہوئے ہم بابو سر ٹاپ پر پہنچے اور اسی چگہ رک کر تصاویر بنائیں جہاں 2016 میں بنائیں تھیں بابو سر ٹاپ سطح سمندر سے 13300 فٹ بلند ہے وہاں تک گاڑی بیٹے حسیب نے چلائی پھر بیگم صاحبہ نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور اگلی جھیل آنسو نما(جھیل کا نام بھول گیا) تک گاڑی متواتر اترائی میں چلائی کچھ دیر وہاں قدرتی نظارے دیکھے اور بیٹی عائزہ کی ہدایات پر تصاویر بنوانے کے بعد وہاں سے تقریبا 9 بجے چل پڑے اب کے ڈرائیونگ کی میری باری تھی اور چلاس بغیر رکے ہم قراقرم ہائی وے پر چڑھ گئے وہاں سے پٹرول لیا اور تتہ پانی سے ہوتے ہوئے رائے کوٹ برج پر پہنچے یہ وہ جگہ ہے جہاں سے مشہور زمانہ فیری میڈو کا ٹریک شروع ہوتا ہے جو کہ دنیا کی دس خطرناک ترین روڈز میں 6 نمبر پر ہے یہاں بتاتا چلوں کہ چلاس سے رائے کوٹ برج تک دریائے سندھ ہمارے بائیں طرف ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور برج کراس کرتے ہی دریا ہمارے دائیں طرف آگیا یہاں سے سی پیک منصوبہ کے تحت تعمیر شدہ بالکل نئی سڑک موٹر وے طرز کی سنگل روڈ شروع ہوتی ہے جو کہ خنجراب چائنہ بارڈر تک جاتی ہے جس پر آرام سے 100 کلومیٹر کی سپیڈ پر گاڑی چلائی جا سکتی ہے جس پر 21 سرنگیں مختلف مقامات پر تعمیر کی گئی ہیں جن میں سب سے لمبی عطا آباد جھیل پر ہے۔ بہرحال ہمارا راستہ وہ نہ ہے واپس اپنے سفر پر آتے ہیں۔ رائے کوٹ برج سے 25 کلومیٹر بعد ہم نے استورکی جانب مڑ کر دریائےسندھ کو کراس کیا اس جگہ سے گلگت محض 60 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے استور کی سڑک کا شمار بھی دنیا کی خطرناک ترین روڈز میں ہوتا ہے جو کہ دسویں یا بارہویں نمبر پر ہے اور سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان اور دریائے استور کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے 45 کلومیٹر کا سفر 2 گھنٹوں میں
طے کیا اور 2 بجے دوپہر کو استور پہنچ گئے وہاں پر دریا کے کنارے بلکہ ایک آبشار کے پاس بیٹھ کر نانگا پربت ہوٹل سے کھانا کھایا اور استور شہر سےS com کی سم خریدی کیونکہ آگے اب ہمارے موبائل بالکل نہیں چلنے تھے اس نیٹ ورک کے انٹرنیٹ کی سپیڈ ہمارے PTCLکے DSL سے زیادہ تیز ہے اور میرا خیال تھا کہ ہم استور رکیں اور آج راما لیک جائیں لیکن بیٹی نے ویٹو کرتے ہوئے کہا کہ راما لیک ہم نے پہلے دیکھی ہوئی ہے اس لئے سفر جاری رکھیں اور دیو سائی چلتے ہیں کیونکہ پہلے ہم نے دیو سائی پلین منجانب اسکردو دیکھا ہے اب اس طرف سے چلتے ہیں سو ہم چلم کی طرف چل پڑے اور 52 کلومیٹر کا سفر 2،30 گھنٹے میں طے کیا اور 6 بجے کے لگ بھگ چلم چوکی پہنچے وہاں فوجی جوان کو اپنا تعارف کروایا تو وہ رجسٹر دیکھنے کے بعد کہتا ہے کہ آپ کو کل آنا تھا آپ آج پہنچ گئے ہیں آپ آگے نہیں جا سکتے کیونکہ جنرل صاحب نے آپکی بکنگ 17 اور 18 اگست کی کروا رکھی ہے جس پر میں نے جوان کو کہا کی درست ہے کہ میں نے منی مرگ اور ڈومیل آج نہیں کل جانا ہے پہلے میں نے دیو سائی پلین جانا ہے پھر منی مرگ واضح رہے کہ دیو سائی کے لئے آرمی سے اجازت درکار نہ ہے اور اس وقت چونکہ شام ہو چکی تھی اس لئے اب چلم میں رکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا میں نے فوجی جوان جس کا نام اسماعیل تھا سے ھوٹل کے بارے پوچھا دو تین ہوٹل ہیں پتہ کر لیں لیکن آپ کا شناختی کارڈ ہمارے پاس رہے گا اور کارگل سیکٹر منی مرگ آپ اس گاڑی پر نہ جا سکتے ہیں صرف 4×4پر جا سکتے ہیں خیر ہوٹل دیکھے تو وہ ایک ایک دو دو کمروں کے کچے دوکان نما تھے جن پر محمدی بستر تھے خیر چلم جو کہ بالکل چھوٹا سا گاوں ہے کے آخر میں دریا کے کنارے پر کمرہ لیا اور وہاں رات بسر کرنے کی ٹھانی وہاں کے لوگ انتہائی ملنسار اور مہمان نواز تھے انہوں نے بہت خدمت کی۔ اور ہمیں ماش کی دال چنے اور روٹی کھلائی گئی اور نہایت عمدہ چائے پلائی گئی اس کے بعد ہم چاروں رضائیوں میں گھس گئے اور گپیں لگاتے لگاتے 9:30 بجے تک سو گئے۔
باقی آئندہ
Good Night

Address

First Floor, Jalal Centre, Opposite OPD Ganga Ram Hospital, Mozang Road
Lahore
54000

Telephone

+923219488573

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Humane Law Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category