Mian Anwar Mehmood - Official

Mian Anwar Mehmood - Official Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mian Anwar Mehmood - Official, Lahore.

"The real power is that you should not misuse on anyone."
24/05/2026

"The real power is that you should not misuse on anyone."

18/05/2026
زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ عمر کو عقل کا مترادف سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ ہر سفید بال کے پیچھے حکمت نہیں ہوتی،...
13/05/2026

زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ عمر کو عقل کا مترادف سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ ہر سفید بال کے پیچھے حکمت نہیں ہوتی، بعض چہروں پر وقت صرف جھریاں چھوڑتا ہے، شعور نہیں۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو برسوں جیتے ہیں مگر ایک لمحہ بھی سچائی، برداشت یا دانائی کے ساتھ نہیں گزارتے۔ وہ عمر کے ساتھ صرف ضد میں پختہ ہوتے ہیں، سوچ میں نہیں۔ اسی لیے ہر بڑے کی نصیحت مان لینا دانشمندی نہیں بلکہ اندھی تقلید ہے۔ کچھ لوگ وقت کے ساتھ صرف اپنی انا کو بڑا کرتے ہیں، کردار کو نہیں۔ ان کے لفظ تجربے سے نہیں بلکہ ناکامیوں، تعصب اور اندر کے زہر سے جنم لیتے ہیں۔ دانا انسان وہ نہیں جو زیادہ سال جیے، بلکہ وہ ہے جو ہر غلطی سے سیکھے، ہر تکلیف سے شعور کشید کرے اور ہر کامیابی کے بعد عاجزی اختیار کرے۔ عقل ایک انتخاب ہے، اور یہ انتخاب ہر شخص نہیں کرتا۔ کچھ لوگ پوری زندگی اپنی جہالت کو تجربہ سمجھ کر دوسروں پر مسلط کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ نصیحت سننے سے پہلے نصیحت کرنے والے کے کردار، ظرف اور سوچ کو پرکھے۔ کیونکہ بعض اوقات ایک خاموش نوجوان، ایک شور مچاتے بوڑھے سے کہیں زیادہ دانا ہوتا ہے۔

معانی اور مطلب👇جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں ، زمینوں میںوہ نکلے میرے ظلمت خانہَ دل کے مکینوں میںمعانی: جنھیں : مرا...
27/04/2026

معانی اور مطلب👇

جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں ، زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانہَ دل کے مکینوں میں
معانی: جنھیں : مراد محبوب حقیقی ۔ ظلمت خانہ: تاریک گھر، جگہ ۔ مکیں : رہنے والا ۔
مطلب: اس غزل کے مطلع میں اقبال کہتے ہیں کہ خدائے وحدہُ لاشریک تک رسائی حاصل کرنے کے لیے میں زمینوں اور آسمانوں کو کھنگالتا رہا جب کہ ذرا گہرائی سے دیکھا تو وہ میرے دل میں ہی موجود تھا ۔ اس لمحے مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ خدا تو انسان کے دل میں ہی رہتا ہے تا ہم اس حقیقت کے ادراک کے لیے معرفت کا شعور بنیادی شرط ہے ۔


حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی
مکاں نکلا ہمارے خانہَ دل کے مکینوں میں
مطلب: اس شعر کا مفہوم بھی کم و پیش پہلے شعر سے ملتا جلتا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ جب مجھے اس امر سے آگاہی ہوئی کہ میری حقیقت کیا ہے تو اس امر کا علم بھی ہوا کہ اللہ تعالیٰ تو خود میرے دل میں موجود ہے ۔ مراد یہ ہے کہ رب ذوالجلال کو پانے کے لیے اپنی حقیقت تک رسائی بھی ناگزیر ہے ۔


اگر کچھ آشنا ہوتا مذاقِ جبہ سائی سے
تو سنگِ آستانِ کعبہ جا ملتا جبینوں میں
معانی : آشنا: واقف ۔ مذاقِ جبہ سائی: ماتھا گھسانے یعنی سجدہ کرنے کا ذوق ۔ سنگِ آستان کعبہ: کعبہ کی چوکھٹ کا پتھر ۔
مطلب: اس شعر میں کہا گیا ہے کہ خانہ کعبہ کا وہ پتھر جس کی جانب رخ کر کے ہم سجدہ ریز ہوتے ہیں اگر اس میں بھی جذبہ اور ذوق موجود ہوتا تو متحرک ہو کر خود ہماری پیشانیوں سے ہم آہنگ ہو جاتا ۔


کبھی اپنا بھی نظارہ کیا ہے تو نے اے مجنوں
کہ لیلیٰ کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں
معانی: مجنوں : لیلیٰ کا عاشق ۔ لیلیٰ: عرب کی مشہور حسینہ جس کا رنگ کالا تھا ۔ محمل نشینوں : اونٹ پر لدے کجاوہ ، پردہ میں بیٹھنے والی ۔
مطلب: اس شعر میں مجنوں کو مخاطب کر کے اقبال استفسار کرتے ہیں کہ اتنا بتا دے کہ محض عشق میں مگن رہنے کے سوا کچھ تو نے اپنی ذات میں بھی جھانک کر دیکھا ہے اس لیے کہ میرے نزدیک تو تو بھی اسی طرح پردے میں چھپا ہوا ہے جس طرح کہ تیری محبوبہ لیلیٰ محمل نشین تھی ۔ مراد یہ ہے کہ کوئی شخص بھی اس وقت تک خود کو نہیں پہچان سکتا جب تک کہ وہ اپنی ذات سے باہر نکل کر خود کو نہ دیکھے ۔


مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
معانی: وصل: محبوب سے ملاپ ۔ گھڑیوں کی صورت: مراد بڑی تیز ی سے ۔ مہینوں میں : مراد بہت آہستہ ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال محبوب سے وصل اور فراق کے معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب محبوب سے وصال یعنی ملاپ کے مواقع عاشق کو حاصل ہوتے ہیں تو مہینے بھی لگا کر چند لمحوں میں اڑ جاتے ہیں جب کہ اس سے جدائی کے چند لمحات بھی مہینوں پر محیط دکھائی دیتے ہیں ۔


مجھے روکے گا تو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے
کہ جن کو ڈوبنا ہو، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں
معانی: ناخدا: ملاح، کشتی چلانے والا ۔ غرق ہونا: ڈوبنا ۔ سفینوں : جمع سفینہ، کشتیاں ۔
مطلب: اے ملاح جب ڈوبنا ہی میرا مقدر ٹھہرا تو سمندر میں کودنے سے بھلا تو مجھے کس طرح روک سکے گا ۔ اس لیے کہ ڈوبنے والے تو کشتی میں بیٹھے بٹھائے بھی ڈوب جاتے ہیں ۔


چھپایا حُسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے
وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں
معانی: کلیم اللہ: خدا سے باتیں کرنے والا، حضرت موسیٰ کا لقب ۔ جس نے: خدا نے ۔ ناز آفریں : ادا پیدا کرنے والا، مراد ناز و ادا کرنے والا ۔ جلوہ پیرا: مراد اپنا حسن، تجلی ظاہر کرنے والا ۔ نازنینوں : جمع نازنین، مراد کل مخلوقات جس میں خدا کا جلوہ ہے ۔
مطلب: رب ذوالجلال نے بے شک اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ کو کوہ طور پر اپنا جلوہ دکھانے سے گریز کیا بلکہ اس کا وجود تو دنیا کی ہر خوبصورت چیز میں پوشیدہ ہے ۔ مراد یہ ہے کہ جن لوگوں میں معرفت الہٰی کی صلاحیت موجود ہے وہ تو اس کا جلوہ ہر حسین شے میں دیکھنے کے اہل ہوتے ہیں ۔


جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفس ان کی
الہٰی کیا چھپا ہوتا ہے اہلِ دل کی سینوں میں
معانی: شمعِ کشتہ: بجھی ہوئی موم بتی ۔ موجِ نفس: سانس کی لہر، پھونک ۔ اہلِ دل: مراد عشق کا جذبہ رکھنے والے ۔
مطلب: اے رب ذوالجلال! یہ تو بتا کہ اہل دل کے سینوں میں وہ کون سی قوت پوشیدہ ہو سکتی ہے جو اپنی ایک پھونک سے بجھی ہوئی شمع کو پھر سے روشن کر سکتے ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ ان لوگوں میں تو نے ایسی کون سی صلاحیت پیدا کی ہے جو ناممکن بنانے کی اہل ہوتی ہے ۔


تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
معانی: دردِ دل: مراد عشق الہٰی ۔ گوہر: موتی، دولت ۔ خزینوں : جمع خزینہ ، خزانے ۔
مطلب: اگر تجھے جذبہ عشق کے حصول کی تمنا ہے تو پھر ادھر اُدھر بھٹکنے کی بجائے ان درویشوں کے پاس جا جو ہر شے سے بے نیاز ہو کر عبادت خداوندی کے علاوہ عام انسانوں کے کام آتے ہیں ۔ یہ جان لے کہ جذبہ عشق ایسا جوہر ہے جو کسی بادشاہ کے خزانے میں نہیں مل سکتا کہ یہ خزانے تو محض ہوس کے آماجگاہ ہیں ۔


نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
معانی: خرقہ پوش: گدڑی پہننے والا ۔ ارادت: عقیدت، اعتقاد ۔ یدِ بیضا: روشن ہاتھ، حضرت موسیٰ کا ایک معجزہ ۔
مطلب: ان گدڑی پوش لوگوں کے بارے میں تحقیق و تجسس بے معنی بات ہے ۔ اے شخص اگر تجھے ان سے کچھ عقیدت و محبت ہے تو یہ راز خود ہی تجھ پر منکشف ہو جائے گا کہ یہ لوگ تو معجز نما ہیں اور اپنی آستینوں میں معجزے چھپائے بیٹھے ہوتے ہیں ۔


ترستی ہے نگاہِ نارسا جس کے نظارے کو
وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں
معانی: نگاہِ نارسا: محبوب تک نہ پہنچنے والی نظر ۔ خلوت گزیں : تنہائی اختیار کرنےوالا، اللہ والا ۔
مطلب:اس شعر میں کہا گیا ہے کہ وہ آنکھیں جن کی حقیقت تک رسائی نہیں وہ ان گدڑی پوشوں کے نظارے کو ترستی رہیں گی حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہی خلوت نشین گدڑی والے بزرگوں سے ہی اس دنیا کی رونق قائم ہے ۔ ان کے بغیر تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔


کسی ایسے شرر سے پھونک اپنے خرمنِ دل کو
کہ خورشیدِ قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں
معانی: شرر: چنگاری ۔ پھونکنا: جلانا ۔ خرمن: غلے کا ڈھیر ۔ خورشید قیامت: قیامت کے روز نکلنے والا سورج ۔ خوشہ چیں : مراد فیض حاصل کرنے والا ۔
مطلب: اے میرے حبیب تو اس کائنات کی حقیقت جاننے کا خواہاں ہے تو تو اپنے خرمن دل کو ایسی چنگاری سے پھونک دے کہ آفتاب کو بھی تجھ پر رشک آئے اور وہ بھی تیرے خوشہ چینوں میں شمار ہو سکے ۔ مراد یہ ہے کہ کائنات کا احوال جاننے کے لیے اس علم کی روشنی حاصل کر جو آفتاب کے لیے بھی رشک کا سبب بن جائے ۔


محبت کے لیے دل ڈھونڈ کوئی ٹوٹنے والا
یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں
معانی: ٹوٹنے والا دل: ذرا سی ٹھیس سے متاثر ہونے والادل ۔ نازک: جو مضبوط نہ ہو ۔ مے: شراب ۔ آبگینوں : جمع آبگینہ، شیشے کا برتن ۔
مطلب: اگر تجھے طلب عشق ہے تو وہ حساس دل تلاش کر جو شکستگی کا آئینہ دار ہو کہ عشق و محبت تو ایسی حقیقتیں ہیں جو انتہائی نازک اور حساس عوامل سے ہم آہنگ ہو سکیں ۔ مراد یہ ہے عشق ہر کسی کے بس کا روغ نہیں ۔ یہ تو ایسے دل میں جگہ پا سکتا ہے جو نازک آبگینوں کی مانند ہوتے ہیں ۔


پھڑک اٹھا کوئی، تیری ادائے ما عرفنا پر
ترا رتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں میں
معانی: پھڑک اٹھا: تڑپ اٹھا، عش عش کر اٹھا ۔ ادا: انداز ۔ ما عرفنا: حضور اکرم ﷺکی حدیث ہے ہم نے اے خدا تجھے ویسا نہیں پہچانا ہے جیسا پہچاننے کا حق ہے ۔
مطلب: یہ شعر عملاً نعتیہ ہے جس میں حضور سرور کائنات کے اس ارشاد کی جانب اشارہ ہے جس میں حضورنے فرمایا تھا کہ ہم نے خدائے بزرگ و برتر کو پہنچانا تو ضرور! تاہم اس طرح نہیں پہچانا جیسا کہ اس کا حق تھا ۔ چنانچہ سروردوعالم کا یہ عجز خالق حقیقی کو بہت بھایا اور اس نے حضورکا مقام و مرتبہ دنیا بھر کے خوبصورت لوگوں سے بڑھا دیا او ر ان کے مراتب مزید بلند کر دیے ۔


نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا
بہت مدت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں
جمال: حسن ۔ چرچے: جمع چرچا، شہرتیں َ باریک بیں : جس کا فہم بہت تیز ہو ۔
مطلب: اقبال حضورسرور کائنات سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ دنیا بھر کے فلسفی اور دانشور ایک عرصے سے آپکی ذات والا صفات اور مراتب کے حوالے سے تذبذب میں مبتلا ہیں یہ ان پر کرم ہو گا کہ حضورخود ہی ان کو اپنا جلوہ دکھا دیں تو ساری صورتحال ان کی سمجھ میں آ جائے گی ۔


خموش اے دل! بھری محفل میں چلّانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
معانی: چلانا: زور سے بولنا ۔ ادب: دوسروں کا پاس لحاظ ۔ قرینہ: سلیقہ، ڈھنگ ۔
مطلب: اقبال یہاں کہتے ہیں کہ اے دل ناصبور! تجھے تو اپنے محبوب سے حقیقی عشق کا دعویٰ ہے اس کے باوجود تو بھری محفل میں نالہ و فریاد کر رہا ہے ۔ حالانکہ جو لوگ عشق و محبت کے دعویدار ہوتے ہیں انہیں اس حقیقت کا ادراک بھی یقیناً ہوتا ہے محبت جو قرینے ہیں ان میں ادب و احترام اولین قرینہ ہے ۔


بُرا سمجھوں انھیں مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا
کہ میں خود بھی تو ہوں اقبال اپنے نکتہ چینوں میں
معانی: نکتہ چین: عیب ڈھونڈنے والا ۔
مطلب: اس غزل کے مقطع میں اقبال یوں گویا ہیں کہ جو لوگ میرے نکتہ چیں اور ناقدہیں انکو میں کس طرح برا کہہ سکتا ہوں جب کہ میں تو خود اپنی ذات کے نکتہ چینوں اور ناقدوں میں سے ہوں ۔

Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp.

⚖️ مقدمہ “عدم پیروی خارج” اور “داخل دفتر” ہونے میں فرقعدالتوں میں اکثر دو اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں:“عدم پیروی پر خارج” ...
14/04/2026

⚖️ مقدمہ “عدم پیروی خارج” اور “داخل دفتر” ہونے میں فرق
عدالتوں میں اکثر دو اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں:
“عدم پیروی پر خارج” اور “داخل دفتر (Consigned to Record)”
لیکن ان دونوں کا مطلب ایک جیسا نہیں ہوتا۔
🔹 عدم پیروی پر خارج (Dismissed for Non-Prosecution)
✔ جب مدعی یا اس کا وکیل پیش نہ ہو
✔ عدالت مقدمہ خارج کر دیتی ہے
📌 یہ ایک عدالتی فیصلہ (Judicial Order) ہوتا ہے
📌 اس کے تحت مقدمہ ختم ہو جاتا ہے (Order IX CPC کے مطابق)
👉 یعنی:
مقدمہ قانونی طور پر ختم ہو جاتا ہے
جب تک کہ اس کی بحالی (Restoration) نہ کروائی جائے
🔹 داخل دفتر (Consigned to Record)
✔ یہ ایک انتظامی کارروائی (Administrative Action) ہے
✔ فائل کو ریکارڈ روم میں محفوظ کر دیا جاتا ہے
📌 یہ خود کوئی عدالتی فیصلہ نہیں ہوتا
📌 صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ فائل بند کر کے محفوظ کر دی گئی ہے
🔹 اہم فرق
❗ “عدم پیروی پر خارج” = مقدمہ ختم (Judicial effect)
❗ “داخل دفتر” = فائل محفوظ (Administrative effect)
👉 اکثر دونوں ایک ساتھ ہوتے ہیں،
لیکن اصل قانونی اثر Dismissal کا ہوتا ہے، نہ کہ صرف “داخل دفتر” کا۔
🔹 عدالتی نظیر
📘 2026 LHC 2286
(Civil Revision No. 2542163)
Chiragh Din vs Bashindgan Mohallah Duburji Kakezayyan
مورخہ: 03-03-2026
⚖️ عدالت نے واضح کیا:
✔ عدم پیروی پر خارج ہونا ایک عدالتی فیصلہ ہے
✔ جبکہ “داخل دفتر” صرف ایک انتظامی قدم ہے
📌 اہم پیغام
⚠️ اگر مقدمہ عدم پیروی پر خارج ہو جائے تو:
👉 فوری طور پر Restoration Application دائر کریں
ورنہ آپ کا کیس مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے

شناختی کارڈ کو سول کورٹ کے حکم پر بلاک نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔جسٹس تنویر احمد شیخ،لاہور ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن نمبری 8895/2025...
11/04/2026

شناختی کارڈ کو سول کورٹ کے حکم پر بلاک نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔
جسٹس تنویر احمد شیخ،لاہور ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن نمبری 8895/2025 بعنوان "محمد علی انصاری بنام فیڈریشن آف پاکستان وغیرہ" میں قرار دیا ہے کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو نادرا میں رجسٹر کروائے، نادرا کی جانب سے جاری کردہ شناختی کارڈ آدمی کی شناخت ہے، سیکشن 18 نادرا آرڈیننس 2000ء کے مطابق شناختی کارڈ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے۔ یہ کسی بھی دیگر شخص کو فروخت، منتقل یا قبضہ میں نہ دیا جاسکتا ہے۔ شناختی کارڈ وفات کے بعد منسوخ تصور ہوگا۔ یہ صرف شناخت کا ذریعہ ہے اور movable property نہ ہے اس لئے CNIC کو نادرا سول کورٹ کی کاروائی/حکم پر بلاک، منسوخ یاقرق نہیں کر سکتا۔۔۔

تعلقات کی دنیا میں اکثر لوگ صرف اس وقت تک آپ کے گرد منڈلاتے ہیں جب تک انہیں آپ کی ذات سے کوئی فائدہ یا ذہنی تسکین حاصل ہ...
11/04/2026

تعلقات کی دنیا میں اکثر لوگ صرف اس وقت تک آپ کے گرد منڈلاتے ہیں جب تک انہیں آپ کی ذات سے کوئی فائدہ یا ذہنی تسکین حاصل ہو رہی ہوتی ہے۔ جیسے ہی آپ کے خلوص کا رس نچوڑ لیا جاتا ہے اور آپ کی مخلصی پرانی پڑنے لگتی ہے، یہ رنگ بدلتے لوگ بڑی بے رحمی سے نیا ٹھکانہ ڈھونڈ لیتے ہیں؛ ایسے میں کسی کی آمد پر خوش ہونا اور جانے پر آنسو بہانا دراصل اپنی نادانی کا ثبوت دینا ہے۔ جو لوگ فطرت میں تتلیاں ہوتے ہیں، وہ کبھی ایک مقام پر ٹک کر وفا نہیں نبھا سکتے۔ ان کی پرواز کا مقصد صرف اپنی پیاس بجھانا ہوتا ہے، انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان کے پیچھے چھوڑا ہوا پھول کتنا مرجھا گیا ہے یا کتنا زخمی ہے۔ یاد رکھیں، خوبصورتی اور دلکشی ہمیشہ وفاداری کی ضمانت نہیں ہوتی، بلکہ اکثر رنگین پروں کے پیچھے ایک انتہائی خود غرض اور مطلب پرست سوچ چھپی ہوتی ہے۔

حکومت پنجاب نے زرعی زمینوں کے انتقال پر انتقال فیس/ رجسٹری فیس تین فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کردی ہے۔  الحمد للہ۔ CDA نے...
10/04/2026

حکومت پنجاب نے زرعی زمینوں کے انتقال پر انتقال فیس/ رجسٹری فیس تین فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کردی ہے۔

الحمد للہ۔ CDA نے کل ہی جائیداد منتقلی فیس تین فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دی تھی۔
ان اقدامات سے ہاوسنگ سیکٹر اور زرعی زمینوں میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

Operation clean up started against the Fake Lawyers by Punjab Bar Council.
10/04/2026

Operation clean up started against the Fake Lawyers by Punjab Bar Council.

یہ مقدمہ رقم کی وصولی (Suit for Recovery) سے متعلق تھا جو ایک dishonored cheque کی بنیاد پر دائر کیا گیا۔ مدعی کا مؤقف ت...
08/04/2026

یہ مقدمہ رقم کی وصولی (Suit for Recovery) سے متعلق تھا جو ایک dishonored cheque کی بنیاد پر دائر کیا گیا۔ مدعی کا مؤقف تھا کہ مدعا علیہ نے ایک چیک جاری کیا جو پیشی پر ڈس آنر ہو گیا، لہٰذا وہ واجب الادا رقم کی ادائیگی کا قانونی طور پر پابند ہے۔ ٹرائل کورٹ نے دستیاب شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے مدعی کے حق میں دعویٰ ڈگری کر دیا۔

مدعا علیہ/اپیلانٹ نے اپنے دفاع میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ چیک بطور guarantee cheque جاری کیا گیا تھا، اس لیے وہ براہِ راست ادائیگی کا ذمہ دار نہیں۔ عدالت نے اس دلیل کا جائزہ لیتے ہوئے Section 126 of Contract Act, 1872 کی روشنی میں قرار دیا کہ contract of guarantee میں تین فریق ہوتے ہیں یعنی surety، principal debtor اور creditor۔ تاہم، ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو سکا کہ مدعا علیہ کسی تیسرے فریق کے لیے بطور ضامن (surety) کام کر رہا تھا، بلکہ وہ خود ہی principal debtor کے زمرے میں آتا ہے، جس کے باعث اس پر براہِ راست ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ متنازعہ چیک Section 6 of Negotiable Instruments Act, 1881 کے تحت ایک negotiable instrument ہے، جس پر Section 118 کے تحت موجود statutory presumptions لاگو ہوتے ہیں، جن کے مطابق یہ تصور کیا جاتا ہے کہ چیک عوض (consideration) کے بدلے جاری کیا گیا ہے، جب تک اس کے برعکس کوئی مضبوط ثبوت پیش نہ کیا جائے۔ مدعا علیہ اس قانونی مفروضے کو زائل کرنے میں ناکام رہا۔

ریکارڈ کے جائزے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مدعا علیہ/اپیلانٹ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کسی قسم کی material illegality، irregularity، misreading یا non-reading of evidence کی نشاندہی نہیں کر سکا۔ اس لیے ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد کا درست اور جامع جائزہ لیا اور مروجہ قانونی اصولوں کے مطابق Order ###VII, C.P.C. کے تحت دعویٰ کو درست طور پر ڈگری کیا۔ لہٰذا، ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے اپیل کو خارج کر دیا۔

📢 علم پھیلانا صدقہ جاریہ ہے۔ قانون سے آگاہی نہ صرف آپ کا حق ہے بلکہ آپ کی ذمہ داری بھی ہے۔

Address

Lahore
54700

Telephone

+923218494644

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mian Anwar Mehmood - Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Mian Anwar Mehmood - Official:

Share