23/08/2026
اس نے برسوں ٹرک چلایا تاکہ اپنے بیٹے کو وہ زندگی دے سکے جو اسے خود کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ 💔
لیکن ایک مہنگے فون کی خواہش ایک ایسے سانحے پر ختم ہوئی جس کا کوئی ماں باپ تصور بھی نہیں کر سکتا۔
یہ کہانی ہے مرلی دھر اور سنگیتا کی۔
مرلی دھر کی عمر 24 سال اور سنگیتا کی 19 سال تھی جب دونوں کی شادی ہوئی۔ کئی سال تک وہ اولاد کے لیے ترستے رہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے چار دھام کی یاترا بھی کی اور اولاد کے لیے دعائیں مانگیں۔
بالآخر ان کی دعائیں قبول ہوئیں۔ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام انہوں نے کنال رکھا۔
مرلی دھر کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا۔ وہ ٹرک ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا اور اپنے خاندان کو بہتر زندگی دینے کے لیے کئی کئی ماہ گھر سے دور سڑکوں پر گزارتا۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا اچھے اسکول میں پڑھے اور اسے وہ مواقع ملیں جو خود مرلی دھر کو کبھی حاصل نہیں ہوئے۔
لیکن اسی اسکول میں کنال نے اپنے سے زیادہ امیر خاندانوں کے بچوں کو دیکھا۔
پھر ایک دن اس نے iPhone 15 Pro کی ضد شروع کر دی۔
کنال اس فون کے لیے روتا اور اصرار کرتا رہا۔ اس کے والد نے کسی نہ کسی طرح قسطوں (EMI) پر فون خرید کر دے دیا، مگر ان قسطوں کی ادائیگی مرلی دھر کے لیے مشکل ہوتی گئی۔
مرلی دھر پہلے ہی مہینوں گھر سے دور رہ کر محنت کر رہا تھا۔ اس کا خواب تھا کہ ایک دن اپنی گاڑی خریدے، اسے کرائے پر چلائے اور اس طرح اپنے خاندان کو زیادہ آرام دہ زندگی دے سکے۔
پھر اچانک سب کچھ بدل گیا۔
اطلاعات کے مطابق، کنال ایک پہاڑی چٹان کے قریب چلا گیا اور فون کی EMI کی ادائیگی کے معاملے پر اپنے والد پر دباؤ ڈالنے لگا۔ اس کے ماں باپ مسلسل اسے واپس آنے اور وہاں سے ہٹنے کی التجا کرتے رہے۔
لیکن پھر کنال نیچے جا گرا۔
مرلی دھر نے اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کی، مگر جب کنال نے اپنے والد کا ہاتھ پکڑا تو وہ بھی اس کے ساتھ نیچے جا گرا۔
سنگیتا نے اپنی آنکھوں کے سامنے یہ ہولناک منظر دیکھا تو وہ بھی چھلانگ لگا بیٹھی۔
تینوں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ایک ایسا خاندان جس نے برسوں ایک بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کی، دعائیں مانگیں، قربانیاں دیں اور مشکلات برداشت کیں، ایک ناقابلِ تصور سانحے میں ختم ہوگیا۔
یہ صرف ایک آئی فون کی کہانی نہیں ہے۔
یہ ایک دردناک یاد دہانی ہے کہ دنیا کی کوئی بھی مادی چیز، کوئی فون، گاڑی، برانڈ یا آسائش، انسانی جان سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی۔ 💔