Najam ud Din Arbkan

Najam ud Din Arbkan صدا کا قحط پڑے گا تو ہم ہی بولیں گے
A young Lawyer and Content Creator
Learn Law -Fight for Justice
(1)

سپریم کورٹ میں جسٹس عائشہ نے حلالے کو عورت کے وقار اور آزادی کیخلاف قرار دیا اور اسے عورت کی غلامی کی ایک شکل کہا، جس می...
28/04/2026

سپریم کورٹ میں جسٹس عائشہ نے حلالے کو عورت کے وقار اور آزادی کیخلاف قرار دیا اور اسے عورت کی غلامی کی ایک شکل کہا، جس میں عورت غلط طور ایک عمل میں حیلے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ انھوں نے فیصلے میں لکھا ، نیت طلاق سے کیا گیا، کوئی نکاح اسلام میں ، نکاح نہیں سمجھا جاتا۔ حلالہ قانونا ، شرعا اور اخلاقا کسی طور بھی جائز اور گوارا نہیں۔
یہ جسٹس عائشہ نے لکھا، اور درست لکھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت فرمائی، اسے سانڈ کہا گیا۔ اصلا بات یہ ہے کہ ایسا عمل مسلمانوں میں ہونا بجائے خود شرمندگی ، بے حسی ، بے دینی اور بے ضمیری کی بات ہے۔ اصلا اسے ایک حیلے کے طور پر اختیار کیا گیا مگر کیا ہی برا حیلہ ہے یہ۔
اس کے پیچھے اصل محرک ہماری ایک اور خرابی میں چھپا ہے۔ وہ عمل جو ہم نے اپنے ڈراموں میں لکھ لکھ کر عورت کا بیڑا غرق کر دیا۔ یعنی طلاق کی گن سے عورت پر بہ یک وقت تین طلاقوں کی فائرنگ۔ ہمارے عوامی لٹریچر میں ہمیشہ یہی دکھایا جاتاہے کہ مرد مشتعل ہوکے بس طلاق طلاق طلاق کے الفاظ دہراتا چلا جاتا ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کیلئے میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام قرار پاتے ہیں۔ کوئی آپشن نہیں بچتی ، یہ رشتہ بچنے اور بچانے کی، کیونکہ ایک فقہی رائے کے مطابق ایک مجلس میں دی گئی زیادہ طلاقیں، متعدد شمار کر لی جاتی ہیں، حالانکہ اسلامی نظریاتی کونسل اور انڈین عدالت بھی اسے ایک شمار کرنے پر فیصلہ دے چکی ہیں۔
اس کے بعد حلالہ انڈسٹری کا وجود سامنے آتا ہے۔ مارکیٹ میں ایسے کاریگر اپنے کارڈز چھاپ کے بیٹھے ہیں، جو راز داری سے اور مکمل قوت سے حلالہ کرنے کیلئے دکانیں کھولے اور امیدیں بڑھائے بیٹھے ہیں۔ یہ مرد کی بے حمیتی اور عورت کی بے توقیری ہے۔
اس کا ایک غلط مظہر خود ہماری یونین کونسل میں موجود ہے۔ یونین کونسل میں طلاق کے پراسیس میں عمل یہ دہرایا جاتا ہے کہ آدمی کی طرف سے ہر ماہ ایک طلاق بیوی کو بھیجی جاتی ہے۔ جس سے تین ماہ کے اندر اندر مرد یا عورت کے نہ چاہتے ہوئے بھی معاملہ ان کے ہاتھ سے نکال کر حلالہ کرنے والے سانڈ کے ہاتھ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔
طلاق دینا ایک دینی اور سماجی عمل ہے اور اگر اسے نبی رحمت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اختیارکیا جائے تو کمال کی کیفیت سامنے آتی ہے۔
درست طریقہ یہ ہے کہ مرد اگر دیکھتا ہے کہ زندگی اب دونوں کے لئے اکٹھے گزارنا ممکن نظر نہیں آتا تو وہ صرف ایک طلاق عورت کو دے گا۔ اسے تڑ تڑ طلاق کی گولی سے تینوں فائر کرنے کی نہ ایک ہی مجلس میں ضرورت ہے اور نہ اس کے بعد۔ طلاق اس نے دے دی۔ عورت اب طلاق کی کیفیت میں اپنی عدت گزارے گی۔ اگر درمیان میں دوران عدت یہ رجوع کرنا چاہیں،سمجھیں کہ جذبات میں یا غلط فہمی میں غلطی ہوگئی تو بغیر دوبارہ نکاح کئے میاں بیوی کے طور پر دوبارہ سے رہنا شروع کر سکتے ہیں، اگر عدت کا وقت گزر چکا تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، انھیں کسی حلالے یا حرامے کی ضرورت نہیں، تاہم طلاق کا یہ مرد ایک حق استعمال کر چکا ہے۔ دو اب بھی باقی ہیں۔ اگر یہ رجوع نہیں کرتے یا دوبارہ باہم نکاح نہیں کرتے تو یہ عورت آگے جس سے چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ یہاں غلط طور پر ثالثی کونسل یا یونین کونسل مرد سے اسلام کا یہ حق چھین کر اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے اور ہر ماہ ایک طلاق بھیجتی رہتی ہے۔ جس کی بالکل ضرورت نہیں ،بلکہ یہ عین خرابی ہے۔ جس کے بعد میاں بیوی کے پاس باہم ملنے اور واپسی کا کوئی آپشن نہیں بچتا ، چنانچہ یہاں کارڈ والا مولوی اپنا حلالہ سنٹر اناؤنس کرنے آتا ہے۔ معاشرے میں طلاق کے درست طریقے اور شعور کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیدنا عمر فاروق نے دم آخر اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کا نام اس لسٹ سے خارج کروا دیا تھا، جنھیں خلافت کے لیے زیر غور لایا جانا تھا، ان کا کہنا تھا، اسے تو طلاق دینے کا درست طریقہ بھی نہیں آتا۔ تو طلاق دینے کا درست طریقہ آنا بھی چاہئے اور عام بھی کرنا چاہیے۔ صرف طریقہ ، طلاق نہیں کہ یہ محض مجبوری کا آپشن ہے.

28/04/2026

اتنی گھات لگا کر ٹریفک وائلیشن روکنے پر جناب کو سیلوٹ ہے۔ کبھی اتنی ایمانداری سے پنجاب پولیس ملزم کیلئے بھی کوشش کر لے تو کیا ہی بات

28/04/2026

بھارت میں ایک شخص مردہ بہن کی لاش لے کر بینک میں پہنچ گیا ۔ بینک بار بار بہن کے فوت ہونے کے کاغذات مانگ رہا تھا اور غریب ان پڑھ بیچارا کاغذات پورے نہ کر سکا۔

‏ترنول پھاٹک کو "آبنائے ہرمز" کہنے پر شہری کے خلاف مقدمہ درج، اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا۔
24/04/2026

‏ترنول پھاٹک کو "آبنائے ہرمز" کہنے پر شہری کے خلاف مقدمہ درج، اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا۔

23/04/2026

My home
The roof of my home is mine
The solar panel on my home's roof is mine
The sun is Allah Almighty's
But to install solar, I need permission from NEPRA; why?
To get permission, I pay money to the government; why?

23/04/2026

ایسے لوگوں کو واقعی صرف CCDہی درست کر سکتی ہے، بے چارہ فوڈ ڈیلیوری کرنے والا ہاتھ جوڑتا رہا مگر ذرا رحم نہیں آیا بلکہ بیگ سے کھانا بھی چرا کر لے گئے۔

23/04/2026

ایران میں رجیم چینج کرنے کے خواب دیکھنے والے رضا پہلوی کہ منہ پر ٹماٹر مار دئیے گئے

21/04/2026

Every time I see videos like this from India, I say,

Thank you, Allah. Thank you, Jinnah 🇵🇰

20/04/2026

یہ شخص فزکس پر اعتماد کرتا ہے اور 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہوئے ٹرک سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پیچھے کی طرف چھلانگ لگا دیتا ہے!

20/04/2026

ایران نے امریکہ سے بات کرنے سے انکار کردیا

18/04/2026

ٹرمپ پاکستان کے دورہ کے دوران!

پنجاب حکومت کا    میں کمی کا فیصلہوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منظوری دے دیپنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد چالان میں کمی ...
17/04/2026

پنجاب حکومت کا میں کمی کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منظوری دے دی

پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد چالان میں کمی ہو جائیگی

◀️ ہیلمٹ کی خلاف ورزی کا جرمانہ 2000 سے کم کرکے 1000 روپے کرنے کی تجویز

◀️ رکشہ پر سگنل کی خلاف ورزی یا اوور لوڈنگ کرنے پر جرمانہ 3000 سے کم کرکے 1000 روپے کرنے کی تجویز

◀️ رانگ وے یا ون وے کی خلاف ورزی پر جرمانہ 2000 سے کم کرکے 1200 روپے کرنے کی تجویز

◀️ سگنل کراس کرنے کی خلاف ورزی پر جرمانہ 1000 سے کم کرکے 500 روپے کرنے کی تجویز

◀️ اوور سپیڈنگ پر جرمانہ 2500 سے کم کرکے 1500 روپے کرنے کی تجویز

◀️ کم عمر ڈرائیونگ پر جرمانہ 5000 سے کم کرکے 2500 روپے کرنے کی تجویز

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Najam ud Din Arbkan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Najam ud Din Arbkan:

Share