Chishti Law Chamber

Chishti Law Chamber This page is about all Legal Services, to promote Rule of Law & for Welfare of general Public.

جن لوگوں کو ایلومیناٹی۔ ڈارک ویب ۔ اور اس جیسی چیزوں کا پتہ ہے انہیں اپسٹین فائلز میں موجود مواد دیکھ کر زیادہ شاک نہیں ...
14/02/2026

جن لوگوں کو ایلومیناٹی۔ ڈارک ویب ۔ اور اس جیسی چیزوں کا پتہ ہے انہیں اپسٹین فائلز میں موجود مواد دیکھ کر زیادہ شاک نہیں لگا ہاں یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھنا اور یہ جاننا کہ یہ سب ابھی بھی کہیں نا کہیں ہو رہا ہے ڈارک ویب کی صورت میں جنگوں کی صورت میں اور انہی کے کارندے اس وقت دنیا کو لیڈ کر رہے ہیں اور زیادہ اذیت ناک یہ ہے کہ اسے روکا نہیں جاسکتا سکوئڈ گیم کے وی آئپیز یہی کچھ ہیں یہ سبھی شیطان کے پجاری ہیں۔۔۔۔ بس اپنے بچوں کو اس بارے بتائیں آگے آنے والا دور دجال کا ہے ابھی پتہ نہیں ہم نے اور کیا کیا دیکھنا ہے اپنی نسلوں کو تیار کریں چاہے لوگ آپکا مزاق اڑائیں پھر بھی اس متعلق بات کرتے ہیں آگاہی پھیلاتے رہیں
ایک وقت تھا اس ایلومیناٹی ٹائپ تنظیموں کے بارے میں بات کرنے والوں کا مزاق اڑایا جاتا تھا بلکہ اب بھی بہت سے لوگ دجال ایلومیناٹی اور ڈارک ویب کے بارے میں بتانے والوں کا مزاق اڑاتے ہیں ۔
تو ذرا سوچیں ان لوگوں خانہ کعبہ کا غلاف کیوں چاہیے تھا وہ لوگ بچوں کو کیوں کھاتے ہیں انہیں قربان کیوں کرتے ہیں ؟ یہ سب آدم کے ساتھ شیطان کی دشمنی ہے انسان کو انسانیت سے گرا کر انسان کی شخصیت ٹرانس جینڈرز اور اوتھرکن کے ذریعے مسخ کر کے انسان سے درندوں سے بری حرکتیں کروا کر انسان یعنی اولادِ آدم کو اشرف المخلوقات کے درجے سے گرا کر شیطان خوش ہوتا ہے یہ وہ حسد ہے جو تب شروع ہوا تھا جب شیطان نے کہا تھا میں اسے کیوں سجدہ کروں یہ تو خاک سے بنا ہے اور میں آگ سے بنا ہوں میں اس سے بہتر ہوں یہ وہ اختیار استعمال کرتا ہے کہ میں تیرے بندوں کو بھٹکاؤں گا لیکن یاد رکھیں خدا نے بھی وعدہ کیا تھا کہ جو توبہ کرے گا اللّہ کی رسی کو تھامے رکھے گا خدا اسے نجات دے گا تو نا امید مت ہوں اپنے بچوں کو صحیح طریقے سے گائیڈ کریں تاکہ وہ ان سب چیزوں کا شکار نا ہوں۔

لاہور ہائی کورٹ نے خُلع کی بنیاد پر شادی کو تحلیل کرنے🙃 کے خاندانی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے، کیونکہ خواتین کے خ...
11/02/2026

لاہور ہائی کورٹ نے خُلع کی بنیاد پر شادی کو تحلیل کرنے🙃 کے خاندانی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے، کیونکہ خواتین کے خُلع کے حق کے باوجود عدالت نے بیوی کی صریح رضامندی یا طلاق کی خواہش کو جانے بغیر اور فریقین میں مکمل مصالحت کی حقیقی کوشش کیے بغیر جلدبازی میں یہ فیصلہ صادر کر دیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ خاندانی عدالت کا بنیادی مقصد رشتوں کو بچانے
اور مصالحت کرانا ہے، نہ کہ بلاوجہ شادیوں کو ختم کرنا۔

پہلے تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس ہولناک معاملے کا آغاز کب ہوا ؟اور اس سے بھی پہلے یہ یہ سمجھتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کون تھا ا...
04/02/2026

پہلے تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس ہولناک معاملے کا آغاز کب ہوا ؟

اور اس سے بھی پہلے یہ یہ سمجھتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کون تھا اور یہ امیر کیسے ہوا ؟

​ایپسٹین نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک اسکول ٹیچر کے طور پر کیا ، لیکن جلد ہی وہ وال اسٹریٹ (Wall Street) کی مالیاتی دنیا میں گھس گیا۔

اس کا سب سے بڑا کلائنٹ لیسلی ویزنر (L Brands کا مالک) تھا ، جس نے ایپسٹین کو اپنی دولت سنبھالنے کے لیے غیر معمولی اختیارات دیے۔

کئی بڑے تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایپسٹین کی اصل دولت "معلومات" تھی۔یہ شخص طاقتور لوگوں کو ایسی سرگرمیوں میں ملوث کرتا جن کی ویڈیوز وہ خفیہ طور پر ریکارڈ کر لیتا تھا ، اور یہی وہ "سرمایہ" تھا جس کے زور پر وہ بڑے لوگوں تک پہنچا اور انہیں اپنی مٹھی میں رکھا۔

ایپسٹن جیفری کا ٹرمپ سے تعلق کب سے تھا ؟

2002 میں ٹرمپ نے نیویارک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا : میں جیفری کو 15 سال سے جانتا ہوں ، وہ ایک زبردست انسان ہے۔
اس کے ساتھ وقت گزارنا بہت دلچسپ ہوتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت عورتیں پسند کرتا ہے ، جن میں اکثر کم عمر ہوتی ہیں۔

(یہ بیان اب ٹرمپ کے لیے ایک بوجھ بن چکا ہے)۔

اگرچہ بعد میں ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کا ایپسٹین سے جھگڑا ہو گیا تھا اور انہوں نے اسے اپنے 'مار-اے-لاگو' کلب سے نکال دیا تھا لیکن جو ریکارڈز ہیں ، واضح بتاتے ہیں کہ وہ کئی بار ایک دوسرے کی نجی پارٹیوں میں شریک رہے۔

ایپسٹین کے پاس اپنا ایک نجی طیارہ تھا جسے میڈیا نے "Lo**ta Express" کا نام دیا ، اس طیارے کے لاگ بکس (Log Books) میں دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کے نام درج ہیں جو ایپسٹین کے نجی جزیرے "Little St. James" پر جاتے تھے۔

اس پورے کیس میں ایک عورت کا ذکر بہت ضروری ہے ، جس کا نام غیسلین میکسویل (Ghislaine Maxwell) ہے۔

یہ عورت برطانوی میڈیا ٹائیکون رابرٹ میکسویل کی بیٹی تھی۔

اور اسی نے ایبسٹین کے لیے بڑے بڑے لوگوں (جیسے شہزادہ اینڈریو اور بل کلنٹن) کے دروازے کھولے۔

عدالتی دستاویزات اور متاثرہ خواتین کے بیانات کے مطابق غیسلین کے ذمہ یہ کام تھے ، وہ اسکولوں اور غریب علاقوں سے بچیوں کو ڈھونڈتی تھی اور انہیں "مساج" یا "ماڈلنگ" کا جھانسہ دے کر ایبسٹین کے پاس لاتی تھی۔
وہ معصوم لڑکیوں کا اعتماد جیتتی اور پھر انہیں ایبسٹین کی جنسی ہوس کے لیے تیار کرتی۔ متاثرہ لڑکیوں نے بیانات دیے ہیں کہ غیسلین خود ان مظالم کے وقت وہاں موجود ہوتی تھی یا نگرانی کرتی تھی۔

وہ ایبسٹین کی پرائیویٹ لائف اور اس کے جزیرے پر آنے والے مہمانوں کی تفصیلات اور ویڈیوز سنبھالنے میں اس کی مدد کرتی تھی۔

اس کیس کی اہم ترین گواہ ورجینیا جوفرے نے حلفیہ بیان دیا کہ غیسلین میکسویل نے ہی اسے 17 سال کی عمر میں ایبسٹین کو بیچا اور اسے مجبور کیا کہ وہ برطانیہ کے شہزادہ اینڈریو کے ساتھ تعلقات استوار کرے۔

پولیس کو تحقیقات کے دوران ایبسٹین کی ایک ڈائری ملی جس میں سینکڑوں طاقتور لوگوں کے فون نمبر اور نجی معلومات درج تھیں۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس ڈائری کو ترتیب دینے میں غیسلین کا بڑا ہاتھ تھا۔

جولائی 2020 میں اسے گرفتار کیا گیا اور 2021 میں امریکی عدالت نے اسے سیکس ٹریفکنگ (S*x Trafficking) اور دیگر سنگین جرائم میں جرم ثابت ہونے پر 20 سال قید کی سزا سنائی۔

وہ اس وقت فلوریڈا کی ایک فیڈرل جیل میں اپنی سزا کاٹ رہی۔

آپ اس کی سزا اور تحقیقات کی تفصیلات بی بی سی یا الجزیرہ کی ان رپورٹس میں دیکھ سکتے ہیں:
BBC: Ghislaine Maxwell sentenced to 20 years
Al Jazeera: The rise and fall of Ghislaine Maxwell

جب یہ تحقیقات جاری تھیں تب ایک ڈیل ہوئی ۔

ڈیل کیا تھی؟

2008 میں جب فلوریڈا میں ایپسٹین پر درجنوں بچیوں کے ریپ کے الزامات تھے ، تو اس وقت کے وفاقی پراسیکیوٹر الیکزینڈر اکوسٹا نے ایپسٹین کے ساتھ ایک انتہائی نرم "نان پراسیکیوشن ایگریمنٹ" (Non-prosecution Agreement) سائن کیا۔

اس ڈیل کے نتیجے میں ایپسٹین عمر قید سے بچ گیا اور اسے صرف 13 ماہ کی معمولی سزا ہوئی ، وہ بھی اس شرط پر کہ وہ دن میں کام کے لیے جیل سے باہر جا سکتا تھا۔
پھر جب ڈونلڈ ٹرمپ صدر بنے تو انہوں نے اسی الیکزینڈر اکوسٹا کو امریکہ کا وزیرِ محنت (Labor Secretary) مقرر کر دیا۔
اور یہ وہ کڑی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ طاقتور حلقوں نے ایک دوسرے کو بچانے کے لیے کس طرح عہدوں کی بندر بانٹ کی۔
(تاہم ، 2019 میں جب ایپسٹین دوبارہ گرفتار ہوا اور پرانی ڈیل پر احتجاج ہوا تو اکوسٹا کو استعفیٰ دینا پڑا)۔

اب یہ سمجھیئے کہ اس ہولناک معاملے کا آغاز کب ہوا ؟

2005 میں کہ جب فلوریڈا کی پولیس کو ایک چودہ سالہ لڑکی کے حوالے سے شکایت موصول ہوئی۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایپسٹین اپنے گھر پر کم عمر لڑکیوں کو "مساج" کے بہانے بلاتا اور ان کا جنسی استحصال کرتا تھا۔
اس وقت ایپسٹین نے ایک "پلی بارگین" (Plea Deal) کی ، جس کے تحت اسے صرف 13 ماہ کی معمولی سزا ہوئی اور وہ دن میں اپنے کام پر بھی جا سکتا تھا۔

اس معاہدے نے بڑے سوالات کھڑے کیے کہ آخر اسے اتنی رعایت کیوں دی گئی؟

کئی سالوں کی خاموشی کے بعد ، 2019 میں نیویارک ٹائمز اور دیگر اخبارات کی رپورٹنگ نے اس کیس کو دوبارہ زندہ کیا۔
جولائی 2019 میں ایپسٹین کو پیرس سے واپسی پر گرفتار کیا گیا ۔

اس بار الزامات "سیکس ٹریفکنگ" (S*x Trafficking) اور ایک منظم نیٹ ورک چلانے کے تھے۔

اگست 2019 میں مقدمے کی سماعت کے دوران ، ایپسٹین جیل میں مردہ پایا گیا۔ حکام نے اسے خودکشی قرار دیا لیکن اس پر اب بھی کئی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

ہم جس فائل کا ذکر کر ہے ہیں یہ دراصل ان ہزاروں صفحات پر مشتمل عدالتی دستاویزات کا ایک حصہ ہے جو 2024 کے آغاز میں عدالت کے حکم پر پبلک کی گئیں۔

عالمی سطح پر بچوں کے اغوا کا ڈیٹا دیکھیے "لیکن اس سے پہلے بطورِ تمہید ایک دو باتیں سمجھ لیجئے تاکہ آپکو معلوم ہو کہ ہم ی...
04/02/2026

عالمی سطح پر بچوں کے اغوا کا ڈیٹا دیکھیے "

لیکن اس سے پہلے بطورِ تمہید ایک دو باتیں سمجھ لیجئے تاکہ آپکو معلوم ہو کہ ہم یہ ڈیٹا آپ کے سامنے رکھ کر آپکو سمجھانا اور بتانا کیا چاہتے ہیں!

عالمی اداروں (ICMEC اور UNICEF) کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 80 لاکھ (8 Million) بچے لاپتہ ہوتے ہیں۔

مختصرا ملک ، خطہ ، سالانہ لاپتہ بچے (اوسط) اہم وجہ اور مقصد بھی ساتھ جان لیجئے ۔

امریکہ 460,000 سے 500,000 جنسی استحصال، ڈارک ویب، نجی نیٹ ورکس

برطانیہ (UK) 112,000 سے 140,000 جبری مشقت، منشیات کی اسمگلنگ، بدفعلی

یورپی یونین (EU) 250,000 (ہر 2 منٹ میں ایک) سرحد پار اسمگلنگ، غیر قانونی گود لینا

کینیڈا 45,000 سے 50,000 بھاگے ہوئے بچے جو شکاریوں کے ہتھے چڑھتے ہیں

برازیل / لاطینی امریکہ 40,000 سے 50,000 اعضاء کی اسمگلنگ اور مشقت

روس 45,000 انٹرنیٹ پر مبنی جنسی جرائم

چونکہ ہم جس کیس پر اسٹدی کر رہے ہیں اسکا تعلق خصوصاً ان تین ممالک سے اور اس کے ساتھ ساتھ عرب ممالک سے بھی ہے ۔

ایک بار ان تین کا اعداد و شمار پھر دیکھ لیجئے ۔

امریکہ : سالانہ تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار بچے۔
بھارت : سالانہ تقریباً 1 لاکھ بچے۔
پاکستان : سالانہ 3 سے 5 ہزار (صرف رپورٹ شدہ)۔

پھر پاکستان، بنگلہ دیش اور سوڈان سے 4 سے 7 سال کے ہزاروں بچے اغوا یا خرید کر عرب ممالک اسمگل کیے گئے۔ ان بچوں کو جان بوجھ کر "بھوکا" رکھا جاتا تھا تاکہ ان کا وزن نہ بڑھے اور وہ اونٹ پر تیز دوڑ سکیں۔

ابھی بہت کچھ ہم آپ سے پڑھوانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ محض ماضی کا قصہ نہیں ، بلکہ آج بھی دبئی پورٹا پوٹی (Porta Potty) جیسے اسکینڈلز اور نجی جزیروں پر ہونے والی پارٹیاں ثابت کرتی ہیں کہ تیل کی دولت نے انسانوں کو مالِ تجارت بنا دیا ہے۔

پورٹا پورٹی کیا ہے ؟

یہ ایک ایسی اصطلاح جس کا مطلب ہے موبائل ٹوائلٹ سیٹ ، جسے کہیں بھی لایا جا سکتا ہے۔
اس اسکینڈل میں یہ اصطلاح ان خواتین (ماڈلز، انفلوئنسرز اور انسٹاگرام اسٹارز) کے لیے استعمال کی گئی جنہیں عرب شہزادے اور ارب پتی محض اپنی "غلاظت" نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس اسکینڈل کے مطابق ، دولت کے نشے میں چور یہ لوگ ان ماڈلز کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کرتے ہیں۔ اس میں انسانی فضلہ (F***s) کھانا ، پیشاب پینا اور دیگر ایسی حرکات شامل ہیں جنہیں بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ ان لڑکیوں کو لفظی طور پر "انسانی ٹوائلٹ" کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اسی لیے اس کا نام "پورٹا پورٹی" پڑا۔

بی سی کی اصل رپورٹ کا لنک : BBC World Service - Death in Dubai
(نوٹ: یہ بی بی سی کے "World of Secrets" پوڈ کاسٹ کا سیزن 9 ہے ، جس کا عنوان ہے "Death in Dubai")

رپورٹ میں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ کس طرح افریقی اور یورپی لڑکیوں کو "دولت اور چکا چوند" کے نام پر دبئی بلایا جاتا ہے۔ وہاں ان کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک (انسانی فضلہ کھلانے وغیرہ) کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، وہ محض افواہ نہیں تھیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ تھیں۔ اس رپورٹ کا مرکزی کردار مونک نامی لڑکی ہے ، جس کی موت دبئی میں ہوئی اور اس کے گرد وہی پورٹا پوٹی کی گھناؤنی کہانیاں تھیں۔ بی بی سی نے اس کے "باس" تک پہنچنے کی کوشش کی اور اس پورے کالے دھندے کو بے نقاب کیا جس میں طاقتور لوگ ملوث ہیں۔

جب بی بی سی جیسا ادارہ یہ تسلیم کر رہا ہے کہ وہاں ان لڑکیوں کی بولیاں لگتی ہیں اور انہیں بدترین جنسی و جسمانی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

تو پھر کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ عالمی اشرافیہ کے ارادے کیا ہیں؟

خیر چلئے ، اب یہاں سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں!

کیوں یہ ڈیٹا سامنے نہیں آتا ؟

پہلی وجہ چونکہ مغربی میڈیا (جو کہ خود ان فائلوں میں ملوث ہے) عرب شہزادوں کے خلاف اس لیے نہیں لکھتا کیونکہ ان کے مالی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

دوسری وجہ یہ کہ ان نیٹ ورکس میں شامل عربوں کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ عالمی اداروں اور خبر رساں ایجنسیوں کے منہ بند کر دیتے ہیں۔

اب آجائیے واپس اپنے موضوع پر کہ جب بچے اغوا ہوتے ہیں۔۔۔

تو یہ بچے کہاں جاتے ہیں؟

عالمی تحقیقات (Global Report on Trafficking in Persons) کے مطابق اغوا شدہ بچوں کو ان چار بنیادی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے:

جبری مشقت اور بھیک (Forced Labor): تقریباً 30% بچے سستی لیبر یا گداگری کے لیے اسمگل ہوتے ہیں۔

جنسی استحصال (S*xual Exploitation): یہ سب سے ہولناک پہلو ہے جس میں بچوں کو ڈارک ویب (Dark Web) اور پورنوگرافی کی عالمی منڈی میں جھونکا جاتا ہے۔

غیر قانونی گود لینا (Illegal Adoption): بہت سے بچے امیر ممالک کے جوڑوں کو بھاری قیمت پر بیچ دیے جاتے ہیں۔

اعضاء کی اسمگلنگ (Organ Trafficking): WHO کے مطابق، عالمی سطح پر گردوں اور دیگر اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری کا بڑا حصہ ان لاپتہ بچوں یا لاوارث افراد سے حاصل کیا جاتا ہے۔

حالیہ "فائلوں" کا ان سے کیا لنک ہے؟

حالیہ برسوں میں "ایپسٹین لسٹ" (Epstein Files) اور اس جیسے دیگر انکشافات نے وہ کڑی واضح کر دی ہے جو اب تک چھپی ہوئی تھی:
لنک 1 (طاقتور سرپرستی) ، یہ فائلیں ثابت کرتی ہیں کہ بچوں کا اغوا محض چھوٹے گروہوں کا کام نہیں، بلکہ اس کے پیچھے عالمی اشرافیہ (Elite)، سیاستدان اور بڑے کاروباری لوگ شامل ہیں جو ان بچوں کو اپنی شیطانی جبلتوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لنک 2 (سپلائی چین) ، یہ طاقتور لوگ ایسے قوانین کی پشت پناہی کرتے ہیں جو خاندانی نظام کو کمزور کریں۔ جب خاندان ٹوٹتا ہے تو "لاوارث" بچوں کی تعداد بڑھتی ہے، جس سے اس عالمی مافیا کو "سستا اور بے نام خام مال" ملتا رہتا ہے۔

لنک 3 (تحفظ کا خاتمہ) ، یہ فائلیں بتاتی ہیں کہ کیوں بڑے بڑے ادارے ان جرائم پر خاموش رہتے ہیں؛ کیونکہ مجرم خود ان اداروں کو کنٹرول کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔

یہ سب کیسے ہوتا ہے؟

آئیے ، اس "انسانی شکار" کے عمل کو بالکل نچلی سطح سے شروع کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ گلی کے کونے سے اٹھ کر بین الاقوامی فائلوں تک کیسے پہنچتا ہے :

ایک عام آدمی کے آس پاس یہ کھیل یوں شروع ہوتا ہے:

پہلی دستک (ڈیجیٹل) آپ کا بچہ موبائل پر گیم کھیل رہا ہے یا ویڈیو دیکھ رہا ہے۔

وہاں کوئی انجان "دوست" بنتا ہے ، اسے تحفے یا توجہ کا لالچ دیتا ہے۔
یہ پہلا قدم ہے اسے ذہنی طور پر گھر سے توڑنے کا۔

چونکہ آج کی ماں معاشی بوجھ تلے دبی کام پر ہے ، باپ رزق کی تگ و دو میں باہر ہے۔ بچہ گلی میں تنہا ہے یا کسی ایسے "بڑے" کے پاس ہے جسے آپ "بھروسہ مند" سمجھتے ہیں۔

بچہ زبردستی نہیں اٹھایا جاتا، اکثر اسے ورغلا کر، کسی بہانے سے یا نشہ آور چیز سنگھا کر خاموشی سے غائب کر دیا جاتا ہے۔ اب وہ آپ کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے۔

پہلا مرحلہ ختم اب دوسرا شروع اسکے بعد وہ بچہ گلی سے نکل کر شہر کے کسی "گودام" یا "محفوظ ٹھکانے" پر پہنچتا ہے وہاں اس کے بال کاٹ دیے جاتے ہیں ، اس کے کپڑے بدل دیے جاتے ہیں تاکہ وہ پہچانا نہ جا سکے۔

پھر یہاں مقامی ایجنٹ اس کے جعلی کاغذات (ب فارم یا برتھ سرٹیفکیٹ) تیار کرتے ہیں۔ اسے کسی "لاوارث یتیم خانے" یا "این جی او" کے ریکارڈ میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ قانونی طور پر اسے منتقل کرنا آسان ہو۔

اسکے بعد وہ مقام آتا ہے جہاں یہ کھیل بین الاقوامی ہو جاتا ہے ان بچوں کو سمندری کنٹینرز، نجی طیاروں یا غیر قانونی زمینی راستوں (مثلاً ایران سے ترکی اور پھر یورپ) کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔

اسکے بعد وہ "فائلیں" حرکت میں آتی ہیں جن کا ہم ذکر کر رہے تھے۔
طاقتور لوگ بارڈرز اور ایئرپورٹس پر ایسی "کھڑکیاں" کھلی رکھتے ہیں جہاں سے یہ انسانی گوشت خاموشی سے پار ہو جاتا ہے۔

جب بچہ باہر پہنچ جاتا ہے، تو اب وہ ان ہاتھوں میں ہے جن کا ذکر عالمی تحقیقات میں ہے۔

یہاں سے وہ ان لنکس سے جڑتا ہے:

کیسے ؟

کہ اگر بچہ بہت چھوٹا ہے یا اس کی مانگ نہیں ، تو اسے "اعضاء" نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اعضاء امیر ممالک کے ہسپتالوں میں لاکھوں ڈالرز میں بکتے ہیں۔

اور وہ بچے جو شکل و صورت میں بہتر ہوتے ہیں، انہیں ان طاقتور لوگوں کے "نجی جزیروں" یا "خفیہ اڈوں" پر پہنچایا جاتا ہے جن کا نام ایپسٹین فائلوں میں موجود ہے۔ وہاں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور ان کی ویڈیوز بنا کر بڑے لوگوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اور باقی بچوں کو جبری مشقت یا جدید غلامی کی منڈیوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔

آپ کو یاد ہو اگر تو قصور کے "زینب الرٹ" کیس کے دوران یہ انکشافات سامنے آئے تھے کہ یہ محض ایک فرد (عمران) کا کام نہیں تھا۔

​ اس وقت کے کئی سینئر صحافیوں اور محققین نے دعویٰ کیا تھا کہ قصور سے اغوا ہونے والے بچوں کی ویڈیوز "ڈارک ویب" پر بیچی جاتی تھیں اور اس نیٹ ورک کے تانے بانے بااثر سیاسی شخصیات سے ملتے تھے۔
اسی لیے اصل "ماسٹر مائنڈز" کبھی سامنے نہیں آئے۔

اگر آپکو یاد ہو 2019 میں ایف آئی اے نے ایک انکوائری رپورٹ مرتب کی تھی جس میں 629 پاکستانی لڑکیوں کی فہرست دی گئی تھی جنہیں چین اسمگل کیا گیا۔

​رپورٹ کے الفاظ تھے کہ "اسمگلروں نے غریب خاندانوں کو 'خوشحال مستقبل' کا جھانسہ دے کر نکاح کے نام پر انسانی سودے بازی کی۔
​ اسی رپورٹ کے حوالے سے اس وقت کے ایف آئی اے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ "حکومتی حلقوں کی جانب سے شدید دباؤ ہے کہ ان کیسز کو دبا دیا جائے تاکہ پاک-چین تعلقات پر اثر نہ پڑے ، جی ۔

اور تو اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی TIP رپورٹ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ پاکستان کے بااثر طبقے ان اسمگلروں کے سہولت کار ہیں۔

اب پھر سؤال کیجئے ، یہ سب آپس میں کیسے جڑا ہوا ہے؟ (The Master Link)

اب ایک عام آدمی سوچے کہ ان تمام لنکس کا آپس میں تعلق کیا ہے؟

یوں کہ پہلے قانون آپ کے گھر کی دیوار کمزور کرتا ہے (محافظ کو بے اختیار کر کے) ، معیشت ماں کو بچے سے دور کرتی ہے ، ٹیکنالوجی شکاری کو آپ کے بیڈروم تک رسائی دیتی ہے ، عالمی اشرافیہ ان بچوں کو خریدتی ہے تاکہ اپنی شیطانی خواہشات پوری کر سکے۔ی

رجسٹری انتقال سرکاری ریٹ پر کیوں نہیں ہو رہا ؟اسی حکومت کی فیس لسٹ میں صاف لکھا ہے: ہبہ گفٹ Gift / Hibaصرف 500 روپے Muta...
28/01/2026

رجسٹری انتقال سرکاری ریٹ پر کیوں نہیں ہو رہا ؟
اسی حکومت کی فیس لسٹ میں صاف لکھا ہے:

ہبہ گفٹ Gift / Hiba
صرف 500 روپے Mutation Fee
کوئی Stamp Duty
کوئی FBR ٹیکس نہیں

ہم نے زمین بیچی نہیں، پیسے لیے نہیں، Gift/Hibba پر بھی ٹیکس لے رہے ؟

تحریر پڑھ لیں سب سمجھ لگ جائے گی !

حکومت کا سرکاری مؤقف کیا ہے؟

حکومتِ پنجاب کے تازہ نوٹیفکیشن جو میں نے ساتھ شعئر کیا ہے کے مطابق:

زبانی بیان، قبضہ یا پرانے دعوے پر انتقال Mutation نہیں ہوگی

وراثت (Inheritance) بدستور بغیر رجسٹری ممکن ہے
فروخت، گفٹ، ہبہ، تبادلہ، رہن
صرف رجسٹرڈ دستاویز پر ہی Mutation ہوگی

یعنی:

رجسٹری کے بغیر انتقال کا پرانا نظام تقریباً ختم

لیکن جب آن لائن سسٹم کھولا جاتا ہے…

اصل مسئلہ یہاں شروع ہوتا ہے 😐

💻 e-Stamping / e-Registration

سسٹم:
• DC Rate خود نکالتا ہے
• Stamp Duty خود لگا دیتا ہے
• Challan generate
کیے بغیر آگے نہیں جانے دیتا

سسٹم یہ نہیں پوچھتا:
• یہ باپ سے بیٹے کو زمین ہے؟
• یہ بلا معاوضہ ہبہ ہے؟
• یہ خاندانی معاملہ ہے؟

وہ صرف دیکھتا ہے:

Transfer = Payment required

امسئلہ کیا ہے؟

سرکاری کاغذ جو میں نے شئر کہتا ہے:

Gift /Hibba
پر صرف 500 روپے”

سسٹم کہتا ہے:
“Gift
بھی Transfer
ہے،
Transfer پر DC
ریٹ
اور Stamp Duty لازم”

یعنی:

قانون ایک صفحے پر،
سسٹم دوسرے صفحے پر،
اور عوام بیچ میں پھنسے ہوئے!

تو آج کے حالات میں حقیقت کیا ہے؟

وراثت — اب بھی محفوظ اور فیس فری⚠️
Gift / Hiba — قانونی طور پر جائز

مگر آن لائن سسٹم میں فیس کے بغیر تقریباً ناممکن

حکومت آن لائن سسٹم کو قانون کے مطابق update کیا جائے

جب تک ایسا نہیں ہوتا:

عوام قانون مان کر بھی فیس دیتی رہے گی 😔

اسکا حل بھی ہے ایک تو اسکو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے دوسرا حل

عدالت سے ڈگری لیں کہ:

“فلاں شخص اس زمین کا مالک ہے
کیونکہ ہبہ ماضی میں مکمل ہو چکا تھا
(قبضہ، قبولیت، ایجاب کے ساتھ)
Lahore High Court
WhatsApp message
03227907300

Share for information and awareness:

📢 FBR کے لیے سپریم کورٹ کی بڑی وارننگ: "قانون سب کے لیے برابر ہے، کھلواڑ بند کریں!" ⚖️🏛️​آج مورخہ 27 جنوری 2026 کو سپریم...
27/01/2026

📢 FBR کے لیے
سپریم کورٹ کی بڑی وارننگ: "قانون سب کے لیے برابر ہے، کھلواڑ بند کریں!" ⚖️🏛️
​آج مورخہ 27 جنوری 2026 کو سپریم کورٹ نے ایف بی آر (FBR) کی من مانیوں کے خلاف ایک تاریخی اور سبق آموز فیصلہ سنا دیا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب صاحب نے واضح کر دیا ہے کہ سرکاری ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے عدالتوں کا وقت ضائع نہیں کر سکتے۔
​اس فیصلے کے اہم نکات جو ہر شہری کو معلوم ہونے چاہئیں:
​✅ 120 دن کی ڈیڈ لائن "لازمی" ہے: سپریم کورٹ نے دو ٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد 120 دن کے اندر فیصلہ کرنا لازمی (Mandatory) ہے۔ اگر FBR اس مدت کے بعد آرڈر پاس کرے گا تو وہ غیر قانونی تصور ہوگا، جیسا کہ اس کیس میں ہوا۔
​✅ عدالتی وقت کا ضیاع بند کریں: عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا کہ جب سپریم کورٹ ایک قانون طے کر چکی ہے (Article 189)، تو سرکاری محکمے بار بار وہی پرانے مسائل لے کر عدالتوں میں کیوں آتے ہیں؟ اس سے نہ صرف عدالتوں پر بوجھ بڑھتا ہے بلکہ سائلین کو انصاف ملنے میں بھی تاخیر ہوتی ہے۔
​✅ عوامی پیسے کا ضیاع: سرکاری افسران اپنی ضد پوری کرنے کے لیے عوامی ٹیکس کے پیسے سے مہنگے وکیلوں اور عدالتی فیسوں پر لاکھوں روپے ضائع کرتے ہیں، جس کی اب اجازت نہیں دی جائے گی۔
​✅ چیئرمین FBR کو خصوصی ہدایت: عدالت نے حکم دیا ہے کہ چیئرمین FBR ایک ایسی آزاد کمیٹی بنائیں جس میں ریٹائرڈ جج، ٹیکس ماہرین اور دیانتدار افسران شامل ہوں، جو اپیل دائر کرنے سے پہلے یہ دیکھیں کہ کیا واقعی اپیل کا کوئی قانونی جواز ہے یا صرف وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔
​📍 کیس کا حوالہ:
اسسٹنٹ کمشنر IR بنام عمر طارق خان
جج: جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
تاریخ: 27 جنوری 2026
​نتیجہ: اگر
FBR آپ کو نوٹس دے اور 120 دن کے اندر فیصلہ نہ کرے، تو قانون اب آپ کے ساتھ کھڑا ہے!
​قانون کی آگاہی ہی آپ کی طاقت ہے۔ اس اہم فیصلے کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں!
​منجانب: سجاد حسین بھٹی ایڈووکیٹ
، ڈسٹرکٹ وہاڑی

یکم فروری 2026 سے نئے قانون لاگو  بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں پر 2 بڑی پابندیاں عائد — پروٹیکٹر کے نئے اصول!حکومت...
27/01/2026

یکم فروری 2026 سے نئے قانون لاگو
بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں پر 2 بڑی پابندیاں عائد — پروٹیکٹر کے نئے اصول!

حکومت پاکستان اور بیورو آف امیگریشن نے بیرون ملک کام (Work Visa) پر جانے والے شہریوں کے لیے دو نئی اور لازمی شرائط نافذ کر دی ہیں۔ اگر آپ ان پر عمل نہیں کریں گے تو نہ پروٹیکٹر لگے گا اور نہ ہی جہاز میں بیٹھنے دیا جائے گا۔

1. سافٹ اسکلز ٹریننگ (Soft Skills Training) - لازمی شرط
اب "پروٹیکٹر" لگوانے سے پہلے آپ کو آن لائن ٹریننگ مکمل کر کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔
• یورپ کے لیے: 1 جنوری 2026 سے یہ شرط نافذ ہو چکی ہے۔
• خلیجی ممالک (سعودی عرب، دبئی، قطر وغیرہ) کے لیے: یہ شرط 1 فروری 2026 سے لاگو ہوگی۔
• طریقہ کار: یہ سرٹیفکیٹ آپ "PakSoftSkills" ایپ یا سرکاری ویب سائٹ softskills oec سے حاصل کر سکتے ہیں۔
2. ای-پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ (e-Protector) - ایئرپورٹ کے لیے
• یکم فروری 2026 سے پرانے مہر والے سسٹم کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل "e-Protector" سرٹیفکیٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
• ایئرپورٹ پر بورڈنگ پاس تب ہی ملے گا جب آپ کے پاس یہ ڈیجیٹل ثبوت ہوگا۔

خلاصہ (Summary):
پہلے آن لائن ٹریننگ کریں، پھر پروٹیکٹر لگوائیں، اور سفر سے پہلے اپنا e-Protector ڈاؤن لوڈ کرنا نہ بھولیں!

⚠️ Disclaimer: This content is based on official notifications from the Bureau of Emigration & Overseas Employment.

مشترکہ جائیداد میں حکمِ امتناعیمشترکہ جائیداد میں تمام شریک مالکان ہر انچ کے مشترکہ مالک ہوتے ہیں، اس لیے کوئی ایک شریک ...
19/01/2026

مشترکہ جائیداد میں حکمِ امتناعی
مشترکہ جائیداد میں تمام شریک مالکان ہر انچ کے مشترکہ مالک ہوتے ہیں، اس لیے کوئی ایک شریک دوسرے کو قبضہ یا استعمال سے نہیں روک سکتا اور نہ ہی اس بنیاد پر حکمِ امتناعی (انجکشن) لے سکتا ہے۔
البتہ اگر کوئی شریک مشترکہ جائیداد میں تعمیر شروع کرے یا اس کی نوعیت تبدیل کرے جس سے دوسرے شرکاء کو نقصان ہو، تو متاثرہ شریک کو حق حاصل ہے کہ وہ تعمیر یا تبدیلی رکوانے کے لیے دعویٰ دائر کرے۔
ایسی صورت میں تعمیر یا تبدیلی کرنے والے شریک کے لیے لازم ہے کہ پہلے جائیداد کی باقاعدہ تقسیم کرائے، پھر تعمیر کرے۔

امریکہ اپنا نقصان کر رہا ہے ایک سال پہلے کینیڈا کے وزیراعظم نے چین کو Biggest security threat for Canadaکہا تھا اور 2024...
18/01/2026

امریکہ اپنا نقصان کر رہا ہے
ایک سال پہلے کینیڈا کے وزیراعظم نے چین کو
Biggest security threat for Canada
کہا تھا اور 2024 میں چین سے درآمدات پر 100 فیصد ٹیرف لگایا تھا۔ اب کینیڈا کے وزیراعظم کہتے ہیں حالات تبدیل ہوگئے ہیں وہ اپنے چین کے ساتھ تعلقات کو recalibrate کر رہے ہیں۔
چین اس وقت دنیا کی 70 فیصد الیکٹرک کاریں بناتا ہے اور اب کینیڈا نے چینی الیکٹرک کاروں پر ٹیرف 100 فیصد سے کم کرکے 6 فیصد کردیا ہے جو ایک سال میں 49000 کاروں کی درآمد پر ہوگا۔
امریکہ کی کار فیکٹریوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا دھچکہ ہے اور امریکی پالیسی یہی رہی تو چین شمالی امریکہ کی اس مارکیٹ کو قابو کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔
امریکہ پہلے ہی USMCA (یونائیٹڈ سٹیٹس، میکسیکو ، کینیڈا ایگریمنٹ) کو خطرے میں ڈال چکا ہے جو NAFTA کے بعد ان تین ممالک کے درمیان ایک بڑا تجارتی معاہدہ تھا۔
کینیڈا کے ایگریکلچر سیکٹر کے لیے اگر چین بھی ٹیرف کم کردیتا ہے تو کینیڈا کی چین کی طرف تجارتی جھکاؤ اور امریکا سے دوری کا آغاز ہوگا۔ امریکہ کے گرین لینڈ پر چینی قبضے کے خوف سے بڑا خوف امریکہ کی تجارتی منڈیوں پر قبضہ ہے




خاتون کےتین بیٹوں اور دو دامادوں کوپولیس مقابلہ میں ہلاک کرنے کا معاملہسی سی ڈی سربراہ سہیل ظفر چٹھہ اوردیگر اہلکاروں کے...
18/01/2026

خاتون کےتین بیٹوں اور دو دامادوں کوپولیس مقابلہ میں ہلاک کرنے کا معاملہ

سی سی ڈی سربراہ سہیل ظفر چٹھہ اوردیگر اہلکاروں کےخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست کا تحریری فیصلہ جاری

شکایت کا معاملہ ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈینیشن، ایف آئی اے ہیڈکوارٹر اسلام آباد کے سامنے زیرِ التوا ہے،فیصلہ

ڈائریکٹر ایف آئی اے تحقیقات کر کے درخواست کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر کرے،فیصلہ

تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد درخواست نمٹائی جاتی ہے،فیصلہ

ایڈیشنل سیشن جج شفقت شہباز راجہ نے تحریری حکم جاری کیا

درخواست گزار کے مطابق مرنے والوں کو گرفتار کرنے کےسی سی ڈی لاہور لایا گیا،فیصلہ

مرنےوالوں کو مختلف اضلاع کے تھانوں میں منتقل کیا گیا،فیصلہ

مختلف تھانوں میں انہیں جعلی پولیس مقابلوں کے ذریعے قتل کیا گیا،فیصلہ

ایف آئی اے لاہور مکمل بااختیار ہے اور انکوائری کا دائرہ اختیار رکھتی ہے،فیصلہ

سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے،فیصلہ

مرنے والوں کےاہل خانہ کےوکیل آفتاب باجوہ نے دلائل دئیے

پشاورہائی کورٹ نے ہرجانے کے دعویٰ کے حوالے سے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ محض الزامات کی بنیاد پر ہرجانہ منظور نہیں کیا ...
12/01/2026

پشاورہائی کورٹ نے ہرجانے کے دعویٰ کے حوالے سے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ محض الزامات کی بنیاد پر ہرجانہ منظور نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے ٹھوس، قابلِ اعتماد اور قانونی شہادت کا ہونا لازمی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اپیل ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں اپیل کنندہ کا ہرجانے اور ریکوری کا دعویٰ شواہد کی کمی کے باعث مسترد کیا گیا۔ ریکارڈ کے جائزے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اپیل کنندہ کی ملازمت ایک باقاعدہ معاہدے کے تحت تھی جس میں تین ماہ کی تنخواہ بطور نوٹس دینے کی شق موجود تھی اور یہ رقم اسے ادا بھی کر دی گئی۔ اپیل کنندہ خود اس امر کا معترف تھا کہ نظرثانی شدہ معاہدہ نہ تو دعویٰ کے ساتھ منسلک کیا گیا اور نہ ہی بطور ثبوت پیش ہوا۔ عدالت نے شہرت کو نقصان اور ذہنی اذیت کے دعویٰ کو بھی غیر ثابت شدہ قرار دیا کیونکہ اپیل کنندہ کسی توہین آمیز بیان، اشتہار یا خط کی نشاندہی نہ کر سکا۔ ہائی کورٹ نے عمومی اور خصوصی ہرجانے کے اصولوں اور عدالتی نظائر کی روشنی میں قرار دیا کہ نقصان کے وقوع اور اس کی مقدار ثابت کرنا لازمی ہوتا ہے جو اس مقدمہ میں ثابت نہ ہو سکا۔ مزید یہ کہ انفرادی مدعا علیہان کے خلاف ذاتی حیثیت میں ہرجانے کا کوئی جواز موجود نہیں تھا اور اگر کوئی دعویٰ بنتا بھی تو وہ کمپنی کے خلاف ہوتا۔ عدالت نے نتیجتاً قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانون اور شواہد کے مطابق ہے، اس میں کوئی قانونی سقم موجود نہیں، لہٰذا اپیل بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دی گئی۔

🚨 We’re Hiring – EA Logistics Solutions LLC 🚨EA Logistics Solutions LLC is expanding and hiring for on-site roles in our...
07/01/2026

🚨 We’re Hiring – EA Logistics Solutions LLC 🚨
EA Logistics Solutions LLC is expanding and hiring for on-site roles in our operations team.
📌 Open Positions:
• Truck Dispatchers (Experienced & Freshers)
• Sales Executives (Experienced & Freshers)
🎓 For Freshers:
• 2 weeks of professional training provided
• No prior dispatch experience required
💼 For Experienced Candidates:
• Immediate opportunities to grow and lead
• Competitive environment with performance-based growth
📍 Job Type: On-site(Valencia Town H Block Lahore)
📲 Apply / Contact via WhatsApp:
📞 0322-7907300
Join a fast-growing logistics company and build a long-term career in dispatch and sales.
hashtag hashtag hashtag hashtag hashtag hashtag hashtag

Address

Office B2, Tahreem Building, Near Punjab Bar Council
Lahore
54000

Telephone

+923227907300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chishti Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Chishti Law Chamber:

Share