Know the Law. قانون جانو

Know the Law. قانون جانو Legal Awareness
(1)

26/12/2023

سوال: ہماری گلی میں ایک شخص نے خطرناک کتا رکھا ہوا ہے جو وہ اس نے زیادہ تر گلی میں ہی باندھا ہوتا ہے۔ وہ تقریبا ہر گزرنے والے پر بھونکتا ہے۔ کچھ دفعہ لوگوں کو کاٹ بھی چکا ہے۔ کیا جانور کے کاٹے کی سزا اس کے مالک کو دی جا سکتی ہے؟
جواب: پاکستان پینل کوڈ میں یہ شق باقاعدہ موجود ہے (سیکشن 289) کہ اگر کوئی شخص جانور رکھے تو اس پر یہ احتیاط بھی لازم ہے کہ ایسا انتظام کرے کہ اس جانور کی وجہ سے کسی اور کو نقصان نہ ہو۔ اگر وہ شخص ایسا انتظام نہیں کرتا اور وہ جانور کسی کو کاٹتا ہے یا نقصان پہنچاتا ہے تو اس مالک کو 6 ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
یہاں دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔
1۔ مالک نے صرف لاپروائی کی اور اس کی لاپروائی کی وجہ سے اس کے جانور نے کسی کو نقصان پہنچایا۔ اس صورت میں پہلے بتائی گئی سزا ہو گی۔
2۔ مالک نے جان بوجھ کر کسی پر کتا یا اپنا پالتو جانور چھوڑا اور جانور نے مالک کے اشارے پر کسی کو نقصان پہنچایا تو اب اس متاثرہ شخص کو جو نقصان پہنچا تو مالک پر اس نقصان کی ایف آئی آر درج ہو گی۔ مثلا اگر کوئی شخص اس جانور کے حملے میں مر گیا تو مالک پر قتل کا مقدمہ درج ہو گا۔ اس کو ویسے ہی سزا ہو گی جیسے ایک قاتل کو ہوتی ہے۔ متاثرہ شخص کو کوئی سیریس انجری ہوئی ہے تو مالک پر اس زخم کی ایف آئی آر درج ہو گی۔ بالکل ایسے جیسے وہ زخم اس نے خود لگایا ہو۔
1940 میں سندھ میں ایک دلچسپ کیس ہوا تھا۔ گگومل مل چند نامی ایک شخص گھوڑا لے کر آیا اور اسے گلی میں ایک درخت کے ساتھ باندھ کر دکان کے اندر چلا گیا۔ اسی اثنا میں وہاں ایک شخص اپنے اونٹ کے ساتھ گزرا۔ گگومل کے گھوڑے نے اس شخص کو لات ماری اور زخمی کر دیا۔ یہ شخص عدالت میں آ گیا کہ گگومل کے گھوڑے کی وجہ سے وہ زخمی ہوا اسے سزا دی جائے۔ پولیس نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا کہ گگومل نے اپنے جانور کے معاملے میں لاپروائی برتی جس سے اس شخص کا نقصان ہوا۔ گگومل کا اپنے دفاع میں کہنا تھا کہ اس کا گھوڑا سدھایا ہوا ہے۔ وہ خطرناک جانور نہیں ہے۔ اس کی کبھی ایسی کوئی نیت نہ تھی کہ وہ متاثرہ شخص کو نقصان پہنچائے۔ اس کا جرم نہیں بنتا۔ عدالت نے کہا کہ کیس کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ تم نے جس گلی میں گھوڑا باندھا تھا اس گلی کی چوڑائی 10 سے 12 فٹ ہے۔ تمہارے گھوڑے کی رسی باندھنے کے بعد 6 فٹ لمبی تھی۔ مطلب یہ کہ تم نے گزرنے والوں کیلئے صرف 4 سے 6 فٹ کا راستہ چھوڑا۔ یہ مناسب احتیاط نہیں تھی۔ تم نے لاپروائی برتی۔ تم پر جرم ثابت ہوتا ہے اور گگومل کو سزا سنائی گئی۔ گگومل اپیل لے کر ہائیکورٹ تک آیا لیکن ہائیکورٹ نے بھی اسے مجرم برقرار رکھا اور اس کی سزا بھی برقرار رکھی۔Gagumal Mulchand vs. Emperor (AIR 1940 Sindh 172
ایک شخص جو اپنے جانور کا خیال نہیں رکھتا اور اس کی لاپروائی سے جانور دوسروں کا نقصان کرتا ہے، سزا کا مستوجب ہے۔
طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور۔
03336669850.

18/12/2023

آج کل ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر دھڑا دھڑ ایف آئی آرز درج کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ کالز موصول ہونے کے بعد ضروری سمجھتا ہوں کہ انتہائی ضروری معلومات شیئر کروں تاکہ سب کا بھلا ہو۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ہونے والی ایف آئی آرز میں جو جرائم لگائے جاتے ہیں وہ عموما قابل ضمانت جرم ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھیے کہ جرم دو طرح کے ہوتے ہیں۔
1- قابل ضمانت۔
2۔ ناقابل ضمانت۔
قابل ضمانت جرائم میں پولیس ملزم کو گرفتار کر لے تو اگلے ہی دن جج کے سامنے پیش کرنے پر جج ملزم کو خود بخود ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیتا ہے۔ وہ اسے جیل نہیں بھیجتا۔
یہاں انجانے میں کئی لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ جج صاحب ملزم سے پوچھتے ہیں کہ تمہیں اتنا جرمانہ کر دیتے ہیں۔ تمہاری ایف آئی آر ختم ہو جائے گی۔ آئندہ اس ایف آئی آر میں تمہیں عدالت یا تھانے کے چکر نہیں لگانا پڑیں گے۔ بلکہ یوں کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ عدالتی عملہ (اپنا خرچہ بنانے کیلئے) ملزم یا اس کے پیچھے آنے والے اس کے کسی فیملی ممبر کو یہ لالچ دیتے ہیں کہ اتنے پیسے دو جس میں سے اتنا تمہارا جرم کا جرمانہ جمع ہو جائے گا اور باقی ہمارا خرچہ، تمہاری ایف آئی آر ختم ہو جائے گی۔ تمہیں آئندہ بار بار عدالت یا تھانے کے چکر نہیں لگانا پڑیں گے۔ ملزم یا اس کا فیملی ممبر اسے معقول آفر سمجھتا ہے اور ہامی بھر لیتا ہے۔ یوں جج صاحب ملزم کو جرم کا جرمانہ کرتے ہیں۔ جرمانہ وصولی ہوتی ہے۔ ملزم رہا اور ایف آئی آر ختم۔
لیکن رکیے۔ یہاں ایک بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ جرمانہ ادا کرنے کا مطلب یہ ہو گیا کہ ملزم نے اپنا جرم قبول کر لیا اور جرم قبول کر کے اس نے جرمانہ ادا کر دیا اور اب وہ ملزم سے ایک سزا یافتہ مجرم بن گیا اور اس کا ریکارڈ بھی مجرم کا مرتب ہو گیا۔ لہذا معمولی جرائم کی ایف آئی آرز میں کبھی ایسی سوکھی آفر قبول نہ کریں۔ آپ کا ساری زندگی کا مجرم کا ریکارڈ بن جائے گا۔
بہتر طریقہ یہ ہے کہ قابل ضمانت جرائم میں پہلی پیشی پر ضمانت ہو کر باہر ائیں۔ جرمانہ نہ دیں۔چاہے جتنا مرضی کم کیوں نہ ہو۔ بعد میں درخواست وغیرہ دے کر اپنی ایف آئی آر ختم کرائیں۔بری ہوں۔ اس طرح ایف آئی آر ختم ہونے سے آپ کا مجرم کا ریکارڈ مرتب نہیں ہو گا۔
طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور۔
03336669850.

08/12/2023

سوال: ہم نے زبانی نکاح کیا ہے۔ نکاح رجسٹرڈ نہیں کروایا۔ کیا ہم نکاح رجسٹرڈ کروائے بغیر ہی بطور میاں بیوی زندگی گزار سکتے ہیں؟ نکاح رجسٹرڈ نہ کروانے کے پیچھے ہماری کچھ مجبوریاں ہیں۔
جواب: پاکستانی قانون نکاح کو رجسٹرڈ کروانے کی پابندی کرنے کا کہتا ہے۔ قانون میں نکاح رجسٹرڈ نہ کروانا جرم قرار دیا گیا ہے جس کی سزا 3 ماہ تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ قانون کہتا ہے نکاح کرو تو اسے رجسٹرڈ کرواو۔ خود نکاح پڑھ لیا ہے تو اس کے بارے نکاح رجسٹرار کو مطلع کرو تاکہ وہ اس کا یونین کونسل میں اندراج کروائے۔
طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور۔
03336669850.

08/12/2023

سوال: کیا ایسا ممکن ہے کہ میں خلع لوں لیکن مجھے حق مہر نہ چھوڑنا پڑے یا واپس نہ دینا پڑے۔
جواب: اس کیلئے آپ کو سادہ خلع نہیں لینا ہو گی۔ بلکہ تنسیخ نکاح کیلئے جانا ہو گا۔ کچھ مخصوص پوائنٹس میں سے کوئی ایک بھی ثابت کرتی ہیں تو پھر آپ کو خلع بربنائے تنسیخ نکاح کی ڈگری مل جائے گی۔ اس صورت میں آپ کو حق مہر نہیں چھوڑنا پڑے گا۔ جو پہلے لیا ہوا ہے وہ واپس نہیں کرنا پڑے گا۔ اور جو ابھی نہیں ملا وہ بھی آپ کو پورا ملے گا۔
مثلا اگر آپ یہ ثابت کریں کہ آپ کا شوہر شادی کے وقت ہی نامرد تھا اور ابھی بھی ایسا ہی ہے۔ یا آپ یہ ثابت کریں کہ بہت تشدد کرتا ہے۔ یا یہ ثابت کریں کہ دو سال سے کوئی نان نفقہ نہیں دیا۔ یا یہ ثابت کریں کہ وہ لاپتہ ہو گیا ہے اور عرصہ 4 سال سے کچھ اتہ پتہ نہیں۔ یا یہ ثابت کریں کہ اس نے یونین کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کر لی ہے۔ یا یہ ثابت کریں کہ اس نے کوئی جرم کیا تھا جس میں اسے 7 سال یا اس سے زیادہ کی قید کی سزا ہو گئی ہے۔ یا آپ یہ ثابت کریں کہ عرصہ دو سال سے اس نے ازدواجی تعلق قائم نہیں کیا۔ یا یہ ثابت کریں کہ وہ پاگل ہو گیا ہے اور عرصہ دو سال سے اسی طرح ہے۔ یا عرصہ دو سال سے کوڑھ یا جنسی انفیکشن کی بیماری میں مبتلا ہے۔ یا آپ یہ ثابت کریں کہ آپ کے شوہر نے آپ پر کسی اور کے ساتھ زنا کا الزام لگایا جسے وہ ثابت نہیں کر سکا۔
اگر آپ اوپر درج باتوں میں سے کوئی ایک ثابت کرتی ہیں اور ان کی بنیاد پر خلع کیلئے اپلائی کرتی ہیں تو آپ کو آپ کا بقیہ حق مہر مکمل ملے گا۔ جو پہلے لیا ہوا ہے وہ واپس نہیں کرنا پڑے گا اور خلع بھی۔
طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور۔
03336669850.

نوائے وقت سنڈے میگزین۔  15 جنوری 2023۔ قانونی مسائل پر پوچھے گئے سوالوں پر میرے جواب۔03336669850.
26/02/2023

نوائے وقت سنڈے میگزین۔ 15 جنوری 2023۔ قانونی مسائل پر پوچھے گئے سوالوں پر میرے جواب۔
03336669850.

Weekly Sunday Magazine in Urdu by Nawaiwaqt.

نوائے وقت سنڈے میگزین۔ 8 جنوری 2023۔ قانونی مسائل پر پوچھے گئے سوالوں پر میرے جواب۔https://sunmag.nawaiwaqt.com.pk/E-Pap...
16/02/2023

نوائے وقت سنڈے میگزین۔ 8 جنوری 2023۔ قانونی مسائل پر پوچھے گئے سوالوں پر میرے جواب۔
https://sunmag.nawaiwaqt.com.pk/E-Paper/lahore/2023-01-08/page-15۔
طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور۔
03336669850.

Weekly Sunday Magazine in Urdu by Nawaiwaqt.

نوائے وقت۔ سنڈے میگزین۔ 18 دسمبر۔ قانونی مسائل۔ سوال و جواب۔03336669850.
30/01/2023

نوائے وقت۔ سنڈے میگزین۔ 18 دسمبر۔ قانونی مسائل۔ سوال و جواب۔
03336669850.

Weekly Sunday Magazine in Urdu by Nawaiwaqt.

26/01/2023

سوال: میرے بھائی کو ایک جرم کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ عدالت نے اس کا جسمانی ریمانڈ دیا ہے۔ جسمانی ریمانڈ کیا ہوتا ہے؟ ہم بھائی کو ضمانت پر رہا کروانے کیلئے درخواست کب دائر کر سکتے ہیں؟ اور کس عدالت میں کرنا ہو گی؟
جواب: جسمانی ریمانڈ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملزم سے تفتیش کیلئے اس کی کسٹڈی پولیس کے حوالے کی جائے۔ اس حوالگی کو جسمانی ریمانڈ کہا جاتا ہے۔ یہ ریمانڈ ختم ہونے کے بعد پولیس اپنی تفتیش کا ریکارڈ اور ملزم کو دوبارہ عدالت پیش کرتی ہے جس پر عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ ملزم کو دوبارہ پولیس کی کسٹڈی (جسمانی ریمانڈ) پر دینا ضروری ہے یا اسے جیل (جوڈیشل ریمانڈ) بھیج دیا جائے۔ جب عدالت ملزم کو جسمانی ریمانڈ ختم کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دے تو تب آپ اس کی ضمانت پر رہائی کیلئے درخواست دائر کر سکتے ہیں۔ یہ درخواست ضمانت بعد از گرفتاری ہو گی۔ یہ اس عدالت میں دائر ہو گی جہاں ملزم کا ٹرائل چل رہا ہو گا۔
طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور۔
03336669850.

نوائے وقت۔ سنڈے میگزین۔ 11 دسمبر۔ قانونی مسائل۔ سوال و جواب۔
25/01/2023

نوائے وقت۔ سنڈے میگزین۔ 11 دسمبر۔ قانونی مسائل۔ سوال و جواب۔

نوائے وقت۔ سنڈے میگزین۔ 27 نومبر۔ قانونی مسائل۔ سوال و جواب۔
24/01/2023

نوائے وقت۔ سنڈے میگزین۔ 27 نومبر۔ قانونی مسائل۔ سوال و جواب۔

05/01/2023

سوال: میرے شوہر کی وفات ہو گئی۔ عدالت نے مجھے اپنے بچوں کی پراپرٹی کی گارڈین مقرر کیا تھا۔ بچے کم عمر ہیں۔ کیا میں ان کی پراپرٹی فروخت کر سکتی ہوں؟
جواب: نہیں۔ آپ کو اسی عدالت سے جس نے آپ کو گارڈین مقرر کیا تھا، سے پہلے اجازت لینا ہو گی۔ آپ کو عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا کہ بچوں کی فلاں ضرورت کیلئے پیسے درکار ہیں۔ پراپرٹی بیچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ عدالت مطمئن ہو تو پھر آپ کو بچوں کی جائیداد بیچنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ عدالت سمجھتی ہے کہ ایسی کوئی خاص ضرورت نہیں تو وہ انکار بھی کر سکتی ہے۔ عدالت کی اجازت لئے بغیر پراپرٹی فروخت کی گئی تو وہ کسی بھی وقت کینسل ہو سکتی ہے۔ بیچنے اور خریدنے والوں دونوں کو نقصان ہو گا۔
طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور۔
03336669850.

Address

High Court Lahore
Lahore
54000

Telephone

+923336669850

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Know the Law. قانون جانو posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share