QIK LEGAL

QIK LEGAL Legal Services in the area of Intellectual Property, Family, Civil and Criminal Litigation

پنجاب پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ، 36 اضلاع میں ٹربیونلز قائمچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب کے 36 اضلا...
07/06/2026

پنجاب پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ، 36 اضلاع میں ٹربیونلز قائم

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب کے 36 اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججز کو ٹربیونلز مقرر کرکے فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کردی جبکہ مجموعی طور پر 575 کیسز میں حکمِ امتناعی ختم کرتے ہوئے تمام کیسز ٹربیونلز کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی ترمیمی ایکٹ کے تحت 36 ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونلز نامزد کیا ہے۔

لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل، قصور میں محمد اشفاق، اٹک میں ندیم احمد سہیل چیمہ، بہاولنگر میں محمد صلابت جاوید، بہاولپور میں ساحر اسلام، بھکر میں محمد اعظم جاوید، چنیوٹ میں نعیم عباس، چکوال میں قاسم علی بھٹی، ڈیرہ غازی خان میں سرفراز حسین، فیصل آباد میں عمران شفیع خان، گوجرانوالہ میں محمد فرحان نبی، گجرات میں مظفر نواز ملک، حافظ آباد میں عمر رشید، جھنگ میں عمر فاروق خان، جہلم میں مرزا اورنگ زیب، خانیوال میں عبداللہ عثمان، خوشاب میں محمد بشیر، لودھراں میں حمد ایاز۔۔۔

لیہ میں محمد پرویز نواز، منڈی بہائوالدین میں محمد فخر آفتاب احمد، میانوالی میں عبدالغفور، ملتان میں غزالہ یاسمین، مظفرگڑھ میں محمد احمد حسنین خان، نارووال میں عالم شیر، ننکانہ صاحب میں مجاہد شیر دل چیمہ، اوکاڑہ میں خلیل احمد خان، پاکپتن میں اسد حفیظ، راولپنڈی میں چودھری قاسم جاوید، راجن پور میں محمد اشرف، رحیم یار خان میں محمد بلال، ساہیوال میں محمد نعیم، سیالکوٹ میں عابد رضا خان، شیخوپورہ میں عبدالحمید، سرگودھا میں ظفر حیات، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں محمد کاشف اور وہاڑی میں محمد عمران فرائض انجام دیں گے۔

ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹی نے زمینوں پر قبضوں کے خلاف سفارشات مرتب کرکے ٹربیونلز کو بھجوا دی ہیں۔

ٹربیونلز کو اختیار ہوگا کہ وہ قبضہ پولیس کے ذریعے واگزار کروائیں اور جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دے سکیں، اگر کوئی کیس کسی عدالت میں زیر التوا ہوگا تو دونوں میں سے کوئی بھی فریق درخواست دے کر اسے ڈی سی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو منتقل کرنے کی استدعا کرسکے گا ،تاہم حتمی فیصلہ عدالت کا ہوگا۔

اس سے قبل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے مبینہ غلط استعمال پر حکم امتناعی جاری کیا تھا۔ بعد ازاں پنجاب حکومت نے قانون میں ترمیم کی، جس کے بعد ہائیکورٹ میں زیر التوا تمام حکم امتناعی ختم کر دئیے گئے۔

علاوہ ازیں ایڈیشنل سیشن ججز ٹربیونلز میں فرائض انجام د یں گے، فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے جبکہ حکم امتناعی ختم کرکے 575 کیسز ٹربیونلز کو بھیج دئیے گئے ہیں، ٹربیونلز کو قبضہ پولیس کے ذریعے واگزار کرانے ،جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

www.qiklegal.com

11/03/2026

یہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن ہے جس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے:
لاہور ہائی کورٹ، لاہور
نوٹیفکیشن
نمبر: 17/R&M | تاریخ: 11.03.2026
معزز چیف جسٹس نے نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے 10.03.2026 کو ہونے والے ورچوئل اجلاس کی روشنی میں یہ حکم جاری کیا ہے کہ ایندھن کی بچت اور اخراجات میں کمی کے لیے لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب کی ضلعی عدلیہ میں فوری طور پر درج ذیل اقدامات نافذ کیے جائیں:
ہفتے میں چار دن کام (Working Week)
لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب کی ضلعی عدالتیں ہفتے میں چار دن (پیر سے جمعرات) کام کریں گی تاکہ پیٹرول کے استعمال اور آپریشنل اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ شیڈول درج ذیل ہے:
1. لاہور ہائی کورٹ (پرنسپل سیٹ اور تمام بینچز)
* عدالتیں: پیر سے جمعرات۔ (تمام متعلقہ عملہ کام کے دنوں میں موجود رہے گا)۔
* دفاتر: پیر سے جمعرات (50 فیصد عملہ باری باری ڈیوٹی پر ہوگا)۔
* ارجنٹ سیل (Urgent Cell): نئے کیسز جمع کرنے کے لیے پیر سے جمعرات 50 فیصد عملے کے ساتھ، اور جمعہ و ہفتہ کو صرف 10 فیصد عملے کے ساتھ باری باری کھلا رہے گا۔
* سیکورٹی اور صفائی کا عملہ: پیر سے ہفتہ چوبیس گھنٹے اپنے سابقہ معمول کے مطابق دستیاب رہے گا۔
2. ضلعی عدالتیں (District Courts)
* پیر سے جمعرات: سابقہ معمول کے مطابق۔
* جمعہ اور ہفتہ: * ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز: 25 فیصد عدالتیں/عملہ صرف ارجنٹ کیسز کے لیے موجود ہوگا (جیسے موسم گرما کی تعطیلات میں ہوتا ہے)۔
* تحصیل عدالتیں: صرف ارجنٹ کام کے لیے ڈیوٹی جج دستیاب ہوں گے۔
پیٹرول (POL) کی حد میں کمی
* معزز جج صاحبان کی گاڑیوں کے لیے ماہانہ پیٹرول کی حد (Ceiling) میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔
* عدالت کے افسران اور ضلعی عدلیہ کے ججوں کے لیے پیٹرول کی حد میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔
پروٹوکول اور سیکورٹی میں بچت
ہائی سیکورٹی زونز کے اندر نقل و حرکت کے دوران کوئی اضافی پروٹوکول یا سیکورٹی گاڑیاں تعینات نہیں کی جائیں گی، تاہم مقررہ پروٹوکول کے مطابق روٹ سیکورٹی یقینی بنائی جائے گی۔
(دستخط)
امجد اقبال رانجھا
رجسٹرار

15 اہم تبدیلیاں — نیا پنجاب لیبر کوڈپنجاب لیبر کوڈ نے روزگار کے نظام میں ساختی، طریقہ کار اور مالی نوعیت کی ایسی اصلاحات...
19/02/2026

15 اہم تبدیلیاں — نیا پنجاب لیبر کوڈ
پنجاب لیبر کوڈ نے روزگار کے نظام میں ساختی، طریقہ کار اور مالی نوعیت کی ایسی اصلاحات متعارف کرائی ہیں جو پنجاب کے سابقہ لیبر لاز فریم ورک کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ذیل میں سابقہ قوانین کے تقابلی پس منظر میں اہم ترین تبدیلیاں پیش کی جا رہی ہیں:

1۔ پارٹ ٹائم ملازمت کو قانونی حیثیت (سیکشن 136)
نئے کوڈ کے تحت پارٹ ٹائم روزگار کی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے۔
اس سے قبل ڈبل ایمپلائمنٹ ممنوع تھی اور پارٹ ٹائم انتظامات کو قانون کے تحت باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ یہ اصلاح افرادی قوت کے نظم و نسق میں لچک متعارف کراتی ہے۔

2۔ انٹرنل ورک ریگولیشن (IWR) میں یکطرفہ تبدیلی ممکن نہیں (سیکشن 145)
اب آجر HR پالیسی، مینول یا انٹرنل ورک ریگولیشن اپنی مرضی سے تبدیل نہیں کر سکے گا۔

پالیسی میں تبدیلی کے لیے درج ذیل اقدامات لازمی ہوں گے:
2.1 سی بی اے یا ورکس کونسل سے لازمی مشاورت درکار ہوگی۔
2.2 متعلقہ نمائندہ ادارہ 21 دن کے اندر جواب دینے کا پابند ہوگا۔
2.3 باہمی طور پر طے شدہ IWR کو نفاذ سے قبل چیف انسپکٹر آف فیکٹریز کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔

اس سے قبل ایسا کوئی باقاعدہ میکنزم موجود نہیں تھا اور متعدد ادارے یکطرفہ طور پر پالیسیاں تبدیل کر دیتے تھے، اکثر اوقات نام نہاد نمائندہ یونینوں کی حمایت کے ساتھ۔

3۔ حاملہ ملازمہ کا تحفظ (سیکشن 147)
حمل کے دوران کسی ملازمہ کی ملازمت ختم کرنا اب ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
اس سے قبل بعض اوقات حمل ظاہر ہونے کے بعد ملازمہ کو ملازمت سے علیحدہ کرنے کے لیے حالات پیدا کیے جاتے تھے، جنہیں اب قانون کے تحت واضح طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔

4۔ نوٹس پیریڈ کے دوران رخصت کا حق (سیکشن 150)
30 دن کے نوٹس پیریڈ کے دوران ملازم ہر ہفتے ایک ورکنگ ڈے نئی ملازمت کے انتظامات کے لیے رخصت کا حقدار ہوگا۔
سابقہ نظام میں اگرچہ نوٹس پیریڈ کے دوران رخصت قانونی طور پر ممکن تھی، مگر عملی طور پر بیشتر ادارے یہ سہولت فراہم نہیں کرتے تھے۔

5۔ ڈسپلنری کارروائی کے لیے مقررہ مدت (سیکشن 155)
اب واضح قانونی مدت مقرر کر دی گئی ہے:
5.1 انکوائری 40 دن کے اندر مکمل کرنا لازم ہوگا۔
5.2 انکوائری رپورٹ موصول ہونے کے بعد آجر کو 7 دن کے اندر فیصلہ جاری کرنا ہوگا۔
اس سے قبل کسی قسم کی واضح قانونی مدت مقرر نہیں تھی اور کارروائیاں غیر معینہ مدت تک زیر التواء رہ سکتی تھیں۔

6۔ سالانہ رخصت میں اضافہ (سیکشن 192)
سالانہ رخصت 14 ورکنگ ڈیز سے بڑھا کر 21 متواتر دن فی کیلنڈر ایئر کر دی گئی ہے۔

7۔ اتوار اور گزٹڈ تعطیلات کی شمولیت (سیکشن 192)
سالانہ رخصت کے دوران آنے والے اتوار اور سرکاری تعطیلات کو بھی سالانہ رخصت میں شمار کیا جائے گا۔
اس سے قبل ان دنوں کو سالانہ رخصت کے حساب میں شامل نہیں کیا جاتا تھا۔

8۔ پروبیشن کے بعد تناسبی سالانہ رخصت (سیکشن 192)
اب ملازم پروبیشن مکمل کرنے کے بعد، کیلنڈر ایئر کے دوران کیے گئے کام کے دنوں کے تناسب سے سالانہ رخصت لینے کا حقدار ہوگا، خواہ اس نے 12 ماہ کی مکمل سروس نہ کی ہو۔
اس سے قبل سالانہ رخصت صرف 12 ماہ مکمل ہونے کے بعد دی جاتی تھی۔

9۔ رخصتوں کو یکجا کرنے پر پابندی (سیکشن 192)
سالانہ رخصت کو دیگر اقسام کی رخصت جیسے بیماری، کیژول، سالانہ، میٹرنٹی یا پیٹرنٹی لیو کے ساتھ یکجا نہیں کیا جا سکے گا۔
سابقہ قوانین میں اس حوالے سے واضح پابندی موجود نہیں تھی۔

10۔ سالانہ رخصت کی فل پے پر انکیشمنٹ (سیکشن 192)
30 دن کی جمع شدہ سالانہ رخصت پر مکمل تنخواہ کے ساتھ انکیشمنٹ کی اجازت ہوگی۔
اس سے قبل متعدد اداروں میں رخصت کی رقم صرف بیسک پے کی بنیاد پر ادا کی جاتی تھی، جو ایک وسیع پیمانے پر قابلِ سوال عمل سمجھا جاتا تھا۔

11۔ والد کے لیے پیرنٹل لیو میں اضافہ (سیکشن 198)
پیرنٹل لیو 7 دن سے بڑھا کر 14 دن کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل یہ سہولت محدود تھی اور صرف دو بچوں تک محدود رکھی گئی تھی۔

12۔ میٹرنٹی لیو میں اضافہ (سیکشن 197)
میٹرنٹی لیو 12 ہفتوں سے بڑھا کر 14 ہفتے کر دی گئی ہے، جس سے کام کرنے والی خواتین کا تحفظ مزید مضبوط ہوا ہے۔
مزید برآں، زچگی کی رخصت سے قبل آخری 2 ماہ میں خواتین سے اوور ٹائم نہیں لیا جا سکے گا۔

13۔ تمام رخصتوں کا کیلنڈر ایئر کے ساتھ انطباق
نئے کوڈ کے تحت تمام رخصتوں کو کیلنڈر ایئر فریم ورک کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل رخصتوں کا حساب اکثر سروس ایئر کی بنیاد پر کیا جاتا تھا، جس کے باعث مختلف تشریحات اور غیر یکساں اطلاق دیکھنے میں آتا تھا۔

14۔ حادثاتی یا قدرتی وفات پر معاوضے میں اضافہ
معاوضہ مقررہ 5,00,000 روپے کی رقم سے بڑھا کر کم از کم اجرت کے 20 گنا کر دیا گیا ہے۔
اس تبدیلی کے ذریعے معاوضے کو جامد رقم کے بجائے معاشی حالات سے منسلک کر دیا گیا ہے۔

یہ نیا لیبر کوڈ HR پروفیشنلز، کاروباری مالکان اور تمام ملازمین کے لیے لازمی مطالعہ ہے، کیونکہ اس نے تقریباً تمام گرے ایریاز اور قانونی سقم کو واضح اور منظم انداز میں ختم کرنے کی کوشش کی ہے.

ٹریڈ مارک رجسٹر کرانا کیوں ضروری ہے؟ٹریڈ مارک کسی بھی کاروبار کی شناخت، ساکھ اور اعتماد کی علامت ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک نام...
30/01/2026

ٹریڈ مارک رجسٹر کرانا کیوں ضروری ہے؟
ٹریڈ مارک کسی بھی کاروبار کی شناخت، ساکھ اور اعتماد کی علامت ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک نام یا لوگو نہیں بلکہ آپ کی محنت، معیار اور پہچان کی قانونی حفاظت ہے۔ ٹریڈ مارک رجسٹریشن کے کئی اہم فوائد ہیں، جبکہ اس کے برعکس
رجسٹریشن نہ کرانے کے سنگین نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔

ٹریڈ مارک رجسٹریشن کے فوائد:
ٹریڈ مارک رجسٹر ہونے کی صورت میں کاروبار کو قانونی تحفظ حاصل ہو جاتا ہے اور کوئی دوسرا شخص آپ کے نام، لوگو یا برانڈ سے مشابہت اختیار نہیں کر سکتا۔ رجسٹرڈ ٹریڈ مارک مالک کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کرے۔ اس کے علاوہ رجسٹرڈ برانڈ مارکیٹ میں اعتماد پیدا کرتا ہے، جس سے گاہکوں کا بھروسہ بڑھتا ہے اور کاروبار کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔ رجسٹریشن کے بعد ٹریڈ مارک ایک قیمتی اثاثہ بن جاتا ہے جسے فروخت، لائسنس یا فرنچائز بھی کیا جا سکتا ہے۔

ٹریڈ مارک رجسٹریشن نہ کرانے کے نقصانات:
اگر ٹریڈ مارک رجسٹر نہ ہو تو کوئی بھی شخص آپ کے برانڈ نام یا اس سے ملتا جلتا نام استعمال کر سکتا ہے، جس سے کاروباری نقصان اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں یہ ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اصل مالک کون ہے۔ مزید یہ کہ اگر کوئی دوسرا شخص پہلے وہی یا ملتا جلتا ٹریڈ مارک رجسٹر کرا لے تو آپ کو اپنا قائم شدہ برانڈ تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے وقت، پیسہ اور ساکھ سب ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

نتیجہ:
ٹریڈ مارک رجسٹریشن کاروبار کے تحفظ، استحکام اور ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ نہ صرف آپ کے برانڈ کو قانونی سہارا دیتی ہے بلکہ مستقبل میں ممکنہ تنازعات اور نقصانات سے بھی بچاتی ہے۔ اسی لیے ہر کاروبار کے لیے ٹریڈ مارک بروقت رجسٹر کرانا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔

حکومت کا 16سال سے کم عمر بچوں کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت دینے کا فیصلہل)پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے موٹ...
30/01/2026

حکومت کا 16سال سے کم عمر بچوں کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ
ل

)پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے موٹر وہیکلز ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی جس کے تحت پنجاب میں 16 سال سے کم عمر بچوں کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے 16 سال کی عمر میں موٹرسائیکل چلانے کی اجازت کی تجویز منظور کر لی جبکہ نابالغ افراد کے لیے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ بل کے مطابق 16 سے 18 سال کے موٹرسائیکل سواروں کے لیے ایک باقاعدہ قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ لائسنسنگ اتھارٹی کے ذریعے جاری کیاجائیگا اورموٹرسائیکل چلانے کے لیے مقررہ شرائط، نگرانی اور قواعد پرعمل لازمی ہوگا،حکومت کاکہنا ہیکہ اس قانون سازی کامقصد بغیر لائسنس کم عمرڈرائیونگ کیبڑھتے ہوئیرجحان پر قابو پانا،روڈسیفٹی کو بہتربنانا اورٹریفک حادثات میں کمی لانا ہے۔اس سلسلے میں موٹروہیکلز آرڈیننس 1965 میں ترمیم کی تجویزبھی شامل کرلی گئی ہے،قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد اب یہ بل پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیاجائے گا،جہاں منظوری کی صورت میں اسے باقاعدہ قانون کی شکل دی جائے گی

پنجاب میں غیر قانونی قبضے کیخلاف پراپرٹی ایکٹ 2025میں ترامیم کا مسودہ تیارل) پنجاب حکومت نے پراپرٹی ایکٹ 2025 میں ترامیم...
30/01/2026

پنجاب میں غیر قانونی قبضے کیخلاف پراپرٹی ایکٹ 2025میں ترامیم کا مسودہ تیارل

) پنجاب حکومت نے پراپرٹی ایکٹ 2025 میں ترامیم کا مسودہ تیار کر لیا ، جس کی صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی ،نئی ترامیم کے تحت غیر قانونی قبضے کے خلاف کارروائی مزید سخت اور تیز ہو جائے گی، جبکہ پراپرٹی ٹریبونل کے قیام سے پراپرٹی تنازعات کا حل جلد ممکن ہو گا۔

نئے قوانین کے مطابق پراپرٹی ٹریبونل میں کیسز براہِ راست دائر ہوں گے اور ٹریبونل کو عبوری ریلیف، حفاظتی اقدامات اور فوری قبضہ واگزار کروانے کا مکمل اختیار ہوگا۔

غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کو 5 سے 10 سال قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

اسی طرح جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی درخواست دینے پر بھی سخت سزا مقرر کی گئی ہے، جس میں 1 سے 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ شامل ہے۔

اپیل کا طریقہ کار بھی تبدیل کیا گیا ہے۔ اب اپیل صرف لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی جا سکے گی اور اپیل کے لیے پراسیکیوٹر جنرل کی منظوری لازمی ہو گی۔ اپیل 30 دن کے اندر دائر کی جائے گی اور چیف جسٹس کے نامزد کردہ بینچ میں سماعت کی
جائے گی، جسے 30 دن میں فیصلہ کرنا ہوگا

26/01/2026

Address

Office No 403, Sadiq Center, 35 Lytton Road
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when QIK LEGAL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share