Your Tax Partner

Your Tax Partner Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Your Tax Partner, Corporate lawyer, 2/7 Link Farid Kot Road, Mozang Chungi, Lahore.

𝗬𝗢𝗨𝗥 𝗧𝗥𝗨𝗦𝗧𝗘𝗗 𝗧𝗔𝗫 𝗣𝗔𝗥𝗧𝗡𝗘𝗥
Tax & Corporate Consultants
Company Registration
Firm Registration
Income Tax
Sales Tax
PSEB
Trademark
FBR Notices
Contact Us: 0319 1940 445

ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیںٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں0319 1940 445Your ...
20/09/2026

ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

فارن ریمیٹنس پر نوٹس کیوں آتے تھے؟ ایف بی آر نے اصل وجہ بتا دی!پاکستان میں بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم (Foreign Remittan...
18/09/2026

فارن ریمیٹنس پر نوٹس کیوں آتے تھے؟ ایف بی آر نے اصل وجہ بتا دی!

پاکستان میں بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم (Foreign Remittances) پر ٹیکس کا معاملہ کئی سالوں سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ وقت کے ساتھ مختلف قوانین، اسٹیٹ بینک کے ضوابط اور عدالتوں کے فیصلوں کی وجہ سے اس معاملے میں ابہام پیدا ہوتا رہا، جس کے باعث کئی ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری نوٹسز اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی صورتحال کو واضح کرنے کے لیے ایف بی آر نے یہ سرکلر جاری کیا۔
ماضی میں بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم پر مختلف ادوار میں مختلف قوانین لاگو رہے۔ ابتدا میں صرف مخصوص حالات میں ٹیکس سے چھوٹ دی جاتی تھی، لیکن بعد میں حکومت نے بیرونِ ملک سے قانونی ذرائع کے ذریعے آنے والی رقوم کی حوصلہ افزائی کے لیے اس سہولت کو مزید وسعت دی۔ اس کا مقصد پاکستان میں زرمبادلہ لانا اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو سہولت فراہم کرنا تھا۔
بعد ازاں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 111(4) کے تحت یہ اصول طے کیا گیا کہ اگر رقم غیر ملکی کرنسی میں ہو، پاکستان میں قانونی بینکاری نظام کے ذریعے آئے، بینک کے ذریعے پاکستانی روپے میں تبدیل ہو، اور اس کا بینک سرٹیفکیٹ موجود ہو، تو اس پر ٹیکس سے استثنا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بعد میں اس رعایت کے لیے مقررہ حد بھی متعارف کرائی گئی۔
وقت کے ساتھ ویسٹرن یونین (Western Union)، منی گرام (MoneyGram)، ریا (Ria) اور دیگر منی ٹرانسفر سروسز کے ذریعے بھی رقوم پاکستان آنے لگیں۔ اس پر اختلاف پیدا ہوا کہ آیا ان ذرائع سے آنے والی رقوم کو بھی "نارمل بینکنگ چینل" تصور کیا جائے یا نہیں۔ بعض ٹیکس افسران نے ایسی رقوم پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ یہ تمام منظور شدہ منی ٹرانسفر سروسز قانونی بینکاری نظام کا حصہ ہیں اور ان کے ذریعے آنے والی رقوم کو بھی اسی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے۔
آخرکار ایف بی آر نے اسٹیٹ بینک کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ ایسے تمام مقدمات میں قانون کی مناسب اور آسان تشریح کی جائے۔ اگر رقم بیرونِ ملک سے قانونی ذرائع کے ذریعے آئی ہو اور اس کا مکمل بینکاری ریکارڈ موجود ہو، تو ٹیکس سے استثنا دینے میں غیر ضروری سختی نہ کی جائے۔ مزید یہ بھی ہدایت دی گئی کہ صرف اس سخت تشریح کی بنیاد پر دائر کیے گئے محکمانہ اپیلیں واپس لی جائیں اور آئندہ ایسی غیر ضروری اپیلیں دائر نہ کی جائیں۔
مختصراً، اس سرکلر کا مقصد یہ ہے کہ بیرونِ ملک سے قانونی ذرائع کے ذریعے پاکستان آنے والی رقوم کے معاملے میں ملک بھر میں ایک جیسا اصول اپنایا جائے، ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری قانونی کارروائی سے بچایا جائے، اور جائز فارن ریمیٹنس پر بلاوجہ اعتراضات ختم کیے جائیں۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

ایچ ای ویز  پر سیلز ٹیکس 25% سے کم کر کے 18% کر دیا گیاوفاقی حکومت نے مقامی طور پر تیار ہونے والی 2000cc تک Hybrid Elect...
15/09/2026

ایچ ای ویز پر سیلز ٹیکس 25% سے کم کر کے 18% کر دیا گیا
وفاقی حکومت نے مقامی طور پر تیار ہونے والی 2000cc تک Hybrid Electric Vehicles (HEVs) پر سیلز ٹیکس 25% سے کم کر کے 18% کر دیا ہے۔
یہ تبدیلی S.R.O. 1525(I)/2026 مورخہ 13 ستمبر 2026 کے ذریعے کی گئی ہے اور فوری طور پر نافذ العمل ہے۔

غیر منقولہ پراپرٹی کی فروخت، کیپیٹل گین یا بزنس انکم؟ ٹربیونل کراچی کا اہم فیصلہاسی اہم قانونی نکتے پر اپیلیٹ ٹربیونل ان...
13/09/2026

غیر منقولہ پراپرٹی کی فروخت، کیپیٹل گین یا بزنس انکم؟
ٹربیونل کراچی کا اہم فیصلہ

اسی اہم قانونی نکتے پر اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو، کراچی نے ITA No. 1944/KB/2024، ٹیکس سال 2022 میں ایک اہم فیصلہ سنایا۔
اس کیس میں Indus Heartland Limited نے 28 جون 2011 کو نوری آباد، جامشورو میں ایک اوپن پلاٹ تقریباً 39.22 ملین روپے میں خریدا تھا۔ کمپنی کا مقصد اس زمین پر اسپننگ اور ویونگ یونٹ قائم کرنا تھا، لیکن ناموافق معاشی حالات کے باعث یہ منصوبہ شروع نہ ہو سکا۔ بالآخر کمپنی نے 25 اکتوبر 2021 کو یہی پراپرٹی 837 ملین روپے میں فروخت کر دی۔ یعنی پراپرٹی دس سال سے زیادہ عرصے تک کمپنی کے پاس رہی۔
کمپنی نے اس فروخت سے حاصل ہونے والے گین کو Section 37(1A) کے تحت کیپیٹل گین قرار دیا، لیکن محکمہ ٹیکس نے بعد میں Section 122(5A) کے تحت اسیسمنٹ میں ترمیم کرتے ہوئے تقریباً 799.77 ملین روپے کے گین کو Section 18 کے تحت بزنس انکم قرار دے دیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 231.35 ملین روپے کی ٹیکس ڈیمانڈ پیدا ہوئی۔
کمپنی نے اس کارروائی کے خلاف مؤقف اختیار کیا کہ پراپرٹی خریدتے وقت اسے دوبارہ فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ زمین باقاعدہ طور پر صنعتی یونٹ قائم کرنے کے مقصد سے خریدی گئی تھی، نہ کہ پراپرٹی کی خرید و فروخت یا منافع کے لیے ری سیل کرنے کے لیے۔ مزید یہ کہ کمپنی کا بنیادی کاروبار اسپننگ اور ویونگ تھا اور وہ پراپرٹی ڈیلنگ کے کاروبار میں بھی مصروف نہیں تھی۔
کمپنی کی جانب سے یہ بنیادی قانونی نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ صرف اس وجہ سے کہ کسی پراپرٹی کی فروخت سے غیر معمولی یا بہت زیادہ منافع حاصل ہوا ہے، اسے بزنس انکم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پراپرٹی خریدتے وقت ٹیکس پیئر کا ارادہ کیا تھا؟ اگر خریداری کے وقت مقصد ری سیل نہیں تھا تو محض بعد میں حالات تبدیل ہونے اور پراپرٹی فروخت کرنے سے ہر صورت میں یہ لین دین “Adventure in the Nature of Trade” نہیں بن جاتا۔
ATIR کراچی نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کمپنی کے بنیادی کاروبار، پراپرٹی خریدنے کے مقصد، اس کی طویل ہولڈنگ پیریڈ اور اس حقیقت کو اہم قرار دیا کہ کمپنی پراپرٹی کی خرید و فروخت کے کاروبار میں نہیں تھی۔ ٹربیونل کے سامنے محکمہ ایسا قابلِ اعتماد مواد پیش نہیں کر سکا جس سے یہ ثابت ہوتا کہ پراپرٹی خریدتے وقت کمپنی کا مقصد اسے دوبارہ فروخت کرنا تھا یا وہ پراپرٹی ڈیلنگ کی کاروباری سرگرمی میں مصروف تھی۔
ٹربیونل نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف بڑا منافع خود بخود بزنس انکم کا ثبوت نہیں بنتا۔ اگر پراپرٹی کسی صنعتی یا دوسرے کاروباری مقصد کے لیے بطور کیپیٹل اثاثہ خریدی گئی ہو، اسے طویل عرصے تک رکھا گیا ہو اور اسے اسٹاک اِن ٹریڈ کے طور پر نہ رکھا گیا ہو، تو صرف بعد میں حاصل ہونے والا منافع اس کی نوعیت تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں۔
فیصلے کا ایک اور اہم پہلو Section 37(1A) اور Section 37(3A) سے متعلق تھا۔ ٹربیونل نے قرار دیا کہ غیر منقولہ پراپرٹی کی فروخت سے حاصل ہونے والے گین کے لیے Section 37(1A) ایک خصوصی شق ہے، جبکہ Section 37(3A) اوپن پلاٹ کی ہولڈنگ پیریڈ کے مطابق قابلِ ٹیکس گین کا مخصوص طریقہ فراہم کرتا ہے۔ موجودہ کیس میں پراپرٹی دس سال سے زیادہ عرصے تک رکھی گئی تھی، جس کے باعث متعلقہ فارمولے کے تحت ٹیکسبل گین Nil بنتا تھا۔
ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ محکمہ خود اس سے پہلے 22 مارچ 2023 کے ایک آرڈر میں اسی پراپرٹی کی فروخت سے حاصل ہونے والے گین کو Section 37(1A) کے تحت قبول کر چکا تھا۔ بعد میں اپنی سابقہ پوزیشن تبدیل کرنے کے لیے محکمہ کوئی مضبوط اور قابلِ اعتماد وجہ ریکارڈ پر پیش نہیں کر سکا۔
چنانچہ ATIR کراچی نے Section 18 کے تحت گین کو بزنس انکم قرار دینے کی کارروائی ختم کر دی، Section 37(1A) کے تحت کیپیٹل گین کی ٹریٹمنٹ برقرار رکھی اور Section 37(3A) کے تحت قابلِ ٹیکس گین Nil قرار دیتے ہوئے محکمہ کا زیرِ اعتراض آرڈر ختم کر دیا۔
اس فیصلے کا بنیادی قانونی سبق یہ ہے کہ صرف زیادہ منافع = بزنس انکم نہیں۔ پراپرٹی کی فروخت کو بزنس انکم قرار دینے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خریداری کے وقت کیا ارادہ تھا، کیا ری سیل مقصود تھا، کیا ٹیکس پیئر پراپرٹی ڈیلنگ کے کاروبار میں تھا اور کیا پراپرٹی اسٹاک اِن ٹریڈ کا حصہ تھی۔ اگر یہ عناصر ثابت نہ ہوں اور پراپرٹی کسی حقیقی کاروباری یا صنعتی مقصد کے لیے بطور کیپیٹل اثاثہ خریدی گئی ہو اور طویل عرصے تک رکھی گئی ہو، تو محض فروخت پر حاصل ہونے والا بڑا منافع اسے لازماً Section 18 کے تحت بزنس انکم نہیں بنا دیتا۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

کیا آپ کا Tax Record نئے FBR سسٹم کے لیے تیار ہےاب وقت ہے کہ اپنے ریٹرن، بینکنگ ریکارڈ اور اثاثہ جات کو درست اور اپڈیٹ ر...
11/09/2026

کیا آپ کا Tax Record نئے FBR سسٹم کے لیے تیار ہے
اب وقت ہے کہ اپنے ریٹرن، بینکنگ ریکارڈ اور اثاثہ جات کو درست اور اپڈیٹ رکھیں۔
پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) نے Circular No. 02 of 2026-27 جاری کرتے ہوئے فنانس ایکٹ 2026 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں کی جانے والی اہم ترامیم کی وضاحت کر دی ہے۔ یہ تبدیلیاں صرف ٹیکس کی شرحوں میں ردوبدل تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے ٹیکس نظام کو بتدریج ایک ایسے جدید نظام کی طرف لے جا رہی ہیں جو زیادہ ڈیجیٹل، فیس لیس، شفاف اور رسک بیسڈ ہوگا۔
نئے نظام کے تحت بعض آڈٹ، اسیسمنٹ اور اپیل کی کارروائیاں Faceless Regime کے ذریعے الیکٹرانک طریقے سے انجام دی جائیں گی، جبکہ مخصوص ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے Algorithmic Settlement Mechanism بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اسی طرح بعض ٹیکس مقدمات کو اعلیٰ عدالتوں میں لے جانے سے پہلے Independent Case Scrutiny Committee کی منظوری بھی ضروری ہوگی، جس کا مقصد ٹیکس تنازعات کے نظام کو مزید منظم اور مؤثر بنانا ہے۔
ٹیکس دہندگان کے لیے ایک اہم پیش رفت تنخواہ دار طبقے سے متعلق ہے، جہاں ٹیکس سلیبز میں تبدیلیاں اور ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ اسی طرح Section 7E کے تحت غیر منقولہ جائیداد پر عائد Deemed Income Tax کو ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ عام افراد کے لیے 500 ملین روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس ختم کرنے اور اس سے زائد آمدن پر اس کی شرح میں کمی کی گئی ہے۔
دوسری جانب بینکنگ اور مالیاتی معلومات کی نگرانی بھی پہلے سے زیادہ ڈیجیٹل ہونے جا رہی ہے۔ بڑی بینکنگ ٹرانزیکشنز اور مالیاتی معلومات کو Central Data Hub کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر جانچا اور مختلف ذرائع سے Cross-Match کیا جا سکے گا۔ کاروباری اداروں کے لیے Electronic Integration اور Digital Compliance کی اہمیت بھی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ عدم تعمیل کی صورت میں سخت کارروائی اور جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض خدمات اور پیشہ ورانہ آمدن کے حوالے سے Withholding Tax کے نظام میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
میری پیشہ ورانہ رائے میں فنانس ایکٹ 2026 کے بعد ہر کاروباری شخص، تنخواہ دار فرد اور پروفیشنل کے لیے اپنی Tax Compliance کو سنجیدگی سے لینا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ بینکنگ ریکارڈ، آمدن، اثاثہ جات، اخراجات اور دیگر مالیاتی معلومات کو درست اور باقاعدہ رکھنا اب صرف ایک اچھی عادت نہیں بلکہ مستقبل کے ٹیکس نظام میں آپ کے لیے ایک اہم تحفظ بن چکا ہے۔
یاد رکھیں، مستقبل کا ٹیکس نظام ڈیٹا پر چلے گا۔ اس لیے درست ریکارڈ، شفاف مالی معاملات اور بروقت ٹیکس کمپلائنس ہی آپ کے لیے بہترین تحفظ ہیں۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کر دیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابط کریں
ٹیکس آسان زبان میں سیکھنے کے لئے پیج کو فالو کر لیں
0319 1940445
YOUR TRUSTED TAX PARTNER

ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی بڑی غلطی، کروڑوں نہیں بلکہ لاکھوں کی ڈیمانڈ بھی قانونی بنیاد کے بغیر ختم!اپلیٹ ٹریبیونل ان لینڈ ریونیو...
06/09/2026

ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی بڑی غلطی، کروڑوں نہیں بلکہ لاکھوں کی ڈیمانڈ بھی قانونی بنیاد کے بغیر ختم!

اپلیٹ ٹریبیونل ان لینڈ ریونیو، بینچ IV کراچی نے ٹیکس سال 2016 کے کیس (ITA No.697/KB/2018) میں محترمہ طیبہ نعمان کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ دیا اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے قائم کردہ تمام ٹیکس ڈیمانڈ کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ممبر ڈاکٹر ہما سودھر اور ممبر سید فائق آر آر پر مشتمل بینچ نے جاری کیا۔

کیس کا پس منظر یہ ہے کہ ٹیکس دہندہ ایک انفرادی پروپرائیٹر ہیں جو امپورٹ، ایکسپورٹ اور ہول سیل کا کاروبار کرتی ہیں۔ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 176 کے تحت ان کے ودہولڈنگ ٹیکس کی نگرانی شروع کی اور انکم ٹیکس رولز 2002 کے رول (4)44 کے تحت مطابقت (Reconciliation) طلب کی۔ ڈیپارٹمنٹ نے خریداریاں، کرایہ، سفری اخراجات اور دیگر غیر براہ راست اخراجات پر ودہولڈنگ ٹیکس نہ کاٹنے کا الزام عائد کرتے ہوئے 8,97,662 روپے کا اصل ٹیکس اور سیکشن 205 کے تحت 1,61,579 روپے کا ڈیفالٹ سرچارج ملا کر کل 10,59,241 روپے کی ڈیمانڈ قائم کر دی۔

اپیلٹ ٹریبیونل نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ قانون کے تحت رول (4)44 کا کام صرف اور صرف معلومات کی مطابقت اور تصدیق تک محدود ہے، جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس کی ذاتی ذمہ داری اور ٹیکس کے تعین کا بنیادی قانون سیکشن 161 ہے۔ سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں (بشمول ایم سی بی بینک، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور چاولہ فٹ ویئر) کا حوالہ دیتے ہوئے ٹریبیونل نے قرار دیا کہ رول (4)44 کے تحت مطابقت کے بعد اگر کوئی خرابی سامنے آئے تو قانونی کارروائی اور ٹیکس کی ڈیمانڈ سیکشن 161 کے تحت قائم کی جانی چاہیے۔ افسر کی طرف سے رول (4)44 کو ہی ٹیکس کی اصل ڈیمانڈ کا بنیادی ذریعہ بنانا قانونی طور پر غلط تھا۔

ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے اس موقف کو بھی رد کر دیا گیا کہ یہ محض ایک معمولی غلطی تھی جسے سیکشن (2)126 کے تحت درست مانا جا سکتا ہے۔ ٹریبیونل نے قرار دیا کہ سیکشن 126 فارم یا فارمیٹ کی غلطیوں کو تو تحفظ دے سکتا ہے لیکن یہ قانون کے بنیادی ماخذ یا اصل ڈیمانڈ کی قانونی بنیاد کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ جب اصل ٹیکس کی لائبلٹی ہی برقرار نہ رہ سکی تو سیکشن 205 کے تحت عائد کردہ ڈیفالٹ سرچارج بھی خود بخود ختم ہو گیا۔ لہٰذا ٹریبیونل نے 7 دسمبر 2017 کا اصل آرڈر اور 21 مارچ 2018 کا CIR(A) کا اپیلیٹ آرڈر دونوں منسوخ کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کی اپیل منظور کر لی۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترےوہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو6 ستمبر یوم دفاع پاکستان
06/09/2026

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

6 ستمبر یوم دفاع پاکستان

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ریونیو ڈویژن، اسلام آباد سے یکم ستمبر 2026 کو ایک اہم ترمیمی مراسلہ (Corrigendum) جاری کیا...
03/09/2026

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ریونیو ڈویژن، اسلام آباد سے یکم ستمبر 2026 کو ایک اہم ترمیمی مراسلہ (Corrigendum) جاری کیا ہے، جس کا مقصد انکم ٹیکس سرکلر نمبر 01 آف 2026-27 کے پیراگراف 2 کی تصحیح کرنا ہے۔ اس ترمیم کی رو سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت اسیسمنٹ کی کارروائیوں کو شفاف بنانے کے لیے 'کمپلائنس رسک مینجمنٹ' (CRM) سسٹم کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا ہے تاکہ افسران کا ذاتی اختیار اور من مانی ختم ہو سکے۔
اس نئ ترمیم کے بعد اب ان لینڈ ریونیو کا کوئی بھی افسر سی آر ایم (CRM) سسٹم کے ذریعے انتخاب اور تفویض کے بغیر انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعات 111، 122 اور 177 کے تحت کوئی نیا نوٹس جاری کر سکتا ہے اور نہ ہی اسیسمنٹ یا ترمیم کی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ اس اصلاحی عمل کے ذریعے سیکشن 111 (غیر واضح شدہ آمدنی یا اثاثے) کو تو سی آر ایم سسٹم کے دائرہ کار میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ سابقہ سرکلر سے سیکشن 121، 122A، اور 122C کو نکال دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ FBR نے پہلے سرکلر میں سیکشن 122C کو غلطی سے درج کر دیا تھا، جسے اب نکال تو دیا گیا ہے مگر یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ سیکشن فنانس ایکٹ 2017 کے تحت بہت پہلے ہی منسوخ ہو چکا تھا۔
اس تمام دفتری حکم نامے کا عملی خلاصہ یہ ہے کہ یکم ستمبر 2026 کے بعد سے بغیر سی آر ایم سسٹم کے شروع کی گئی تمام تر کارروائیاں مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر مجاز تصور کی جائیں گی۔ سرکلر میں اس بات کی سخت تاکید کی گئی ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں شروع کی گئی کسی بھی کارروائی کو مجاز اتھارٹی کی جانب سے ابتدا ہی سے باطل اور کالعدم (void ab initio) قرار دیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، FBR نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اس تصحیح کے علاوہ سرکلر کے دیگر تمام مندرجات اور شرائط حسبِ سابق برقرار رہیں گی۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

ٹیکس ریٹرن فائلنگ کے بیچوں بیچ ایف بی آر نے اچانک انکم ٹیکس فارمز بدل کر پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی!فیڈرل بورڈ آف ریونی...
03/09/2026

ٹیکس ریٹرن فائلنگ کے بیچوں بیچ ایف بی آر نے اچانک انکم ٹیکس فارمز بدل کر پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی!

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس ایئر 2026ء کے انکم ٹیکس گوشواروں کے فارمز میں اچانک ترمیم نے ملک بھر کے ٹیکس دہندگان اور ٹیکس ماہرین میں ایک بار پھر بے چینی اور خدشات کی لہر دوڑا دی ہے۔ انکم ٹیکس ریٹرن فائلنگ کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہوئے تقریباً دو ماہ کا عرصہ بیت چکا تھا اور بڑی تعداد میں شہری اپنے گوشوارے جمع کروا بھی چکے تھے کہ ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے سیکشن 237 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 'انکم ٹیکس رولز 2002ء' میں ترمیم کا نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اس اقدام نے پہلے سے تیار کردہ یا جمع کروائے گئے گوشواروں کی صحت اور قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان ثبت کر دیے ہیں۔
سرکاری نوٹیفکیشن ایس آر او 495(I)/2026 کے ذریعے انکم ٹیکس رولز کے دوسرے شیڈول میں چار نئے حصے (پارٹ II-ZE، پارٹ II-ZF، پارٹ II-ZG اور پارٹ II-ZH) شامل کیے گئے ہیں۔ یہ ترامیم مئی 2026ء میں جاری کردہ ابتدائی ڈرافٹ ایس آر او 835(I)/2026 کے تسلسل میں سامنے آئی ہیں۔ اس غیر متوقع تبدیلی کا سب سے حساس پہلو یہ ہے کہ موجودہ ٹیکس ایئر کے لیے گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2026ء مقرر ہے، جو اب انتہائی قریب آ چکی ہے۔ فارمز میں اس مرحلے پر تبدیلی کے بعد ٹیکس دہندگان اور ان کے معاشی مشیروں کو اب پورے ڈیٹا کا ازسرنو جائزہ لینا پڑے گا تاکہ نئے قواعد کی روشنی میں درست معلومات کی فراہم کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس صورتحال کے پیش نظر ٹیکس ماہرین اور پریکٹشنرز نے ایف بی آر کے اس وقت پر اٹھائے گئے قدم پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ فائلنگ کا عمل شروع ہونے کے بعد فارمز میں ردوبدل کرنے سے تعمیل کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ان کا زور دار مطالبہ ہے کہ ایف بی آر کو چاہیے کہ جب بھی فارمز میں ترامیم کی جائیں، ٹیکس دہندگان کو ان تبدیلیوں کو سمجھنے، درکار معلومات کی فراہمی اور بغیر کسی تکنیکی یا قانونی دشواری کے ریٹرن فائل کرنے کے لیے ترمیم کی تاریخ سے کم از کم تین ماہ کا اضافی وقت فراہم کرے۔
ایف بی آر کی جانب سے ریٹرنز فارمز میں ان نئی شقوں کی باضابطہ شمولیت نے اب ایک نیا معما کھڑا کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں 30 ستمبر کی حتمی تاریخ سر پر آن پہنچی ہے، وہیں دوسری طرف آخری لمحے کی ترامیم سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ٹیکس قوانین میں عدم استحکام اور بدانتظامی کس طرح عام شہریوں اور کاروباری طبقے کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔ ٹیکس دہندگان اب اس انتظار میں ہیں کہ کیا بورڈ ان کی جائز تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے فائلنگ کی مدت میں توسیع کا اعلان کرتا ہے یا نہیں، کیونکہ مناسب وقت اور واضح رہنمائی کے بغیر ان ترمیم شدہ فارمز کے مطابق ریٹرن جمع کروانا ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہو رہا ہے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

پاکستان کا ٹیکس نظام ایک ایسے موڑ پر آن پہنچا ہے جہاں صرف چند فارم بھر دینا یا عددی خانوں میں اعداد و شمار درج کر دینا ک...
01/09/2026

پاکستان کا ٹیکس نظام ایک ایسے موڑ پر آن پہنچا ہے جہاں صرف چند فارم بھر دینا یا عددی خانوں میں اعداد و شمار درج کر دینا کافی نہیں رہے گا۔ گزشتہ کئی برسوں سے ٹیکس پروفیشنلز، تاجر اور عام شہری ایف بی آر کے ’آئرس‘ (IRIS) پورٹل سے نبرد آزما رہے ہیں۔ کبھی سسٹم کی سست روی، کبھی تکنیکی خامیاں اور کبھی دستاویزات کی اپ لوڈنگ کی دشواریاں، انہی تمام مسائل کے گرد ٹیکس فائلنگ کی پوری کہانی گھومتی رہی ہے۔ لیکن اب آئرس 3.0 کی آمد اس بات کا واضح پیش خیمہ ہے کہ آنے والا وقت صرف ایک نیا سافٹ ویئر اپ گریڈ نہیں، بلکہ پورے ٹیکس کلچر کی تبدیلی کا نام ہے۔
​نئے آئرس 3.0 کا جو خاکہ سامنے آ رہا ہے، اس کی اصل طاقت مصنوعی ذہانت (AI)، مشین لرننگ، اور مختلف قومی ڈیٹا بیسز کا باہمی انضمام ہے۔ جب آپ کے بینک اکاؤنٹس، پراپرٹی کی خرید و فروخت، گاڑیوں کی رجسٹریشن، اور دیگر تمام مالیاتی لین دین کا ڈیٹا ایک ہی ڈیجیٹل چھت تلے اکٹھا ہوگا، تو ریٹرن فائل کرنے کا روایتی طریقہ بالکل بدل جائے گا۔ اب سوال یہ نہیں ہوگا کہ آپ اپنے ریٹرن میں کیا لکھ رہے ہیں، بلکہ بنیادی سوال یہ بن جائے گا کہ جو معلومات ایف بی آر کے پاس پہلے سے موجود ہیں، آپ کا جمع کردہ ریٹرن ان سے کتنا مطابقت رکھتا ہے۔
​اس انقلاب کا سب سے بڑا اثر ٹیکس پروفیشنلز اور مشیروں کے کردار پر پڑے گا۔ ماضی میں ایک اچھے ٹیکس وکیل یا کنسلٹنٹ کی پہچان یہ سمجھی جاتی تھی کہ وہ کلائنٹ کا ڈیٹا سسٹم کے مطابق صحیح خانوں میں فٹ کرنا جانتا ہے۔ لیکن آئرس 3.0 کے بعد صرف ریٹرن ٹائپ کرنا یا ڈیٹا اینٹری کرنا کوئی بڑا کمال نہیں رہے گا۔ آئندہ کے دور میں اصل مہارت ’ڈیٹا اینالیسس‘ اور ’ریکنسلی ایشن‘ ہوگی۔ یعنی اگر حکومت کے پاس موجود ڈیٹا اور ٹیکس دہندہ کے ریٹرن میں کوئی فرق یا تضاد (Discrepancy) نظر آتا ہے، تو اسے قانونی، حساب کتاب اور مالیاتی بنیادوں پر منطقی طریقے سے کیسا سمجھایا جائے گا۔
​کاروباری طبقے اور عام ٹیکس دہندگان کے لیے بھی یہ تبدیلی ایک بیداری کا پیغام ہے۔ ماضی میں بینک ریکارڈز، سیلز کے اعداد و شمار اور خریداری کے کھاتوں میں نظر آنے والی معمولی نا ہم آہنگی کو نظر انداز کر دیا جاتا تھا، مگر اب خودکار الگورتھم لمحوں میں اس تضاد کو پکڑ لیں گے۔ اس نئے ڈیجیٹل دور میں اپنی تمام مالیاتی سرگرمیوں کو شفاف اور ایک دوسرے سے مربوط رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔
​آئرس 2.0 نے پاکستان میں کاغذی نظام سے ڈیجیٹل فائلنگ کی طرف ایک پائیدار قدم بڑھایا تھا، مگر آئرس 3.0 ڈیجیٹل ایڈمنسٹریشن اور سخت نگرانی کا دور شروع کر رہا ہے۔
مگر رکیے.....
آئرس 3.0 کا ڈیجیٹل وژن کاغذ پر جتنا جدید نظر آتا ہے، عملی طور پر اس کی راہ میں کئی ہولناک خامی موجود ہیں۔ نادرہ اور بینکوں کے غیر مصدقہ ڈیٹا پر اندھا اعتماد بلاوجہ کے نوٹسز کا طوفان کھڑا کر سکتا ہے، جبکہ ستمبر میں پورٹل کریش کرنے والی ایف بی آر سے AI چلانے کی توقع محض خام خیالی ہے۔ یہ نظام کیش معیشت کو چھوئے بغیر صرف بینکنگ چینل استعمال کرنے والوں کو مزید جکڑے گا اور سسٹم کی ہر غلطی کا بوجھ ٹیکس دہندہ پر ڈال کر اسے خود کو بے گناہ ثابت کرنے پر مجبور کرے گا۔ پرائیویسی قوانین کے بغیر تمام حساس مالیاتی ریکارڈ ایک جگہ اکٹھا کرنا ڈیٹا چوری کے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے، اور جب تک ٹیکس افسران کا اختیار ختم نہیں ہوتا، یہ خودکار نوٹسز اصلاح کے بجائے صرف بلیک میلنگ اور رشوت ستانی کا نیا طریقہ بن کر رہ جائیں گے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

Address

2/7 Link Farid Kot Road, Mozang Chungi
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Your Tax Partner posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share