Your Tax Partner

Your Tax Partner Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Your Tax Partner, Corporate lawyer, 2/7 Link Farid Kot Road, Mozang Chungi, Lahore.

𝗬𝗢𝗨𝗥 𝗧𝗥𝗨𝗦𝗧𝗘𝗗 𝗧𝗔𝗫 𝗣𝗔𝗥𝗧𝗡𝗘𝗥
Tax & Corporate Consultants
Company Registration
Firm Registration
Income Tax
Sales Tax
PSEB
Trademark
FBR Notices
Contact Us: 0319 1940 445

کیا پہلے سے کٹا ہوا ٹیکس Super Tax کے خلاف ایڈجسٹ ہو سکتا ہے؟سپر ٹیکس کی رقم کو ایڈجسٹ کرنے سے متعلق اہم عدالتی فیصلہوفا...
18/08/2026

کیا پہلے سے کٹا ہوا ٹیکس Super Tax کے خلاف ایڈجسٹ ہو سکتا ہے؟
سپر ٹیکس کی رقم کو ایڈجسٹ کرنے سے متعلق اہم عدالتی فیصلہ

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے F.C.P.L.A. Nos. 1276 اور 1277 of 2026 میں ایک اہم قانونی سوال کا فیصلہ کیا کہ اگر کسی ٹیکس دہندہ کے پاس پہلے سے Tax Credit موجود ہو تو کیا انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 4C کے تحت واجب الادا Super Tax کے خلاف اس ٹیکس کریڈٹ کو ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے اس سوال کا جواب ہاں میں دیا۔
یہ معاملہ CM Pak Limited سے متعلق تھا، جو ایک چینی ملٹی نیشنل گروپ کا حصہ ہے۔ کمپنی کے پاس ٹیکس ایئر 2022 سے متعلق تقریباً Rs. 2.212 ارب کا Excess Tax Deducted at Source موجود تھا۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ یہ رقم اس کے Super Tax کے خلاف ایڈجسٹ کی جائے، لیکن FBR نے اس درخواست کو قبول نہیں کیا۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی کمپنی کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد معاملہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے آیا۔
عدالت نے بنیادی طور پر Section 4C اور Section 168 کو ساتھ پڑھا۔ Section 4C کے تحت Super Tax عائد کیا جاتا ہے، جبکہ اسی دفعہ کی ذیلی شق (3) واضح طور پر کہتی ہے کہ Super Tax کی ادائیگی، وصولی اور جمع کرانے کے معاملے میں Income Tax Ordinance کے Chapter X کی تمام متعلقہ دفعات لاگو ہوں گی۔ عدالت نے قرار دیا کہ Chapter X میں Section 168 بھی شامل ہے، جو ٹیکس دہندہ کو بعض حالات میں پہلے سے جمع یا کٹوتی شدہ ٹیکس کا Tax Credit فراہم کرتی ہے۔
عدالت کی نظر میں قانون میں استعمال ہونے والے الفاظ “all provisions of Chapter X” کو صرف ٹیکس کی ادائیگی کے طریقہ کار تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں ٹیکس کی payment، collection، adjustment، credit اور deposit سے متعلق قانونی نظام بھی شامل ہے۔ لہٰذا اگر Section 168 کے تحت کسی ٹیکس دہندہ کو Tax Credit دستیاب ہے تو محض یہ کہہ کر اسے Super Tax کے خلاف ایڈجسٹ کرنے سے نہیں روکا جا سکتا کہ اسے صرف refund کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ عدالت نے Tax Credit اور Refund کو دو الگ قانونی تصورات قرار دیا۔ Tax Credit کا تعلق Section 168 سے ہے، جبکہ Refund کے لیے Section 170 کے تحت الگ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ Tax Credit کی موجودگی میں ٹیکس دہندہ کو لازماً پہلے Super Tax ادا کرکے پھر صرف refund کے لیے Section 170 کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم، عدالت نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ CM Pak Limited کی پوری رقم لازماً ایڈجسٹ ہو جائے گی یا کتنی رقم ایڈجسٹ ہوگی۔ یہ معاملہ متعلقہ ٹیکس اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں چھوڑ دیا گیا۔ یعنی عدالت نے صرف قانونی اصول طے کیا کہ Section 168 کا Tax Credit، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، Section 4C کے Super Tax کے خلاف adjustment کے لیے استعمال ہو سکتا ہے؛ اصل رقم اور اس کی eligibility کا فیصلہ متعلقہ ٹیکس اتھارٹی کرے گی۔
آخر میں وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 25 مارچ 2026 کا فیصلہ set aside کر دیا اور petitions کو appeals میں تبدیل کرکے اجازت دے دی۔ عدالت نے کمپنی کو یہ آزادی دی کہ وہ متعلقہ taxing authority کے سامنے اپنے Tax Credit کی adjustment کا دعویٰ پیش کرے، اور متعلقہ اتھارٹی قانون اور عدالت کے اس فیصلے میں دی گئی observations کے مطابق اس دعوے کا فیصلہ کرے۔
سادہ الفاظ میں: اگر کسی ٹیکس دہندہ کے پاس قانون کے تحت قابلِ استعمال Tax Credit موجود ہے، تو صرف یہ وجہ کافی نہیں کہ اسے Super Tax کے خلاف ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی آئینی عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ Section 4C کے Super Tax کے معاملے میں Section 168 کا Tax Credit، جہاں قابلِ اطلاق ہو، adjustment کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ البتہ ہر کیس میں اصل adjustment کی رقم اور قانونی اہلیت متعلقہ ٹیکس اتھارٹی طے کرے گی۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) نے ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور دیگر متعلقہ کاروباروں کے لیے الیکٹرانک انوائس مانیٹرنگ سسٹم (e-IMS) س...
13/08/2026

پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) نے ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور دیگر متعلقہ کاروباروں کے لیے الیکٹرانک انوائس مانیٹرنگ سسٹم (e-IMS) سے منسلک ہونے سے متعلق اہم معلوماتی پیغام جاری کیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مالیاتی معاملات اور ٹیکس کے نظام میں شفافیت لانا اور کاروباری اداروں کو جدید ڈیجیٹل طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
اس حکومتی ہدایت نامے کے مطابق، اگر کسی ریسٹورنٹ، ہوٹل یا کاروبار کی ماہانہ اوسط سیلز ۵ لاکھ (500,000) روپے سے زائد ہیں، اور اس کی سالانہ اوسط سیلز ۶۰ لاکھ (6,000,000) روپے سے زیادہ ہو جاتی ہیں، تو وہ e-IMS انٹیگریشن کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
پنجاب ریونیو اتھارٹی کے قواعد و ضوابط کے تحت، معیار پر پورا اترنے والے تمام کاروباری اداروں کے لیے اب یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام کسٹمرز کو انوائسز اور بل صرف e-IMS کے ذریعے ہی جاری کریں۔ یہ اقدام نہ صرف قانونی تقاضوں کو پورا کرتا ہے بلکہ کاروباری نظم و ضبط اور شفافیت کو بھی یقینی بناتا ہے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

17 سالہ پرانا ریکارڈ بھی کم پڑ گیا؟2009 سے تمام ثبوت پیش کرنے کے بعد بھی نوٹس جارییہ اپیل اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو م...
12/08/2026

17 سالہ پرانا ریکارڈ بھی کم پڑ گیا؟
2009 سے تمام ثبوت پیش کرنے کے بعد بھی نوٹس جاری

یہ اپیل اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو ملتان بنچ میں ٹیکس دہندہ چوہدری راحیل اکرم (رہائشی وہاڑی، بورے والا) کی طرف سے کمشنر ان لینڈ ریونیو (اپیلز) ساہیوال کے 26 جنوری 2026 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے، جس کا تعلق ٹیکس سال 2016 سے ہے۔ کیس کا بنیادی پس منظر یہ ہے کہ ٹیکس دہندہ نے سال 2016 کا اپنا انکم ٹیکس گوشوارہ اور ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کروائی، جس میں انہوں نے 121,819,932 روپے کے اثاثے ظاہر کیے۔ ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریونیو (ساہیوال) نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلی بار ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کرواتے وقت ضروری مطابقت (Reconciliation) اور ثبوت فراہم نہیں کیے گئے، جس پر انہوں نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ (5A)122 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیا۔
تیکس دہندہ نے اپنے جواب میں وضاحت کی کہ ظاہر کردہ غیر منقولہ جائیدادیں انہیں وراثت میں ملی تھیں اور زبردستی موجودہ مارکیٹ ویلیو پر درج ہو گئی تھیں، جبکہ زیورات و دیگر اشیاء شادی اور خاندانی روایات کے تحت حاصل ہوئی تھیں۔ ایڈیشنل کمشنر نے اس وضاحت کو جزوی طور پر تسلیم کرتے ہوئے ابتدائی طور پر کی جانے والی بڑی رقم کی پیشکش کو مسترد کیا، تاہم 14 جون 2022 کے آرڈر کے ذریعے 3,500,000 روپے (جن میں 200,000 روپے کے الات، 300,000 روپے کے مویشی اور 3,300,000 روپے کے زیورات شامل تھے) کو دفعہ (1)(b)111 کے تحت غیر واضح اثاثے قرار دے کر ٹیکس میں شامل کر دیا۔ اس فیصلے کے خلاف ٹیکس دہندہ کی پہلی اپیل پر کمشنر اپیلز نے معاملہ دوبارہ سماعت کے لیے ایڈیشنل کمشنر کو واپس (Remand) بھیج دیا۔
ریمانڈ کی کارروائی کے دوران ٹیکس دہندہ نے ٹیکس سال 2009 سے لے کر 2015 تک کے سابقہ گوشوارے، ویلتھ سٹیٹمنٹس اور تفصیلی مطابقت پیش کی تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ مذکورہ اثاثے ماضی سے چلے آ رہے ہیں اور موجودہ سال کی آمدن سے نہیں خریدے گئے۔ اس کے باوجود ایڈیشنل کمشنر نے 24 جون 2025 کو دوبارہ 3,500,000 روپے کا اضافہ برقرار رکھا، اور بعد میں کمشنر اپیلز نے بھی 26 جنوری 2026 کو اس فیصلے کی توثیق کر دی۔
تیکس دہندہ کے وکلاء نے اپیلٹ ٹریبونل کے سامنے یہ قانونی اعتراضات اٹھائے کہ ایڈیشنل کمشنر کے پاس دفعہ (5A)122 کے تحت کارروائی شروع کرنے کا قانونی اختیار (Jurisdiction) نہیں تھا کیونکہ کوئی واضح قانونی یا بھیجی خرابی ثابت نہیں ہوئی۔ مزید برآں، یہ موقف اختیار کیا گیا کہ جو اثاثے سابقہ سالوں (2014 اور 2015) کی ویلتھ سٹیٹمنٹ کا حصہ بن چکے ہوں اور آگے منتقل (Brought Forward) ہوئے ہوں، انہیں ٹیکس سال 2016 میں غیر واضح آمدن قرار دے کر دفعہ 111 کے تحت ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا۔ دوسری طرف، محکمہ کے نمائندے نے اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے موقف دیا کہ ٹیکس دہندہ ان اثاثوں کی خریداری کا ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے محکمے کے اقدامات قانونی طور پر درست ہیں۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

کروڑوں کا بینک بیلنس… کروڑوں کی ٹیکس ڈیمانڈ… اور پھر ایف بی آر کو بڑا قانونی جھٹکا!۔یہ فیصلہ بنیادی طور پر اس اہم سوال ک...
11/08/2026

کروڑوں کا بینک بیلنس… کروڑوں کی ٹیکس ڈیمانڈ… اور پھر ایف بی آر کو بڑا قانونی جھٹکا!۔

یہ فیصلہ بنیادی طور پر اس اہم سوال کے گرد گھومتا ہے کہ کیا ایف بی آر بینک اکاؤنٹ میں آنے والی رقوم کو بنیاد بنا کر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 122(5A) کے تحت پہلے سے مکمل شدہ اسیسمنٹ کو دوبارہ کھول سکتا ہے، جبکہ ان رقوم کو کاروباری سیلز یا چھپی ہوئی آمدن ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیقات درکار ہوں؟ اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو، کراچی، اسپیشل ڈویژن بینچ کوئٹہ نے 10 اگست 2026 کو مسٹر لال محمد کے ٹیکس سال 2018، 2019 اور 2020 سے متعلق تینوں اپیلوں کا فیصلہ ایک مشترکہ حکم کے ذریعے کیا۔
کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ٹیکس دہندہ نے ان تین سالوں کے ریٹرنز جمع کرائے، جن میں بالترتیب تقریباً 93 لاکھ 75 ہزار، 13 لاکھ 5 ہزار اور 13 لاکھ 25 ہزار روپے کا ٹرن اوور ظاہر کیا گیا اور اس پر کم از کم ٹیکس ادا کیا گیا۔ یہ ریٹرنز دفعہ 120(1) کے تحت خودکار طور پر اسیسمنٹ آرڈرز بن گئے۔ بعد ازاں ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن سے ایف بی آر کو بینک اکاؤنٹس میں بھاری کریڈٹ انٹریز کی معلومات موصول ہوئیں۔ ان رقوم کا حجم بالترتیب تقریباً 7 کروڑ 69 لاکھ، 8 کروڑ 45 لاکھ اور 5 کروڑ 39 لاکھ روپے تھا۔
محکمہ نے ان بینک کریڈٹس اور ریٹرن میں ظاہر کیے گئے ٹرن اوور کے درمیان فرق کو کاروباری آمدن یا مبینہ طور پر چھپی ہوئی سیلز قرار دے دیا۔ اس بنیاد پر دفعہ 122(9) کے ساتھ 122(5A) کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔ ٹیکس دہندہ کی طرف سے مؤثر جواب نہ آنے پر محکمہ نے اسیسمنٹس میں ترمیم کرتے ہوئے بھاری ٹیکس ڈیمانڈز پیدا کر دیں، جو تینوں سالوں کے لیے بالترتیب 2 کروڑ 28 لاکھ 75 ہزار 346 روپے، 2 کروڑ 35 لاکھ 31 ہزار 163 روپے اور 1 کروڑ 77 لاکھ 82 ہزار 268 روپے تھیں۔
ٹیکس دہندہ نے اس کارروائی کو چیلنج کیا اور بنیادی اعتراض یہ اٹھایا کہ محکمہ نے غلط قانونی دفعہ استعمال کی ہے۔ اس کے مطابق اگر ایف بی آر کے پاس ایسی معلومات موجود تھیں جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ آمدن چھپائی گئی ہے یا اسیسمنٹ کم ہوئی ہے، تو مناسب راستہ دفعہ 122(5) تھا، نہ کہ دفعہ 122(5A)۔ خاص طور پر اس لیے کہ Finance Act 2021 کے بعد دفعہ 122(5A) سے وہ الفاظ حذف کر دیے گئے تھے جو کمشنر کو ضروری انکوائری کرنے یا کروانے کا اختیار دیتے تھے۔
ٹریبونل نے اس اعتراض کو بنیادی اہمیت دی۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ دفعہ 122(5) اور 122(5A) ایک ہی مقصد کے لیے استعمال ہونے والی متبادل دفعات نہیں ہیں۔ دفعہ 122(5) اس وقت حرکت میں آتی ہے جب آڈٹ یا definite information کی بنیاد پر escaped income، under-assessment وغیرہ کا معاملہ سامنے آئے۔ دوسری طرف دفعہ 122(5A) کی بنیاد یہ ہے کہ موجودہ assessment order خود غلط (erroneous) ہو اور اس غلطی سے ریونیو کے مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہو۔ صرف یہ حقیقت کہ حکومت کو مزید ٹیکس مل سکتا ہے، 122(5A) کا اختیار پیدا نہیں کرتی۔
یہاں Finance Act 2021 کی ترمیم فیصلہ کن بن گئی۔ ٹریبونل نے نوٹ کیا کہ ترمیم سے پہلے 122(5A) میں کمشنر کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ ضروری انکوائری کر کے assessment میں ترمیم کرے، لیکن قانون ساز ادارے نے یہ الفاظ جان بوجھ کر ختم کر دیے۔ ٹریبونل کے مطابق اس حذف کا مطلب یہ ہے کہ ترمیم کے بعد 122(5A) کو ایک ایسی وسیع تحقیقاتی طاقت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا جس کے ذریعے محکمہ پہلے کسی بیرونی ذریعے سے معلومات حاصل کرے، پھر تحقیقات کرے اور آخر میں کوئی نئی آمدن دریافت کر کے اسے assessment میں شامل کر دے۔
فیصلے کا ایک نہایت اہم پہلو بینک کریڈٹ کے بارے میں ہے۔ ٹریبونل نے کہا کہ بینک اکاؤنٹ میں رقم کا آنا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ taxable income یا کاروباری turnover ہے۔ وہ رقم سیل کی آمدن ہو سکتی ہے، لیکن قرض، سرمایہ کاری، کسی دوسرے اکاؤنٹ سے منتقلی، advance کی واپسی، receivable کی وصولی، refund یا کوئی اور رقم بھی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا "بینک میں رقم آئی" سے براہِ راست "یہ چھپی ہوئی کاروباری سیلز ہیں" تک پہنچنے کے لیے factual examination ضروری ہے۔
اسی نکتے پر ٹریبونل نے سپریم کورٹ کے فیصلے Khudadad Heights, 2025 SCMR 716 کا حوالہ بھی دیا، جس میں بینک اسٹیٹمنٹ میں موجود transactional data اور ایسی definite information کے درمیان فرق واضح کیا گیا جو مزید تجزیے کے بغیر خود ہی taxable income ثابت کر دے۔ ٹریبونل نے یہ بھی واضح کیا کہ سابقہ فیصلہ CIR Multan v. Muhammad Amin Arshad, 2021 SCMR 437 اس اصول کو ختم نہیں کرتا؛ یعنی بعض حالات میں بینک کریڈٹس definite information ہو سکتے ہیں، لیکن ہر بینک کریڈٹ خود بخود suppressed turnover کا حتمی ثبوت نہیں بن جاتا۔
اس کیس میں محکمہ نے صرف بینک اکاؤنٹس میں موجود مجموعی کریڈٹ رقوم کو ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کیے گئے ٹرن اوور سے موازنہ کیا اور فرق کو suppressed sales قرار دے دیا۔ لیکن ریکارڈ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ بینک میں آنے والی تمام رقوم واقعی کاروباری فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم تھیں۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ٹریبونل کے مطابق مزید تحقیق اور determination کی ضرورت پیدا ہوئی، اور ایسی investigative exercise دفعہ 122(5A) کے دائرے سے باہر تھی۔
ایک اور دلچسپ نکتہ یہ تھا کہ ٹیکس دہندہ کا شوکاز نوٹس کا جواب نہ دینا بھی محکمہ کی مدد نہ کر سکا۔ ٹریبونل نے صاف الفاظ میں قرار دیا کہ اگر کسی اتھارٹی کے پاس ابتدا ہی میں قانونی اختیار موجود نہیں تو ٹیکس دہندہ کی non-compliance اس اختیار کو پیدا نہیں کر سکتی۔ یعنی غلط jurisdiction کو صرف اس وجہ سے درست نہیں کیا جا سکتا کہ taxpayer نے نوٹس کا جواب نہیں دیا۔
بالآخر ٹریبونل اس نتیجے پر پہنچا کہ محکمہ نے ایک نئی factual matter دریافت کرنے، بینک کریڈٹس کی نوعیت طے کرنے اور مبینہ suppressed turnover معلوم کرنے کے لیے دفعہ 122(5A) استعمال کی، جبکہ ایسی کارروائی کا تعلق، قانونی شرائط پوری ہونے کی صورت میں، دفعہ 122(5) سے بنتا تھا۔ چونکہ 122(5A) کے تحت jurisdiction ہی درست طور پر حاصل نہیں کی گئی تھی، اس لیے اس کے نتیجے میں بنائی گئی additions اور tax demands بھی برقرار نہیں رہ سکتیں۔
چنانچہ ٹریبونل نے تینوں impugned orders کو jurisdictional defect کی بنیاد پر کالعدم قرار دے دیا اور ٹیکس سال 2018، 2019 اور 2020 کے لیے لال محمد کی اپیلیں منظور کر لیں۔ تاہم فیصلہ یہ نہیں کہتا کہ بینک اکاؤنٹ میں موجود مشکوک یا unexplained رقوم پر ایف بی آر کبھی کارروائی نہیں کر سکتا۔ ٹریبونل نے واضح کیا کہ محکمہ قانون کے مطابق کسی دوسری مناسب jurisdiction کے تحت کارروائی کر سکتا ہے، بشرطیکہ متعلقہ قانونی شرائط، حدود اور procedural safeguards پوری کی جائیں۔ ٹریبونل نے بینک کریڈٹس کی اصل taxability پر کوئی حتمی رائے بھی نہیں دی۔
اگر ایف بی آر کو بعد میں کسی بینک اکاؤنٹ سے ایسی معلومات ملتی ہیں جن کی بنیاد پر اسے لگتا ہے کہ آمدن چھپائی گئی ہے، تو وہ محض اس فرق کو دیکھ کر دفعہ 122(5A) کے ذریعے پرانی assessment کو investigate نہیں کر سکتا۔ پہلے یہ دکھانا ضروری ہے کہ assessment record میں کوئی واضح اور ثابت شدہ غلطی موجود تھی۔ اگر نئی معلومات، بینک ٹرانزیکشنز کی verification اور رقوم کی اصل نوعیت معلوم کرنے کے لیے investigation درکار ہو تو معاملہ reassessment کے قانونی راستے، یعنی دفعہ 122(5)، کی طرف جاتا ہے—122(5A) کو اس کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

بیرونِ ملک سے 50 لاکھ تک رقم آئی؟ FBR ہر بار Source نہیں پوچھ سکتا! مگر ایک غلطی آپ کو مشکل میں ڈال سکتی ہے!فرض کریں آپ ...
09/08/2026

بیرونِ ملک سے 50 لاکھ تک رقم آئی؟ FBR ہر بار Source نہیں پوچھ سکتا! مگر ایک غلطی آپ کو مشکل میں ڈال سکتی ہے!
فرض کریں آپ کے بھائی، والد، بیٹے یا کوئی قریبی عزیز بیرونِ ملک کام کرتا ہے اور پاکستان میں آپ کے بینک اکاؤنٹ میں رقم بھیجتا ہے۔ رقم باقاعدہ بینکنگ چینل سے آتی ہے، بینک اسٹیٹمنٹ میں اس کا ریکارڈ موجود ہے، لیکن اچانک سوال اٹھتا ہے: یہ رقم کہاں سے آئی؟ کیا FBR اس کا Source پوچھ سکتا ہے؟ اور کیا اس پر ٹیکس لگے گا؟
اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کا سیکشن 111 اہم ہے۔ یہ سیکشن بنیادی طور پر ایسی آمدن، رقم یا اثاثے سے متعلق ہے جن کے بارے میں ٹیکس دہندہ یہ وضاحت نہ کر سکے کہ ان کا ذریعہ کیا ہے۔ آسان الفاظ میں، اگر آپ کے پاس بڑی رقم موجود ہو اور آپ اس کے Source of Money کی مناسب وضاحت نہ کر سکیں تو ٹیکس اتھارٹی اس بارے میں سوال کر سکتی ہے۔
لیکن بیرونِ ملک سے آنے والی مخصوص رقوم کے لیے قانون میں ایک اہم تحفظ بھی موجود ہے، جسے سیکشن 111(4) کے تحت سمجھا جاتا ہے۔ اگر رقم مقررہ قانونی طریقے سے بیرونِ ملک سے پاکستان آئی ہو اور قانون کی متعلقہ شرائط پوری ہوں تو اسے محض اس وجہ سے غیر واضح رقم نہیں سمجھا جاتا کہ اس کا اصل ذریعہ پاکستان سے باہر تھا۔
سب سے پہلی شرط قانونی بینکنگ چینل ہے۔ اگر رقم کسی شیڈولڈ بینک یا مجاز ریمیٹنس چینل کے ذریعے پاکستان آتی ہے تو اس کا باقاعدہ ریکارڈ بنتا ہے۔ یہی ریکارڈ بعد میں یہ ثابت کرنے میں مدد دیتا ہے کہ رقم واقعی بیرونِ ملک سے منتقل ہوئی تھی۔ اس کے برعکس ہنڈی یا حوالہ جیسے غیر رسمی ذرائع سے آنے والی رقم کو سیکشن 111(4) کا تحفظ حاصل ہونے کا دعویٰ خطرناک ہو سکتا ہے۔
دوسری اہم چیز دستاویزات ہیں۔ بیرونِ ملک سے رقم وصول ہونے پر بینک اسٹیٹمنٹ، ریمیٹنس کی تفصیل اور بینک سے دستیاب متعلقہ سرٹیفکیٹ یا PRC جیسے ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ آج شاید ان کاغذات کی ضرورت نہ پڑے، لیکن کل اگر FBR Source of Money کے بارے میں سوال کرے تو یہی دستاویزات آپ کے لیے اہم ثبوت بن سکتی ہیں۔
اب آتے ہیں پچاس لاکھ روپے کی حد کی طرف۔ سیکشن 111(4) میں مخصوص شرائط کے ساتھ ایک ٹیکس سال کے دوران پچاس لاکھ روپے تک کی بیرونِ ملک سے آنے والی ریمیٹنس کے حوالے سے خصوصی قانونی تحفظ موجود ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پچاس لاکھ سے زیادہ رقم غیر قانونی ہے یا لازماً اس پر ٹیکس لگے گا۔ بڑی رقم کی صورت میں Source اور Money Trail کی وضاحت زیادہ اہم ہو سکتی ہے، اس لیے مکمل ریکارڈ رکھنا ضروری ہے۔
مثلاً بیرونِ ملک رہنے والا کوئی شخص اپنے والدین، بیوی یا بچوں کے اخراجات کے لیے رقم بھیجتا ہے۔ یہ رقم عموماً Family Support یا Home Remittance کی نوعیت رکھتی ہے۔ لیکن ہر بیرونِ ملک سے آنے والی رقم کو Home Remittance نہیں کہا جا سکتا۔ رقم کا اصل مقصد اور نوعیت دیکھنا ضروری ہے۔
اگر کوئی شخص پاکستان میں بیٹھ کر بیرونِ ملک کے کلائنٹس کے لیے Freelancing، IT Services یا Export of Services کر رہا ہے تو اس کی آمدن کی نوعیت مختلف ہوگی۔ یہ کاروباری یا پیشہ ورانہ آمدن ہو سکتی ہے اور اس پر متعلقہ ٹیکس قوانین اور ودہولڈنگ ٹیکس کے قواعد لاگو ہو سکتے ہیں۔ صرف بیرونِ ملک سے رقم آنے کی وجہ سے ہر آمدن خود بخود ٹیکس فری نہیں ہو جاتی۔
اسی طرح اگر بیرونِ ملک جائیداد یا کاروبار فروخت کرکے رقم پاکستان منتقل کی گئی ہے تو Sale Agreement، Property Documents، Bank Statements اور دیگر متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیے۔ یہ دستاویزات ضرورت پڑنے پر رقم کے اصل Source کو ثابت کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
ایک اور اہم بات Wealth Statement ہے۔ یہ سوچ درست نہیں کہ اگر بیرونِ ملک سے آنے والی رقم پر ٹیکس نہیں تو اسے ٹیکس ریکارڈ میں ظاہر کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ اپنی مالی صورتحال اور رقم کی نوعیت کو قانون کے مطابق درست طریقے سے ظاہر کرنا ضروری ہے۔
سب سے زیادہ احتیاط Hundi اور Hawala سے متعلق ہے۔ غیر رسمی طریقے سے آنے والی رقم کو بعد میں بینک میں جمع کروا دینے سے وہ خود بخود قانونی Foreign Remittance نہیں بن جاتی۔ ایسی صورت میں Source of Money کے بارے میں سوال اٹھ سکتا ہے۔
آخر میں بات بہت سادہ ہے: سیکشن 111(4) ہر بیرونِ ملک سے آنے والی رقم کے لیے کھلی چھوٹ نہیں، بلکہ مخصوص شرائط کے ساتھ ایک قانونی تحفظ ہے۔
اس لیے رقم ہمیشہ قانونی بینکنگ چینل سے وصول کریں، اس کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں، اور اپنی ٹیکس ریٹرن و Wealth Statement میں اس کی اصل نوعیت درست طور پر ظاہر کریں۔
کیونکہ ٹیکس کے معاملے میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "پیسہ بیرونِ ملک سے آیا ہے"؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ کے پاس اسے ثابت کرنے کے لیے کیا قانونی اور بینکنگ ریکارڈ موجود ہے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

محکمہ ٹیکس کی غیر قانونی روش پر عدالت آگ بگولاکمشنر پر 20,000 کا جرمانہ عائد!عدالت کے ایوانوں میں انصاف اور قانون کی بال...
08/08/2026

محکمہ ٹیکس کی غیر قانونی روش پر عدالت آگ بگولا
کمشنر پر 20,000 کا جرمانہ عائد!

عدالت کے ایوانوں میں انصاف اور قانون کی بالا دستی کا ایک بے مثال اور شاندار باب اس وقت رقم ہوا جب اپیلٹ ٹربیونل انلینڈ ریونیو، ملتان میں کیس ITA 32/MB/2026 کی سماعت ہوئی۔ اوکاڑہ کے محترم شہری جناب محمد اسماعیل کی نمائندگی کرتے ہوئے، لاہور کے معروف اور قابلِ قدر وکیل جناب غلام اکبر کھوسہ صاحب نے عدالت عالیہ کے سامنے پیش ہو کر اپنی پیشہ ورانہ مہارت، بے باکی اور آئینی و قانونی بصیرت کا لوہا منوا لیا۔
لاہور سے سفر کر کے ملتان پہنچنے والے فاضل ایڈووکیٹ غلام اکبر کھوسہ صاحب نے قانون کی پاسداری اور اپنے موکل کے حقوق کے تحفظ کے لیے انتہائی مدلل اور ٹھوس انداز میں موقف اختیار کیا۔ انہوں نے ٹربیونل کی توجہ 04.06.2026 کے پچھلے حکم کی طرف مبذول کرائی، جس کے تحت محکمانہ نمائندے (DR) کو یہ ثابت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 177(6) کے تحت آڈٹ رپورٹ شوکاز نوٹس سے قبل فراہم کی گئی تھی یا نہیں۔ فاضل وکیل کے اس مضبوط اور قانونی نقطے نے مخالف فریق کے پاس کوئی مطمئن جواب نہ چھوڑا۔
ٹربیونل کے معزز ممبران، جناب خرم شہباز بٹ صاحب اور جناب میاں عبدالباری رشید صاحب نے جناب غلام اکبر کھوسہ ایڈووکیٹ کی بہترین کاوشوں، وقت کی پابندی اور پیشہ ورانہ لگن کو بھرپور سراہا۔ محکمے کی جانب سے عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹربیونل نے متعلقہ کمشنر کو 20,000 روپے کے اخراجات (Costs) بطورِ تاوان جناب غلام اکبر کھوسہ صاحب کو ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔
عدالت کا یہ فیصلہ جہاں قانون کی حکمرانی اور سائلین کے حقوق کی فتح کا ضامن ہے، وہیں یہ جناب غلام اکبر کھوسہ ایڈووکیٹ کی انتھک محنت، بہترین حکمتِ عملی اور قانونی میدان میں ان کی شاندار قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے موکل کے مقدمے کو کامیابی کی راہ پر گامزن کیا بلکہ وکالت کی دنیا میں ایک اعلیٰ اور قابلِ تقلید مثال بھی قائم کی۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

ہم مینوفیکچرر ہیں، عام دکاندار نہیںیہ کیس پاکستان کی ایک مشہور کپڑا بنانے والی کمپنی کا ہے ، جسے ہم سب سیفم (پرائیویٹ) ل...
08/08/2026

ہم مینوفیکچرر ہیں، عام دکاندار نہیں

یہ کیس پاکستان کی ایک مشہور کپڑا بنانے والی کمپنی کا ہے ، جسے ہم سب سیفم (پرائیویٹ) لمیٹڈ (M/s Sefam Pvt. Limited) کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ کمپنی کپڑے خود بھی بناتی ہے (یعنی مینوفیکچرر ہے) اور اپنے ہی برانڈڈ آؤٹ لیٹس (دکانوں) کے ذریعے انہیں گاہکوں کو بیچتی بھی ہے۔ سال 2011 میں ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے کمپنی کا پچھلا آڈٹ کیا اور ان پر دو بڑے الزامات لگا کر کروڑوں روپے کا ٹیکس نوٹس بھیج دیا۔ پہلا الزام یہ تھا کہ آپ دکانوں سے جو ریٹیل سیلنگ کر رہے ہیں، اس پر آپ نے ریٹیلرز والا 'خصوصی سیلز ٹیکس' ادا نہیں کیا، جس کی وجہ سے لگ بھگ ساڑھے پانچ کروڑ روپے کا ٹیکس بقایا نکلتا ہے۔ دوسرا الزام یہ تھا کہ کمپنی کے ڈائریکٹرز کے ایک ذاتی بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے جمع ہوئے، جنہیں ڈپارٹمنٹ نے کمپنی کی 'چھپائی گئی کمائی' قرار دے کر اس پر بھی ٹیکس مانگ لیا۔ ٹیکس افسران نے کمپنی کی ایک نہ سنی اور جب کمپنی نے پہلی اپیل کی، تو وہاں سے بھی کوئی خاص ریلیف نہ ملا۔ آخر کار، اس ناانصافی کے خلاف سیفم کمپنی انصاف کی تلاش میں اپلیٹ ٹریبیونل انلینڈ ریونیو، لاہور کے پاس پہنچ گئی۔
عدالت میں سیفم کمپنی کے وکیل نے قانون کی روشنی میں ایسے پکے دلائل دیے کہ ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے افسران لاجواب ہو گئے۔ وکیل نے سب سے پہلے دائرہ اختیار (Jurisdiction) کا قانونی نکتہ اٹھایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جس اسسٹنٹ کمشنر نے یہ ساڑھے پانچ کروڑ کا بڑا فیصلہ سنایا، قانون کے تحت ان کے پاس اتنے بڑے کیس کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق ہی نہیں تھا کیونکہ ان کا قانونی اختیار صرف 5 لاکھ روپے تک کے کیسز کا تھا۔ مزید یہ کہ جب یہ نوٹس جاری ہوا، اس وقت کمپنی کا کیس قانونی طور پر لاہور کے RTO کے ماتحت تھا، جبکہ نوٹس LTU کے افسر نے جاری کر دیا، جو کہ قانون کی سراسر خلاف ورزی تھی۔ ان تکنیکی بنیادوں پر یہ پورا کیس ہی شروع سے غیر قانونی ثابت ہو گیا۔
کیس کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ وہ تھا جب مینوفیکچرر بمقابلہ ریٹیلر (Manufacturer-cum-Retailer) کی قانونی حیثیت پر بحث شروع ہوئی۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ وہ بنیادی طور پر ایک کارخانہ دار (Manufacturer) ہیں، اور قانون کا یہ طے شدہ اصول ہے کہ اگر کوئی کارخانہ دار اپنی ہی بنائی ہوئی چیزیں اپنے آؤٹ لیٹس پر بیچے، تو اس کی اصل حیثیت کارخانہ دار کی ہی رہتی ہے، اسے عام دکاندار یا 'ریٹیلر' نہیں مانا جا سکتا۔ لہٰذا، ریٹیلرز کے لیے بنائے گئے خصوصی ٹیکس قوانین ان پر لاگو ہی نہیں ہوتے۔ خود حکومت نے بھی بعد میں قانون میں ترمیم کر کے یہ بات بالکل صاف کر دی تھی کہ مینوفیکچرر-کم-ریٹیلر پر یہ ٹیکس نہیں لگے گا، اور عدالت نے مانا کہ اس ترمیم کا فائدہ کمپنی کو پچھلے سالوں کے لیے بھی ملنا چاہیے۔
عدالت نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے دہرے معیار اور ناانصافی کو بھی بری طرح بے نقاب کیا۔ معزز جج صاحبان نے نوٹ کیا کہ اس دور میں کپڑے کی مصنوعات پر حکومت کی طرف سے **زیرو ریٹڈ (0% ٹیکس)** کی سہولت حاصل تھی۔ ٹیکس ڈپارٹمنٹ کا طریقہ کار یہ تھا کہ جب کوئی کمپنی ایسی چیزیں بناتی جس پر 16 فیصد ٹیکس لاگو ہوتا، تو ڈپارٹمنٹ اسے مینوفیکچرر کہہ کر پورا 16 فیصد مانگتا تھا۔ لیکن چونکہ یہاں کپڑے پر صفر فیصد ٹیکس تھا، تو ڈپارٹمنٹ نے زبردستی سیفم کو 'ریٹیلر' کہنا شروع کر دیا تاکہ کسی نہ کسی بہانے 0.75 فیصد کا ٹیکس وصول کیا جا سکے۔ ٹریبیونل نے اسے آئینِ پاکستان کے ارٹیکل 25 (قانون کے سامنے سب برابر ہیں) کی خلاف ورزی قرار دیا، کیونکہ مارکیٹ کے دوسرے بڑے برانڈز کو چھوڑ کر صرف سیفم کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
جہاں تک ڈائریکٹرز کے ذاتی بینک اکاؤنٹ کا تعلق تھا، عدالت نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو یاد دلایا کہ آپ لوگ انھی اکاؤنٹس پر انکم ٹیکس کا کیس پہلے ہی ہار چکے ہیں اور وہاں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس پیسے کا کمپنی کی سیلز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چونکہ وہ فیصلہ حتمی ہو چکا تھا، اس لیے اب دوبارہ سیلز ٹیکس کے بہانے اسی پرانے معاملے کو اٹھانا بالکل غلط ہے۔ آخر کار، اپلیٹ ٹریبیونل نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے تمام دعووں کو قانون اور انصاف کے خلاف پایا۔ معزز عدالت نے سیفم کمپنی کی اپیل کو مکمل طور پر منظور کرتے ہوئے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے جاری کردہ تمام آرڈرز کو منسوخ کر دیا اور کروڑوں روپے کی ناجائز ٹیکس ڈیمانڈ کو جڑ سے ختم کر دیا۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

ایک چھوٹی سی ٹافی، مگر اب اس پر بھی ٹیکس کی تفصیل لازمی! لیکن اگر ٹافی کا ریپر اتنا چھوٹا ہو کہ اس پر قیمت اور سیلز ٹیکس...
07/08/2026

ایک چھوٹی سی ٹافی، مگر اب اس پر بھی ٹیکس کی تفصیل لازمی! لیکن اگر ٹافی کا ریپر اتنا چھوٹا ہو کہ اس پر قیمت اور سیلز ٹیکس واضح طور پر پرنٹ کرنا ممکن ہی نہ ہو، تو پھر کیا ہوگا؟
یہی سوال گزشتہ چند ہفتوں سے صنعت کاروں کو پریشان کیے ہوئے تھا، اور اب ایف بی آر نے اس پر باضابطہ وضاحت جاری کر دی ہے۔ 5 اگست 2026 کو جاری ہونے والے Sales Tax General Order No. 15 of 2026 کے مطابق، اگر چاکلیٹس، ٹافیوں یا اسی نوعیت کی کنفیکشنری مصنوعات کے انفرادی ریپر پر قیمت اور سیلز ٹیکس پرنٹ کرنا عملی طور پر ممکن نہ ہو، تو ایسی صورت میں یہ معلومات ہر الگ ٹافی پر لکھنے کے بجائے اس پیک پر درج کی جا سکتی ہیں جس میں زیادہ سے زیادہ 100 ٹافیاں ہوں، بشرطیکہ فی ٹافی زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمت 5 روپے سے زیادہ نہ ہو۔ تاہم ایف بی آر نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پرنٹ کیا گیا سیلز ٹیکس واضح، پڑھنے کے قابل، نمایاں اور مستقل نوعیت کا ہونا چاہیے، جبکہ دیگر تمام شرائط Sales Tax General Order No. 08 of 2026 کے مطابق برقرار رہیں گی۔ یہ وضاحت خاص طور پر کنفیکشنری انڈسٹری کے لیے عملی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کی گئی ہے، تاکہ قانون پر عمل درآمد بھی یقینی رہے اور کاروباری حلقوں کو غیر ضروری پیچیدگیوں کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

اسٹیل فیکٹریوں کے لیے بجلی کا ہر یونٹ اب ٹیکس کے دائرے میں۔یکم جولائی سے نیا قانون نافذ! اس S.R.O. 1245(I)/2026 کے ذریعے...
01/08/2026

اسٹیل فیکٹریوں کے لیے بجلی کا ہر یونٹ اب ٹیکس کے دائرے میں۔
یکم جولائی سے نیا قانون نافذ!

اس S.R.O. 1245(I)/2026 کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے یکم جولائی 2026 سے اسٹیل انڈسٹری، خصوصاً اسٹیل میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس کے لیے سیلز ٹیکس وصولی کا ایک نیا طریقۂ کار متعارف کرایا ہے۔ اب ان یونٹس سے سیلز ٹیکس صرف فروخت کی بنیاد پر ہی نہیں بلکہ بجلی کے استعمال کی بنیاد پر بھی وصول کیا جائے گا، تاکہ ٹیکس نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور دستاویزی بنایا جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کوئی اسٹیل مینوفیکچرر مقامی اسکریپ استعمال کرتا ہے تو اسے بجلی کے ہر یونٹ پر 30 روپے سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ تاہم وہ صنعتیں جو گزشتہ بارہ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 70 فیصد یا اس سے زیادہ درآمدی اسکریپ استعمال کرتی رہی ہیں یا EFS لائسنس یافتہ اسکریپ استعمال کرتی ہیں، ان کے لیے یہ شرح صرف 5 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح جو یونٹس اپنی بجلی خود پیدا کرتے ہیں (Captive Power یا Self-Generation) ان پر 35 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس لاگو ہوگا۔ مزید یہ کہ FBR کے ریئل ٹائم کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے منسلک اور مقررہ شرائط پوری کرنے والے یونٹس بھی رعایتی شرح سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اس ایس آر او کے تحت بجلی کے استعمال کی بنیاد پر ادا کیا گیا سیلز ٹیکس بعد میں آؤٹ پٹ سیلز ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ بھی کیا جا سکے گا۔ مزید برآں، جو صنعتیں ایک ہی بجلی کے میٹر پر ماہانہ پانچ لاکھ یا اس سے زیادہ یونٹس استعمال کرتی ہیں، انہیں اسٹیل میلٹر یا کمپوزٹ یونٹ تصور کیا جائے گا، جبکہ اس سے کم بجلی استعمال کرنے والے یونٹس کو اسٹیل ری رولر کی کیٹیگری میں رکھا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی متعلقہ یونٹ مقررہ تاریخ تک بجلی کے بل کے ساتھ قابلِ ادائیگی سیلز ٹیکس ادا نہیں کرتا تو متعلقہ ڈسکوز (DISCOs) قانونی کارروائی کے ساتھ اس کا بجلی کا کنکشن بھی منقطع کر سکتی ہیں۔ تمام بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں یکم جولائی 2026 سے مقررہ شرح کے مطابق سیلز ٹیکس وصول کرنے کی پابند ہوں گی، جبکہ اہل صنعتوں کی فہرست ہر تین ماہ بعد اپ ڈیٹ کی جائے گی اور رعایتی شرح کے مستحق ٹیکس دہندگان کی باقاعدہ فہرست FBR سیلز ٹیکس جنرل آرڈر کے ذریعے جاری کرے گا۔ یہ نوٹیفکیشن یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

فارن ریمیٹنس پر نوٹس کیوں آتے تھے؟ ایف بی آر نے اصل وجہ بتا دی!پاکستان میں بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم (Foreign Remittan...
31/07/2026

فارن ریمیٹنس پر نوٹس کیوں آتے تھے؟ ایف بی آر نے اصل وجہ بتا دی!

پاکستان میں بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم (Foreign Remittances) پر ٹیکس کا معاملہ کئی سالوں سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ وقت کے ساتھ مختلف قوانین، اسٹیٹ بینک کے ضوابط اور عدالتوں کے فیصلوں کی وجہ سے اس معاملے میں ابہام پیدا ہوتا رہا، جس کے باعث کئی ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری نوٹسز اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی صورتحال کو واضح کرنے کے لیے ایف بی آر نے یہ سرکلر جاری کیا۔
ماضی میں بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم پر مختلف ادوار میں مختلف قوانین لاگو رہے۔ ابتدا میں صرف مخصوص حالات میں ٹیکس سے چھوٹ دی جاتی تھی، لیکن بعد میں حکومت نے بیرونِ ملک سے قانونی ذرائع کے ذریعے آنے والی رقوم کی حوصلہ افزائی کے لیے اس سہولت کو مزید وسعت دی۔ اس کا مقصد پاکستان میں زرمبادلہ لانا اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو سہولت فراہم کرنا تھا۔
بعد ازاں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 111(4) کے تحت یہ اصول طے کیا گیا کہ اگر رقم غیر ملکی کرنسی میں ہو، پاکستان میں قانونی بینکاری نظام کے ذریعے آئے، بینک کے ذریعے پاکستانی روپے میں تبدیل ہو، اور اس کا بینک سرٹیفکیٹ موجود ہو، تو اس پر ٹیکس سے استثنا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بعد میں اس رعایت کے لیے مقررہ حد بھی متعارف کرائی گئی۔
وقت کے ساتھ ویسٹرن یونین (Western Union)، منی گرام (MoneyGram)، ریا (Ria) اور دیگر منی ٹرانسفر سروسز کے ذریعے بھی رقوم پاکستان آنے لگیں۔ اس پر اختلاف پیدا ہوا کہ آیا ان ذرائع سے آنے والی رقوم کو بھی "نارمل بینکنگ چینل" تصور کیا جائے یا نہیں۔ بعض ٹیکس افسران نے ایسی رقوم پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ یہ تمام منظور شدہ منی ٹرانسفر سروسز قانونی بینکاری نظام کا حصہ ہیں اور ان کے ذریعے آنے والی رقوم کو بھی اسی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے۔
آخرکار ایف بی آر نے اسٹیٹ بینک کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ ایسے تمام مقدمات میں قانون کی مناسب اور آسان تشریح کی جائے۔ اگر رقم بیرونِ ملک سے قانونی ذرائع کے ذریعے آئی ہو اور اس کا مکمل بینکاری ریکارڈ موجود ہو، تو ٹیکس سے استثنا دینے میں غیر ضروری سختی نہ کی جائے۔ مزید یہ بھی ہدایت دی گئی کہ صرف اس سخت تشریح کی بنیاد پر دائر کیے گئے محکمانہ اپیلیں واپس لی جائیں اور آئندہ ایسی غیر ضروری اپیلیں دائر نہ کی جائیں۔
مختصراً، اس سرکلر کا مقصد یہ ہے کہ بیرونِ ملک سے قانونی ذرائع کے ذریعے پاکستان آنے والی رقوم کے معاملے میں ملک بھر میں ایک جیسا اصول اپنایا جائے، ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری قانونی کارروائی سے بچایا جائے، اور جائز فارن ریمیٹنس پر بلاوجہ اعتراضات ختم کیے جائیں۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner

Address

2/7 Link Farid Kot Road, Mozang Chungi
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Your Tax Partner posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share