18/08/2026
کیا پہلے سے کٹا ہوا ٹیکس Super Tax کے خلاف ایڈجسٹ ہو سکتا ہے؟
سپر ٹیکس کی رقم کو ایڈجسٹ کرنے سے متعلق اہم عدالتی فیصلہ
وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے F.C.P.L.A. Nos. 1276 اور 1277 of 2026 میں ایک اہم قانونی سوال کا فیصلہ کیا کہ اگر کسی ٹیکس دہندہ کے پاس پہلے سے Tax Credit موجود ہو تو کیا انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 4C کے تحت واجب الادا Super Tax کے خلاف اس ٹیکس کریڈٹ کو ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے اس سوال کا جواب ہاں میں دیا۔
یہ معاملہ CM Pak Limited سے متعلق تھا، جو ایک چینی ملٹی نیشنل گروپ کا حصہ ہے۔ کمپنی کے پاس ٹیکس ایئر 2022 سے متعلق تقریباً Rs. 2.212 ارب کا Excess Tax Deducted at Source موجود تھا۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ یہ رقم اس کے Super Tax کے خلاف ایڈجسٹ کی جائے، لیکن FBR نے اس درخواست کو قبول نہیں کیا۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی کمپنی کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد معاملہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے آیا۔
عدالت نے بنیادی طور پر Section 4C اور Section 168 کو ساتھ پڑھا۔ Section 4C کے تحت Super Tax عائد کیا جاتا ہے، جبکہ اسی دفعہ کی ذیلی شق (3) واضح طور پر کہتی ہے کہ Super Tax کی ادائیگی، وصولی اور جمع کرانے کے معاملے میں Income Tax Ordinance کے Chapter X کی تمام متعلقہ دفعات لاگو ہوں گی۔ عدالت نے قرار دیا کہ Chapter X میں Section 168 بھی شامل ہے، جو ٹیکس دہندہ کو بعض حالات میں پہلے سے جمع یا کٹوتی شدہ ٹیکس کا Tax Credit فراہم کرتی ہے۔
عدالت کی نظر میں قانون میں استعمال ہونے والے الفاظ “all provisions of Chapter X” کو صرف ٹیکس کی ادائیگی کے طریقہ کار تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں ٹیکس کی payment، collection، adjustment، credit اور deposit سے متعلق قانونی نظام بھی شامل ہے۔ لہٰذا اگر Section 168 کے تحت کسی ٹیکس دہندہ کو Tax Credit دستیاب ہے تو محض یہ کہہ کر اسے Super Tax کے خلاف ایڈجسٹ کرنے سے نہیں روکا جا سکتا کہ اسے صرف refund کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ عدالت نے Tax Credit اور Refund کو دو الگ قانونی تصورات قرار دیا۔ Tax Credit کا تعلق Section 168 سے ہے، جبکہ Refund کے لیے Section 170 کے تحت الگ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ Tax Credit کی موجودگی میں ٹیکس دہندہ کو لازماً پہلے Super Tax ادا کرکے پھر صرف refund کے لیے Section 170 کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم، عدالت نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ CM Pak Limited کی پوری رقم لازماً ایڈجسٹ ہو جائے گی یا کتنی رقم ایڈجسٹ ہوگی۔ یہ معاملہ متعلقہ ٹیکس اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں چھوڑ دیا گیا۔ یعنی عدالت نے صرف قانونی اصول طے کیا کہ Section 168 کا Tax Credit، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، Section 4C کے Super Tax کے خلاف adjustment کے لیے استعمال ہو سکتا ہے؛ اصل رقم اور اس کی eligibility کا فیصلہ متعلقہ ٹیکس اتھارٹی کرے گی۔
آخر میں وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 25 مارچ 2026 کا فیصلہ set aside کر دیا اور petitions کو appeals میں تبدیل کرکے اجازت دے دی۔ عدالت نے کمپنی کو یہ آزادی دی کہ وہ متعلقہ taxing authority کے سامنے اپنے Tax Credit کی adjustment کا دعویٰ پیش کرے، اور متعلقہ اتھارٹی قانون اور عدالت کے اس فیصلے میں دی گئی observations کے مطابق اس دعوے کا فیصلہ کرے۔
سادہ الفاظ میں: اگر کسی ٹیکس دہندہ کے پاس قانون کے تحت قابلِ استعمال Tax Credit موجود ہے، تو صرف یہ وجہ کافی نہیں کہ اسے Super Tax کے خلاف ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی آئینی عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ Section 4C کے Super Tax کے معاملے میں Section 168 کا Tax Credit، جہاں قابلِ اطلاق ہو، adjustment کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ البتہ ہر کیس میں اصل adjustment کی رقم اور قانونی اہلیت متعلقہ ٹیکس اتھارٹی طے کرے گی۔
انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0319 1940 445
Your Trusted Tax Partner