Hassan Law Chamber

Hassan Law Chamber "Hassan Law Chamber is a experienced legal firm dedicated to providing expert legal services. family law, criminal defense, etc.].

Our team of skilled lawyers, Hassan offers a wide range of legal expertise, including [list specific areas of practice, e.g.

اگر میاں بیوی کے مابین کسی تحفہ (Gift) کا دیا جانا اور وصول کیا جانا فریقین کی جانب سے تسلیم شدہ (Admitted) ہو، تو ایسے ...
21/05/2026

اگر میاں بیوی کے مابین کسی تحفہ (Gift) کا دیا جانا اور وصول کیا جانا فریقین کی جانب سے تسلیم شدہ (Admitted) ہو، تو ایسے تحفہ کی واپسی یا اس کی مالیت کی وصولی کے لیے فیملی کورٹ میں دائر کردہ دعویٰ قانوناً قابلِ سماعت نہیں ہوتا۔ چنانچہ admitted gifts کی ریکوری کے لیے دائر کیا گیا دعویٰ Order VII, Rule 11 C.P.C. کے اصولوں کے تحت ابتدائی مرحلہ پر ہی ناقابلِ سماعت قرار دے کر فوری طور پر خارج کیا جانا چاہیے، کیونکہ ایسا دعویٰ کسی قابلِ نفاذ حقِ دعویٰ (cause of action) کو جنم نہیں دیتا۔

Admitted gifts inter se spouses are not recoverable; therefore, a suit for recovery of such gifts before the Family Court is not maintainable and is liable to be rejected forthwith under the principles embodied in Order VII, Rule 11, C.P.C.

فوجداری نظامِ انصاف میں سرکاری گواہوں کی شہادت کو بنیادی طور پر قابلِ اعتماد تصور کرنے کا اصول ایک مسلمہ قانونی بنیاد رک...
18/05/2026

فوجداری نظامِ انصاف میں سرکاری گواہوں کی شہادت کو بنیادی طور پر قابلِ اعتماد تصور کرنے کا اصول ایک مسلمہ قانونی بنیاد رکھتا ہے، جس کی جڑ ایک قدیم قانونی مقولے “Omnia praesumuntur rite et solemniter esse acta” میں پائی جاتی ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ “ہر سرکاری و قانونی عمل کو درست، باقاعدہ اور دیانتداری سے انجام دیا گیا تصور کیا جاتا ہے۔” اس اصول کی بنیاد اس اعتماد پر قائم ہے کہ ریاستی اہلکار اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں دیانت، غیر جانبداری اور نیک نیتی سے کام کرتے ہیں اور ان کے پاس کسی بے گناہ شخص کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کرنے کا کوئی محرک نہیں ہوتا۔

تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ مفروضہ قطعی اور ناقابلِ تردید نہیں ہے بلکہ ایک قابلِ رد قانونی قیاس ہے، جو صرف اُس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک ریکارڈ پر بدنیتی، بے ایمانی، قانونی طریقۂ کار سے انحراف یا انصاف کے تقاضوں کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت موجود نہ ہو۔ اگر حالات و شواہد سے یہ ظاہر ہو جائے کہ سرکاری کارروائی بدنیتی، جانبداری یا غیر قانونی طرزِ عمل سے متاثر ہے تو پھر سرکاری گواہوں کی شہادت کو محض ان کے سرکاری عہدے کی بنیاد پر بلا چون و چرا قبول نہیں کیا جا سکتا۔

Criminal Petition No.847/2023
Muhammad Shafi v. The State

*Very informative Judgment of Supreme Court**“مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار، قانونی ورثاء کی لازمی شمولیت، اور منصف...
15/05/2026

*Very informative Judgment of Supreme Court*

*“مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار، قانونی ورثاء کی لازمی شمولیت، اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی تقاضے — آرڈر III رول 4 اور آرڈر XXII CPC کی تشریح کی روشنی میں سپریم کورٹ کا تجزیاتی جائزہ”*

*“Termination of Advocate’s Authority upon Client’s Death, Impleadment of Legal Heirs, and the Constitutional Imperative of Fair Trial — An Analytical Study under Order III Rule 4 and Order XXII CPC”*

2026 SCP 125
جسٹس محمد علی مظاہر ۔۔۔
(1) وکیل اور اس کے مؤکل کے درمیان تعلق “اصیل اور ایجنٹ” (Principal and Agent) کا ہوتا ہے۔

(2) مؤکل کے انتقال کے ساتھ ہی وکیل کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔

(3) وکیل کا پیشہ ورانہ فرض ہے کہ وہ فوراً عدالت کو مؤکل کی وفات سے آگاہ کرے۔

(4) مؤکل کی وفات کو مخفی رکھنا پیشہ ورانہ آداب اور اخلاقیات کے خلاف ہے۔

(5) متوفی کے قانونی ورثاء کی باقاعدہ اجازت کے بغیر وکیل مزید کارروائی جاری نہیں رکھ سکتا۔

(6) اگر وکیل کی وضاحت غیر معقول پائی جائے تو عدالت متعلقہ بار کونسل کو معاملہ بھیج سکتی ہے تاکہ اس کے خلاف پیشہ ورانہ بدانتظامی (Misconduct) کی کارروائی شروع کی جا سکے۔
2026 SCP 125
تفصیلی فیصلہ ۔۔۔۔۔۔
محترم جسٹس Muhammad Ali Mazhar نے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ سب سے پہلے ضابطۂ دیوانی (CPC) کے آرڈر III رول 4 کا جائزہ لینا ضروری ہے، جو “Recognized Agents & Pleaders” یعنی تسلیم شدہ نمائندوں اور وکلاء سے متعلق ہے۔ اس قانون کے مطابق کوئی وکیل کسی شخص کی طرف سے عدالت میں اس وقت تک پیش نہیں ہو سکتا جب تک اسے تحریری وکالت نامہ کے ذریعے مقرر نہ کیا گیا ہو۔ یہ وکالت نامہ عدالت میں جمع کروایا جاتا ہے اور اس وقت تک مؤثر رہتا ہے جب تک عدالت کی اجازت سے ختم نہ کیا جائے، یا مؤکل یا وکیل کی وفات نہ ہو جائے، یا مقدمہ مکمل نہ ہو جائے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اس مقدمہ میں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت تھی کہ درخواست گزار/جواب دہندہ نمبر 1 کا انتقال 04-11-2024 کو ہو چکا تھا، مگر اس کی وفات سے عدالتِ عالیہ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً 26-05-2025 کو ایک ایسا حکم جاری ہوا جس میں ایک فوت شدہ شخص کو رینٹ مقدمات میں فریق بنانے کا حکم دے دیا گیا، حالانکہ اس کے قانونی ورثاء کو شامل ہی نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ وکیل پر لازم تھا کہ وہ فوراً عدالت کو اپنے مؤکل کی وفات سے مطلع کرتا، مگر اس نے خاموشی اختیار کی اور مقدمہ ورثاء کی موجودگی کے بغیر فیصلہ کر دیا گیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ وکیل اور مؤکل کا تعلق اصولاً “اصیل اور ایجنٹ” (Principal and Agent) کا ہوتا ہے۔ جب مؤکل وکالت نامہ پر دستخط کرتا ہے تو وہ وکیل کے اقدامات کا پابند ہو جاتا ہے، مگر مؤکل کی وفات کے ساتھ ہی وکیل کی حیثیت بطور ایجنٹ فوراً ختم ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے پاور آف اٹارنی مالک کی وفات کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ مؤکل کی وفات کے بعد وکیل بغیر ہدایات کے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں جاری نہیں رکھ سکتا، اس لیے ہر وکیل کا پیشہ ورانہ فرض ہے کہ وہ فوراً عدالت کو مؤکل کی موت سے آگاہ کرے تاکہ قانونی ورثاء کو مقدمہ میں شامل کیا جا سکے۔ ورثاء چاہیں تو نیا وکالت نامہ دے کر اسی وکیل کو مقرر کریں یا اپنی پسند کا نیا وکیل مقرر کریں۔ وکیل بغیر مناسب اختیار کے مقدمہ جاری نہیں رکھ سکتا۔

عدالت نے قانونی اصول “nullus commodum capere potest de injuria sua proprio” یعنی “کوئی شخص اپنی غلطی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی وکیل کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے مؤکل کی وفات چھپا کر فائدہ حاصل کرے۔ فوت شدہ مؤکل کے وکالت نامہ یا پاور آف اٹارنی کے استعمال کے نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی نتائج بھی ہوتے ہیں۔ مؤکل کی وفات کو چھپانا نہ صرف حقائق کو مخفی رکھنے کے مترادف ہے بلکہ وکالت کے اخلاقی اصولوں اور پیشہ ورانہ آداب کے بھی خلاف ہے۔ اگر وکیل کی وضاحت غیر معقول پائی جائے تو عدالت متعلقہ بار کونسل کو بھی معاملہ بھیج سکتی ہے تاکہ وکیل کے خلاف پیشہ ورانہ بدانتظامی (Misconduct) کی کارروائی شروع کی جا سکے۔

عدالت نے بھارتی ضابطۂ دیوانی کے آرڈر XXII رول 10-A کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق اگر کسی وکیل کو اپنے مؤکل کی وفات کا علم ہو جائے تو وہ عدالت کو آگاہ کرنے کا پابند ہے، تاکہ قانونی ورثاء کو شامل کیا جا سکے اور مقدمہ مناسب نمائندگی کے بغیر ختم نہ ہو۔

عدالت نے کہا کہ اگر متوفی مدعی یا درخواست گزار کا حق دعویٰ باقی ہو اور “Right to Sue Survives” یعنی دعویٰ کا حق موت کے بعد بھی قائم رہے، تو اس کی وفات کے بعد مقدمہ جاری رکھنے کا حق اس کے قانونی ورثاء کو منتقل ہو جاتا ہے۔ قانونی ورثاء اسی مرحلہ سے مقدمہ آگے بڑھا سکتے ہیں جہاں تک مقدمہ پہنچ چکا ہو۔ اس کا مقصد متوفی کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تحفظ اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔

عدالت نے آرڈر VII رول 26 اور آرڈر VIII رول 13 CPC کا بھی حوالہ دیا، جن کے مطابق مدعی اور مدعا علیہ کو پہلے ہی ان افراد کے نام اور پتے فراہم کرنا ہوتے ہیں جو ان کی وفات کی صورت میں بطور قانونی نمائندہ شامل کیے جا سکیں۔

عدالت نے لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے آرٹیکل 176 اور 177 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قانونی ورثاء کو فریق بنانے کے لیے 90 دن کی مدت مقرر ہے، مگر اگر تاخیر ہو جائے تو یہ کوئی سخت اور قطعی اصول نہیں کہ ورثاء ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائیں۔ عدالت انصاف کے تقاضوں کے مطابق تاخیر کو معاف کر سکتی ہے کیونکہ وراثتی حقوق محض تکنیکی بنیادوں پر ختم نہیں کیے جا سکتے۔

عدالت نے آرڈر XXII CPC کی مختلف دفعات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اگر “حقِ دعویٰ” باقی رہے تو مدعی یا مدعا علیہ کی وفات سے مقدمہ ختم نہیں ہوتا۔ 1972 کی قانونی اصلاحات کے بعد اب یہ اصول موجود ہے کہ اگر مقررہ وقت میں قانونی ورثاء کو شامل نہ بھی کیا جائے تو عدالت مقدمہ جاری رکھ سکتی ہے اور فیصلہ مؤثر رہے گا، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وکیل اپنے مؤکل کی وفات چھپا کر فوت شدہ وکالت نامہ کے ذریعے مقدمہ چلاتا رہے۔ اگر ایسا تصور قبول کر لیا جائے تو آرڈر XXII کے تحت قانونی ورثاء کو شامل کرنے کا پورا نظام بے معنی ہو جائے گا۔

عدالت نے کہا کہ اگر عدالت کو موت کی اطلاع ہی نہ دی جائے تو عدالت خود بخود اس حقیقت سے کیسے آگاہ ہو سکتی ہے؟ اگر فریق بذاتِ خود پیش ہو رہا ہو تو ورثاء عدالت کو آگاہ کر سکتے ہیں، لیکن جب فریق وکیل کے ذریعے پیش ہو رہا ہو تو یہ وکیل کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کو فوراً اطلاع دے، کیونکہ مؤکل کی وفات کے ساتھ ہی وکالت نامہ ختم ہو جاتا ہے۔

آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ وکیل نے مؤکل کی وفات کے باوجود عدالت میں پیش ہو کر مقدمہ جاری رکھا اور اسی بنیاد پر ہائی کورٹ نے متوفی کے حق میں فیصلہ دیا، اس لیے یہ فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے سول پٹیشنز کو اپیلوں میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کیا، ہائی کورٹ کا 26-05-2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، اور معاملہ واپس ہائی کورٹ کو بھجوا دیا تاکہ متوفی کے قانونی ورثاء کو فریق بنا کر تمام آئینی درخواستوں کا ازسرِنو قانون کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔
قانونی تجزیاتی جائزہ
یہ فیصلہ پاکستانی دیوانی قانون، وکالت کے پیشہ ورانہ اصولوں، قدرتی انصاف، اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی تقاضوں کے تناظر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس مقدمہ میں واضح کیا کہ مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار فوراً ختم ہو جاتا ہے اور وکیل پر لازم ہے کہ وہ عدالت کو اس حقیقت سے فوری آگاہ کرے۔

یہ فیصلہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ:

وکیل کی اخلاقی ذمہ داری؛

عدالتی شفافیت؛

منصفانہ ٹرائل؛

ورثاء کے حقِ سماعت؛

اور عدالتی نظام کے تقدس

سے براہِ راست متعلق ہے۔

1۔ وکیل اور مؤکل کا تعلق — Principle & Agent
عدالت نے قرار دیا کہ:

وکیل اور مؤکل کا تعلق “Principal and Agent” کا ہے۔

یہ اصول بنیادی طور پر قانونِ معاہدات (Law of Agency) سے اخذ شدہ ہے۔

متعلقہ قانونی دفعات
Contract Act, 1872
Sections 182–201
خصوصاً:

Section 201 Contract Act
Agency ختم ہو جاتی ہے:

principal کی موت سے؛

insanity سے؛

authority revocation سے۔

یعنی:

مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار از خود ختم ہو جاتا ہے۔

2۔ Order III Rule 4 CPC کی قانونی تشریح
Order III Rule 4 CPC
یہ دفعہ وکیل کی تقرری اور اختیار سے متعلق ہے۔

اہم نکات:
وکیل صرف تحریری وکالت نامہ پر کارروائی کر سکتا ہے۔

وکالت نامہ عدالت میں فائل ہونا ضروری ہے۔

وکالت نامہ ختم ہوتا ہے:

(a)
مؤکل کی وفات پر

(b)
وکیل کی وفات پر

(c)
مقدمہ ختم ہونے پر

سپریم کورٹ نے یہی قرار دیا:

“Authority of advocate ceases immediately upon death of client.”

3۔ مؤکل کی وفات چھپانا — قانونی اور اخلاقی بددیانتی
عدالت نے انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے:

“Concealment of death is against professional etiquettes.”

یہ صرف procedural irregularity نہیں بلکہ:

Misconduct

Abuse of process

Fraud upon Court

کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

4۔ وکیل کی پیشہ ورانہ ذمہ داری
Legal Profession & Ethics
Pakistan Bar Council
Canons of Professional Conduct and Etiquette
وکیل پر لازم ہے کہ:

عدالت سے سچ نہ چھپائے؛

misrepresentation نہ کرے؛

عدالت کو mislead نہ کرے۔

اگر وکیل جان بوجھ کر مؤکل کی وفات چھپائے تو یہ:

Professional Misconduct
ہو گا۔

5۔ بار کونسل کارروائی — مجوزہ قانونی اثرات
عدالت نے قرار دیا:

معاملہ متعلقہ بار کونسل کو بھیجا جا سکتا ہے۔

متعلقہ قانون
Legal Practitioners and Bar Councils Act, 1973
Section 41
Professional misconduct inquiry

ممکنہ سزائیں:
reprimand

suspension

cancellation of license

6۔ قانونی ورثاء کی شمولیت — بنیادی قانونی تقاضا
Order XXII CPC
یہ پورا Order وفات کے بعد مقدمات کی
continuation
سے متعلق ہے۔

7۔ “Right to Sue Survives” کی تشریح
یہ مقدمہ کا مرکزی اصول ہے۔

مفہوم:
اگر دعویٰ ذاتی نوعیت کا نہ ہو تو:

مقدمہ مرنے سے ختم نہیں ہوتا۔

بلکہ:

قانونی ورثاء مقدمہ جاری رکھ سکتے ہیں۔

8۔ Latin Maxim
عدالت نے دو اہم اصول بیان کیے:

(1)
Nullus Commodum Capere Potest De Injuria Sua Propria
کوئی شخص اپنی غلطی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

یعنی:

وکیل موت چھپا کر فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔

(2)
Actio Personalis Moritur Cum Persona
ذاتی دعویٰ شخص کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔

مگر:

ہر دعویٰ اس اصول کے تحت ختم نہیں ہوتا۔

مثلاً:

property disputes

tenancy disputes

inheritance disputes

ورثاء کو منتقل ہوتے ہیں۔

9۔ Order XXII Rule 3 CPC
مدعی کی وفات
اگر:

مدعی فوت ہو جائے؛

حقِ دعویٰ باقی ہو؛

تو:

عدالت قانونی ورثاء کو شامل کرے گی۔

10۔ Order XXII Rule 4 CPC
مدعا علیہ کی وفات
اگر defendant فوت ہو جائے:

تو legal heirs کو implead کرنا لازم ہے۔

11۔ Law Reforms Ordinance 1972 کی اہمیت
1972 سے پہلے:

مقدمہ خود بخود abate ہو جاتا تھا۔

اصلاحات کے بعد:

عدالت مقدمہ جاری رکھ سکتی ہے۔

مگر:

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ:

وکیل موت چھپا کر کارروائی جاری رکھے۔

سپریم کورٹ نے یہی اصول واضح کیا۔

12۔ Order VII Rule 26 CPC
مدعی کو پہلے سے legal heirs کی تفصیلات دینا ہوں گی۔

یہ ایک اہم procedural safeguard ہے۔

13۔ Order VIII Rule 13 CPC
Defendant
کی possible legal representatives کی معلومات بھی ضروری ہیں۔

14۔ Limitation Act 1908
Article 176
Deceased plaintiff/appellant

Article 177
Deceased defendant/respondent

مدت:
90 دن

15۔ کیا تاخیر ناقابلِ معافی ہے؟
عدالت نے کہا:

نہیں۔

اگر sufficient cause ہو تو:

delay condone ہو سکتی ہے۔

16۔ آئینی پہلو
یہ فیصلہ براہِ راست منسلک ہے:

Article 10-A Constitution of Pakistan
Fair Trial & Due Process
اگر legal heirs کو سنے بغیر فیصلہ ہو:

تو:

natural justice violate
ہوتی ہے؛

fair hearing
متاثر ہوتی ہے۔

17۔ Principles of Natural Justice
Audi Alteram Partem
دوسرے فریق کو بھی سنا جائے۔

ورثاء کو سنے بغیر فیصلہ:

اس اصول کی خلاف ورزی ہے۔

18۔ عدالت کی ذمہ داری
عدالت نے واضح کیا:

اگر موت کی اطلاع ہی نہ دی جائے تو:

عدالت خود کیسے جان سکے گی؟

اس لیے:

وکیل پر heightened duty عائد ہوتی ہے۔

19۔ Ex Parte فائدہ اٹھانے کی ممانعت
عدالت نے دراصل یہ اصول قائم کیا:

وکیل procedural manipulation نہیں کر سکتا۔

20۔ مجوزہ قانونی اصلاحات
یہ فیصلہ پاکستان میں procedural reforms کی ضرورت بھی ظاہر کرتا ہے۔

مجوزہ ترامیم
(1) Mandatory Death Disclosure Rule
CPC
میں نئی دفعہ شامل ہو

وکیل 7 دن کے اندر موت رپورٹ کرے۔

(2) Digital NADRA Verification
عدالتی نظام کو NADRA سے link کیا جائے۔

(3) Automatic Suspension of Proceedings
موت کی اطلاع پر:

کارروائی خودکار طور پر معطل ہو۔

(4) Penal Consequences
جان بوجھ کر concealment پر:

contempt

misconduct

costs

لاگو ہوں۔

21۔ بین الاقوامی قانونی اصول
India
Order XXII Rule 10-A CPC

وکیل پر mandatory duty۔

United Kingdom
Solicitors Regulation Authority (SRA):

duty of candor

duty to court

United States
ABA Model Rules:

Rule 3.3
Candor Toward Tribunal

22۔ اس فیصلہ کے عملی اثرات
یہ فیصلہ مستقبل میں:

fake representation؛

expired vakalatnama؛

fraudulent litigation

کو روکنے میں بنیادی نظیر بنے گا۔

23۔ اہم قانونی اصول جو اس فیصلہ سے اخذ ہوئے
Established Principles
(1)
مؤکل کی وفات سے وکالت نامہ ختم۔

(2)
وکیل فوراً عدالت کو آگاہ کرے۔

(3)
ورثاء کو شامل کرنا لازم۔

(4)
وفات چھپانا misconduct۔

(5)
fair trial ورثاء کی سماعت کے بغیر ممکن نہیں۔

(6)
عدالت procedural technicalities کے بجائے substantive justice کو ترجیح دے گی۔

نتیجہ
یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی نظام میں:

وکیل کی امانت داری؛

عدالت کے ساتھ دیانت؛

قانونی ورثاء کے حقوق؛

اور fair trial

کے اصولوں کو مضبوط بناتا ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ:

عدالتیں محض تکنیکی کارروائی نہیں بلکہ انصاف کے ادارے ہیں، اور انصاف تبھی ممکن ہے جب ہر متاثرہ فریق کو سنا جائے اور وکیل اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری دیانت داری سے
اداک ۔

یہ 2023 PLD 578 لاہور ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ ہے، جس میں عدالتِ عالیہ نے پولیس رجسٹروں کی طلبی اور ان کی قانونی حیثیت...
14/05/2026

یہ 2023 PLD 578 لاہور ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ ہے، جس میں عدالتِ عالیہ نے پولیس رجسٹروں کی طلبی اور ان کی قانونی حیثیت (Privilege) کے حوالے سے اہم اصول وضع کیے ہیں۔

درج ذیل اس فیصلے کا اردو ترجمہ ہے:

---

# # **2023 PLD 578 [لاہور ہائی کورٹ]**

**جج صاحبان:** عزت مآب جسٹس علی ضیاء باجوہ
**سائل:** سبحان اللہ
**بمقابلہ:** سرکار (ریاست)

# # # **پولیس رجسٹروں کی طلبی اور استحقاق (Privilege)**

**فوجداری نگرانی نمبر:** 43716 آف 2022
**تاریخِ فیصلہ:** 14 جولائی 2022

# # # **خلاصہ قانونی نکات:**

**(الف) مجموعہ ضابطہ فوجداری (1898)---دفعات 172، 94، 435، 439-A؛ پولیس رولز (1934)---رول 45، باب 22، رول 27.16؛ دستورِ پاکستان (1973)---آرٹیکل 10-A؛ قانونِ شہادت (1984)---آرٹیکل 158، 161؛ دھماکہ خیز مواد ایکٹ (1908)---دفعات 4، 5؛ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (1997)---دفعہ 7؛ پاکستان آرمز آرڈیننس (1965)---دفعہ 13(2)A**

**پولیس رجسٹروں کی طلبی اور استحقاق (Privilege):**
نہیں، مطلوبہ پولیس رجسٹرز عوامی دستاویزات (Public Documents) ہیں جو پولیس رولز 1934 کے تحت رکھے جاتے ہیں۔ یہ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 172 کے تحت حاصل "مطلق استحقاق" (Absolute Privilege) کے زمرے میں نہیں آتے، کیونکہ وہ استحقاق صرف تفتیشی ڈائری (Zimni) تک محدود ہے۔

دفعہ 172 ضابطہ فوجداری صرف تفتیشی افسر کی مرتب کردہ "کیس ڈائری" کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ پولیس رولز 1934 کے رول 45 کے تحت رکھے جانے والے رجسٹرز (جیسے کہ روزنامچہ/اسٹیشن ڈائری، اسٹور روم رجسٹر، اور روڈ سرٹیفکیٹس) عوامی دستاویزات ہیں جو شفافیت کو یقینی بناتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 10-A اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 94 کے تحت، عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ منصفانہ ٹرائل اور درست فیصلے کے لیے ایسی دستاویزات طلب کرے۔

**فیصلہ:** نگرانی کی درخواست منظور کی جاتی ہے اور ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سائل کی درخواست کے مطابق رجسٹرز طلب کرے۔

---

# # # **فیصلہ (اقتباسات)**

**جسٹس علی ضیاء باجوہ:**
سائل دہشت گردی عدالت نمبر 1 لاہور میں دھماکہ خیز مواد اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ (FIR نمبر 29/2021) کا سامنا کر رہا ہے۔ اس نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا جس کے ذریعے پولیس اسٹیشن CTD لاہور کے رجسٹر نمبر II، XIX اور XXI طلب کرنے کی اس کی درخواست خارج کر دی گئی تھی۔

**عدالتی مشاہدات:**

1. **دفعہ 172 ضابطہ فوجداری کا دائرہ کار:** ٹرائل کورٹ نے درخواست اس بنیاد پر خارج کی کہ یہ رجسٹرز "مستثنیٰ یا محفوظ" (Privileged) دستاویزات ہیں۔ تاہم، دفعہ 172 صرف "پولیس ڈائری" (ضمنی) سے متعلق ہے، جس میں تفتیشی افسر روزانہ کی کارروائی لکھتا ہے۔ قانون کے مطابق ملزم ان ڈائریوں کو دیکھنے کا حق نہیں رکھتا، الا یہ کہ پولیس افسر اپنی یاداشت تازہ کرنے کے لیے انہیں استعمال کرے یا عدالت جرح کے لیے استعمال کرے۔
2. **پولیس رجسٹرز بمقابلہ کیس ڈائری:** پولیس رولز 1934 کے باب 22، رول 45 کے تحت پولیس اسٹیشن میں 25 اقسام کے رجسٹر رکھے جاتے ہیں۔ یہ رجسٹرز پولیس کی کارروائیوں کو شفاف رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
* **رجسٹر نمبر II (روزنامچہ):** تھانے کے تمام واقعات، اہلکاروں کی نقل و حرکت اور ملاقاتیوں کا مکمل ریکارڈ۔
* **رجسٹر نمبر XIX (اسٹور روم/مال خانہ):** مال خانے میں رکھے گئے اور نکالے گئے سامان کی تفصیل۔
* **رجسٹر نمبر XXI (روڈ سرٹیفکیٹ):** جب مقدمے کا کوئی مال (Case Property) لیبارٹری وغیرہ بھیجا جاتا ہے، تو اس کے ساتھ یہ سرٹیفکیٹ ہوتا ہے۔

3. **منصفانہ ٹرائل کا حق (آرٹیکل 10-A):** عدالت نے قرار دیا کہ دستورِ پاکستان کا آرٹیکل 10-A ہر ملزم کو "منصفانہ ٹرائل" (Fair Trial) کی ضمانت دیتا ہے۔ کسی بھی دستاویز کی فراہمی سے انکار، جو ملزم کی بے گناہی ثابت کرنے میں مددگار ہو سکتی ہو، انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
4. **عدالت کا کردار:** عدالت محض ایک تماشائی نہیں ہے بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ سچائی تک پہنچنے کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کرے۔ دفعہ 94 ضابطہ فوجداری عدالت کو وسیع اختیارات دیتی ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی کے لیے کوئی بھی دستاویز یا چیز طلب کرے۔

**نتیجہ:**
عدالت نے قرار دی #ا کہ ٹرائل کورٹ نے دفعہ 172 کی غلط تشریح کی ہے۔ پولیس رجسٹرز عوامی دستاویزات ہیں اور ملزم کو ان تک رسائی ملنی چاہیے تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکے۔ نگرانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو مطلوبہ رجسٹرز طلب کرنے کا حکم دیا گیا۔

فیملی کورٹ یا اپیلیٹ کورٹ فہرست گواہان کی لسٹ میں ترمیم نہ کر سکتی ہے.(2020 MLD 554).فیملی کیس میں ضابطہ دیوانی یا قانون...
13/05/2026

فیملی کورٹ یا اپیلیٹ کورٹ فہرست گواہان کی لسٹ میں ترمیم نہ کر سکتی ہے.
(2020 MLD 554).
فیملی کیس میں ضابطہ دیوانی یا قانون شہادت کا اطلاق نہ ہوتا ہے، اس لئے عورت بزریعہ اٹارنی، پیروی مقدمہ کر سکتی ہے، اور عورت کا خود بطورِ گواہ پیش ہونا ضروری نہ ہے.
(2019 YLR 1900).
فیملی ایکٹ کا اطلاق، مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہو گا.
(2010 YLR 2711).
(PLJ 2017 Lah 732).
عدالتِ اجراء ،نکاح نامہ میں درج، بیوی کی منقولہ جائیداد کو Attach نہ کر سکتی ہے.
(2016-SCMR-2170).
نکاح نامہ کی یہ شرط ،کہ خاوند بلاوجہ طلاق دینے کی صورت میں، اتنا معاوضہ ادا کرے گا، غیر قانونی ہے.
(2012 CLC 837).

12/05/2026

Important fact about law

Supreme Court of PakistanBlocking of CNIC for Recovery of Money Decree Declared IllegalAgha Abid Majeed Khan v. Idrees A...
12/05/2026

Supreme Court of Pakistan

Blocking of CNIC for Recovery of Money Decree Declared Illegal

Agha Abid Majeed Khan v. Idrees Ahmed & Another

Bench: Mr. Justice Munib Akhtar & Mr. Justice Irfan Saadat Khan

Issue

Whether an executing Court can block the CNIC of a judgment debtor for recovery of a money decree under Section 51 CPC.

Conclusion

The Supreme Court held that:
1. Executing Courts in Sindh have no legal power to block CNICs for ex*****on of a money decree.
2. Section 51 CPC does not authorize such action.
3. CNIC is an essential necessity for normal life and cannot be blocked without express law.
4. Since KPK made a special amendment allowing it, this shows such power does not exist otherwise.
5. The appeal was allowed and the impugned orders were set aside.

یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ عدالت صرف اُس دفعہ کی پابند نہیں ہوتی جو پولیس نے ایف آئی آر میں لگائی ہو۔ عدالت ایف آئی آ...
11/05/2026

یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ عدالت صرف اُس دفعہ کی پابند نہیں ہوتی جو پولیس نے ایف آئی آر میں لگائی ہو۔ عدالت ایف آئی آر اور تفتیش کے دوران جمع ہونے والے مواد کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرتی ہے کہ بادی النظر میں کون سی دفعہ بنتی ہے۔

دفعہ 279، 320 اور 322 PPC تینوں کی نوعیت اور دائرہ الگ الگ ہے۔ بعض اوقات یہ طے کرنے کے لیے کہ کون سی دفعہ زیادہ مناسب ہے، مکمل شواہد اور حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم موجودہ مرحلہ پر یہ حتمی فیصلہ کرنا ضروری نہیں کہ یہ معاملہ دفعہ 320 PPC کے تحت آتا ہے یا دفعہ 322 PPC کے تحت۔ یہ بات تفتیش اور بعد میں ٹرائل کورٹ کے سامنے آنے والے مواد کی بنیاد پر طے ہوگی۔

البتہ ضابطۂ فوجداری کے شیڈول دوم میں درج الفاظ “may arrest without warrant” کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ جرائم قابلِ دست اندازی پولیس ہیں، یعنی پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے اور تفتیش بھی کر سکتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملزم کو لازماً جیل بھیجا جائے یا اسے قبل از گرفتاری ضمانت نہ دی جائے۔

موجودہ ایف آئی آر میں شامل دفعہ 322 PPC شیڈول دوم کے مطابق ناقابلِ ضمانت جرم ہے، اس لیے قبل از گرفتاری ضمانت کا فیصلہ قانون کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ہوگا۔

درخواست گزار کا مؤقف یہ ہے کہ دفعہ 322 PPC میں صرف دیت کی سزا ہے، قید کی سزا نہیں، اس لیے سزا سے پہلے اُسے گرفتار کرنا یا جیل میں رکھنا درست نہیں۔ اس معاملہ پر عدالتوں میں دو مختلف آراء موجود ہیں۔

ایک رائے یہ ہے کہ چونکہ یہ جرم ناقابلِ ضمانت اور قابلِ دست اندازی پولیس ہے، اس لیے پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے اور ملزم کو ضمانت ملنے تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ صرف یہ بات کہ سزا دیت تک محدود ہے، رہائی کا حق پیدا نہیں کرتی۔

دوسری رائے یہ ہے کہ جب جرم کی سزا صرف دیت ہو تو مقدمہ ثابت ہونے سے پہلے کسی شخص کو جیل میں رکھنا گویا اُسے پہلے ہی سزا دینا ہے۔

تاہم عدالتیں بعد از گرفتاری ضمانت کے معاملات میں عموماً نرم رویہ اختیار کرتی ہیں کیونکہ دفعہ 322 PPC ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 497(1) کے ممنوعہ دائرہ میں شامل نہیں ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا منشیات کے مقدمات میں تفتیش کے حوالے سے اہم فیصلہ۔​1. کیس کی بنیادی تفصیلات ​مقدمہ نمبر: Crl.P.L...
10/05/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کا منشیات کے مقدمات میں تفتیش کے حوالے سے اہم فیصلہ۔

​1. کیس کی بنیادی تفصیلات
​مقدمہ نمبر: Crl.P.L.A.No.647/2023 اور J.P.No.199/2023۔
​درخواست گزار: عبدالرحیم اور لاجبر۔

​الزام: حیدرآباد کے قریب ایوب ہوٹل کے پاس سے گرفتاری کے دوران دونوں ملزمان سے بالترتیب 11، 11 کلو چرس (کل 22 کلو) کی برآمدگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

​سزا:
ٹرائل کورٹ نے منشیات ایکٹ (CNSA) کی دفعہ 9(c) کے تحت دونوں کو عمر قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

​2. مدعی کا بطور تفتیشی افسر کردار (اصولی اعتراض)
​عدالت نے اس نکتے پر تفصیلی بحث کی کہ کیا ایک ہی شخص مدعی اور تفتیشی افسر (I.O.) ہو سکتا ہے؟

​جانبداری کا خدشہ:
عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ تکنیکی طور پر یہ غیر قانونی نہیں ہے، لیکن ایک مدعی سے یہ توقع رکھنا ناممکن ہے کہ وہ اپنے ہی درج کردہ مقدمے کی تفتیش کھلے ذہن اور غیر جانبداری سے کرے گا۔

​شفافیت کی کمی:
مدعی ہمیشہ سزا دلوانے کی کوشش کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ صرف وہی ثبوت اکٹھے کر سکتا ہے جو اس کے اپنے موقف کو درست ثابت کریں۔

​منشیات کے کیسز:
عدالت نے خاص طور پر منشیات کے مقدمات میں اس عمل کی حوصلہ شکنی کی کیونکہ ان میں سزائیں انتہائی سخت ہوتی ہیں۔

​3. تفتیش اور ریکارڈ میں قانونی خامیاں
​عدالت نے تفتیشی عمل میں درج ذیل سنگین کوتاہیوں کی نشاندہی کی:

​تقرری میں تضاد:
ایف آئی آر کے مطابق تفتیش 'اعلیٰ حکام' نے سونپی، جبکہ عدالت میں مدعی نے بیان دیا کہ اسے ایس ایچ او (SHO) نے تفتیش کا حکم دیا تھا۔ یہ بیانات ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔

​موقع پر تفتیش نہ ہونا:
تفتیشی افسر نے موقع پر گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کیے بلکہ تھانے جا کر دفعہ 161 Cr.P.C کے تحت بیانات لکھے، جس سے یہ شک پیدا ہوا کہ یہ بیانات مشاورت اور ملی بھگت سے تیار کیے گئے۔

​ریکوری گواہ کے دستخط:
مدعی کا دعویٰ تھا کہ برآمد شدہ پارسلز پر اس کے اور گواہوں کے دستخط ہیں، لیکن عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ریکوری گواہ (PW2) کے دستخط پارسلز پر نظر نہیں آ رہے تھے۔

​4. مالِ مقدمہ کی ترسیل اور لیبارٹری رپورٹ (Safe Custody)
​عدالت نے مالِ مقدمہ (Case Property) کے ہینڈلنگ پر بھی سخت اعتراضات کیے:

​روڈ سرٹیفکیٹ کی عدم موجودگی:
تفتیشی افسر نے مالِ مقدمہ ایک کانسٹیبل (امین) کے حوالے کیا تاکہ وہ اسے کراچی لیبارٹری لے جائے، لیکن اس کے لیے ضروری 'روڈ سرٹیفکیٹ' جاری نہیں کیا گیا۔

​رجسٹر نمبر 19:
تھانے کے ریکارڈ (رجسٹر نمبر 19) میں اس بات کا کوئی اندراج نہیں تھا کہ کانسٹیبل کو یہ مواد لیبارٹری لے جانے کا اختیار دیا گیا ہے۔

​مہروں کی حالت:
ریکارڈ سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جب پارسل عدالت میں پیش کیے گئے تو کیا لیبارٹری کی مہریں صحیح سلامت تھیں یا نہیں۔

​5. حتمی قانونی نتیجہ
​عدالت نے اپنے فیصلے کے آخر میں یہ سنہری اصول واضح کیا:
​شک کا فائدہ: فوجداری قانون کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ اگر استغاثہ کے کیس میں معمولی سا شک بھی پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ لازمی طور پر ملزم کو ملنا چاہیے۔
​آئینِ پاکستان: آرٹیکل 10A کے تحت ہر شہری کو 'فیئر ٹرائل' (منصفانہ سماعت) کا بنیادی حق حاصل ہے، جس کی اس کیس میں خلاف ورزی ہوئی۔
​فیصلہ: ان تمام وجوہات کی بنا پر، سپریم کورٹ نے 10 فروری 2026 کو جاری ہونے والے اپنے مختصر حکم نامے کے ذریعے ملزمان کی اپیلیں منظور کیں، پچھلی تمام سزائیں ختم کیں اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت، اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہے، تو اس کی رضامندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایس...
07/05/2026

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت، اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہے، تو اس کی رضامندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق "ریپ" کے زمرے میں آتا ہے، چاہے نکاح کا دعویٰ ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔
لاہور ہائیکورٹ۔

​کیس کے مختصر حقائق
​یہ درخواست لاہور ہائیکورٹ میں شاہد عمران (درخواست گزار) کی جانب سے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest Bail) کے لیے دائر کی گئی۔ درخواست گزار پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک سکول جانے والی لڑکی، مسماۃ علینہ کرن کو اغوا کیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس حوالے سے تھانہ مڈھ رانجھا، سرگودھا میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 365-B اور 376 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

​درخواست گزار کا موقف تھا کہ اس نے لڑکی سے نکاح کیا ہے جو کہ شرعی طور پر جائز ہے، جبکہ مدعیہ (لڑکی کی ماں) کا کہنا تھا کہ لڑکی نابالغ ہے اور یہ نکاح "چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ" کی خلاف ورزی اور زبردستی پر مبنی ہے۔

​عدالتی فیصلے کے اہم نکات

​1. عمر کا تعین اور قانونی حد:
​عدالت نے واضح کیا کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ (ترمیمی) ایکٹ 2015 کے تحت لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم قانونی عمر 16 سال اور لڑکے کے لیے 18 سال ہے۔ اس سے کم عمر میں شادی قانوناً جرم ہے۔
​عدالت نے مختلف قوانین (جیسے نادرا آرڈیننس، جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں "بالغ" ہونے کی عمومی عمر 18 سال تسلیم کی جا رہی ہے۔

​2. نکاح اور رضامندی:
​عدالت نے فیڈرل شرعی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں شادی کے لیے صرف جسمانی بلوغت کافی نہیں، بلکہ ذہنی پختگی اور شعور بھی ضروری ہے تاکہ انسان اپنے فیصلے کے نتائج کو سمجھ سکے۔
​فیصلے میں کہا گیا کہ شادی محض ایک جسمانی تعلق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سول معاہدہ ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں پر بھی پڑتے ہیں۔

​3. بین الاقوامی معاہدات اور آئینی حقوق:
​پاکستان نے بچوں کے حقوق کے عالمی کنونشن (UNCRC) پر دستخط کر رکھے ہیں، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر ہر فرد بچہ ہے۔
​عدالت نے قرار دیا کہ کم عمری کی شادی بچوں کے بنیادی حقوق (تعلیم اور باوقار زندگی) کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت ریاست بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دینے کی پابند ہے، اور شادی اس حق کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

​4. ریپ (Zina-bil-Jabr) کی تعریف:
​تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت، اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہے، تو اس کی رضامندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق "ریپ" کے زمرے میں آتا ہے، چاہے نکاح کا دعویٰ ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔

​5. خیار البلوغ (Option of Puberty):
​عدالت نے مسلم پرسنل لاء کے تحت "خیار البلوغ" کی وضاحت کی کہ اگر سرپرست نے بچپن میں نکاح کر دیا ہو، تو لڑکی کو 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے اسے ختم (Repudiate) کرنے کا حق حاصل ہے۔

​عدالت نے قرار دیا کہ محض "بلوغت" کا دعویٰ کر کے کم عمری کی شادی کو قانونی تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو استحصال سے بچائے اور ان کی تعلیم و نشوونما کو یقینی بنائے۔ اس کیس میں چونکہ لڑکی کی عمر اور اغوا و زیادتی کے سنجیدہ الزامات موجود تھے، اس لیے عدالت نے قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی سماعت کی۔

6. قانون کی برتری (Statutory Law vs Personal Law)
​عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ 1962 شادی بیاہ کے معاملات کو دیکھتا ہے، لیکن اس کی دفعہ 2 واضح کرتی ہے کہ یہ ملک میں نافذ العمل دیگر قوانین کے تابع ہے۔

​چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929: عدالت کے مطابق لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم عمر 16 سال ہے اور یہ قانون کسی بھی غیر منضبط مذہبی رائے پر برتری رکھتا ہے۔

​7. عمر کا تعین اور جے جے ایس اے (JJSA)
​عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اغوا یا کم عمری کی شادی کے کیسز میں متاثرہ لڑکی کی عمر کے تعین کے لیے کوئی واضح ضابطہ موجود نہیں تھا۔ اس لیے عدالت نے جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ (JJSA) 2018 کے طریقہ کار کو اپنانے کی ہدایت کی:

​عمر کا تعین برتھ سرٹیفکیٹ یا تعلیمی اسناد سے کیا جائے۔
​اسناد نہ ہونے کی صورت میں میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کو بنیاد بنایا جائے۔ اس کیس میں لڑکی کی عمر 13/14 سال پائی گئی جو قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

​8. دفعہ 79 تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی تشریح
​درخواست گزار نے دفعہ 79 پی پی سی (جو نیک نیتی میں کی گئی قانونی غلطی کو تحفظ دیتی ہے) کا سہارا لینے کی کوشش کی۔ عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ممتاز قادری کیس کا حوالہ دیا:

​نیک نیتی (Good Faith): اگر کوئی شخص قانون توڑ کر کمسن بچی سے شادی رچاتا ہے تو وہ "نیک نیتی" یا "حقیقت کی غلطی" (Mistake of Fact) کا دفاع نہیں لے سکتا۔ قانون کی خلاف ورزی پر مبنی عمل کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔

9. اہم قانونی اصول (Legal Maxims)
​عدالت نے فیصلے میں چند عالمی تسلیم شدہ اصولوں کا حوالہ دیا:
​کوئی شخص اپنے ہی غلط عمل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا: اگر کسی نے غیر قانونی شادی کی ہے، تو وہ اسے اپنی ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا۔

​غلط کام سے حق پیدا نہیں ہوتا: غیر قانونی فعل (کم عمری کی شادی) کسی قانونی حق کو جنم نہیں دے سکتا۔

10. پولیس اور پراسیکیوٹرز کی ذمہ داری
​عدالت نے حکومتی اہلکاروں کی غفلت پر سخت ریمارکس دیے:
​پراسیکیوٹرز: پنجاب کرمنل پراسیکیوٹر سروس ایکٹ 2006 کے تحت پراسیکیوٹر کا فرض ہے کہ وہ چالان (دفعہ 173) کا باریک بینی سے جائزہ لے تاکہ کوئی مجرم بچ نہ سکے۔
​پولیس: پولیس آرڈر 2002 کے تحت پولیس خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کی قانونی طور پر پابند ہے۔

​عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری عدالت فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی، لیکن وہ کم عمری کی شادی جیسے جرم کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتی۔ آرٹیکل 35 (خاندان کا تحفظ) کے تحت اس شخص کو تحفظ نہیں مل سکتا جس نے خود قانون کی خلاف ورزی کی ہو۔

مرکزی فیصلہ اور نتائج

ضمانت کی مستردگی: عدالت نے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest bail) کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور 19 مئی 2023 کو دی گئی عبوری ریلیف (Ad-interim relief) کو واپس لے لیا ہے۔

فیصلے کی بنیاد: عدالت کے مطابق ریکارڈ پر ایسے "معقول دلائل" موجود ہیں جو درخواست گزار کو اغوا اور زیادتی جیسے ناقابلِ ضمانت جرائم سے جوڑتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار پولیس یا شکایت کنندہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی بدنیتی (Mala-fide) ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، جو کہ قبل از گرفتاری ضمانت کی توثیق کے لیے لازمی شرط ہے۔

دیوانی اور فوجداری کارروائی: عدالت نے قرار دیا کہ دیوانی (Civil) اور فوجداری (Criminal) کارروائیاں ایک ساتھ چل سکتی ہیں، جیسا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے Sikandar Ali Mohi Ud Din (2021 SCMR 1486) میں طے کیا گیا ہے۔

نظامی اصلاحات کے لیے ہدایات
جسٹس صاحب نے کم عمری کی شادیوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں:

ایس او پیز (S.O.P.s) کی تیاری: پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئی جی پنجاب پولیس اور ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کے ساتھ مل کر ایس او پیز تیار کریں تاکہ کم عمری کی شادیوں کے ناسور کو ختم کیا جا سکے۔
عدالتی نظائر کا نفاذ: ان ضابطوں کی تیاری میں درج ذیل اہم فیصلوں کی روشنی میں قانون نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے:

Mst. Tahira Bibi Vs. SHO (PLD 2020 Lahore 811)
Zeeshan Ali Zafar Vs. S.H.O (2021 MLD 880)
آفیشل مانیٹرنگ: اس حکم نامے کی نقول آئی جی پنجاب، پراسیکیوٹر جنرل اور ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو ارسال کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ صوبے کے کرمنل جسٹس سسٹم میں بہتر ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔
فیصلے میں دیے گئے اہم حوالہ جات
2020 SCMR 168: قبل از گرفتاری ضمانت کے اصولی قواعد۔
2019 SCMR 1129: بے گناہ افراد کو ریلیف دینے کے ضوابط۔
PLD 2021 Lahore 783: فیملی کورٹس ایکٹ اور فوجداری کارروائی کا تعلق۔
نوٹ: عدالت نے اس کیس میں جناب راشد محمود صاحب (سول جج فرسٹ کلاس/ریسرچ آفیسر) کی محنت اور قانونی معاونت کی خصوصی تعریف کی ہے۔

Address

13 Fane Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

http://www.hassanlawchamber.blogspot.com/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hassan Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category