Sarwari Qadri Silsala-SULTAN BAHU

Sarwari Qadri Silsala-SULTAN BAHU Sultan Bahu (ca 1628 - 1691) was a Muslim Sufi and saint, who founded the Sarwari Qadiri sufi order.

28/11/2025
Faqr is bestowal of Ilāhī, whom Allah Almighty (ﷻ) desires He bestows, even if anyone gets satiated with food and drink ...
30/09/2025

Faqr is bestowal of Ilāhī, whom Allah Almighty (ﷻ) desires He bestows, even if anyone gets satiated with food and drink or adopts starvation.

فقر عطائے الٰہی ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے خواہ کوئی جی بھر کے کھاتا پیتا رہے یا فاقہ کشی کرتا رہے۔
عین الفقر،ص : 281-280،حضرت سلطان باھو صاحب (رحمتہ اللّٰہ تعالیٰ علیہ)

11/09/2025

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ: عشق و معرفت کے علمبردار
تعارف
حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ (1628ء–1691ء) برصغیر پاک و ہند کے عظیم صوفی بزرگ، شاعر اور روحانی رہنما تھے۔ آپ سلسلہ قادریہ سے وابستہ تھے اور آپ کو سلطان العارفین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان (معرفت) اور عشقِ حقیقی کی دعوت دینا تھا۔ آپ کی تعلیمات نے لاکھوں لوگوں کے دل بدل دیے اور آج بھی آپ کا پیغام دلوں کو سکون اور روشنی عطا کر رہا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تربیت
حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ شورکوٹ، ضلع جھنگ (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی نہایت نیک اور صاحبِ ایمان خاتون تھیں۔ ان کا کردار آپ کی تربیت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ اگر دل اللہ کے ذکر سے آباد نہ ہو تو عبادات بےروح ہیں۔ یہی نصیحت آپ کی زندگی کا مرکز بن گئی۔
ابتداء ہی سے آپ میں روحانی صلاحیتیں نمایاں تھیں۔ علم حاصل کرنے کے باوجود آپ نے محض الفاظ اور کتابی علم کو کافی نہ سمجھا، بلکہ اصل توجہ دل کی پاکیزگی اور ذکرِ الٰہی پر رکھی۔
بنیادی تعلیمات
1. عشقِ حقیقی
حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک انسان کی اصل پہچان اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ دنیاوی محبتیں فانی ہیں لیکن اللہ کی محبت باقی اور ابدی ہے۔ عشقِ حقیقی ہی انسان کو مقامِ قرب عطا کرتا ہے۔
2. ذکر اور کلمہ طیبہ کی حقیقت
آپ کا خاص زور ذکرِ الٰہی پر تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ کلمہ طیبہ صرف زبان سے پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ اسے دل پر نقش کرنا اور اس کی حقیقت کو روح میں اتارنا ہی اصل مقصد ہے۔
3. تزکیہ و تصفیہ
آپ کی تعلیمات کا بڑا حصہ تزکیۂ نفس پر ہے۔ آپ کے نزدیک سب سے بڑی رکاوٹ انسان کا نفس ہے جو غرور، حرص اور خواہشات سے بھرا ہوا ہے۔ نفس کو قابو کیے بغیر کوئی بھی اللہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
4. فقر کی منزل
حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ فقر کو سب سے اعلیٰ مقام قرار دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ فقر کا مطلب فقیری یا غربت نہیں بلکہ دنیاوی خواہشات سے بےنیاز ہو جانا اور اللہ کی قربت میں غنی ہونا ہے۔
---
شاعری اور حکمت
حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی پنجابی شاعری عام لوگوں کے لیے دین اور روحانیت کا ایک آسان راستہ تھی۔ ان کے کلام میں سادگی ہے مگر معنی گہرے اور عمیق ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں (میں اشعار کو براہِ راست نقل نہیں کر رہا بلکہ ان کے مفہوم کو بیان کر رہا ہوں):
ایک شعر میں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ کی تلاش کے لیے کسی لمبے سفر کی ضرورت نہیں، وہ تو تیرے اپنے دل کے اندر ہے۔ بس اپنے دل کو پاک کر، تو اللہ کو پا لے گا۔
دوسرے مقام پر آپ سمجھاتے ہیں کہ اگر دل اللہ کے عشق سے خالی ہو تو دنیا کی عبادتیں محض رسم رہ جاتی ہیں۔ اصل عبادت دل کو محبوبِ حقیقی کے سپرد کر دینا ہے۔
ایک اور کلام میں آپ مرشد کامل کی اہمیت بیان کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ بغیر مرشد کے انسان راہوں میں بھٹکتا رہتا ہے، لیکن مرشد کامل دل کے پردے ہٹا کر اللہ کا راستہ دکھاتا ہے۔
---
تصانیف اور علمی ورثہ
حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی 140 سے زائد کتابیں موجود ہیں، جن میں تصوف اور معرفت کے موضوعات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ ان میں مشہور کتاب عین الفقر ہے، جس میں فقر کی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
---
مزار اور فیضان
آپ کا مزار جھنگ کے قریب گڑھ مہاراجہ میں واقع ہے۔ یہ مقام آج بھی ہزاروں زائرین کے لیے روحانی سکون اور برکت کا ذریعہ ہے۔ ہر سال عرس کے موقع پر لاکھوں عقیدت مند یہاں آ کر فیض یاب ہوتے ہیں۔
---
نتیجہ
حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات عشقِ حقیقی، ذکرِ الٰہی، تزکیۂ نفس اور فقر کے گرد گھومتی ہیں۔ آپ نے اپنی شاعری اور تصانیف کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ اصل سکون اللہ کی یاد اور اس کے عشق میں ہے۔ آپ کا کلام اور حکمت آج بھی ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ دنیا فانی ہے، لیکن اللہ کی محبت ہی باقی رہنے والی حقیقت ہے۔

10/09/2025

شاعری اور حکمت

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی پنجابی شاعری عام لوگوں کے لیے دین اور روحانیت کا ایک آسان راستہ تھی۔ ان کے کلام میں سادگی ہے مگر معنی گہرے اور عمیق ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں (میں اشعار کو براہِ راست نقل نہیں کر رہا بلکہ ان کے مفہوم کو بیان کر رہا ہوں):

ایک شعر میں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ کی تلاش کے لیے کسی لمبے سفر کی ضرورت نہیں، وہ تو تیرے اپنے دل کے اندر ہے۔ بس اپنے دل کو پاک کر، تو اللہ کو پا لے گا۔

دوسرے مقام پر آپ سمجھاتے ہیں کہ اگر دل اللہ کے عشق سے خالی ہو تو دنیا کی عبادتیں محض رسم رہ جاتی ہیں۔ اصل عبادت دل کو محبوبِ حقیقی کے سپرد کر دینا ہے۔

ایک اور کلام میں آپ مرشد کامل کی اہمیت بیان کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ بغیر مرشد کے انسان راہوں میں بھٹکتا رہتا ہے، لیکن مرشد کامل دل کے پردے ہٹا کر اللہ کا راستہ دکھاتا ہے۔

10/09/2025

تصانیف اور علمی ورثہ

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی 140 سے زائد کتابیں موجود ہیں، جن میں تصوف اور معرفت کے موضوعات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ ان میں مشہور کتاب عین الفقر ہے، جس میں فقر کی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

10/09/2025

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ: عشق و معرفت کے علمبردار

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ (1628ء–1691ء) برصغیر پاک و ہند کے عظیم صوفی بزرگ، شاعر اور روحانی رہنما تھے۔ آپ سلسلہ قادریہ سے وابستہ تھے اور آپ کو سلطان العارفین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان (معرفت) اور عشقِ حقیقی کی دعوت دینا تھا۔ آپ کی تعلیمات نے لاکھوں لوگوں کے دل بدل دیے اور آج بھی آپ کا پیغام دلوں کو سکون اور روشنی عطا کر رہا ہے۔

ابتدائی زندگی اور تربیت

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ شورکوٹ، ضلع جھنگ (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی نہایت نیک اور صاحبِ ایمان خاتون تھیں۔ ان کا کردار آپ کی تربیت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ اگر دل اللہ کے ذکر سے آباد نہ ہو تو عبادات بےروح ہیں۔ یہی نصیحت آپ کی زندگی کا مرکز بن گئی۔

ابتداء ہی سے آپ میں روحانی صلاحیتیں نمایاں تھیں۔ علم حاصل کرنے کے باوجود آپ نے محض الفاظ اور کتابی علم کو کافی نہ سمجھا، بلکہ اصل توجہ دل کی پاکیزگی اور ذکرِ الٰہی پر رکھی۔

بنیادی تعلیمات

1. عشقِ حقیقی

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک انسان کی اصل پہچان اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ دنیاوی محبتیں فانی ہیں لیکن اللہ کی محبت باقی اور ابدی ہے۔ عشقِ حقیقی ہی انسان کو مقامِ قرب عطا کرتا ہے۔

2. ذکر اور کلمہ طیبہ کی حقیقت

آپ کا خاص زور ذکرِ الٰہی پر تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ کلمہ طیبہ صرف زبان سے پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ اسے دل پر نقش کرنا اور اس کی حقیقت کو روح میں اتارنا ہی اصل مقصد ہے۔

3. تزکیہ و تصفیہ

آپ کی تعلیمات کا بڑا حصہ تزکیۂ نفس پر ہے۔ آپ کے نزدیک سب سے بڑی رکاوٹ انسان کا نفس ہے جو غرور، حرص اور خواہشات سے بھرا ہوا ہے۔ نفس کو قابو کیے بغیر کوئی بھی اللہ تک نہیں پہنچ سکتا۔

4. فقر کی منزل

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ فقر کو سب سے اعلیٰ مقام قرار دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ فقر کا مطلب فقیری یا غربت نہیں بلکہ دنیاوی خواہشات سے بےنیاز ہو جانا اور اللہ کی قربت میں غنی ہونا ہے۔

---

شاعری اور حکمت

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی پنجابی شاعری عام لوگوں کے لیے دین اور روحانیت کا ایک آسان راستہ تھی۔ ان کے کلام میں سادگی ہے مگر معنی گہرے اور عمیق ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں (میں اشعار کو براہِ راست نقل نہیں کر رہا بلکہ ان کے مفہوم کو بیان کر رہا ہوں):

ایک شعر میں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ کی تلاش کے لیے کسی لمبے سفر کی ضرورت نہیں، وہ تو تیرے اپنے دل کے اندر ہے۔ بس اپنے دل کو پاک کر، تو اللہ کو پا لے گا۔

دوسرے مقام پر آپ سمجھاتے ہیں کہ اگر دل اللہ کے عشق سے خالی ہو تو دنیا کی عبادتیں محض رسم رہ جاتی ہیں۔ اصل عبادت دل کو محبوبِ حقیقی کے سپرد کر دینا ہے۔

ایک اور کلام میں آپ مرشد کامل کی اہمیت بیان کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ بغیر مرشد کے انسان راہوں میں بھٹکتا رہتا ہے، لیکن مرشد کامل دل کے پردے ہٹا کر اللہ کا راستہ دکھاتا ہے۔

---

تصانیف اور علمی ورثہ

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی 140 سے زائد کتابیں موجود ہیں، جن میں تصوف اور معرفت کے موضوعات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ ان میں مشہور کتاب عین الفقر ہے، جس میں فقر کی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

---

مزار اور فیضان

آپ کا مزار جھنگ کے قریب گڑھ مہاراجہ میں واقع ہے۔ یہ مقام آج بھی ہزاروں زائرین کے لیے روحانی سکون اور برکت کا ذریعہ ہے۔ ہر سال عرس کے موقع پر لاکھوں عقیدت مند یہاں آ کر فیض یاب ہوتے ہیں۔

---

نتیجہ

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات عشقِ حقیقی، ذکرِ الٰہی، تزکیۂ نفس اور فقر کے گرد گھومتی ہیں۔ آپ نے اپنی شاعری اور تصانیف کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ اصل سکون اللہ کی یاد اور اس کے عشق میں ہے۔ آپ کا کلام اور حکمت آج بھی ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ دنیا فانی ہے، لیکن اللہ کی محبت ہی باقی رہنے والی حقیقت ہے۔

Address

Lahore
54500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sarwari Qadri Silsala-SULTAN BAHU posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category