25/08/2026
انتہائی اہم فیصلہ 2026:
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 4 جون 2026 کو اہم ترین فیصلہ سُناتے ہوئے قرار دیا کہ نظرِثانی کی درخواست کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے اور اسے دوسری اپیل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ نظرِثانی میں دوبارہ بحث، شواہد کا ازسرِنو جائزہ یا پہلے سے طے شدہ حقائق کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی، بلکہ صرف اسی صورت میں مداخلت کی جا سکتی ہے جب عدالتی فیصلے میں کوئی واضح اور نمایاں غلطی موجود ہو یا انصاف کے تقاضوں کے لیے مداخلت ضروری ہو۔ جو اعتراض مناسب مرحلے پر نہیں اٹھایا گیا ہو، اسے عموماً پہلی مرتبہ نظرِثانی میں نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس مقدمے میں ظاہر ذاکر جعفر کو نور مقدم کے قتل اور زیادتی کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے پہلے اس کی دفعہ 302(b) تعزیراتِ پاکستان کے تحت سزا اور دفعہ 376(1) کے تحت عمر قید برقرار رکھی تھی، جبکہ دفعہ 364 کے تحت سزا ختم اور دفعہ 342 کے تحت سزا برقرار رکھی تھی۔ موجودہ نظرِثانی درخواست میں عدالت نے اپنے پہلے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی اور قرار دیا کہ فیصلے میں ایسی کوئی واضح غلطی یا کوئی ایسی رعایت دینے والی وجہ موجود نہیں جس کی بنیاد پر سزا میں مداخلت کی جائے۔
سید رحمان حیدر شاہ چنیوٹ
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
H&S Law Associates & Consultants
Adv-Hayder Bukhari