HSM Law Associates & Consultants

HSM Law Associates & Consultants Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from HSM Law Associates & Consultants, Criminal lawyer, https://maps. app. goo. gl/R75vgDTGwaJHvSV5A?g_st=iw, Lahore.

HSM Law Associates & Consultants provides comprehensive legal representation, counsel, and advisory services throughout Pakistan, with a commitment to professional excellence, integrity, and the effective protection of clients’ legal rights and interests.

انتہائی اہم فیصلہ 2026: سپریم کورٹ آف پاکستان نے 4 جون 2026 کو اہم ترین فیصلہ سُناتے ہوئے قرار دیا کہ نظرِثانی کی درخواس...
25/08/2026

انتہائی اہم فیصلہ 2026:

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 4 جون 2026 کو اہم ترین فیصلہ سُناتے ہوئے قرار دیا کہ نظرِثانی کی درخواست کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے اور اسے دوسری اپیل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ نظرِثانی میں دوبارہ بحث، شواہد کا ازسرِنو جائزہ یا پہلے سے طے شدہ حقائق کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی، بلکہ صرف اسی صورت میں مداخلت کی جا سکتی ہے جب عدالتی فیصلے میں کوئی واضح اور نمایاں غلطی موجود ہو یا انصاف کے تقاضوں کے لیے مداخلت ضروری ہو۔ جو اعتراض مناسب مرحلے پر نہیں اٹھایا گیا ہو، اسے عموماً پہلی مرتبہ نظرِثانی میں نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس مقدمے میں ظاہر ذاکر جعفر کو نور مقدم کے قتل اور زیادتی کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے پہلے اس کی دفعہ 302(b) تعزیراتِ پاکستان کے تحت سزا اور دفعہ 376(1) کے تحت عمر قید برقرار رکھی تھی، جبکہ دفعہ 364 کے تحت سزا ختم اور دفعہ 342 کے تحت سزا برقرار رکھی تھی۔ موجودہ نظرِثانی درخواست میں عدالت نے اپنے پہلے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی اور قرار دیا کہ فیصلے میں ایسی کوئی واضح غلطی یا کوئی ایسی رعایت دینے والی وجہ موجود نہیں جس کی بنیاد پر سزا میں مداخلت کی جائے۔

سید رحمان حیدر شاہ چنیوٹ
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


H&S Law Associates & Consultants
Adv-Hayder Bukhari

نُور مقدم کیسانتہائی اہم فیصلہ:-2025 SCP 444:- معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ اگر کسی مقدمے میں وقوعہ کے وقت ...
25/08/2026

نُور مقدم کیس

انتہائی اہم فیصلہ:-

2025 SCP 444:-

معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ اگر کسی مقدمے میں وقوعہ کے وقت میں معمولی فرق ہو، ایف آئی آر یا پوسٹ مارٹم میں کچھ تاخیر ہو جائے، یا آلۂ جرم پر ملزم کی انگلیوں کے نشانات نہ ملیں تو صرف ان وجوہات کی بنیاد پر استغاثہ کا مقدمہ مشکوک نہیں ہو جاتا، بشرطیکہ مجموعی حالات، فرانزک شواہد اور دیگر ثبوت ملزم کو جرم سے واضح طور پر جوڑتے ہوں۔ اگر تمام شواہد کو مجموعی طور پر دیکھنے سے ملزم کا جرم شک سے بالاتر ثابت ہو جائے تو معمولی خامیوں کی بنیاد پر اسے شک کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سنگین جرائم میں بھی معمولی نوعیت کی خامیاں اس وقت اہم نہیں رہتیں جب مجموعی شواہد ملزم کا جرم واضح طور پر ثابت کر رہے ہوں۔ چنانچہ اس مقدمے میں ظاہر جعفر کو نور مقدم کے قتل اور زیادتی کے جرم میں سزا دی گئی۔ ٹرائل کورٹ نے دفعہ 302(b) تعزیراتِ پاکستان کے تحت سزائے موت جبکہ دفعات 376، 364 اور 342 کے تحت بھی سزائیں سنائیں، جنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے دفعہ 302(b) کے تحت سزائے موت برقرار رکھی، دفعہ 376 کے تحت سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا، دفعہ 364 کی سزا ختم کر دی جبکہ دفعہ 342 کی سزا برقرار رکھی۔

H&S Law Associates & Consultants
Adv-Hayder Bukhari

انتہائی اہم فیصلہ: 2025 SCP 466:-معزز جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس مقدمۂ قتل میں قرار دیا کہ اگر ...
24/08/2026

انتہائی اہم فیصلہ:
2025 SCP 466:-

معزز جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس مقدمۂ قتل میں قرار دیا کہ اگر کسی شخص کی موت اچانک جھگڑے کے دوران، بغیر کسی پہلے سے منصوبہ بندی یا قتل کی نیت کے، جذبات اور غصے کی حالت میں ہو جائے، اور ملزم مقتول کو قتل کرنے کے لیے پہلے سے تیار نہ ہو اور نہ ہی ظالمانہ طریقے سے کام کرے، تو ایسے معاملے کو دفعہ 302(b) PPC کے بجائے دفعہ 302(c) PPC کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مقدمے میں مقتول ایزی لوڈ کروانے کے لیے ملزم کی دکان پر آیا، جہاں اچانک دونوں کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا۔ اسی دوران غصے کی حالت میں ملزم نے ایک فائر کیا جو مقتول کے سینے پر لگا اور اس کی موت واقع ہوگئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ واقعہ سے پہلے قتل کی کوئی منصوبہ بندی یا نیت ثابت نہیں ہوئی، لہٰذا سزا کو دفعہ 302(b) PPC سے تبدیل کرکے دفعہ 302(c) PPC کے تحت کردیا گیا اور عمر قید کی سزا کم کرکے 20 سال قیدِ بامشقت کردی گئی۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ ایسے مقدمات کا فیصلہ ہر کیس کے مخصوص حالات اور حقائق کو دیکھ کر کیا جائے گا۔


H&S Law Associates & Consultants
Adv-Hayder Bukhari

24/08/2026

انتہائی اہم اور رہنما فیصلہ:
لینڈ مارک ججمنٹ:-

PLD 2013 SINDH 423:-

سیدہ افشاں بنام سید فرخ علی وغیرہ

اس مقدمہ میں معزز سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ہمارے ملک میں ایسا کوئی باقاعدہ ضابطۂ قانون موجود نہیں جس کے تحت مجسٹریٹ تفتیش مکمل ہونے کے بعد کسی مقدمے کو “A”، “B” یا “C” کلاس میں خارج کرنے کی انتظامی منظوری دے سکے، تاہم مقدمات کو طویل عرصے سے ان تینوں کلاسز کے تحت نمٹانے کا مسلسل رواج چلا آ رہا ہے۔ یہ رواج آئین کے آرٹیکل 8 میں دیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہے، اس لیے اسے قانون کا درجہ حاصل ہو چکا ہے اور یہ ضابطۂ کارروائی کا حصہ بن چکا ہے۔ “A”، “B” اور “C” کلاس کی یہ تقسیم بنیادی طور پر بمبئی پریزیڈنسی پولیس گائیڈ میں بیان کی گئی تھی۔ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت تفتیش مکمل ہونے کے بعد پولیس چالان یا حتمی رپورٹ پیش کرتی ہے۔ “A” کلاس سے مراد ایسا مقدمہ ہے جس میں ایف آئی آر درست ہو لیکن ملزم کا سراغ نہ مل سکے، “B” کلاس سے مراد ایسا مقدمہ ہے جو بدنیتی پر مبنی اور جھوٹی ایف آئی آر ثابت ہو، جبکہ “C” کلاس سے مراد ایسا مقدمہ ہے جو نہ مکمل طور پر درست ہو اور نہ بدنیتی پر مبنی جھوٹا ہو، یا ایسا معاملہ ہو جس میں ناقابلِ دست اندازی پولیس جرم شامل ہو۔ عام طریقۂ کار کے مطابق “A” کلاس میں ایف آئی آر درست ہونے کے باوجود ملزم کا پتہ نہ چلنے کی صورت میں مقدمہ نمٹا دیا جاتا ہے، تاہم ملزم کے گرفتار یا پیش ہونے پر مزید کارروائی ہو سکتی ہے۔ “B” کلاس میں ایف آئی آر بدنیتی پر مبنی جھوٹی ثابت ہونے پر مجسٹریٹ خلاصہ حکم جاری کر کے ایس ایچ او کو دفعہ 182 تعزیراتِ پاکستان کے تحت جھوٹی اطلاع دینے والے شخص کے خلاف کارروائی کی ہدایت دے سکتا ہے۔ اسی طرح “C” کلاس میں ایسے مقدمے کو نمٹایا جا سکتا ہے جس میں جرم قابلِ دست اندازی پولیس نہ ہو، تاہم اگر ایسے جرم کے ارتکاب کے متعلق کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود ہو تو مجسٹریٹ ایس ایچ او کو دفعہ 155 ضابطۂ فوجداری کے تحت علیحدہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

H&S Law Associates & Consultants
Adv-Hayder Bukhari

اہم ترین عدالتی فیصلہبہت ہی معلوماتی اور کمالCr. Misc. Application No. 242/2024طلحہ یوسف بنام سید محمد احسن وغیرہ، معزز ...
24/08/2026

اہم ترین عدالتی فیصلہ
بہت ہی معلوماتی اور کمال

Cr. Misc. Application No. 242/2024

طلحہ یوسف بنام سید محمد احسن وغیرہ،

معزز جسٹس علی حیدر اڈا، سندھ ہائی کورٹ کراچی:-

سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ تفتیشی افسر کی رائے مجسٹریٹ کے لیے پابند نہیں ہے۔ مجسٹریٹ کو پولیس کی رپورٹ پر آنکھیں بند کرکے فیصلہ نہیں کرنا بلکہ دستیاب ریکارڈ اور شواہد کا خود جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ مقدمہ آگے چلنا چاہیے یا نہیں۔ پولیس کا کام تفتیش کرنا، شواہد جمع کرنا اور حقیقت معلوم کرنا ہے، جبکہ کسی شخص کے قصوروار یا بے قصور ہونے کا فیصلہ عدالت کا اختیار ہے۔ اس لیے مجسٹریٹ صرف اس وجہ سے C-Class رپورٹ منظور نہیں کرسکتا کہ پولیس نے اس کی سفارش کی ہے، FIR درج ہونے میں تاخیر ہوئی ہے یا معاملہ بظاہر دیوانی نوعیت کا ہے، بلکہ اسے آزادانہ طور پر قانونی ذہن استعمال کرنا ہوگا۔ عدالت نے مزید وضاحت کی کہ A-Class اس وقت ہوتی ہے جب FIR درست ہو لیکن ملزم کا سراغ نہ مل سکے، B-Class اس وقت جب FIR جھوٹی، بدنیتی پر مبنی یا بے بنیاد ثابت ہو، جبکہ C-Class اس وقت ہوتی ہے جب مقدمہ نہ تو درست ثابت ہو اور نہ ہی بدنیتی پر مبنی جھوٹا ثابت ہو، مثلاً شواہد ناکافی ہوں، جرم قابلِ دست اندازی پولیس نہ ہو یا معاملہ بظاہر دیوانی نوعیت کا ہو۔ تاہم A، B یا C-Class صرف پولیس کی سفارشات ہیں، مجسٹریٹ ان کا پابند نہیں ہوتا اور اسے ریکارڈ کا آزادانہ جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ضروری ہے۔


H&S Law Associates & Consultants
Adv-Hayder Bukhari

2026ء کا انتہائی اہم فیصلہC.P.L.A. No. 3744/2023 فیصلہ 18 فروری 2026ء سپریم کورٹ آف پاکستان نے  قرار دیا کہ رقم کی ڈگری ...
24/08/2026

2026ء کا انتہائی اہم فیصلہ

C.P.L.A. No. 3744/2023

فیصلہ 18 فروری 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ رقم کی ڈگری پر عمل درآمد کروانے کے لیے عدالت کسی شخص کا شناختی کارڈ (CNIC) بلاک نہیں کر سکتی۔ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 51(e) کے تحت عدالت کو ڈگری پر عمل درآمد کے لیے دیگر مناسب قانونی طریقے اختیار کرنے کا اختیار ضرور ہے، لیکن اس اختیار کو قانون کی حدود سے باہر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایسا حکم دیا جا سکتا ہے جس سے کسی شخص کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو۔ سندھ میں ایسا کوئی مخصوص قانون موجود نہیں جو رقم کی ڈگری کی وصولی کے لیے کسی شخص کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا اختیار عدالت کو دیتا ہو، اس لیے ایسا حکم قانونی اختیار کے بغیر ہوگا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عدالت ڈگری پر عمل درآمد کے لیے صرف وہی طریقے اختیار کر سکتی ہے جن کی قانون اجازت دیتا ہے، اور جہاں قانون شناختی کارڈ بلاک کرنے کا اختیار نہ دے وہاں محض رقم کی ڈگری کی وصولی کے لیے کسی شخص کا CNIC بلاک نہیں کیا جا سکتا۔

H&S Law Associates & Consultants
Adv-Hayder Bukhari

اہم عدالتی فیصلہ2025 LHC 8271معزز لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کوئی شادی شدہ غیر مسلم عورت اسلام قبول کر لے تو صرف...
23/08/2026

اہم عدالتی فیصلہ

2025 LHC 8271

معزز لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کوئی شادی شدہ غیر مسلم عورت اسلام قبول کر لے تو صرف اسلام قبول کرنے سے اس کی پہلے سے موجود شادی فوراً ختم نہیں ہوتی۔ اسے اپنے غیر مسلم شوہر کو اپنے قبولِ اسلام کے بارے میں بتانا ضروری ہے۔ اگر شوہر عدت کے دوران اسلام قبول نہیں کرتا تو عدت کی مدت ختم ہونے پر نکاح ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد ہی عورت شرعی اور قانونی طور پر دوسری شادی کر سکتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پاکستان کے موجودہ قانون میں اس طرح کی شادی ختم کرنے کا طریقہ واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اب اصول یہ ہے کہ غیر مسلم عورت کا اسلام قبول کرنا خود بخود اس کی شادی ختم نہیں کرتا، بلکہ شوہر کو اسلام قبول کرنے کا موقع دینا ضروری ہے اور اگر وہ عدت ختم ہونے تک مسلمان نہ ہو تو شادی ختم ہو جاتی ہے، جس کے بعد عورت دوبارہ شادی کر سکتی ہے۔

H&S Law Associates & Consultants
Adv-Hayder Bukhari

انتہائی اہم فیصلہ2025 SCMR 1742 2025 SCP 284جسٹس نعیم اخترسپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ کسی شخص کو صرف کمزور، مشک...
22/08/2026

انتہائی اہم فیصلہ

2025 SCMR 1742
2025 SCP 284
جسٹس نعیم اختر

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ کسی شخص کو صرف کمزور، مشکوک یا ناقابلِ اعتماد شناخت اور برآمدگی کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ اگر مبینہ اسلحہ کی برآمدگی ہی مشکوک ہو یا اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہو تو اسلحہ ماہر کی مثبت رپورٹ بھی اکیلے یہ ثابت نہیں کر سکتی کہ وہ اسلحہ ملزم یا جرم سے منسلک تھا۔ اسی طرح شناخت پریڈ کی بھی کوئی خاص اہمیت نہیں رہتی اگر گواہ صرف ملزم کو شناخت کریں لیکن یہ نہ بتائیں کہ ہر ملزم نے کیا کردار ادا کیا تھا۔ موجودہ مقدمے میں دکان کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی عدالت کے سامنے چلائی گئی، لیکن اس میں ملزمان کے چہرے نظر نہیں آ رہے تھے، صرف اُس شخص کی پشت نظر آ رہی تھی جس کی مقتول سے ہاتھا پائی ہوئی تھی۔ اس لیے یہ ویڈیو بھی ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں مددگار نہیں تھی۔ جب استغاثہ کے مقدمے میں ایسی اہم کمزوریاں موجود ہوں اور معقول شک پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جائے گا اور اسے بری کیا جائے گا۔


H&S Law Associates & Consultants
Adv-Hayder Bukhari

Address

Https://maps. App. Goo. Gl/R75vgDTGwaJHvSV5A?g_st=iw
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HSM Law Associates & Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share