19/08/2026
اہم فیصلہ:
2026 LHC 4390
جناب جسٹس صادق محمود خرم صاحب نے قرار دیا کہ جب کسی معاملے سے متعلق خصوصی قانون میں جرم، شکایت اور داد رسی کا مکمل طریقۂ کار موجود ہو تو اسی قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی اور ضابطۂ فوجداری کے عمومی طریقۂ کار کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔ پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2024 میں مقدمہ درج کرانے، شکایت کرنے اور پیرا کے افسران کے خلاف داد رسی حاصل کرنے کا باقاعدہ طریقۂ کار موجود ہے، اس لیے ایسے معاملات میں ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس دفعہ 154 ضابطۂ فوجداری کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم نہیں دے سکتا۔ متاثرہ شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے خصوصی قانون میں فراہم کردہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق اپنی شکایت کا ازالہ حاصل کرے۔ مختصراً، جہاں خصوصی قانون کسی معاملے کے لیے مکمل طریقۂ کار فراہم کرتا ہو، وہاں دفعہ 22-اے اور 22-بی ضابطۂ فوجداری کے تحت براہِ راست ایف آئی آر درج کرانے کے بجائے پہلے اسی خصوصی قانون کے تحت دستیاب قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
H&S Law Associates & Consultants
Adv-Hayder Bukhari