12/08/2026
⚖️ سامان جہیز کی لسٹ نکاح رجسٹرار کو نہ دینا: قانوناً جرم!
بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں کہ نکاح کے وقت جہیز اور بری کی مکمل فہرست نکاح رجسٹرار کے حوالے کرنا قانونی تقاضا ہے، اور اس میں کوتاہی پر سزا مقرر ہے۔
🔹 Dowry and Bridal Gifts (Restriction) Act, 1976 کی دفعہ 8 کے تحت فریقین کے والدین پر لازم ہے کہ وہ جہیز، بری اور تحائف کی مکمل فہرست نکاح رجسٹرار کو فراہم کریں۔
🔹 دفعہ 9 کے مطابق اس قانون کی خلاف ورزی یا عدم تعمیل پر چھ ماہ تک قید، دس ہزار روپے تک جرمانہ، یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
🔹 اگر خلاف ورزی کرنے والا والدین میں سے خاتون ہو تو صرف جرمانہ کی سزا مقرر ہے، قید نہیں۔
🔹 اس ایکٹ کے تحت جرم کا مقدمہ صرف فیملی کورٹ میں چلایا جا سکتا ہے۔
🔹 اہم نکتہ: عدالتی نظائر کے مطابق، اگر جہیز کی فہرست کی نقل نکاح رجسٹرار کے حوالے نہ کی گئی ہو، تب بھی وہ فہرست خلع یا حق واپسیِ جہیز کے دعوے میں بطور شہادت ناقابلِ قبول نہیں ہوتی — یعنی رجسٹرار کو کاپی نہ دینا الگ جرم ہے، مگر یہ فہرست کی شہادتی حیثیت کو ختم نہیں کرتا۔
📌 نوٹ: قانونی معاملات میں ہمیشہ کسی مستند وکیل سے مشورہ کریں، کیونکہ ہر کیس کے حقائق مختلف ہوتے ہیں۔
آپ کے خیال میں کیا عملی طور پر نکاح خواں اور رجسٹرار اس شق پر عمل کرتے ہیں؟ کمنٹ میں بتائیں۔
#جہیز