Muhammad Faheem Anjum Law Associates

Website

Muhammad Faheem Anjum Law Associates Gold Medalist🏅
Expert Legal Services in Family, Civil, Corporate, Criminal & Property Matters ⚖️
📞 0304-4943960
(2)

⚖️ دفعہ 491 Cr.P.C کے تحت بچے کی تحویل اور سخت شرائط — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہکیا دفعہ 491 Cr.P.C کے تحت عدالت بچے ...
22/09/2026

⚖️ دفعہ 491 Cr.P.C کے تحت بچے کی تحویل اور سخت شرائط — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

کیا دفعہ 491 Cr.P.C کے تحت عدالت بچے کی عبوری تحویل والدہ کو دیتے وقت بھاری مچلکہ اور علاقائی حدود سے باہر جانے پر پابندی عائد کر سکتی ہے؟

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ دفعہ 491 Cr.P.C بنیادی طور پر ایک عارضی اور ہنگامی اقدام (Stop-gap Arrangement) ہے۔ اس کا مقصد غیر قانونی تحویل سے بچے کو فوری طور پر نکال کر مناسب شخص کے حوالے کرنا ہے۔

📌 اہم قانونی نکات:

🔹 ایک سال کے شیر خوار بچے کی عبوری تحویل والدہ کو دیتے وقت 7 لاکھ روپے کا مچلکہ عائد کرنا مناسب نہیں۔

🔹 والدہ کو عدالت کی علاقائی حدود سے باہر جانے سے روکنے جیسی پابندی دفعہ 491 کے بنیادی مقصد سے مطابقت نہیں رکھتی، خصوصاً جب اس سے اس کی معمول کی زندگی اور نقل و حرکت متاثر ہو۔

🔹 دفعہ 491 Cr.P.C کے تحت کارروائی عارضی نوعیت کی ہے، جبکہ بچے کی مستقل تحویل اور سرپرستی کا فیصلہ Guardian Court کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

🔹 سیشن عدالت دفعہ 491 کی کارروائی میں Guardian Court کے مکمل اختیارات استعمال نہیں کر سکتی۔

🔹 اگر والد کو بچے کی تحویل سے متعلق کوئی خدشہ ہو تو وہ مناسب ریلیف کے لیے Guardians and Wards Act, 1890 کے تحت گارڈین کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔

📌 نتیجہ:
دفعہ 491 Cr.P.C کا مقصد فوری طور پر غیر قانونی حبس/تحویل کا ازالہ ہے، نہ کہ ایسی سخت شرائط عائد کرنا جو والدہ کی بنیادی آزادیِ نقل و حرکت کو غیر ضروری طور پر محدود کر دیں۔

Case: Mst. Misbah Bibi v. Additional Sessions Judge, Sheikhupura & others
Judge: جسٹس اسد علی باجوہ
Court: لاہور ہائی کورٹ



📞 Need Legal Assistance?

Muhammad Faheem Anjum Law Associates

🌐 Website:
https://muhammadfaheemanjumlawassociates.netlify.app/

📱 https://wa.me/923044943960

📧 Email: [email protected]

Muhammad Faheem Anjum Law Associates - Professional Legal Services in Civil, Criminal, Family, Property, Corporate, Tax, Revenue and Cyber Law Matters.

❓ اگر کسی گواہ کا نام "گواہان کی فہرست" (List of Witnesses) میں شامل نہ ہو، تو کیا وہ عدالت میں شہادت یا دستاویزات پیش ک...
21/09/2026

❓ اگر کسی گواہ کا نام "گواہان کی فہرست" (List of Witnesses) میں شامل نہ ہو، تو کیا وہ عدالت میں شہادت یا دستاویزات پیش کر سکتا ہے؟

​❓ کیا آرڈر XVI رول 1 CPC کے تحت گواہان کی فہرست جمع کروانا ایک لازمی قانونی تقاضا (Mandatory Requirement) ہے؟

​❓ اگر کوئی نجی یا رضاکارانہ گواہ (Voluntary Witness) ایسی شہادت دے جو دعوی یا جواب دعوی (Pleadings) سے باہر ہو، تو عدالت کا اس پر کیا قانونی معیار ہوگا؟

​📌 One-Line Citation Description
عدالت کے ذریعے طلب کیے جانے والے گواہان کے لیے فہرست میں نام ہونا لازمی ہے؛ تاہم فریقین خود سے رضاکارانہ گواہ پیش کر سکتے ہیں بشرطیکہ اس کی شہادت پلیڈنگز (Pleadings) اور منسلک دستاویزات کے دائرے تک محدود رہے—اسلام آباد ہائی کورٹ۔

​⚖️ 2026 IHC 128 (Civil Revision No. 102/2025)
[High Court of Islamabad]
​👥 Waqas Qadir Versus Mst. Badra Khatoon and others

​Decided on 10th September, 2026.
(Civil Revision regarding the Scope of Order XVI Rule 1 CPC, List of Witnesses, Voluntary Witnesses, and Admissibility of Evidence Beyond Pleadings)

​📘 Definitions of Legal Concepts

​⛔️ Order XVI Rule 1 CPC & Certificate of Readiness:
ضابطہ دیوانی (CPC) کا یہ اصول فریقین پر لازم کرتا ہے کہ وہ شہادتوں کے مرحلے پر "سرٹیفکیٹ آف ریڈینس" (Certificate of Readiness) کے ساتھ ان تمام گواہان کی فہرست عدالت میں جمع کرائیں جنہیں وہ اپنے حق میں یا دستاویزات پیش کرنے کے لیے بلوانا چاہتے ہیں۔

​⛔️ Summoned Witnesses vs. Voluntary Witnesses (طلب کردہ بمقابلہ رضاکارانہ گواہان):
جن گواہان (مثلاً سرکاری ملازمین یا ریکارڈر) کو عدالت کے سمن یا پروسیس (Court Process) کے ذریعے طلب کروانا مقصود ہو، ان کے لیے فہرست میں نام شامل ہونا لازمی قانونی تقاضا ہے۔ اس کے برعکس، جن گواہان کو فریق خود بغیر عدالتی سمن کے رضاکارانہ طور پر عدالت لاتا ہے، ان کا نام فہرست میں نہ ہونا ان کی شہادت کو سرے سے نا قابلِ سماعت نہیں بناتا۔

​⛔️ Scope of Pleadings (دعویٰ و جواب دعویٰ کی حدود):
قانون کا بنادی اصول ہے کہ کوئی بھی گواہ اپنے فریق کی پلیڈنگز (Pleadings — دعویٰ یا جواب دعویٰ) اور اس کے ساتھ منسلک دستاویزات کے دائرے سے باہر جا کر شہادت نہیں دے سکتا۔ اگر کوئی گواہ پلیڈنگز سے ہٹ کر نیا موقوف یا الزام لائے، تو قانوناً ایسی شہادت غیر معتبر سمجھی جاتی ہے اور عدالت اسے نظر انداز کر سکتی ہے۔

​⚖️ Definitions of Code & Rules

​⛔️ Order XVI Rule 1, Code of Civil Procedure (CPC), 1908: گواہان کی فہرست پیش کرنے اور سمن جاری کرنے کا عمل اور ضوابط۔

⛔️ Pleadings (Order VI Rule 1 CPC): مدعی کا دعویٰ (Plaint) اور مدعا علیہ کا جواب دعویٰ (Written Statement)۔

​Posted by Legal Luminaries & آسان قانون

​📖 Background of the Case
سائل (وقاص قدیر) نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سِول رویژن دائر کی جس میں آرڈر XVI رول 1 CPC کے تحت گواہان کی فہرست، گواہوں کی طلبی اور ان کی شہادت کے دائرہ کار سے متعلق نچلی عدالت کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔ سائل کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ جن گواہان کی شہادت قلمبند کی جا رہی ہے یا جنہیں پیش کیا جا رہا ہے، ان کے نام یا تو گواہان کی فہرست میں شامل نہیں تھے یا ان کی گواہی مقدمے کی پلیڈنگز (Pleadings) کی حدود سے تجاوز کر رہی تھی۔
​عدالتِ عالیہ نے اس کیس میں سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں اور CPC کے تحت گواہان کی فہرست کی قانونی نوعیت کا تفصیل سے احاطہ کیا۔

​⚖️ Core Legal Questions
​❓ کیا آرڈر XVI رول 1 CPC کے تحت گواہان کی فہرست میں نام نہ ہونے کی صورت میں ہر گواہ کی شہادت بالکل رد ہو جائے گی؟
​❓ اگر کوئی رضاکارانہ یا نجی گواہ پلیڈنگز (Pleadings) سے باہر جا کر شہادت دے، تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟

​🏛️ Court's Observations & Legal Principles

​✅ عدالت کے ذریعے طلب کردہ گواہان (Summoned Witnesses):
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ آرڈر XVI رول 1 CPC کے تحت جن گواہان کو عدالت کے سمن/پروسیس کے ذریعے طلب کروانا ہو، ان کے نام گواہان کی فہرست میں شامل کرنا لازمی قانونی تقاضا (Mandatory Requirement) ہے۔ فہرست کے بغیر عدالت کسی گواہ کو پروسیس کے ذریعے سمن جاری نہیں کرے گی۔

​✅ رضاکارانہ طور پر پیش ہونے والے گواہان (Voluntary Witnesses):
عدالت نے وضاحت کی کہ اگر کوئی فریق کسی گواہ کو عدالت کے ذریعے سمن کروائے بغیر خود رضاکارانہ طور پر پیش کرے، تو صرف فہرست میں نام نہ ہونے کی بنا پر اس کی شہادت کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، ایسے گواہ کی شہادت پلیڈنگز (Pleadings) اور منسلک دستاویزات کے دائرے تک ہی محدود رہے گی۔

​✅ پلیڈنگز سے باہر کی شہادت کا انجام (Evidence Beyond Pleadings):
عدالت نے متنبہ کیا کہ اگرچہ نجی گواہان شہادت دے سکتے ہیں، لیکن اگر ان کی گواہی مقدمے کے بنیادی دعوے یا جواب دعویٰ اور منسلک شواہد سے باہر چلی جائے، تو ایسی اضافی شہادت قانون کی نظر میں معتبر (Valid Evidence) نہیں مانی جائے گی اور عدالتِ دیوانی کو پورا اختیار ہے کہ وہ اس اضافی حصہ کو بالکل نظر انداز (Ignore) کر دے۔

​⚖️ Final Order
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانونی اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا کہ سمن شدہ گواہان کے لیے فہرست لازمی ہے، جبکہ رضاکارانہ گواہان کی شہادت کو پلیڈنگز کی حدود میں رہتے ہوئے قبول کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا قانونی تشریح کی روشنی میں سِول رویژن کو نمٹا دیا گیا۔

​📑 Ratio Decidendi
آرڈر XVI رول 1 CPC کے تحت عدالتی پروسیس کے ذریعے سمن کیے جانے والے گواہان کی فہرست جمع کرانا لازمی ہے۔ اگر فریق گواہ کو خود رضاکارانہ طور پر پیش کرے تو فہرست میں نام نہ ہونا رکاوٹ نہیں بنے گا، بشرطیکہ شہادت پلیڈنگز اور منسلک دستاویزات کی حدود میں رہے؛ پلیڈنگز سے باہر دی گئی کسی بھی گواہی کو عدالت نظر انداز کرنے کی پابند ہے۔

​💼 Practical Utility for Advocates
​وکلاء برائے مدعی / مدعا علیہ (Civil Practitioners):
​فہرست کی فراہمی: شہادت کا مرحلہ شروع ہوتے ہی "Certificate of Readiness" کے ساتھ سمن کیے جانے والے تمام سرکاری و غیر سرکاری گواہوں کی فہرست لازمی جمع کرائیں۔
​مخالف گواہ پر اعتراض (Objection on Voluntary Witness): اگر مخالف فریق بغیر فہرست کے کوئی گواہ لائے، تو اس کی شہادت روکنے کی بجائے اس بات پر نظر رکھیں کہ وہ پلیڈنگز (Plaint/Written Statement) سے باہر نہ نکلے۔
​جرح کا معیار (Cross-Examination Strategy): اگر کوئی گواہ دعوے میں نہ لکھی گئی نئی بات عدالت میں کہے، تو فوری طور پر اعتراض (Objection) درج کروائیں کہ یہ گواہی "Beyond Pleadings" ہے، تاکہ فیصلہ لکھتے وقت عدالت اسے نظر انداز کر سکے۔

​🎯 Quotable Legal Principle
​"Submission of list of witnesses under Order XVI Rule 1 CPC is mandatory only for witnesses sought to be summoned through Court process. Parties are at liberty to produce voluntary witnesses even if unlisted, provided their testimony remains strictly confined to the pleadings and annexed documents. Any evidence adduced beyond the scope of pleadings cannot be treated as valid evidence and shall be ignored by the Court."

Muhammad Faheem Anjum Law Associates

https://muhammadfaheemanjumlawassociates.netlify.app/

https://wa.me/923044943960

Muhammad Faheem Anjum Law Associates - Professional Legal Services in Civil, Criminal, Family, Property, Corporate, Tax, Revenue and Cyber Law Matters.

Address

Saleem Manzil Near AG Office Lahore
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Faheem Anjum Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share