Muhammad Faheem Anjum Law Associates

Muhammad Faheem Anjum Law Associates Expert Legal Services in Family, Civil, Corporate, Criminal & Property Matters⚖️
📞 0304-4943960
(2)

بڑی خوشخبری! اب سٹے آرڈر پر پوری جائیداد لاک نہیں ہوگی — صرف متنازعہ رقبہ! 🏠⚖️Board of Revenue Punjab — نئی محکمانہ ہدای...
06/08/2026

بڑی خوشخبری! اب سٹے آرڈر پر پوری جائیداد لاک نہیں ہوگی — صرف متنازعہ رقبہ! 🏠⚖️
Board of Revenue Punjab — نئی محکمانہ ہدایت
پنجاب کے اراضی ریکارڈ سنٹرز میں ایک بڑی بے انصافی ہوتی تھی — جس کا آج سے خاتمہ ہو گیا!
پرانا مسئلہ کیا تھا؟
اگر عدالت نے 2 کنال کی حد تک سٹے آرڈر جاری کیا اور مدعا علیہ کی کل اراضی اس کھیوٹ میں 10 کنال تھی — تو ARC کا عملہ پوری 10 کنال لاک کر دیتا تھا!
یہ سراسر ناانصافی تھی — مدعا علیہ اپنی باقی 8 کنال زمین بھی استعمال نہیں کر سکتا تھا۔
نئی محکمانہ ہدایت — ابھی نافذ:
✅ صرف وہی رقبہ لاک ہوگا جو عدالت نے مقرر کیا ہو
✅ تنازعہ 2 کنال کا ہے تو صرف 2 کنال لاک — باقی 8 کنال آزاد
✅ تنازعہ 5 کنال کا ہے تو صرف 5 کنال لاک — مزید اراضی محفوظ
✅ Revenue Officer تحریری ہدایت جاری کرے گا کہ کتنا رقبہ لاک کرنا ہے
✅ ماتحت عملہ Revenue Officer کی تحریری ہدایت پر عمل کرنے کا پابند
✅ پوری کھیوٹ یا پورا رقبہ لاک کرنا اب ممنوع
یہ تبدیلی کیوں اہم ہے؟
🔹 مدعا علیہ کی باقی جائیداد فوری آزاد ہو سکتی ہے
🔹 کاروباری نقصان سے بچاؤ — صرف متنازعہ حصہ روکا جائے گا
🔹 ARC عملے کی من مانی اور بدعنوانی کا خاتمہ
🔹 عدالتی احکامات کا صحیح نفاذ یقینی
اگر آپ کی پوری جائیداد غلطی سے لاک ہوئی ہو تو:
📌 Revenue Officer کو تحریری درخواست دیں
📌 عدالتی سٹے آرڈر کی نقل ساتھ لگائیں
📌 واضح کریں کہ صرف متنازعہ رقبہ لاک ہونا چاہیے
📌 جواب نہ ملے تو ہائیکورٹ میں چیلنج کریں
⚠️ یہ معلومات عمومی قانونی آگاہی کے لیے ہیں۔

📲 مفت مشورے کے لیے ابھی https://wa.me/923044943960

💬 کیا آپ کی جائیداد بھی غلطی سے پوری لاک ہوئی؟ Comment میں بتائیں!
🔁 ہر زمیندار اور جائیداد کے مالک تک پہنچائیں — Share کریں!

یہ ہے جی   اب اس کی حقیقت بھی دیکھ لیں ۔سرٹیفکیٹ کے آخر میں واضح طور پر لکھا ہے “قانونی یا عدالتی مقاصد کے لیے استعمال ن...
15/07/2026

یہ ہے جی اب اس کی حقیقت بھی دیکھ لیں ۔

سرٹیفکیٹ کے آخر میں واضح طور پر لکھا ہے

“قانونی یا عدالتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا”

“The map and boundaries shown on this certificate are indicative only and … cannot be used for legal or judicial purposes.”

اس پر موجود GPS/Map صرف مقام کی نشاندہی کے لیے ہے۔
اس نقشے کو عدالت میں حتمی ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
حدود (Boundaries) کے تعین کے لیے یہ فیصلہ کن دستاویز نہیں ہے

سرٹیفکیٹ بطور سرکاری ریکارڈ یا معاون دستاویز زیر غور آ سکتا ہے، لیکن:

یہ بذات خود حتمی ٹائٹل ڈاکومنٹ نہیں۔
اس پر موجود نقشہ قانونی حد بندی کا ثبوت نہیں

یعنی گورنمنٹ نے ایک اور ڈاکیومنٹ کا اضافہ کر دیا ہے ۔

خریدار کو اب بھی یہ چیزیں چیک کرنا چاہئیں

رجسٹری اور انتقال
ریکارڈ آف رائٹس (جمعبندی وغیرہ)
اصل مالک کی شناخت
کسی عدالتی حکم یا تنازع کی موجودگی
متعلقہ ریونیو ریکار

کیونکہ یہ سرٹیفکیٹ کسی بھی ایسی چیز کی تصدیق نہیں کرتا ۔
اسکو لانے کا مقصد شاید
یہ سرٹیفکیٹ فراڈ کے خلاف ایک اضافی حفاظتی قدم ضرور ہے لیکن اس کا آپکے پاس ہونا کوئی حتمی ثبوت نہیں ۔

درست طور پر آپ کہہ سکتے ۔

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ایک سرکاری معلوماتی اور ٹرانزیکشنل دستاویز ہے۔
اس میں درج GPS نقشہ صرف رہنمائی کے لیے ہے، قانونی حد بندی کے لیے نہیں۔
ملکیت اور قانونی حقوق کا حتمی فیصلہ اب بھی متعلقہ ریونیو ریکارڈ، رجسٹرڈ دستاویزات اور عدالت کے فیصلوں کی بنیاد پر ہو
Muhammad Faheem Anjum Law Associates
Lahore High Court
(Shared this for information and awareness purpose only)

https://wa.me/923044943960

نادرا میں کمپیوٹرائزڈ نکاح ریکارڈ ختم کروانے کا قانونی طریقہ جانیں۔ ⚖️کیا آپ جانتے ہیں کہ NADRA سے نکاح کا ریکارڈ صرف قا...
08/07/2026

نادرا میں کمپیوٹرائزڈ نکاح ریکارڈ ختم کروانے کا قانونی طریقہ جانیں۔ ⚖️
کیا آپ جانتے ہیں کہ NADRA سے نکاح کا ریکارڈ صرف قانونی طریقۂ کار اور عدالتی حکم کے ذریعے ہی ختم یا تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ غلط معلومات پر یقین نہ کریں، اپنے قانونی حقوق سے آگاہ رہیں۔
قانونی مشورے، فیملی کیسز، طلاق، خلع، گارڈین شپ اور دیگر قانونی معاملات کے لیے آج ہی رابطہ کریں۔
📞 Contact us: نادرا میں کمپیوٹرائزڈ نکاح ریکارڈ ختم کروانے کا قانونی طریقہ جانیں۔ ⚖️
کیا آپ جانتے ہیں کہ NADRA سے نکاح کا ریکارڈ صرف قانونی طریقۂ کار اور عدالتی حکم کے ذریعے ہی ختم یا تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ غلط معلومات پر یقین نہ کریں، اپنے قانونی حقوق سے آگاہ رہیں۔
قانونی مشورے، فیملی کیسز، طلاق، خلع، گارڈین شپ اور دیگر قانونی معاملات کے لیے آج ہی رابطہ کریں۔
📞 Contact us: https://wa.me/923044943960
#نادرا #طلاق #خلع #وکیل

⚖️ خواتین کو وراثتی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتاسپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ(CPLA No. 1103-L of 2016 | فیصلہ: 30.0...
05/07/2026

⚖️ خواتین کو وراثتی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا
سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ

(CPLA No. 1103-L of 2016 | فیصلہ: 30.06.2026)

قانونی وضاحت:

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے قرار دیا کہ انہیں غیرقانونی طور پر وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

مقدمے میں یہ ثابت ہوا کہ 1955ء میں بھائیوں نے والد سے جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی تھی، جس کے نتیجے میں بہنیں وراثت سے محروم ہو گئیں۔ عدالت نے تقریباً 71 سال بعد بہنوں کے حقِ وراثت کو تسلیم کرتے ہوئے سول کورٹ اور ہائی کورٹ کے وہ تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے جن کے ذریعے انہیں وراثتی جائیداد سے محروم رکھا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ کئی دہائیاں گزر جانے کی وجہ سے بہنوں کا وراثتی دعویٰ ختم ہو چکا ہے، اور واضح کیا کہ خواتین کے قانونی وراثتی حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔

https://wa.me/923044943960

#وراثت #قانون #پاکستان

پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے متعدد سروس سیکٹرز پر پنجاب سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کر دی ہے، جس کا ...
04/07/2026

پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے متعدد سروس سیکٹرز پر پنجاب سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کر دی ہے، جس کا اطلاق ریسٹورنٹس، کیفے، کافی شاپس، فوڈ چینز اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس سمیت مختلف شعبوں پر ہوگا۔
نئی شرح کے تحت ریسٹورنٹس میں کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی تمام ادائیگیوں پر اب 5 فیصد کے بجائے 8 فیصد پنجاب سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
پی آر اے کے مطابق نئی ٹیکس شرح کا اطلاق میرج ہالز، کیٹرنگ سروسز، ایونٹ مینجمنٹ کمپنیوں، ٹریول اینڈ ٹور آپریٹرز، رینٹ اے کار سروسز، فٹنس سینٹرز، اپارٹمنٹ مینجمنٹ سروسز اور پراپرٹی ڈیلرز پر بھی ہوگا۔
اس کے علاوہ آرکیٹیکچرل سروسز، گوداموں (ویئر ہاؤسز) اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات سمیت دیگر شعبے بھی نئی ٹیکس شرح کے دائرہ کار میں شامل کر دیے گئے ہیں۔
پی آر اے نے متعلقہ کاروباری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی انوائسنگ، بلنگ اور ٹیکس سے متعلق نظام کو نئی شرح کے مطابق فوری طور پر اپ ڈیٹ کریں۔
اتھارٹی کے مطابق سیلز ٹیکس میں یہ اضافہ حکومتی آمدن بڑھانے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور صوبائی معیشت کو مزید دستاویزی بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

https://wa.me/923044943960

🚨ڈگری کی رقم ادا نہ کرنے پر فوراً گرفتاری نہیں ہو سکتی❗📌آرڈر 21 رول 40 اور سیکشن 51 CPC کے بغیر مقروض (Judgment Debtor) ...
04/07/2026

🚨ڈگری کی رقم ادا نہ کرنے پر فوراً گرفتاری نہیں ہو سکتی❗

📌آرڈر 21 رول 40 اور سیکشن 51 CPC کے بغیر مقروض (Judgment Debtor) کو سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا

📝 ( W.P. No.31402/2026)
Division bench

📝 درخواست گزار کے خلاف تقریباً 28 کروڑ روپے کی ڈگری (Decree) جاری ہوئی۔ ڈگری ہولڈر نے رقم وصول کرنے کے لیے عملدرآمد (Ex*****on) کی درخواست دائر کی۔ عملدرآمد کے دوران درخواست گزار کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔ چونکہ وہ رقم ادا نہ کر سکا اور نہ ہی ضمانت فراہم کی، اس لیے ایگزیکیوٹنگ کورٹ نے اسے سول جیل بھیج دیا۔

درخواست گزار نے اس حکم کو لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کیا۔

درخواست گزار کا مؤقف

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ:

* ایگزیکیوٹنگ کورٹ نے Order XXI Rule 40 اور Section 51 CPC کی لازمی شرائط پوری کیے بغیر اسے سول جیل بھیج دیا۔
* قانون کے مطابق پہلے باقاعدہ انکوائری کرنا ضروری تھی۔
* عدالت نے اس کا مؤقف سنے بغیر اور وجوہات ریکارڈ کیے بغیر حکم جاری کیا، جو غیر قانونی ہے۔

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:

1۔ صرف رقم ادا نہ کرنے پر سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا

صرف اس وجہ سے کہ ڈگری کی رقم ادا نہیں ہوئی، کسی شخص کو گرفتار یا سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا۔

2۔ Order XXI Rule 40 CPC لازمی ہے

عدالت کو پہلے:

* ڈگری ہولڈر کا مؤقف سننا ہوگا۔
* شواہد (Evidence) ریکارڈ کرنا ہوں گے۔
* Judgment Debtor کو وضاحت کا پورا موقع دینا ہوگا۔
* پھر فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اسے سول جیل بھیجنا قانوناً جائز ہے یا نہیں۔

یہ صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ لازمی قانونی تقاضا ہے۔

3۔ Section 51 CPC کی شرائط ثابت ہونا ضروری ہیں

کسی Judgment Debtor کو سول جیل صرف اس صورت میں بھیجا جا سکتا ہے جب عدالت وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرے کہ درج ذیل میں سے کوئی شرط موجود ہے:

* وہ عدالت کے دائرہ اختیار سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے؛
* اس نے مقدمہ دائر ہونے کے بعد بدنیتی سے اپنی جائیداد منتقل، چھپائی یا فروخت کی؛
* اس کے پاس رقم ادا کرنے کی استطاعت موجود ہے لیکن وہ جان بوجھ کر ادائیگی نہیں کر رہا؛
* یا ڈگری کسی Fiduciary ذمہ داری (امانت یا اعتماد) سے متعلق ہے۔

4۔ ثبوت پیش کرنا ڈگری ہولڈر کی ذمہ داری ہے

عدالت نے واضح کیا کہ:

* صرف الزام کافی نہیں۔
* ڈگری ہولڈر کو ثبوت دینا ہوگا کہ Judgment Debtor کے پاس واقعی ادائیگی کی استطاعت موجود ہے یا اس نے بدنیتی سے جائیداد چھپائی یا منتقل کی ہے۔

5۔ ذاتی آزادی بنیادی حق ہے

عدالت نے قرار دیا کہ کسی شخص کی آزادی چھیننے سے پہلے قانون میں دی گئی تمام شرائط پوری کرنا لازمی ہے، ورنہ ایسا حکم غیر قانونی ہوگا۔

6۔ ایگزیکیوٹنگ کورٹ کی غلطی

ہائی کورٹ نے پایا کہ:

* کوئی انکوائری نہیں ہوئی۔
* کوئی ثبوت ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
* سیکشن 51 CPC کے مطابق کوئی تحریری وجوہات نہیں دی گئیں۔
* صرف عدم ادائیگی کی بنیاد پر سول جیل بھیج دیا گیا۔

یہ طریقہ قانون کے خلاف قرار دیا گیا۔

ہائی کورٹ نے:

* ایگزیکیوٹنگ کورٹ کا 13-05-2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
* مقدمہ دوبارہ ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو بھیج دیا۔
* ہدایت کی کہ پہلے Order XXI Rule 40 اور Section 51 CPC کے مطابق مکمل انکوائری کی جائے، دونوں فریقوں کو شواہد پیش کرنے کا موقع دیا جائے، پھر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
* اس دوران درخواست گزار کو مناسب ضمانت فراہم کرنے کی شرط پر فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

اس فیصلے کا قانونی اصول (Ratio Decidendi)

“کسی Judgment Debtor کو صرف اس بنیاد پر کہ اس نے ڈگری کی رقم ادا نہیں کی، سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا۔ پہلے Order XXI Rule 40 اور Section 51 CPC کے مطابق لازمی انکوائری، شواہد، وجوہات کا تحریری اندراج اور عدالت کا اطمینان ضروری ہے۔ ان شرائط کے بغیر گرفتاری یا سول جیل کا حکم غیر قانونی اور کالعدم ہوگا۔

https://wa.me/923044943960

*****on

Address

Saleem Manzil Near AG Office Lahore
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Faheem Anjum Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share