Muhammad Faheem Anjum Law Associates

Muhammad Faheem Anjum Law Associates Expert Legal Services in Family, Civil, Corporate, Criminal & Property Matters⚖️
📞 0304-4943960
(2)

نادرا میں کمپیوٹرائزڈ نکاح ریکارڈ ختم کروانے کا قانونی طریقہ جانیں۔ ⚖️کیا آپ جانتے ہیں کہ NADRA سے نکاح کا ریکارڈ صرف قا...
08/07/2026

نادرا میں کمپیوٹرائزڈ نکاح ریکارڈ ختم کروانے کا قانونی طریقہ جانیں۔ ⚖️
کیا آپ جانتے ہیں کہ NADRA سے نکاح کا ریکارڈ صرف قانونی طریقۂ کار اور عدالتی حکم کے ذریعے ہی ختم یا تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ غلط معلومات پر یقین نہ کریں، اپنے قانونی حقوق سے آگاہ رہیں۔
قانونی مشورے، فیملی کیسز، طلاق، خلع، گارڈین شپ اور دیگر قانونی معاملات کے لیے آج ہی رابطہ کریں۔
📞 Contact us: نادرا میں کمپیوٹرائزڈ نکاح ریکارڈ ختم کروانے کا قانونی طریقہ جانیں۔ ⚖️
کیا آپ جانتے ہیں کہ NADRA سے نکاح کا ریکارڈ صرف قانونی طریقۂ کار اور عدالتی حکم کے ذریعے ہی ختم یا تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ غلط معلومات پر یقین نہ کریں، اپنے قانونی حقوق سے آگاہ رہیں۔
قانونی مشورے، فیملی کیسز، طلاق، خلع، گارڈین شپ اور دیگر قانونی معاملات کے لیے آج ہی رابطہ کریں۔
📞 Contact us: https://wa.me/923044943960
#نادرا #طلاق #خلع #وکیل

⚖️ خواتین کو وراثتی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتاسپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ(CPLA No. 1103-L of 2016 | فیصلہ: 30.0...
05/07/2026

⚖️ خواتین کو وراثتی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا
سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ

(CPLA No. 1103-L of 2016 | فیصلہ: 30.06.2026)

قانونی وضاحت:

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے قرار دیا کہ انہیں غیرقانونی طور پر وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

مقدمے میں یہ ثابت ہوا کہ 1955ء میں بھائیوں نے والد سے جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی تھی، جس کے نتیجے میں بہنیں وراثت سے محروم ہو گئیں۔ عدالت نے تقریباً 71 سال بعد بہنوں کے حقِ وراثت کو تسلیم کرتے ہوئے سول کورٹ اور ہائی کورٹ کے وہ تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے جن کے ذریعے انہیں وراثتی جائیداد سے محروم رکھا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ کئی دہائیاں گزر جانے کی وجہ سے بہنوں کا وراثتی دعویٰ ختم ہو چکا ہے، اور واضح کیا کہ خواتین کے قانونی وراثتی حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔

https://wa.me/923044943960

#وراثت #قانون #پاکستان

پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے متعدد سروس سیکٹرز پر پنجاب سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کر دی ہے، جس کا ...
04/07/2026

پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے متعدد سروس سیکٹرز پر پنجاب سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کر دی ہے، جس کا اطلاق ریسٹورنٹس، کیفے، کافی شاپس، فوڈ چینز اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس سمیت مختلف شعبوں پر ہوگا۔
نئی شرح کے تحت ریسٹورنٹس میں کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی تمام ادائیگیوں پر اب 5 فیصد کے بجائے 8 فیصد پنجاب سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
پی آر اے کے مطابق نئی ٹیکس شرح کا اطلاق میرج ہالز، کیٹرنگ سروسز، ایونٹ مینجمنٹ کمپنیوں، ٹریول اینڈ ٹور آپریٹرز، رینٹ اے کار سروسز، فٹنس سینٹرز، اپارٹمنٹ مینجمنٹ سروسز اور پراپرٹی ڈیلرز پر بھی ہوگا۔
اس کے علاوہ آرکیٹیکچرل سروسز، گوداموں (ویئر ہاؤسز) اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات سمیت دیگر شعبے بھی نئی ٹیکس شرح کے دائرہ کار میں شامل کر دیے گئے ہیں۔
پی آر اے نے متعلقہ کاروباری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی انوائسنگ، بلنگ اور ٹیکس سے متعلق نظام کو نئی شرح کے مطابق فوری طور پر اپ ڈیٹ کریں۔
اتھارٹی کے مطابق سیلز ٹیکس میں یہ اضافہ حکومتی آمدن بڑھانے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور صوبائی معیشت کو مزید دستاویزی بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

https://wa.me/923044943960

🚨ڈگری کی رقم ادا نہ کرنے پر فوراً گرفتاری نہیں ہو سکتی❗📌آرڈر 21 رول 40 اور سیکشن 51 CPC کے بغیر مقروض (Judgment Debtor) ...
04/07/2026

🚨ڈگری کی رقم ادا نہ کرنے پر فوراً گرفتاری نہیں ہو سکتی❗

📌آرڈر 21 رول 40 اور سیکشن 51 CPC کے بغیر مقروض (Judgment Debtor) کو سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا

📝 ( W.P. No.31402/2026)
Division bench

📝 درخواست گزار کے خلاف تقریباً 28 کروڑ روپے کی ڈگری (Decree) جاری ہوئی۔ ڈگری ہولڈر نے رقم وصول کرنے کے لیے عملدرآمد (Ex*****on) کی درخواست دائر کی۔ عملدرآمد کے دوران درخواست گزار کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔ چونکہ وہ رقم ادا نہ کر سکا اور نہ ہی ضمانت فراہم کی، اس لیے ایگزیکیوٹنگ کورٹ نے اسے سول جیل بھیج دیا۔

درخواست گزار نے اس حکم کو لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کیا۔

درخواست گزار کا مؤقف

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ:

* ایگزیکیوٹنگ کورٹ نے Order XXI Rule 40 اور Section 51 CPC کی لازمی شرائط پوری کیے بغیر اسے سول جیل بھیج دیا۔
* قانون کے مطابق پہلے باقاعدہ انکوائری کرنا ضروری تھی۔
* عدالت نے اس کا مؤقف سنے بغیر اور وجوہات ریکارڈ کیے بغیر حکم جاری کیا، جو غیر قانونی ہے۔

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:

1۔ صرف رقم ادا نہ کرنے پر سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا

صرف اس وجہ سے کہ ڈگری کی رقم ادا نہیں ہوئی، کسی شخص کو گرفتار یا سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا۔

2۔ Order XXI Rule 40 CPC لازمی ہے

عدالت کو پہلے:

* ڈگری ہولڈر کا مؤقف سننا ہوگا۔
* شواہد (Evidence) ریکارڈ کرنا ہوں گے۔
* Judgment Debtor کو وضاحت کا پورا موقع دینا ہوگا۔
* پھر فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اسے سول جیل بھیجنا قانوناً جائز ہے یا نہیں۔

یہ صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ لازمی قانونی تقاضا ہے۔

3۔ Section 51 CPC کی شرائط ثابت ہونا ضروری ہیں

کسی Judgment Debtor کو سول جیل صرف اس صورت میں بھیجا جا سکتا ہے جب عدالت وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرے کہ درج ذیل میں سے کوئی شرط موجود ہے:

* وہ عدالت کے دائرہ اختیار سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے؛
* اس نے مقدمہ دائر ہونے کے بعد بدنیتی سے اپنی جائیداد منتقل، چھپائی یا فروخت کی؛
* اس کے پاس رقم ادا کرنے کی استطاعت موجود ہے لیکن وہ جان بوجھ کر ادائیگی نہیں کر رہا؛
* یا ڈگری کسی Fiduciary ذمہ داری (امانت یا اعتماد) سے متعلق ہے۔

4۔ ثبوت پیش کرنا ڈگری ہولڈر کی ذمہ داری ہے

عدالت نے واضح کیا کہ:

* صرف الزام کافی نہیں۔
* ڈگری ہولڈر کو ثبوت دینا ہوگا کہ Judgment Debtor کے پاس واقعی ادائیگی کی استطاعت موجود ہے یا اس نے بدنیتی سے جائیداد چھپائی یا منتقل کی ہے۔

5۔ ذاتی آزادی بنیادی حق ہے

عدالت نے قرار دیا کہ کسی شخص کی آزادی چھیننے سے پہلے قانون میں دی گئی تمام شرائط پوری کرنا لازمی ہے، ورنہ ایسا حکم غیر قانونی ہوگا۔

6۔ ایگزیکیوٹنگ کورٹ کی غلطی

ہائی کورٹ نے پایا کہ:

* کوئی انکوائری نہیں ہوئی۔
* کوئی ثبوت ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
* سیکشن 51 CPC کے مطابق کوئی تحریری وجوہات نہیں دی گئیں۔
* صرف عدم ادائیگی کی بنیاد پر سول جیل بھیج دیا گیا۔

یہ طریقہ قانون کے خلاف قرار دیا گیا۔

ہائی کورٹ نے:

* ایگزیکیوٹنگ کورٹ کا 13-05-2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
* مقدمہ دوبارہ ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو بھیج دیا۔
* ہدایت کی کہ پہلے Order XXI Rule 40 اور Section 51 CPC کے مطابق مکمل انکوائری کی جائے، دونوں فریقوں کو شواہد پیش کرنے کا موقع دیا جائے، پھر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
* اس دوران درخواست گزار کو مناسب ضمانت فراہم کرنے کی شرط پر فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

اس فیصلے کا قانونی اصول (Ratio Decidendi)

“کسی Judgment Debtor کو صرف اس بنیاد پر کہ اس نے ڈگری کی رقم ادا نہیں کی، سول جیل نہیں بھیجا جا سکتا۔ پہلے Order XXI Rule 40 اور Section 51 CPC کے مطابق لازمی انکوائری، شواہد، وجوہات کا تحریری اندراج اور عدالت کا اطمینان ضروری ہے۔ ان شرائط کے بغیر گرفتاری یا سول جیل کا حکم غیر قانونی اور کالعدم ہوگا۔

https://wa.me/923044943960

*****on

📢 اہم اطلاع برائے عوام!بورڈ آف ریونیو پنجاب نے زمین کی خرید و فروخت کے لیے روایتی فرد کے اجرا کی مدت 31 دسمبر 2026ء تک ب...
04/07/2026

📢 اہم اطلاع برائے عوام!
بورڈ آف ریونیو پنجاب نے زمین کی خرید و فروخت کے لیے روایتی فرد کے اجرا کی مدت 31 دسمبر 2026ء تک بڑھا دی ہے۔
یکم جنوری 2027ء سے صرف گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اور پراپرٹی رپورٹ ہی قانونی دستاویزات کے طور پر قابلِ قبول ہوں گی۔

https://wa.me/923044943960

⚖️ اگر پولیس آپ کی درخواست پر FIR درج نہ کرے تو پریشان نہ ہوں، قانون آپ کو درج ذیل قانونی راستے فراہم کرتا ہے:━━━━━━━━━━...
03/07/2026

⚖️ اگر پولیس آپ کی درخواست پر FIR درج نہ کرے تو پریشان نہ ہوں، قانون آپ کو درج ذیل قانونی راستے فراہم کرتا ہے:
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📝 1️⃣ متعلقہ پولیس افسران سے رجوع کریں 🔹 اگر متعلقہ تھانہ FIR درج کرنے سے انکار کرے تو اپنی درخواست SP، CPO یا RPO کو جمع کروائیں تاکہ معاملے کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا سکے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
⚖️ 2️⃣ دفعہ 22-A کے تحت سیشن کورٹ سے رجوع کریں 🔹 اگر پولیس حکام کے باوجود FIR درج نہ ہو تو ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C) کی دفعہ 22-A کے تحت متعلقہ سیشن جج سے FIR کے اندراج کی درخواست کی جا سکتی ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🏛️ 3️⃣ ہائی کورٹ سے رجوع کریں 🔹 اگر مناسب ریلیف نہ ملے یا معاملہ آئینی نوعیت اختیار کر جائے تو ہائی کورٹ میں آئینی درخواست (Constitutional Petition) دائر کی جا سکتی ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📄 4️⃣ استغاثہ (Private Complaint) دائر کریں 🔹 اگر مذکورہ تمام ذرائع مؤثر ثابت نہ ہوں تو ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C) کی دفعہ 200 کے تحت استغاثہ (Private Complaint) دائر کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے عدالت براہِ راست کارروائی شروع کر سکتی ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
💡 اہم بات:
قانون ہر شہری کو انصاف کے حصول کا حق دیتا ہے۔ اگر پولیس FIR درج نہ کرے تو مایوس ہونے کے بجائے اپنے قانونی حقوق سے فائدہ اٹھائیں۔
📞 قانونی رہنمائی اور مشاورت کے لیے رابطہ کریں:
📱https://wa.me/923044943960
🌐 Website https://muhammadfaheemanjumlawassociates.netlify.app/
📧 Email: [email protected]

Muhammad Faheem Anjum Law Associates - Professional Legal Services in Civil, Criminal, Family, Property, Corporate, Tax, Revenue and Cyber Law Matters.

Address

Saleem Manzil Near AG Office Lahore
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Faheem Anjum Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share