06/08/2026
اس سال اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
ایف بی آر (FBR) کا ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرن نظام پاکستان کے ان پیچیدہ ترین نظاموں میں سے ایک ہے جس کے متعلق 99 فیصد سے زیادہ لوگوں کو یہ آگاہی ہی نہیں کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے، اس کا اصل مقصد کیا ہے، ریٹرن فائل کیسے کی جاتی ہے، اس میں کن چیزوں کا عمل دخل ہے اور بالآخر اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔
جب 2017 یا 2018 کے دوران اس ڈیجیٹل نظام کا آغاز ہوا اور ساتھ ہی پراپرٹی کی خرید و فروخت پر فائلر اور نان فائلر کے ٹیکسوں میں واضح فرق متعارف کرایا گیا، نیز بینکوں سے کیش نکلوانے (Cash Withdrawal) پر نان فائلرز کے لیے ٹیکس بڑھایا گیا، تو لوگ مجبوراً اس نظام کا حصہ بننے لگے۔ پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک افراد، رجسٹرڈ بزنس کرنے والے اور سرکاری ملازمین یکایک فائلر بننے کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔
شروعات میں فائلر بننے اور ریٹرن فائل کرنے کا درست طریقہ کار خود عوام کو تو کیا، شاید اس نظام کو بنانے والے چند افراد کے علاوہ خود ایف بی آر کے عملے کو بھی صحیح سے واضح نہیں تھا۔ اگرچہ مینول اور طریقہ کار کی ویڈیوز میسر تھیں، لیکن انہیں سمجھنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں تھی۔ چونکہ پراپرٹی کے بیشتر معاملات وکلاء برادری کے ذریعے طے پاتے ہیں، اس لیے اس کام کی ڈور بھی بڑی حد تک وکلاء، عرضی نویسوں اور اشٹام فروشوں نے سنبھال لی۔
ایک وکیل نے کام دیکھا، دوسرے نے سیکھا اور یوں "عطائی ٹیکس کنسلٹنٹس" کی ایک نئی مارکیٹ قائم ہو گئی۔ جن لوگوں کو پراپرٹی کی خرید و فروخت میں لاکھوں کا فائدہ نظر آتا تھا، انہوں نے ان عطائیوں کو پانچ منٹ کے کام کے ہزاروں روپے دینا شروع کر دیے۔ نتیجتاً، ایسے لوگوں کی زیرو (Zero) ریٹرن فائل کی جانے لگی؛ نہ کوئی آمدن دکھائی گئی، نہ اثاثے شو کیے گئے، بس ایک ہزار کا چالان بھرا اور بندہ فائلر بن گیا۔ کلائنٹ کا کام نکل جاتا اور وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھتا کہ اس کے شناختی کارڈ پر ایف بی آر کے ریکارڈ میں کیا غلط بیانی کی جا چکی ہے۔
یہ سچ ہے کہ تمام وکلاء یا ٹیکس کنسلٹنٹس ایک جیسے نہیں تھے؛ کچھ پیشہ ور افراد نے اس کام پر محنت کی، باریکیوں کو سمجھا اور مستقبل کے نتائج کو مدنظر رکھا۔ لیکن جب مارکیٹ میں ہزار دو ہزار روپے میں کام کرنے والے بیٹھے ہوں، تو عوام بھی پانچ دس ہزار روپے دینے کو تیار نہیں ہوتی تھی۔
اب جبکہ 2026 آ چکا ہے، تو نظام زیادہ خودکار اور سخت ہو چکا ہے۔ اب وہی عطائی کنسلٹنٹ بھی پریشان ہیں اور وہ عام عوام بھی، جس کے گلے میں پچھلے سالوں کی "باریک واردات" پڑ چکی ہے۔ اب ایف بی آر کا ڈجیٹل سسٹم ڈیٹا کو آپس میں مربوط کر رہا ہے اور حساب پورا کا پورا ہو رہا ہے۔ اس سال بھی لینے کے دینے پڑ رہے ہیں اور پچھلے سالوں کا غبن بھی سامنے آ رہا ہے۔
اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے میری ٹیکس کنسلٹنٹ حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے: خدا را! اب کسی کے ساتھ ظلم نہ کرنا، اب سیکھ لینا۔ کام کرنے سے آپ کو کوئی نہیں روکتا، لیکن پہلے تحقیق کریں، قانون کو سمجھیں اور صرف چند روپوں کے لالچ میں کسی کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور ریکارڈ خراب نہ کریں۔
اسی طرح عوام سے بھی گزارش ہے کہ اس سال اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ جو بھی معلومات، بینک سٹیٹمنٹ یا اثاثے وہ پوچھیں، بالکل سچ سچ بتائیں۔ شارٹ کٹ ڈھونڈنے کے بجائے اپنے کنسلٹنٹ کو اس کی محنت کے مناسب پیسے دیں تاکہ وہ تسلی بخش کام کر سکے اور آپ آئندہ کسی بھی قانونی نوٹس یا پریشانی سے محفوظ رہ سکیں۔