lawyer for you

lawyer for you I am a dedicated and experienced lawyer with a passion for protecting the rights of my clients.

23/02/2026

*Rule 6 Family Court Rules, 1965 کی تشریح اور کمپوزٹ فیملی سوٹ کی سماعت*

*فسخِ نکاح یا مہر کے دعویٰ کے ساتھ دیگر ریلیف کی مشترکہ سماعت کا اصول*

*Territorial Jurisdiction of Family Court Based on Wife’s Ordinary Residence*

*Scope of Rule 6, Family Courts Rules, 1965 and Maintainability of Composite Family Suit*

2026 LHC 1286
جسٹس مزمل اختر شبیر

خاندانی عدالت رولز، 1965 کے رول 6 کے مطابق نکاح کے فسخ (طلاق / خلع) یا حقِ مہر سے متعلق دعویٰ اُس مقام پر دائر کیا جا سکتا ہے جہاں بیوی عموماً رہائش پذیر ہو۔ لہٰذا اگر ان مذکورہ دعووں میں سے کسی ایک کے ساتھ دیگر متعلقہ ریلیف بھی شامل کر کے مشترکہ (Composite) دعویٰ دائر کیا جائے تو وہ بھی اسی مقام کی خاندانی عدالت میں قابلِ سماعت ہوگا، خواہ اس مقام پر نہ تو مکمل یا جزوی طور پر سببِ دعویٰ پیدا ہوا ہو اور نہ ہی فریقین نے وہاں اکٹھے رہائش اختیار کی ہو۔
قانونی تجزیاتی جائزہ

1️ مقدمہ کا بنیادی قانونی سوال
(Core Legal Question)
اصل قانونی نکتہ یہ تھا کہ

کیا بیوی صرف اپنی موجودہ رہائش
(ordinary residence)
کی بنیاد پر خاندانی دعویٰ دائر کر سکتی ہے، حتیٰ کہ

سببِ دعویٰ وہاں پیدا نہ ہوا ہو، اور

میاں بیوی نے اس مقام پر کبھی اکٹھے رہائش اختیار نہ کی ہو؟

اور مزید یہ کہ
اگر خلع یا حقِ مہر کے ساتھ دیگر دعوے (نفقہ، جہیز، خرچہ، حضانت وغیرہ) بھی شامل ہوں تو کیا وہ Composite Suit اسی عدالت میں قابلِ سماعت ہوگا؟

2️ متعلقہ قانون
(Relevant Law)
Rule 6, Family Courts Rules, 1965
یہ رول بیوی کو خصوصی سہولت دیتا ہے کہ

دعویٰ اُس مقام پر دائر کیا جا سکتا ہے
جہاں بیوی ordinarily resides
(معمول کی رہائش رکھتی ہو)۔

یہ اصول عام سول قانون (CPC) کے دائرہ اختیار سے مختلف اور زیادہ وسیع ہے۔

3️ عدالت کی قانونی تشریح
(Judicial Interpretation)
عدالت نے درج ذیل اصول واضح کیے:

(A) Ordinary Residence
کا مفہوم
“Ordinarily resides”
کا مطلب عارضی قیام نہیں بلکہ:

مستقل یا معمول کی رہائش

جہاں بیوی عملاً زندگی گزار رہی ہو

شوہر کی رہائش یا شادی کا مقام فیصلہ کن نہیں۔

عدالت نے بیوی کی سہولت اور تحفظ کو بنیادی عنصر قرار دیا۔

(B) Cause of Action
کی شرط ختم
عام سول مقدمات میں

Cause of action
کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

لیکن عدالت نے قرار دیا کہ

Family Court Rules
ایک special law ہیں، اس لیے CPC کی سخت territorial jurisdiction یہاں لاگو نہیں ہوگی۔

یعنی

سببِ دعویٰ وہاں پیدا نہ بھی ہو تب بھی دعویٰ قابلِ سماعت ہوگا۔

(C) Composite Suit
کا اصول
عدالت نے اہم اصول طے کیا:

اگر دعویٰ میں شامل ہو:

خلع / فسخ نکاح یا

حقِ مہر

تو اس کے ساتھ:

نان نفقہ

جہیز

اخراجات

حضانت

جیسے دیگر دعوے بھی اسی عدالت میں سنے جائیں گے۔

مقصد

ایک ہی تنازع کے متعدد مقدمات سے بچنا

عدالتی وقت اور اخراجات کی بچت

4️ فیصلے کی قانونی بنیاد
(Legal Reasoning)
عدالت کی reasoning تین ستونوں پر قائم ہے:

Welfare Principle (فلاحی اصول)
خاندانی قوانین کا مقصد عورت کو سہولت دینا ہے، نہ کہ اسے مختلف شہروں میں مقدمات لڑنے پر مجبور کرنا۔

Special Law Overrides General Law
Family Courts Act & Rules
CPC
پر غالب ہیں۔

Avoidance of Multiplicity of Litigation
ایک ہی ازدواجی تنازع کے لیے متعدد عدالتوں میں مقدمات غیر ضروری ہیں۔

5️ قائم شدہ قانونی اصول
(Ratio Decidendi)
یہ فیصلہ درج ذیل اصول قائم کرتا ہے:

بیوی اپنی معمول کی رہائش کی بنیاد پر خاندانی دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔

Cause of action
کا وہاں پیدا ہونا ضروری نہیں۔

میاں بیوی کا وہاں اکٹھے رہنا لازمی نہیں۔

خلع یا مہر کے ساتھ دیگر فیملی ریلیف شامل کر کے Composite Suit دائر کیا جا سکتا ہے۔

Family Court jurisdiction
کو وسیع اور سہولت پر مبنی انداز میں پڑھا جائے گا۔

6️ وکلاء کیلئے عملی اہمیت
(Practical Importance for Lawyers)
Plaint Drafting Strategy
اب وکیل:

بیوی کی موجودہ رہائش والے شہر میں مکمل دعویٰ دائر کر سکتا ہے۔

Jurisdiction Objection کمزور
شوہر کی جانب سے یہ اعتراض کہ:

“cause of action یہاں نہیں بنا”

اب مؤثر دفاع نہیں رہے گا۔

Litigation Strategy
مختلف شہروں میں علیحدہ مقدمات کی ضرورت ختم۔

7️ سابقہ عدالتی رجحان سے ہم آہنگی
یہ فیصلہ فیملی لاء کے اس مستقل اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ:

Family Courts procedural technicalities
کے بجائے substantive justice کو ترجیح دیتی ہیں۔

8️ تنقیدی جائزہ (Critical Analysis)
مثبت پہلو:
خواتین کیلئے انصاف تک آسان رسائی
مقدمات کی رفتار میں اضافہ
jurisdictional disputes
میں کمی

ممکنہ خدشات:
Forum shopping
کا امکان
(بیوی اپنے حق میں آسان مقام منتخب کر سکتی ہے)

مگر عدالت نے اسے welfare principle کے تحت جائز قرار دیا۔

9️ نتیجتاً مختصراً ۔۔۔
(Conclusion)
یہ فیصلہ خاندانی عدالتوں کے دائرہ اختیار کو wife-centric اور facilitative انداز میں واضح کرتا ہے۔ اب قانون کی تشریح تکنیکی حدود کے بجائے خاندانی انصاف اور سہولت کے اصول پر ہوگی۔

22/02/2026

*"برائیڈل گفٹ اور عائلی قوانین: قانونی تحفظ، ثبوت کا معیار اور عدالتی نظائر کا تجزیہ" "شادی شدہ جوڑوں میں تحائف کی قانونی حیثیت: اسلامی اور ملکی قوانین کی روشنی میں"*

Mr. Justice Anwaar Hussain
20-01-2025
2025 LHC 293
فیصلہ ۔۔۔۔۔۔
ایک تحفہ، جو شوہر کی جانب سے بیوی کے حق میں ازدواجی تعلق کے دوران دیا گیا ہو، بیوی پر تحفے کو ثابت کرنے کی وہی ذمہ داری عائد نہیں کرتا جو عام طور پر کسی وصول کنندہ (donee) پر عائد ہوتی ہے، خاص طور پر جب وصول کنندہ ایک گھریلو خاتون ہو اور عطیہ دینے والا (donor) شوہر ایک سماجی طور پر متحرک شخص ہو۔
محض یہ الزام یا دعویٰ کہ تحفہ وصول کنندہ (بیوی) نے دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کیا ہے، جبکہ اس کے مخصوص شواہد فراہم نہ کیے جائیں، بیوی پر یہ ذمہ داری عائد کرنے کے لیے کافی نہیں کہ وہ تحفے کے درست نفاذ کو ثابت کرے۔
یہ معاملہ برائیڈل گفٹ (Bridal Gift) اور ہبہ (Gift) سے متعلق ہے، جو اسلامی عائلی قوانین، ملکی قوانین، اور عدالتی نظائر کے تحت مختلف قانونی اصولوں کے تحت آتا ہے۔ درج ذیل تجزیاتی جائزہ ان قوانین اور عدالتی تشریحات پر مبنی ہے:

1. اسلامی عائلی قوانین اور ہبہ
اسلامی قانون میں ہبہ (Gift) ایک جائز اور مستحکم طریقہ ہے جس کے تحت کوئی شخص اپنی ملکیت کسی کو بلاعوض دے سکتا ہے۔ شوہر کی طرف سے بیوی کو دیا گیا تحفہ یا ہبہ تین بنیادی شرائط کا حامل ہونا چاہیے:

ایجاب (Offer) – یعنی شوہر کی طرف سے تحفہ دینے کی نیت۔
قبولیت (Acceptance) – بیوی کی طرف سے تحفے کو قبول کرنا۔
قبضہ (Possession) – بیوی کو اس تحفے کا عملی طور پر قبضہ مل جانا۔
عدالتیں عام طور پر یہ تسلیم کرتی ہیں کہ اگر شوہر نے بیوی کو کوئی جائیداد یا قیمتی چیز ہبہ کی ہے، اور بیوی اس پر قابض ہے، تو شوہر بعد میں اس تحفے کو منسوخ نہیں کر سکتا، جب تک کہ وہ ثابت نہ کرے کہ بیوی نے دھوکہ دہی یا جبر سے یہ تحفہ حاصل کیا تھا۔

2. فیملی لا اور برائیڈل گفٹ
مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت نکاح نامے میں درج برائیڈل گفٹ (Bridal Gift) یا مہر (Dower) بیوی کا شرعی حق ہے۔

دفعہ 10: برائیڈل گفٹ کو بیوی کی ملکیت تسلیم کیا جاتا ہے، اور شوہر اسے یکطرفہ طور پر منسوخ یا واپس نہیں لے سکتا۔
عدالتی نظائر میں، اگر تحفہ نکاح نامے میں درج ہے تو اسے مہر کی طرح قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔
3. تعزیرات پاکستان اور فراڈ کے الزامات
اگر شوہر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ بیوی نے تحفہ دھوکہ دہی یا جبر سے حاصل کیا ہے، تو اسے تعزیرات پاکستان 1860 کے تحت درج ذیل دفعات کے تحت ثابت کرنا ہوگا:

دفعہ 415-420 (دھوکہ دہی اور فراڈ)
دفعہ 23، 24 (رضامندی کو متاثر کرنے والے عوامل جیسے جبر یا دھوکہ)
عدالتیں عام طور پر اس اصول پر عمل کرتی ہیں کہ محض الزام لگانے سے بیوی پر ذمہ داری منتقل نہیں ہو جاتی جب تک کہ شوہر اس کے واضح ثبوت نہ دے۔

4. سول پروسیجر کوڈ اور ثبوت کا معیار
قانون شہادت 1984 (Qanun-e-Shahadat Order) کے مطابق:

دفعہ 117 کے تحت یہ اصول ہے کہ جو شخص کوئی دعویٰ کرتا ہے، وہ اس کے حق میں ثبوت فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
اگر بیوی کے پاس تحفے کی ملکیت ثابت ہے، تو شوہر کو ثابت کرنا ہوگا کہ یہ غلط طریقے سے حاصل کیا گیا تھا۔
5. عدالتی نظائر (Case Law) اور موجودہ مقدمہ
فیصلہ 2025 LHC 293 (Tahira Altaf vs Mian Ghulam Dastgeer) میں عدالت نے اس اصول کو برقرار رکھا کہ:

ازدواجی تعلقات کے دوران دیا گیا تحفہ بیوی کو خصوصی رعایت فراہم کرتا ہے۔
شوہر کا محض الزام کہ بیوی نے دھوکہ دہی سے تحفہ حاصل کیا، اسے ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
یہ نظیر دیگر فیصلوں جیسے PLD 1990 SC 1 اور 2023 MLD 455 کے مطابق ہے، جہاں عدالتوں نے بیوی کے حق میں فیصلے دیے جب شوہر تحفے کی منسوخی کے لیے ٹھوس شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔۔۔
مندرجہ بالا قانونی نکات کی روشنی میں، شوہر کا بیوی پر تحفے کی منسوخی کے لیے الزامات لگانا کافی نہیں، بلکہ اسے ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش کرنا ضروری ہے۔ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961، قانون شہادت 1984، اور تعزیرات پاکستان کے تحت بیوی کو برائیڈل گفٹ اور تحائف کا قانونی تحفظ حاصل ہے، اور عدالتیں عام طور پر بیوی کے حق میں فیصلہ دیتی ہیں جب تک کہ شوہر کسی فراڈ یا جبر کو ثابت نہ کر سکے۔

09/02/2026

*حوالہ کیس: 2026 PLD 91* *سپریم کورٹ*
*اپیل کنندہ: ڈاکٹر سیما حنیف خان*
*مخالف فریق: وقاص خان*
*خلاصہ فیصلہ:*
*بنیادی واقعہ:*
*درخواست گزار (بیوی) نے اپنے شوہر کے خلاف تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ فیملی کورٹ نے بیوی کی مرضی کے بغیر اسے 'خلع' دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنا مہر (پلاٹ، سونا اور رقم) شوہر کو واپس کرے۔ بیوی کی اپیلیں ہائی کورٹ تک مسترد ہوئیں، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔ دورانِ شادی شوہر نے بیوی کی اجازت یا ثالثی کونسل کے حکم کے بغیر دوسری شادی کر لی تھی۔*

سپریم کورٹ کے سامنے قانونی سوالات:
کیا فیملی کورٹ بیوی کی رضامندی کے بغیر تنسیخ نکاح کے دعوے کو خود بخود 'خلع' میں تبدیل کر سکتی ہے؟
کیا فیملی کیسز میں ثبوت کا صحیح معیار (Balance of Probabilities) اپنایا گیا؟
سپریم کورٹ کا فیصلہ اور مشاہدات:
ثبوت کا معیار: عدالت نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ نے بیوی کے ثبوت محض اس لیے مسترد کر دیے کیونکہ ان کے پاس تشدد یا ظلم کے دستاویزی ثبوت نہیں تھے۔ عدالت کا فرض ہے کہ وہ خاندانی معاملات میں دستاویزی ثبوتوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے امکانات کے توازن (Balance of Probabilities) کو دیکھے۔
دوسری شادی اور ظلم: شوہر نے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے سیکشن 6 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسری شادی کی۔ قانون کے مطابق یہ اقدام تنسیخ نکاح کے لیے اکیلا ہی کافی گراؤنڈ ہے، جسے فیملی کورٹ نے نظر انداز کیا۔
خلع بمقابلہ تنسیخ نکاح: سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ خلع ایک الگ عمل ہے جس میں بیوی اپنی مرضی سے مہر کی واپسی کے بدلے علیحدگی مانگتی ہے۔ عدالت اپنی مرضی سے تنسیخ نکاح کے دعوے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔ ایسا کرنا بیوی کو اس کے مہر اور نان و نفقہ (Maintenance) کے حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
حتمی حکم: سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ شادی کو شوہر کی غیر قانونی دوسری شادی کی بنیاد پر فسخ (Dissolve) کر دیا گیا۔ اب بیوی کو اپنا مہر (سونا، رقم اور پلاٹ) واپس کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور وہ دورانِ شادی کے واجب الادا نان و نفقہ (10,000 روپے ماہانہ) کی بھی حقدار ہے۔

09/02/2026

*خرچہ کی ڈگری (Maintenance Decree) کے اجراء میں جب عدالت کسی نمائندہ (Court Representative/Commission) کے ذریعے پراپرٹی کی رجسٹری کا حکم دیتی ہے، تو اس پر واجبات درج ذیل تناسب (Ratio) سے لاگو ہوتے ہیں:*
اسٹامپ ڈیوٹی (Stamp Duty): یہ پراپرٹی کی ڈی سی ریٹ (DC Rate) پر مبنی قیمت کا 1% سے 3% تک ہو سکتی ہے۔ عام طور پر پنجاب میں یہ شرح 1% ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں یہ 3% تک بھی ہو سکتی ہے۔
رجسٹریشن فیس (Registration Fee): اگر جائیداد کی مالیت 5 لاکھ روپے تک ہے تو 500 روپے، اور اگر 5 لاکھ سے زائد ہے تو 1000 روپے رجسٹریشن فیس ادا کرنی ہوگی۔
ٹاؤن ٹیکس / کارپوریشن فیس (Town/TIP Tax): مقامی حکومت یا کونسل کی جانب سے 1% سے 3% تک ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔
سی وی ٹی (CVT): کیپیٹل ویلیو ٹیکس کی شرح عام طور پر ڈی سی ریٹ کا 2% ہوتی ہے۔
نمائندہ عدالت کے اخراجات: چونکہ رجسٹری نمائندہ عدالت (Court Auctioneer/Local Commission) کے ذریعے ہو رہی ہے، اس لیے ان کی فیس یا کمیشن عدالت کے حکم کے مطابق علیحدہ سے ادا کرنا ہوگا۔
اہم نوٹ:
یہ تمام فیسیں اس وقت کے رائج پنجاب بورڈ آف ریونیو کے شیڈول کے مطابق ای-اسٹامپ سسٹم کے ذریعے آن لائن چالان فارم نکال کر بینک آف پنجاب میں جمع کروانی ہوتی ہیں۔ حتمی حساب کے لیے آپ اپنے علاقے کے سب رجسٹرار آفس یا ای-خدمت مرکز سے رجوع کر سکتے ہیں جہاں سے آپ کو متعلقہ پراپرٹی کے ڈی سی ریٹ کے مطابق درست چالان مل جائے گا۔

08/02/2026

*بریت - تحت دفعہ 249-اے،* *مجموعہ ضابطہ فوجداری* *(Cr.P.C.)*
*حوالہ: فوجداری ٹرائل (Criminal Trial)*

دائرہ کار (Scope): دفعہ 249-اے، ضابطہ فوجداری کی شق ملزم کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اپنی بریت کے لیے درخواست دائر کرے، جو کہ فردِ جرم عائد ہونے سے پہلے بھی ہو سکتی ہے۔ اگر عدالت دفعہ 249-اے کے تحت دی گئی درخواست مسترد کرتی ہے، تو اسے ریکارڈ پر موجود تمام مواد اور اس ممکنہ کیس پر بحث کرنی چاہیے جس کی بنیاد پر ٹرائل جاری رکھنے کے معقول جواز موجود ہوں۔
مقننہ نے اپنی دانشمندی سے دفعہ 249-اے اور 265-کے وضع کرتے ہوئے، ان دفعات کے تحت کارروائی کے لیے شہادتیں ریکارڈ کرنے کو لازمی شرط قرار نہیں دیا۔ "کیس کے کسی بھی مرحلے پر" (at any stage of the case) کی عبارت کا استعمال واضح طور پر اس نیت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایسا مرحلہ بالکل ابتدائی ہو سکتا ہے (یعنی نوٹس لینے کے فوراً بعد)، یا کوئی درمیانی مرحلہ (کچھ کارروائی ریکارڈ کرنے کے بعد)، یا پھر کوئی آخری مرحلہ بھی ہو سکتا ہے۔ دفعہ 249-اے عدالت کے پریزائیڈنگ آفیسر کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ ٹرائل کے کسی بھی مرحلے پر ملزم کو بری کر دے؛ بشرطیکہ دو شرائط پوری کی جائیں: اول، پراسیکیوٹر اور ملزم کے وکیل کو سماعت کا موقع دیا جائے؛ دوم، اس نتیجے کی تائید میں وجوہات ریکارڈ کی جائیں کہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ [2012 P. Cr.L.J. 999]
جہاں چارج (فردِ جرم) بے بنیاد ہو اور ملزم کی سزا کا کوئی امکان نہ ہو، تو برائی کو ابتدا میں ہی کچل دینا چاہیے (nip in the bud) اور فردِ جرم عائد کرنے سے پہلے ہی اس کے خلاف کارروائی ختم کر دینی چاہیے۔ [2009 YLR 169]
اگرچہ عدالتوں کے موروثی اختیارات (inherent powers) کے استعمال پر وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے جو کسی بھی مرحلے پر استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن چونکہ ٹرائل کورٹ کے اختیارات تحت دفعہ 249-اے اور 265-کے، ہائی کورٹ کے دفعہ 561-اے کے تحت اختیارات کے برابر ہیں، اس لیے اگر ضرورت ہو تو ایف آئی آر (F.I.R) کو پری ٹرائل مرحلے پر صرف اس صورت میں ختم کرنا چاہیے جب عدالت نے ابھی کیس کا نوٹس (cognizance) نہ لیا ہو، ورنہ معاملہ ٹرائل کورٹ کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے۔ [2005 P. Cr.L.J. 899]
کیس کے خاص یا مخصوص حقائق و حالات اس مرحلے پر دفعہ 249-اے کے تحت درخواست دائر کرنے کی اجازت نہیں دیتے جب استغاثہ کی تمام شہادتیں ریکارڈ ہو چکی ہوں اور کیس دفعہ 342 کے تحت ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے مقرر ہو۔ [2012 P. Cr.L.J. 76, PLD 1992 S. C. 353 rel]
دفعہ 249-اے کے تحت مجسٹریٹ ریاست کو نوٹس جاری کرنے کا پابند ہے اور یہ صوابدیدی اختیار دونوں فریقین کو سننے کے بعد، لیکن عدالت میں چالان جمع ہونے کے بعد ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ [2005 P. Cr.L.J. 252]
بے بنیاد چارج کے کیس میں بریت حاصل کرنے کے لیے عام طور پر پہلے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے، لیکن یہ قاعدہ قطعی نہیں ہے اور اس کی سخت تعمیل ہمیشہ ضروری نہیں۔ مناسب معاملات میں، خاص طور پر جہاں کارروائی کو ختم (quashing) کرنا مقصود ہو، انحراف کی اجازت ہے۔ ویسے بھی، ہائی کورٹ کی طرف سے براہ راست درخواست وصول کرنے پر دفعہ 561-اے کے تحت کوئی پابندی نہیں ہے۔ [2005 YLR 3153]
تفتیشی مرحلے پر ملزم کی بریت، جب ملزم کو ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا ہو اور ریاست کو نوٹس نہ دیا گیا ہو، برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہے۔ [2005 P. Cr.L.J. 714]
عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر کوئی جرم ثابت نہ ہو رہا ہو یا شہادت ناکافی ہو، تو وہ فردِ جرم عائد کرنے سے انکار کر دے۔ [2008 P. Cr.L.J. 161]
دفعہ 200 کے تحت انکوائری کے دوران اگر ایسی شہادت سامنے آئے جو بظاہر (prima facie) ملزم کے خلاف کیس بناتی ہو، تو دفعہ 249-اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ [2008 P. Cr.L.J. 11]
ایک بار جب بریت ہو جائے اور اس کے خلاف دستیاب قانونی چارہ جوئی بھی ناکام ہو جائے، تو ملزم کے حق میں دو آرڈرز آ جاتے ہیں جن میں مداخلت نہیں کی جا سکتی، چاہے ریکارڈ پر موجود شہادتوں کی بنیاد پر دوسرا معقول نتیجہ نکالنا ممکن بھی ہو۔ [1994 P. Cr.L.J. 1920]
جب ملزم مرکزی کیس میں بری ہو جائے، تو وہ اس مرکزی کیس سے منسلک ضمنی کیس میں بھی بریت کا حقدار ہو جاتا ہے۔ [2012 MLD 1315]
شک کا فائدہ دے کر ملزم کی بریت اسے "بدنیتی پر مبنی استغاثہ" (malicious prosecution) کی بنیاد پر ہرجانہ کلیم کرنے کا حقدار نہیں بناتی۔ [2012 MLD 1]
مجسٹریٹ کے اختیارات
جہاں عدالت کو معقول حد تک یقین ہو کہ مجرمانہ الزام ثابت نہیں کیا جا سکتا، وہاں ٹرائل جاری رکھنا ضروری نہیں ہے۔ لیکن چارج کو اس وقت تک "بے بنیاد" نہیں کہا جا سکتا جب تک الزامات ثابت کرنے کا معقول موقع فراہم نہ کر دیا جائے۔ استغاثہ کی شہادتیں ریکارڈ کرنا بریت کے لیے لازمی شرط نہیں ہے۔ مجسٹریٹ کسی بھی وقت درخواست پر فیصلہ کر سکتا ہے، قطع نظر اس کے کہ فردِ جرم عائد ہوئی ہے یا نہیں۔ [2003 YLR 2749]
مجسٹریٹ اس دفعہ کے تحت ریاست کو نوٹس دینے کا پابند ہے اور یہ اختیار دونوں فریقین کو سننے کے بعد اور عدالت میں چالان پیش ہونے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے۔ [2005 P. Cr.L.J. 252]
کسی بھی مرحلے پر: دفعہ 249-اے کے تحت درخواست کارروائی کے کسی بھی وقت یا مرحلے پر (شہادتیں ریکارڈ کرنے کے دوران یا بعد میں) دائر، سنی اور فیصلہ کی جا سکتی ہے۔ [2005 SCMR 1544]
دفعہ 249-اے کے تحت حکم شہادتیں ریکارڈ کرنے سے پہلے بھی دیا جا سکتا ہے۔ [2004 P. Cr.L.J. 1068]
فریق کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر بریت کی استدعا کر سکتا ہے اور ایسی کوئی قانونی رکاوٹ یا ضرورت نہیں کہ درخواست صرف تمام گواہوں کے بیانات کے بعد ہی دی جائے۔ [PLD 2008 Kar. 567]
نگرانی (Revision)
ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ (سیکشن 30) نظرثانی نہیں کر سکتا، کیونکہ مجسٹریٹ کے حکم پر نظرثانی کا اختیار سیشن کورٹ کے پاس ہے۔ مجسٹریٹ کے بریت کے حکم کو دفعہ 435/439-اے کے تحت چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ [2008 YLR 1526]
سپریم کورٹ کے فیصلے
مجسٹریٹ دفعہ 249-اے کے تحت ملزم کو کیس کے کسی بھی مرحلے پر بری کرنے کا مجاز ہے، اگر استغاثہ اور ملزم کو سننے کے بعد وہ تحریری وجوہات کے ساتھ یہ سمجھے کہ چارج بے بنیاد ہے یا سزا کا کوئی امکان نہیں ہے۔ [PLD 2009 S. C. 102]
دفعہ 249-اے اس عمومی اصول کا استثنا ہے کہ بریت مکمل ٹرائل کے بعد ہوتی ہے۔ یہ شق معاشرے کے اجتماعی مفاد اور ملزم کے انفرادی حقوق کے درمیان ایک سمجھوتہ ہے۔ اس کا مقصد ملزم کو مکمل ٹرائل کی سختیوں سے بچانا ہے اگر عدالت کسی بھی مرحلے پر یہ پائے کہ الزامات بے بنیاد ہیں اور کامیابی کا امکان نہیں۔ [PLJ 2004 S. C. 2]
عام طور پر ایک فوجداری کیس کو شہادتیں ریکارڈ کرنے، دفعہ 342 اور 340(2) کے بیانات اور فریقین کے دلائل کے بعد میرٹ پر ختم ہونا چاہیے۔ دفعہ 249-اے، 265-کے اور 561-اے کی شقوں کو عام طور پر کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ [2005 SCMR 1544]
عدالت کسی فریق کو ہراسانی اور عدالتی عمل کے غلط استعمال سے بچانے کے لیے دفعہ 561-اے استعمال کر سکتی ہے۔ [1993 SCMR 1873]
ایک فریق کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر بریت کی تحریک کر سکتا ہے۔ [1997 SCMR 1503]
جہاں ریکارڈ پر موجود مواد سے یہ واضح تخمینہ لگایا جا سکے کہ ملزم کو سزا نہیں ہو سکتی، وہاں کارروائی میں مزید تاخیر عدالتی عمل کے غلط استعمال کے سوا کچھ نہیں۔ [1994 SCMR 798]
کیا آپ چاہیں گے کہ میں ان قانونی نظائر (Case Laws) کی بنیاد پر دفعہ 249-اے کے تحت بریت کی ایک نمونہ درخواست تیار ....

08/02/2026

*یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ کے معزز جج جسٹس سردار اکبر علی نے 26 جنوری 2026 کو صادر فرمایا

​اس فیصلے کی خاص بات اس میں موجود جدید ترین عدالتی نظائر (Case Laws) ہیں، جو فوجداری وکالت کرنے والوں کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہیں۔
​1. مقدمے کا خلاصہ (Case Summary)
​یہ مقدمہ قتلِ عمد (302 PPC) اور ڈکیتی (394 PPC) کا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزمان (اللہ دتہ اور اعجاز احمد) کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ہائی کورٹ نے استغاثہ کے کیس میں درج ذیل بڑی خامیاں پائیں:
​ایف آئی آر میں غیر معمولی تاخیر۔
​گواہان کا "اتفاقیہ" (Chance Witnesses) ہونا اور بیانات میں بددیانتی سے تبدیلیاں کرنا۔
​شناختی پریڈ میں قانونی سقم اور ملزمان کی تصاویر پہلے سے دکھائے جانے کا اعتراض۔
​برآمدگی (Recovery) کے وقت آزاد گواہان کی عدم موجودگی۔
​طبی شہادت اور عینی شہادت میں تضاد۔
​عدالت نے ان تمام بنیادوں پر ملزمان کو "شک کا فائدہ" دیتے ہوئے بری کر دیا۔
​2. قانونی حوالہ جات (Case Law References) کی تفصیل
​اس فیصلے میں جن نظائر کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ درج ذیل قانونی نکات کو واضح کرتے ہیں:
​ایف آئی آر میں تاخیر اور مشاورت: عدالت نے 1995 SCMR 127، 2024 SCMR 1773، اور 2025 SCMR 1024 کے حوالوں سے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں محض 2 گھنٹے کی بلاجواز تاخیر بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مقدمہ سوچ بچار اور مشورے کے بعد درج کیا گیا، جس سے استغاثہ کی سچائی مشکوک ہو جاتی ہے۔
​اتفاقیہ گواہ (Chance Witnesses): گواہان کی موجودگی ثابت نہ ہونے پر 2014 SCMR 1197، 2021 SCMR 325 اور 2026 SCMR 47 جیسے حوالہ جات دیے گئے، جن کے مطابق ایسے گواہ کی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ اپنی موجودگی کی ٹھوس وجہ بیان نہ کرے۔
​بیانات میں بہتری (Dishonest Improvements): گواہان کا وقت کے ساتھ اپنے بیان کو "بہتر" کرنا انہیں ناقابلِ اعتبار بناتا ہے۔ اس پر 2024 SCMR 1310 اور 2025 SCMR 662 کا سہارا لیا گیا۔
​شناختی پریڈ کی قانونی حیثیت: 2024 SCMR 1146 اور 2025 SCMR 2018 کی روشنی میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزمان کی تصاویر پہلے ہی گواہان کو دکھا دی گئی ہوں، تو ایسی شناختی پریڈ کی کوئی قانونی اہمیت نہیں رہتی۔
​طبی شہادت کا کردار: PLD 1993 SC 251 اور 2024 SCMR 1741 کے مطابق طبی شہادت صرف زخم کی تصدیق کرتی ہے، یہ کبھی بھی اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتی کہ وہ زخم کس نے لگایا ہے۔
​دفعہ 103 Cr.PC کی خلاف ورزی: برآمدگی کے وقت علاقے کے آزاد گواہ شامل نہ کرنے پر 2017 SCMR 713 اور 2011 SCMR 1127 کے حوالے سے قرار دیا گیا کہ ایسی برآمدگی قانون کی نظر میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔
​شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): آخر میں 2024 SCMR 51 اور 2024 SCMR 1731 کی بنیاد پر یہ سنہری اصول دہرایا گیا کہ اگر ایک بھی شک پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ صرف اور صرف ملزم کو ملے گا۔

قتل کے مقدمے میں بڑی بریت: لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ! ⚖️
​کیا آپ جانتے ہیں کہ ایف آئی آر میں محض چند گھنٹوں کی تاخیر یا گواہ کے بیان میں معمولی تبدیلی ملزم کی بریت کا سبب بن سکتی ہے؟
​لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) نے 2026 LHC 945 (اللہ دتہ بنام سرکار) میں فوجداری قانون کے سنہری اصولوں کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ:
1️⃣ ایف آئی آر میں تاخیر: اگر تھانہ قریب ہو اور ایف آئی آر میں بلاوجہ تاخیر ہو، تو اسے بددیانتی تصور کیا جائے گا۔
2️⃣ اتفاقیہ گواہ: رشتہ دار گواہان کی موقع پر موجودگی اگر ثابت نہ ہو، تو ان کی گواہی مسترد کر دی جائے گی۔
3️⃣ برآمدگی کے نقائص: دفعہ 103 Cr.PC کے تحت برآمدگی کے وقت علاقہ مکینوں کی گواہی لازمی ہے۔
​اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے درجنوں جدید ترین نظائر (2024-2025-2026 SCMR) کا حوالہ دیا گیا ہے، جو فوجداری نظامِ انصاف میں ملزم کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔
​قانون کی آگاہی ہی آپ کی طاقت ہے۔ کسی بھی قانونی پیچیدگی کی صورت میں ہم سے رابطہ کریں۔

03/02/2026

2026 CLC 120
وراثت — حنفی قانونِ وراثت — وارثوں کی اقسام — متوفیٰ کا بغیر وصیت فوت ہونا — بھتیجیوں کا حق — اعتراض کی حیثیت

اس مقدمہ میں متوفیٰ بغیر وصیت کے فوت ہوا۔ متوفیٰ کی دو بھتیجیوں (اعتراض کنندگان) نے دعویٰ کیا کہ وہ بھی وراثت میں حصہ دار ہیں اور انہیں مرد کے مقابلے میں آدھا حصہ دیا جائے۔

عدالت نے اسلامی قانونِ وراثت (حنفی فقہ) کے مطابق اصول بیان کیے:

ورثاء کی تین اقسام:
حصہ دار (Sharers): وہ وارث جن کے حصے قرآن و شریعت میں مقرر ہیں

عصبات (Residuaries): وہ وارث جو حصہ داروں کے بعد بچنے والی جائیداد کے حق دار ہوتے ہیں

ذوی الارحام (Distant Kindred): وہ رشتہ دار جو نہ حصہ دار ہوں اور نہ عصبات

وراثت کی تقسیم کا اصول:
پہلے میت کے تجہیز و تکفین، قرض اور وصیت ادا کی جاتی ہے

پھر حصہ داروں کو ان کے مقررہ حصے دیے جاتے ہیں

اس کے بعد جو جائیداد بچے، وہ عصبات میں تقسیم ہوتی ہے

اگر حصہ دار اور عصبات نہ ہوں تو ذوی الارحام کو حصہ ملتا ہے

لیکن جب تک حصہ دار یا عصبات موجود ہوں، ذوی الارحام کو کچھ نہیں ملتا

اس مقدمہ میں:
متوفیٰ کی بیوی اور نابالغ بیٹی → حصہ دار تھیں

متوفیٰ کے بھتیجے (مرحوم بھائی کے بیٹے) → عصبات تھے (کیونکہ وہ مرد رشتہ دار ہیں باپ کی طرف سے)

متوفیٰ کی بھتیجیاں → ذوی الارحام میں آتی تھیں

حنفی قانون کے مطابق:

جب حصہ دار اور عصبات موجود ہوں تو ذوی الارحام کو وراثت میں کوئی حق نہیں ملتا

مزید یہ کہ عدالت میں فتویٰ بھی پیش کیا گیا جس میں واضح کیا گیا کہ بھتیجیاں وراثت کی حقدار نہیں ہیں، جبکہ بھتیجوں کے نام فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ میں درج تھے۔

فیصلہ:
بیوہ اور بیٹی کو ان کے مقررہ شرعی حصے ملیں گے

بھتیجوں کو باقی جائیداد برابر حصوں میں بطور عصبات دی جائے گی

بھتیجیوں کو کوئی حصہ نہیں ملے گا

نتیجہ:
بھتیجیوں کے اعتراضات کو غلط اور ناقابلِ قبول قرار دے کر مسترد کر دیا گیا، اور وراثت کی منتقلی میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہی۔

03/02/2026

مذہبی آزادی اور انتظامیہ کے اختیارات کی قانونی حدود پر لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ

​مجالس اور جلوسوں کا انعقاد کوئی مراعات نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کے تحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جسے مکمل طور پر ختم یا ممنوع نہیں کیا جا سکتا۔
پنجاب سول ایڈمنسٹریشن ایکٹ 2017 کا سیکشن 16 ڈپٹی کمشنر کو صرف "نظم و ضبط" برقرار رکھنے کا اختیار دیتا ہے، اسے مکمل "پابندی" لگانے کا اختیار نہیں دیتا۔ انتظامیہ کا کام سہولت فراہم کرنا ہے، رکاوٹ ڈالنا نہیں۔
امتیازی سلوک کی ممانعت: اگر ایک ہی طرح کے دیگر پروگرامز کو سکیورٹی اور اجازت دی جا رہی ہے، تو کسی ایک شہری کو "روایتی" نہ ہونے کا بہانہ بنا کر روکنا آرٹیکل 4 اور 25 (برابری کا حق) کی صریح خلاف ورزی ہے۔
خوف اور مفروضے: محض امن و امان کے "ممکنہ خطرے" یا پولیس رپورٹس کی بنیاد پر بنیادی حقوق پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ انتظامیہ کو ٹھوس شواہد اور معقول وجوہات پیش کرنی ہوں گی، ورنہ ان کا فیصلہ غیر قانونی تصور ہوگا
WP. 39994/25
Bilal Hussain Vs Home Secretary Govt. of the Punjab etc.
Mr. Justice Muhammad Sajid Mehmood Sethi
30-06-2025
2025 LHC 8288

31/01/2026

سپریم کورٹ نے پولیس افسران کو دی جانے والی درخواستوں میں “بخدمت جناب SHO” کے فقرے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے اور اسے نوآبادیاتی دور کی باقیات قرار دیا ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ اس قسم کی زبان ایک فرسودہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے جو جدید جمہوری نظام میں عوامی خدمت کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتی۔
یہ معاملہ سماعت کے دوران اس وقت سامنے آیا جب عدالتی لا کلرک محمد سبحان ملک نے عدالت کی توجہ اس رواج کی جانب دلائی کہ تھانیداروں (SHO) کو عام طور پر اس فقرے کے ساتھ مخاطب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ “بخدمت” کا مطلب “کی خدمت میں” ہوتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شہری SHO کی خدمت میں نہیں بلکہ SHO شہری کی خدمت میں ہوتا ہے۔ عدالتی لا کلرک نے یہ بھی نشاندہی کی کہ شکایت کنندہ (Complainant) اور اطلاع دینے والے (Informant) کی اصطلاحات اکثر ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں، حتیٰ کہ ایف آئی آر کے معاملات میں بھی، جسے عدالت نے غلط عمل قرار دیا۔
ان دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے جسٹس صلاح الدین پنہور نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اب SHO کو مخاطب کرنے کے لیے صرف “جناب SHO” لکھنا کافی ہوگا۔ عدالت نے مزید وضاحت کی کہ “شکایت کنندہ” (Complainant) کی اصطلاح صرف فوجداری ضابطہ اخلاق (Cr.P.C) کی دفعہ 200 کے تحت نجی شکایت درج کروانے والے شخص کے لیے استعمال ہوگی، جبکہ ایف آئی آر درج کروانے والے شخص کو “اطلاع دہندہ” (Informant) کہا جائے گا۔
انیس صفحات پر مشتمل فیصلے میں پولیس کارروائیوں میں “فریادی” (Faryaadi) کی اصطلاح کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ اس لفظ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شہری کسی حق کے استعمال کے بجائے رحم کی درخواست کر رہا ہے۔ فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ فارسی زبان سے ماخوذ یہ لفظ اس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو مدد کے لیے فریاد کرتا ہے۔
مزید برآں، عدالت نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 201 کی تشریح کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کرنے والے پولیس افسران کے خلاف اس دفعہ کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر سے بروقت تفتیش متاثر ہوتی ہے اور اہم فرانزک شواہد کے ضائع یا خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
۔
In regards to the delay, which is usually associated with the conduct of the informant or complainant, as to what was his manner after the particular incident, the basic principle is enshrined in Article 21 of the Qanun-e-Shahadat Order 1984.

Consequently, the victim cannot be made to suffer on account of the delay occasioned by the conduct, omission or negligence of the police officials.

The informant, in the present case, acted with due promptitude in reporting the occurrence, as is borne out from the contemporaneous entry made in the Roznamcha. It is well settled that while examining the effect of delay, the Courts are required to consider whether such delay is attributable to the informant in reporting the crime, and not the delay occasioned by the failure of the police to discharge their statutory obligation of promptly registering the F.I.R.

To hold otherwise would frustrate the very object and spirit of the relevant provision of law, as it would permit the entire prosecution to fail on account of the omission, inefficiency or neglect of a police officer, over which the complainant or the victim has no control.

The explanation advanced by the police officials in their earlier reports submitted before this Court that the complainant party remained engaged in funeral processions cannot be accepted as a lawful or plausible justification. Once information relating to the commission of a cognizable offence is conveyed to the police through any source whatsoever, it is their bounden statutory duty to take immediate steps to ascertain the facts and to ensure the prompt registration of the F.I.R. The police are not legally justified in waiting for the heirs of the deceased to approach them after the completion of funeral rites, nor can such conduct be countenanced in law.

The registration of a case under section 154 of the Cr.P.C cannot be refused nor delayed when the information relating to the commission of a cognizable offence has been given to or received by the Officer Incharge of a Police Station as held by this Court in numerus of judgments. The registration of the case is the primary step to put the criminal proceedings in motion and to enable the Officer in Charge of a Police Station to initiate the course of investigation strictly in accordance with the mandate set out in the Cr.P.C. The police official cannot assume the role of an adjudicator or assume the role of a Magistrate or a court to embark upon an inquiry in order to ascertain the credibility of the information before it is entered in the prescribed book kept under section 154 of the Cr.P.C.

This Court has observed that investigation or inquiry in the nature of finding the correctness or otherwise of the information prior to registration of the FIR will be hit by the provisions of section 162 of the Cr.P.C. It is well established that the First Information Report (FIR) is a way to inform the police about a serious crime, known as a cognizable offense. The purpose of FIR is to report the incident and provide details so that the police can start investigation. While FIR is one way to set the investigation process in motion, nevertheless, the police don't always need one to start investigating. If they have credible information or knowledge about a crime from any informer, they can begin investigating on their own. In fact, the police have a duty to takeaction and not wait for complainant to appear for FIR if they have reason to believe that a cognizable offense has been committed. They should take initiative to investigate and gather evidence without any delay.

A person who furnishes information under section 154, Cr.P.C. is, in the eye of law, merely an informant. He is neither a complainant nor a petitioner invoking mercy or indulgence. In prosecutions initiated on the basis of an F.I.R., the State is the complainant, acting through its investigative and prosecutorial machinery. A private citizen or a victim reporting the commission of a cognizable offence does not assume the status of a complainant, nor does the law require him to do so. Any practice that treats such a citizen as a supplicant is inconsistent with the constitutional guarantees of access to justice and fair treatment guaranteed under Article 10-A of the Constitution.

The description of such a citizen as a ‘Faryaadi’ is legally misconceived and constitutionally impermissible, as it demeans the citizen by portraying him as a seeker of favour rather than as a rightsbearing individual invoking the protection of law. Such terminology strikes at the very dignity of the citizen, which stands inviolable under Article 14 of the Constitution, and undermines the concept of equal protection of law envisaged by the constitutional framework. Police officers are public servants entrusted with constitutional and statutory duties. They are bound to protect life, liberty and security of person, values which lie at the core of Article 9 of the Constitution. They are required to serve the public and are remunerated from public funds. Citizens, therefore, approach the police as of right, and not as a matter of charity, grace or indulgence. Any institutional practice that reverses this relationship erodes public confidence in the rule of law and weakens constitutional governance. The continued use of the term ‘Faryaadi’ depicts an obsolete and unconstitutional mindset wherein public authorities are perceived as rulers rather than servants of the people a notion expressly repudiated by the constitutional order established under the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973. Expressions such as ‘Faryaad’ and formulaic addressals like ‘Bakhidmat Janaab SHO’ are remnants of a colonial and pre-constitutional paradigm. Despite the constitutional transformation brought about by the Constitution of 1973, vestiges of this mindset regrettably persist through institutional habit.

Likewise, in applications addressed to the Station House Officer, the use of the expression ‘Bakhidmat Janaab SHO’ is discouraged, having no legal sanction, and a simple addressal as ‘Janaab SHO’ shall suffice.

It is imperative to bear in mind that the terminology employed by courts and public institutions shapes procedural understanding, institutional behaviour and the lived experience of constitutional rights. In a legal system governed by statute and the Constitution, courts and executive authorities are duty-bound to employ language that reflects legislative intent, constitutional values and procedural clarity. Failure to do so perpetuates confusion, entrenches unconstitutional hierarchies, and undermines the disciplined and rights-based application of criminal law

This Court has in various cases directed the Inspector Generals of the Police of all provinces for prompt registration of F.I.R, but observe that this practice of late registration is still persisting. A prime example is Khizar Hayat case10 where the statutory duty of the police officials to register F.I.R promptly was emphasized. In Haider Ali case, this Court directed Inspector Generals of Police of all provinces to submit reports regarding the accountability of the police officers, as inefficiency, maladministration and abuse of powers by the Police in regards to registration of F.I.R was observed by this Court. Recently, in Seeta Ram case, this court called Inspector General of Sindh to explain the reasons for this persistent practice as, to our observations, this is more prevalent in the province of Sindh as compared to other provinces.

Before departing with this judgment, this court directs that the Inspector General of Police all provinces must ensure that there shall be prompt registration of F.I.R, once the informant informs the Officer Incharge of the Police Station, then the same is duty bound to register the F.I.R, without causing any delay. Criminal Justice system has evolved and we have observed that in investigation of criminal matters, the time is of essence, and delay can result in either the loss or deuteriation of evidence, to be very specific, forensic evidence, ultimately prejudicing the merits of the case. It is pertinent to refer to the report of U.S. Department of Justice, the relevant part reads as under:

“The time elapsed from crime commission and its report to police, and the delay in police response to the scene, have long been considered factors not only in apprehending criminals but also in the preservation of scene evidence. With the passage of time, the likelihood increases that the evidence may be contaminated or destroyed by the victim, witnesses and passersby.”

Therefore, the law recognizes investigations after the registration of F.I.R, and a delay in registration means that a delayed start to the investigation of offence which might cause lost or disappearance of evidence caused by the Officer Incharge of Police Station, who was furnished information, but the F.I.R was registered after considerable delay.

In cases where the Officer Incharge of Police Station delays the registration of F.I.R, it shall be presumed that such delay is caused to benefit the accused persons, unless the police official establishes to the contrary and the burden of proof shall lie upon him. It bears emphasis that section 201 PPC does not create any exception in favour of public functionaries, including police officials. The provision employs the expression ‘whoever’, which is of widest amplitude, and by settled principles of statutory interpretation, encompasses every person, irrespective of rank, office, or official capacity. A police officer, therefore, stands on no higher pedestal than a private citizen when the question concerns the concealment or disappearance of evidence of an offence. This principle flows directly from the law declared by the Supreme Court in Malik case, wherein it was unequivocally held that no authority or functionary is above the law, and that any immunity not expressly granted by statute is alien to constitutional governance.

Apart from above, where a police official, having knowledge of the commission of a cognizable offence through any source whatsoever, deliberately fails to set the law in motion, or despite receiving information, declines or delays the registration of an F.I.R., or omits to initiate the legally mandated proceedings, such omission cannot be viewed as a mere procedural lapse. Rather, where the consequence of such omission is the loss, destruction, or disappearance of evidence, the conduct squarely attracts the provision of section 201 PPC.

This Court has repeatedly emphasised that delay in registration of F.I.R. strikes at the root of a fair investigation, as held in Muhammad Bashir case and Lal Khan case, wherein unexplained delay was recognised as a factor enabling manipulation and loss of evidence. The argument that a police officer may only be proceeded against departmentally, and not criminally, is legally untenable. Departmental liability and criminal liability operate in distinct and independent fields; the former addresses misconduct in service discipline, while the latter concerns an offence against the law and society at large. This distinction stands affirmed by this Court in Abdul Khaliq case, wherein it was held that criminal prosecution of a civil servant is not barred merely because departmental proceedings are also maintainable. Indeed, a police officer is under a higher legal and moral obligation than an ordinary citizen. While a private individual may or may not be fully cognizant of legal consequences of inaction, a police officer is specifically entrusted with the statutory duty to prevent crime, preserve evidence, and prosecute offenders. Failure to act, when coupled with knowledge of an offence, raises a presumption of intent, particularly where such failure benefits the accused or prejudices the complainant. This Court has consistently held that custodians of law are answerable with greater, not lesser, rigour, as deviation from duty by such persons erodes public confidence in justice. Therefore, why should a police officer who delays or refuses registration of an F.I.R.,thereby enabling the disappearance of evidence, not be arraigned under section 201 PPC in the same manner as a common citizen? To hold otherwise would amount to conferring unwarranted immunity, a concept repeatedly rejected by this Court, and would be destructive of the rule of law. Such selective insulation would offend the constitutional principle of equality before law, and negate the foundational doctrine that no one is above the law, a principle firmly embedded in constitutional jurisprudence. The criminal law does not recognize a privileged class immune from prosecution merely by virtue of office. 29. Accordingly, this neglect and breach of the mandatory provision of law, shall now result in initiation of criminal proceedings against the police officer. Where deliberate delay or inaction on the part of the Officer Incharge of a Police Station results in the concealment, loss or destruction of evidence, criminal liability under section 201 PPC is validly attracted. In such cases, the presumption shall operate against the delinquent officer, and the burden shall lie upon him to explain the delay and rebut the inference of intentional concealment. Hence, the District and Sessions Judges, as well as Magistrates taking cognizance under section 190 Cr.P.C would be competent to call upon such officers, either due to their own observation or on application of the informant or the victim himself/herself, and consequently charge them under section 201 of the PPC as well as any other applicable law, if they are satisfied that such delay was caused by the police officer, however, this shall be after serving show cause notice to the said police officer. Additionally, the above said Judicial officers shall be competent to initiate criminal proceedings apart from 201 PPC, under the relevant provincial laws for the discipline of police.

Since the practice of delayed registration is considerably more prevalent in Sindh as evident from the above referred cases, the Prosecutor General, Sindh, is directed to submit a report to the Officer Incharge, Branch Registry of this Court at Karachi, for our perusal in chambers, within one month regarding the average delay in registration of F.I.Rs in regard to heinous offences in the last two years in the province of Sindh.

The office is also directed to send a copy of this judgment to the Inspector Generals of Police and the Prosecutor Generals of all provinces as well as ICT. The Inspector Generals of Police of all provinces and the ICT shall ensure the mechanism of ‘internal policing’ to curb the excess/misuse of powers by the police officers. They are directed to take practical steps in order to ensure that there is no refusal or delay in registration of F.I.R under section 154 of the Cr.P.C, if the information relates to the commission of a cognizable offence, even if such information is initially entered in Roznamcha/daily diary, it shall be treated as part of FIR and incorporated accordingly. We also expect that the Prosecutor Generals of the respective Provinces as well as ICT advise the police authorities and frame standard operating procedures in accordance with the mandate of the Cr.P.C. They are further directed to make the relevant Police Rules in Line with the spirit of the Cr.P.C., specifically in regards to the Form of F.I.R., in consultation with all relevant departments.

In regard to this particular case, the Inspector General of Police, Sindh is directed to initiate departmental proceedings against the police officers who caused delay in registration of F.I.R. in instant case.

The office is directed to circulate this judgment to all the High Courts of Pakistan as well as District Courts for guidance and compliance.

The District and Sessions Judges of all districts in the province of Sindh shall ensure that in lower courts the ‘complainant’ or ‘informant’ as the case may be, is not referred to by the term ‘Faryaadi’ while calling the case

Crl.P.L.A.1021/2021
Muhammad Bux alias Shahzaib v. The State through Prosecutor General Sindh
Mr. Justice Salahuddin Panhwar
Announced in Open Court 30th January, 2026.

Address

4a Mazong Road Lahore
Lahore
54000

Telephone

+923084154451

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when lawyer for you posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to lawyer for you:

Share