Adv Mujahid Mahmood

Adv Mujahid Mahmood To provide legal services in criminal matters,civil matters,family matters,tax matters, registration

17/03/2026
اگر زندگی کا اختتام موت پر ہی ہے تو اسکا بہترین انتخاب شہادت ہے۔ 😥
01/03/2026

اگر زندگی کا اختتام موت پر ہی ہے تو اسکا بہترین انتخاب شہادت ہے۔ 😥

Nice moments
17/02/2026

Nice moments

15/01/2026

پندرہ سبق جو آپ کو اکیس سال کی عمر تک سیکھ لینے چاہئیں۔
21 سال کی عمر لڑکپن اور جوانی کا سنگم ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ کو خیالی دنیا سے نکل کر حقیقت کی سخت زمین پر قدم رکھنا ہوتا ہے۔ اگر آپ یہ 15 بے رحم اسباق ابھی سیکھ لیں، تو آپ کی باقی زندگی پچھتاووں سے بچ جائے گی۔
1. کوئی آپ کا مقروض نہیں (No One Owes You Anything)
دنیا کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کتنے شریف، ذہین یا ٹیلنٹڈ ہیں۔ دنیا آپ کو آپ کی "ضرورت" (Utility) کے مطابق ٹریٹ کرے گی۔ اگر آپ ویلیو فراہم نہیں کر رہے، تو آپ نظر انداز کر دیے جائیں گے۔
2. 99 فیصد دوست عارضی ہیں
اسکول اور کالج کے جن دوستوں کے بغیر آپ کو زندگی ادھوری لگتی ہے، 25 سال کی عمر تک ان میں سے اکثر کا نام بھی آپ کو یاد نہیں رہے گا۔ لوگ راستوں کی طرح بدلتے ہیں، اسے قبول کرنا سیکھیں۔
3. خالی جیب، ادھوری عزت
یہ کڑوا سچ ہے کہ بنا پیسے کے اخلاق کی کوئی خاص قدر نہیں ہوتی۔ لوگ غریب کی عاجزی کو "مجبوری" اور امیر کی عاجزی کو "کردار" سمجھتے ہیں۔ اس لیے 21 سال کی عمر میں عشق لڑانے سے بہتر ہے کہ کیریئر بنائیں۔
4. والدین ہمیشہ نہیں رہیں گے
آپ اپنی جوانی کی مستی میں مصروف ہیں اور اُدھر آپ کے والدین تیزی سے بوڑھے ہو رہے ہیں۔ ایک دن آپ پلٹ کر دیکھیں گے تو وہ نہیں ہوں گے۔ ان کے ساتھ وقت گزاریں، اس سے پہلے کہ صرف تصویریں رہ جائیں۔
5. ڈگری کاغذ کا ٹکڑا ہے، ہنر سونا ہے
صرف ڈگری آپ کو کھانا نہیں دے گی۔ اکیسویں صدی میں "اسکل سیٹ" (Skill Set) چلتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ڈگری ہے مگر کام نہیں آتا، تو آپ بے روزگار رہیں گے۔ کوئی ایک ہنر (Sales, Coding, Writing) ایسا سیکھیں جس میں آپ کا کوئی ثانی نہ ہو۔
6. کوئی مسیحا نہیں آئے گا
اپنی مشکلات کے حل کے لیے حکومت، دوستوں یا معجزوں کا انتظار کرنا چھوڑ دیں۔ آپ اپنی زندگی کے خود ہیرو ہیں اور خود ہی ریسکیو ٹیم۔ خود کو خود بچائیں۔
7. صحت ہی اصل دولت ہے
21 سال کی عمر میں جسم لوہے کا لگتا ہے، آپ جو مرضی کھائیں، ہضم ہو جاتا ہے۔ لیکن یہی وہ وقت ہے جب بیماریاں جڑ پکڑتی ہیں۔ اگر آپ نے ابھی اپنی صحت تباہ کر لی، تو 30 کے بعد آپ صرف ہسپتالوں کے چکر لگائیں گے۔
8. ناکامی، اختتام نہیں ہے
آپ فیل ہوں گے، گریں گے، لوگ ہنسیں گے اور یہ سب نارمل ہے۔ ناکامی کامیابی کا مخالف نہیں، بلکہ اس کا حصہ ہے۔ جو 21 سال کی عمر میں رسک نہیں لیتا، وہ ساری زندگی افسوس کرتا ہے۔
9. لوگ کیا کہیں گے؟
یہ جملہ انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یاد رکھیں، لوگ آپ کی ناکامی پر ہنسیں گے اور کامیابی پر جلیں گے۔ ان کا کام صرف باتیں بنانا ہے، وہ آپ کے گھر کا بل ادا نہیں کرتے، اس لیے ان کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں۔
10. "ناں" کہنے کی طاقت
ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش کرنا خود کو برباد کرنے کا سب سے تیز طریقہ ہے۔ اپنی حدود (Boundaries) مقرر کریں اور فالتو کاموں اور لوگوں کو سختی سے "ناں" کہنا سیکھیں۔
11. جذبات پر قابو (Emotional Intelligence)
غصے، حسد اور جذباتی فیصلوں نے بڑی بڑی سلطنتیں تباہ کر دی ہیں۔ اگر آپ اپنے جذبات کنٹرول نہیں کر سکتے، تو کوئی اور آپ کو کنٹرول کرے گا۔
12. صبر ایک دھوکہ ہے (جلدی شروع کریں)
"ابھی تو بہت وقت ہے" یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ 21 سے 30 کا وقت پلک جھپکتے گزر جائے گا۔ اپنے اہداف پر آج ہی کام شروع کریں، کل کبھی نہیں آتا۔محرک ایپ کا وزٹ کریں اور زندگی کے اہداف کا تعین کریں۔
13. تنہائی طاقت ہے
اگر آپ اکیلے بیٹھ کر خوش نہیں رہ سکتے، تو آپ برے لوگوں کی صحبت میں پڑ جائیں گے۔ تنہائی کو انجوائے کرنا سیکھیں، یہی وہ وقت ہے جب آپ خود کو پہچانتے ہیں۔
14. عشق فلموں جیسا نہیں ہوتا
حقیقی زندگی میں محبت کے لیے سمجھوتہ، قربانی اور مالی استحکام (Financial Stability) چاہیے۔ صرف جذبات سے پیٹ نہیں بھرتا۔ جیون ساتھی وہ چنیں جو آپ کے مقاصد میں آپ کا ساتھ دے، نہ کہ صرف آپ کے جذبات کا۔
15. زندگی غیر منصفانہ ہے (Life is Unfair)
کبھی کبھی برے لوگوں کے ساتھ اچھا اور اچھے لوگوں کے ساتھ برا ہوگا۔ انصاف کی امید میں رونا دھونا چھوڑیں اور جو کارڈز قدرت نے آپ کو دیے ہیں، ان کے ساتھ بہترین کھیل کھیلنا سیکھیں۔
محرک کا مشورہ
اکیس سال کی عمر ایک "خالی چیک" کی طرح ہے، آپ اس پر جو رقم چاہیں لکھ سکتے ہیں،

18/12/2025

*🤷‍♂️برکت کیا ہوتی ہے؟؟؟؟*
*💸برکت پیسوں کی کثرت میں نہیں ہوتی،*
*🚑برکت یہ ہے کہ مہینہ، دو یا تین گزر جائیں اور تمہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ اللّٰه نے تمہاری صحت میں برکت دی ہو۔*
*👕برکت یہ ہے کہ موسم، دو یا تین بدل جائیں اور تمہیں نیا لباس لینے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ تمہارا جسم ویسا ہی رہے اور اللّٰه نے تمہارے لباس اور جسمانی حالت میں برکت رکھی ہو، کہ نہ لباس پھٹے اور نہ خراب ہو۔*
*🥘برکت یہ ہے کہ تم تھوڑا کھانا کھاؤ اور سیر ہو جاؤ۔*
*🌝برکت یہ ہے کہ تم کم سو کر بھی تروتازہ اٹھو۔*
*🫠برکت یہ ہے کہ تم کوئی نئی بات سیکھو اور فوراً سمجھ جاؤ، بغیر کسی کی مدد کے۔*
*🌃برکت یہ ہے کہ تم ایسی جگہ جاؤ جہاں رش ہو اور تاخیر کا اندیشہ ہو، لیکن اللّٰه تمہارے معاملات آسان کر دے، بغیر تمہاری کوشش کے۔*
*🤗برکت یہ ہے کہ تم جہاں بھی جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں، بغیر کسی اضافی محنت کے۔*
*🤲برکت بے شمار چیزوں میں ہوتی ہے*
*🚴‍♂️جنہیں گنا نہیں جا سکتا، مگر ہم خود ہی اپنی سوچ کو محدود کر لیتے ہیں۔*
*📦یا اللّٰه! جو تُو نے ہمیں عطا کیا ہے، اس میں برکت عطا فرما۔*
*🤲آمین ثم آمین🤲*

05/12/2025

ایک تحقیق کے مطابق
آپ اپنے دوستوں کا اوسط ہوتے ہیں
یعنی
اگر آپ
چار ایسے بندوں میں اُٹھتے بیٹھتے ہیں جو ذہین ہیں تو پانچویں آپ ہونگے،___
اگر آپ
چار ایسے بندوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں جو کاروباری ہیں تو پانچویں آپ ہونگے______
اگر آپ
چار ایسے بندوں میں اٹھتے بیٹھتے ہو جو خوش مزاج ہیں تو پانچویں آپ ہونگے____
اگر آپ
چار ایسے بندوں میں اٹھتے بیٹھتے ہو جو نشہ کرتے ہیں تو پانچویں آپ ہونگے____
اگر آپ
چار ایسے بندوں میں اٹھتے بیٹھتے ہو جو لڑائی جھگڑا پسند کرتے ہیں تو پانچویں آپ ہونگے___
اگر آپ
چار ایسے بندوں میں اٹھتے بیٹھتے ہو جو کام چور ہیں تو پانچویں آپ ہونگے_____

آپ رشتہ دار تبدیل نہیں کر سکتے لیکن آپ دوست تبدیل کر سکتے ہیں____
تو جو آپ چاہتے ہیں جیسا بننا چاہتے ہیں جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں ویسے لوگوں کو دوست بنا لیں_____!😊❤

ایک تصویر پورے جرمنی میں تیزی سے پھیل گئی۔ مشہور جرمن میگزین ”ڈیر شپِگل“ نے اس تصویر کی تحقیق کی اور تصویر میں موجود بھا...
03/12/2025

ایک تصویر پورے جرمنی میں تیزی سے پھیل گئی۔ مشہور جرمن میگزین ”ڈیر شپِگل“ نے اس تصویر کی تحقیق کی اور تصویر میں موجود بھارتی نوجوان کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ تلاش بالآخر میونخ میں جا کر ختم ہوئی، جہاں پتہ چلا کہ وہ نوجوان غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے۔

صحافی نے اس سے پوچھا:
“کیا آپ جانتے تھے کہ آپ کے پاس بیٹھی سنہری بالوں والی لڑکی ‘میسی ولیمز’ تھی—جو مشہور سیریز Game of Thrones کی ہیروئن ہے؟ دنیا بھر میں اس کے لاکھوں مداح ہیں جو صرف اس کے ساتھ ایک سیلفی لینے کے خواب دیکھتے ہیں، مگر آپ نے ذرا سا بھی ردِّعمل ظاہر نہیں کیا۔ کیوں؟”

نوجوان نے سکون سے جواب دیا:
“جب آپ کے پاس رہائشی اجازت نامہ نہ ہو، جیب میں ایک یورو بھی نہ ہو، اور آپ روزانہ ٹرین میں ‘غیر قانونی’ طور پر سفر کریں، تو آپ کو اس بات کی پروا نہیں رہتی کہ آپ کے ساتھ کون بیٹھا ہے۔”

اس کی سچائی اور حالت سے متاثر ہو کر میگزین نے اسے ایک ڈاکیے کی نوکری دے دی، جس کی ماہانہ تنخواہ 800 یورو تھی۔ اس ملازمت کے معاہدے کی وجہ سے اسے فوراً باقاعدہ رہائشی اجازت نامہ بھی مل گیا—بغیر کسی مشکل کے۔

یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ رزق کب اور کہاں سے آئے، کوئی نہیں جانتا۔ اہم بات یہ ہے کہ مصیبتوں کو خود پر غالب نہ آنے دیں۔ مایوس نہ ہوں—آپ کا موقع کبھی نہ کبھی ضرور آئے گا۔ اپنے خالق پر بھروسہ رکھیں۔

A photograph began circulating widely across Germany. The renowned magazine Der Spiegel decided to investigate the image and track down the young Indian man featured in it. Their search led them to Munich, where they discovered that he was living without legal residency papers.

A journalist approached him and asked,
“Sir, were you aware that the blonde woman sitting beside you was Maisie Williams—the famous star of Game of Thrones, adored by millions who would do anything for a selfie with her? Yet you didn’t show the slightest sign of recognition or interest?”

The young man replied calmly,
“When you’re used to boarding trains ‘illegally’ because you have no residence permit and not even a single euro in your pocket, you stop paying attention to who sits next to you.”

Moved by his honesty and circumstances, Der Spiegel offered him a job as a postman with a monthly salary of €800. With the employment contract, he was finally able to obtain a legal residence permit—no complications, no obstacles.

This story is a reminder that we never know when or how our fortune will change. What matters is that we do not allow hardship to defeat us. Stay patient—your opportunity will arrive, sooner or later. Trust in the Creator.

19/11/2025

At thal jeep rally

19/11/2025

باپ نے اپنی بیٹی سے کہا:
“بیٹی، تم نے اعزاز کے ساتھ گریجویشن مکمل کی ہے۔ یہ گاڑی کئی سال پہلے میں نے خریدی تھی۔ اب کچھ پرانی ہو چکی ہے، مگر اسے تمہیں دینے سے پہلے چاہتا ہوں کہ تم خود اس کی قدر جانچو۔ اسے ایک استعمال شدہ کار ڈیلر کے پاس لے جاؤ اور پوچھو وہ اس کی کیا قیمت لگاتے ہیں۔”

بیٹی وہاں گئی اور واپس آ کر بولی:
“انہوں نے صرف 1,000 ڈالر کی پیشکش کی ہے، کہتے ہیں گاڑی بہت پرانی ہے۔”

باپ نے کہا: “اب اسے کباڑئیے کے پاس لے جاؤ۔”
بیٹی گئی، واپس آئی اور کہا:
“کباڑئیے نے تو صرف 100 ڈالر کی قیمت لگائی ہے۔”

باپ نے مسکرا کر کہا:
“اب اسے کسی بڑے کار کلب میں دکھاؤ۔”

بیٹی نے ایسا کیا، واپس آئی تو حیرت زدہ تھی:
“بابا! کار کلب کے لوگ تو اس کے 100,000 ڈالر دینے کو تیار ہیں۔ کہتے ہیں یہ Nissan Skyline R34 ہے، بے حد نایاب اور شوقین لوگوں کی پسندیدہ کار!”

باپ نے محبت سے کہا:
“بیٹی! یاد رکھو… صحیح جگہ ہی آپ کی اصل قدر پہچانتی ہے۔
اگر کہیں لوگ تمہاری قدر نہیں کرتے تو افسردہ نہ ہونا، اس کا مطلب ہے کہ وہ جگہ تمہارے لائق نہیں۔
جو لوگ تمہاری قدر جانتے ہیں، وہی تمہیں اصل قیمت دیتے ہیں۔
اس لیے کبھی بھی وہاں نہ ٹھہرو جہاں تمہاری عزت اور اہمیت نہ ہو…
ہمیشہ وہیں رہو، جہاں تمہاری قدر کی جاتی ہو۔

Well said
03/11/2025

Well said

Enjoy the life it's not a rehearsal
01/08/2025

Enjoy the life it's not a rehearsal

01/08/2025

ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﭼﺎﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻭﮦ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﯾﮧ ﺳﺒﻖ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺷﭙﺎﺗﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺁﺅ۔ ﺑﺎﺭﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ۔ ﭘﮩﻼ ﺑﯿﭩﺎ ﺳﺮﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ، ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺧﺰﺍﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﺳﺐ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﻔﺮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﯽ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ﭘﮩﻼ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﻮ ﺟﺎﮌﮮ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ، اس ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﺻﻮﺭﺕ، ﺟُﮭﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭﭨﯿﮍﮬﺎ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﺮﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﺮﮮ ﮨﺮﮮ ﭘﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ۔ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣﮩﮏ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﻣﻨﻈﺮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺐ ﺑﮍﮮ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﺎﺷﭙﺎﺗﯽ ﮐﺎ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻮ ﭘﮭﻞ ﺳﮯ ﻟﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﭘﮭﻞ ﮐﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭﻧﻈﺮ ﺁﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳُﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍُﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ :’’ ﺗﻢ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ۔ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﯿﮟ ‘‘ ۔ ﺑﯿﭩﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ : ’’ ﺗﻢ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﯾﺎ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺳﻢ ﯾﺎ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺘﻤﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﺩ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﭽﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻭﻗﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺲ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺟﺎﮌﮮ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺭﻭﻧﻖ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﮭﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﻏﺼﮯ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑُﺮﺍ ﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﭻ ﻧﮧ ﻟﻮ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍُﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﯾﺎ ﭘﺮﮐﮭﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻮﺳﻢ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﺮﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺍﺧﺬ ﮐﺮ ﻟﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﯽ ﮨﺮﯾﺎﻟﯽ، ﺑﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﺍﻧﺪﻭﺯ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ .. ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩُﮐﮫ، ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺍﺅ ﭘﺮ ﻣﺖ ﻟﮕﺎﺅ، ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑُﺮﮮ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﻮ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺑﻨﺎ ﮐﺮﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﺖ ﭘﺮﮐﮭﻮ۔

Address

KK & K Building 2 Mazang Road, High Court Lahore
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Mujahid Mahmood posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category