Ahmed Law Associates

Ahmed Law Associates Our goal is to make taxation and legal formalities easy. DG cement. Best way cement, crush, sand lawrancepur, sand ghundasing

📊 Tax & Corporate Consultancy Services | 📍 Pakistan | 📞 0303-8845835

We are your trusted partners in Income Tax, Sales Tax (FBR & PRA), SECP registrations, and full financial compliance.

Judgment of the day
20/02/2026

Judgment of the day

FBR – RTO Islamabad*****PRESS RELEASE*****🔵 Tax Ombudsman Services Tanzania Delegation Visits RTO Islamabad for Experien...
20/02/2026

FBR – RTO Islamabad
*****
PRESS RELEASE
*****
🔵 Tax Ombudsman Services Tanzania Delegation Visits RTO Islamabad for Experience Sharing 🔵
*****
Date: 19 February 2026
*****
Islamabad: A delegation from the Tax Ombudsman Services Tanzania, established under the Tax Administration Act, visited the Regional Tax Office Islamabad for an in-depth briefing on its organizational structure, operational framework, and various institutional mechanisms.

The visiting delegation was provided with a comprehensive overview of RTO Islamabad’s functional structure, enforcement framework, taxpayer facilitation measures, and internal accountability systems. Detailed discussions were held on procedures for processing taxpayer complaints, conducting administrative reviews, and routing cases through various appellate and review forums.

During the meeting, both sides exchanged views on common challenges faced by revenue authorities, particularly in ensuring transparency, fairness, and the timely resolution of disputes.

The RTO Islamabad’s team was led by Chief Commissioner RTO Islamabad Ms. Aisha Farooq and included Ms. Asma Hoori; Commissioner North Ms. Maria Sharif; Commissioner South Ms. Rabia Yasir; Commissioner Withholding Mr. Naveed Tareen; and ADC Headquarters Mr. Muhammad Shakil Anwer.

The Tanzania delegation was headed by Tax Ombudsman Mr. Erastus Viecent Mtui and comprised 20 of additional members.

Both institutions acknowledged the importance of constructive dialogue, institutional learning, and international cooperation in strengthening tax administration and enhancing taxpayer confidence. The interaction concluded with a mutual commitment to continued collaboration and the exchange of best practices in the field of taxation.
#𝐅𝐁𝐑

20/02/2026

ایف بی آر نے ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ کر لیا

14 سے زائد کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کے لیے پوائنٹ آف سیلز یقینی بنانے کا حکم جاری

ہوٹلز ، ریستوران ، گیسٹ ہاوس ، میرج ہالز ، مارکیز ، ریس کلبز میں پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

جہاں ایئر کنڈیشنر کی سہولت نہیں ، انہیں پی او ایس سے چھوٹ ہوگی نوٹیفکیشن

شہر میں چلنے والی گاڑیوں کے لیے بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

کوریئر اور کارگو سروسز کو بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

بیوٹی پارلرز ، مساج سنٹرز اور پیڈی کیور سنٹرز کی آن لائن رجسٹریشن کا فیصلہ نوٹیفکیشن

ڈینٹسٹ ، فزیوتھراپسٹ ، پلاسٹک اور ہیئر سرجنز اور ویٹرنری ڈاکٹرز کو پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

میڈیکل لیب ، ایکسرے ، سی ٹی ، ایم آر آئی اسکین سنٹر پر پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا فیصلہ نوٹیفکیشن

500 روپے فیس لینے والے اسپتالوں کو چھوٹ ہوگی نوٹیفکیشن

ہیلتھ کلبز ، جمز ، سوئمنگ پولز ، ملٹی پرپز کلبس پر پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

لاہور جمخانہ ، اسلام آباد کلب ، کراچی جمخانہ ، رائل پام لاہور ، چناب کلب میں پوائنٹ آف سیلز لگانے کا فیصلہ ، نوٹیفکیشن

سول اور نان سول پولو کلب میں بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

چارٹڈ اکاؤنٹنٹس ، کاسٹ منیجمنٹ اکاؤنٹنٹس ، کے لیے بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم نوٹیفکیشن

ریٹیلرز ، مینوفیکچررز اور امپورٹرز کے لیے بھی آن لائن انٹیگریشن لازمی قرار نوٹیفکیشن

فارن ایکسچینج ڈیلرز اور کرنسی ایکسچینج کمپنیز کے لیے پوائنٹ آف سیلز لگانے کی شرط نوٹیفکیشن

پرائیویٹ اسکولز ، کالجز ، یونیورسٹیوں اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے لیے بھی پوائنٹ آف سیلز کی شرط نوٹیفکیشن

ایک ہزار روپے ماہانہ فیس لینے والے اداروں کو چھوٹ ہوگی نوٹیفکیشن

مجوزہ قانون کے لیے 7 روز میں سفارشات جمع کرائی جا سکتی ہیں

*Download the SRO from below link*
https://download1.fbr.gov.pk/SROs/2026218112270512SRO288dated18.02.2026.pdf

سیلز ٹیکس میں 100 فیصد ان پٹ ایڈجسٹمنٹ کا اہم فیصلہ — پیٹرول پمپس کیلئے بڑی قانونی رہنمائیسیلز ٹیکس کے اہم مقدمے میں اپی...
28/11/2025

سیلز ٹیکس میں 100 فیصد ان پٹ ایڈجسٹمنٹ کا اہم فیصلہ — پیٹرول پمپس کیلئے بڑی قانونی رہنمائی

سیلز ٹیکس کے اہم مقدمے میں اپیلیٹ ٹربیونل نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی پیٹرول پمپ اپنی رجسٹریشن میں ’’ریٹیلر‘‘ ظاہر ہو لیکن دستاویزی ثبوت سے یہ ثابت ہو جائے کہ وہ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کا باقاعدہ ڈسٹری بیوٹر ہے، تو اسے سیلز ٹیکس میں 100 فیصد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا مکمل حق حاصل ہوگا۔

یہ فیصلہ کیس M/s Zain Filling Station vs CIR, RTO Sargodha (Citation: 2025 SLD 2376) میں سنایا گیا، جس میں چار کراس اپیلیں شامل تھیں (STA No. 135/IB/2015، 136/IB/2015، 157/IB/2015، 158/IB/2015)۔

محکمۂ ٹیکس نے سیکشن 8B کے تحت 10 فیصد ان پٹ ٹیکس روک لیا تھا، یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ چونکہ رجسٹریشن اسٹیٹس ’’ریٹیلر‘‘ ہے، اس لئے 90 فیصد کی حد لاگو ہوگی۔

تاہم ٹیکس دہندہ نے PSO کی جانب سے جاری کردہ ڈسٹری بیوشن دستاویزات پیش کیں، جنہیں ٹربیونل نے معتبر قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ:
"ڈسٹری بیوٹر کا قانونی درجہ حقیقی کاروباری حیثیت سے طے ہوتا ہے، رجسٹریشن میں درج لیبل فیصلہ کن نہیں ہوتا۔"

ٹربیونل نے فیصلہ دیا کہ:

سیکشن 2(7) کے مطابق ڈسٹری بیوٹر ریٹیل سرگرمی بھی انجام دے سکتا ہے،

SRO 647(I)/2007 کے تحت ڈسٹری بیوٹرز پر 90 فیصد کی پابندی لاگو نہیں ہوتی،

لہٰذا 10 فیصد ان پٹ ٹیکس کی کٹوتی، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانہ غیرقانونی ہے۔

ٹربیونل نے ٹیکس دہندہ کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے محکمہ کی اپیلیں خارج کر دیں۔

یہ فیصلہ پیٹرول پمپ مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز کیلئے بڑا قانونی سنگِ میل ثابت ہوگا کیونکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سیلز ٹیکس میں اصل کاروباری حیثیت (substance) کو ظاہری اندراج (form) پر فوقیت حاصل ہے۔

*2025 SLD 2376 (Sales Tax Appellate Tribunal Order)*

27/11/2025

Juma Mubrik
Ahmed Law Associates

27/11/2025

Gift case

🌟 خلاصہ (Summary in Urdu) – کیس: Mst. Jan Rana vs. Commissioner of Income Tax

عدالت: پشاور ہائی کورٹ
تاریخ فیصلہ: 20 اپریل 2005

🔹 بنیادی نکات:

1️⃣ تحفہ (Gift) رجسٹریشن کے بغیر بھی درست ہے

بھائی نے بہن کو 10 لاکھ روپے تحفہ دیا تھا۔

اس کی تصدیق:

حلف نامہ

تحصیلدار کا خط

ڈونر (بھائی) کا بیان

چونکہ دونوں مسلمان ہیں، اس لیے غیر رجسٹرڈ گفٹ ڈید بھی اسلامی قانون کے مطابق جائز ہے۔

---

2️⃣ بینک کے ذریعے رقم منتقل کرنا ضروری نہیں

اس فیصلے کے مطابق گفٹ کی رقم بینک چینل سے آنا ضروری نہیں۔

کیونکہ:

قانون (Section 12(18)) کی وجہ سے مشکلات پیدا ہوئیں تھیں

CBR نے سرکلرز 1992 اور 1993 کے ذریعے نرمی دی

چونکہ تحفے کو مکمل طور پر تفتیش اور تصدیق کیا گیا تھا، اس لیے غیر بینکنگ ٹرانزیکشن بھی قابلِ قبول ہے۔

---

3️⃣ ٹیکس آفس کا اعتراض غلط تھا

خاتون نے وضاحت دی کہ:

10 لاکھ بھائی کا تحفہ

23 لاکھ کے فارن ایکسچینج بیئرر سرٹیفکیٹس بھی ان کے پاس تھے

یوں ان کے پاس کل 33 لاکھ روپے تھے جن سے:

پلاٹ خریدا

ری نیوول فیسز دیں

عمارت کی تعمیر کروائی

عدالت نے کہا کہ یہ پlausible (قابلِ قبول) وضاحت ہے، اسے بغیر وجہ کے رد نہیں کیا جاسکتا۔

---

💡 عدالت کا نتیجہ (Decision)

عدالت نے تینوں سوالات کا جواب حق میں (In Favour) دیا:

✔ گفٹ بغیر رجسٹریشن درست ہے
✔ رقم بینک کے بغیر بھی تحفہ کے طور پر منظور کی جاسکتی ہے
✔ سرمایہ کے ذرائع کی وضاحت قابلِ قبول تھی

Ahmed Law Associates

27/11/2025

🌟 خلاصہ / Gift from relatives

یہ فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کا ہے جس میں یہ طے کیا گیا کہ:

1️⃣ نقد (Cash) Gift قانونی طور پر قابلِ قبول ہے

عدالت نے کہا کہ اگر:

تحفہ دینے والا (Donor)

تحفہ لینے والا (Donee)
گفٹ کے بارے میں واضح بیان اور ثبوت فراہم کریں
تو کیش گفٹ بالکل درست اور قانونی طور پر قابلِ قبول ہوتا ہے۔

---

2️⃣ بینک ٹرانزیکشن ضروری نہیں

عدالت نے قرار دیا کہ:

✔ تحفہ بینک کے ذریعہ دینا ضروری نہیں
✔ اگر تحصیلدار یا کسی سرکاری ادارے نے آمدن کی تصدیق کردی ہو
✔ اور گواہی یا دستاویزات موجود ہوں

تو کیش گفٹ بغیر بینک کے بھی قابلِ قبول ہے

---

3️⃣ اسلامی قانون کے تحت رجسٹریشن لازمی نہیں

عدالت نے وضاحت کی کہ:

✔ مسلمان بھائی اور بہن کے درمیان گفٹ کے لیے
رجسٹریشن (Registry) ضروری نہیں
✔ صرف تین چیزیں کافی ہیں:

1. گفٹ کا اعلان

2. گفٹ کی قبولیت

3. قبضہ / تحفہ دینا

یہ تینوں ثابت ہو جائیں تو گفٹ مکمل اور جائز ہے۔

---

4️⃣ ٹیکس آفس کا اعتراض درست نہیں

عدالت نے یہ بھی کہا کہ:

✔ تحفہ دینے والے کی آمدن اور حیثیت ثابت ہو چکی تھی
✔ گفٹ کے تمام شواہد موجود تھے
✔ اس لیے ٹیکس حکام کا اعتراض بے بنیاد تھا

لہٰذا گفٹ کو انکم یا چھپی ہوئی آمدن تصور نہیں کیا جاسکتا۔

---

🔍 نتیجہ

عدالت نے واضح فیصلہ دیا کہ:

کیش گفٹ جائز ہے، بینک ضروری نہیں، رجسٹری لازمی نہیں، اور ٹیکس حکام گفٹ کو رد نہیں کرسکتے جب ثبوت موجود

Ahmed Law Associates
0303-8845835 .

27/11/2025

Whether a petrol pump retailer is entitled to full input tax adjustment or limited to 90% under section 8B(1) of the Sales Tax Act, 1990
In view of the foregoing, the order of the CIR (Appeals) is modified. Both appeals filed by the registered person are allowed, and the demand raised on account of alleged 10% excess input tax adjustment is hereby annulled, together with the consequential default surcharge and penalty. Consequently, the corresponding cross-appeals filed by the Department stand dismissed.
2025 SLD 2376

RegardsO
Ahmed Law Associates
03038845835

27/11/2025

🌟 خلاصہ / Petrol Pump Retailer

قانونی مسئلہ:
کیا پیٹرول پمپ (Petrol Pump Retailer) کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 8B(1) کے تحت مکمل ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ ملے گی یا صرف 90%؟

🔹 فیصلہ:

کمشنر اپیلز (CIR Appeals) کے حکم میں ترمیم کی گئی۔

رجسٹرڈ شخص (Petrol Pump Retailer) کی دونوں اپیلیں منظور ہو گئیں۔

10% اضافی ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ (Excess Input Tax) کا پورا مطالبہ ختم کر دیا گیا۔

متعلقہ ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانہ بھی کالعدم قرار دیا گیا۔

اس کے نتیجے میں محکمہ (FBR/Department) کی cross appeals بھی خارج کر دی گئیں۔

🔹 نتیجہ:

پیٹرول پمپ کو مکمل Input Tax Adjustment کا حق حاصل ہے۔
دفعہ 8B کی 90% والی حد (restriction) اس کیس میں لاگو نہیں ہوتی۔

Ahmed Law Associates
0303-8845835

23/11/2025

The liability depends on two main factors: your Residential Status and the Source of Income.
​1. Residential Status (Section 82 of Income Tax Ordinance, 2001)
​Tax liability in Pakistan is primarily determined by whether you are a "Resident" or "Non-Resident" for tax purposes.
​Resident: You are taxed on your worldwide income (both Pakistan and foreign income).
​Non-Resident: You are taxed only on Pakistan-source income.
​Since you stated you are a Non-Resident Director, you are legally exempt from paying tax in Pakistan on any income that is generated outside of Pakistan ("Foreign-Source Income").
​2. Source of Income (Section 101)
​The critical question is whether your salary is considered "Pakistan-Source" or "Foreign-Source."
​Foreign-Source: If the company is based in Dubai and you perform your directorship duties in Dubai (or anywhere outside Pakistan), the income is Foreign-Source. Non-residents do not pay tax on this.
​Pakistan-Source: If you are physically present in Pakistan while performing the duties for the Dubai company, the tax authorities could argue that the portion of the salary earned while working in Pakistan is "Pakistan-Source," even if paid by a foreign company.
​3. The Pakistan-UAE Double Taxation Treaty (DTA)
​Pakistan and the UAE have a treaty to prevent double taxation.
​Director's Fees (Standard Article 16): International tax treaties usually assign the taxing right for Director's Fees to the country where the company is resident (in this case, the UAE).
​Since the company is a UAE LLC, the UAE has the primary right to tax that income (which is currently 0% for individuals in the UAE). Pakistan generally yields this right, further protecting you from liability.

15/11/2025

ایف بی آر نے رواں مالی سال کے آڈٹ پلان کی منظوری دے دی۔ لاکھوں انکم ٹیکس گوشواروں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے، غیراعلانیہ، خفیہ آمدن رکھنے یا غلط گوشوارے جمع کرانے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے لاکھوں انکم ٹیکس گوشواروں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے، غیر اعلانیہ، خفیہ آمدن یا غلط گوشوارے جمع کرانے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق 30 نومبر تک ٹیکس گوشواروں کی تعداد 70 لاکھ سے تجاوز کرسکتی ہے، چیئرمین ایف بی آر 80 فیصد انکم ٹیکس گوشواروں کے آڈٹ کا اعلان کرچکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں 7 سے 10 لاکھ گوشوارے اسکین کیے جائیں گے، تنخواہ دار اور کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے گوشوارے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایف بی آر گوشواروں میں غلط بیانی اور چھپائی گئی آمدن کی نشاندہی کرے گا، بڑے سرمایہ دار، سی ای اوز اور افسران کے گوشوارے بھی زد میں آئیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گوشوارے غلط ثابت ہونے پر بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی ہوگی، گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد کم ٹیکس دینے والے پکڑ میں آئیں گے۔

رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے سال 2025ء کے آڈٹ پلان کی منظوری دے دی، ٹیکس گوشواروں کا تجزیہ اے آئی سمیت جدید ڈیٹا اینالیسز سسٹم سے کیا جائے گا۔

summary and headline-style breakdown of that article in simple form (useful for report, school, or social media):📰 Headl...
06/11/2025

summary and headline-style breakdown of that article in simple form (useful for report, school, or social media):

📰 Headline:

Lahore Fintech Tycoon with 30 Luxury Cars Flagged for Rs2.74 Billion Tax Evasion

🔹 Key Points:

Name: Faiz ul Hassan, CEO & founder of WordSense, a self-claimed fintech company in Lahore.

Assets:

30 luxury cars worth Rs2.741 billion

Cars include Lamborghini Aventador (Yellow & Black) and Rolls Royce Phantom (Silver)

Also owns gold and luxury watches

Tax Discrepancy:

Registered with FBR in 2019

Declared income rose from Rs523,493 (2019) → Rs181.14 million (2025)

Assets grew 1,000 times since registration

Company Questions:

WordSense claims to be a fintech and IT firm, but its website has fake or AI-generated projects

LinkedIn page lists it as a trucking consultancy, not fintech

Background:

Hassan claims to be Harvard/Stanford-certified, self-taught tech entrepreneur

Describes humble beginnings and success through tech ventures

FBR Action:

Case flagged by FBR Lifestyle Monitoring Cell for tax evasion

Other individuals (travel influencers) also under probe for income

゚viralfbreelsfypシ゚viral

Address

Asal Suleman Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahmed Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ahmed Law Associates:

Share