Legal Solutions Law Firm

Legal Solutions Law Firm پیشہ ور قانون دان سے ابھی کریں مفت مشاورت
0346-7200799
0322-4997382

Our legal team may deal your legal issues at proper forum in very short time
Even we deal in Civil, Criminal, Banking, Family & Services as well as Tax matters.

10/04/2026

شناختی کارڈ کو سول کورٹ کے حکم پر بلاک نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔
جسٹس تنویر احمد شیخ،لاہور ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن نمبری 8895/2025 بعنوان "محمد علی انصاری بنام فیڈریشن آف پاکستان وغیرہ" میں قرار دیا ہے کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو نادرا میں رجسٹر کروائے، نادرا کی جانب سے جاری کردہ شناختی کارڈ آدمی کی شناخت ہے، سیکشن 18 نادرا آرڈیننس 2000ء کے مطابق شناختی کارڈ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے۔ یہ کسی بھی دیگر شخص کو فروخت، منتقل یا قبضہ میں نہ دیا جاسکتا ہے۔ شناختی کارڈ وفات کے بعد منسوخ تصور ہوگا۔ یہ صرف شناخت کا ذریعہ ہے اور movable property نہ ہے اس لئے CNIC کو نادرا سول کورٹ کی کاروائی/حکم پر بلاک، منسوخ یاقرق نہیں کر سکتا۔۔۔

Murtaza Hassan Khan Advocate, High Court
0314-3114660

01/04/2026

PLJ 2026 Cr.C. 209

ایف آئی آر بذریعہ مختار درج کرائی جاسکتی ہے اور مختار کو دیگر فوجداری کارروائی کرنیکا بھی قانونی اختیار حاصل ہے
Registration of FIR or initiation of criminal proceedings through attorney are permissible under the law.

An attorney of a person can lodge an FIR with the police and can also initiate criminal proceedings before a Court for the interest of his Principal. If the proceedings before the court were initiated by the principal, and he becomes unavailable or incapacitated, the attorney can also continue it on his behalf with the permission of the Court. Court should also encourage such practice keeping in view the hardships involved in the case to reduce delays inthe criminal process which would restore the confidence of public on the courts of law for acquisition or regulation of their rights. There is no doubt that Court shall decide the matter on production of relevant evidence only that can also be recorded by using modern techniques like through online applications. Misuse of process by attorney, through registration of false FIR or filing of private complaint, can well be met through sound remedial measures including action pursuant to sections 181, 182, 211, 213 and 250 of the Pakistan Penal Code 1860. Thus, contention of learned counsel for the petitioners that FIR cannot be registered through attorney is nothing but farce.
Crl. Misc.53550/25
Mirza Yahya Baig Vs The State etc.

27/03/2026

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ۔
مائکرو فنانس بینک کو دئیے گئے چیک پرسیکشن 489-F PPC کے تحت FIR درج نہیں ہو سکتی۔
مائیکرو فنانس بینکوں کے جاری کردہ قرضوں پر 489-Fلاگو نہیں ہوتا ہے۔پرچہ خارج کرنے کا حکم۔
FIO سیکشن 7 کے تحت، بینکنگ کورٹ کو ایسے معاملات پر خصوصی دائرہ اختیار حاصل ہے۔ درخواست گزار کے خلاف کوئی بھی قانونی چارہ جوئی FIO کے تحت مقرر کردہ بینکنگ کورٹ کے سامنے شکایت کے
ذریعے شروع کی جاسکتی ہے۔
2026 CLD 303
Imran Abbas Malik
Advocate High Court
03024344487

02/02/2026

اجراء اور منسوخی ڈگری دونوں زیر سماعت تھے فریقین میں راضی نامہ ھو گیا۔ خاتون آباد ھو گئی اور کچھ عرصہ بعد پھر علیحدگی ھو گئی۔ ایسی صورت میں سابقہ ڈگری اور اجراء کی حیثیت پر خوبصورت ججمنٹ ھے
PLJ 2021 Lahore 599

Constitution of Pakistan, 1973--

----Art. 199--Muslim Family Law Ordinance, 1961, S. 9--Suit for recovery of maintenance allowance--Ex-parte declared--Execution petition--Petitioner filed application for setting aside ex-parte degree--Court compromise between parties--Execution petition as well as suit were withdrawn--Application for restoration of ex*****on petition--Dismissed--Fresh ex*****on petition--Dismissed--Appeal--Accepted--Challenge to--Neither judgment was set-aside nor modified as per statement--Valid lawful decree--Legal obligation of father--Record shows that on 29.1 1.2014, parties} got recorded their respective statements before Judge Family Court to effect that Respondent No. 2 started living with petition owing to compromise between parties and they were, not willing to pursue their cases--Resultantly ex*****on petition as well as application, seeking setting aside of ex parte decree was ordered to be dismissed as withdrawn--It is no where mentioned in said order or in statements that decree would not hold field--Neither it was set-aside, nor modified as per alleged settlement--Respondent No. 2 could not have been estopped to get ex*****on of a valid lawful decree as decree holder has right to get it executed within contemplation of provisions of law--Matter pertains to maintenance allowance of minor as well, therefore, petitioner cannot hide himself behind procedural technicalities--Petitioner, being a father, is under legal obligation to maintain his child--Question of payment of maintenance allowance must be addressed to its ultimate conclusion--Impugned order has rightly been passed after appreciating facts and circumstances of case--So far as plea that Respondent No. 3 is not entitled to get maintenance allowance

02/02/2026

🚨 بڑی خبر: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ - اب بلاوجہ گرفتاری نہیں ہوگی! 🚨
​سپریم کورٹ آف پاکستان نے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest Bail) کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور جدید قانونی اصول واضح کر دیا ہے۔
​فیصلہ کیا ہے؟ ⚖️
​عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ:
​"اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت خارج ہونے کی صورت میں وہ بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار بن جائے گا، تو ایسی صورت میں ملزم کو جیل بھیجنا محض ایک 'کاغذی کارروائی' (Procedural Formality) ہوگی جس کا کوئی تعمیری مقصد نہیں ہے۔"
​اس کا آسان مطلب کیا ہے؟ 🤔
​اکثر کیسز میں پولیس اور مخالف فریق صرف ملزم کو ذلیل کرنے کے لیے جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ اگر کیس ایسا ہے جس میں بعد میں ضمانت ملنی ہی ملنی ہے، تو ملزم کو صرف "رسم پوری کرنے" کے لیے جیل میں ڈالنا انسانی وقار اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
​اہم حوالہ (Reference):
​📖 PLJ 2026 Supreme Court (Criminal) 21
کیس: محمد اختر بنام سرکار (Muhammad Akhtar Vs State)
​اس فیصلے کے فوائد:
✅ بے گناہ شہریوں کی عزتِ نفس کا تحفظ ہوگا۔
✅ جیلوں میں بلاوجہ کا رش کم ہوگا۔
✅ انتقامی کارروائیوں کا راستہ رکے گا۔
​📌 قانون سے آگاہی ہی آپ کا سب سے بڑا دفاع ہے۔ اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ یہ معلومات ہر ضرورت مند تک پہنچ سکیں!

26/01/2026

PLJ 2025 Cr.C. 448
جعلی بیعنامہ کی تیاری۔
جرم 467 ت پ کا اطلاق ہوگا۔
اگر تفتیشی نے اگر کوئی قابل اطلاق دفعہ کا اطلاق نہیں بھی کیا ہو تو عدالت بوقت سماعت درخواست ضمانت خود بھی اسکا جائزہ لے سکتی ہے۔
It is not a rule of universal application that a crime of fraud/forgery can only be reported by a person, who is directly affected thereby. Such like nefarious activities, which are crimes not only against any individual, but against the public at large, can be brought into the knowledge of concerned authorities by any person of the public and authorities can inquire into and investigate the same when the same (naeem)come into their knowledge, even if these are not reported by any person.

Forgery of a sale deed (valuable security) shall attract the charge under section 467 PPC, which entails the penalty of imprisonment for life, or imprisonment of either description, which may extend to ten years. Above penal provision was not applied by Investigating Officer, but it was also prima-facie made out, as such I feel no hesitation in holding that said offence attracting (naeem)against the petitioner was falling within embargo contained under Section 497 of Cr.P.C.
Crl. Misc. No.8612-B/2025.
Riaz Ahmad Versus The State etc. .

*نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے علیحدہ دعویٰ کی عدم ضرورت دفعہ 151 ضابطہ دیوانی کے تحت فیملی کورٹ کے اختیارات کا تعین**(Leg...
23/01/2026

*نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے علیحدہ دعویٰ کی عدم ضرورت دفعہ 151 ضابطہ دیوانی کے تحت فیملی کورٹ کے اختیارات کا تعین*
*(Legal Framework for Enhancement of Maintenance without Fresh Suit under Section 151 CPC in Light of 2016 SCMR 1821 & PLD 2025 SC 850)*

2016 -SCMR -1821
فیملی کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ضابطۂ دیوانی (CPC) کی دفعہ 151 کے تحت درخواست پر نان و نفقہ (Maintenance Allowance) میں اضافہ کر دے، اور اس مقصد کے لیے علیحدہ یا مستقل دعویٰ (Independent Suit) دائر کرنا ضروری نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔

*Pld 2025 SC 850*
فیملی کورٹ کی جانب سے پہلے سے مقرر کردہ نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے نیا دعویٰ دائر کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس مقصد کے لیے صرف ضابطۂ دیوانی (CPC) کی دفعہ 151 کے تحت ایک درخواست دینا ہی کافی ہے۔
قانونی و تجزیاتی جائزہ

ان فیصلوں کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ

جب فیملی کورٹ ایک مرتبہ نان و نفقہ مقرر کر دے، تو بعد میں حالات میں تبدیلی کی صورت میں اس میں اضافہ کے لیے نیا مقدمہ (Fresh Suit) دائر کرنا ضروری نہیں۔
بلکہ صرف دفعہ 151 ضابطہ دیوانی (CPC) کے تحت ایک درخواست کافی ہے۔
1. قانونی پس منظر
فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کا مقصد:

فوری انصاف

سادہ طریقہ کار

غیر ضروری پیچیدگیوں سے اجتناب

ہے۔
نان و نفقہ بذاتِ خود ایک جاری حق (Continuing Right) ہے جو حالات کے مطابق بدل سکتا ہے، مثلاً:

مہنگائی میں اضافہ

شوہر کی آمدن میں بہتری

بچوں کی تعلیمی و طبی ضروریات

وقت کے ساتھ اخراجات میں اضافہ

اگر ہر مرتبہ اضافہ کے لیے نیا دعویٰ لازم قرار دیا جائے تو:

مقدمات میں غیر ضروری طوالت پیدا ہو گی

خواتین اور بچوں کو فوری ریلیف نہیں مل سکے گا

فیملی کورٹس ایکٹ کے مقاصد فوت ہو جائیں گے

اسی خلا کو سپریم کورٹ نے دفعہ 151 CPC کے ذریعے پُر کیا۔

2. 2016 SCMR 1821 کا اصول
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:

فیملی کورٹ کے پاس Inherent Powers موجود ہیں۔

دفعہ 151 CPC کے تحت عدالت وہ تمام احکامات دے سکتی ہے جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہوں۔

نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے علیحدہ دعویٰ دائر کرنا ضروری نہیں۔

عدالت نے یہ اصول قائم کیا کہ

Maintenance ایک جامد (static) حق نہیں بلکہ متحرک (dynamic) نوعیت رکھتا ہے، جو حالات کے ساتھ بدلتا ہے۔

3. PLD 2025 SC 850 کی توثیق اور ارتقاء
PLD 2025 SC 850 نے اس اصول کو مزید مضبوط اور حتمی بنا دیا:

"Suit for enhancement of maintenance already fixed by Family Court"

"No need to file any fresh suit."

"Only an application under section 151 CPC is sufficient."

یعنی سپریم کورٹ نے

نئے دعویٰ کی شرط کو مکمل طور پر ختم کر دیا

دفعہ 151 CPC کو براہِ راست قابلِ اطلاق قرار دیا

اس عمل کو فیملی کورٹ کی inherent jurisdiction کا حصہ بنا دیا

اب یہ محض سہولت نہیں بلکہ قانونی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔

4. عملی قانونی اثرات
ان فیصلوں کے بعد قانونی پوزیشن یہ بن چکی ہے کہ:

اگر نان و نفقہ پہلے سے مقرر ہو

اور حالات بدل جائیں

تو متاثرہ فریق (بیوی یا بچے):

صرف ایک درخواست
u/s 151 CPC
فیملی کورٹ میں دائر کرے گا/گی۔

عدالت

فریقین کو سنے گی

آمدن، مہنگائی اور ضروریات کا جائزہ لے گی

اور نان و نفقہ میں اضافہ کر سکتی ہے

بغیر کسی نئے مقدمہ کے۔

5. دفاعی و عدالتی حکمتِ عملی
عدالت کے سامنے درج ذیل نکات رکھے جا سکتے ہیں:

Maintenance ایک جاری حق ہے

نیا دعویٰ انصاف میں تاخیر کا سبب بنتا ہے

فیملی کورٹس ایکٹ کا مقصد فوری اور مؤثر انصاف ہے

سپریم کورٹ کے فیصلے (2016 SCMR 1821، PLD 2025 SC 850) براہ راست قابلِ اطلاق ہیں

دفعہ 151 CPC عدالت کو مکمل اختیار دیتی ہے

لہٰذا
درخواست برائے اضافہ نان و نفقہ قابلِ سماعت ہے،
اور اسے تکنیکی بنیادوں پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

20/12/2025

2025 LHC 7739
پنجاب غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کا آرڈیننس،
2025
ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی ، حقائق معلوم کرنے اور سہولت کاری کا ادارہ ہے، جسے بے دخلی، قبضہ چھڑانے یا قبضہ بحال کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

قبضہ سے متعلق کسی بھی قسم کے جابرانہ یا نفاذی اقدامات صرف آرڈیننس کی دفعات 16 اور 17 کے تحت مجاز ٹربیونل ہی کر سکتا ہے۔

دفعہ 9 کے تحت دیے گئے حفاظتی اختیارات محدود اور عارضی نوعیت کے ہیں، اور ان کا استعمال فریقین کو سننے کے بعد تحریری اور معقول وجوہات پر مبنی حکم کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

دفعہ 9 کے تحت اختیارات استعمال کرتے وقت DRC کسی مجاز عدالت کے جاری کردہ اسٹیٹس کو کے حکم کی سختی سے پابند ہوگی اور اس کے منافی کوئی حفاظتی حکم جاری نہیں کرے گی۔

DRC یا اس کے کسی رکن کی جانب سے زبانی یا جابرانہ ہدایات دینا قانونی اختیار کے بغیر ہے اور یہ قانون کے تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

WP No.15267/2025
غلام گیلانی آفتاب بنام حکومتِ پاکستان وغیرہ
جناب جسٹس احمد ندیم ارشد
فیصلہ مورخہ: 18-12-2025

2025 LHC 7739

Punjab Protection of Ownership of Immoveable Property Ordinance, 2025
The Dispute Resolution Committee (DRC) is a pre-adjudicatory, fact-finding and facilitative body and has no jurisdiction to order eviction, dispossession, or restoration of possession.
Coercive or executory measures affecting possession can only be undertaken by the Tribunal under Sections 16 and 17 of the Ordinance. Preventive powers under Section 9 are limited, temporary, and must be exercised through written, reasoned orders after hearing the parties.
While exercising powers under Section 9, the DRC must strictly adhere to any subsisting status-quo order of a competent court, and shall not pass any preventive order in conflict therewith.
Any oral or coercive direction by the DRC or its members is without lawful authority and violative of due process law....

26/11/2025

اگر ملزم کی غیر حاضری کی بنا پر ٹرائل کورٹ اسکے قابل ضمانت/ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہے یا اسکو اشتہاری قرار دیتی ہے تو ملزم اسی ٹرائل کورٹ میں حاضر ہو کر ان احکامات کو recall کرنے کی درخواست دے سکتا ہے اور عدالت کو وارنٹ منسوخ کرنے اور ملزم کو اشتہاری قرار دینے کا حکم واپس لینے کا قانونی اختیار حاصل ہے.
2025 PCr.LJ 915
PLJ 2025 Cr.C. 22

Address

Office 17-B Annexi Aiwan E Oqaf The Mall
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 06:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Solutions Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Solutions Law Firm:

Share