Legal Solutions Law Firm

Legal Solutions Law Firm پیشہ ور قانون دان سے ابھی کریں مفت مشاورت
0346-7200799
0322-4997382

Our legal team may deal your legal issues at proper forum in very short time
Even we deal in Civil, Criminal, Banking, Family & Services as well as Tax matters.

02/02/2026

اجراء اور منسوخی ڈگری دونوں زیر سماعت تھے فریقین میں راضی نامہ ھو گیا۔ خاتون آباد ھو گئی اور کچھ عرصہ بعد پھر علیحدگی ھو گئی۔ ایسی صورت میں سابقہ ڈگری اور اجراء کی حیثیت پر خوبصورت ججمنٹ ھے
PLJ 2021 Lahore 599

Constitution of Pakistan, 1973--

----Art. 199--Muslim Family Law Ordinance, 1961, S. 9--Suit for recovery of maintenance allowance--Ex-parte declared--Execution petition--Petitioner filed application for setting aside ex-parte degree--Court compromise between parties--Execution petition as well as suit were withdrawn--Application for restoration of ex*****on petition--Dismissed--Fresh ex*****on petition--Dismissed--Appeal--Accepted--Challenge to--Neither judgment was set-aside nor modified as per statement--Valid lawful decree--Legal obligation of father--Record shows that on 29.1 1.2014, parties} got recorded their respective statements before Judge Family Court to effect that Respondent No. 2 started living with petition owing to compromise between parties and they were, not willing to pursue their cases--Resultantly ex*****on petition as well as application, seeking setting aside of ex parte decree was ordered to be dismissed as withdrawn--It is no where mentioned in said order or in statements that decree would not hold field--Neither it was set-aside, nor modified as per alleged settlement--Respondent No. 2 could not have been estopped to get ex*****on of a valid lawful decree as decree holder has right to get it executed within contemplation of provisions of law--Matter pertains to maintenance allowance of minor as well, therefore, petitioner cannot hide himself behind procedural technicalities--Petitioner, being a father, is under legal obligation to maintain his child--Question of payment of maintenance allowance must be addressed to its ultimate conclusion--Impugned order has rightly been passed after appreciating facts and circumstances of case--So far as plea that Respondent No. 3 is not entitled to get maintenance allowance

02/02/2026

🚨 بڑی خبر: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ - اب بلاوجہ گرفتاری نہیں ہوگی! 🚨
​سپریم کورٹ آف پاکستان نے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest Bail) کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور جدید قانونی اصول واضح کر دیا ہے۔
​فیصلہ کیا ہے؟ ⚖️
​عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ:
​"اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت خارج ہونے کی صورت میں وہ بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار بن جائے گا، تو ایسی صورت میں ملزم کو جیل بھیجنا محض ایک 'کاغذی کارروائی' (Procedural Formality) ہوگی جس کا کوئی تعمیری مقصد نہیں ہے۔"
​اس کا آسان مطلب کیا ہے؟ 🤔
​اکثر کیسز میں پولیس اور مخالف فریق صرف ملزم کو ذلیل کرنے کے لیے جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ اگر کیس ایسا ہے جس میں بعد میں ضمانت ملنی ہی ملنی ہے، تو ملزم کو صرف "رسم پوری کرنے" کے لیے جیل میں ڈالنا انسانی وقار اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
​اہم حوالہ (Reference):
​📖 PLJ 2026 Supreme Court (Criminal) 21
کیس: محمد اختر بنام سرکار (Muhammad Akhtar Vs State)
​اس فیصلے کے فوائد:
✅ بے گناہ شہریوں کی عزتِ نفس کا تحفظ ہوگا۔
✅ جیلوں میں بلاوجہ کا رش کم ہوگا۔
✅ انتقامی کارروائیوں کا راستہ رکے گا۔
​📌 قانون سے آگاہی ہی آپ کا سب سے بڑا دفاع ہے۔ اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ یہ معلومات ہر ضرورت مند تک پہنچ سکیں!

26/01/2026

PLJ 2025 Cr.C. 448
جعلی بیعنامہ کی تیاری۔
جرم 467 ت پ کا اطلاق ہوگا۔
اگر تفتیشی نے اگر کوئی قابل اطلاق دفعہ کا اطلاق نہیں بھی کیا ہو تو عدالت بوقت سماعت درخواست ضمانت خود بھی اسکا جائزہ لے سکتی ہے۔
It is not a rule of universal application that a crime of fraud/forgery can only be reported by a person, who is directly affected thereby. Such like nefarious activities, which are crimes not only against any individual, but against the public at large, can be brought into the knowledge of concerned authorities by any person of the public and authorities can inquire into and investigate the same when the same (naeem)come into their knowledge, even if these are not reported by any person.

Forgery of a sale deed (valuable security) shall attract the charge under section 467 PPC, which entails the penalty of imprisonment for life, or imprisonment of either description, which may extend to ten years. Above penal provision was not applied by Investigating Officer, but it was also prima-facie made out, as such I feel no hesitation in holding that said offence attracting (naeem)against the petitioner was falling within embargo contained under Section 497 of Cr.P.C.
Crl. Misc. No.8612-B/2025.
Riaz Ahmad Versus The State etc. .

*نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے علیحدہ دعویٰ کی عدم ضرورت دفعہ 151 ضابطہ دیوانی کے تحت فیملی کورٹ کے اختیارات کا تعین**(Leg...
23/01/2026

*نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے علیحدہ دعویٰ کی عدم ضرورت دفعہ 151 ضابطہ دیوانی کے تحت فیملی کورٹ کے اختیارات کا تعین*
*(Legal Framework for Enhancement of Maintenance without Fresh Suit under Section 151 CPC in Light of 2016 SCMR 1821 & PLD 2025 SC 850)*

2016 -SCMR -1821
فیملی کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ضابطۂ دیوانی (CPC) کی دفعہ 151 کے تحت درخواست پر نان و نفقہ (Maintenance Allowance) میں اضافہ کر دے، اور اس مقصد کے لیے علیحدہ یا مستقل دعویٰ (Independent Suit) دائر کرنا ضروری نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔

*Pld 2025 SC 850*
فیملی کورٹ کی جانب سے پہلے سے مقرر کردہ نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے نیا دعویٰ دائر کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس مقصد کے لیے صرف ضابطۂ دیوانی (CPC) کی دفعہ 151 کے تحت ایک درخواست دینا ہی کافی ہے۔
قانونی و تجزیاتی جائزہ

ان فیصلوں کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ

جب فیملی کورٹ ایک مرتبہ نان و نفقہ مقرر کر دے، تو بعد میں حالات میں تبدیلی کی صورت میں اس میں اضافہ کے لیے نیا مقدمہ (Fresh Suit) دائر کرنا ضروری نہیں۔
بلکہ صرف دفعہ 151 ضابطہ دیوانی (CPC) کے تحت ایک درخواست کافی ہے۔
1. قانونی پس منظر
فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کا مقصد:

فوری انصاف

سادہ طریقہ کار

غیر ضروری پیچیدگیوں سے اجتناب

ہے۔
نان و نفقہ بذاتِ خود ایک جاری حق (Continuing Right) ہے جو حالات کے مطابق بدل سکتا ہے، مثلاً:

مہنگائی میں اضافہ

شوہر کی آمدن میں بہتری

بچوں کی تعلیمی و طبی ضروریات

وقت کے ساتھ اخراجات میں اضافہ

اگر ہر مرتبہ اضافہ کے لیے نیا دعویٰ لازم قرار دیا جائے تو:

مقدمات میں غیر ضروری طوالت پیدا ہو گی

خواتین اور بچوں کو فوری ریلیف نہیں مل سکے گا

فیملی کورٹس ایکٹ کے مقاصد فوت ہو جائیں گے

اسی خلا کو سپریم کورٹ نے دفعہ 151 CPC کے ذریعے پُر کیا۔

2. 2016 SCMR 1821 کا اصول
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:

فیملی کورٹ کے پاس Inherent Powers موجود ہیں۔

دفعہ 151 CPC کے تحت عدالت وہ تمام احکامات دے سکتی ہے جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہوں۔

نان و نفقہ میں اضافہ کے لیے علیحدہ دعویٰ دائر کرنا ضروری نہیں۔

عدالت نے یہ اصول قائم کیا کہ

Maintenance ایک جامد (static) حق نہیں بلکہ متحرک (dynamic) نوعیت رکھتا ہے، جو حالات کے ساتھ بدلتا ہے۔

3. PLD 2025 SC 850 کی توثیق اور ارتقاء
PLD 2025 SC 850 نے اس اصول کو مزید مضبوط اور حتمی بنا دیا:

"Suit for enhancement of maintenance already fixed by Family Court"

"No need to file any fresh suit."

"Only an application under section 151 CPC is sufficient."

یعنی سپریم کورٹ نے

نئے دعویٰ کی شرط کو مکمل طور پر ختم کر دیا

دفعہ 151 CPC کو براہِ راست قابلِ اطلاق قرار دیا

اس عمل کو فیملی کورٹ کی inherent jurisdiction کا حصہ بنا دیا

اب یہ محض سہولت نہیں بلکہ قانونی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔

4. عملی قانونی اثرات
ان فیصلوں کے بعد قانونی پوزیشن یہ بن چکی ہے کہ:

اگر نان و نفقہ پہلے سے مقرر ہو

اور حالات بدل جائیں

تو متاثرہ فریق (بیوی یا بچے):

صرف ایک درخواست
u/s 151 CPC
فیملی کورٹ میں دائر کرے گا/گی۔

عدالت

فریقین کو سنے گی

آمدن، مہنگائی اور ضروریات کا جائزہ لے گی

اور نان و نفقہ میں اضافہ کر سکتی ہے

بغیر کسی نئے مقدمہ کے۔

5. دفاعی و عدالتی حکمتِ عملی
عدالت کے سامنے درج ذیل نکات رکھے جا سکتے ہیں:

Maintenance ایک جاری حق ہے

نیا دعویٰ انصاف میں تاخیر کا سبب بنتا ہے

فیملی کورٹس ایکٹ کا مقصد فوری اور مؤثر انصاف ہے

سپریم کورٹ کے فیصلے (2016 SCMR 1821، PLD 2025 SC 850) براہ راست قابلِ اطلاق ہیں

دفعہ 151 CPC عدالت کو مکمل اختیار دیتی ہے

لہٰذا
درخواست برائے اضافہ نان و نفقہ قابلِ سماعت ہے،
اور اسے تکنیکی بنیادوں پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

20/12/2025

2025 LHC 7739
پنجاب غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کا آرڈیننس،
2025
ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی ، حقائق معلوم کرنے اور سہولت کاری کا ادارہ ہے، جسے بے دخلی، قبضہ چھڑانے یا قبضہ بحال کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

قبضہ سے متعلق کسی بھی قسم کے جابرانہ یا نفاذی اقدامات صرف آرڈیننس کی دفعات 16 اور 17 کے تحت مجاز ٹربیونل ہی کر سکتا ہے۔

دفعہ 9 کے تحت دیے گئے حفاظتی اختیارات محدود اور عارضی نوعیت کے ہیں، اور ان کا استعمال فریقین کو سننے کے بعد تحریری اور معقول وجوہات پر مبنی حکم کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

دفعہ 9 کے تحت اختیارات استعمال کرتے وقت DRC کسی مجاز عدالت کے جاری کردہ اسٹیٹس کو کے حکم کی سختی سے پابند ہوگی اور اس کے منافی کوئی حفاظتی حکم جاری نہیں کرے گی۔

DRC یا اس کے کسی رکن کی جانب سے زبانی یا جابرانہ ہدایات دینا قانونی اختیار کے بغیر ہے اور یہ قانون کے تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

WP No.15267/2025
غلام گیلانی آفتاب بنام حکومتِ پاکستان وغیرہ
جناب جسٹس احمد ندیم ارشد
فیصلہ مورخہ: 18-12-2025

2025 LHC 7739

Punjab Protection of Ownership of Immoveable Property Ordinance, 2025
The Dispute Resolution Committee (DRC) is a pre-adjudicatory, fact-finding and facilitative body and has no jurisdiction to order eviction, dispossession, or restoration of possession.
Coercive or executory measures affecting possession can only be undertaken by the Tribunal under Sections 16 and 17 of the Ordinance. Preventive powers under Section 9 are limited, temporary, and must be exercised through written, reasoned orders after hearing the parties.
While exercising powers under Section 9, the DRC must strictly adhere to any subsisting status-quo order of a competent court, and shall not pass any preventive order in conflict therewith.
Any oral or coercive direction by the DRC or its members is without lawful authority and violative of due process law....

26/11/2025

اگر ملزم کی غیر حاضری کی بنا پر ٹرائل کورٹ اسکے قابل ضمانت/ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہے یا اسکو اشتہاری قرار دیتی ہے تو ملزم اسی ٹرائل کورٹ میں حاضر ہو کر ان احکامات کو recall کرنے کی درخواست دے سکتا ہے اور عدالت کو وارنٹ منسوخ کرنے اور ملزم کو اشتہاری قرار دینے کا حکم واپس لینے کا قانونی اختیار حاصل ہے.
2025 PCr.LJ 915
PLJ 2025 Cr.C. 22

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی میں ویڈیو ریکارڈنگ کو لازمی قرار دے دیا2025 SCMR 721 میں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا...
26/11/2025

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی میں ویڈیو ریکارڈنگ کو لازمی قرار دے دیا

2025 SCMR 721 میں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ منشیات کی برآمدگی کے دوران ویڈیو ریکارڈنگ اور جدید آلات کا استعمال اختیاری نہیں ہے، یہ ضروری حفاظتی اقدامات ہیں۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ ویڈیو ثبوت اور آزاد گواہوں کے بغیر استغاثہ کا مقدمہ CNSA کے تحت مطلوبہ ثبوت کے سخت معیار پر پورا نہیں اتر سکتا۔

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی شخص کو غیر منصفانہ جیل کا سامنا نہیں کرنا چاہئے، اور جہاں پولیس لازمی حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرتی ہے وہاں ضمانت دی جانی چاہئے۔

22/11/2025

FAMILY LAW

فیملی کورٹ کے چند منفرد فیصلے امید ہے آپ کی نظر سے نہیں گزرے ہوں گے
………………………………………

فیملی لاء ایک سپیشل لاء ہے۔ اس میں اجراء کی درخواست کے لیے کوئی میعاد مقرر نہ ہے۔
2018 YLR 1501

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیملی کورٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یکطرفہ ڈگری پاس ہونے کے بعد مدعا علیہ کے پتہ پر ڈگری کی مصدقہ کاپی بھیجے۔
2017 CLC N 69.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں بیوی/عورت رہتی ہوگی اسی جگہ فیملی کیس دائر کیا جاسکتا ہے۔ علاقائی اختیار سماعت نہیں دیکھا جائے گا۔

PLD 2006 Pesh 189
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر والد کے پاس نابالغ کی پرورش کے لیے ذرائع نہیں ہیں تو والدہ کی ذمہ داری ہے کہ نابالغ کی پرورش کرے۔ اس کے علاوہ اس کیس لاء میں تفصیل سےنابالغان کے حوالےسے والدین کی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔

PLD 2013 SC 557

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیملی عدالت یکطرفہ ڈکری پاس کرنے سے پہلے مدعا علیہ کو نوٹس حاضری بھیج سکتی ہے۔
2017 PLJ Pesh 01

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہیز کیس کے اجراء میں ضامن کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی ڈیفالٹ کی صورت میں جہیز ادا کرے۔

2016 PLD Pesh 109

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلع کے علاوہ باقی حقائق کے خلاف درخواست منسوخی ڈگری کی مدت اس وقت شروع ہوگی جب مدعا علیہ/ججمنٹ ڈیٹر کو اس ڈکری کا علم ہوگا۔

2017 CLC N 69

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیوی کو حق مہر ادا نہ کرنا بھی ظلم/Cruelty ہے۔ جوکہ خلع کے لیے بہترین گراؤنڈ ہے۔
2018 CLC 93

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیملی کیس میں Interim Order کے خلاف رِٹ پٹیشن نہیں ہوسکتی۔
2018 CLC N 47
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیملی کورٹ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ فیملی کیس کا 6 ماہ کے اندر اندر فیصلہ کرے۔
2018 YLR 1231
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باپ اپنے بچے کو خرچہ نان و نفقہ دینے کا پابند ہے۔ اس کا یہ بہانہ نہیں سنا جائے گا کہ اس کے پاس ذرائع آمدن نہیں ہیں۔
2018 CLC N 47
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیوی خاوند کی Cruelty ثابت نہ کرسکی۔ عدالت نے حکم دیا کہ بیوی شادی کے تحائف واپس کرے اور شوہر حق مہر ادا کرے۔
2018 PLD Pesh 34

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیملی لاء ایک سپیشل لاء ہے۔ اس میں خاوند کے لیے Past Maintenance کے لیے کوئی میعاد مقرر نہ ہے۔
2018 YLR 1501

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردہ نشیں عورت اپنے والد کے ذریعے اپنی شہادت ریکارڈ کروا سکتی ہے اگر اس کے والد کو کیس حالات کا اچھی طرح سے پتہ ہوتو۔
2002 CLC 1336

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائی کورٹ فُل بینچ نے فیملی قوانین کی تشریح کرتے وقت یہ قرار دیا کہ فیملی کورٹ ایکٹ 1964 اور مسلم فیملی لاز آرڈینیس 1961 کی متعلقہ دفعات غیرقانونی ہیں کہ خلع کی صورت میں بیوی کو حق مہر کی رقم بھی واپس کرنی پڑے گی جبکہ اسلامی اصولوں کے تحت اسے صرف شادی کے تحائف واپس کرنے چاہئیں۔
PLD 2009 Pesh 92

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں بیوی/عورت رہتی ہوگی اسی جگہ فیملی کیس دائر کیا جاسکتا ہے۔ علاقائی اختیار سماعت نہیں دیکھا جائے گا۔

PLD 2006 Pesh 189

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طلاق یافتہ بچی اگر ماں کے پاس ہوتو باپ اس کا خرچہ نان و نفقہ دینے کا پابند ہے۔
2014 MLD 351 Pesh
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کی تاریخ کے بعد منتقل کی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں نہیں آتی۔
PLD 2012 Lah 43
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماں بچے کا خرچہ باپ کو معاف بھی کردے تو باپ دینے کا پابند ہے۔
2014 MLD 351 Pesh
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح نامہ میں لکھی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں آتی ہے اور فیملی کورٹ اس حوالہ سے ڈکری پاس کرسکتی ہے۔
PLD 2016 SC 613
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کی تاریخ کے بعد منتقل کی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں نہیں آتی۔
PLD 2009 Lah 227
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہیز کی رقم مدعیہ کے والد کے بنک اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی۔ اب Controversy باپ اور بیٹی کے درمیان ہے۔ خاوند کو اس بات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ یہ سول کورٹ کا معاملہ ہے فیملی کورٹ کا نہیں۔
2013 YLR 1903
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کی تاریخ کے بعد منتقل کی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں نہیں آتی۔
PLD 2011 Kar 196
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں طلائی زیورات یا انکی قیمت واپس کرنے کی ڈکری پاس ہوجائے تو اس صورت میں قیمت Date of Payment کے حساب سے دیکھی جائے گی۔

2013 SCMR 1049

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کیس میں مدعیہ صرف طلائی زیورات کی بابت استدعا کرے اور ان کی مالیت کرنسی میں نہ بتائے تو اس صورت میں مدعاعلیہ کے پاس آپشن ہوگی کہ وہ یاتو طلائی زیورات بمطابق وزن واپس کرے یا پھر اتنی رقم ادا کرے جس سے اس وزن کے طلائی زیورات اوپن مارکیٹ سے خریدے جاسکیں۔
2014 CLC 895
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر باپ کا حق ہے کہ وہ اپنے بچے سے ملاقات غیر مشروط طریقے سے کرے۔ ملاقات کے لیے Surety Bonds مشروط کرنا غیرآئینی ہے اور اسے 199 کے تحت چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
2014 CLC 1168
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر Pendency کے دوران دعویٰ Partly واپس لیا جائے تو نیا سوٹ فائل کیا جاسکتا ہے۔ اس پر Res Judicata کا اصول لاگو نہیں ہوگا۔
2012 MLD 1795
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معزز ہائیکورٹ نے مشاہدہ کیا کہ 99 فیصد سامان جہیز کے کیسز میں جھوٹ بولتی ہے کہ لِسٹ شادی کے وقت تیار کی گئی تھی۔ اور 1 فیصد کیسز میں وہ ضِد کرتی ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہی۔
2013 MLD 939 Lah
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرچہ نان و نفقہ ایک فائدہ نہیں بلکہ حق ہے۔ اگر خلع کے کیس میں خرچہ نان و نفقہ کو بطور شرط معاف کیا گیا تو یہ غیرقانونی ہے اور اسکی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
2012 MLD 1943
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ CPC فیملی لاء پر اپلائی نہیں ہوتی مگر پھر بھی جو طریقہ کار CPC میں دیا گیا ہے انصاف کے بہترین حصول کے لیے وہ فیملی لاء میں اختیار کیا جاسکتا ہے۔
2012 MLD 1795
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیملی کورٹس ترمیمی ایکٹ 2015 کے تحت خرچہ نان و نفقہ 10 سے 5 فیصد کیا گیا۔ لیکن اس فیصلہ میں معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے دوبارہ خرچہ نان و نفقہ 10 فیصد بحال کردیا۔
2016 SCMR 2069
۔۔۔۔

…………………………………………………………………
باپ اپنے بچے کو خرچہ نان و نفقہ دینے کا پابند ہے۔ اس کا یہ بہانہ نہیں سنا جائے گا کہ اس کے پاس ذرائع آمدن نہیں ہیں۔
2018 CLC N 47
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیوی خاوند کی Cruelty ثابت نہ کرسکی۔ عدالت نے حکم دیا کہ بیوی شادی کے تحائف واپس کرے اور شوہر حق مہر ادا کرے۔

2018 PLD Pesh 34
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیملی لاء ایک سپیشل لاء ہے۔ اس میں خاوند کے لیے Past Maintenance کے لیے کوئی میعاد مقرر نہ ہے۔

2018 YLR 1501
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردہ نشیں عورت اپنے والد کے ذریعے اپنی شہادت ریکارڈ کروا سکتی ہے اگر اس کے والد کو کیس حالات کا اچھی طرح سے پتہ ہوتو۔

2002 CLC 1336
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیملی لاء ایک سپیشل لاء ہے۔ اس میں اجراء کی درخواست کے لیے کوئی میعاد مقرر نہ ہے۔

2018 YLR 1501
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائی کورٹ فُل بینچ نے فیملی قوانین کی تشریح کرتے وقت یہ قرار دیا کہ فیملی کورٹ ایکٹ 1964 اور مسلم فیملی لاز آرڈینیس 1961 کی متعلقہ دفعات غیرقانونی ہیں کہ خلع کی صورت میں بیوی کو حق مہر کی رقم بھی واپس کرنی پڑے گی جبکہ اسلامی اصولوں کے تحت اسے صرف شادی کے تحائف واپس کرنے چاہئیں۔

PLD 2009 Pesh 92
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2016 PLD Pesh 109
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلع کے علاوہ باقی حقائق کے خلاف درخواست منسوخی ڈگری کی مدت اس وقت شروع ہوگی جب مدعا علیہ/ججمنٹ ڈیٹر کو اس ڈکری کا علم ہوگا۔
2017 CLC N 69
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیوی کو حق مہر ادا نہ کرنا بھی ظلم/Cruelty ہے۔ جوکہ خلع کے لیے بہترین گراؤنڈ ہے۔
2018 CLC 93
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیملی کیس میں Interim Order کے خلاف رِٹ پٹیشن نہیں ہوسکتی۔
2018 CLC N 47
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیملی کورٹ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ فیملی کیس کا 6 ماہ کے اندر اندر فیصلہ کرے۔
2018 YLR 1231
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یملی کورٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یکطرفہ ڈگری پاس ہونے کے بعد مدعا علیہ کے پتہ پر ڈگری کی مصدقہ کاپی بھیجے۔
2017 CLC N 69
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر والد کے پاس نابالغ کی پرورش کے لیے ذرائع نہیں ہیں تو والدہ کی ذمہ داری ہے کہ نابالغ کی پرورش کرے۔ اس کے علاوہ اس کیس لاء میں تفصیل سےنابالغان کے حوالےسے والدین کی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔
PLD 2013 SC 557
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیملی عدالت یکطرفہ ڈکری پاس کرنے سے پہلے مدعا علیہ کو نوٹس حاضری بھیج سکتی ہے۔
2017 PLJ Pesh 01. 0333 6023706 Rafiq Khan Advocate High Court LLM Rafiq Khan Lound Adv

ایونٹس میڈیا کی طرف سے  قومی سطح پہ بہترین کارکردگی ایوارڈ شو منعقد کیا جارہا ہے جسمیں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے...
08/10/2025

ایونٹس میڈیا کی طرف سے قومی سطح پہ بہترین کارکردگی ایوارڈ شو منعقد کیا جارہا ہے جسمیں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یہ ایوارڈ دیا جائے گا، شعبہ قانون سے تصور حیات لک ایڈوکیٹ کو اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ہم انتہائی شکر گزار ہیں ۔۔۔
۔۔۔

Meeting with chini investors
29/09/2025

Meeting with chini investors

18/09/2025

Family laws judgements.
Family laws points.
خرچہ کا کیس نانی نے کیا جو سپریم کورٹ تک ڈگری رہا
والدہ وفات پا چکی تھی
2025 SC 247

خرچہ سے بچنے کی خاطر ولدیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا
2025 CLC 276

بالغ بیٹا اپنے والد سے اگر تعلیم حاصل کر رہا ہو تو خرچہ لے سکتا ہے
2025 PLD Lahore 152

16 دن کی تاخیر سے اپیل فیملی ہوئی جو کے خارج
2025 MLD 391
سابقہ تیس سال کا خرچہ ملا بیوی کو
2018 YLR 128
سابقہ 6 سال کا خرچہ ملا بیوی کو
2024 CLC 363

حق مہر پلاٹ 5 مرلہ ڈگری
2025 ylr 1

کالم نمبر 17 میں حق مہر میں اک پلاٹ لکھا گیا جو کے عورت کے حق میں ڈگری ہوا
2024 scmr 1078

حق مہر میں اک مکان 2 کنال کا لکھا ہوا تھا محکمہ مال سے قمیت معلوم کر کے اک کنال کی قمیت ڈگری ہوئی
2011 pld sc 221

جب خاوند نے حق مہر میں غیر منقولہ جائیداد دی ہو وہ نکاح نامہ می۔ تحریر ہو تو جائیداد بیوی کی ہو گئی ۔
2020 clc 803

جب بھی حق مہر کا مطالبہ کیا جائے تو حق مہر ادا کرنا ہو گا ۔
2024 scmr 142

جب حق مہر کی ادائیگی کے بارے میں درج نا ہو کے ادا شدہ ہے یا غیر ادا شدہ تو تصور کیا جائے گا کے عندالطلب ہے
2017 clc note 16 p 17

سسر کی رضا مندی سے اس کی جائیداد نکاح نامہ میں بطور حق مہر درج ہو تو اسکی امی داری سسر پر ہو گئی
2015 pld 182
2011 mld 176

لست سامان جہیز کی تائیدی شہادت موجود نہ ہے دعوی خارج
2004 scmr 1739

لسٹ سامان جہیز داخل کی ہے رسیدات نہ ہے دعویٰ ڈگری ہوا
2008 SCMR 1584

سامان جہیز کی رسیدات سنبھال کر رکھنا مشکل ہوتا ہے اس لیے صرف لڑکی کے بیان پر ہی سامان جہیز ڈگری کر دینا چاہیے
2017 SCMR 393

بیوی کے لیئے ممکن نہ ہے کہ وہ شادی کے وقت سامان جہیز کی لسٹ پر خاوندو گواہ کے دستخط لے صرف ، سامان جہیز بیوی کے ہی بیان پر ڈگری ہو سکتا ہے
2020 clc 380

‏ ‏ صرف بیوی کے بیان پر ہی سامان جہیز کا دعوی ڈگری
2015 clc 632
لسٹ سامان جہیز اور رسیدات کی کوئی اہمیت نہ ہے، دعوی سامان جہیز ڈگری شد.
(2013 CLC 698).

فیملی کیس میں قانون شہادت کا اطلاق نہ ہوتا ہے، اس لئے سامان جہیز کو ثابت کرنے کے لیے سامان جہیز کی رسیدات اور متعلقہ افراد کو بطور گواہ پیش کرنا ضروری نہ ہے.
(2017 SCMR 393).

محض لسٹ سامان جہیز ایگزبٹ نہ ہونے کی بناء پر دعٰوی سامان جہیز خارج نہ ہو گا۔
2019 MLD 1145

بیٹیاں خرچہ نان و نفقہ کی شادی تک حقدار ہوتی ہیں ج

Address

Office 17-B Annexi Aiwan E Oqaf The Mall
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 06:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Solutions Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Solutions Law Firm:

Share