Afrasyab Legal & Corporate

Afrasyab Legal & Corporate Afrasyab legal & Corporate Consultants Mob No: 03039246042
Email: [email protected]
71,

The Hon’ble High Court has held that registration of a second FIR under Section 489-F PPC for the same transaction is un...
21/06/2025

The Hon’ble High Court has held that registration of a second FIR under Section 489-F PPC for the same transaction is unlawful, irrespective of the number of cheques issued in relation to that transaction — only one FIR can be registered. This decision reaffirms that multiple FIRs cannot be registered for separate cheques issued in one transaction.

18/08/2024

ڈاکٹر مومیتا کا مرڈر اور ہماری ذمہ داریاں۔۔۔

بدقسمتی سے، یہ کرہ ارض یا اس سیارے پر کوئی بھی مقام، کسی بھی عمر کی فیمیل کے لیے محفوظ نہیں۔
چند ماہ کی بچی ہو۔۔۔ 70 سال کی بوڑھی۔۔۔ یا قبر میں مدفون ایک عورت۔
اس سیاہ دور میں موجودہ معاشرے کی حوس زدہ درندگی سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔
دنیا میں ر-- یپ کرائم کی شرح میں بھیانک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
اور حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ نہ تو اب عورت اپنی سیفٹی کے لیے مکمل طور پر کسی پہ انحصار کر سکتی ہے اور نہ اب زبانی کلامی کچھ کیا جاسکتا ہے۔
جب تک۔۔۔ عملی طور پر ہم اپنے لیے خود قدم نہیں اٹھائیں گی تب تک ہماری سلامتی مسلسل خطرات و خدشات کے تاریک سایوں تلے ہی رہے گی۔
چنانچہ۔۔۔۔۔۔ " ٹو دی پوائنٹ " ہمیں خود کو اور اپنی بہنوں، بیٹیوں اور سب خواتین کو کسی بھی ہنگامی صورتحال یا ناخوشگوار واقعہ سے نبٹنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
اور یہ کیسے ہو پائے گا؟
اس کی کچھ تکنیکیں اور کچھ وسائل آپ کے ساتھ شیئر کرتی ہوں۔۔۔
۔۔۔
1- سیلف ڈیفنس تربیت :
آگ لگنے پر کنواں کھودنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
چنانچہ لڑکیوں اور خواتین کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کسی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے لے لیے ان کے پاس پراپر تربیت موجود ہو۔
ویمن سیلف ڈیفنس کے لیے مختلف ادارے باقاعدہ کلاسز کا انعقاد کرتے ہیں۔
اس کی عدم دستیابی کی صورت میں یوٹیوب ٹیوٹوریلز یا پھر سیلف ڈیفنس ویب سائٹس سے مدد لی جا سکتی ہے۔
۔۔۔
2- ہتھیار :
یاد رہے کہ کسی حملے کی صورت میں 5 لاکھ کا آئی-فون آپ کی کوئی مدد نہ کر پائے گا لیکن 50 ہزار کا پسٹل آپ کو بچا سکتا ہے۔
بشرطیکہ آپ کے پاس اسے چلانے کی تربیت، اس کا لائسنس موجود ہو، نشانہ پکا ہو اور آپ تربیت کے زریعے اپنے ریفلکسز کو اتنا شارپ کر لیں کہ کسی ہنگامی صورتحال میں چند سیکنڈ کے اندر اندر پسٹل کو نکال کر ریڈی اور پھر فائر کر سکیں۔
ایسی صورت حال میں جھجھک انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے۔۔۔ Shoot to K*ll کا اصول اپنانا چاہیے۔
۔۔۔۔
3- ٹیزر :
لیکن ہر کوئی شخص نہ تو پسٹل خرید اور رکھ سکتا ہے اور نہ اس کی تربیت لے سکتا ہے۔ چنانچہ دوسرا حل ہے ٹیزر۔ یعنی بجلی کا زوردار جھٹکا مارنے والی ڈیوائس جو کئی سائز اور کئی شکل میں دستیاب ہوتی ہے۔
ہمیشہ ہائی وولٹیج کے ٹیزر کا انتخاب کرنا چاہیے۔ لیکن سائز اتنا ہو کہ باآسانی بیگ یا پرس میں سما جائے۔
تاہم ٹیزر کے استعمال کی پیشگی ہی پریکٹس کر لینی چاہیے تاکہ ہنگامی حالت میں غلطی سے خود کو ہی نہ شاک لگنے کا باعث بن جائے۔
یاد رہے ٹیزر کا جھٹکا مخالف شخص کو کچھ وقت کے لیے بیہوش، مفلوج یا غیر متحرک کر سکتا ہے۔
اتنی دیر میں یا تو جان بچا کر بھاگنے کا وقت مل جائے گا ۔
جب بھی تنہا ہوں یا ٹیکسی وغیرہ میں اکیلے سفر کررہی ہوں تو ٹیزر ہمہ وقت آپ کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔
ایک ہلکی نوعیت کا ٹیزر انگوٹھی کی شکل کا بھی ہوتا ہے جسے انگلی میں پہنا جاسکتا ہے۔ اور مٹھی بند کرنے سے وہ آن ہوجاتا ہے۔
۔۔۔۔
4- پروجیکٹائل گن:
ٹیزر کا ایک ایشو یہ ہے کہ اس کا استعمال تبھی ممکن ہے کہ جب مخالف بالکل قریب ہو اور ہم اسے ٹیزر کے ساتھ چھو سکیں۔
اس کا حل پروجیکٹائل گن ہے۔
یہ گن چند میٹر کے فاصلے پر مخالف پر چارج شدہ پروجیکٹائلز فائر کر سکتی ہے۔
جس سے اسے اتنا ہی زور کا جھٹکا لگے گا کہ جتنا ٹیزر سے۔
۔۔۔۔
5- پرسنل الارم :
یہ ڈیوائس ایک کی-چین کی شکل کی ہے اور اس کا بٹن دبانے پر بہت اونچی آواز میں مسلسل ایک الارم بجنا شروع ہو جاتا ہے۔
جس سے آس پاس کے لوگوں کو ہنگامی صورتحال کا سگنل پہنچ سکتا ہے تاکہ وہ مدد کے لیے آ سکیں۔
۔۔۔۔
6- بٹان :
یہ ایک چند انچ کی آہنی چھڑی ہے جسے جھٹکا دینے پر یہ کھل کر بڑی ہو جاتی ہے۔ سر پر لگائی گئی اس کی ایک ضرب مخالف کو زخمی یا بیہوش کر سکتی ہے۔
یہ باآسانی بیگ یا پرس میں سما جاتی ہے۔
بٹان کی ایک دوسری قسم تلوار نما بھی ہوتی ہے جسے بڑا کرنے پر اس کا دوسرا سرا انتہائی تیز دھار ہوتا ہے جسے مخالف کے وجود میں اتار کر اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
بٹان کو انسان کے علاوہ کتے یا سانپ کے حملے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔
7- پیپر سپرے :
یہ ایک کیمیکل سپرے بوتل ہے۔ جسے ہنگامی صورتحال میں مخالف پر سپرے کر کے اس کو شدید جلن اور تکلیف میں مبتلا کیا جاسکتا ہے اور اگر وہ مواد اس کی آنکھوں میں پڑ جائے تو شدید تکلیف کے ساتھ کچھ وقت کے لیے دیکھنے سے قاصر ہو سکتا ہے ۔
یہ سپرے انسان کے علاوہ ریچھ اور دیگر کچھ جنگلی جانوروں کے حملے کی صورت میں بھی موثر ہے۔
۔۔۔۔۔۔
8- براس نیکل :
یہ ایک آہنی پنجہ ہے جسے ہاتھ میں پہنا جاسکتا ہے اور اس کے دندانے تیز دھار ہوتے ہیں ۔ اس کی مدد سے ایک نپا تلا وار دشمن کو زخمی کر سکتا ہے تاہم اس کے استعمال کے لیے انسان کی پریکٹس اچھی ہونی چاہیے۔ اور مخالف کو زخمی کرنے کے لیے اچھی خاصی زوردار ضرب کی ضرورت ہوگی۔
یہ دندانے دار ہتھیار انگوٹھی کی شکل میں بھی دستیاب ہے۔
۔۔۔
9- ٹیکٹیکل پین :
یہ ایک مضبوط آہنی پین ہے۔ جسے عام پین کی طرح لکھائی کی جاسکتی ہے تاہم یہ کافی سخت ہوتا ہے اور اس کے عقبی حصے کو خاص طور ہر ایسا ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ اس کے وار سے مخالف کو شدید زخمی کیا جاسکے۔ اسے کبھی بھی کہیں بھی رکھا اور باآسانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔
10- چھپے ہوئے چاقو :
مخفی چاقو ان گنت مختلف ڈیزائنز میں دستیاب ہیں۔ شکل میں عام چیزوں کی مانند جیسے پین، لپ اسٹک یا کنگھی لیکن کھولنے پر ان کے اندر موجود مخفی چاقو نمایاں ہو جاتا ہے جس کی مدد سے مخالف پر وار کر کے اسے زخمی کیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔
11- حفاظتی موبائل ایپس :
بہت سی ایسی سیٹفی ایپس موجود ہیں جو خواتین کو بہت سے سیفٹی فیچرز فراہم کرتی ہیں۔
مثلاً۔ ہنگامی حالت میں ایک بٹن دبانے پر تمام نزدیکی پولیس اسٹیشنز اور ایمرجنسی سینٹرز کو مدد کی استدعا چلے جانا۔
ہمہ وقت فیملی اور دوستوں کو لوکیشن شیئر ہوتے رہنا۔
بیک وقت کئی لوگوں کو ایمرجنسی کے میسجز چلے جانا۔
جود بخود ویڈیو ریکارڈنگ اور بہت کچھ۔
ان ایپس میں
1. bSafe (iOS, Android)
2. Life360 (iOS, Android)
3. Revolar (iOS, Android)
4. Watch Over Me (iOS, Android)
5. Guardly (iOS, Android)
6. SHERO (iOS, Android)
7. Women Safety (iOS, Android)
8. Hollaback! (iOS, Android)
9. SafetyPIN (iOS, Android)
10. Noonlight (iOS, Android)
اور دیگر شامل ہیں۔
۔۔۔۔
خدا ایسی آفات سے آپ سب کی حفاظت فرمائے۔

شیئر کرنا مت بھولیں۔۔۔

12/08/2024

2024 SCMR 1596
Foundational elements to constitute an offence under Section 489 - F . P.P.C are the issuance of the cheque with dishonest intent ; the cheque should be towards repayment of loan or fulfillment of an obligation , and lastly that the cheque is dishonoured.

12/08/2024

نابالغ کا جانشین کسی بھی صورت نابالغ کی جائیداد فروخت نہیں کر سکتا۔
2024 SCMR 1271

07/06/2024
Alhamdulillah FIR DISCHARGED by magistrate.I.O requested for remand.Very brave judge.Accused arrested on 20.02.2024FIR D...
22/02/2024

Alhamdulillah FIR DISCHARGED by magistrate.
I.O requested for remand.
Very brave judge.
Accused arrested on 20.02.2024
FIR Discharged on 21.02.2024
Afrasyab Legal & Corporate
Afrasyab Legal & Corporate consultants
03039246042

21/01/2024

One of the best column of jawaid Chaudhary.

میرا ایک دوست راولپنڈی میں رہتا تھا‘ یہ دوست مجھ سے عمر میں سینئر بھی تھا‘ شادی شدہ بھی اور بال بچوں والا بھی‘ میں سردیوں کے دنوں میں اس سے ملاقات کے لیے راولپنڈی آ گیا‘ ہمارا پروگرام تھا ہم دونوں چند دن راولپنڈی رہیں گے‘ اس کے بعد برف باری دیکھنے کے لیے مری چلے جائیں گے اور میں ایک ہفتہ گزار کر واپس بہاولپور آ جائوں گا‘ میں دس گھنٹے کے طویل سفر کے بعد شام کے وقت راولپنڈی پہنچا‘ شہر شدید سردی کی لپیٹ میں تھا‘ میں رکشہ لے کر دوست کے گھر پہنچ گیا‘ اس نے دروازے پر میرا استقبال کیا‘ میں گرم جوشی سے اس سے لپٹ گیا‘ وہ بھی مجھے گلے ملا لیکن میں نے محسوس کیا اس کے معانقے میں گرم جوشی نہیں‘ وہ مجھے اپنی بیٹھک میں لے گیا‘ اس نے چائے کا بندوبست کیا اور میرے سامنے بیٹھ گیا‘ میں اس سے بلا تکان گفتگو کرتا رہا مگر وہ گفتگو میں میرا ساتھ نہیں دے رہا تھا‘ وہ بات چیت کے دوران کھو جاتا تھا‘ میں اس کی غیر حاضر دماغی پر خاموش ہو جاتا تو اسے بڑی دیر تک میری چاپ کا اندازہ نہیں ہوتا تھا‘ اس نے میرے سفر کے بارے میں بھی نہیں پوچھا‘ میرے لیے اس کا یہ ٹھنڈا رویہ پریشان کن تھا‘میری پریشانی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اس نے مجھ سے پوچھا ’’ آپ خیریت سے راولپنڈی آئے ہیں‘‘ میرے لیے اس کا سوال بم ثابت ہوا کیونکہ میں اس کی دعوت پر راولپنڈی آیا تھا‘ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا‘ اس نے دوسرا سوال پوچھا ’’ آپ کتنے دن راولپنڈی میں ہیں اور کہاں رہیں گے‘‘ میری پریشانی انتہا کو چھونے لگی کیونکہ میں اس کے گھر ٹھہرنے کے لیے آیا تھا‘ میرا سامان تک اس کے ڈرائنگ روم میں پڑا تھا‘ میں پریشانی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا اور وہ کھوئے ہوئے انداز میں مجھے گھورتا رہا‘ مجھ سے کوئی بات نہ بن پائی تو میں نے جواب دیا ’’ میں ویسے ہی ایک دن کے لیے راولپنڈی آیا ہوں‘ کل واپس چلا جائوں گا اور ہوٹل میں رہوں گا‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور نہایت روکھے انداز میں کہا ’’ آپ اگر مزید ایک دن رک جائیں تو ہم کھانا اکٹھا کھائیں گے‘‘ میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا‘ چائے کا کپ میز پر رکھا‘ اپنا بیگ اٹھایا اور بیٹھک سے باہر نکل گیا‘وہ اپنی کرسی پر بیٹھ کر مجھے جاتے ہوئے دیکھتا رہا‘ اس نے مجھے خدا حافظ تک کہنا مناسب نہ سمجھا‘
میں شدید غصے میں تھا‘ میں وہاں سے مری روڈ پر آیا‘ وہاں سستاسا ہوٹل لیا‘ نیند کی گولی کھائی اور گہری نیند سو گیا۔میں اگلے دن بہاولپور واپس آ گیا مگر مجھے دوست کے رویے نے اندر سے بری طرح توڑ دیا‘ میں اس شخص کو دنیا کا بدتمیز ترین‘ غیر مہذب ترین اور مطلبی سمجھنے لگا‘ میں اپنے آپ کو بے وقوف بھی سمجھتا تھا اور اس بے وقوفی پر اپنے اوپر لعن طعن بھی کرتا تھا‘ میں دو ڈھائی سال تک اپنے ملنے والوں کو یہ واقعہ سناتا رہا اور لوگ مجھ سے ہمدردی اور اس شخص سے نفرت کرتے رہے‘ آپ بھی اگر اس صورتحال کا تجزیہ کریں تو آپ کو بھی مجھ سے ہمدردی اور اس شخص سے نفرت ہو جائے گی۔ میں طویل عرصے تک اپنے دل میں اس دوست کے خلاف نفرت پال کر پھرتا رہا لیکن پھر اس نفرت کا عجیب ڈراپ سین ہوا‘ میں یونیورسٹی سے فارغ ہو کر صحافت میں آگیا اور ایک دن وہ دوست ہمارے ایک مشترکہ دوست کے ساتھ میرے دفتر آ گیا‘ میں اسے دیکھتے ہی غصے سے ابل پڑا مگر وہ میرے گلے لگا اور نرم آواز میں بولا ’’آپ اپنے غصےکو چند منٹ کے لیے سائیڈ پر رکھ دو اور میری بات سن لو‘ اگر تم اس کے باوجود مجھے غلط سمجھو تو پھر تم اپنی نفرت کا سلسلہ جاری رکھ لینا‘ میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا‘ وہ بولا ’’ میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں‘ میری چھ بہنیں تھیں‘ والدین نے میری شادی 20 سال کی عمر میں کر دی‘میرے والدین پوتا چاہتے تھے لیکن شاید اللہ کو منظور نہیں تھا‘ میرے ہاں اوپر تلے تین بیٹیاں پیدا ہو گئیں مگر میں مایوس نہ ہوا‘ میں اپنے والدین کی خواہش پوری کرنا چاہتا تھا‘ میں25 سال کی عمر میں چوتھی بار باپ بن گیا ‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے اولاد نرینہ سے نوازا‘ میرا پورا خاندان خوش ہو گیا‘ میرا بیٹا خاندان بھر کی گود میں پل کر دو سال کا ہوا لیکن پھر اسے تیز بخار ہوا اور وہ میری گود میں بیٹھا بیٹھا فوت ہو گیا‘ میرے پورے خاندان کی جان نکل گئی‘‘ وہ خاموش ہوا اور میری طرف دیکھنے لگا‘ میرا غصہ ہمدردی میں بدلنے لگا‘ اس نےپوچھا ’’ آپ جانتے ہیں وہ بچہ کس دن فوت ہوا تھا‘‘ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا ۔ وہ بولا’’ وہ بچہ عین اس وقت فوت ہوا جب آپ رکشے سے اپنا سامان اتاررہے تھے‘‘ میری کنپٹی میں آگ لگ گئی‘ اس نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا ’’ میرے پاس اس وقت دو آپشن تھے‘ میں آپ کو اپنے دکھ میں شریک کرلیتا‘ آپ بھی ہمارے ساتھ سوگوار ہوجاتے اور آپ کی چھٹیاں خراب ہوجاتیں‘ دوسرا‘ میں آپ سے یہ خبر چھپا لیتا‘ آپ کو ہوٹل جانے پر مجبور کردیتا‘ آپ مجھ سے وقتی طور پر ناراض ہو جاتے لیکن آپ کی چھٹیاں اور وقت برباد نہ ہوتا‘ میں دوسرے آپشن پر چلا گیا‘ میں نے اپنے خاندان سے کہا میرا مہمان آیا ہے آپ کے رونے کی آواز بیٹھک تک نہیں جانی چاہیے‘ میں اسے واپس بھجواتا ہوں اور ہم اس کے بعد اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو اطلاع دیں گے‘‘وہ رکا‘ اس نے لمبی سانس لی اور بولا’’ میں نے آپ کے لیے ان حالات میں چائے کیسے تیارکروائی آپ اندازہ نہیں کرسکتے‘ میری بیوی‘ میری ماں اور میری بہنیں اندر منہ پر سرہانے رکھ کر رورہی تھیں اور میں آپ کے پاس بیٹھا تھا‘ میں بار باراندر جاکر انھیں چپ کرانے کی کوشش بھی کررہا تھا‘ میں اس وقت گہرے صدمے میں تھا چنانچہ مجھے آپ کی باتیں سمجھ نہیں آرہی تھیں‘ آپ جب ناراض ہوئے اور آپ نے اپنا سامان اٹھایا تو میری ٹانگیں بے جان ہو گئیں‘ میںآپ کے ساتھ اُٹھ کرباہر تک نہ جاسکا‘ میں کرسی پر بیٹھا رہا‘ آپ جوں ہی گلی سے باہر نکلے‘ میرے اندر سے چیخ نکلی اور اس کے بعد میرے پورے خاندان نے ماتم شروع کردیا‘ یہ گہرا صدمہ تھا‘ اس صدمے نے پہلے میری ماں کی جان لی اور اس کے چند ماہ بعد میرے والد بھی فوت ہوگئے‘ پھر میری بیوی بیمار ہوگئی اور میں پے درپے صدموں کا شکار ہوتا چلا گیا‘ میں اب ذرا سا سنبھلا ہوں تو میں اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کے لیے آپ کے پاس آگیا‘‘۔ وہ خاموش ہوا تو میری آنکھیں برسنے لگیں‘ میں اس کے صبر‘ اس کی ہمت پر حیران تھا‘ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی نعش اندر چھوڑ کرمیری خدمت کرتا رہا اور میں ڈھائی سال تک اسے مطلبی‘ جاہل‘ ظالم اور بدتمیز سمجھتا رہا‘ میں اس سے نفرت کرتا رہا.
ہم دوسروں کے بارے میں اتنی دیر میں رائے قائم کرلیتے ہیں جتنی دیر میں مرغی کا انڈا بوائل نہیں ہوتا.

Alhamdulillah Accused acquitted from the Honoarable court of SHAFIQUE ABBAS KALLIYA ASJ .FIA CaseU/s 36,37 ETO , 420/108...
14/09/2023

Alhamdulillah
Accused acquitted from the Honoarable court of SHAFIQUE ABBAS KALLIYA ASJ .
FIA Case
U/s 36,37 ETO , 420/108

Afrasyab Legal & Corporate Consultants
03039246042

06/03/2022

نے کورٹ میرج کرنے والوں کے حق میں بڑا فیصلہ سنادیا، *
اب کورٹ میرج کرنے والا جوڑا بیان زیر دفعہ 164 کسی بھی عدالت میں دے سکتے ھیں- اس بارے میں ہائیکورٹ نے باقاعدہ احکامات جاری کرتے ھوۓ تمام مجسٹریٹ کو مراسلہ بھی جاری کردیا ہے- جب لڑکا لڑکی پسسند کی شادی کرتے ہیں تووالدین لڑکے پر ایف ای آر درج کروادیتے ہیں جس کے بعد لڑکی کا 164 کا بیان مقامی مجسٹریٹ کے پاس ریکارڈ کروانا لازمی ہوتا تھا- تا ہم اب ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ لازمی نہیں کے بیان صرف مقامی مجسٹریٹ کے پاس ریکارڈ کروایا جائے بلکہ کسی بھی شہر کے مجسٹریٹ کے روبرو بیان ریکارڈ کروانے جا سکتے ہیں -
PLJ 2021 LHR . 645

Alhamdulillah bail granted to the accused/petitioner Mahmood Tahir in FIR No 1422/21 police station bhatti gate from the...
20/12/2021

Alhamdulillah bail granted to the accused/petitioner Mahmood Tahir in FIR No 1422/21 police station bhatti gate from the Honorable court of Balal Munir Warraich Magistrate District Court Lahore.

Advocate Mirza Absar

Justice prevail, very brave and honest judge.

AFRASYAB LEGAL & CORPORATE CONSULTANTS
03039246042

Address

SAF Center 8-Fane Road Near Lahore High Court
Lahore
54000

Telephone

+923039246042

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Afrasyab Legal & Corporate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Afrasyab Legal & Corporate:

Share