Vakeel.online

Vakeel.online Vakeel.online members are ranked in the leading legal directories .Headed By Adv Arfan Raikwal

Vakeel.online is a global alliance of independent law firms which offers their clients access to high calibre legal services in pakistan and all over the world.

فیصلہ بیرسٹر علی اشفاق لائسنس معطل  ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل، لاہور نے مورخہ 31 دسمبر 2025ء کو کراچی بار ایسوسی ای...
01/01/2026

فیصلہ بیرسٹر علی اشفاق لائسنس معطل
ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل، لاہور نے مورخہ 31 دسمبر 2025ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکرٹری کی جانب سے ارسال کردہ مراسلے پر غور کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا۔ کمیٹی کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں مسٹر علی اشفاق، ایڈووکیٹ، جو ایک ٹک ٹاکر مسٹر راجب بٹ کی نمائندگی کر رہے تھے، کراچی کی سٹی عدالتوں میں پیش ہوتے نظر آئے۔

یہ پیشی ایسے وقت میں ہوئی جب کراچی کی سٹی عدالتوں میں وکلاء کی جانب سے ہڑتال جاری تھی، جو سابق لائبریرین ناصر محمد کلہوڑو کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاجاً کی جا رہی تھی، اور اس دوران عدالتی کارروائی مکمل طور پر معطل تھی۔ اس کے باوجود مسٹر علی اشفاق کا نجی افراد/گارڈز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہونا ہڑتال کی خلاف ورزی اور پیشہ ورانہ ضابطۂ اخلاق کے منافی قرار دیا گیا۔

ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ مسٹر علی اشفاق نے اپنے مؤکل کے دفاع کے دوران وکلاء برادری کے خلاف بیانات دیے، جس کے نتیجے میں قانونی برادری کے اندر اختلافات، کشیدگی اور محاذ آرائی پیدا ہوئی، اور وکلاء کی اجتماعی ساکھ، اتحاد اور وقار کو شدید نقصان پہنچا۔

کمیٹی نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد یہ امر واضح کیا کہ مسٹر علی اشفاق پنجاب بار کونسل کے ساتھ بطور ایڈووکیٹ رجسٹرڈ ہیں اور بطور وکیلِ ہائی کورٹ بھی نامزد ہیں، لہٰذا وہ ہر حال میں اپنے پیشے کے وقار اور قانونی ضابطۂ اخلاق کی پاسداری کے پابند تھے۔ کمیٹی کے مطابق انہوں نے پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز رولز 1976ء کے رول 134 اور 175-A کی صریح خلاف ورزی کی، جو پیشہ ورانہ بدعنوانی کے زمرے میں آتی ہے۔

ان حقائق کی بنیاد پر ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ:
1. مسٹر علی اشفاق کا لائسنس برائے وکالت فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے؛
2. ان کا معاملہ ڈسپلنری کمیٹی پنجاب بار کونسل کو ارسال کیا جاتا ہے؛
3. ڈسپلنری کمیٹی قانون کے مطابق ان کے لائسنس کی مستقل منسوخی کے بارے میں کارروائی کرے گی۔

یہ فیصلہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ وکالت ایک باوقار پیشہ ہے جس میں نظم و ضبط، اجتماعی مفاد اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی ناقابلِ برداشت ہے، اور ایسے طرزِ عمل پر سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہوتی ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں 2005ء سے "غیر قانونی بے دخلی ایکٹ" نامی قانون نافذ ہے۔ یہ قانون مشرف ح...
24/12/2025

کیا آپ کو معلوم ہے کہ پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں 2005ء سے "غیر قانونی بے دخلی ایکٹ" نامی قانون نافذ ہے۔ یہ قانون مشرف حکومت نے خاص طور قبضہ مافیا اور کسی بھی شخص کو زبردستی، دھونس، دھمکی، جعلسازی یا غیر قانونی طریقے سے اس کی جائیداد کے قبضے سے محروم کرنے سے روکنے کیلئے بنایا تھا۔ اس قانون کے تحت غیر قانونی قابض کو قبضہ چھوڑنے کے حکم کے علاوہ 10 سال تک قید اور جرمانہ کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ مقدمہ براہ راست سیشن کورٹ میں چلتا ہے۔ سب سے اہم یہ کہ کیس کا فیصلہ فقط 60 دن میں کیا جانا ضروری ہے۔

ابتداء میں اعلی عدلیہ کے بعض فیصلوں میں کہا گیا کہ اس قانون کے تحت صرف قبضہ مافیا کیخلاف کیس کیا جاسکتا ہے، لہذا سائل کو پہلے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ ناجائز قابض، قبضہ مافیا ہے۔ البتہ گذشتہ سال سپریم کورٹ نے 'نیاز احمد کیس' میں قرار دیا کہ نہیں، اس قانون کے تحت کسی بھی ناجائز قابض کیخلاف کیس کیا جاسکتا ہے۔ جس کے بعد سے اب عدالتیں مزید موثر انداز میں اس قانون کے تحت شہریوں کو ان کی جائیدادوں کے قبضے واپس دلوا اور ناجائز قابضین کو سزائیں دےرہی ہیں۔

اب آپ بتائیں کہ ایسے قانون کی موجودگی میں کیا ایسے نئے قانون کی ضرورت تھی جس کے تحت ضلع کا ڈی سی اور ڈی پی او اپنی تمام تر انتظامی ذمہ داریاں چھوڑ کر محض پٹواری اور تحصیلدار کے بیانات پر لوگوں کی جائیدادوں اور ملکیت کا فیصلہ کرنے لگ جائیں۔

سوشل میڈیا پر اوور ایکٹنگ پر مبنی وڈیوز دیکھ کر آپ ایسے "سستے انصاف" کو ضرور سراہتے رہیں البتہ تصویر کا دوسرا مگر نہایت بھیانک رخ بھی دیکھیں کہ وہ سرکاری افسران (ڈی سی، ڈی پی او، اے سی، تحصیلدار اور پٹواری) جو سیاسی ودیگر بااثر شخصیات کے ایک فون پر ڈھیر اور ایک اشارہ ابرو پر تبادلہ کرا بیٹھیں،کیا وہ واقعی طاقتور قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی کرسکیں گے؟ ایک مظلوم شخص جو انکے پاس درخواست لیکر آئے جواب میں ظالم فریق فقظ ایک سیاسی فون کال سے اپنا قبضہ ہمیشہ کیلئے پکا نہیں کروالے گا؟ بہت سے مقدمات میں فریق مخالف خود ریونیو افسران ہوتے ہیں، کیا یہ افسران خود اپنے ہی خلاف فیصلہ کرسکیں گے؟

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بالکل ٹھیک ریمارکس دیے کہ اس نئے نویلے قانون کے تحت تو آدھے گھنٹے میں جاتی امراء بھی خالی کروایا جاسکتا ہے۔ مشہور قانونی ضرب المثل ہے کہ "جلد بازی میں کیا گیا انصاف، انصاف کو دفن کرنے کے مترادف ہے"۔ شہریوں کی قیمتی جائیدادوں کے فیصلے یوں جلد بازی میں کرنا، انصاف کا قتل کرنا ہی ہوگا۔ ہائیکورٹ نے نیا قانون معطل کردیا ہے، قوی امکان ہے کہ یہ برقرار بھی نہیں رہ سکے گا۔

19/12/2025

پنجاب غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کا آرڈیننس، 2025
ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی ، حقائق معلوم کرنے اور سہولت کاری کا ادارہ ہے، جسے بے دخلی، قبضہ چھڑانے یا قبضہ بحال کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

قبضہ سے متعلق کسی بھی قسم کے جابرانہ یا نفاذی اقدامات صرف آرڈیننس کی دفعات 16 اور 17 کے تحت مجاز ٹربیونل ہی کر سکتا ہے۔

دفعہ 9 کے تحت دیے گئے حفاظتی اختیارات محدود اور عارضی نوعیت کے ہیں، اور ان کا استعمال فریقین کو سننے کے بعد تحریری اور معقول وجوہات پر مبنی حکم کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

دفعہ 9 کے تحت اختیارات استعمال کرتے وقت DRC کسی مجاز عدالت کے جاری کردہ اسٹیٹس کو کے حکم کی سختی سے پابند ہوگی اور اس کے منافی کوئی حفاظتی حکم جاری نہیں کرے گی۔

DRC یا اس کے کسی رکن کی جانب سے زبانی یا جابرانہ ہدایات دینا قانونی اختیار کے بغیر ہے اور یہ قانون کے تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

WP No.15267/2025
غلام گیلانی آفتاب بنام حکومتِ پاکستان وغیرہ
جناب جسٹس احمد ندیم ارشد
فیصلہ مورخہ: 18-12-2025
2025 LHC 7739
Punjab Protection of Ownership of Immoveable Property Ordinance, 2025
The Dispute Resolution Committee (DRC) is a pre-adjudicatory, fact-finding and facilitative body and has no jurisdiction to order eviction, پنجاب غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کا آرڈیننس، 2025
ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی ، حقائق معلوم کرنے اور سہولت کاری کا ادارہ ہے، جسے بے دخلی، قبضہ چھڑانے یا قبضہ بحال کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

قبضہ سے متعلق کسی بھی قسم کے جابرانہ یا نفاذی اقدامات صرف آرڈیننس کی دفعات 16 اور 17 کے تحت مجاز ٹربیونل ہی کر سکتا ہے۔

دفعہ 9 کے تحت دیے گئے حفاظتی اختیارات محدود اور عارضی نوعیت کے ہیں، اور ان کا استعمال فریقین کو سننے کے بعد تحریری اور معقول وجوہات پر مبنی حکم کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

دفعہ 9 کے تحت اختیارات استعمال کرتے وقت DRC کسی مجاز عدالت کے جاری کردہ اسٹیٹس کو کے حکم کی سختی سے پابند ہوگی اور اس کے منافی کوئی حفاظتی حکم جاری نہیں کرے گی۔

DRC یا اس کے کسی رکن کی جانب سے زبانی یا جابرانہ ہدایات دینا قانونی اختیار کے بغیر ہے اور یہ قانون کے تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

WP No.15267/2025
غلام گیلانی آفتاب بنام حکومتِ پاکستان وغیرہ
جناب جسٹس احمد ندیم ارشد
فیصلہ مورخہ: 18-12-2025
2025 LHC 7739
Punjab Protection of Ownership of Immoveable Property Ordinance, 2025
The Dispute Resolution Committee (DRC) is a pre-adjudicatory, fact-finding and facilitative body and has no jurisdiction to order eviction, dispossession, or restoration of possession.
Coercive or executory measures affecting possession can only be undertaken by the Tribunal under Sections 16 and 17 of the Ordinance. Preventive powers under Section 9 are limited, temporary, and must be exercised through written, reasoned orders after hearing the parties.
While exercising powers under Section 9, the DRC must strictly adhere to any subsisting status-quo order of a competent court, and shall not pass any preventive order in conflict therewith.
Any oral or coercive direction by the DRC or its members is without lawful authority and violative of due process lawپنجاب غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کا آرڈیننس، 2025
ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی ، حقائق معلوم کرنے اور سہولت کاری کا ادارہ ہے، جسے بے دخلی، قبضہ چھڑانے یا قبضہ بحال کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

قبضہ سے متعلق کسی بھی قسم کے جابرانہ یا نفاذی اقدامات صرف آرڈیننس کی دفعات 16 اور 17 کے تحت مجاز ٹربیونل ہی کر سکتا ہے۔

دفعہ 9 کے تحت دیے گئے حفاظتی اختیارات محدود اور عارضی نوعیت کے ہیں، اور ان کا استعمال فریقین کو سننے کے بعد تحریری اور معقول وجوہات پر مبنی حکم کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

دفعہ 9 کے تحت اختیارات استعمال کرتے وقت DRC کسی مجاز عدالت کے جاری کردہ اسٹیٹس کو کے حکم کی سختی سے پابند ہوگی اور اس کے منافی کوئی حفاظتی حکم جاری نہیں کرے گی۔

DRC یا اس کے کسی رکن کی جانب سے زبانی یا جابرانہ ہدایات دینا قانونی اختیار کے بغیر ہے اور یہ قانون کے تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

WP No.15267/2025
غلام گیلانی آفتاب بنام حکومتِ پاکستان وغیرہ
جناب جسٹس احمد ندیم ارشد
فیصلہ مورخہ: 18-12-2025
2025 LHC 7739
Punjab Protection of Ownership of Immoveable Property Ordinance, 2025
The Dispute Resolution Committee (DRC) is a pre-adjudicatory, fact-finding and facilitative body and has no jurisdiction to order eviction, dispossession, or restoration of possession.
Coercive or executory measures affecting possession can only be undertaken by the Tribunal under Sections 16 and 17 of the Ordinance. Preventive powers under Section 9 are limited, , and must be exercised through written, reasoned orders after hearing the parties.
While exercising powers under Section 9, the DRC must strictly adhere to any subsisting sta@tus-quo order of a competent court, and shall not pass any preventive order in conflict therewith.
Any oral or coercive direction by the DRC or its members is without lawful authority and violative of due process lawdispossession, or restoration of possession.
Coercive or executory measures affecting possession can only be undertaken by the Tribunal under Sections 16 and 17 of the Ordinance. Preventive powers under Section 9 are limited, temporary, and must be exercised through written, reasoned orders after hearing the parties.
While exercising powers under Section 9, the DRC must strictly adhere to any subsisting status-quo order of a competent court, and shall not pass any preventive order in conflict therewith.
Any oral or coercive direction by the DRC or its members is without lawful authority and violative of due process law.
# # # #

18/12/2025

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گیا۔ بھکر کی عدالت نے کہا کہ زنا بالجبر ثابت ہوتا ہے اور ملزم کو 20 سال قید بامشقت اور متاثرہ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے اپیل خارج کر دی اور ملزم کی سزا برقرار رکھی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ زنا بالجبر نہیں، زنا بالرضا کا کیس تھا۔ ملزم کی سزا کم کر کے 5 سال قید بامشقت اور جرمانہ 5 لاکھ سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا۔ وجوہات جن کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا۔
1۔ مدعیہ نے واقعہ ہونے کے 7 ماہ بعد جرم کو رپورٹ کیا۔
2۔ مدعیہ کے مطابق وہ صبح ساڑھے 5 بجے کھیتوں میں گئی تو وہاں ملزم پہلے سے چھپا ہوا تھا۔ اس نے ریپ کر دیا۔ جہاں کا وقوعہ ہے وہاں ساتھ ہی آبادی بھی ہے۔ مدعیہ نے کسی قسم کا شور نہیں کیا۔ اس کے جسم پر مزاحمت کے کوئی نشان نہ تھے۔ کوئی زخم یا خراش کا نشان نہ تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے کپڑے جمع نہیں کروائے کہ اس سے پتہ چلتا کہ وہ پھٹے ہوئے تھے یا نہیں۔ ان پر کوئی سیمن تھا یا نہیں۔ خاتون 7 ماہ تک خاموش رہی۔ مبینہ وقوعہ کے بعد جس وقت وہ گھر آئی اس کے مطابق اس کے بھائی اور باقی گھر والے گھر پر موجود تھے۔ اس نے 7 ماہ تک اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔ ملزم کو کیسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت وہاں اکیلی آئے گی۔
3۔ اگرچہ پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے لیکن یہ ریپ نہیں بلکہ زنا بالرضا کا واقعہ ہے۔ ریپ ہوتا تو مزاحمت، شور، زخم، خراش کچھ نہ کچھ تو ہوتا۔
4۔ میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر نے یہ ضرور بتایا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اسے بھی کسی زخم وغیرہ کا کوئی پرانا نشان نہیں ملا۔
قانون کے طالبعلموں کیلئے: اگرچہ اس کیس میں 376 (ریپ) کی ایف آئی آر ہوئی تھی اور چارج بھی اسی دفعہ کے تحت فریم ہوا تھا لیکن سزا 496 بی (زنا بالرضا) میں تبدیل کر دی گئی۔ جو کہ اس جنرل اصول کی خلاف ورزی ہے کہ جس جرم کا چارج فریم ہو سزا بھی اسی میں ہو۔ اس اصول کی استثنی کیلئے آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 238(2) اور سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ 2006SCMR 1170 پڑھ لیں۔
طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور۔
03336669850
نوٹ: شیئر کردہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس صلاح الدین پنہور نے دیا ہے۔ جسٹس صلاح الدین نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا جس کی تفصیل ذیل میں ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جہاں اکثریتی معزز جج صاحبان نے ایک ریپ کے مقدمے میں سزا کم کرتے ہوئے جرم کی نوعیت میں تبدیلی کی، وہیں محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کا اختلافی نوٹ قانون، انصاف اور سماجی حقیقتوں کی ایک مضبوط اور باوقار ترجمانی کرتا ہے۔ یہ اختلاف محض قانونی نکات تک محدود نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی دباؤ اور فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں پر ایک گہری اور بصیرت افروز دستک ہے۔

یہ مقدمہ ایک تقریباً 24 سالہ غیر شادی شدہ خاتون سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون اس بچے کے حیاتیاتی والدین ثابت ہوئے۔ اکثریتی فیصلے میں سات ماہ کی تاخیر سے درج ایف آئی آر اور جسم پر تشدد کے نشانات کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر ریپ کے الزام کو کمزور قرار دیا گیا، تاہم محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے نہایت مدلل، قانونی اور انسانی بنیادوں پر اس سوچ سے اختلاف کیا۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب واضح کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ جرم کی عدم موجودگی نہیں بلکہ خوف، بدنامی، کردار کشی اور خاندانی دباؤ ہوتا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون کو عدالت سے پہلے اپنے ہی گھر میں اپنے کردار کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں تاخیر کو بدنیتی یا رضامندی سے تعبیر کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

خصوصاً اس مقدمے میں متاثرہ خاتون کم عمر، غیر شادی شدہ، والدین سے محروم اور اپنے بڑے بھائی پر انحصار کرنے والی تھی۔ ریکارڈ پر دھمکیوں کے شواہد بھی موجود تھے۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کے مطابق ایسے حالات میں خاموشی ایک فطری انسانی ردعمل ہے، نہ کہ جرم سے انکار۔ ان کے بقول یہ خاموشی اس وقت تک برقرار رہنا بالکل فطری تھا جب تک متاثرہ خاتون کو اپنے حمل کا علم نہ ہو سکا۔

جسم پر تشدد کے نشانات نہ ہونے کے نکتے پر بھی محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے ایک اہم قانونی اصول اجاگر کیا۔ اگر ملزم مسلح ہو تو مزاحمت نہ کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مزید یہ کہ سات ماہ بعد ہونے والا طبی معائنہ کسی جسمانی مزاحمت کے آثار محفوظ نہیں رکھ سکتا، جیسا کہ عدالتی نظائر میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے۔

ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے سائنسی بنیادوں پر اکثریتی فیصلے کی کمزوری واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی میں ڈی این اے کو بروقت extract کر کے محفوظ کیا جاتا ہے، جو برسوں تک قابلِ اعتماد رہتا ہے۔ محض buccal swab کے مبینہ طور پر ضائع ہونے کے امکان کو بنیاد بنا کر ڈی این اے رپورٹ کو مشکوک قرار دینا نہ سائنسی ہے اور نہ ہی قانونی طور پر درست۔

اختلافی نوٹ کا سب سے اہم اور حساس پہلو وہ ہے جہاں اکثریتی فیصلے میں ریپ (دفعہ 376 PPC) کو رضامندی پر مبنی فعل (دفعہ 496-B PPC) میں تبدیل کیا گیا۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ یہ دونوں الگ الگ جرائم ہیں جن کے اجزاء مختلف ہیں۔ اگر رضامندی ثابت نہیں تو محض سزا کم کرنے کے لیے جرم کی نوعیت بدلنا قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریپ ثابت نہ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رضامندی خودبخود ثابت ہو گئی۔

انہوں نے نہایت اہم سوال اٹھایا کہ اگر ڈی این اے رپورٹ ریپ کے الزام کے لیے ناقابلِ اعتبار سمجھی جا رہی ہے تو اسی رپورٹ کو رضامندی پر مبنی جرم کے لیے کیسے قابلِ قبول مانا جا سکتا ہے؟ قانون مفروضوں پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت پر عمل کرتا ہے۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ کا اختتام انسانی وقار کے قرآنی تصور پر کیا، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی عزت اور حرمت ہر قانونی بحث سے بالاتر ہے۔ یہ اختلافی نوٹ دراصل صرف ایک فیصلے سے اختلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ایک مضبوط اعلان ہے جو مظلوم کی خاموشی کو اس کے خلاف ثبوت بنا دیتی ہے۔

یہ اختلافی رائے مستقبل کے لیے ایک واضح رہنما اصول ہے کہ انصاف صرف شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں، انسانی نفسیات اور قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دیا جانا چاہیے۔ اگر خاموشی کو جرم اور کمزوری کو رضامندی سمجھا جائے تو یہ انصاف نہیں بلکہ خوف کی توثیق ہو گی۔

ہائی کورٹ کا ایک ولی صفت ججمیرے پاس چند دن قبل ایک ریٹائرڈ پولیس افسر آئے۔ ان کا چھوٹا سا مسئلہ تھا، میں نے ان کی جتنی م...
18/12/2025

ہائی کورٹ کا ایک ولی صفت جج
میرے پاس چند دن قبل ایک ریٹائرڈ پولیس افسر آئے۔ ان کا چھوٹا سا مسئلہ تھا، میں نے ان کی جتنی مدد کر سکتا تھا کر دی۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی تو میں نے ان سے زندگی کا کوئی حیران کن واقعہ سنانے کی درخواست کی۔
میری فرمائش پر انہوں نے ایک ایسا واقعہ سنایا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور میں نے سوچا، مجھے یہ آپ کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہیے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا: میں 1996ء میں لاہور میں ایس ایچ او تھا۔ میرے والد علیل تھے، میں نے انھیں سروسز اسپتال میں داخل کرا دیا۔ سردیوں کی ایک رات میں ڈیوٹی پر تھا اور والد اسپتال میں اکیلے تھے۔ اچانک ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ الٹیاں کرنے لگے۔
میرے خاندان کا کوئی شخص ان کے پاس نہیں تھا۔ وہ دو مریضوں کا کمرہ تھا، ان کے ساتھ دوسرے بیڈ پر ایک مریض داخل تھا۔ اس مریض کا اٹینڈنٹ موجود تھا۔ وہ اٹھا، اس نے ڈسٹ بین اور تولیہ لیا اور میرے والد کی مدد کرنے لگا۔ وہ ساری رات ابا جی کی الٹیاں صاف کرتا رہا۔ اس نے انھیں قہوہ بھی بنا کر پلایا اور ان کا سر اور بازو بھی دبائے۔ صبح ڈاکٹر آیا تو اس نے اسے میرے والد کی کیفیت بتائی اور اپنے مریض کی مدد میں لگ گیا۔ میں نو بجے صبح وردی پہن کر تیار ہو کر والد سے ملنے اسپتال آ گیا۔
اباجی کی طبیعت اس وقت تک بحال ہو چکی تھی۔ مجھے انھوں نے اٹینڈنٹ کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "رات میری اس مولوی نے بڑی خدمت کی۔" میں نے اٹینڈنٹ کی طرف دیکھا۔ وہ ایک درمیانی عمر کا باریش دھان پان سا ملازم تھا۔ میں نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا لیکن پھر سوچا، اس نے ساری رات میرے والد کی خدمت کی ہے، مجھے اسے ٹپ دینی چاہیے۔ میں نے جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور اس کے پاس چلا گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پانچ سو روپے پکڑانے لگا۔ وہ کرسی پر کسمسایا لیکن میں نے رعونت بھری آواز میں کہا: "لے مولوی، رکھ یہ رقم، تیرے کام آئے گی۔" وہ نرم آواز میں بولا: "نہیں بھائی نہیں، مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں۔ میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور تکلیف میں ہیں۔ میں فارغ تھا، لہٰذا میں اللہ کی رضا کے لیے ان کی خدمت کرتا رہا۔ آپ لوگ بس میرے لیے دعا کردیں، وغیرہ وغیرہ۔" لیکن میں باز نہ آیا، میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہر صورت اسے پیسے دے کر رہوں گا۔
پولیس افسر رکے، اپنی گیلی آنکھیں اور بھاری گلہ صاف کیا اور پھر بولے: "انسان جب طاقت میں ہوتا ہے تو یہ معمولی معمولی باتوں پر ضد باندھ لیتا ہے۔ یہ ہر صورت اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے بھی پیسے دینے کی ضد بنا لی تھی، مگر مولوی مجھ سے زیادہ ضدی تھا۔ وہ نہیں مان رہا تھا۔ میں اس کی جیب میں پیسے ڈالتا تھا اور وہ نکال کر کبھی میری جیب میں ڈال دیتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑا دیتا تھا۔"
میں نے اس دھینگا مشتی میں اس سے پوچھا: "مولوی یار تم کرتے کیا ہو؟" اس نے جواب دیا: "بس ایسے ہی لوگوں کی خدمت کرتا ہوں۔" وہ مجھے اپنا کام نہیں بتانا چاہتا تھا۔ میں نے اب اس کا ذریعہ روزگار جاننے کی ضد بھی بنا لی، اس سے بار بار اس کا کام پوچھنے لگا۔ اس نے تھوڑی دیر ٹالنے کے بعد بتایا: "میں کچہری میں کام کرتا ہوں۔" مجھے محسوس ہوا یہ کسی عدالت کا اردلی یا کسی وکیل کا چپڑاسی ہو گا۔ میں نے ایک بار پھر پانچ سو روپے اس کی مٹھی میں دے کر اوپر سے اس کی مٹھی دبوچ لی اور پھر رعونت سے پوچھا: "مولوی تم کچہری میں کیا کرتے ہو؟"
اس نے تھوڑی دیر میری طرف دیکھا اور پھر اپنے والد کی طرف دیکھا۔ لمبی سانس لی اور آہستہ آواز میں بولا: "مجھے اللہ نے انصاف کی ذمے داری دی ہے۔ میں لاہور ہائی کورٹ میں جج ہوں۔"
مجھے اس کی بات پر یقین نہ آیا، میں نے پوچھا: "کیا کہا؟ تم جج ہو!" اس نے آہستہ کہا: "جی ہاں، میرا نام جسٹس منیر احمد مغل ہے اور میں لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوں۔"
یہ سن کر میرے ہاتھ سے پانچ سو روپے گر گئے اور میرا وہ ہاتھ جو میں نے پندرہ منٹ سے اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا، وہ اس کے کندھے پر ہی منجمد ہو گیا۔
جسٹس صاحب نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے سے اتارا، کھڑے ہوئے، جھک کر فرش سے پانچ سو روپے اٹھائے، میری جیب میں ڈالے اور پھر بڑے پیار سے اپنے مریض کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "یہ میرے والد ہیں۔ میں ساری رات ان کی خدمت کرتا رہا، ان کا پاخانہ تک صاف کیا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔"
میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے، لہٰذا میں انھیں اپنا والد سمجھ کر ان کی خدمت کرتا رہا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (جاوید چودھری)
جسٹس ڈاکٹر منیر احمد مغل ہائی کورٹ لاہور کے جج تھے، مگر ان کا جنازہ ایک چھوٹے سے گھر سے اٹھا۔ ان کی رہائش بھاٹی گیٹ کی تنگ اور تاریک گلی میں تھی۔ چار کنال کے سرکاری بنگلے کو چھوڑ کر وہ بیوی اور چھ بچوں کے ساتھ سالہا سال ایک سال خوردہ کمرے میں مقیم رہے۔ ان کے مکان میں تین منزلیں تھیں: پہلی منزل پر ان کے بھائی رہتے تھے، دوسری منزل پر ایک بڑا کمرہ اور اس کے سامنے بالکونی تھی۔ تیسرے منزل کا ایک کمرا ان کے والد کے کمرے کے ساتھ جوڑا گیا تھا، جو دن میں بیٹھک اور رات کو خوابگاہ کا کام دیتا۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر احمد منیر مغل کے مطابق، تقسیم ہند کے بعد والد فیروز پور سے ہجرت کر کے لاہور آئے اور یہی تنگ سا مکان انہیں ملا۔ جسٹس مغل نے ساری زندگی محنت، عاجزی اور انکسار کے ساتھ گزاری۔
ان کے ایک دوست ڈاکٹر حافظ احمد خان نے ایک دفعہ ان سے حسرت بھرا استفسار کیا: "جناب، کیا میں بھی کبھی حج کر پاؤں گا"؟ مغل صاحب محبت آمیز طیش میں آ کر جو بولے وہ نہ صرف پورا بلکہ حرف بہ حرف پورا ہوا۔ فرمایا: ے احمد خان جاؤ، تم ایک نہیں 11 حج کرو گے". پھر احمد خان نے واقعی پورے 11 حج کیے۔
جسٹس منیر مغل نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی کی تفسیر پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا دوسرا پی ایچ ڈی جامعۃ الازہر مصر سے تھا، جس کے لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی۔ ان کے علاوہ ملکی و بین الاقوامی قوانین پر 24 کتابیں تصنیف کیں۔ وہ عدالت میں تیزی سے مقدمات نمٹانے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی عدالت میں انصاف کا انداز نہایت متاثر کن تھا۔ ایک مقدمے میں جب امیر لوگوں کے وکیل اور غریب استاد کا کیس آیا، جسٹس صاحب نے استاد کے احترام میں سارا دن عدالت کھڑے ہو کر مقدمات نمٹائے اور پانچ منٹ میں فیصلہ سنایا۔
جسٹس مغل والدین کی خدمت کے حوالے سے بھی مشہور تھے۔ ان کے سامنے یوں دست بستہ کھڑے ہوا کرتے تھے کہ گویا نماز کی نیت باندھ رکھی ہے۔ والد کے زیادہ بیمار ہونے پر انہوں نے بیڈ کے قریب گھنٹی رکھی تاکہ والد پاؤں سے دبائیں اور وہ فوراً پہنچ جاتے۔ اپنی بیوی اور بچوں کو بھی والد کے کام میں ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی علم، محنت اور والدین کی خدمت میں گزاری۔ عدالت میں بھی ان کا رویہ عاجزانہ اور ایماندارانہ تھا۔
15 اپریل 2024 کو یہ فرشتہ صفت دنیا سے رخصت ہوا۔ ن کی سادہ زندگی، عاجزی اور والدین کے لیے غیر معمولی خدمت آج بھی عدلیہ اور معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ اللہ قرب کے اعلیٰ مراتب سے نوازے۔
کاپی پوسٹ

پولیس کی زیادتی۔ جن جج صاحب کے دو سیب چوری ہوئے تھے ان کا مقدمہ خارج کر دیا۔
12/12/2025

پولیس کی زیادتی۔ جن جج صاحب کے دو سیب چوری ہوئے تھے ان کا مقدمہ خارج کر دیا۔

سال 1911 کی ایک ایف آئی آر۔ انگریز کا دور۔ تھانہ چھکڑالہ (ضلع وہاڑی) میں نمبردار سردار خان کا جرم یہ بتایا گیا کہ ایک مس...
11/12/2025

سال 1911 کی ایک ایف آئی آر۔ انگریز کا دور۔
تھانہ چھکڑالہ (ضلع وہاڑی) میں نمبردار سردار خان کا جرم یہ بتایا گیا کہ ایک مسافر ابا خیل میں آیا بیمار ہوا اور ایک بیری کے درخت کے نیچے فوت ہوگیا۔ پولیس نے پتہ کیا تو وہ شخص کیمبل پُور اٹک کا رہنے والا تھا۔ اس ایف آئی آر میں لکھا ہوا ہے کہ نمبردار صاحب آپکی ذمہ داری تھی کہ آپ اُس مسافر کا علاج کرواتے، اسے کھانا اور رہنے کی جگہ دیتے آپ کی غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے ایک انسان کی قیمتی جان چلی گئی ہے آپ کو اپنے علاقے کا پتہ ہی نہیں ہے۔

کاپیڈ۔

لاہور میں جج صاحب کے دو سیب چوری ہونے کا معاملہ ۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ۔
09/12/2025

لاہور میں جج صاحب کے دو سیب چوری ہونے کا معاملہ ۔
پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ۔

اطلاعات کے مطابق وہاڑی میں ہمارے بھائی ،نوجوان وکیل شبیر ڈھڈی کو پولیس نے گھر میں داخل ہو کر کزن سمیت قتل کر دیا - جھنگ ...
29/11/2025

اطلاعات کے مطابق وہاڑی میں ہمارے بھائی ،نوجوان وکیل شبیر ڈھڈی کو پولیس نے گھر میں داخل ہو کر کزن سمیت قتل کر دیا - جھنگ میں سینیئر وکیل سدھانہ صاحب کے بعد پنجاب میں وکیل صاحب کے قتل کا دوسرا واقعہ ہے جو انتہائی سنگین صورتحال کی نشان دہی کرتا ہے ملک میں۔ قانون کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے ہر طبقہ ریاستی فاشزم کی لپیٹ میں ہے پنجاب پولیس سٹیٹ بنک چکا ہے اور ہم سب غیر محفوظ ہیں اس افسوسناک صورتحال کا مقابلہ کر نے کے لیے ہم سب کو اکھٹے ہو کر لڑنا پڑے گا

18/10/2025

The Punjab Bar Council has introduced new rules under Rule 6.21 (sub-rule ###i) of the Punjab Legal Practitioners & Bar Council Rules, 2023, to preserve the dignity of the legal profession. Lawyers are now prohibited from using social media in ways that damage the seriousness and respectability of the profession. This includes:

Making TikTok videos, dancing, singing, modelling or using film dialogues while in uniform.

Display of wealth, power, guns/bodyguards in content that is public or self-promoting.

Using social media accounts (especially if the lawyer promotes themselves as a lawyer in the account name) in ways that conflict with the dignity of the profession.

Any breach of these norms will be considered professional misconduct and may lead to disciplinary action by the Punjab Bar Council.


















Address

Azeem Mention 3 Fane Road
Lahore

Telephone

+923454565500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Vakeel.online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category