The Legal Facts - TLF

The Legal Facts - TLF All Legal Consultancy & Legal Services

ہماری ماہر وکلاء کی ٹیم سے ریٹرن فائل کروانے یا این ٹی این بنوانے کے لیے اس نمبر پر واٹس ایپ کریں 03018985555 0300410763...
12/06/2022

ہماری ماہر وکلاء کی ٹیم سے ریٹرن فائل کروانے یا این ٹی این بنوانے کے لیے اس نمبر پر واٹس ایپ کریں
03018985555
03004107631

28/03/2022
‏سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کل ملک بھر کی عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیاسابق صدر سپریم کورٹ بار کامران مرتضی کیسات...
10/03/2022

‏سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کل ملک بھر کی عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

سابق صدر سپریم کورٹ بار کامران مرتضی کیساتھ بد تمیزی کی گئی،گرفتار کیا گیا، صدر احسن بھون

سپریم کورٹ بار کل جمعہ کو ملک بھر کی عدالتوں کا بائیکاٹ کرے گی، صدر احسن بھون

09/03/2022

مرد کے لیے نئی کار پہلی گرل فرینڈ کی طرح ہوتی ہے: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے کاریں بنانے والی کمپنی انڈس موٹرز کو حکم دیا ہے کہ صارف کو ناقص گاڑی فراہم کرنے پر ہرجانہ ادا کیا جائے۔
جسٹس سہیل ناصر نے 18 صفحات کے فیصلے کے ابتدائیے میں لکھا ہے کہ ’نئی کار پہلی گرل فرینڈ کی طرح ہوتی ہے جو آپ کو زندگی کے خوشگوار احساسات سے متعارف کراتی ہے مگر اس کے دور ہو جانے پر اس کی یاد ستاتی ہے۔‘

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صارف ملک اشفاق احمد کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جن کی نئی ٹویوٹا کرولا کار جو انہوں نے انڈس موٹرز کے ڈیلر سے ملتان میں خریدی تھی فیوز باکس میں نقص کے باعث مکمل طور پر جل گئی۔
ملک اشفاق احمد نے کار جل جانے پر کمپنی کے خلاف ڈیرہ غازی خان کی صارف عدالت (کنزیومر کورٹ) سے رجوع کیا جس نے مارچ 2014 میں ان کے حق میں فیصلے دیتے ہوئے انڈس موٹرز کو حکم دیا کہ 12 لاکھ 69 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرے۔
عدالت نے کار بیچنے والے ڈیلر کو بھی صارف کے قانونی چارہ جوئی پر اٹھنے والے اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
کار بنانے والی کمپنی نے صارف عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور استدعا کی کہ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔
ہائیکورٹ کے فیصلے میں مقدمے کے حقائق درج کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ صارف ملک اشفاق نے 15 جنوری سنہ 2010 میں نئی کار خریدی تھی جو صرف 15 دن بعد یکم فروری کو اس وقت جل کر خاکستر ہو گئی جب وہ مظفر گڑھ میں اپنی زمینوں پر کام کر رہے تھے۔
عدالت کو بتایا گیا تھا کہ کار میں آگ فیوز باکس کے ناقص ہونے کے باعث لگی۔ اور اس کی بجھانے کی کوشش میں صارف کا ہاتھ بھی جل گیا۔
دوران سماعت عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق کار میں آگ ایسے وقت لگی جب اس کا انجن بند تھا۔

مظفر گڑھ کے پولیس سٹیشن شاہ جمال میں مقدمہ درج کرنے کے بعد صارف ملک اشفاق جلی ہوئی کار کو ڈیلر کے پاس لے گئے جنہوں نے سروس ایڈوائزر (مکینک) سے معائنہ کرایا اور رپورٹ دی کہ گاڑی میں آگ فیوز باکس میں نقص کے باعث نہیں لگی تھی۔
عدالتی فیصلے کے ساتھ منسلک ریکارڈ کے مطابق صارف نے ڈٰیلر کے مکینک کی رپورٹ کو کنزیومر کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ہرجانے کی درخواست دائر کی۔
درخواست میں صارف ملک اشفاق نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کمپنی کو کار کی قیمت کے 13 لاکھ جبکہ ہاتھ جلنے کے علاج پر خرچ ایک لاکھ اور ذہنی اذیت کا شکار ہونے کے پانچ لاکھ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔
کمپنی نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ کار کے فیوز باکس میں نقص نہ تھا اور یہ کہ صارف نے کار میں مقامی الیکٹریشن کی مدد سے تبدیلی کی تھی جس کے باعث آگ لگی۔
صارف عدالت کے حکم پر گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ملتان کے سینیئر انسٹرکٹر فار وہیکلز ملک بشیر احمد نے کار جلنے کے معاملے پر اپنی ماہرانہ رپورٹ بھی جمع کرائی تھی۔
عدالت نے فیصلے میں انڈیا کی سپریم کورٹ کے ایک بین الاقوامی کار ساز کمپنی کے خلاف دیے گئے فیصلے کا بھی حوالہ دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سہیل ناصر نے انڈس موٹرز کی اپیل مسترد کرنے اور صارف عدالت کے حکمنامے کو برقرار رکھنے کے فیصلے میں سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے صارفین کے حقوق کے حوالے سے کانگرس میں کی گئی تقریر کے اقتباس بھی تحریر کیے ہیں۔
جسٹس سہیل ناصر کے فیصلے کے مطابق سابق امریکی صدر نے صارفین کے چار اہم حقوق گنوائے تھے جن میں حفاظت یا محفوظ رہنے کا حق، آگاہ کیے جانے کا حق، چننے کے اختیار کا حق اور سنے جانے کا حق شامل ہیں۔

“For a man, new car owned is like a first girlfriend who introduced us to the feelings of butterflies in the tummy and goose bumps across the skin. It is a relationship that can keep you up all night, building castles in the air. But when she is away and not found you miss her like the desserts miss the rain”
First Appeal Against Order No.128 of 2014
Indus Motor Company Ltd. & another Versus Malik Ishfaq Ahmad & another
Date of Hearing: 24.02.2022

06/03/2022

زمین اور جائیداد کے اہم اور کثرت سے استعمال ہونے والے قانونی اصلاحات جس کے بارے اکثر عوام زیادہ نہیں جانتے۔ آئیے آسان الفاظ میں جانتے ہیں۔

جمعبندی۔
حکومت زمین کی ملکیت کا باقاعدہ ایک رجسٹر رکھتی ہے جس میں زمین کے مالک کے کھاتہ نمبری، کھتونی نمبری اور خسرہ نمبر درج کرتی ہے۔ اس رجسٹر کو جمعبندی کہتے ہیں۔

مشتری
جو شخص زمین یاجائیداد خرید رہا ہوتا ہے اسے مشتری کہتے ہیں۔ "مشتری ہوشیار باش" آپ نے اکثر دیکھا ہوگا۔ مطلب یعنی مشتری جائیداد خریدتے ہوئے فراد یا دھوکے سے ہوشیار رہے

کھاتہ یا کھیوٹ۔
یہ انسان کی ملکیت کو ظاہر کرتا ہے ایک خاندان کی جتنی اپنی ملکیت ہوتی ہے کھاتہ کہلاتا ہے

کھتونی۔
یہ زمین کی کاشتکاری کو ظاہر کرتا ہے یعنی کہ اس زمین کو کس نے کاشت کیا ہے

خسرہ گرداوری۔
یہ زمین کے ٹکڑے پر قبضہ کو ظاہر کرتا ہے یعنی اس ٹکڑے پر کس کا قبضہ ہے اور اس حصے کی صورت حال بھی ظاہر کرتا ہے۔

ونڈے۔
افسر مجاز جب اراضی کی تقسیم کا حتمی نقشہ بناتا ہے اسے ونڈے کہتے ہیں

03/03/2022

PLD 2021 SC 894
ملزم کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری ملزم کی غیرحاضری کی بنیاد پر خارج ھو جانے پر ملزم کی جانب سے دوبارہ درخواست ضمانت قبل از گرفتاری صرف اس صورت میں دائر کی جا سکتی ھے اگر ملزم اپنی غیرحاضری کی معقول وجوہات بیان کرے

Maintainability of the second pre-arrest bail petition after dismissal of the first pre-arrest bail petition for non-appearance of the accused and lack of his satisfactory explanation for his non-appearance in the earlier pre-arrest bail petition.

If a pre-arrest bail petition is dismissed for non-appearance of the petitioner under Section 498-A CrPC, the second pre-arrest bail petition is maintainable only if the petitioner furnishes satisfactory explanation for his absence in the first petition. Only if the explanation is found satisfactory can the Court proceed further and decide the second petition on merits. However, if the explanation is found to be unsatisfactory, the second petition is not maintainable and is liable to be dismissed without going into the merits of the case.

02/03/2022

عمر قید سے مراد کتنے سال کی قید ہے؟ کیا جیل کی قید میں دن رات الگ الگ مانے جاتے ہیں؟
Life Imprisonment and Imprisonment in jail elaborated

پاکستان کے نظام انصاف کے تحت مجرم کو مختلف سزائیں دی جاتی ہیں جن میں سزائے موت، جرمانہ اور قید وغیرہ کی سزا شامل ہے۔ سزائے موت قتل یا دیگر سنگین نوعیت کے جرم میں دی جاتی ہے اور صرف جرمانہ عموماً معمولی نوعیت کے جرم میں ہوتا ہے جبکہ دیگر جرائم میں قید و بند کی سزا دی جاتی ہے۔ آج میں اسی قید کی سزا سے متعلق آپ کو بتاؤنگا۔ سب سے پہلے قید کی اقسام جان لیں۔ پاکستانی قانون کے مطابق قید کی دو بڑی اقسام ہیں۔ ایک سادہ قید جس کو simpe imprisonment اور دوسری قید بامشقت جس کو Rigorous imprisonment مطلب ایسی قید جس میں قیدی سے کام کروایا جاتا ہے۔ پرانے وقتوں میں اس سزا کے حامل قیدیوں کو کان کھودنے یا پتھر توڑنے کا کام لیا جاتا تھا.

قید کی سزا کتنے سالوں پر مشتمل ہوتی ہے؟

عمر قید جس کو انگریزی میں Life imprisonment کہا جاتا ہے پاکستانی قانون کے مطابق عمر قید کی سزا 25 سال ہوگی. اس بات کو کیس لا میں بھی واضح کیا گیا PLD 2017 page 22. ایک بات یاد رہے کہ پاکستان میں عمر قید سے مراد 25 سال قید ہے جبکہ یورپ امریکہ میں عمر قید میں اس شخص کو تمام عمر جیل میں رہنا پڑتا ہے اور اگر رہائی ملتی بھی ہے تو 60، 70 سال کی عمر ہونے کے بعد ملتی ہے اور اس طرح سے عمر قید کی سزا سزائے موت سے بھی بدتر ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں 25 سال قید بھی مشکل سے پوری ہوتی ہے کبھی عید کبھی رمضان یا دیگر مواقعہ پر قید کی سزا میں معافی ملتی رہتی ہے حکومت کی جانب یا صدر پاکستان کی جانب سے۔

کیا جیل کی قید میں دن رات دو دن شمار ہوتے ہیں؟

جی نہیں۔ یہ بالکل غلط بات ہے۔ ایک دن جیسے عام طور پر ہوتا ہے ویسے ہی قید میں ہوتا ہے. 10 سال قید کا مطلب ہے پورے 10 دس سال نہ کے 5 سال۔ جو قیدی 10 سال قید یا اپنی قید سے پہلے رہا ہو جاتے ہیں اسکی وجہ گورنمنٹ صدر پاکستان کی جانب سے عیدین رمضان یا دیگر تہواروں پر مہینہ 2 مہینے سزا معاف کرنے اس کے علاوہ سرکاری چھٹیوں کو بھی قید سے نکالنے کی وجہ سے ایک قیدی اپنی قید سے پہلے رہا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قیدی اگر جیل میں اپنا رویہ اچھا رکھے تب بھی اسکی سزا کم ہو جاتی ہے۔

دوران ٹرائل جو عرصہ قید میں گزرا وہ عرصہ بھی قید میں شامل ہوگا؟

جی۔ جو عرصہ دوران ٹرائل قید میں گزرا وہ عرصہ سزا سے نکال لیا جاتا ہے. 10 سال سزا ہوئی 2 سال ٹرائل چلا مجرم قید میں تھا اب 2 سال نکال کر 8 سال قید کی سزا ہوگی۔

مختلف جرائم میں مختلف سزا ہوئی کتنی سزا ملے گی؟

ایک مجرم کو 3 سال ایک جرم میں سزا ہوئی 3 سال دوسرے جرم میں تو اب وہ 6 سال کا عرصہ جیل میں نہیں بلکہ 3 سال کا عرصہ جیل میں گزارے گا۔ اس قانون کو وضع کیا گیا سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں.
2017 SCMR 307

12/02/2022

بےنامی Transaction میں یہ ثابت کرنا لازم ہے، کہ مدعا علیہ کے نام ہونے والی جائیداد بطورِ بے نامی خریدنے کی، کیا وجہ تھی.
(2019 MLD 545).
مدعی جو کہ Benami کا دعویٰ کرتا ہے، اسے ثابت کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے.
(2016 YLR 75).
بے نامی دار صرف اپنا نام دوسرے شخص کی جگہ دیتا ہے اور حقوق ملکیت رکھنے کے باوجود کوئی مفاد نہ لیتا ہے.
(2011 CLC 29).
بوقت خریداری جائیداد، مدعی تقریباً 25/24 سال کا تھا، اور اس کا کوئی ذریعہ آمدن نہ تھا، مدعی بے نامی دار تصور ہو گا.
(2010 CLC 1633).
بیوی نے تسلیم کیا، کہ اس کے خاوند کے کئی ذرائع آمدن ہیں اور خاوند نے جائیداد متدعویہ اس کے نام خریدی تھی، اور اس نے خاوند کی رقم سے تعمیرات کی تھیں، بیوی بے نامی دار تصور ہو گی.
(2007 CLC 92).

لاہور ہائیکورٹ #چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر علی بھٹی نے 34 ایڈیشنل سیشن ججز کو سیشن ججز کے عہدے پر ترقی دے دی #چیف جسٹس...
09/02/2022

لاہور ہائیکورٹ #

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر علی بھٹی نے 34 ایڈیشنل سیشن ججز کو سیشن ججز کے عہدے پر ترقی دے دی #

چیف جسٹس امیر علی بھٹی کی منظوری کے بعد نوٹیفیکیشن جاری #

A civil suit has 11 main stages from institution of the suit till its judgment, they are as under :-1) Institution of Su...
08/02/2022

A civil suit has 11 main stages from institution of the suit till its judgment, they are as under :-

1) Institution of Suit ( Order 4, 6 and 7 )

2 ) Issue of Summons ( section 28 Order 5 )

3 ) Filing of Written Statement Order 8 section 30

4 ) judgment on Admission Order 12

5) Examination of Parties Order 10

6) Settlement of Dispute through Section 89

7 ) Discovery & Inspection Order 11

8 ) Framing of Issues Order 14

09) evidence

10 ) Arguments Order 18 R 2 (3A)

11) Judgment Order 20

details under below

1. Plaintiff has to file the plaint complying the provisions in all respect as contemplated under Order 4 r/w Order 6 and 7 of the code.

2. Plaintiff has to get issue summons within 30 days from the institution of suit.

3. After the service of summons defendant has to file his written statement within 30 days from the receipt of summons as per Order 8 R 1 of the code.

4. if in statement defendant admits the claim of plaintiff then court has to pronounce the judgment on admission.

5. Within 10 days from the filing of written statement court has to examine the parties so as to explore the possibilities of compromise in between the parties and to refer the matter of settlement under section 89 of the code.

6. If parties fail to compromise the matter then court has to keep the matter for discovery and inspection as per Order 11 of the code.

7. thereafter Court has to frame the issues within 15 days as per Order 14 of the code.

8. after the issues frame Parties have to file the list of witnesses within 15 days from the date of framing of issues as per Order 16 of the code.

09. Plaintiff has to produce the evidence first as per order 18 thereafter defendant has to produce the evidence.

10. On completion of evidence, the Court, shall fix a date,. Not exceeding fifteen days, for hearing of arguments of parties.as per Order 18 R 2 (3A) of the code.

11. The Court shall, after the case has been heard, pronounce judgment in open Court, either at once or on some future day not exceeding thirty days, for which due notice shall be given to the parties or their advocates].as per Order 20 R 1 of the code.
copied

Address

Office#4, 1st Floor, Sadiq Plaza, The Mall
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923018985555

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Legal Facts - TLF posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Legal Facts - TLF:

Share

Category