Khizar Law Associates

Khizar Law Associates Serve legal education to everyone without any cost.

پولیس کی ناقص تفتیشکسی بھی مہذب معاشرے میں فوجداری نظامِ انصاف کا بنیادی مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا، مجرم کو سزا دینا ...
22/02/2026

پولیس کی ناقص تفتیش

کسی بھی مہذب معاشرے میں فوجداری نظامِ انصاف کا بنیادی مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا، مجرم کو سزا دینا اور بے گناہ کو انصاف دینا ہوتا ہے۔ اس پورے نظام میں پولیس کی تفتیش کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ مرحلہ ہے جس پر مقدمے کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اگر تفتیش مضبوط، غیر جانبدار اور سائنسی ہو تو انصاف کی فراہمی ممکن ہو جاتی ہے، لیکن اگر تفتیش ناقص، جانبدار یا غیر پیشہ ورانہ ہو تو انصاف کا پورا ڈھانچہ لرز کر رہ جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں پولیس کی ناقص تفتیش نہ صرف عدالتی نظام کو کمزور کر رہی ہے بلکہ ریاستی رٹ، عوامی اعتماد اور قانون کی بالادستی کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر چکی ہے۔
تفتیش کی اہمیت اور فوجداری نظام میں اس کا کردار
تفتیش فوجداری نظام کی بنیاد ہے۔ FIR کے اندراج سے لے کر چالان کی تیاری تک تمام مراحل اسی پر منحصر ہوتے ہیں۔ تفتیش ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے شواہد اکٹھے کیے جاتے ہیں، گواہان کے بیانات قلم بند کیے جاتے ہیں اور جرم کی اصل حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عدالت شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے، اور اگر یہ شواہد ہی ناقص ہوں تو انصاف کی توقع محض ایک خوش فہمی بن جاتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ “Justice is only as good as the investigation behind it.”
پاکستان میں پولیس تفتیش کا مجموعی منظرنامہ
پاکستان میں پولیس کا تفتیشی نظام نوآبادیاتی دور کی یادگار ہے، جسے عوامی خدمت کے بجائے کنٹرول کے آلے کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اگرچہ قوانین میں جزوی اصلاحات کی گئیں، مگر پولیس کا ڈھانچہ، مزاج اور طریقہ کار بڑی حد تک وہی رہا۔ جدید جرائم جیسے سائبر کرائم، مالی بدعنوانی، دہشت گردی اور منظم جرائم کے مقابلے میں یہ فرسودہ نظام بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے۔
پولیس کی ناقص تفتیش کے بنیادی اسباب
1۔ پیشہ ورانہ تربیت کا فقدان
پاکستان میں پولیس اہلکاروں کی اکثریت جدید تفتیشی اصولوں سے ناواقف ہے۔ تفتیش اب بھی اقبالی بیانات، زبردستی اعترافات اور روایتی انداز پر مبنی ہوتی ہے، حالانکہ جدید دنیا میں فرانزک سائنس، ڈی این اے، ڈیجیٹل شواہد اور سائنسی طریقۂ کار بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ناکافی تربیت تفتیش کو کمزور اور غیر مؤثر بنا دیتی ہے۔
2۔ سیاسی مداخلت اور بااثر دباؤ
پولیس کی ناقص تفتیش کی سب سے بڑی وجہ سیاسی اثر و رسوخ ہے۔ بااثر افراد کے خلاف مقدمات میں تفتیش کا رخ بدل دیا جاتا ہے، شواہد ضائع کر دیے جاتے ہیں یا بے گناہوں کو ملوث کر دیا جاتا ہے۔ پولیس افسران کی تقرری اور تبادلے بھی سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں، جس سے پیشہ ورانہ آزادی ختم ہو جاتی ہے۔
3۔ وسائل اور سہولیات کی کمی
پاکستان میں پولیس کو جدید آلات، فرانزک لیبارٹریز، ڈیجیٹل ڈیٹا تک رسائی اور تکنیکی ماہرین کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اکثر تفتیشی افسر ایک ہی وقت میں کئی مقدمات کی تفتیش پر مامور ہوتے ہیں، جس کے باعث وہ کسی ایک کیس پر پوری توجہ نہیں دے پاتے۔
4۔ کرپشن اور ذاتی مفادات
رشوت، ذاتی دشمنی، قبائلی و خاندانی دباؤ اور مفاد پرستی پولیس تفتیش کو شدید متاثر کرتی ہے۔ بعض اوقات تفتیشی افسر مالی فائدے کے لیے شواہد میں رد و بدل کرتے ہیں یا جھوٹے ملزمان نامزد کر دیتے ہیں، جس سے انصاف پامال ہوتا ہے۔
5۔ قانونی شعور اور عدالتی تقاضوں سے لاعلمی
اکثر پولیس اہلکار شہادت کے معیار، قانونی تقاضوں اور عدالتی نظائر سے مکمل واقفیت نہیں رکھتے۔ نتیجتاً تفتیش کے دوران ایسی خامیاں رہ جاتی ہیں جو بعد میں عدالت میں مقدمے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔
ناقص تفتیش کے سنگین اثرات
1۔ انصاف کا قتل
ناقص تفتیش انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ جب بے گناہ افراد کو سزا اور اصل مجرموں کو رہائی ملتی ہے تو یہ ریاستی نظام کے لیے اخلاقی شکست کے مترادف ہوتا ہے۔
2۔ عدالتی نظام پر دباؤ
کمزور تفتیش کے باعث مقدمات برسوں عدالتوں میں زیر التوا رہتے ہیں۔ عدالتیں بار بار پولیس کو تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیتی ہیں، جس سے انصاف میں تاخیر ہوتی ہے اور عدالتی نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔
3۔ عوامی اعتماد کا زوال
جب عوام کا پولیس اور عدالتی نظام سے اعتماد اٹھ جائے تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے لگتے ہیں۔ یہ رجحان معاشرتی انتشار، انتقامی کارروائیوں اور لاقانونیت کو جنم دیتا ہے۔
4۔ جرائم میں اضافہ اور عدم تحفظ
مجرموں کو سزا نہ ملنے سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے اور ریاست کی رٹ کمزور پڑ جاتی ہے۔
انسانی حقوق اور ناقص تفتیش
ناقص تفتیش اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث بنتی ہے۔ دورانِ تفتیش تشدد، غیر قانونی حراست اور زبردستی اعترافات جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں، جو آئینی اور اخلاقی اصولوں کے منافی ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ملزم کے حقوق پامال کرتا ہے بلکہ ریاست کو عالمی سطح پر بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔
تقابلی جائزہ: ترقی یافتہ ممالک میں تفتیش
ترقی یافتہ ممالک میں پولیس تفتیش سائنسی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ فرانزک سائنس، ڈی این اے ٹیسٹنگ، ڈیجیٹل فارنزکس اور پیشہ ورانہ تربیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تفتیشی افسران کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھا جاتا ہے اور ان کے لیے سخت احتسابی نظام موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سزا کی شرح زیادہ اور غلط فیصلوں کی شرح کم ہوتی ہے۔
اصلاحی اقدامات اور مستقبل کا لائحہ عمل
1۔ جدید اور مسلسل تربیت
پولیس افسران کو جدید تفتیشی تکنیک، فرانزک سائنس اور ڈیجیٹل شواہد کے استعمال کی مستقل بنیادوں پر تربیت دی جائے۔
2۔ پولیس کی حقیقی خود مختاری
سیاسی مداخلت کے خاتمے کے لیے پولیس کو انتظامی اور عملی خود مختاری دی جائے تاکہ تفتیش غیر جانبدار ہو سکے۔
3۔ وسائل اور ٹیکنالوجی کی فراہمی
پولیس کو جدید آلات، فرانزک لیبارٹریز اور تکنیکی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ شواہد سائنسی بنیادوں پر اکٹھے کیے جا سکیں۔
4۔ احتساب اور شفافیت
ناقص یا بدنیتی پر مبنی تفتیش کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
5۔ عدالتی نگرانی
تفتیش کے مراحل میں عدالتی نگرانی کو مؤثر بنایا جائے تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
نتیجہ
پولیس کی ناقص تفتیش پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف کا سب سے کمزور پہلو ہے۔ یہ نہ صرف انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ہے بلکہ ریاستی رٹ، عوامی اعتماد اور معاشرتی استحکام کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکی ہے۔ جب تک تفتیشی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، شفاف، غیر جانبدار اور جوابدہ نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک قانون کی بالادستی اور حقیقی انصاف محض ایک خواب ہی رہے گا۔ ایک مضبوط اور مؤثر تفتیشی نظام ہی پاکستان کو ایک محفوظ، منصفانہ اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

10/11/2025

پاکستان میں اصل مسئلہ آئینی ترامیم کا نہیں، بلکہ اُن کے پیچھے کارفرما نیتوں کا ہے۔دنیا کے مہذب معاشروں میں آئینی ترامیم کا مقصد عوام کی فلاح، اداروں کی مضبوطی، میرٹ کا فروغ اور ریاستی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوتا ہے۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر ترمیم کے پیچھے کوئی نہ کوئی مخصوص سیاسی مقصد، ذاتی مفاد یا کسی فردِ واحد کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کی نیت کارفرما نظر آتی ہے۔

چھیبسویں ترمیم اس کی تازہ مثال تھی، جس کے ذریعے نہ صرف جسٹس منصور علی شاہ کے ممکنہ راستے کو روکا گیا بلکہ ہم خیال ججز کے لیے سہولت کاری بھی کی گئی۔ اس ترمیم نے عدالتی تعیناتی کے نظام کو اس قدر متاثر کیا کہ میرٹ، دیانت اور اہلیت کے بجائے سیاسی وابستگی اور ہم خیالیت کو ترجیح دی گئی۔ یوں (separation of powers) یعنی "اختیارات کی علیحدگی" کے بنیادی اصول کو بری طرح مجروح کر دیا گیا۔

اب ستائیسویں ترمیم کے ذریعے ایک اور خطرناک راہ ہموار کی جا رہی ہے۔اس ترمیم کا مقصد بھی آئینی بہتری نہیں، بلکہ مخصوص شخصیات کو تحفظ دینا اور ایک ایسی ’’انتظامی عدالت‘‘ قائم کرنا ہے جو محض ایگزیکٹو کے فیصلوں پر مہرِ توثیق ثبت کرے۔ گویا عدلیہ کو خودمختار ادارہ بنانے کے بجائے، حکومت کی ماتحتی میں لانے کی ایک منظم کوشش جاری ہے۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے ناپسندیدہ ججز کو جبری ریٹائر کرنے کا اختیار حکومت کو دیا جا رہا ہے۔ یعنی آرٹیکل 209 کے دائرے سے باہر جا کر، کسی بھی جج کو حکومت کے اشارے پر ہٹایا جا سکے گا۔ یہ عدلیہ کی آزادی پر براہِ راست حملہ ہے۔

حکومت اور اس کے اتحادی یہ حقیقت شاید بھول رہے ہیں کہ اقتدار ہمیشہ ایک جگہ نہیں رہتا۔ آج جو ترامیم وہ اپنے مفاد میں کر رہے ہیں، کل کو انہی کے خلاف استعمال ہوں گی۔

تاریخ گواہ ہے کہ بدنیتی پر مبنی ہر آئینی ترمیم وقتی سہولت تو دیتی ہے، مگر طویل المدت نقصان پہنچاتی ہے۔ ریاستیں قوانین سے نہیں، نیتوں سے مضبوط ہوتی ہیں اور جب نیتیں ذاتی مفاد سے آلودہ ہوں، تو آئین بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔

23/09/2025

*NADRA is authorized to block the CNIC of absconder but on order by court only.*

نادرا کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالت کے حکم پر کسی بھی اشتہاری کا شناختی کارڈ بلاک کر دے۔
Citation:-
*2019 PCrLJ 126*

17/08/2025

اگر شوہر بیوی اور بچی کے خرچے میں ایک سال مکمل قید کاٹ لے تو کیا اسکے بعد اسکو دوبارہ سزا ہو سکتی ہے یا نہیں ؟

پاکستانی قانون (خصوصاً Code of Civil Procedure 1908, Order 21 Rule 37 تا 40 کے تحت) یہ بات طے ہے کہ:

اگر شوہر (judgment-debtor) بیوی یا بچوں کے نان و نفقہ (maintenance) کے کیس میں عدالتی حکم پر ادائیگی نہ کرے تو عدالت اس کو قیدِ دیوانی (civil imprisonment) میں بھیج سکتی ہے۔

قید اصل سزا نہیں بلکہ صرف ایک جبری طریقہ (coercive measure) ہے تاکہ وہ ادائیگی پر مجبور ہو۔

ایک دفعہ اگر وہ ایک سال کی زیادہ سے زیادہ قید کاٹ بھی لے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اصل رقم (خرچہ/ڈکری اماؤنٹ) ختم ہو گئی۔

جب تک واجب الادا نان و نفقہ کی رقم ادا نہیں ہوگی، عدالت اس کو دوبارہ بھی گرفتار اور قید کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر یہ خرچے ہر مہینے بنتے رہیں۔

بنیادی اصول

1. نان و نفقہ (Maintenance) کا خرچہ

یہ ایک continuing liability ہے (مسلسل ذمہ داری)۔

ہر مہینے نیا حق پیدا ہوتا ہے اور جب تک ادائیگی نہیں ہوگی، ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔

2. قید برائے نان و نفقہ

یہ قید اصل سزا نہیں، بلکہ civil imprisonment ہے جو Order XXI CPC میں بطور coercive measure دی جاتی ہے تاکہ شوہر ادائیگی پر مجبور ہو۔

ایک سال قید کاٹنے کے باوجود ڈگری (decree) کی رقم باقی رہتی ہے۔

🔹 متعلقہ دفعات

1. Order XXI Rule 37–40, Code of Civil Procedure 1908

Rule 37: عدالت شوہر (judgment-debtor) کو طلب کر سکتی ہے۔

Rule 40: اگر وہ ادائیگی سے انکار کرے تو قید میں بھیجا جا سکتا ہے۔

Explanation: قید زیادہ سے زیادہ ایک سال ہو سکتی ہے، لیکن رقم واجب الادا رہتی ہے۔

2. Section 58, CPC

دیوانی قید صرف non-payment پر ہے، یہ satisfaction of decree نہیں ہے۔
🔹 Double Jeopardy کے اصول کے تحت (Article 13(a) of Constitution of Pakistan 1973)

آئین کہتا ہے کہ کسی شخص کو ایک ہی جرم پر دوبارہ سزا نہیں دی جا سکتی۔

لیکن نان و نفقہ کے کیس میں:

یہ "جرم" (offence) نہیں ہے بلکہ civil liability ہے۔

ہر مہینے نیا cause of action بنتا ہے۔

اس لیے ہر نئی نادہندگی پر نیا جبر (civil imprisonment) ممکن ہے۔

15/04/2025

یہ فطرت کا طے شدہ اصول ہے کہ رات کے بعد دن ہوتا ہے۔ خزاں بہار کی طرف ایک راستہ ہے؛ شدید نمی ہمیشہ بارش کی پیشین گوئی ہوتی ہے۔ عدالت کی دہلیز مظلوم اور افسردہ لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ انصاف کے متلاشیوں کے لیے عدالتوں کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے، جہاں اور جب بھی بند ہوتے ہیں اور قانون کی بالادستی کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ تب معاشرہ کا وجود اس کرہ ارض پر قائم نہیں رہتا۔

25/03/2025

🔵 قانونی تجزیہ: اصول "Res Ipsa Loquitur"

👈تعارف:

۔"Res Ipsa Loquitur" ایک لاطینی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے "چیز خود بولتی ہے"۔ یہ ایک مستند قانونی اصول ہے جو اس وقت لاگو ہوتا ہے جب کسی حادثے یا نقصان کے بارے میں براہِ راست شواہد دستیاب نہ ہوں، لیکن حالات و واقعات بذاتِ خود اس امر کی نشاندہی کریں کہ یہ کسی کی غفلت (Negligence) کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اس اصول کی افادیت اس کی جامعیت اور اختصار میں مضمر ہے، جو اسے دیوانی قوانین میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔

👈اطلاق کی شرائط:

یہ اصول درج ذیل تین بنیادی شرائط پوری ہونے پر لاگو ہوتا ہے:

1. وہ شے یا صورتحال جس کے نتیجے میں نقصان پہنچا، مکمل طور پر مدعا علیہ (Defendant) کے اختیار و کنٹرول میں تھی۔

2. حادثہ ایسا تھا جو عمومی طور پر کسی کی غفلت کے بغیر وقوع پذیر نہیں ہو سکتا تھا۔

3. حادثے کے اسباب اور وقوع پذیر ہونے کے متعلق کوئی براہِ راست ثبوت دستیاب نہیں۔

اگر یہ شرائط پوری ہوں تو مدعا علیہ پر لازم ہوتا ہے کہ وہ عدالت کو قائل کرے کہ حادثہ اس کی غفلت کے بغیر پیش آیا۔

👈قانونی مفہوم اور استدلال:

یہ اصول عمومی طور پر دیوانی مقدمات (Civil Proceedings) میں لاگو ہوتا ہے، جہاں مدعی (Plaintiff) کو مدعا علیہ کی لاپرواہی کا براہِ راست ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ حادثے کے رونما ہونے کی بنا پر یہ مفروضہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ مدعا علیہ ذمہ دار ہے۔ تاہم، عدالت پر لازم نہیں کہ وہ اس مفروضے کو حتمی حقیقت کے طور پر تسلیم کرے بلکہ مدعا علیہ کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔

👈عدالت میں استدلال:

مدعی کو درج ذیل نکات ثابت کرنے ہوتے ہیں:

1. ایسا واقعہ عمومی طور پر لاپرواہی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔

2. نقصان کسی ایسی شے یا صورت حال کی وجہ سے ہوا جو مدعا علیہ کے مکمل کنٹرول میں تھی۔

3. مدعی نے خود کسی بھی طور پر اس حادثے میں اپنا کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

اگر مدعا علیہ ان نکات کی تردید میں کوئی مضبوط ثبوت پیش نہ کر سکے، تو عدالت مدعی کے حق میں فیصلہ دے سکتی ہے۔

👈عملی مثالیں:

یہ اصول عمومی انسانی تجربے پر مبنی ہے، کیونکہ بعض حادثات اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کسی کی لاپرواہی کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر:

اگر کسی عمارت کی چھت سے کوئی اینٹ راہگیر پر گر جائے، تو یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ عمارت کے مالک یا ذمہ دار فریق کی غفلت شامل رہی ہوگی۔

طبی غفلت (Medical Negligence) کے مقدمات میں، اگر سرجری کے بعد مریض کے جسم میں کوئی غیر متعلقہ شے (جیسے کہ کپاس یا آلات جراحی) رہ جائے، تو اس اصول کا اطلاق ممکن ہے۔

👈مدعا علیہ کا دفاع:

مدعا علیہ اپنے دفاع میں درج ذیل دلائل پیش کر سکتا ہے:

1. حادثہ کسی غیر متوقع اور ناقابلِ اجتناب عنصر کے باعث وقوع پذیر ہوا، جس میں مدعا علیہ کی کوئی غفلت شامل نہیں تھی۔

2. نقصان کسی دوسرے فریق یا خود مدعی کے اقدامات کی وجہ سے ہوا۔

3. کوئی اور ممکنہ وضاحت پیش کی جا سکتی ہے، جو مدعی کے استدلال کو کمزور کر سکے۔

👈محدود اطلاق اور عدالتی احتیاط:

بین الاقوامی سطح پر مختلف عدالتیں اس اصول کو محدود دائرہ کار میں لاگو کرتی ہیں اور صرف انہی مقدمات میں اس کا اطلاق کرتی ہیں جہاں انصاف کے تقاضے اور دستیاب شواہد اس کے اطلاق کو ناگزیر بناتے ہیں۔

👈حتمی تجزیہ:

"Res Ipsa Loquitur" ایک اہم قانونی اصول ہے جو مدعی کے لیے ایک سہولت پیدا کرتا ہے جب براہِ راست شواہد میسر نہ ہوں۔ تاہم، یہ مدعا علیہ کے خلاف قطعی ثبوت نہیں بلکہ ایک استدلالی مفروضہ فراہم کرتا ہے، جسے مدعا علیہ ٹھوس شواہد کے ذریعے مسترد کر سکتا ہے۔ عدالت اس اصول کو تبھی لاگو کرتی ہے جب تمام شرائط پوری ہوں اور واقعات کی نوعیت واضح طور پر لاپرواہی کی جانب اشارہ کرے۔

21/03/2025

قابلِ مطالعہ اہم عدالتی فیصلہ👇

مقدمہ: Crl. Misc. 10010-B-24
عنوان: محمد رمضان بنام ریاست و دیگر
مورخہ: 11-03-2025
معزز جج : جناب جسٹس محمد امجد رفیق
حوالہ: 2025 LHC 915

میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس میں عمومی طور پر Glasgow Coma Scale (GCS) کا ذکر پایا جاتا ہے۔ زیر نظر عدالتی فیصلہ میں GCS کی مکمل تعریف، اس کا اطلاق اور قانونی سکوپ نہایت وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

۔GCS میں کمی مریض کی ذہنی و دماغی حالت میں ابتری کی نشاندہی کرتی ہے، جو کہ عموماً سر کی چوٹ، فالج یا دماغی امراض کے باعث واقع ہو سکتی ہے۔

۔Glasgow Coma Scale (GCS) ایک سائنسی و طبی پیمانہ ہے جس کے ذریعے مریض کی ہوش کی کیفیت کو جانچا جاتا ہے۔ یہ پیمانہ مریض کے آنکھوں، الفاظ اور جسمانی حرکات کے ردعمل کی بنیاد پر اس کی شعور کی سطح کو پرکھتا ہے۔ GCS کی مجموعی درجہ بندی 3 سے 15 کے درمیان ہوتی ہے، جہاں 3 انتہائی گہری بے ہوشی (کوما) جبکہ 15 مکمل ہوش و حواس کی علامت ہے۔

یہ اسکیل 1974 میں یونیورسٹی آف گلاسگو (سکاٹ لینڈ) کے طبی ماہرین نے وضع کی، اور یہ عالمی سطح پر مریض کی دماغی کیفیت اور شعور کی جانچ کے لیے مستند معیار سمجھا جاتا ہے۔

🔹۔GCS تین بنیادی اجزاء پر مشتمل ہے:

👈1. آنکھوں کا ردعمل (Eye Response): مریض کی بیداری اور چوکسی کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔

👈2. جسمانی حرکت کا ردعمل (Motor Response): دماغ اور پٹھوں کے درمیان ربط کو جانچتا ہے اور اعصابی نظام کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔

👈3. الفاظ کا ردعمل (Verbal Response): سوچنے، یادداشت، توجہ اور اردگرد کے ماحول سے آگاہی جیسے دماغی افعال کی جانچ کرتا ہے۔

ہر جزو کو الگ نمبر دیا جاتا ہے اور پھر E, V, M کے نمبروں کو جمع کر کے مجموعی GCS سکور طے کیا جاتا ہے، مثلاً E2V3M4 کا مجموعہ 9 ہوگا۔

🔹میڈیکل لحاظ سے شعور کو پرکھنے کے لیے تین بنیادی پہلو ضروری ہیں:

👈۔ (i) بیدار ہونا: یعنی مریض آواز یا لمس سے بیدار ہو سکتا ہے یا نہیں۔

👈۔(ii) چوکنا ہونا: مریض لوگوں کی باتوں پر کیسے ردعمل دیتا ہے اور ماحول کو کس حد تک سمجھتا ہے۔

👈۔(iii) ماحول سے آگاہی: مریض کو اپنی شناخت، مقام اور وقت کا شعور ہے یا نہیں۔

🔹۔ "GCS سکور میں کمی درج ذیل اسباب کے باعث واقع ہو سکتی ہے:"

👈1. سر کی چوٹ (Traumatic Brain Injury): جس سے دماغ میں سوجن یا خون کا اخراج ہو سکتا ہے۔

👈2. فالج (Stroke): خون کی روانی میں رکاوٹ یا دماغی خون ریزی سے دماغی افعال متاثر ہو سکتے ہیں۔

👈3. دماغی انفیکشن/پھوڑے: دماغی سوجن اور دباؤ شعور پر اثر انداز ہوتا ہے۔

👈4. دیگر اعصابی امراض: مرگی، زہرخورانی یا کچھ ذہنی بیماریاں بھی GCS کو متاثر کر سکتی ہیں۔

👈5. جسمانی بے ترتیبی: آکسیجن یا خون کی کمی، شاک وغیرہ سے دماغی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

👈6. دوائیں/نشہ: سونے والی دوائیں یا نشہ آور اشیاء بھی شعور کو دبا سکتی ہیں۔

👈۔7. Intubation: مریض بولنے سے قاصر ہو تو صرف آنکھ اور حرکت کا ردعمل جانچا جاتا ہے اور "T" کا لاحقہ شامل کیا جاتا ہے۔

👈8. پہلے سے موجود بیماریاں: جیسے ڈیمنشیا، سماعت یا گفتار میں نقص۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ عمومی طور پر GCS میں کمی کا سبب سر کی چوٹ ہو سکتی ہے، تاہم موجودہ مقدمہ میں ڈاکٹر نے کسی سر کی چوٹ کا مشاہدہ نہیں کیا۔ لہٰذا، GCS ایک مکمل اور حتمی پیمانہ نہیں، بلکہ اس پر دیگر طبی معائنے اور شواہد کے ساتھ انحصار کیا جانا چاہیے، جن کا ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں تفصیلاً ذکر نہیں کیا۔ اس بنا پر عدالت نے معاملے کو ٹرائل کے دوران ڈاکٹر کی جرح پر چھوڑ دیا تاکہ گواہی کی روشنی میں درست نتیجہ اخذ کیا جا سکے۔

یہ فیصلہ قانونی حلقوں کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور GCS کے قانونی تجزیہ میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، خصوصاً جب کسی میڈیکولیگل رپورٹ یا گواہی کی بنیاد پر ملزم کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جا رہا ہو۔

18/02/2025

2025 LHC 151
Difference b/w adoption and Guardianship
یہ ثابت ہو چکا ہے کہ درخواست گزاروں نے نابالغ کے پیدائشی ریکارڈ میں اپنے والدین ہونے کا اندراج کروایا۔ اس حقیقت سے قطع نظر کہ یہ عمل نابالغ کے حقیقی والد کی رضامندی سے کیا گیا یا نہیں، یہ اقدام اسلامی احکام کے خلاف تھا، کیونکہ قرآن مجید واضح طور پر حکم دیتا ہے کہ گود لیے گئے بچے کو اس کے حقیقی والد کے نام سے پکارا جائے، جیسا کہ مریم بی بی اور مسز شہناز مائی کے مقدمات میں پہلے ہی بیان کیا جا چکا ہے۔

دورانِ دلائل، مدعا علیہ کے وکیل نے آگاہ کیا کہ مدعا علیہ نے پہلے ہی ایک دعویٰ دائر کر کے نابالغ کے پیدائشی ریکارڈ میں والدین کا اندراج درست کروا لیا ہے، چنانچہ یہ معاملہ پہلے ہی حل ہو چکا ہے۔

اس مقدمے کے حقائق اس امر کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان میں گود لینے کے حوالے سے کوئی قانونی ضابطہ موجود نہیں ہے اور اس قانون کو باقاعدہ بنانے کی ضرورت ہے۔ کئی ایسے معاملات ہو سکتے ہیں جہاں گود لینا ناگزیر ہو، لہٰذا ضروری ہے کہ اس حوالے سے ایک قانون نافذ کیا جائے۔

قانونی دفعات متعلقہ قوانین کی روشنی میں تجزیاتی جائزہ ۔۔۔۔
پاکستان میں گود لینے (Adoption) کا کوئی مخصوص قانونی فریم ورک موجود نہیں، تاہم اس معاملے پر شریعت، آئینِ پاکستان، اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ درج ذیل قانونی نکات اس حوالے سے اہم ہیں:

1. اسلامی قانون اور گود لینے کی ممانعت
اسلامی شریعت کے مطابق، گود لینا (Adoption) اس حد تک جائز ہے کہ کسی نابالغ بچے کی کفالت کی جائے، لیکن اس کے حقیقی والد کی نسبت تبدیل کرنا جائز نہیں۔

سورۃ الاحزاب (33:5) میں واضح حکم دیا گیا ہے کہ گود لیے گئے بچوں کو ان کے اصل والد کے نام سے پکارا جائے۔
سپریم کورٹ اور شریعت عدالت کے فیصلوں میں بھی یہی مؤقف اپنایا گیا ہے، جیسا کہ مریم بی بی بنام فیڈریشن آف پاکستان اور مسز شہناز مائی کیس میں ذکر کیا گیا ہے۔
2. آئینِ پاکستان 1973 کے تحت تجزیہ
آرٹیکل 227: تمام قوانین اسلامی احکامات کے تابع ہوں گے، لہٰذا کوئی بھی قانون جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہو، نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
آرٹیکل 35: ریاست بچوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی، جو یہ تقاضا کرتا ہے کہ نابالغوں کی کفالت کے لیے قانونی ضابطہ موجود ہو۔
3. نادرا اور شناختی قوانین کے مطابق والد کا اندراج
نادرا آرڈیننس 2000 کے تحت، کسی بھی شہری کا شناختی ریکارڈ اس کے اصل والد کے نام پر ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی نابالغ کے والد کا اندراج غلط کیا گیا ہو، تو اس کی تصحیح کے لیے قانونی چارہ جوئی ضروری ہے، جیسا کہ مذکورہ مقدمے میں کیا گیا۔
4. پاکستانی فیملی لا اور گود لینے کی ضرورت
پاکستان میں گود لینے کے حوالے سے کوئی مخصوص قانون نہیں ہے، جس کی وجہ سے عدالتوں کو مختلف بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی روشنی میں فیصلے دینا پڑتے ہیں۔
گارجین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 میں سرپرستی (Guardianship) کے اصول موجود ہیں، لیکن یہ مکمل گود لینے (Adoption) کی اجازت نہیں دیتا بلکہ صرف سرپرست مقرر کرنے کا قانون ہے۔
5. قانون سازی کی ضرورت
پاکستان میں بے سہارا اور یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے Adoption Law کی سخت ضرورت ہے، تاکہ:

گود لیے گئے بچوں کو ان کے اصل والد کے نام سے جوڑتے ہوئے قانونی حقوق فراہم کیے جا سکیں۔
بین الاقوامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کفالت (Guardianship) کا ایک واضح نظام بنایا جا سکے۔
مستقبل میں ایسے قانونی تنازعات سے بچا جا سکے جن میں والدین کی شناخت کا مسئلہ درپیش ہو۔
نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔
مندرجہ بالا قانونی نکات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں موجودہ قوانین کسی فرد کو گود لینے کا مکمل اختیار نہیں دیتے، بلکہ صرف کفالت اور سرپرستی (Guardianship) کا حق دیتے ہیں۔ موجودہ عدالتی نظائر اور شریعت کے اصولوں کے تحت، کسی نابالغ کے والد کی شناخت تبدیل کرنا غیر قانونی اور غیر اسلامی ہے۔ تاہم، ایسے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کو مناسب قانون سازی کرنی چاہیے۔

14/02/2025

قانونِ شہادت آرڈر کے آرٹیکل 133 اور ضابطہ فوجداری
کے سیکشن 540 کے تحت گواہان کے بیانات کے اندراج اور عدالت کے اختیارات👇

آرٹیکل 133 قانونِ شہادت آرڈر کے تحت یہ متعین کیا گیا ہے کہ گواہان کے بیانات کس طریقے سے ریکارڈ کیے جائیں گے، جب کہ سیکشن 540 ضابطہ فوجداری عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو طلب کر سکتی ہے، اس کا بیان لے سکتی ہے، اسے دوبارہ طلب کر کے جرح کر سکتی ہے، یا اس کا دوبارہ معائنہ کر سکتی ہے، اگر عدالت یہ سمجھے کہ مذکورہ گواہ کا بیان مقدمے کے منصفانہ فیصلے کے لیے ناگزیر ہے۔

عدالت کسی بھی مرحلے پر کسی بھی گواہ کو طلب کر سکتی ہے، بشرطیکہ وہ اس امر پر مطمئن ہو کہ اس گواہ کا بیان مقدمے کے منصفانہ فیصلے کے لیے اہم اور مؤثر ثابت ہوگا۔ اس دفعہ کے پہلے حصے میں عدالت کو اختیاری اختیار دیا گیا ہے، جب کہ دوسرے حصے میں یہ امر لازمی قرار دیا گیا ہے کہ اگر کسی گواہ کو دوبارہ طلب کرنا مقدمے کے منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری ہو، تو ایسا کیا جائے۔

◾️گواہ کو دوبارہ طلب کرنے کی ممانعت کے عوامل

تاہم، کچھ عوامل ایسے ہیں جو عدالت کو کسی گواہ کو دوبارہ طلب کرنے، دوبارہ جرح کرنے، یا دوبارہ معائنہ کرنے سے روک سکتے ہیں، مثلاً:

1. اگر کسی فریق نے جان بوجھ کر کوئی قانونی خلا (lacuna) چھوڑ دیا ہو اور بعد میں گواہ کو دوبارہ طلب کرنے کے ذریعے اس خلا کو پُر کرنا چاہے، تو یہ عمل عدالتی اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہوگا۔

2. کسی گواہ کو محض اس لیے دوبارہ طلب نہیں کیا جا سکتا کہ وہ فریق جو پہلے مناسب سوالات نہیں اٹھا سکا، اب اپنے کیس کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

◾️موجودہ مقدمے میں گواہ کو دوبارہ طلب کرنے کا جواز:

زیر نظر مقدمے میں سکندر صادق، اے ایس آئی کو 28-01-2023 کو بطور استغاثہ گواہ نمبر 5 (PW-5) پیش کیا گیا، جہاں انہوں نے ایف آئی آر کے اندراج کے حوالے سے بیان دیا، مگر انہوں نے تحقیقات کے ابتدائی دو دنوں کی کارروائی اور اس کے نتائج اپنے بیان میں ذکر نہیں کیے۔

یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ سکندر صادق، اے ایس آئی ابتدائی تحقیقات کے انچارج (I.O.) رہے، ایف آئی آر کا اندراج کیا، جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، متاثرہ فریق کا طبی معائنہ کروایا، ایک ملزم کو گرفتار کیا اور اس کا طبی معائنہ بھی کروایا۔

چونکہ تحقیقات کے دوران ان کی تیار کردہ دستاویزات پہلے ہی مقدمے کی فائل کا حصہ ہیں اور سیکشن 173 ضابطہ فوجداری کے تحت جمع کرائی جا چکی ہیں، لہٰذا ان کو دوبارہ طلب کرنے سے کوئی نیا ثبوت یا شواہد ریکارڈ پر نہیں آئیں گے۔ ان دستاویزات کو استغاثہ نے مقدمے میں نئے ثبوت کے طور پر متعارف نہیں کرایا، اس لیے گواہ کو دوبارہ طلب کرنے سے استغاثہ کے مقدمے میں کوئی غیر قانونی خلا پُر ہونے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔

علاوہ ازیں، گواہ کو دوبارہ طلب کرنے سے ملزمان کے حقِ دفاع پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ ایسا کرنا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضروری ہوگا۔

نتیجہ: مندرجہ بالا اصولوں کی روشنی میں، اس مقدمے میں گواہ کو دوبارہ طلب کرنا عدالت کے اختیارات کے جائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اس کا مقصد کوئی خلا پُر کرنا نہیں بلکہ مقدمے کو منصفانہ اور معقول بنیادوں پر مکمل کرنا ہے۔

29/01/2025

وکیل کا ڈاکٹر سے کراس ایگزامینیشن (جراح) ایک بہت اہم مرحلہ ہوتا ہے، خاص طور پر اگر کیس موت کی وجوہات پر منحصر ہو۔ وکیل کو ڈاکٹر سے سوال کرتے وقت ان نکات پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ڈاکٹر کی گواہی کے تضادات یا کمزوریاں سامنے آئیں۔

اہم نکات جو وکیل کو سوال کرتے وقت ذہن میں رکھنے چاہییں:

1. موت کی وجہ سے متعلق سوالات:

کیا آپ مکمل طور پر پُر اعتماد ہیں کہ موت کی یہی وجہ تھی؟

موت کی وجہ کے تعین میں کون سے عوامل شامل ہیں؟

کیا دیگر ممکنہ وجوہات کو رد کیا گیا؟

2. وقتِ موت کا تخمینہ:

آپ نے موت کا وقت کیسے طے کیا؟

کیا موت کے وقت کی نشاندہی میں کوئی غلطی ممکن ہے؟

Rigor mortis یا livor mortis کے شواہد میں کوئی تضاد ہے؟

کیا آپ نے کھانے کے ہضم ہونے کی حالت پر انحصار کیا؟

3. معائنہ اور طریقہ کار:

کیا آپ نے پوسٹ مارٹم کے تمام مراحل کو مکمل کیا؟

کیا کوئی جسمانی نمونے (خون، معدے کا مواد، وغیرہ) محفوظ کیے گئے؟

کیا کسی قانونی یا سائنسی اصول کی خلاف ورزی ہوئی؟

کیا تمام رپورٹ مکمل اور درست ہے؟

4. رپورٹ کے تضادات:

آپ کی رپورٹ میں فلاں نکات ایک دوسرے سے تضاد رکھتے ہیں۔ آپ کیا وضاحت دیں گے؟

کیا آپ نے حادثاتی موت یا خودکشی کو رد کیا؟

کیا زہر یا نشے کے شواہد کو مکمل طور پر خارج کیا جا سکتا ہے؟

5. قابلیت اور تجربہ:

کیا آپ نے پوسٹ مارٹم کے وقت کوئی معاونت لی؟

آپ کا پوسٹ مارٹم کا تجربہ کیا ہے؟

آپ نے اس مخصوص کیس میں کتنے گھنٹے کام کیا؟

6. دیگر عوامل:

کیا ماحول، موسم، یا دیگر بیرونی عوامل نے پوسٹ مارٹم کے نتائج کو متاثر کیا؟

کیا آپ کو پولیس یا کسی دوسرے شخص نے کیس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی؟

---

کچھ اہم قانونی اصول:

وکیل کو سوال کرتے وقت:

ڈاکٹر کی گواہی میں تضادات تلاش کرنے چاہییں۔

ڈاکٹر کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے (اگر شک ہو)۔

سائنسی یا تکنیکی اصولوں میں کمی کو نمایاں کرنا ضروری ہے۔

رپورٹ کی مکملیت (completeness) پر زور دیا جا سکتا ہے۔

19/12/2024

Society wins not only when the guilty are convicted but when the criminal trials are fair; our system of the administration of justice suffers when any accused is treated unfairly.”

05/12/2024

نکاح کے دوران پیدائش----نسب کا حتمی ثبوت:👇

آرٹیکل 128 قانو نِ شہادت آرڈر 1984:

آرٹیکل 128 قانو نِ شہادت آرڈر 1984 کے مطابق، اگر کسی عورت کے ہاں بچے کی پیدائش نکاح کے دوران یا طلاق کے دو سال کے اندر ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ طلاق کے بعد غیر شادی شدہ رہے، تو یہ بچے کی قانونی حیثیت کا حتمی ثبوت ہوگا۔ یہ ایک ایسا حقائق ہے جو "حتمی ثبوت" کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے خلاف کوئی شہادت پیش نہیں کی جا سکتی۔

آرٹیکل 2(ف)(9) قانو نِ شہادت آرڈر 1984 کے تحت، جب ایک حقیقت کو دوسرے حقیقت کا حتمی ثبوت قرار دیا جائے تو عدالت ایک حقیقت کے ثابت ہونے پر دوسری حقیقت کو ثابت سمجھے گی اور اسے جھٹلانے کے لیے کوئی شہادت پیش کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ آرٹیکل 128 کے تحت اگر کسی بچے کی پیدائش اس مدت کے دوران ہوتی ہے تو یہ اس بات کا حتمی ثبوت ہوگا کہ وہ جائز بچہ ہے۔ نکاح کے آغاز، طلاق کی تاریخ اور بچے کی پیدائش کی تاریخ جو آرٹیکل 128 کے تحت دی گئی مدت میں آتی ہے، ثابت ہونے کے بعد عدالت کسی قسم کی شہادت کو قبول نہیں کرے گی جو بچے کی جائز حیثیت کو جھٹلا سکے۔

آرٹیکل 128(1)(ا) میں ذکر ہے کہ اگرچہ نکاح کے دوران یا طلاق کے دو سال کے اندر بچے کی پیدائش جائزیت کا حتمی ثبوت ہے، لیکن مخصوص حالات میں شوہر بچے کی ولدیت کو تسلیم نہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شوہر بچے کی ولدیت کو کس وقت تسلیم نہ کرنے کا حق رکھتا ہے؟

شریعت ایکٹ 1962 کا سیکشن 2
مغربی پاکستان مسلم پرسنل لاء (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ 1962 کے سیکشن 2 کے تحت، "کسی بھی رسم و رواج یا رواج کے باوجود، ... جائزیت یا ناجائزیت سے متعلق تمام معاملات میں، مسلم پرسنل لاء (شریعت) فیصلہ کا اصول ہوگا، بشرطیکہ موجودہ قانون کے تحت کوئی اور حکم نہ ہو۔"

شریعت کے اصولوں کے مطابق، بچے کی ولدیت کو فوری طور پر بچے کی پیدائش کے فوراً بعد یا نفاس کی مدت (زیادہ سے زیادہ 40 دن) کے اندر تسلیم نہ کرنے کی اجازت ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام محمد، اور امام یوسف کے مطابق، اس مدت کے بعد ولدیت کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی قانونی گنجائش نہیں۔ یہ اصول فتاویٰ عالمگیری اور ہدایہ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

معاشرتی اور اخلاقی پہلو
یہ اصول خواتین اور معصوم بچوں کی عزت و وقار اور خاندانی نظام کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔ جب بھی گزارہ الاؤنس کا دعویٰ دائر کیا جاتا ہے، اکثر مرد بچے کی ولدیت کو جھٹلاتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کی درخواست کرتے ہیں۔ یہ عمل عدالت کے نظام اور بچوں کی فلاح کے خلاف ہے اور اسے سختی سے روکنا چاہیے۔

Address

Street No. 4, Shah Din Park, Shad Bagh
Lahore

Telephone

+923008898372

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khizar Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Khizar Law Associates:

Share