Solicitors’ Company

Solicitors’ Company Law firm provide the legal advice, legal services or all other service related to law just like tax

پڑھیے جب ایک نائی نے استرے سے بلیڈ نکال کر عوام کی جیبوں کو کترنا شروع کیا ساہیوال میں ایف آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن: بینک...
24/08/2026

پڑھیے جب ایک نائی نے استرے سے بلیڈ نکال کر عوام کی جیبوں کو کترنا شروع کیا

ساہیوال میں ایف آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن: بینک فراڈ اور اسکیمنگ میں ملوث خطرناک گروہ کا ملزم گرفتار

​ساہیوال (ترجمان ایف آئی اے):

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کمپوزٹ سرکل ساہیوال نے آن لائن بینک فراڈ، کارڈ اسکیمنگ اور ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ایک بین الاضلاعی خطرناک گروہ کا سراغ لگاتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے فیصل آباد زون کی ہدایت اور ڈپٹی ڈائریکٹر ساہیوال کی زیر نگرانی کی جانے والی اس کارروائی میں گروہ کا ایک مرکزی ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے نیٹ ورک کا گھیراؤ تنگ کر دیا گیا ہے۔

​گرفتاری اور برآمدگی کی تفصیلات

ایف آئی اے کی ٹیم نے جی ٹی روڈ لاری اڈا ساہیوال کے قریب بروقت اور کامیاب چھاپہ مار کر ملزم محمد صابر ولد غلام رسول کو اس کی گاڑی (نمبر 5624 LEA) سمیت گرفتار کر لیا۔ تلاشی کے دوران ملزم کے قبضہ سے درج ذیل سامان برآمد ہوا:

​ڈیجیٹل آلات: ایک جدید ترین آئی فون 17 پرو میکس (iPhone 17 Pro Max) جس سے اسکیمنگ ڈیٹا، جعلی کال ریکارڈز اور ڈیجیٹل کرنسی (کرپٹو و دیگر) کی ٹرانزیکشنز کا سنگین ریکارڈ ملا۔

​بینکنگ دستاویزات: جعلی بینک رسیدیں اور اے بی ایل (ABL) کا اے ٹی ایم کارڈ۔
​نقدی: 13 ہزار روپے کی نقد رقم۔

​طریقہ واردات اور منظم نیٹ ورک

ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گروہ "اوڈھ کمیونٹی" کے وسیع نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے جعلی ڈیجیٹل بینکنگ اور فون کالز کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دیتا تھا اور ان سے کروڑوں روپے کا فراڈ کر چکا ہے۔

​تفتیش کے دوران ملزم کے مزید 10 اہم ساتھیوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی ہوئی ہے، جن کا تعلق لاہور، کراچی، حافظ آباد اور دیگر شہروں سے ہے:

​لاہور (مقدس کالونی/پنڈ آرائیاں): محمد انور نائی، محمد یونس، محمد شہباز
​کراچی: جاوید اور عمران
​دیگر ملزمان: عمران (حافظ آباد)، قاری خالد سلیم، محمد اشرف راسہ، اور محمد انور راسہ

​قانون کارروائی اور ایف آئی آر

ایف آئی اے ساہیوال کے ایس ایچ او چوہدری خالد سعید وتھرا کی مدعیت میں تمام 10 ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 01/2026 درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 419 (روپ دھار کر دھوکہ دہی)، 420 (دھوکہ دہی) اور 109 (اعانت) کے ساتھ ساتھ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ (FERA) 1947 کی ترمیم شدہ دفعات 4، 5، 8 اور 23 بھی شامل کی گئی ہیں۔

​اس کامیاب کارروائی میں ایس ایچ او چوہدری خالد سعید، ایف سی محمد ارسلان اور ایف سی عمران ہرل کی مشترکہ کاوشیں نمایاں رہی ہیں۔

​عوامی ردعمل

ساہیوال کے شہری حلقوں نے آن لائن مالیاتی فراڈ اور اسکیمنگ نیٹ ورک کے خلاف ایف آئی اے کی اس تیز رفتار اور بروقت کارروائی کو انتہائی سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے گروہوں کے تمام کارندوں کو کیفیر کردار تک پہنچا کر ڈیجیٹل اور مالیاتی جرائم کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

23/08/2026

Multan

*شہری سے ناروا سلوک پر فوری احتساب، 3 پولیس اہلکار گرفتار، حوالات میں بند*شہری شکیل آفریدی کی شکایت پر ڈی آئی جی آپریشنز...
22/08/2026

*شہری سے ناروا سلوک پر فوری احتساب، 3 پولیس اہلکار گرفتار، حوالات میں بند*

شہری شکیل آفریدی کی شکایت پر ڈی آئی جی آپریشنز کا فوری ایکشن

ہیڈ کانسٹیبل توقیر، کانسٹیبلز اسد اور عمران کو شہری کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور رقم لینے پر گرفتار، ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز

اہلکاروں پر مبینہ طور پر بلاجواز ہراساں کرکے 3 ہزار 500 روپے لینے کا الزام، ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز

شکایت موصول ہوتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی اقبال ٹاؤن کو فوری اور شفاف انکوائری کا حکم دیا

انکوائری میں اہلکاروں کے مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آئے، ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز

شواہد کی روشنی میں تینوں اہلکار گرفتار، تھانہ نوانکوٹ میں مقدمہ درج، ترجمان

گرفتار اہلکار ہیڈ کانسٹیبل توقیر، کانسٹیبل اسد اور عمران کو حوالات میں بند کردیا گیا، ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز

پولیس اہلکار قانون سے بالاتر نہیں، اختیارات کے ناجائز استعمال پر بلاامتیاز احتساب ہوگا، فیصل کامران

پولیس میں اختیارات کے ناجائز استعمال کی کوئی گنجائش نہیں، ڈی آئی جی آپریشنز

شکایت پر فوری اور میرٹ پر کارروائی یقینی بنائی جا رہی ہے، ڈی آئی جی آپریشنز.......

22/08/2026

Vehari

سپریم کورٹ کی اہم آبزرویشنزایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیس میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے کیس فکسنگ سسٹم پر ...
21/08/2026

سپریم کورٹ کی اہم آبزرویشنز

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیس میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے کیس فکسنگ سسٹم پر اہم سوالات اٹھا دیے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ “سسٹم کو پوری طرح ایکسپوز ہونے دیں”، جبکہ عدالت نے سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔

سپریم کورٹ نے مزید سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ آئندہ سماعت پر یا فیصلہ ہوگا یا درخواست گزار کیس واپس لیں گے۔

پی ٹی اے نے نیا چن چڑھا دیا ہے ۔۔ پچھلے تین چار دن سے PTA یہ مسیج بھیج رہا ہے مجھے تو سمجھ نہی ارہی اس سے کیا فائدہ ہو گ...
21/08/2026

پی ٹی اے نے نیا چن چڑھا دیا ہے ۔۔

پچھلے تین چار دن سے PTA یہ مسیج بھیج رہا ہے مجھے تو سمجھ نہی ارہی اس سے کیا فائدہ ہو گا ۔۔ جو سم واٹس ایپ پر ہو گی وہی موبائل میں اس وقت ایکیٹو ہو ۔۔ تو پھر واٹس ایپ چلے گا ورنہ بند کر دیا جاے گا ۔

اگر سم نکالی واٹس ایپ بند اگر تو یہ فراڈ کو روکنے کا طریقہ ہے کہ کوی دوسرا شخص کی سم پر واٹس ایپ نہ بنا سکے اب جو شخص کی سم پر واٹس ایپ بنا کر اس کا کوڈ لے سکتا ہے وہ سم نہی ڈال سکتا اپنے موبائل سے ۔۔

ہر شہر میں فراڈ کرنے والوں کو یہ سمیں نکلوانے والے دس ہزار کی سم فروخت کر رہے ہیں ۔۔ عوام کو پتہ ہی نہی انکے نام پر سم چل رہی ہے واٹس ایپ پر اور فراڈ ہو رہا ہے ۔ وہ تو ویسا چلتا رہے گا ۔۔

یا پھر عوام کے واٹس ایپ تک رسای حاصل کرنا ہے اگر ایسا ہے تو واٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکپریشن اور ڈیٹا پرائیویسی کا دعوی کہاں جاے گا ۔۔

بیرون ملک کی سم تو یہاں نہی چلتی تو کیا پاکستان انے پر انکا بھی واٹس ایپ بند ہو جاے گا ؟

اپکو کیا لگتا ہے حکومت نے یہ قانون کس مقصد کیلے بنایا ہے ؟ اور عوام کیلے یہ کیسا ہے قانون ؟

21/08/2026

Multan to Vehari on vehari road

24/02/2026
07/02/2026

The employee was eligible for promotion; however, the department delayed the convening of the Departmental Promotion Committee (DPC) for a period of two years. The Honourable Supreme Court has categorically held that an employee cannot be penalized for the delay attributable to the department. Consequently, the employee is entitled to be granted promotion with effect from the date on which he originally became eligible.
2026 PLC (C.S.) 60

Send a message to learn more

14/01/2026

PLD 2021 Lahore 757

A noteworthy judgment by the Lahore High Court, Lahore, on khula, talaq, and annulment of marriage.

Facts of the case:
The woman filed a petition in the Family Court, claiming that her relationship with her husband was not working, that he physically abused her, and so on. She requested that her dower (mehr) of over three million and other dowry items be returned to her, and that the court grant her a divorce, i.e., annul the marriage.

The Family Court, while deciding the matter, ordered khula instead of annulling the marriage, and directed the woman to waive her right to the dower. The woman filed an appeal, but the appellate court upheld the same decision, leaving her with no choice but to approach the High Court under writ jurisdiction.

Court’s ruling:
The honorable court held that khula is a wife’s Shariah right, and the court does not have the authority to force anyone to grant it. If the wife is seeking annulment of marriage (tanfiz-e-nikah) rather than khula, the court cannot grant khula instead of annulment. In such cases, the court must examine the evidence and conduct a proper trial to determine the grounds on which a divorce or annulment may be granted.

Key points from the judgment:
1. The judge explicitly stated that even in the case of khula, if the wife agrees to khula but the husband refuses, the khula is not valid under Shariah or law. Shariah requires the husband’s consent for khula to be effective. (See paragraph 14 of the judgment)
2. The court further stated that if the reasons given by the wife for annulment are not proven, the court cannot on its own grant khula. The court must examine other valid grounds for annulment and base its decision on those grounds, not on khula. (See paragraph 12)
3. Additionally, paragraph 15 clarifies that a court cannot pass a khula order ex parte, i.e., in the absence of the husband. If the husband does not agree to the conditions proposed by the wife for khula, the court cannot issue the khula order until both parties agree on the conditions.
4. The court also emphasized that if the husband is incompatible with the wife, refuses to grant divorce, and treats the wife in such a way that she is forced to seek khula to preserve her dower, the court must be very cautious and carefully investigate who is at fault or committing injustice.

The judgment also referenced the Holy Quran and Sunnah in its reasoning.

Send a message to learn more

Address

Second Floor Nawa-i-Waqt 4 Queens Road Lahore
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Solicitors’ Company posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share