Pakistan Legal Alliance

Pakistan Legal Alliance Trusted legal ally. Expert advice, tailored solutions. Serving justice, protecting rights.
(35)

18/02/2026
LAW LAT & LAW G*T 2026 Preparation SessionAre you ready to secure your future in the legal profession?Join Pakistan Lega...
17/02/2026

LAW LAT & LAW G*T 2026 Preparation Session
Are you ready to secure your future in the legal profession?
Join Pakistan Legal Alliances for comprehensive preparation of:
✔️ Law Admission Test (LAT) – LL.B 5 Years
✔️ Law Graduation Assessment Test (G*T)
✨ What We Offer:
• Mock Testing Sessions
• Recorded LecturesNotes
• Complete Guidance & Mentorship
📞 Contact Now: 0305-4622125
Limited seats available – Register today!

*T2026

*TPreparation





تقسیم کا فیصلہ 60 دن میں ہو گاریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم (RCMS)کیسز کی سماعت اب کاغذی فائلوں کے بجائے الیکٹرانک طریقے پر ...
15/02/2026

تقسیم کا فیصلہ 60 دن میں ہو گا
ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم (RCMS)

کیسز کی سماعت اب کاغذی فائلوں کے بجائے الیکٹرانک طریقے پر ہوگی۔ سائلین گھر بیٹھے اپنی سماعت کی تفصیلات دیکھ سکیں گے۔

تقسیم کے مقدمات کی مدت میں کمی تقسیم کے مقدمات کے فیصلے کی مدت 180 دن سے کم کر کے 60 دن کر دی گئی ہے۔ اگر ریونیو آفیسر 60 دن میں فیصلہ نہیں کرتا تو کیس اسسٹنٹ کمشنر کو منتقل ہو جائے گا۔ وراثت کی تقسیم پنجاب بھر میں وارثان اپنے متوفی کی وراثت کو اشتراک کر کے آپس میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

ثالثی کمیٹی کا قیام تنازعات کے فوری حل کے لیے مقدمات ثالثی کمیٹی کو بھیجے جا سکیں گے۔

اپیل اور نگرانی دائر کرنے کی مدت

اپیل دائر کرنے کی مدت 30 دن مقرر کی گئی ہے اور فیصلہ بھی 30 دن کے اندر کیا جائے گا۔

مقدمات میں تاخیر کا خاتمہ

کارروائی میں تاخیر کا باعث بننے والے عوامل کو ختم کر دیا گیا ہے اور عبوری احکامات کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکے گی۔

پنجاب حکومت نے لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں ترامیم کا بل منظور کر لیا ۔

نوٹیفکیشن جاری

12/02/2026

#نامرد
"میرا شوہر نامرد ہے اور مُجھے خُلع چاہیے"وہ تنسیخِ نِکاح کا عام سا کیس تھا۔
اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی دو پیارے سے بچے تھے لیکن خاتون بضِد تھی کہ اُسکو ہر حال میں خُلع چاہیے، جبکہ میرا موکل مُدعا علیہ (شوہر) شدید صدمے کی کیفیت میں تھا،
ِجج صاحب اچھے آدمی تھے اُنہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لے جا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ مُدعا علیہ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مُدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اِس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتُون بات چیت کے لیے راضی ہوگئی۔
چیمبر میں دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:-
" ہاں خاتون ۔! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے"؟
" وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہے"
میں اُسکی بے باکی پر حیران رہ گیا ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اُس خاتُون کی کُچھ بات ہی الگ تھی۔
اُسکے شوہر نے ایک نظرِ شکایت اُس پر ڈالی اور میری طرف اِمداد طلب نظروں سے گُھورنے لگا، میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے۔
بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھا اور تیز تیز سوال کرنا شُروع کر دیے۔
جب اُس سے پُوچھا :-
" کیا آپکا اپنے مرد سے گُزارہ نہیں ہوتا" ؟
تو کہتی کہ:-
" ماشاءاللہ دو بچے ہیں ہمارے۔ یہ جسمانی طور پہ تو بالُکل ٹھیک ہیں"
" تو بی بی پِھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہُوئے"؟!!
میں نے استفسار کیا۔۔۔
وکیل صاحب! میرے بابا دیہات میں رہتے ہیں اور زمینداری کرتے ہیں ہم دو بہنیں ہیں میرے والد نے ہمیں کبھی"دھی رانی" سے کم بُلایا ہی نہیں جبکہ میرے شوہر مُجھے" کُتی" کہہ کے بُلاتے ہیں !!" یہ کونسی مردانہ صِفت ہے وکیل صاحب ؟- - "
مُجھ سے کوئی چھوٹی موٹی غلطی ہو جائے تو یہ میرے پُورے میکے کو گالیاں دیتے ہیں!! آپ ہی بتائیں کہ اِس میں میرے مائیکے کا کیا قصُور ہے ؟ یہ مردانہ صِفت تو نہیں نا کہ دُوسروں کی گھر والیوں کو گالی دی جائے !!
وکیل صاحب۔! میرے بابا مُجھے شہزادی کہتے ہیں اور یہ غُصے میں مُجھے " کنجری" کہتے ہیں !!
وکیل صاحب ! مرد تو وہ ہوتا ہے نا جو کنجری کو بھی اِتنی عزت دے کہ وہ کنجری نہ رہے اور یہ اپنی بیوی کو ہی کنجری کہہ کر پُکارتے ہیں !! یہ کوئی مردانہ بات تو نہیں ہوئی نا '
وکیل صاحب اب آپ ہی بتائیں کیا یہ مردانہ طور پر کمزور نہیں ہیں" ؟؟
میرا تو سر شرم سے جُھک گیا- اُسکا شوہر اُسکی طرف دیکھ کر بولا " اگر یہی مسئلہ تھا تو تُم مُجھے بتا سکتی تھی نا مُجھ پر اِس قدر ذہنی ٹارچر کرنے کی کیا ضرورت تھی"۔۔؟ شوہر منمنایا۔
" آپ کو کیا لگتا ہے آپ جب میری ماں بہن کے ساتھ کِسی ناجائز رِشتے کو جوڑتے ہیں تو میں خُوش ہوتی ہُوں۔۔؟
اِتنے سالوں سے آپکا کیا گیا یہ ذہنی تشدُد برداشت کر رہی ہُوں اِسکا کون حساب دے گا ؟!!
بیوی کا پارہ کِسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔۔
خیر جیسے تیسے مِنت سماجت کر کے سمجھا بُجھا کے اُنکی صُلح کروائی ۔۔
میرے موکل نے وعدہ کیا کہ وہ آئئندہ اب کبھی اپنی بیوی کو گالی نہیں دے گا اور پھر وہ دونوں چلے گئے۔۔۔
میں کافی دیر تک وہیں چیمبر میں سوچتا رہا کہ گالیاں تو میں نے بھی اُس خاتُون کو اُسکے پہلے جواب پر دِل ہی دِل میں بہت دی تھیں تو شاید میں بھی نامرد ہُوں اور شاید ہمارا مُعاشرہ نامردوں سے بھرا پڑا ہے۔

عمران خان کی صحت کے حوالے سے سلمان صفدر کی رپورٹجو کہ سلمان صفدر ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ کے حکم سے جیل کا معائنہ کرنے کے ب...
12/02/2026

عمران خان کی صحت کے حوالے سے سلمان صفدر کی رپورٹ
جو کہ سلمان صفدر ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ کے حکم سے جیل کا معائنہ کرنے کے بعد بنائی

08/02/2026

‏جسٹس محسن اختر کیانی نے گھریلو تنازعے کے باعث ساڑھے چار سال سے الگ رہنے والے میاں بیوی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ "عرصہ سے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں دونوں بیٹھ کر معاملہ حل کریں، ایک دوسرے کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں، ایک کو غصہ آئے تو دوسرے کو خاموش رہنا چاہیے، ہر خاتون گھر میں سخت ہوتی ہے، عورت کا حوصلہ ہوتا ہے ماں باپ کو چھوڑ کر خاوند کے ساتھ رہتی ہے، اب بچوں کی تربیت کا وقت ہے چند سالوں میں یہ بڑے ہو جائیں گے تو دونوں سے نفرت کریں گے، اُس وقت اگر صلح بھی کریں گے تو کام نہیں آئے گی
جسٹس محسن اختر کیانی کے سمجھانے پر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے معافی مانگنے پر تیار ہو گئے تو جج صاحب نے دونوں کو کمرہ عدالت میں ساتھ بیٹھ کر گلے شکوے دور کرنے کی ہدایت کر دی

یہ بسنت ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرکے جائے گی۔اب بات جرمانے سے مقدمہ تک آگئی یے۔اس نوجوان نے سیفٹی راڈ نہیں لگایا ...
04/02/2026

یہ بسنت ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرکے جائے گی۔اب بات جرمانے سے مقدمہ تک آگئی یے۔اس نوجوان نے سیفٹی راڈ نہیں لگایا تھا اس وجہ سے ہمیشہ کے لئے ان دونوں نوجوانوں کے شناختی کارڈ پر ایک مقدمہ درج ہو گیا یے۔
تھانہ گلبرگ لاہور
تھانہ نصیر آباد

03/02/2026

2026 SCMR 1
کیا خاوند بیوی کو صرف اس لیے خرچہ دینے سے انکار کر سکتا ہے کہ وہ حقوق زوجیت ادا نہیں کر رہی؟

مختصر حالات و واقعات

مدعیہ (بیوی) اور مدعا علیہ (خاوند) کے درمیان 02.11.2012 کو نکاح ہوا۔ رخصتی فروری 2013 کے لیے مقرر تھی، لیکن مدعا علیہ نے اسے ایک سال سے زیادہ موخر کر دیا، جس سے مدعیہ کے دل میں شک پیدا ہوا۔

اکتوبر 2013 میں، مدعیہ نے نکاح کے بعد سے خرچہ کا مطالبہ کیا اور فیصل آباد فیملی کورٹ سے رجوع کیا۔ مدعا علیہ نے تحریری بیان جمع کرایا، لیکن مصالحت کی کارروائی کے دوران غیر حاضر رہا، جس کی وجہ سے عدالت نے 12-03-2014 مدعیہ کو یکطرفہ فیصلہ دے کر 3,000 روپے ماہانہ خرچے کا حکم دیا،

دونوں طرف سے اپیلیں

دونوں فریقین نے فیصل آباد ڈسٹرکٹ جج کے سامنے اپیل کی۔ اس دوران مدعا علیہ نے مدعیہ کو 02.05.2014 کو طلاق دے دی، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے مدعیہ کی اپیل کو جزوی طور پر منظور کیا، مدعا علیہ کی اپیل کو 27.10.2014 کو رد کر دیا، اور خرچہ 3,000 روپے سے بڑھا کر 5,000 روپے ماہانہ کر دیا، جو نکاح کے ختم ہونے تک جاری رہا۔

ہائی کورٹ کا فیصلہ

اس کے بعد، دونوں فریقین نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، اور 28.04.2015 کو ہائی کورٹ نے مدعا علیہ کی درخواست منظور کی، جس میں کہا گیا کہ نکاح کبھی consummate نہیں ہوا، اس لیے مدعیہ خرچہ کی حقدار نہیں ہے۔ ہائی کورٹ مدعیہ کی درخواست اور زیريں عدالتوں کے فیصلے کو رد کر دیا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

عورت کا نان و نفقہ کا حق ایک جائز نکاح کے انجام پانے پر فوراً پیدا ہو جاتا ہے-نان و نفقہ ایک ذمہ داری ہے جو براہ راست نکاح کے معاہدے سے پیدا ہوتی ہے---اس حق کو پاکستان کے قانونی ڈھانچے نے بھی تسلیم کیا ہے، جو نان و نفقہ کو ایک مطلق اور قابل نفاذ حق قرار دیتا ہے، --مسلم فیملی لاءز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 9 عورت کو خاوند کی ناکامی یا اس کی طرف سے نان و نفقہ نہ دینے پر فیملی کورٹ میں نان و نفقہ کی وصولی کے لیے مقدمہ کرنے کا اختیار دیتی ہے-اسی طرح، فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 17A نان و نفقہ کے دعووں کو نافذ کرنے کے لیے ایک تیز و تیز، خلاصہ طریقہ کار متعارف کراتی ہے---یہ دونوں قوانین ایک مفید اور خواتین کے حق میں قانونی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں جو نان و نفقہ کو ایک حقیقی، غیر مشروط حق کے طور پر تسلیم کرتا ہے جو صرف جائز نکاح کے وجود سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ کارکردگی، اطاعت یا جسمانی موجودگی سے---عورت کا نان و نفقہ کا حق جائز نکاح کے انجام پانے پر فوراً پیدا ہو جاتا ہے۔لہٰذا سپریم کورٹ نے مدعیہ کی پٹیشن منظور کرتے ہوئے خاوند کو نکاح کی تاریخ سے عدّت تک ماہانہ 5000 روپے ادا کرنے کا حکم دیا

Send a message to learn more

When the foundation of an administrative order disappears, the superstructure built upon it can not survive.
03/02/2026

When the foundation of an administrative order disappears, the superstructure built upon it can not survive.

21/01/2026

عدالت کے زریعے خلعمکمل طریقہ کار ۔۔۔۔۔۔۔جب کوئی عورت خلع کی بنیاد پر طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کرتی ہے تو عدالت شوہر کو ...
19/01/2026

عدالت کے زریعے خلع
مکمل طریقہ کار ۔۔۔۔۔۔۔
جب کوئی عورت خلع کی بنیاد پر طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کرتی ہے تو عدالت شوہر کو نوٹس بھیج کر اور اخبار اشتہار کے زریعےطلب کرتی شوہر عدالت میں پیش ہو جائے تو عدالت ایک بار مصالحت کا موقع دیتی ہے لہزا اگر شوہر پیش نا ہو پاۓ یا عورت مصالحت نا کرنا چاہے تو عدالت صرف عورت کے بیان پر ہی خلع کی ڈگری جاری کر سکتی ہے۔ خلع کی ڈگری کو طلاق کا ایک نوٹس سمجھا جائے گا جس کے بعد بھی 90 دنوں کے اندر اندر میاں بیوی میں اگر مصالحت ہو جائے تو خلع رک جاتی ہے۔ ڈگری کے بعد عورت مصالحتی کونسل (یونین کونسل) میں طلاق موثر سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے گی اور مصالحتی کونسل خلع کی ڈگری کی بنیاد پر 90 دن کے اندر فریقین کو باہمی مصالحت کا موقع فراہم کرتی ہے فریقین کو نوٹس اور اخبار اشتہار کے زریعے طلب کرتی ہے۔ 90 روز میں مصالحت ناکام ہونے کی صورت میں یونین کونسل طلاق کا موثر سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔ جس کے بعد عورت کی عدت شروع ہوجاتی ہے
اور صلح کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔

17/01/2026

Address

Office # 126, First Floor, Daud Atif Center, Farid Court Road
Lahore

Telephone

+923270808310

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Legal Alliance posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Pakistan Legal Alliance:

Share

Category