Information Gate

Information Gate Authentic and Conform Everyday News Page.

اینٹوں اور لکڑیوں  کے نیچے چھپے اس کیڑے  کو مارنے سے پہلے جان لیں !بنی نوع انسان کیلئے الله کا ایک مفرد  تحفہ جسے بچپن م...
26/08/2025

اینٹوں اور لکڑیوں کے نیچے چھپے اس کیڑے کو مارنے سے پہلے جان لیں !

بنی نوع انسان کیلئے الله کا ایک مفرد تحفہ جسے بچپن میں ہم نے انجانے میں اینٹوں یا لکڑیوں کے نیچے سے نکال کر بہت نقصان پہنچایا ہے . وہ ایک اینٹ کے نیچے پھسلتے ہوئے چھوٹے رینگنے سے زیادہ کچھ نہیں لگ سکتے ہیں.

جانا جانے والا یہ حقیر سا کیڑا (woodlice ) اتنا بڑا کام سرانجام دیتا ہے کہ جان کر آپ سبحان الله بولیں گے - زمین دوز صاف پانی کا نظام اسی مخلوق کی بدولت ہے . الله کے حکم سے یہ زمین کی سطح پر موجود زہریلے مادوں مرکری، کیڈمیم، اور سیسہ جیسی خطرناک بھاری دھاتوں کو جذب اور بے اثر کرتے ہیں جو کہ زمینی پانی کو ہمارے پینے کی قابل بناتا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ پودوں اور ماحولیاتی نظام کی حفاظت ہوتی ہے .

الله کے حکم سے یہ ان زمینی آلودگیوں کو اپنے جسم میں ذخیرہ کرکے قدرتی بائیو فلٹر کے طور پر کام کرتے ہیں . آئندہ انکو مارنے سے پہلے سوچنا یہ آپکا دشمن نہیں دوست ہے . آپ انکو کس نام سے جانتے ہیں ؟

اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو نمک کو کون درست کرے؟*ایک بدوی شخص نے اپنی ہی قبیلے کی ایک لڑکی سے شادی کی، جو خوش اخلاق، بااد...
03/08/2025

اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو نمک کو کون درست کرے؟*ایک بدوی شخص نے اپنی ہی قبیلے کی ایک لڑکی سے شادی کی، جو خوش اخلاق، باادب، پاکدامن اور دیندار تھی۔ شادی کے ایک سال بعد اس شخص کا اپنے ایک چچازاد سے سخت جھگڑا ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس شخص کا قتل ہو گیا۔ قبیلے کے رواج کے مطابق، شوہر کو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا۔ وہ اپنی بیوی کو ساتھ لے کر ایک دوسرے قبیلے میں جا بسا۔
نئے قبیلے میں بدوی مرد اکثر قبیلے کے سردار کی مجلس میں آتے، جہاں باتیں ہوتیں اور قبائلی امور پر مشورے کیے جاتے۔ وہ بدوی بھی انہی میں شامل ہو گیا۔
ایک دن سردار کا گزر بدوی کے گھر کے پاس سے ہوا۔ اس نے بدوی کی بیوی کو اچانک دیکھ لیا۔ اس کے حسن نے سردار کا دل و دماغ اپنے قبضے میں لے لیا، اور اس کے دل میں ایک شیطانی خیال آیا: کسی طرح شوہر کو گھر سے دور کر دیا جائے تاکہ وہ اکیلی عورت کے قریب جا سکے۔
سردار مجلس میں آیا، جہاں بدوی بھی موجود تھا، اور سب کے سامنے کہا:
“مجھے خبر ملی ہے کہ قریب ہی کچھ علاقے ہیں جہاں بہار آ چکی ہے، میں چاہتا ہوں کہ وہاں چار آدمی بھیجے جائیں تاکہ تصدیق کریں۔
اس نے چار آدمی منتخب کیے، جن میں بدوی بھی شامل تھا۔ ان علاقوں کا سفر تین دن کا تھا۔
سفر کی رات، جب اندھیرا چھا چکا اور لوگ سو چکے، سردار بدوی کے گھر کی طرف روانہ ہوا، جہاں عورت اکیلی سو رہی تھی۔ جیسے ہی وہ دروازے کے قریب پہنچا، ایک ستون سے ٹکرا گیا، جس کی آواز سے عورت جاگ گئی۔
اس نے خوف سے کہا: کون ہے؟سردار بولا: میں وہ سردار ہوں، جس کے قبیلے میں تم آ کر بسے ہو۔
عورت نے کہا: خوش آمدید! اس وقت آپ کیسے آ گئے؟ سردار بولا:
میں تمہارے حسن کا اس دن سے گرویدہ ہوں جب تمہیں پہلی بار دیکھا، اور اب تمہارے قرب کی خواہش ہے۔
عورت نے پُرسکون انداز میں اور پختہ لہجے میں کہا: مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن ایک شرط ہے: ایک پہیلی ہے، اگر تم نے حل کر لی تو تمہیں وہ ملے گا جو تم چاہتے ہو۔
سردار نے خوشی سے کہا: جو شرط لگانا چاہو، میں قبول کرتا ہوں!
عورت نے کہا: جب گوشت خراب ہونے کا خدشہ ہو، تو اس پر نمک چھڑکا جاتا ہے۔ لیکن اگر نمک خود خراب ہو جائے، تو اسے کون درست کرے گا؟ پھر کہا: تم جس سے چاہو مدد لے سکتے ہو، اگر تم نے جواب لا کر دیا تو تمہاری خواہش پوری ہو گی۔
سردار اپنی رہائش پر واپس گیا، حیران اور پریشان۔ پوری رات سوچتا رہا مگر جواب نہ سوجھا۔ اگلے دن مجلس میں اس نے بلند آواز میں کہا: جب گوشت خراب ہونے لگے تو اس پر نمک چھڑکا جاتا ہے، لیکن اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو اسے کون سنوارے؟
لوگوں نے مختلف جوابات دیے، لیکن کوئی بھی جواب سردار کو مطمئن نہ کر سکا۔ ان میں ایک عقلمند، صاحبِ علم، دیندار شخص بیٹھا تھا جو خاموش رہا۔ جب سب لوگ چلے گئے، وہ شخص وہیں بیٹھا رہا
سردار نے غصے سے کہا:
تم نے میرے سوال کا جواب کیوں نہیں دیا؟سردار نے نرمی سے کہا:
میں تنہائی میں آپ سے بات کرنا چاہتا تھا۔ یہ پہیلی دراصل امام سفیان الثوری کے ایک شعر کا مصرع ہے:
“اے علم والو! تم نمک ہو اس زمین کے… اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو اسے کون درست کرے؟
مجھے لگتا ہے – واللہ اعلم – کہ آپ نے ایک دیندار اور باعفت عورت کو برے ارادے سے بہکانا چاہا، اور اس نے آپ کو عزت کے ساتھ روک دیا، بغیر آپ کو رسوا کیے۔ اس نے اپنی عزت، شوہر اور آپ کی پوزیشن کو بچایا اور اس پہیلی کے ذریعے آپ کو شرمندگی سے بچاتے ہوئے آپ کو راہِ راست دکھانا چاہا۔
عورت کا مطلب تھا کہ قبیلے کے مرد نمک کی مانند ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی بگڑ جائے تو سردار اسے درست کرتا ہے۔ لیکن اگر سردار ہی بگڑ جائے تو اسے کون سدھارے؟
آپ کو نمونہ بننا چاہیے تھا۔ اگر رہنما ہی فاسد ہو جائے تو پیچھے چلنے والے بھی برباد ہو جاتے ہیں۔ عورت نے جو کیا وہ کمزوری نہیں، بلکہ حکمت، سمجھداری اور غیرت و عزت کی علامت ہے۔
سردار نے جب یہ سنا تو اس کا دل لرز گیا۔ وہ شرمندہ ہوا، اپنے عمل پر پچھتایا اور کہا:
تم نے اصل بات کہی ہے۔ میری غلطی پر پردہ ڈال دو، اللہ تم پر دنیا و آخرت میں پردہ ڈالے۔
*📷پیغامِ حکایت:*
عقلمندوں کی مجلس اختیار کرو، بے وقوفوں کی نہیں۔ کیونکہ عقلمند بڑے ہوتے ہیں، اور ایک عقلمند کی بات ہزار شیطانوں کو روک سکتی ہے۔

30/12/2024

*کُمہار مَٹّی سے کُچھ بنا رہا تھا، کہ اُس کی بیوی نے پاس آکر پُوچھا، کیا کر رہے ہو،*

کمہار بولا حُقَّہ کی چِلَم بنا رہا ہُوں،
آج کل بہت بِک رہی ہے،
کمائی اچھی ہو جائے گی،

بیوی نے جواب دیا کہ
زِندگی کا مقصد صِرف کمائی کا ذریعہ ہی تَو نہیں،
کُچھ اور بھی ہے،
تُم میری مانو،

آج صُراحی (گھڑا) بناؤ،
گرمی ہے،
وہ بھی خُوب بِکے گی،
مگر!
ساتھ ساتھ لوگوں کی پیاس بُجھانے کے کام بھی آئے گی،

کمہار نے کُچھ سوچا،
اور مَٹّی کو نئے رُوپ میں ڈھالنا شروع کیا،
تَو اچانک مَٹّی نے پُوچھا،
یہ کیا کر رہے ہو،
میرا رُوپ بدل دیا،
کیوں؟

کمہار نے جواب دیا،
میری سوچ بدل گئی ہے،
پہلے تُمہارے پَیٹ میں آگ بھر رہا تھا،
اب پانی بھرے گا،
اور مَخلُوقِ خُدا نفع حاصل کرے گی،

مٹی بولی،
تُمہاری تَو صِرف سوچ بدلی ہے،
میری تَو زِندگی بدل گئی ھے،
مَیں تکلیف سے نِکل کر آسانی میں آگئی ہوں،

آپ سوچ بدلئے زِندگی خُود بَخُود بدل جائے گی۔

30/06/2024

ایک عورت سڑک پر ایک آدمی کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے؛
"معاف کیجئے جناب،
میں ایک چھوٹا سا سروے کر رہی ہوں،
کیا میں آپ سے کچھ سوال کر سکتی ہوں؟"

آدمی: "جی بالکل."

عورت: "فرض کریں کہ آپ بس میں بیٹھے ہیں اور ایک خاتون بس میں سوار ہوئی
اور اس کے پاس سیٹ دستیاب نہیں ہے،
کیا آپ اس کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دیں گے؟"

آدمی - "نہیں۔"

اس عورت نے اپنے پاس موجود پیپر پر نظر دوڑاتے ہوئے "بےادب" کے خانہ پر ٹک کرتے ہوئے
دوسرا سوال کیا: "اگر بس میں سوار خاتون حاملہ ہو تو کیا آپ اپنی سیٹ چھوڑ دیتے؟"

آدمی: "نہیں۔"

اب کی بار "خود غرض" پر ٹک کرتے ہوئے اگلا سوال کیا:
"اور اگر وہ خاتون جو بس میں سوار ہوئی وہ ایک بزرگ خاتون ہوں تو کیا آپ اسے اپنی سیٹ دیں گے؟"

آدمی: "نہیں۔"

عورت: (غصے سے) "تم ایک نہایت خود غرض اور بے حس آدمی ہو
جس کو خواتین کا ، بڑے اور ضعیف افراد کے آداب نہیں سکھائے گئے"

یہ کہتے ہوئے عورت آگے چلی گئی۔

پاس کھڑے دوسرا آدمی جو یہ بات چیت سن رہا تھا،
اس بندے سے پوچھتا ہے کہ اس عورت نے تمہیں اتنی باتیں سنائیں تم نے کوئی جواب کیوں نہیں دیا ؟

تو اس آدمی نے جواب دیا:
"یہ عورت اپنی چھوٹی سوچ اور آدھی معلومات کی بنا پر سروے کر کے لوگوں کا کردار طے کرتی پھر رہی ہے،
اگر یہ مجھ سے سیٹ نا چھوڑنے کی وجہ پوچھتی تو میں اسے بتاتا کہ

میں ایک "بس ڈرائیور" ہوں۔۔!!😂😂😂

ھمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ھے کہ ھم ادھوری
معلومات سے ھی دوسروں کو جانچنے کی کوشش کرتے ھیں

19/12/2023

💞آئیں خوش رہنا سیکھیں💞

💞ماہرین کہتے ہیں آپ کے آس پاس کے حالات پر آپ کا اختیار صرف ١٠ فیصد ہوتا ہے لیکن خوش رہنے کا ٩٠ فیصد اختیار آپ کے اپنے پاس ہے، خوش رہنا ایک آرٹ ہے۔ اس آرٹ کو سکھانے والے ماہرین چند سائنسی تحقیق پر ثابت شدہ ٹپس بتاتے ہیں، ضروری نہیں سب آپ کے کام کی ہوں مگر ٹرائی ضرور کیجئے کوئی ایک ضرور کام کرے گی۔

1.دن میں ایک بار اپنی دستیاب نعمتیں شمار کر کے لکھ لیں۔

2. رات میں چھ سے آٹھ گھنٹے بھرپور نیند لیں اور دوپہر میں بیس سے تیس منٹ آرام ضروری ہے۔

3. ہفتے میں کم از کم تین بار گھر کے سب افراد کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔

4. گھر کے اندر کچن گارڈن بنائیں دن کا کچھ وقت پودوں کے ساتھ گزاریں۔

5. پانچ سے سات منٹ ہلکی ورزش کیجیے۔

6. دن میں کسی نہ کسی کی مدد ضرور کریں۔

7. زرا سی اداسی آنے پر وضو کر لیں۔

8. اپنی پسند کی خوشبو لگائیں۔

9. پانی زیادہ پئیں کم از کم تین لیٹر جب اداس ہوں تو دو گلاس پئیں۔

10. "نو کمپلین ڈے" بنائیں، آج کسی سے کوئی شکایت نہیں پھر دن بڑھاتے جائیں، نو کمپلین ویک، نو کمپلین منتھ۔

11. گھر میں دفتر میں جدت طرازی کی مہم چلائیں، ہر روز ماحول میں کچھ تبدیلی کی کوشش کریں، گھر میں موجود سامان کی ترتیب بدلتے رہا کریں۔

12. خاندان، دوست احباب، رشتہ داروں کو فون کریں۔ ان کے دکھ درد میں حوصلہ دیں اور خوشیوں پر کھل کر مبارکباد پیش کریں۔

13. مہینے میں دو بار دعوت کریں، کبھی رشتے داروں کو، کبھی دوست احباب کو کبھی اپنے بچوں کے دوستوں کو دعوت پر بلائیں۔

14. لوگ کیا کہیں گے..! یہ سوچنا چھوڑ دیں۔

15. اپنی زندگی کا سب سے خوشگوار دن یاد کیجئے اور ایسا زندگی بھر ہر روز کیا کیجیے, چھوٹی سی چھوٹی خوشی کو یاد کریں، یہ یادیں آپ کو سارا دن خوش رکھیں گی۔

16. صدقہ دیں اور سب سے آسان صدقہ مسکراہٹ ہے، ہلکی سی ایک مسکراہٹ تیز دھوپ میں بادل کے ٹکڑے کی طرح دل کو تروتازہ کردیتی ہے، خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔

17: پانچوں نمازیں وقت پر ادا کریں...

03/09/2023

ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداﷲ بن زید رحمۃ ﷲ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:*''جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو ﷲ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا''۔*
جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی کہ یا ﷲ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟
پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی دوسری رات بھی دعا قبول نہیں ہوئی تیسری رات دعا قبول ہو گئی، خواب میں کیا دیکھتے ہیں کالے رنگ کی عورت ہے حضرت بلال حبشی کے دیس کی رہنے والی حبشہ کے دیس کی اور وہ کیا کہتی ہے کہ:''میں میمونہ ولید ہوں اور میں بصریٰ میں رہتی ہوں''۔پتہ مل گیا آنکھ کھلی حضرت کی تہجد کا وقت تھا نوافل پڑھے نماز فجر باجماعت ادا کی اور سواری لے کر حضرت عبداﷲ بن زید بصریٰ گئے وہاں لوگوں نے بڑا استقبال کیا حضرت کا نام ہی بہت بڑا تھا بیٹھا کر پوچھا حضرت بتائے بغیر کیسے آنا ہوا خیر تو ہے آپ نے پوچھا یار یہ تو بتاؤ یہاں کوئی میمونہ ولید رہتی ہے لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا حضرت آپ اتنے دٗور سے چل کر میمونہ ولید سے ملنے آئے ہیں آپ نے فرمایا کیوں اُس سے کوئی نہیں مل سکتا نہیں حضور وہ تو دیوانی ہے لوگ اُسے پتھر مارتے ہیں، حضور نے پوچھا کیوں مارتے ہیں حضور کام ہی ایسے کرتی ہے کوئی رو رہا ہو تو اسے دیکھ کر ہنسنے لگتی ہے اور کوئی ہنس رہا ہو تو رونا شروع کر دیتی ہے اور وہ اجرت پر پیسے لیکر لوگوں کی بکریاں چرہاتی ہے آج بھی وہ ہماری بکریاں لیکر جنگل میں گئی ہے آپ آرام فرمائیں عصر کے بعد آ جائے گی آپ مل لیجیے گا۔
حصْرت نے فرمایا عصر کس نے دیکھی کہا وہ کس سمت گئی ہے لوگوں نے کہا حضور جنگل نہ جائیں بہت خوفناک جنگل ہے آپ نے فرمایا بتاؤ کس طرف گئی ہے لوگوں نے بتایا آپ فرماتے ہیں کہ میں نکل گیا آپ فرماتے ہیں کہ جب میں جنگل گیا واقع ہی خوفناک جنگل تھا جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی قدم قدم پر کوئی نہ کوئی چیز کھڑی ہے آپ فرماتے ہیں کہ قربان جاؤں اس عورت کی مردانگی پر وہ اس جنگل میں کس طرح بکریاں چرا رہی ہے شیروں نے اس کی بکریوں کو ابھی تک کھایا نہیں اتنے درندے ہیں سارے مل کر حملہ کر دیں تو کیا کرے یہ اکیلی عورت کس کس کو روکے گی؟ خیر آپ فرماتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں لوگوں نے مجھے بتائی تھی میں وہاں پہنچ گیا جب میں وہاں پہنچا تو منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا دو حیران کر دینے والے منظر تھے۔
پہلا یہ کہ میمونہ ولید ؒ بکریاں نہیں چرا رہی تھی بلکہ اُس جنگل میں جائے نماز بچھا کر نوافل پڑھ رہی تھی پر بکریاں چرانا تو بہانہ تھا یہ تو بہانہ تھا کنارہ کشی کا، لوگ یہی سمجھتے تھے میمونہ سارا دن بکریاں چراتی ہے لیکن میمونہ بکریاں نہیں چرا رہی تھی۔
دوسرا کیا دیکھا کہ میمونہ تو نماز پڑھ رہی ہیں پھر بکریاں کون چرا رہا ہے بکریاں تو ایک جگہ نہیں رکتیں کہیں اِدھر جاتی ہیں کہیں اُدھر آپ فرماتے ہیں کہ میمونہ نماز پڑھ رہی تھی اور شیر بکریاں چرا رہے ہیں بکریاں چر رہی ہیں شیر انکے اردگرد گھوم رہے ہیں اگر کوئی بکری بھاگتی ہے اس کی فطرت ہے شرارت کرنا تو شیر اُسے پکڑ کر واپس لے آتا ہے لیکن کہتا کچھ نہیں۔
آپ فرماتے ہیں میں حیران و پریشاں کھڑا تھا کہ یہ کیسے ہو گیا ہے یہ فطرت کیسے بدل گئی لوگ کہتے ہیں فطرت نہیں بدلتی یہ شیروں اور بکریوں میں یاری کیسے ہو گئی آپ فرماتے ہیں میں دنگ حیران و پریشان کھڑا ہوں مجھے نہیں پتہ کہ کب میمونہ ولید نے نماز ختم کر دی اور مجھے مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ:*''اے عبدﷲ ملنے کا وعدہ تو جنت میں تھا آپ یہاں آ گئے''۔*
آپ فرماتے ہیں میں حیران رہ گیا اس سے پہلے تو ملاقات بھی نہیں ہوئی تو حضرت میمونہ ولید کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا
تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمونہ ولیدؒ سے سوال کیا اِس سے پہلے ہم ملے نہیں ملاقات نہیں ہوئی ہماری تو میرا نام کیسے پتہ چلا آپ کو تو جواب کیا ملا حضرت میمونہ ولیدؒ فرماتی ہیں عبدﷲ جس ﷲ نے رات کو تجھے میرے بارے میں بتایا ہے اُسی ﷲ نے مجھے آپکے بارے میں بتایا ہے
آپ فرماتے ہیں کہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھا کہ یہ فطرت کیسے بدلی میں نے حضرت میمونہ ولید ؒ سے پوچھا آپ یہ تو بتاؤ یہ شیروں نے بکریوں کے ساتھ یاری کیسے کر لی یہ تو غذا ہے انکی اگر شیر بکریوں کے ساتھ یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا یہ کیسے معاملہ ہو گیا تو حضرت میمونہ ولید ؒ فرماتی ہیں جب سے میں نے رب سے صلح کر لی ہے اُس دن سے اِن شیروں نے بھی میری بکریوں کے ساتھ صلح کر لی ہے۔

ایک معاشرتی المیہ قربانی کے جانور خریدے کے بعد ٹینٹ لگا کر گلیوں کو بند کر دیا جا رھا ھے۔گلیوں میں کرسیاں اور چارپیاں ڈا...
28/06/2023

ایک معاشرتی المیہ
قربانی کے جانور خریدے کے بعد ٹینٹ لگا کر گلیوں کو بند کر دیا جا رھا ھے۔گلیوں میں کرسیاں اور چارپیاں ڈال کر جتھے کے جتھے وھاں بیٹھے ھوئے ھیں۔ اور راہگیروں کے گزرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔ یہ قربانی کر کے کس پر احسان کر رھے ھو۔کیا یہ درس ھے قربانی کے فلسفے کا؟ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم خدا کے حقوق پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انسانوں کے حقوق سے مکمل لا تعلق ہو جاتے ہیں۔حکم تو یہ ھے کہ راستے یا گزرگاہ سے ایک پتھر کا ٹکرا پرے کرنے کا بھی ثواب ھے۔
روز قیامت منہ پر ماری جائیں گی ایسی دکھلاوے کی اور مِخلوق خدا کو تنگ کر کے کی گئی نیکیاں۔

میٹرک  اور  او لیول❗والدین کی ایک بڑی تعداد کو میٹرک اور او لیول کا فرق نہیں معلوم۔ بہت سے والدین فخریہ کہتے ہیں ہمارا ب...
17/09/2022

میٹرک اور او لیول❗
والدین کی ایک بڑی تعداد کو میٹرک اور او لیول کا فرق نہیں معلوم۔ بہت سے والدین فخریہ کہتے ہیں ہمارا بچہ تو او لیول کر رہا ھے۔
آج کل " او لیول " فیشن بنتا جا رہا ھے اسی لیے شھر میں ہزاروں ایسے اسکول وجود میں آ گۓ ہیں جو او لیول کے نام پر معصوم والدین کو لوٹ رہے ہیں اور ان سے بھاری بھاری فیسیں وصول کر رہے ہیں ، لیکن سچ پوچھیے تو انھیں خود یہ بھی نہیں معلوم کہ "او لیول" سے کیا مراد ھے۔
" او لیول " سے مراد ordinary level ھے جبکہ" اے لیول " سے مراد advance level ھے۔ او/اے لیول کا تعلق کیمبرج/آکسفورڈ بورڈ انگلینڈ سے ہے۔" او لیول " کرنے کے بعد طالب علم " اے لیول " کرتے ہیں۔
اس طرح میٹرک اور او لیول برابر ہیں جبکہ اے لیول اور انٹر میڈیٹ برابر ہیں۔ انٹر یا اے لیول کرنے کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لیا جا سکتا ھے۔
جن طالب علموں نے مستقبل میں بیرون ملک پڑھنے جانا ھے انھیں "او لیول " کرنا چاہیے اور جو طالب علم پاکستان کی جامعات میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں انھیں میٹرک بورڈ کے تحت اپنی تعلیم جاری رکھنی چاہیے۔
مشاہدے میں یہ بات آئ ھے کہ پاکستانی جامعات میں کالج سے انٹر میڈیٹ کرنے والے طالب علموں کو ترجیح دی جاتی ھے۔
دونوں طرح کے سسٹم کے کورسز کے معیار میں فرق ھے۔ او لیول کا نصاب جامع اور میٹرک کے نصاب کے مقابلے میں کافی بہتر ھے۔
میٹرک دو سالوں پر مشتمل ھے۔ یعنی سات پرچے نہم جماعت میں اور سات ہی دہم جماعت میں ھوتے ہیں۔ لازمی مضامین میں انگریزی، سندھی ، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات شامل ہیں۔
او لیول کے لازمی مضامین میں اردو، اسلامیات ، سوشل اسٹڈیز اور انگلش شامل ہیں۔
میٹرک کرنے کے لیے تین بار بورڈ کی فیس وصول کی جاتی ھے۔ جس میں نہم جماعت میں رجسٹریشن، پھر نہم کی امتحانی فیس اور اس کے بعد دہم کی امتحانی فیس شامل ہیں۔ کل فیس تقریباً سات سے آٹھ ہزار بنتی ھے۔
دوسری طرف او لیول کے ایک پرچے کی امتحانی فیس تقریباً 20 ہزار روپۓ ھے۔ دس پرچوں کی صرف امتحانی فیس ہی 2 لاکھ روپۓ بنتی ھے۔
میٹرک اسکولوں میں طالب علموں کی فیس پندرہ سو روپۓ سے سات ہزار روپۓ ماہانہ ھوتی ھے جبکہ او لیول اسکول کی فیس دس ہزار سے تیس ہزار روپۓ ماہانہ ھوتی ھے۔
میٹرک کے مضامین کے ٹیوٹر 1000 سے 3000 روپۓ ٹیوشن فیس ماہانہ وصول کرتے ہیں جبکہ او لیول کے ٹیوٹرز کی فیس 10 ہزارسے پچاس ہزار روپۓ ماہانہ ھوتی ھے۔
محنتی طالب علموں کو سسٹم سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ جنھیں پڑھنا ھوتا ھے وہ میٹرک سسٹم میں بھی پڑھ جاتے ہیں اور جنھیں نہیں پڑھنا ، او لیول سسٹم بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
ایسے کچھ طالب علم ہیں جو" او لیول " سسٹم کے تحت پڑھائ کرنے کے باوجود زندگی میں ناکام ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے کئ طالب علم بھی ہیں جو میٹرک سسٹم کے تحت تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ایک کامیاب وکامران زندگی گزار رہے ہیں۔

11/09/2022

فرینڈ ریکویسٹ (Friend Request) بھیجنے والے وہ خواتین و حضرات جن کی پروفائل (Profile) مکمل طور پر لاک ہوتی ہے، انہیں کم از کم اتنی تو عقل اور شعور ہونا چاہیے کہ سامنے والا کس بنیاد پر اور آپ کی پروفائل میں کیا دیکھ کر ریکویسٹ (Request) قبول کرے گا۔۔؟؟؟ 🤔
کیا آپ کے پاس ایٹم بم کا فارمولا ہے جسے چھپا کے رکھنا چاہ رہے ہیں۔۔؟؟
یا غوری میزائل آپ نے ہی بنایا تھا؟؟

آپ کی وال پر کم از کم اتنی تو پوسٹس پبلک ہونی چاہئیں کہ جن سے اندازہ ہو سکے کہ آپ کس قسم کی شخصیت کے مالک ہیں؟؟ یا آپ کی سماجی سرگرمیاں کس قسم کی ہیں؟؟ آپ کی فرینڈ لسٹ میں کیسے لوگ ہیں؟؟
آپ کی وال پر کوئی ایسا مواد ہے جس سے مجھے کچھ اچھا سیکھنے کو ملے؟؟
جس سے میرے نالج میں کچھ اضافہ ہو،
یا پھر ہر تیسرے دن "ڈی پی" ہی تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ 🤔
آپ کوئی مثبت اور تعمیری سوچ کے مالک ہیں یا سیلفیاں اپلوڈ (Upload) کرنے کی حد تک ہی محدود ہیں۔ آپ فرینڈ لِسٹ (Friend List) میں رکھنے کے قابل ہیں بھی کہ نہیں!🤭

خود پسندی سے باہر نکلیں، سوشل میڈیا کا مطلب ہی خود کو سوشل رکھنا ہے .

ابن سینانے ایک تجربہ کیا۔اور دو میمنوں کو پنجرے میں رکھا۔میمنے ایک ہی عمر ، وزن ، ایک ہی نسل کے تھے اور دونوں کوایک ہی ق...
06/08/2022

ابن سینانے ایک تجربہ کیا۔اور دو میمنوں کو پنجرے میں رکھا۔
میمنے ایک ہی عمر ، وزن ، ایک ہی نسل کے تھے اور دونوں کوایک ہی قسم کا چارہ کھلایا گیا۔تمام حالات برابر رکھے۔

ابن سینانے میمنوں کے پنجروں کی ایک طرف ایک اور پنجرارکھا اور اس پنجرے میں ایک بھیڑیا رکھا اور میمنوں میں سے صرف ایک میمنااُس بھیڑیے کو دیکھ سکتا تھا۔

کئی مہینوں بعد ، میمنا جو بھیڑیا کو دیکھتا ہے مر جاتا ہے کیونکہ وہ بے چین ، خوفزدہ اور کمزور ہوتا ہے۔ اگرچہ بھیڑئے نے میمنے کو کچھ نہیں کیا ، لیکن میمنہ اس خوف اور دباؤ کی وجہ سے مر گیا جو اس نے محسوس کیا۔

جبکہ دوسرا میمنا ، جو بھیڑیا و نہیں دیکھ سکتا تھا ، اچھی طرح سے کھاتا تھا اور اُسکا وزن بھی بڑھا گیا کیونکہ وہ کافی پرامن رہا۔

اس تجربے میں ابن سینا نے صحت اور جسم پر ذہنی اثرات کے مثبت اور منفی اثرات کا مشاہدہ کیا۔ غیر ضروری خوف ، فکر ، اضطراب اور تناؤ انسانی جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

اگر آپ کو زندگی کی مشکلات کاسامنا کرکے آگے بڑھنا ہے تو اپنی راہ میں آنے والے ہر خوف کو نظر انداز کر نا سیکھیں پھر ہی آپ کامیابی کی سیڑھیوں پہ چڑھ سکیں گیں۔

"گدھ ایک مردار گوشت کھانے والا پرندہ ہے کھاتے ہوئے پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن بھوک ختم نہیں ہوتی تو وہ بھاگنا شروع کر دیتا ...
25/07/2022

"گدھ ایک مردار گوشت کھانے والا پرندہ ہے کھاتے ہوئے پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن بھوک ختم نہیں ہوتی تو وہ بھاگنا شروع کر دیتا ہے اور بھاگتے بھاگتے کھایا ہوا الٹ دیتا ہے, الٹی کے بعد پھر کھانے لگ جاتا ہے پھر بھی پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن بھوک ختم نہیں ہوتی, اسی طرح وہ بار بار یہی عمل دھراتا ہے لیکن بھوک نہیں ختم ہوتی کیونکہ وہ حرام اور مردار کھاتا ہے".
یہ قدرت کے وضع کردہ آفاقی اصول ہیں جو حرام کھانے والوں کے لیئے لمحۂ فکریہ ہیں, وہ کچھ لوگوں کو اختیار دے کر بھرپور موقع دیتی ہے کہ جتنا کھا سکتے ہو کھا لو, مگر سیری کی لذت سے ہمیشہ محروم رہو گے, مالِ حرام کھانا تمہارے لیئے ایک مشقت کے سوا کچھ نہیں ہے, حرام کھانے سے پیٹ تو بھر جائے گا لیکن تمہاری بھوک کبھی ختم نہیں ہوگی. اللہ پاک ہم سب کو رزق حلال عطاء فرمائے۔ آمین

Clean people and Healthy people can make a Wealthy Country.
04/05/2022

Clean people and Healthy people can make a Wealthy Country.

Address

Punjab
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Information Gate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category